ہفتہ، 30 مارچ، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں "( رپور تاژ۔9)


" خوشبو جیسی باتیں اور صندل کا جنگل"
باب۔۔9
مانچسٹر کے اس نا معلوم جنگل کی خوشبو کے چھڑکاؤ نے دل موہ لیا تھا ۔ اُس نے گہرائی میں اُگے رنگین جنگلی پھولوں کے تختوں سے ہوا کے جھونکے بھیج کر خوشبو کشید کر کے ہم پر جو مسحور کن عطر بیز سپرے کیا تھا ، وہ احساسِ تفاخر جا ہی نہیں رہا تھا ۔ احساس ہوا کہ درخت اپنے چاہنے والوں سے کس فیاضی سے اظہارِ محبت کرتے ہیں اور ہم انھیں ایک بے جان شےسمجھ کر بے اعتنائی سے گزر جاتے ہیں ۔
 ہم ان خوبصورت ترین نعمت  کی صرف اس بات  پر ہی خالق  کا شکر ادا کرتے  رہیں  کہ اِنھیں کائنات کو آکسیجن دینے کا مفت ذریعہ بنایا۔ان اشجار کو فضا کی گندگی جذب کرنے کی صلاحیت عطا کی۔وہ کائنات کی  ہر سانس لیتی مخلوق کو  صاف ہوا  میسر کرنے  کے کام پر جُتے ہوئے ہیں ،اُس کی خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔ذرا غیرمعمولی پھیلاؤ ہے تو بندہ  درخت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔درختوں کا گھنا ذخیرہ ایک اور ہی حسن کا عکاس ہوتا ہے۔یہی درخت اپنی جڑیں زمین میں پھیلا کر اُسے غیرمعمولی مضبوطی عطا کرتے   ہیں، اس زمین کی مٹی سے خوراک حاصل کرتےہیں   ،چوٹی تک   ہر پتے  کو پہنچاتے  ہیں توآسمان سے آتی نرم کرنیں بھی   مٹی تک پہنچاتے ہیں۔یہی  دائرہ  کائنات کی زندگی کا دائرہ بھی بن جاتا ہے۔فضا میں موسم بھی اسی دوران اپنی کرسی میز لے کر آتا ہے  اور شاملِ انجمن بن جاتا ہے اور ہم کہہ اُٹھتے ہیں "آج موسم کتنا سہانا ہے"۔
قدرت کے خالص نظاروں میں صحرا ، جنگل ، ویرانے میں سبزہ ، پانی، درخت اور جنگلی حیات وہ مندرجات ہوتے ہیں کہ انسان کو زندگی سے عجب دلرُبا پیار ہو جاتا ہے ۔کئی روز تک " ایش ورتھ " کے جنگل کی خوشبو دل و دماغ میں بسی رہی ۔ چند ہفتے مزید گزرے کہ پاک وطن کی مشہور و معروف ادیبہ اور کامیاب ڈرامہ نگار "محترمہ فاطمہ ثریا بجیا " کا ایک انٹرویو دیکھنے کو ملا ،جس میں وہ ریاست میسور کی سیر کااحوال بتا رہی تھیں کہ " جہاں ہم نے بہت سے اہم تاریخی مقامات دیکھے ،ٹیپو سلطان کے خوبصورت، محلات ، جائے شہادت اور عجائب گھردیکھا لیکن آنے سے ایک دن پہلے ہمارے گائیڈ نے پوچھا " کیا آپ صندل کے جنگل کا مشاہدہ کرنا چاہیں گی جو یہاں کی وجۂ شہرت ہے ،میں نے کہا کیوں نہیں اور ذہن نے ایک دم صندل کی خوش کن خوشبو کو جیسے قریب ہی محسوس کر لیا ہو " ۔ اگلے دن گائیڈ کی معیت میں صندل کے جنگل پہنچے ،یہ خوب گھنّا جنگل تھا لیکن یہاں خوشبو ندارد ، یہ کیا ؟ وہیں جنگل کے رکھوالے بیٹھے تھے ، انہی سے پوچھا ،یہ تو صندل کا جنگل ہے ، تو خوشبو کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا ، ماں جی آپ نہیں جانتی کہ صندل کا درخت جب تک زندہ ہے تو چھاؤں دیتا ہے ، کٹ جائے تو خوشبو دینے لگتا ہے۔ "یہ درخت نہیں یہ تو ماں ہے ، جو زندہ ہے تو چھاؤں بنی رہتی ہے ، مَر جائے تو اولاد میں اچھی تربیت کی خوشبو چھوڑ جاتی ہے"۔یہ انٹرویو اعلیٰ سوچ اور بہترین الفاظ کی عکاسی تھا ۔
تب خیال آیا ، انٹرویو کے یہ الفاظ درختوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور دوسرا خیال یہ آیا کہ کچھ درخت بھی " غازی اور شہید ، جیسا کردار، ادا کر جاتے ہیں کہ زندہ ہیں تو چھاؤں ، پھل ، ٹھکانہ ، محافظت اور مَر گئے تو خوشبو کا خزانہ چھوڑ جاتے ہیں تو مَرے کہاں ؟وہ تو شہید ہیں کہ کبھی گھروں میں اس خوشبو دار لکڑی سے کارنس بن گئی ، کبھی کوئی کرسی ، کبھی الہامی کتاب کی رحل اور کبھی ہاتھوں کی انگلیوں میں پھِرتی تسبیح کہ جب طبیعت بوجھل ہوئی ، اسے سونگھ کر بشاشت پا لی ۔
گویا فطرت کی سادگی میں پُر کاری اور جاذبیت کا جزو اِسے مسحور کر نے والی تاثیر دیتا ہے اور اس پر مستزاد خوشبو جو ایک اضافی خوبی ہے۔
ہم انسانوں کو یہی تو ایک واضح پیغام مِل رہا ہوتا ہے کہ کچھ تو ایسا کر جاؤ کہ جانے کے بعد تمہاری باتوں کی ، قربانیوں کی ، ایثار کی خوشبو تا دیر یادوں میں شامل رہے ۔
کیسا خوبصوت شعر جانے کس خوبصورت شاعر کا ہے
؎ چھاؤں دیتے ہیں جو صحرا میں کِسی کو
دل میرا ، ایسے درختوں کو وَلی کہتا ہے

( منیرہ قریشی 31 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) 

جمعہ، 29 مارچ، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں "( رپور تاژ 8) ۔


