جمعہ، 17 مئی، 2024

" پہچان "

" پہچان " ( 14 اگست 2023ء پر لکھی گئی اک نظم )
پہلے اِک خطۂ زمیں تو ملے
پاؤں کسی سطحء کو تو چھُوئیں
آسماں تو اپنا ہو !!
تب اِک پہچان ہو !
غیر دیکھیں تو کہہ اُٹھیں
اچھا ،، تو تم ہو اِس خطۂ سرسبز کے باسی،
یوں اِک وطن ملا !
پاکستان بنا ،، پہچان بنا
لیکن ،،،، کچھ لوگ انمول ہوتے ہیں
وہ خود وطن کی پہچان ہوتے ہیں
" کبھی جناحؒ اور کبھی عمران خان ہوتے ہیں "

( منیرہ قریشی 17 مئی 2024ء واہ کینٹ )( نشرِ مکرر) 

پیر، 13 مئی، 2024

" خانہ بدوش ۔۔ کل اور آج"

" عمر رفتہ "
"خیال" کھڑا ہے ساحل کنارے
ریت ہے پھسلتی پاؤں تلے ،،،،
خواہشوں کی کشتیاں ہیں رواں دواں
ڈوبتا ، اُبھرتا سورج بُلا رہا ہے
آو ، نا معلوم جزیروں کی جانب ،،،
اور کبھی ،،،
" خیال " کوہء تجسّس پر قدم جمائے
سرسراتی ہوائیں ، کریں سرگوشیاں !
آؤ نا ! نا معلوم جزیروں کی جانب ،،،،
مگر دنیا تو اب ہے ایک کمرے میں !!
جھولتی کرسی پر
ہاتھ میں ریموٹ لئے
وقت پر طعام ہے
وقت پر آرام ہے ،،،
زندگی کو کہاں دوام ہے ؟
" خیال " بھی سراب ہے
انت تو پُر حجاب ہے !!!

( منیرہ قریشی 14 مئی 2014ء واہ )

۔۔۔۔۔۔
" خانہ بدوش "
اگر تمہیں دوبارہ شروعات ملیں تَو !؟
سہیلیوں کے جھرمٹ نے سوال پو چھا
" میَں تو صرف فطرت کا حصہ بنتی
پہاڑ ، وادیاں ، صحرا اور جنگل پاٹتی
کبھی دریا ، کبھی سمندر سے خود کو سہماتی
میَں تو بس اِک ریوڑ لیتی ،،،
اور دنیا کو اِس کونے سے اُس کونے تک چھاپتی
موسموں کی سختیاں میری جِلد کو بوڑھا کرتیں
میَں وہیں کہیں کسی جنگل کنارے
کسی صحرا یا وادی کی کھائی میں ڈھیری بنتی
الفاظ اور نظروں کے سلگتے کوئلوں کی پروا نہ کرتی
کیوں ، کہاں ، کیسے ،، کے تفتیشی وار سے بہت اُوپر ہوتی
اب تو ،،، ستّر میں آ لگی ہوں ،،،
بس تھوڑا سا تو وقت ہے !
ریوڑ ہو گا اور میَں ،،،،
خانہ بدوشی کا ' اعزازیہ' پانے میں کیا دقت ہے!"
اُٹھو جوان سہیلیو ! ہم جولیو !!
( منیرہ قریشی 14 مئی 2024ء واہ کینٹ)
(یہ نظمیں دراصل 3 جون 2018ء کو لکھی تھیں ،، جب ہم پانچ جہاندیدہ سہیلیاں دس دن اکٹھی رہیں ، اور ہر موضوع کو زیرِ بحث رکھا تھا ، یہ نظمیں جس صفحے پر لکھی تھیں وہ گم ہو گیا اور اتفاق سے پرانے کاغذات میں سے یہ دونوں نظمیں نکل آئیں ، جنھیں درج کر رہی ہوں )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 

بدھ، 8 مئی، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔ 22)