"Ash Worth"
"ایش ورتھ سے باتیں"
باب۔۔ 8
ٹینڈل ہل پارک کے نیم برہنہ ، لیکن قدرِ بیزار اور خاموش جنگل نے متاثر تو کیا اور دل بھی اس کی طرف کِھچا ، لیکن جانے کیوں مجھے یہ واضح پیغام ملا " ٹھیک ہے تم آئیں ، ہمارے دکھ کو محسوس کیا ، ہم سے باتیں کیں بلکہ ہماری داستانِ حسرت زیادہ سنی لیکن اب تب آنا جب ہمارےغم میں شریک لوگوں نے اپنے اپنے بزرگوں کو درختوں کے تحائف دے کر ہمیں نئے ساتھی دے دئیے ہوں ، اگر پھر آنا ہوا تو تب تک یہ نوخیز درخت جوان ہو چکے ہوں گے اور یہ سب تمہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ ہم تمہیں ویسی گرم جوشی سے نہیں ملے جو تمہارے تصور نے پہلے کے تجربات کے تحت سُجھا دیئے تھے۔ اب کیا کریں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی نے ہمارے لہجے کو بیزار سا کر دیا ہے ۔جنگل کے اس ذخیرے کی بُڑبڑاہٹ چلی جا رہی تھی کہ واپسی کا اشارہ ملا ۔ میں خاموشی سے انھیں الوداع کہے بغیر ہی لوٹ آئی ۔ دل اُداس تو ہوا لیکن اِک گُونا تسلی بھی کہ انھوں نے میری آمد پر اپنے گھنے درختوں کے سائے میں ڈرایا تو نہیں تھا بلکہ اپنا دکھ بانٹا تھا ۔
ابھی دن کا آدھا حصہ ہی گزرا تھا جب واپسی کے سفر میں مہربان میزبان نے گاڑی گھر کی بجائے ایک سِمت موڑ دی اور ساتھ ہی بتا دیا ،یہاں ایک اور گوشہ ہے جسے بہت پہلے دیکھا اور دل میں گھر کر گیا۔ وہ یہاں سے قریب ہی ہے ، دیکھتے ہوئے چلتے ہیں ! مَیں نے دل میں کہا " دیکھنے نہیں ؟بلکہ ملنے چلتے ہیں " کچھ دیر سفر کرنےکے بعد تھوڑا پیدل چلے ، یہ ایسی جگہ تھی جو آس پاس بالکل فلسفیانہ خاموشی میں ڈوبی محسوس ہوئی ، ایک ذیلی سڑک سے اندر پگڈنڈی کی طرف مُڑے ،چند گز گئے ہی تھے ، صاف محسوس ہو گیا یہ حصہ عام لوگوں کی آمد ورفت والا نہیں ، یہاں وہی آتے ہوں گے ، جو ایسے چُھپے گوشوں کی محبت میں غرق ہوں ، چند قدم مزید آگے بڑھے کہ یکدم تیز خوشبوکا جھونکا ہم سے ٹکرایا ، گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا ، کیا واقعی اتنے معطّر و مقَطر عطر سے استقبال ہوا ہے ؟ کیا واقعی ؟ میں حیرت ، انبساط اور خوشی سے سرشار ہو گئی ۔ شکریہ پیارے جنگل ! گھنے درختوں نے جیسے بیک وقت تالیاں بجائیں ۔ ایک بزرگ درخت نے سب کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا،
" کتنے ہی سالوں بعد کسی نے ہمیں کھوج اڈالا ۔ ہم کب سے منتظر تھے،کہ ہمیں کوئی سراہنے والا آئے ۔ یہاں یہ میزبان لڑکی کئی سال پہلے آئی تھی یہ فطرت کی عاشق تو ہے لیکن ابھی ہم سے ہم کلام ہونے کے کُلیے نا آشنا ہے ، ہم اتنے خوش ہیں کہ تم پر خوشبو بھرے پھولوں کے عطر کا چھِڑکاؤ کر دیا ۔ آتی رہا کرو کہ روح کی بالیدگی ذکر و فکر کے علاوہ قدرت کے نظاروں سے بھی ہوتی ہے "
یہیں ایک جگہ سے پانی کے بہاؤ کا مدھم سُر سنائی دیا ، آگے بڑھ کر گہرائی کی طرف جھانکا لیکن وہ پانی ایک شانت پتلے چشمے کی صورت قدرِ گہرائی میں بہہ رہا تھا ، کچھ اُوپر سے جھانکنے پر چشمہ جیسے سُکڑ گیا ، اور مزید کسی گہرائی کی طرف چُھپ گیا اسی کے کنارے رنگین جنگلی پھولوں کے تختے بِچھے ہوئے تھے ۔ قدرت اپنے حُسنِ کرشمہ ساز کو خالص رکھنے میں اسی لئے کامیاب رہتی ہے کہ وہ غیر اہم ، بےگانی نظروں سے خود کو دُور رکھنا پسند کرتی ہے تاکہ صرف ستائشی نظروں پر اپنے جلوے کھولتی ر ہے ۔ ہم پر حُسن کے جادو نے خاموشی طاری کر دی ۔ دل کی ٹِک ٹک مسلسل "سُبحان اللہ ،سُبحان اللہ کا وِرد کرتی چلی گئی ۔ آنکھیں بند کر کے اس کے نظاروں کی تصویر دل میں اُتاری ، لمبے لمبے سانس لئے کہ مدت بعد " رنگین خوشبو دار پھولوں سے لَدی خاموشی" کو دل و دماغ میں جذب ہوتا محسوس کیا تھا ۔ استقبالیہ بھی مہمانِ خصوصی جیسا ملا تھا ۔
اِس جنگل نے اپنا تعارف "ایش ورتھ "کے نام سے کروایا ۔ اور گھنے درختوں کے نیچے اُگے کاسنی اور گلابی پھولوں پر ہاتھ پھیرتے واپسی کی راہ لی کہ جیسے کچھ دیر اور رُکے تو اسی خوبصورتی کا حصہ ہی نہ بن جائیں ۔ لیکن " انسان تو خسارے میں ہوتا ہے " وہ اس مختصر زندگی کے لئے نئی نئی آسانیاں کھوجنے ، اپنانے میں وقت صَرف کرنا پسند کرتا ہے ۔ آہ ، انسان بے شک بڑے گھاٹے کا سودا کرتا ہے َ!!
ہمارے دل کی وہ اداسی دُھل سی گئی جو ڈینڈل ہل کے درختوں کی وجہ سے اثر دکھا رہی تھی۔
( منیرہ قریشی ، 29 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) جاری !


جمعرات، 28 مارچ، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔7)


" ٹینڈل ہل پارک " کی اُداسی
باب۔۔7
مانچسٹر کے گلابی موسم کی چمکیلی خوبصورت صبح تھی اور پچھلے لان سے ملحقہ چھدرے جنگل کو صبح کا سلام کرنے پہنچ گئی کہ اب اپنی گاڑھی ہوتی دوستی میں مزا آنے لگا تھا ۔ پہلے سلام اور پھر کلام ہوتا ۔ وہ مجھ سے محبت بھری سر گوشی میں پوچھتا ! " رات کیسی گزری ؟ کیسے خواب دیکھے ؟ کچھ نیا لکھا ؟" میَں مُسکرا کر جواب کی بجائے اِسی سے سوال کرتی، تم سناؤ ! کیا رات کو لومڑیاں آئی تھیں ، اپنا وہ کھاجا کھانے ، جو میں نے تمہاری جڑوں کے پاس رکھ دیا تھا ؟ تو پتوں بھری ٹہنیوں نے قدرِ جھک کر اشارہ کیا " دیکھو تو وہ گتے کی پلیٹ خالی ہے ، بلکہ میٹھی گوگیاں جو تم اپنے وطن سے لائی تھیں ، اسے دو آنے والے ہرن ماں بیٹا چٹ کر گئے ، وہ اس نئے ذائقے سے نہال ہو رہے تھے ، اگر اور ہیں تو وقفے سے ڈال دینا ، اس کاسنی پھولوں والے پودوں کے درمیان وہ کبھی کبھار چکر لگانے آ جاتے ہیں اور یوں ہماری رات اُن سے گپ شپ میں گزر جاتی ہے " ۔ نوجوان تندرست درخت نے رات کی ساری رُودار سنا ڈالی اور مزید کہا " اگر آج باہر جانا ہوا تو پُر جوش میزبان سے کہنا تمہیں 'ٹینڈل ہل پارک ' لے جائے ، وہ ہم سے کہیں زیادہ پُرانا جنگل تھا ، جسے کوئینز پارک کی طرح لوگوں کے لئے تیار کر دیا گیا ہے ، تم جاؤ گی تو وہ خود اپنی کہانی سنا دے گا" ۔
اس پُر سکون صبح ٹینس کی بال جتنی بڑی سٹرا بیریز کا ناشتہ ہوا تو " ٹینڈل ہل پارک " کا ذکر کیا گیا ، تو محبتی میزبان جو خود بھی سیلانی روح ہے ، نےفوراً کہا " چلیں آج شام کی چائے اسی پارک میں جا کر پئیں گے ۔ دل پہلے ہی پُر جوش تھا ،میں نے جنگلوں کو نہیں ، انھوں نے مجھے چُن لیا تھا ، تبھی تو ایک غیر اہم یہ چھدرا جنگل اپنے ایک بزرگ سے ملنے کا مشورہ دے رہا تھا ، میں کچھ دیر کے لئے خود پر نازاں ہوئی کہ مجھے ان جنگلوں نے اپنی دوستی کے قابل جانا ہے ، اے خالق تیرا شکر ، تیرا کرم ! ورنہ اگر یہ مجھے ڈراتے تو میں کیا کر سکتی تھی ۔ میں کبھی ان کی باتیں نہ سمجھ پاتی اور کبھی ان کی صُحبت میں اتنی خوشی محسوس نہ کر سکتی ۔
سہ پہر تک چائے کا کچھ سامان لے کر شاندار گھروں کی درمیانی سڑک سے گزرے ۔ جہاں اس سڑک کا اختتام تھا وہیں گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ بنی ہوئی تھی ، ایک برائے نام سا گیٹ تھا جس پر تکلفاً ایک تالا لٹک رہا تھا ، البتہ ایک چھوٹا گیٹ ہر آنے جانے کو خوش آمدید کہہ رہا تھا جِسے کوئی لمحہ بھر کو بھی نہیں دیکھ رہا تھا کہ ہر داخل ہونے والے کی نظروں کو نہایت ترتیب سے بنا راستہ اپنی گرفت میں لے رہا تھا۔ شروع کے فرلانگ بھر راستے کو خوبصورت سبز گھاس اور بنچوں سے آراستہ کیا گیا تھا ۔ اسی کے نزدیک ایک کینٹین بھی بنائی گئی تھی ، جہاں زیادہ تر مائیں اپنے بچوں کے ساتھ براجمان تھیں کہ ان کے بچوں کی پسندیدہ خوراک مل رہی تھی ،ایک بنچ پر چائے کے لوازمات رکھ کر آس پاس پھیلے درختوں کی طرف نظر ڈالی ، دل کی دھڑکن پھر تیز ہوئی کہ یہاں جنگل گھنا تو رکھا گیا تھا لیکن کہیں کہیں راستہ بھی بنا دیا تھا ، قریب ترین گھنے درختوں کی اُوپری شاخوں سے گتھے ذخیرے تک پہنچنے کے لئے ڈھلوان راستہ طے کر کے جانا پڑا ۔ وہاں پہنچی تو اس روشن سہ پہر میں بھی یہاں ٹھنڈک اور نیم اندھیرا تھا ، نہ صرف سانس درست کرنے تھے بلکہ جنگل کے اس احاطے کو اپنی آمد کا اندراج بھی کروانا تھا ، یہاں کوئی بنچ نہیں تھا کہ کچھ دیر وہیں بیٹھ جاتی لا محالہ انہی درختوں میں ایک کے تنے کا سہارا لیا اور جیسے کسی نے میری کلائی پکڑ لی ،مجھے اس گرفت میں دوستانہ احساس بھی ہو گیا ، خوش آمدید ، جنگلوں کی محبت کی اسیر ! ہمیں چھدرے جنگل نے کہلوا دیا تھا ، اپنی چاہتوں کا یقین دِلانے مشرق سے مہمان آئے ہیں ، تم اچھے وقتوں میں آئی ہو ، ورنہ ہم تو تین چار میل کے دائرے میں پھیلا وہ جنگل تھے کہ رات تو رات ، دن کو بھی یہاں سے کوئی گزرنا پسند نہیں کرتا تھا ، دیکھو تو یہ سامنے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ابھی بھی گھنے درختوں سے لدی ہوئی ہیں جہاں جنگلی حیات آرام سے رہ رہی ہے ۔ 1861ء تک اس جنگل نے باغیوں کو محفوظ پناہ گاہیں بھی مہیا کیں ، جو اس دَور کے بادشاہوں کی نیندیں حرام کئے رہتے ، آخر کار یہ دورانیہ گزرا اور فیصلہ ہوا باغیوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ جنگل چھدرا کر دیا جائے ، لیکن زمینی سطح اسی طرح اونچی نیچی ، بلکہ مزید نیچی ڈھلانیں موجود رہیں ، جہاں لمبے لمبے درخت گہرائی سے اٹھتے چلے آتے ہیں اور ان کی چوٹیاں لوگوں کے قدمو ں کو چھوتی ہیں ۔ " تم دیکھ رہی ہو نا، کچھ جگہوں پر ہم درختوں کو کچھ زیادہ ہی کاٹ ڈالا گیا ہے ، اب ہم اپنے کمزور ذخیرے پر اُداس اُداس رہتے ہیں ، تم نے اس اداسی کو محسوس کیا ؟ اس وقت مجھے احساس ہوا ، اس پرانے جنگل لیکن نئے پارک میں کوئی گرم جوشی کیوں نہیں محسوس ہوئی ، اس کے کافی پھیلے رقبے تک گھومنے پر علم ہوا کہ بہت سے نئے درختوں کے گرد جنگلا لگاہوا تھا ، ہر درخت پر کسی بیٹے ، بیٹی ، پوتے پوتی نے اپنے بزرگوں کے نام لکھ کر ان کی یاد میں یہ درخت لگائے تھے ، اوہ !! تو یہ بات تھی کہ تیزی میں کانٹ چھانٹ نے جنگل کو نیم برہنہ کر ڈالا تھا ، اور انسانوں کے اس سلُوک نے اس کی خوش مزاجی مدھم کر دی تھی ، اب نئی نسل مداوا کرنے میں کوشاں تھی " جتنا اس گھنے لیکن کاٹے گئے جنگل نے اپنے محسوسات شیئر کئے ، اس نے مجھے خاموش کر دیا تھا ۔ لیکن دُکھی نہیں کیا تھا کہ اب چند عشروں میں یہ جنگل اپنا دبدبہ پھر حاصل کر لے گا کہ ہر وہ قوم جو اس شعور سے آگاہ ہو جائے کہ " ہم درختوں سے ہی قدرت کے یہ نظارے مکمل ہوتے ہیں اور قدرت کہیں بھی ہو وہ سبز رنگ سے عاری ہو ہی نہیں سکتی ۔ سارا ماحول قدرت سے میل کھاتا ہوا ہو ،یہ تبھی ہو گا کہ جب سبز کا ہر شیڈ آس پاس ، ہر کونے سے جھلک دکھا رہا ہو "۔