"الوداع دوست"
باب۔22
گھر کے لان کی باڑ سے باہر کے قدرتی جنگل سے ایسی دوستی ہو گئی گویا ہم عشروں سے اکٹھے رہ رہے ہوں ۔ اُس کے کونے کونے کے پودوں سے ، درختوں کے پتوں کے رنگوں کی تبدیلی سے ، وہاں کے مستقل باسیوں ، اور اُن کی چلنے پھرنے سے ایسی آشنائی ہو چلی تھی کہ جیسے میں ان کا ہی حصہ ہوں ۔ جنگل نے اپنی صنف کے علاوہ دوسروں کو محبتیں بانٹنے کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا ، یہی صفت ہر جنگل میں بھی ہوتی ہے ۔ مجھے لمبے عرصے تک اس چھدرے جنگل نے جس محبت سے اپنے حلقۂ احباب میں شامل کیا ہو ا تھا ، اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں ۔ اِس محبت کا ہی انداز تھا کہ وہ کبھی کوئی نظارہ میری آنکھوں کی چمک دوبالا کر دیتا، کبھی اُس رقص کا مظاہرہ ہوتا ، جو میرے انگ انگ کو سرور دے دیتا ، کبھی یہ درخت اپنے ساتھ رہتے ، چھوٹے ، خوبصورت پرندوں کی چہکار کو ایسے مختلف سُر میں پیش کرتے کہ انسان حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے معمور ہو جائے ، اِس لئے کہ عام روٹین میں اِن پرندوں کی بولیاں انہی کی ذات کا مقرر کردہ حصہ لگتیں ، لیکن خاص خاص لمحات میں اُن کی بولیوں میں وہ انفرادیت ہوتی جو جنگلوں کے شیدائی ہی محسوس کر سکتے ہیں ۔ اللہ کا کرم کہ یہ نیلے ، سُرمئی ، اناری اور سیاہ رنگوں کے مختلف جسامت کے پرندے اپنے خوشی اور بے چینی کے دورانیےمیں نکلتی آوازوں سے دل اور آنکھوں کو طمانیت بخشتے رہے ۔ نہایت چھوٹی اور کچھ بڑی گلہریاں ، شروع دنوں میں سہمی اور اَتھری رہیں لیکن آہستہ آہستہ اُن کے لئے انسانی موجودگی نارمل ہوتی گئی اور جنگل کے مکینوں نے مجھے بھی داخلِ خاندان کر لیا تھا ۔
لیکن ! اب وقت کا " کاؤنٹ ڈاؤن " شروع ہو چکا تھا ۔ میں دن میں دو اور کبھی تین مرتبہ " سلام کرتی اور احوال " پوچھتی !! یہی دلی رابطہ مضبوط ہوتا چلا گیا تھا ۔ لیکن الوداعی ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں اور جدائی سے دو دن قبل میں اپنے پیارے دوست سے ملنے گئی ، تو جنگل نے حیرت انگیز طور پر سَرد مہری دکھائی ۔ ہر چیز ، ہر پتّا ، ساکت تھا کسی شاخ پر ایک بھی پرندہ نہ تھا ۔ جیسے دن کا آغاز نہیں رات کا کوئی پہر ہو !
میں نے حیرت سے یہ سب دیکھا اور کچھ دیر بعد ہی کہا "اچھا چلتی ہوں ، اپنے وطن کی تیاری ہے ، شاید مزید ملاقاتیں نہ ہوں "، جواباًخاموشی اور گہری ہو گئی ۔