( منیرہ قریشی ، 28 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) 

جمعرات، 21 مارچ، 2024

"جنگل کچھ کہتے ہیں (رپورتاژ۔6)"

کوئینز پارک کے قدیم درخت"۔"
باب۔۔ 6

مانچسٹر میں گھر کے باغیچے کی باڑکے بعد شروع ہونے والے جنگل سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ روز ہی السلام علیکم کہہ کرگفتگو کی ابتدا ہوتی اور اس کی سادگی وپُرکاری سے ساری تھکاوٹ د ُور ہو جاتی ،گویا درختوں اورفطرت کی صُحبت ہی انسانی مزاج کی اصل خوراک ہے۔اس قدرتی یا انسانوں کے نظرانداز شُدہ جنگل کو "چِھدرا جنگل" کا نام بھی دے دیا ،جس نے میرا دل ایسے موہ لیا کہ جوں ہی پہنچتی کچھ نوخیزاور کچھ جہاں دیدہ درختوں کی جانب سے سننے کو ملتا"آؤ نا کچھ باتیں کریں ،یہ جو تم آتے ہیں سلام کرتی ہو،ہمیں سَراہتی آنکھوں سے دیکھتی ہو،حال احوال پوچھتی ہو،رات کیسی گزری،کون کون سے جان دار رات کو بسیرا کرنے آئے؟ایسی محبتیں نہ سینچو، پھر جب تم چلی جاؤ گی تو ہماری اُداسی تادیر چلے گی،کیونکہ تم ہماری حسّاسیت کو جانتی ہو،خوشی ،غم،محبت،نفرت سبھی جذبے ہمیں بھی ودیعت کیے گئے ہیں،تمہیں یاد ہے نا شروع کے چند روز ہم نے تمہیں کوئی تاثر نہیں دیا تھا،ہم کسی دوسری صنف کی محبت یا نفرت سہنے کے لیے بہت جلدی تیار نہیں ہوتے،ہمیں دھیرج اور ٹھہراؤ کے گُن دیے گئے ہیں،لیکن جب ایک بار ہم کسی کی چاہت جانچ لیں،تب اس محبت کا امرت ہماری رگوں سے کوئی نہیں چھین سکتا۔لیکن اگر کوئی نفرت بھرے جملے ہماری جڑوں کے پاس کھڑے ہو کر کہتا رہے تو نہ پوچھو ہم کیسے ٹوٹ جاتے ہیں۔تو ہم بتا رہے تھے کہ شروع کے چند دن ہم نے اپنی خوبصورتی تم سے چُھپا لی تھی،ذرا اب نظر ڈالو!"۔ واقعی تب احساس ہوا کہ کچھ الگ سا ماحول کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ آج چھدرے درختوں کی جڑوں کے پاس تین چار انچ لمبی گھاس کے سبھی سِروں پر ہلکے گلابی اور جامنی چھوٹے چھوٹے پھولوں نے قالین سا بچھا دیا تھا۔بُزرگ مسکرائے اور کہا "تمہیں خوش آمدید کہنے کا اِن نوخیز پودوں کا اپنا ہی انداز ہے"۔ مجھے اس استقبال نے جذباتی کر دیا اور میں شکریہ،شکریہ کہتی ہوئی پلٹ آئی۔

اُسی روز ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب قریبی پارک جانا ہوا تو پتہ چلا کہ کبھی یہ سارا ایک گھنا جنگل تھا اور ہمارے ہاں کے "کچے کے ڈاکوؤں"کی طرح اُن کے جرائم پیشہ افراد کا محفوظ ٹھکانہ بھی تھا۔گزرتےمسافر اُن کا نشانہ بنتے۔ملکہ وکٹوریہ کے دور میں اِس کی کٹائی ہوئی لیکن فراست کا ثبوت دیتے ہوئے قدرتی پن قائم رکھا گیا تا کہ قریبی رہائشی اس کی خوبصورتی،سکون اور وافر آکسیجن سے مُستفید ہوتے رہیں ۔ سیر کے دوران احساس ہوا کہ کسی نے پُکارا ہے، بالکل وہی مانوس آواز۔ "خوش آمدید ،مہاتما بدھ کے پیروکاروں کے دیس سے آنے والی،ہمیں بھی کچھ وقت دینا،جیسے اپنے گھر سے ملحقہ جنگل کو دے رہی ہو"۔ میں ٹھٹک گئی اِنھیں کیسے پتہ کہ میں کہاں سے آئی ہوں اور کہاں ٹھہری ہوں لیکن پھر یاد آیا کہ درخت کہتے ہیں "ہمیں دنیا کے ہر خِطے کے ساتھیوں کا احوال گرم سرد ہوائیں دیتی رہتی ہیں،اسی لیے ہم اجنبیوں کو پہچان لیتے ہیں"۔ میں مُسکرا کر اس خوب گھیرے والے بزرگ درخت کے تنے پر ہاتھ پھیرنے لگی جو عمر کے لحاظ سے شاید اس پارک کا سب سے عمررسیدہ درخت تھا۔اس کے تنے کا گھیراؤ اور اُن پر بنے انسانی انگلیوں کی طرح کے دائرے،اُس کی شناخت کا مظہر تھے۔ یہاں چارہزار پانچ سو کے قریب درخت تھے اور یہ درخت شاید "ماؤنٹین ایش "تھا جو قریباً سو میٹر اونچا جاتا ہے۔اس کی بزرگی میں دانائی ،دبدبہ اور شفقت کے عناصر واضح تھے۔اس سے گفتگو شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ مہینوں بھی کھڑی رہوں تب بھی باتیں ختم نہ ہوں گی ۔اس نے مجھے اپنی تاریخ سے تو آگاہ کرنا ہی تھا کہ کیسے یہ اٹھارہ سے بیس سو ایکڑ پر پھیلا جنگل دراصل ایک لاولد نواب کی جاگیر تھا جو بنا وصیت کیے انتقال کر گیا تو اس کی جائیداد حکومتِ وقت کے پاس چلی گئی۔ ہم سبھی درخت خالق کے حکم سے وجود میں آئے۔ہمارے گھنے سایہ دار وجود تلے کئی اقسام کی جنگلی حیات تو پلتی ہی تھیں لیکن انسان نما شیطان ہمارے لیے ہمیشہ آزمائش بنے رہے،یہاں کے گھَوراندھیروں میں چھپے ڈاکو مسافروں کو لُوٹتے،اُن کو قتل کرتے،ان کی عورتوں اور بچوں کو اغوا کر لیا جاتا (گویا تاریخِ انسانی سبھی خِطوں میں ایک جیسی ہی رہی ہے،ایک طبقہ حاکم اور محفوظ اور دوسرا بدحال ،کمزور ، غیرمحفوظ اور اپنے حال پر بےبس۔ تیسرا مالی اور معاشرتی حالات کے سامنے شرافت کے اصولوں کے منافی ڈٹ جانے والا اور چوتھا سبھی طبقات کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھانے والا۔ آہ! ایک وہ طبقہ بھی ہے جو علم وہنر سے آراستہ تو ہے لیکن حالات پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتا۔ موہنجوداڑو کی سرزمین سے آنے والی!ہم جانتے ہیں تم ہماری خاموشی کو یکدم پہچان لیتی ہو،تم جب تک یہاں ہو پھر ضرور آنا،بہت سی باتیں کرنا ہیں،شکر کیا ہے کہ سماعت اور صبر کے ساتھ کوئی سننے والا آیا ۔ "شکریہ"میں نے اُنہی کی خاموشی کی زبان میں جواب دیا ۔۔''ابھی میں یہیں ہوں تمہارے دیس میں،اب اکژ ملاقاتیں رہیں گی''۔میں جب بھی نئےخِطوں کے درختوں سے ملتی ہوں ،مجھے بچپن میں اپنے گھر کے صحن میں لگے سفیدے کے درخت کی یاد ضرور آتی ہے جس نے اپنے رویے سے مجھے یہ خاموش زبان سکھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شکریہ! سفیدے کے درخت۔

(منیرہ قریشی،22 مارچ 2024،واہ کینٹ)

"جنگل کچھ کہتے ہیں( رپورتاژ۔ 5)

"زمین بوس درخت کی کتھا"
باب۔۔5
چند ماہ اس شہرِدِلرُبا (مانچسٹر) میں رہنے کو ملے کہ اس کے حسین او ر رنگین گوشوں کو دیکھ کر بےاختیار واہ اور آہ کی صدائیں دل سے اُبھرتیں اور محض اس لیے باآوازِبلند کہتے رہے کہ حسن تو اس کے خالق کی تخلیق ہے،ہاں !ان قوموں نے یہ ضرور سیکھ لیا کہ اس حسن کوکیسے محفوظ رکھنا ہے بلکہ مزید کیسے نکھارنا ہے۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ یہ تو مشرق کا مخالف رہاہے،ہمیں کئی عشروں سے لُوٹ کراب پھرباعزت بنا،تن کر کھڑا ہے۔اب ایسی بھی کیا تعریفیں کرنا ،بقول احمد فراز
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
کچھ ایسی ہی گومگو کیفیت کے ساتھ پورا ملک گھوم لیا۔ دل و دماغ نے عشق کی پہلی منزل کو پار کیا کہ ہر دس میل میں ایک دو وسیع پارک اور ایک آدھ قدرتی انداز میں چھوڑا گیا چھوٹا ، بڑا جنگل ہر طرح سے داستانیں بیان کرنے کو بےتاب نظر آئے ۔ جس خوبصورت مکان نے اور اس سے بڑھ کر خوبصورت مکینوں نے چند ماہ کے دورانیے کو گُل وگلزار بنائے رکھا ۔ لازم تھا کہ اس کے ہر کونے کو سراہا جائے ۔ چناچہ سراہنے والا دل اور آنکھ لے کر سب سے پہلے سبزہ و گل و شجر سے دوستی کا آغاز کیا ۔ گھر کا پچھلا لان یوں کِھل اٹھا ، جیسے پرانی یاری تھی اور جیسے کہہ رہا ہو ، ؎ بہت دنوں کے بعد ملے ہو کیسے ہو ؟ اچھے ہو ؟ یا ہم جیسے ہو ؟؟؟ لان کے کناروں کی گھنی جھاڑیاں ، کچھ چھوٹے قد و قامت کے مختلف رنگ اور قسِم کے درخت اور آخری سِرے کی لکڑی کی باڑ اور پھر اِس باڑ کے ساتھ ٹیک لگائے دو تین بزرگ درخت ، جن کو ان دنوں قدرت نے سبز لبادہ اوڑھا رکھا تھا ۔گھر کے بالکل پڑوس کے لان پر طائرانہ نظر ڈالی ،جہاں زمین پرایک درخت جانے کب سے محوِ استراحت تھا ۔
پوری توجہ اُس وقت باڑ کے باہر تھی ، پار جھانکتے ہی دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہو گئیں کہ ایک ہلکا سبز لباس پہنے چھِدرے سے قدرتی جنگل نے قدرِ شرما کر سرد مہر خاموشی سے دیکھا اور جیسے چھوئی مُوئی پودے کی طرح خود اپنے آپ میں بند ہو گیا ۔ اس ادا نے جیسے دل موہ لیا ۔ آج بس اتنا ہی کہ خود کو اتنے غیر متوقع قدرتی نظاروں کے لئے تیار بھی کرنا تھا ۔ چند منٹ کے بعد پلٹ کر پھر پڑوسی لان میں لیٹے عمررسیدہ درخت پر اِک ہلکی سی نظر ڈال کر گھر میں داخل ہو نے اور اپنی جذباتی کیفیت کو ٹھہراؤ میں لانے لگی کہ حُسنِ فطرت بہر حال سُرور طاری کر دیتا ہے ۔ حُسن کا جلوہ دل کی دھڑکنوں کو کچھ دیر کے لئے اتھل پَتھل کر دیتا ہے بھَلے یہ حُسن ، انسانی خد وخال میں ہو ، آبی ، جنگلی ، یا نباتاتی اشکال میں ہو ، چلو اب تو روز کی ملاقاتیں ٹھہریں ۔ اگلے دن پھر لان پار کرکے زندہ بزرگ درختوں اور چھدرے جنگل کو سلام کیا ، سلام کے اس عمل نے جیسے سب کو کئی منٹ کے لئے ساکت کر دیا ۔ میں نے گِرے ہوئے درخت کو کچھ دیر ترحم کی نظر سے دیکھا ۔ کیسا شاندار درخت رہا ہو گا اور جانے کب سے لیٹا ہے کہ چند ٹہنیاں تو سر سبز ہیں باقی ٹہنیاں ننگی تھیں ، ایک افسردہ لمحہ دل پر بادل کی طرح آیا ۔ اور میں نے " پھر ملیں گے" کہہ کر واپسی کی راہ لی ۔ اب لان نے اپنی طرف متوجہ کیا یہاں قدرت نے جو پودے اور چھوٹے درخت زمین کو ہدیہ کیے ہوئے تھے ، اِن سب کی جڑوں میں رہتی رینگتی مخلوق اپنے عجیب رنگ اور جسامت میں متوجہ کرنے لگی ۔ تیسرا دن بھی درختوں کی سنگت میں گزرا لیکن کوئی گرمجوشی نہ تھی ۔ میَں نے السلام علیکم ضرور کہا ۔ آخر کو وہ سانس لیتی محسوسات رکھتی مخلوق تھی ۔آواز اتنی بلند رکھتی کہ چھدرا جنگل اور زمین بوس درخت بھی سُن لے ۔ پھر چوتھے دن کے سلام نے جیسے سارے ماحول میں عجب دل پذیر گنگناہٹ پیدا کی ہوئی تھی اور پتا پتا جھومتا محسوس ہوا، حیرت تو ہوئی کہ بے اختیار بچپن کا اکثر دہرایا ہوا شعر ہونٹوں پر آگیا ۔ ؎ ایک ہی رات میں کیا ماجرا ہو گیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا ؟ !!! لیکن سلام کرتے ہی فضا میں مِٹھاس پھیلی محسوس ہوئی ۔ گویا دوستانہ ہاتھ تھما دیا گیا تھا ۔ میں نے کچھ دل کی باتیں کیں ، پیارے درختو !میں تمہاری زبان سے نا آشنا ہوں ، لیکن یہ بھی پتہ ہے کہ تم صرف محبت کی زبان سمجھتے ہو ، جو آفاقی ہے ، میں نے ابھی ٹھہر ٹھہر کر تم سب سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ۔تمہیں اپنے اور دوسرے ملکوں کے اشجار کے بارے میں بتانا ہے ،جن سے میں نے باتیں کیں ۔ یوں ہی باتیں کرتے کرتے زمین پر لیٹے شاندار درخت کی طرف نگاہ چلی گئی ،اور میری چھٹی حس نے یہ آگاہی دی کہ وہ سب سے زیادہ پُر شوق ہو کر میری باتیں سُن رہا ہے لیکن یہ تو مَر چکا ہے ؟میں نے پھر اس کے لئے دُکھ کی لہر محسوس کی ۔ اب میری حیرت کی باری تھی ، یہ تو مجھے جواب دے رہا تھا ، آہ !غور سے دیکھنے پر اُس کی بےچارگی پر بھی رشک آیا ۔ اس آہستہ آہستہ جدائی کے وقت میں بھی وہ آس پاس خوشیاں بانٹ رہا تھا ۔ اسی نے بتایا میں سو سالہ سالگرہ منا چکا تھا کہ ایک برفانی طوفانی موسم میں میری جڑوں نے میرے بھاری بھرکم وجود کابوجھ اُٹھانے سے انکار کر دیا ۔ یہ حکمِ خداوندی ہے جب تک وہ چاہتا ہے ہم عمر پوری کرتے اور سونپی گئی خدمت ادا کر کے زمین پر لیٹ جاتے ہیں ، اس طرح گرنے کے بعد کب کوئی ہمیں مزید کس کام کے لئے لے جائے ہم نہیں جانتے اور نہ ہمیں اس سے غرض ہوتی ہے ۔ کیسا خوبصورت شعر کہا ہے تمہارے برِ صغیر کی اس شاعرہ صفیہ راگ علوی نے ۔۔۔
؎ نہ یہ پوچھو گزر کر حد سے دیوانوں پہ کیا گزری جنوں سے جا کے یہ پوچھو کہ ویرانوں پہ کیا گزری ہمیں کس نے بُلایا تھا تیری محفل میں اے دنیا بُلا کر پھر نہیں دیکھا کہ مہمانوں پہ کیا گزری میری آنکھیں بھر آئیں ، یہ کیا سن رہی ہوں اور یہ کیا دیکھ رہی ہوں کہ اس زمیں بوس درخت پر تو گلہریوں کا پورا خاندان آباد تھا ، کہیں کہیں مکڑیوں نے اطمینان سے جالوں کے گھر سجا رکھے تھے ۔ نہایت ننھی مُنی چڑیاں ، درخت کے خفیہ دائروں میں سے اپنی من پسند خوراک کھا رہی تھیں ، سورج کی نرم گرم کرنوں نے بھی ابھی تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا ، ہر بیتتے موسموں میں اس کا ساتھ دے رہی تھیں ۔ اسی لئے یہ درخت فانی ہو جانے کے بعد بھی مخلوقِ خدا کی خدمت میں جُتا ہوا تھا اور وہ مرا نہیں تھا ، وہ تو زندگی کا ثبوت دے رہا تھا ۔ یہ سب مجھے پہلے دن یا دوسرے دن کیوں محسوس نہیں ہواکہ کوئی زیرِ لب کچھ کہہ رہا ہے ، کیوں اس درخت کی آواز کو نظر انداز کیا ۔ آہ ! انسانی فہم کی کوتاہ بینی ! یکدم مجھے سبھی اولیاء کرام کے مزارات یاد آگئے ، وہ بھی تو سانس کے چلنے تک خدمتِ انساں بجا لاتے رہتے ہیں اور جب کُوچ کا حکم ہوا تو لمحے میں پیش ہو گئے ، خالق نے انعام کے طور پر ان کی ڈھیریوں کو لا تعداد لوگوں کے لئے رزق روزی کا ذریعہ بنا دیا ، پہلے بھی چلتے پھرتے تھے ، اب الگ رنگ سے چلو پھرو کہ ایک رنگ میں تو صرف وہی ہے جو لا شریک ہے ، تا ابد ہے ۔ اوّل و آخر ہے اس کی ذات ۔۔۔۔ حضرت میاں محمد بخش نے کتنی گہری بات کتنے سادہ و دل نشیں انداز سے کہہ دی ، ؎ کچا رنگ للاری والا ، چڑھدا لہندا رہندا عشق تیرے دا رنگ محمد چڑھیا فِر نہ لیندا ( رنگساز کا چڑھایا گیا رنگ کبھی کچا ، کبھی نیم پکا ہوتا ہے لیکن ربِّ کریم کی نظر ِکرم والے پر جو رنگ چڑھتا ہے ، اسے پھر کوئی نہیں اُتار سکتا ) ( منیرہ قریشی ، 21 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) ( جاری )