میں نے جنگل سے کہا " مجھے یاد کرتے رہنا ۔ میری تو شدید خواہش تھی کہ تمہیں برف کے لبادے اوڑھے ، چُپ کی عبادتوں کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھا دیکھتی ، لیکن سب خواہشیں کہاں پوری ہوتی ہیں ۔ ویسے بھی " آرزوؤں کی ٹوکری کو ادھورا ہی رہنا چاہیے، تاکہ جینے کے کچھ جواز رہیں ۔ پھر جنگل تو خزاں ، بہار ، گرمی ، سردی ، برسات میں الگ رنگ و انگ میں نظارے دیتے ہیں ، تمہارے وہ روپ جو تم کم ہی کسی پر عیاں کرتے ہو ، وہی تمہارے مہمانِ خصوصی ہوتے ہیں ۔شکریہ پیارے جنگل ! تم نے مجھے بہت سے رُوپ دکھائے ،اپنا گانا ، اپنے رقص ، اپنے راز ، خاموشی کی مخصوص زبان سُجھائی ۔ ان سب کے لئے شکریہ " ۔
لیکن اُس وقت اس دوست جنگل کی بے اعتنائی ، سرد مہری ، میرے روئیں روئیں کو دکھ اور کرب سے دوچار کر رہی تھی ۔ہاں البتہ یہی کرب ، جنگل بھی تو برداشت کر رہا ہو گا ، مجھے خیال آیا ۔ تو میری آنکھ سے اِک قطرۂ جدائی بزرگ درخت کی جڑ تک جا پہنچا ، دل گیر ہو کر میں نے اللہ حافظ کہا اور جوں ہی مڑ نے کے لیے قدم بڑھائے ،جنگل کا سرسراہٹ بھرا جملہ ٹکرایا ، " ہم اِس لئے اداس نہیں کہ تم جا رہی ہوں ، تم نے تو اپنی تحریر میں الفاظ کے جنگل میں ہمیں اسیر کر لیا ہے ، اِس تحریر کو جب تم پڑھو گی ، ہزاروں میل دور تصورات کی دنیا سجا کر ہمیں سامنے پاؤ گی ۔ ہم تو یہاں عشروں کے سَرد گرم سہہ سہہ کر شاید کبھی ڈھیر ہو چکے ہوں گے ۔ تم نہیں آؤ گی تو بس یہی ملال رہے گا کہ ہماری خاموشی کی زبان ، ہمارے لئے دل میں عجب محبت لیے ، جانچتی آنکھیں لیے ، ہماری داستانوں پر کامل کان دھرے ، کوئی تو سُنتا ہے ۔ ! ابھی تو ہم نے اپنی کہانی درمیان تک ہی سنائی ہے کہ یا تو تمہیں اپنی دنیا کا بلاوہ، یا مٹی کا بلاوہ آ جاتا ہے ۔ نہ ہم مکمل کہہ پائے نہ تم کامل سُن پائیں ۔ جانے اب ایسی سراہتی آنکھوں والا کوئی کب آئے ؟ یا کبھی نہ مل سکے !! بس یہی وجہ تھی ہماری اداسی کی "
یہ سارا جواب سن کر میرے دل کو سکون آ گیا تو گویا اب میں بھی کسی کے خیالوں اور یادوں میں دہرائی جاتی رہوں گی ۔
میں نے دوست جنگل کو یہ رباعی نذر کی کہ عین میرے حالِ دل کی عکاسی تھی اور کہا مجھے جب یاد کرو گے تو اس رباعی کے الفاظ پر غور کرنا ۔ میں تمہارے اور تم میرے آہنگ تک پہنچ جاؤ گے ۔۔۔
؎ پھر میَں نے قطرہ قطرہ یہ سب سبزہ پی لیا
جیون زمین کے ہر جیو کا میں نے جی لیا ! !
گُل ، پھل ، شجر ، پہاڑ ، سمندر ہیں آیتیں
قرآن میں نے سَو روح پہ یہ سارا سی لیا ( بشکریہ کومل ذیشان )