پیر، 18 مارچ، 2024

جنگل کچھ کہتے ہیں" ( رپورتاژ۔4)

"ایپنگ فارسٹ کے مکین"
باب۔۔4
جنگل محض درختوں کا محدود یا وسیع ذخیرہ ہی نہیں ہوتا ، یہ وہ سانس لیتی حسّاس مخلوق ہے جو اظہار اور رویہ دکھاتے ہیں۔ جہاندیدہ درختوں کے جھنڈ سر جوڑے اپنے دیکھے ، سنے تجربات آپس میں بانٹتے رہتے ہیں ۔
خوف آدم وحوا  کے بیری کے درخت کا پھل کھانے کے بعد شروع ہوا کہ احتیاط ہی احتیاط میں درختوں سے دوستی کم ہوتی چلی گئی لیکن اللہ نے اپنی کائنات کو کُن فیکون کے جن مظاہر سے سجایا،اُن میں سے انسان کے بعد  اگر کسی مظہر کو چہیتا  بنایا  ہو گا  تو وہ درخت ہی ہیں ۔اسی لیےسدرۃ المنتہیٰ  کے  نام سے   ایک ایسا درخت بنایا  جو چھٹے آسمان سے ساتویں آسمان تک بلند ہے  اور اُسی کی  جڑوں سےچار دریا جاری کیے جن میں دو دنیا میں جاری ساری ہیں،"نیل اور فرات"۔دو دریا جنت کے لیے جاری ہیں  "سیہان اور جیہان"۔
اسی طرح دُنیا میں اپنے عکس کے لیے حضرت موسی علیہ السلام کو  متوجہ کرنے کے لیے درخت کو چُنا  جو سراپا نور و شعلہ تھا۔ اسی سے رب  نے اُن سے کلام کیا اور اپنا پہلااندازِ وحی   عطا کیا۔ درخت ہی تو ہیں جنہیں انسانوں کی طرح سننے  اور حساسیت کی صفات  عطا کیں ۔یہ  درخت ہی تو ہیں جو دنیا میں  پھیلی  سورج کی تپش  سے محفوظ  رکھنے کا کڑا فریضہ انجام دے رہے ہیں  ۔یہ درخت ہی ہیں جنہیں کائنات کا حسن قرار دیا گیا ہے۔
کچھ ایسے ہی جنگل میں جانا ہوا ،جس کی عمر وہاں کے باسیوں کے مطابق دس ہزار سال سے زیادہ تو ہو سکتی ہے کم نہیں ۔ مغربی ماحول ، تہذیب وتمدّن اور کم آبادی نے اس کو ایک فائدہ ضرور دیا تھا کہ صاحب اختیار طبقے نے اسے قدرتی حسن میں ہی رہنے دیا۔ شاید اِسی لئے ہیبت اور کچھ اس کی قدامت نے اسے احترام دِلائے رکھا ۔ اس جنگل کے ایک داخلی راستے سے اندر جانے لگے تو وہاں پہلا حفاظتی دستہ خاموشی کا تھا جس نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا ۔ چند قدم کے بعد ہی خوب گھنے درختوں پر مزید خاموشی چھا گئی ۔ سوچا شاید ہم عصر کے وقت آئے ہیں اور مغرب تک اس جنگل کا داخلی دروازہ بند کر دیئے جانے کا نوٹس لگا ہوا تھا ، اسی لئے نہ تو یہاں سیاح نظر آئے ، نہ کوئی کھوجی طبیعت کے لوگ اور نہ زمینی چھپی مخلوق ۔ ہاں البتہ آٹھ دس مقامی لوگ ، اپنے گروپ میں سے کسی کی سالگرہ منانے رُکے ہوئے تھے ۔ آدھے گھنٹے تک ان کی آوازیں بھی معدوم ہو گئیں ۔ لندن کی گنُجان آبادی سے ہٹ کر اس جنگل کی فضا میں دوستانہ گرمجوشی محسوس ہوئی ۔ ہم مطمئن ہو کر آگے بڑھے ، مزید آگے ، بوڑھے درختوں نے اپنے بہت چوڑے تنوّں کے ساتھ " جی آیاں نوں " والی مسکراہٹ پہنچائی ۔ چند درختوں کی کمر خمیدہ تھی ، وہیں درمیان میں ایک چھوٹی سی پُرسکون جھیل تھی جس کے ایک کنارے سے پانی مزید ابھرنے کی قُل قُل کی آواز سے شاملِ جھیل ہو رہا تھا ۔ جھیل کنارے نہایت چھوٹی لیکن عجیب و غریب پانی کی مخلوق بَسی ہوئی تھی ، جانے کب سے ؟ اِکا دُکا نظاروں کو کیمرے کی آنکھ سے دل میں اتارا پھر مزید اندرونِ جنگل جاتی پگڈنڈی کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ اچانک سفاری سوٹ پہنے ، لانگ بوٹ کے ساتھ، برف سے سفید بالوں والے سر پر پگڑی باندھے ، سفید خوب گھنی مونچھوں ، سفید بھنوؤں اور کنپٹیوں سے نیچے آتی سفید داڑھی کے ساتھ سات آٹھ فٹ اونچی با رُعب شخصیت نے راستہ روک لیا جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی بھی تھی ۔ میَں جیسے ساکت ہو کر رہ گئی اور پھر میرے منہ سے صرف اتنا نکلا ۔" آپ کون ؟
اس شاندار بزرگ شخصیت نے مسکرا کر ، مشفقانہ انداز سے کہا " میں تو سینکڑوں سالوں سے یہیں ہوں ،مگر تمہارے جیسی جانچتی ، محبت کی نظر ڈالتی روحیں کبھی کبھار آتی ہیں ۔ مجھے ہی ( Epping forest ) کہتے ہیں ۔ تمہاری درختوں کی محبت اور انھیں جاننے کی اُلفت سے ہم آگاہ ہیں ۔
خوش آمدید ، خوش آمدید ، اے چند گھنٹوں کی مہمان !! اس کے بارعب لیکن دھیمے لہجے نے مجھے شانت کر دیا ۔ ایپنگ فارسٹ نے خود ہی میری سوچ پڑھ لی "تم یقیناً میری پگڑی پر حیران ہو رہی ہوگی، ہم درختوں کے لئے ہر مُلک ، مُلکِ ما است ہوتا ہے ۔ ہم اپنے دور دراز کے ہم نفسوں کے پہناوے پہنتے اور خوش ہوتے رہتے ہیں ، یہ پہناوے ان دور کے ملکوں سے آتے جاتے پرندوں کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں ۔ جوں ہی کوئی ہم سے ملنے آتا ہے ، ہم اسی کے دیس جیسا کچھ بھی پہن لیتے ہیں ، ہمارا یہ خوش آمدید کہنے کا انداز ہے " ۔ " تم جب وطن کو لوٹو گی اور جس بھی جنگل جاؤ گی ان سب کو ہم سے اس ملاقات کا تاثر بتانا ، باقی ہماری پیغام رسانی تو ان پیاری ہواؤں کے ذریعے ہوتی رہتی ہے "۔
" ابھی مغرب کا وقت ہوا چاہتا ہے "۔ ایپنگ فارسٹ نے گھنی بھنوؤں کے ساتھ اُوپر کی جانب آنکھوں کو گھمایا ۔ "اور ہم بھلے کتنے ہی شفیق لگیں، جنگل کا اندھیرا تم انسانوں کو کچھ نا کچھ پریشان کر دیتا ہے تب تم لوگوں کی پریشانی ہم سے دیکھی نہیں جاتی ۔ مجرمانہ ذہنیت کے انسان ہمارے انہی گھنے سایوں کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اپنے ہی ہم جنسوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ ہم یہ سب سنتے اور کڑھتے رہتے ہیں ۔ کیا کبھی ہماری آپس میں چھینا جھپٹی دیکھی ؟ ہم تو کسی کا پھل نہیں چُراتے ۔ نہ کسی سے حسد کرتے ہیں ۔ ہاں البتہ کوئی غم زدہ ہو تو ہم اس کے ساتھ غمگین ضرور ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ کبھی کبھی تو حسّاس درخت ، اپنے پیارے کے غم میں موت کو گلے لگا لیتا ہے ۔تم نے فلسطینی شاعر محمود درویش کا نام تو سنا ہو گا ، اس نے تم لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ
' کوئی درخت کسی دوسرے کا مذاق نہیں اُڑاتا ،
کوئی درخت ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتا ،
جب درخت کشتی بن جاتے ہیں تو وہ تیرنا سیکھ جاتے ہیں ،
جب وہ دروازے بن جاتے ہیں تو وہ رازوں کو چھپانے والے بن جاتےہیں ،
جب وہ درخت کرسی بن جاتے ہیں تو وہ اُس آسمان کو نہیں بھولتے جو کبھی ان پر تنا ہوتا تھا ۔
اور جب درخت میز بن جاتے ہیں تو ایک شاعر کو سکھاتے ہیں کبھی لکڑہارا نہیں بننا "
ایپنک فارسٹ کے بُزرگ جنگل نے محبت سے کہا " ہڑپہ ،موہنجو داڑو کی قدیم سر زمین سے آنے والے مہمانو ! اب لوٹ جاؤ کہ داخلی دروازہ تمہارا منتظر ہے ،ہم سب کے خالق نے چاہا تو پھر ملیں گے " ۔
آنے جانے والوں کے لئے بنے نہایت چھوٹے سے پھاٹک کو پار کرنے سے پہلے اِرادی طور پر اس پُراسرار ، قدیم اور دلچسپ جنگل پر الوداعی نظر ڈالی ، یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ بزرگ جنگل ، سینہ تانے ہمیں الوداعی ہاتھ ہلا رہا تھا ۔دس ہزار سال کے اس جنگل سے جانے کب ملاقات ہو ، نہ ہو۔