( منیرہ قریشی ، 9 مئی 2024ء واہ کینٹ ) 

منگل، 7 مئی، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔21)


" میرا دوست چِھدرا قدرتی جنگل جو کچھ تو باڑ کے اندر تھا اور باقی باڑ کے باہر"
" خواہشِ ناتمام"
باب۔۔21
آج اتنے عرصے بعد چھانگا مانگا کے جنگل کی بھیگی آنکھوں کی یاد نے دل گرفتہ کر ڈالا ، تو اپنے پیارے دوست " چھِدرے جنگل " کے پاس چلی گئی ۔ یہ محفل میرے لئے غم غلط کرنے کی بہترین تھیراپی بن جاتی تھی اور ابھی تک ہے !!
ان درختوں کے بھی کیا کہنے کہ آپ کے کچھ کہے بِنا ہی دل کی کیفیت اور چہروں کے تاثرات کو جانچ جاتے ہیں کہ ہمارے قریب آنے والا اس وقت کس اتھل پتھل کا شکار ہے ۔ وہ غم میں ہے یا خوشی میں ۔ اس کی خوشی میں خوش ہونا تو آسان ہے لیکن دوسرے کے غم کو کیسے کم کر سکتے ہیں ۔ اِس معاملے میں درخت ہمارے اچھّے استاد ہوتے ہیں ۔ " باڑ کے باہر کے چھِدرے جنگل" کے پاس پہنچتے پہنچتے جیسے ہی آہستہ سے سلام کیا اور ایک آہ بھر کر خاموش کھڑی ہو گئی کہ آج مزید کچھ کہنے کو نہ تھا ۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک خراماں خراماں چلتا ہوا ایک خوبصورت جوان ہرن چرتا نظر آیا ،کیا ہی حسین منظر تھا ۔ جنگل اِس وقت اپنے مکمل حُسن کے ساتھ سامنے تھا ، خوبصورتی صرف چاندنی رات اور دریا کے کنارے کی موجودگی سے ہی نہیں ہوتی بلکہ جنگل اپنے درختوں ، پتوں ، چڑیوں ، تتلیوں اورجنگلی جانوروں کی موجودگی سے اپنے حُسن کو مکمل کر کے دِکھا رہا ہوتا ہے ۔
آج اس لمحے اس جنگل میں اطمینان سے چرتے ، خوبصورت دھبے دار ہرن کی موجودگی سے دل باغ باغ ہو گیا ۔ فطرت اپنے آپ کو عیاں کر کے خوشی دینے کا باعث بنتی ہے ۔ بس لمحے کی گرفت ہو اور درختوں سے دوستی ہو ۔ تو گویا یہ آج کی اداسی کو رفع کرنے کی ایک پیاری سی کوشش تھی ۔ گرچہ جنگل سے دوستی کو کئی مہینے گزر چکے تھے تتلیوں ، چڑیوں اور گلہریوں سے دوستی کروا دی گئی تھی اور ایک دن لومڑی کی جھلک نے بھی دل شاد کیا تھا اور آج ہرن ! ہرن مزید بےفکر ہو کر چَرتا چُگتا ٹہلتا رہا ۔ میَں بھول ہی گئی کہ کچھ دیر پہلے مجھے وطن اور اُس کے ساتھ زیادتی کرتے اہلِ وطن کے کرتوں نے کس قدر دل گرفتہ کر رکھا تھا ۔
دن گزرتے جا رہے تھے، اِس نئی سرزمین کے صاف ستھرے نظاروں نے جیسے پاؤں میں زنجیر ڈال دی تھی ۔ یہاں کی سب سے اہم بات انصاف و قانون کی بالا دستی اور صفائی نے دل کو سکون دیا ہوا تھا ۔ ایسا میرے وطن میں بھی ہو جائے ، ویسا میرے خطے میں ہو جائے ۔ جانے میرا وطن کب بھیڑیوں کے چُنگل سے آزاد ہو گا ؟، میری قوم کب با شعور اور با خبر ہو گی! اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہی اور اس پر عمل درآمد سے ہی ہم ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھ پائیں گے ۔
یہاں ایک جھیل پر بنے ڈیم کی طرف جانا ہوا ،ڈیم سے باہر کی دو فرلانگ کی گول چوڑائی کو باریک بجری سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ وہاں آس پاس کوئی درخت نہیں تھا ، لیکن ایک بڑا سا بورڈ ان ہدایات کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔۔۔
" یہاں کسی قسم کے بار بی کیو ، یا پکنک کی اجازت نہیں ، عمل نہ کرنے والے پر ڈھائی ہزار پونڈ جرمانہ کیا جائے گا "
اب اگر کسی وزیر کی فیملی ہے یا بادشاہ کی اولاد ۔۔ اوّل تو قانون توڑیں گے نہیں ورنہ اتنا بھاری جرمانہ اور بدنامی الگ سہنا پڑے گی ۔ میرے ملک کوایک عام پولیس کا سپاہی یا آفس کا کلرک بھی اپنی ذاتی جائیداد سمجھ کر لُوٹ رہا ہے تو بڑے عہدے دار تو مکمل فرعون بنے بیٹھے ہیں ۔ ایسی سوچ کب بدلے گی ؟ جانے کب ؟۔

( منیرہ قریشی ، 8 مئی 2024ء واہ کینٹ )