( منیرہ قریشی ، 18 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 17 مارچ، 2024

"جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔3)

"نتھیا گلی کا سِحر"
باب۔۔3
پُلوں کے نیچے سے پانی گزرتا چلا گیا ۔ لوحِ محفوظ میں جو لکھا ہو وہ اپنے وقت پر ہی سامنے آتا ہے ۔ چاہے کسی سے ملاقات ہو چاہے کسی واقعہ کا پیش آنا ہو یا کسی کام کا یکدم ہو جانا ہو ۔
کچھ ایسے ہی بباطن کی اس انوکھے ذوق اور چھٹی حِس میں سے اس سمت کی عجب حساسیت تھی جو ساتھ ساتھ تھی ۔درختوں کی موجودگی مجھےبےچین کر دیتی تھی ، کیوں کہ وہ کچھ باتیں کرتے ، اشارے کنائے سے متوجہ کرتے محسوس ہوتے تھے ، ایسی پیام رسانی کوئی اور کیوں محسوس نہیں کرتا، اس بات پرمیں حیران رہتی تھی۔درختوں کی موجودگی سے لوگوں کی گفتگو پر متوجہ ہونے کے لئے مجھے کچھ مائل ہونا پڑتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔یہ سب گُفت و شنید مجھے اپنے سفر کا حاصل وصول محسوس ہوتی تھی اور ہے !
مری میں نتھیا گلی ، ایک شام کو پہنچے ، ایک اونچی پہاڑی پر بنے ریسٹ ہاؤس میں ایک رات کا قیام تھا ۔ شام تھی اور وہ بھی پہاڑ کی شام ، اونچے لمبے چیڑ اور کچھ مختلف النوع درختوں سے گھِرا، آس پاس کی خاموش فضا میں لپٹا ماحول تھا، ہم دُنیاوی مصروفیات کو اوّلیت دیتے ، محض یہاں کی ٹھنڈک سے محظوظ ہوتے ہوئے ، کمروں کے آرام و سکون کو جانچتے رہے ، جانے کب کی رہتی ایک جوان لڑکی کی آتما سے بھی کچھ لمحوں کی رونمائی ہوئی ۔ پھر رات بھر کے لئے غائب بھی ہوئی ، صبح خیزی کے ذہنی الارم نے جگایا ، اس رب کائنات کے آگے سر بسجود ہونے کے لیے ٹیرس کو پسند کیا جس کے ساتھ لگے چند چیڑ کے درخت اپنے تنوں سے جیسے ٹیرس کو سہارا دے رہے تھے ۔حمد و ثنا کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے ، لیکن یہ کیا،صبح کی نو خیز کرنیں ابھی درختوں کی اونچی چوٹیوں کو چُھو ہی رہی تھیں ، سارا ماحول مصورِ کائنات نے گویا پینسل اسکیچ سے آؤٹ لائن دے کر اس کے خدوخال کو نمایاں کر دیا تھا ، خالق نے عجب نظارے سے آگاہی دی ۔
سیدھے ، اونچے سرسبز درختوں نے بیک وقت رُخ موڑا ، واضح مسکراہٹ کے ساتھ ہلکا سا ہلکورا لیا اور اپنا پیغام مجھ تک ٹیلی پیتھی کر دیا " جس رب نے تمہیں بنایا ، اسی نے ہمیں بنایا ، گہرے لمبے سانس لو ، اس شفاف ہوا کا ذریعہ ہمیں بنایا گیا ہے ۔اپنے جسم کے ہر مسّام تک آکسیجن پہنچاؤ کہ ہم تک تمہارا آنا سالوں کا پروگرام ہوتا ہے اور پھر بتدریج نرم کرنوں نے سہج سہج کر پہاڑی سے اور درختوں کی چوٹیوں سے اُترنا شروع کر دیا ۔ وہی آسمان جو رات بھر سیاہ لحاف اوڑھے ڈراتا رہا تھا کہ کھڑکیوں سے جھانکنا بھی دو بھر تھا ، اس نوخیز سَحَر نے آتے ہی رات کا سِحَردھو ڈالا ۔ سبز ، گھنے درختوں کی سائیں سائیں ، اور گہری سبز گھاس کا ہلکورے لیتی کرنوں کو خود میں جذب ہوتے دیکھنا ، جنتِ ارضی کا دل فریب نظارہ تھا جس نے کتنی ہی دیر مبہوت کئے رکھا ۔ آنکھیں اس رب کی خلاّقی پر بھیگ گئیں ۔ اُف ،اتنی پاکیزگی !! اتنی کومَلتا ، شکریہ اے مالک ! صبح ِسبز کا اور یوں جھومتی کائنات دکھانے کا ۔
درختوں نے بھی بھرپور جلوے دِکھائے ۔ ناشتہ تیار ہے کا بلاوا آیا تو سبھی گروپ ارکان ، میدانوں کی گرمی اور شہری شور و غُل سے اظہارِ ناراضگی کر رہے تھے ۔ موسم و ماحول نے بھر پور ناشتے کی اشتہا دی ،اور جیسے ہی غسل خانے میں ہاتھ دھوئے گئے ،گروپ کی نوجوان بیٹی کو آئینے میں وہی جوان لڑکی پیچھےمسکراتی نظر آئی ، لمحے بھر کے لئے اس کا دل لرزا ، لیکن جوں ہی وہ مُڑی ، جوان روح غائب تھی۔ جانے کتنی صدیوں پرانی تھی یا چند سال پہلے کی بھٹکی ہوئی تھی ۔ لیکن ہم بھی یہاں مسافر تھے ، اس نے بھی مُروّت دکھائی اور ایک یاد گار رات کی جھلک درختوں ، کرنوں اور پہاڑیوں کے سنگ گزار کر اس ذی روح کی چند منٹوں کی رات اور چند سیکنڈوں کی دن کی سنگت کے بعد واپسی کی راہ لی۔ آتے وقت چند لمحوں کے لئے اپنے پسندیدہ ٹیرس کے ساتھ جُڑے ہوئے درختوں کا شکریہ ادا کرنے گئی ، انھوں نے محبت کی نگاہ ڈالی اور کہا " ہو سکے تو دوبارہ آنا ، تب یہ مسافر روح شاید تمہیں اپنی کہانی کہہ ڈالے !!
( منیرہ قریشی ، 13 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) (جاری )


بدھ، 13 مارچ، 2024

"جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔2)


"خیالات و الفاظ کا جنگل"
باب۔۔2
لفظ ' جنگل ' عجیب سا لفظ ہے ، یہ لفظ سنتے یا پڑھتے ہی ذہن میں درختوں کے جُھنڈ کا تصور اُبھرتا ہے ، جہاں چھتنار درختوں کے اندر ، پُراسراریت ، خوف اور چھُپے رازوں کے دفینے ہو سکتے ہیں ۔ گویا قدرت اپنے اسرار عیاں کرنے کے لئے ویرانوں ، صحراؤں اور جنگلوں کو ایک سیڑھی کے طور پر مہیا کرتی ہے کہ " اُٹھو تو سہی ، کھوجو تو سہی ، سوچو تو ذرا ۔ بظاہر یہ بے زبان درخت ، بے آب و گیا ہ ویرانے ، صحرا میں بکھری ریت کچھ کہہ رہی ہے ، لیکن کیا ؟
کبھی کبھی جنگل " گھنّے الفاظ " کی صورت دل و دماغ میں جگہ بنا لیتے ہیں ۔ یہ الفاظ یا تو بلند و بالا درختوں کی مانند ہوتے ہیں یا کبھی چھدّرے درختوں کی طرح !کبھی یہ خیالات خزاں رسیدہ ، پُژمردہ جنگل کی صورت میں اور کبھی پھلوں ، پھولوں یا خوش رنگ پتّوں سے لَدے ، ہاتھ باندھے قطار در قطار خدمت گاروں کی صورت کھڑے نظر آتے ہیں ۔ بس یہ اشرف المخلوق کی کیفیت پر منحصر ہے کہ جنگل کا فُسوں کس رنگ کی پچکاری چھوڑ رہا ہے ، اُداسی کی یا خوشی کی!
الفاظ کے جنگل تو خود قدرت خداوندی کی عجب دَین ہوتے ہیں کہ یہ جنگل " خوش حالی" کے نظاروں کو دکھا رہے ہیں تو ہر دن عید اور ہر شب ، شبِ برات گویا لہجوں کِی جلترنگ اس جنگل کو منگل بنا دیتی ہے ۔ یہ رنگین جنگل اندر کی قناعت سے ضرور مل جاتا ہے ، بس ذرا آنکھوں کی نمی سے خلُوص اور شُکر گزاری کاچھڑکاؤ کرنا پڑتا ہے ۔
کبھی کبھار جنگل کا تصور ، تکلیف دِہ الفاظ ، کانٹے دار جھاڑیوں اور درندوں کی آوازوں کے خوف پر مبنی سفر بن جاتا ہے ، الفاظ کا جنگل ہر شخص اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلتا رہتا ہے لیکن اسے محسوس نہیں ہونے دیتا کہ ہاں میں تمہارے ساتھ تھا اور ہوں !کبھی یہ جنگل یا صحرا ، چھوٹا اور کبھی دمِ آخر تک ساتھ دیتا رہتا ہے ، لمبا راستہ ، لمبا فاصلہ، لمبی آزمائش۔
ایسے لوگ اگر اصل جنگلی حیات ا و ربے زبانوں کے درمیان زندگی گزارنے کی ٹھان لیں تو ان کی روح تھور زدہ زندگی سے نجات پا سکتی ہے ۔ اسی لئے ایسے ہی گہرے لوگ جب دوسری دنیا میں منتقل ہوتے ہیں تو ان کی آخری آرام گاہ کی طرف آنے والے فوراً محسوس کر لیتے ہیں ، "کیسا سکون ہے یہاں ، کتنی مدھرتا ہے ، جیسے وقت رُک گیا ہو ، جیسے خاموشی کہہ رہی ہو ،
؎ میَں تھکیا ٹُٹیا ہویا راہئ !!
تُو ککراں دی چھاں نی کُڑیئے
( میں زندگی کے سفر سے تھک کر آیا ہوں ، اے میری ساتھی ، تمہارا وجود اس وقت میرے لیے کیکر کی چھاؤں کی طرح ہے )
جنگل تو صاف پیغام دے رہے ہوتے ہیں ،ہم سے دوستی کر کے تو دیکھو ! کبھی گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا ۔
قدرت اللہ شہاب صاحب کو اپنے لڑکپن میں ایک خالصہ اسکول امتحان دینے جانا پڑا ، انھیں یہ راستہ ایک چھوٹا لیکن ویران جنگل پار کر کے جانا پڑتا تھا ، شروع کے دو چار دن ان کا پرانا بزرگ ملازم چھوڑنے کا فریضہ ادا کرتا رہا ، پھر اکیلے آنے جانے لگے۔یہی دن تھے جب جنگل نے انھیں ، خوف ، دہشت اور اسرار کے جذبوں سے آزاد کرنے کی تربیت دے ڈالی ۔ جس نے بعد کی زندگی میں بارہا دہشت اور اسرار سے نجات دلا دی اور خاص تجربات کے لئے تیار کر دیا ۔ جئرات ِایمانی ایسے ہی لوگوں کے لئے ہر اَن دیکھی طاقت کے مقابلے کے لئے " گُرز" بن جاتی ہے۔ اُسی جنگل نے انھیں سبق پڑھایا " ڈرو مت ، یہ آوازیں درختوں کی سرگوشیاں ہیں ۔ ہوائیں ان درختوں تک دُور کے جنگلوں کے پیام لے کر آتی ہیں ۔ یہ کھَڑک ،یہ سایہ محض جھاڑیوں میں چُھپی کسی لومڑی ، کسی خرگوش یا کسی رینگتی مخلوق کا ہے ۔ جو تم سے خود ڈر رہی ہے ، شرما رہی ہے۔ یہ جو تم کبھی ساکت و ساکن ماحول سے خوفزدہ ہوجاتے ہو کہ اتنی خاموشی کیوں ، تو جنگل بھی تو کبھی آرام کے لئے آنکھ جھپکا لیتے ہیں "۔
ایسے ہی جنگلوں نے ایسے نفُوس کو اپنی فراست سے قدرت اِلٰہی کے نرالے رُخ دکھا دیے ، شہاب صاحب کی طرح کے نرالے تجربے سے وہ ملائیشین بزرگ بھی بچپن میں گزرا کہ اُسے بھی چند میل کے ایک گھنے جنگل سے گزر کر سکول پہنچنا ہوتا تھا ، وہ دو تین دن مسلسل کلاسز لے کر پھر اسی جنگل کو پار کر کے واپس گاؤں پہنچتا ، ایک چھوٹے بچے کو جنگل سے گزرنے کے لئے کسی بڑے کا ساتھ میسر نہیں تھا اور سب گھر والے جو بدھ مت کے پیرو کار تھے اس فلسفے کے تحت کتنے شانت تھے کہ " جنگل بے ضرر انسان کی خود حفاظت کرتا ہے" اور واقعی جنگل کی اَن دیکھی مخلوق نے اس دس بارہ سالہ بچے کو اکثر بھٹکنے سے بچایا ، اسے اپنی چھَٹی حِس سے کام لینا سکھایا ، جنگل نے اپنی خاموشی سے ڈرایا نہیں بلکہ طبیعت پر خوف اور ڈر کے گڑھے پنجوں سے آزاد کروا دیا اور یوں اپنے ہم عمر ساتھیوں کی نسبت اس میں سکون ،فراست ، بُردباری اور بہادری کی صفات بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ جنگل بھی کبھی کبھی کیسے دانا استاد کا کردار نبھاتا ہے ۔
اس نے اس ملائیشین جوان ہوتے لڑکے کو مستقل مزاجی سے حالات کا مقابلہ کرنے اور صبر سے نتیجہ ملنے کی صلاحتیں پختہ کر کے انسانوں کے رنگین جنگل میں دھکیل دیا ، جاؤ کہ تم وہیں جچتے ہو ،،خوب کماؤ ، کھاؤ اور کھلاؤ ، لیکن باطن کے صبر اور سکون کو نہ بھُلانا ، ہم نے تمہیں کچھ دینے اور سِکھانے میں کمی نہیں کی ، تم بھی انسانوں کے جنگل میں بُخل نہ دکھانا ۔ اپنی اچھی صلاحیتوں اور محنت سے کمائے مال پر سانپ بن کر نہ بیٹھ جانا ۔ ورنہ باطن کا روشن چہرہ مسخ ہو جائے گا ۔
ہر جنگل بانٹو ، بانٹو کا نعرہ لگاتا رہتا ہے ، چاہے یہ محبت کا جذبہ ہے ، یا کچھ سیکھے ہُنر کو بانٹنے کا ، چاہے پُر خلوص مشاورت کا ، چاہے صبر و قناعت اپنانے کا گُر ، بانٹتے رہنا کہ کھڑا پانی بُو چھوڑ دیتا ہے اور بہتا پانی میٹھا اور خوشگوار ہوتا ہے ۔ یہ بزرگ جھونپڑی سے محل تک پہنچے لیکن بانٹتے چلے گئے اور اپنا قیام جنگل کنارے نہایت چھوٹے سے گھر پر رکھا کہ استاد سے دُوری گوارا نہ تھی ۔ وہ جان چکا ہے کہ میری تیسری نسل میرے استاد کا احترام ، مجھ سے سیکھ گئی تو میری کامیابی کا راز جان لے گی ۔

( منیرہ قریشی ، 13 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) ( جاری ) 

اتوار، 10 مارچ، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپورتاژ۔1)

"کبھی کبھی ہم بس یہی کچھ چاہتے ہیں"
باب۔۔1
( حدیبیہ کے ببول کے اس درخت کے نام ، جس کے چھتنار سائے تلے عظیم ترین ہستی ﷺنے عظیم ہستیوں سے عہد لیا تھا)
محترم اشفاق احمد صاحب نے اپنے دوست محمد حسین نقش کو ایک خط میں لکھا کہ " میں آجکل تھر میں ہوں " اور یہاں کے مختلف گوشوں کی خاموشی ریکارڈ کر رہا ہوں ، سچ پوچھو ! تو کمرے کے ایک کونے کی خاموشی دوسرے گوشے سے مختلف ہوتی ہے اور آج یہاں کی ایک بہت سادہ اور چھوٹی سی مسجد کی خاموشی محسوس کرنے جا رہا ہوں !!
کیسے کیسے منفرد لوگ اپنے انوکھے اور ارفع خیالات لکھتے رہے اور آنے والی نسلوں کے لئے عجب سنگِ میل چھوڑ گئے ۔
جانے کب ' کس دورمیں جنگل کی محبت دل و دماغ میں جا گزیں ہوئی کہ پتہ بھی نہ چلا ۔ جب کبھی سیر کا موقع ملا ، نظریں درختوں کے جُھنڈ ، درختوں کی چوٹیوں اور درختوں کی چھاؤں کو تلاشتیں ۔ جب کبھی اپنے ہرے بھرے گاؤں جانا ہوتا تو لڑکپن کے اس دور میں یہ سفر کچھ ایسا خوشگوار دورانیہ نہ ہوتا لیکن کچھ دیر بعد جب کھیتوں ، کھلیانوں کی طرف جاتے ، ایک چکر گھنے درختوں میں گھِرے قبرستان کا لگتا ، تو وہاں جاکر جیسے سکون مل جاتا ، اس شہِرِخاموش میں سوئے لوگوں پر رشک آتا کہ کیسے پُر سکون ماحول میں " مزے " کر رہے ہیں لیکن ظاہر ہے اس سوچ میں بتدریج تبدیلی آتی چلی گئی ۔ اگر کسی خوشی یا غمی کے موقع پر کچھ دن رہنا ہوتا ، تو قریبی چھوٹی پہاڑی پر ضرور چکر لگتا، وہاں اگرچہ درختوں کا کوئی خاندان نہ تھا اور نہ ہے لیکن جھاڑیوں کی ایک فٹ سے پانچ فٹ تک کی ایسی اقسام ہوتیں جن کی جڑوں میں رہتی ننھی مُنی مخلوق کو والد صاحب یا اگر بڑے چچا ساتھ ہوتے تو بے دھڑک اُٹھا لیتے ۔ ان کے نام اردو ، انگریزی میں بتاتے ۔ ایک کمبل کیڑا ہوتا جس کے وجود سے کبھی دوستی نہ ہو سکی اور اگر ہلکی بارش ہو چکی ہوتی تو ہر سائز کی بیر بہوٹیوں کے خاندان کے خاندان انہی جھاڑیوں کی جڑوں میں آباد ہوتے ، ان کی سرخ مخملی جسامت اتنی پُر کشش لگتی کہ چند منٹوں میں انھیں مُٹھی میں لینے پر کوئی خوف محسوس نہ ہوتا ۔
یہ پودوں ، درختوں اور فطرت کے نظاروں سے عشق کی ابتداتھی ۔ اس عشق کو قدرت ودیعت تو کرتی ہی ہے لیکن اکثر یہ لڑی وراثت میں بھی ہوتی ہے ۔ بندہ گنجان شہر میں ہو یا بھرے پُرے گھرمیں رہ کر بھی اپنے دل و دماغ کی دنیا میں ایک گھنے درختوں والے جنگل میں رہ رہا ہوتا ہے ، وہیں ایک پیارا سا کمرہ ہوتا ہے اور جب اس کا دل چاہتا ہے ، کمرے میں جا کر اس کی کھڑکی سے جنگل کا نظارہ کرتا ہے اور حال احوال بھی پوچھا جاتا ہے ۔درخت اسے مختلف کہانیاں سناتے ہیں اور یوں کچھ دیر کو ہی سہی لیکن فطرت اپنی باہوں میں لے کر اس کی روح پُر سکون کر دیتی ہے۔
اسی بچپن اور لڑکپن کے دور میں مری جانا ہوتا ، زندگی کے بے فکر ترین ڈھائی ماہ وہاں گزرتے ،یہاں کم آبادی ، کم شور ، زیادہ درخت ، زیادہ نظارے ،زیادہ سکون ہوتا ، اور دور بین لگا کردور اور نزدیک کے پہاڑوں سے دوستیاں کی جاتیں ۔ بلیک بورڈ پر چاک سے کھچی لکیروں جیسے راستے اور ان پر چلتی چیونٹیوں جیسی گاڑیاں اور لوگ وہ نظارے ہوتے جنھیں اندھیرا چھا جانے تک دیکھتے رہنے سے کبھی اکتاہٹ نہ ہوئی ۔آہ انسان !انسانوں اور عمارتوں کے جنگل میں رہ کر بھی اکیلا ہو سکتا ہے اور کبھی بےآباد جنگل میں رہ کر بھی اکلاپے کا شکار نہیں ہو سکتا ۔
مری کے گھر کے ساتھ ہی گھنے درختوں سے گھِرا باغیچہ تھا ،جہاں پہلے ہی دن پہنچ کر لمبے لمبے سانس لیے جاتے ،سفر کی تھکان اور سر چکرانے کی کیفیت سے ایسے نجات مل جاتی جیسے ایک مدت سےہم تو یہیں تھے ۔ درخت اپنی مانوسیت ظاہر کرنے میں ذرا بخل نہ کرتے ، " تم لوگ پہنچ گئے ! ابھی دس ماہ پہلے ہی تو گئے تھے ، ہم پھر سے تمہارے منتظر تھے " اور یوں ہمیں تجدیدِمحبت کی کبھی ضرورت نہ پڑتی ۔چند دن گھر کی سیٹنگ اور والدہ کی طرف سے ملے روٹین کو سن کر، اپنا کر ہم دونوں اوپر تلے کی بہنوں کا اگلا اہم اور خفیہ کام شروع ہو جاتا ،یعنی اپنی عمر کے لحاظ سے کھُرپے ، بیلچے اور کلہاڑی لے کراِسی لان کے گھنے درختوں کی کسی ایک صاف جگہ پر کھدائی کرنا کہ ایک دن ہمیں کوئی خزانہ ضرور ملے گا اور ہم بہت امیر ہو جائیں گے ۔ یہ چھوٹا سا معصوم خیال اس دور کے پڑھے جانے والے ادب سے ماخوذ ہوتا ۔ اگرچہ اس کھدائی کی نوبت کہیں ہفتے میں ایک دو دن ہی آتی ۔درخت ہمیں مسکرا مسکرا کر کبھی ہلکورے لیتی ہوا کے ساتھ جھوم کر محبت بھری نظروں سے دیکھتے ۔مجھے نہیں یاد اس ماحول نے ہمیں خوف زدہ کیا ہو یا کبھی اکتاہٹ محسوس ہونے دی ہو کہ وہاں آس پاس کوئی گھر بھی نہیں تھا ۔
والدین کا تعلق زمینوں سے بہت گہرا تھا ،اس وقت کے شہری رہن سہن کے باوجود وہ سبزے ، درخت اور عام چھوٹے پودوں کی محبت میں غرق تھے، ہمیں درختوں کی میٹھی ٹھنڈک کی اہمیت بتا اور سکھادی گئی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ اس شہری صحن والے گھر میں بھی سفیدے کا ایک خوب صورت درخت لگایا گیا تھا ،جگہ کی کمی تھی لیکن سفیدے کی دوستی کے لیے چنبیلی اور انگور کی بیلیں گھر کی دوسری منزل تک پہنچی ہوئی تھیں ۔
ایسا محسوس ہوتا ، جیسے رات ہوتے ہی سرگوشیوں میں تینوں چوٹیوں کی آپس میں بات چیت شروع ہو جاتی ، شاید وہ اپنی خفیہ باتیں گھر میں موجود ستر ، اسّی گملوں کے پودوں سے چھُپانا چاہ رہی ہوتیں ۔سخت آندھی کے دن سفیدے کے درخت کا بےاختیار ہو کر جھومنا ڈرانے لگتا ، ایسے موقع پر اس کے تنے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے شانت ہونے کا کہتی اور اکثر محسوس ہوتا کہ وہ پُر سکون ہو گیا ہے۔اب یا تو وہ میری بات سمجھ جاتا تھا یا میَں اس کی وارفتگی کو جان جاتی تھی لیکن ایک خاموشی کی زبان ہم دونوں کے درمیان تھی ضرور !! ایسے ہی نظاروں نے یہ پیغام دیا کہ " یہ جو تم درختوں سے اتنی محبت کرتی ہو ، کبھی غور کیا ، یہ بھی تمہارے آتے ہی کیوں یکدم کھِل اٹھتے ہیں ، شاید وہ بھی تمہیں پہچان چکے ہیں ، ان کے پاس بھی ہاتھی جیسی ذہانت کا وہ ذخیرہ ہے جو سال ہا سال کے بعد بھی اپنے ذہن کے کمپیوٹر میں محفوظ اس شخص کی محبت یا نفرت کو یاد کے فرنٹ فٹ بورڈ میں لے آتی ہے ، بس درخت بھی اپنے ہم نفسوں کو ہواؤں کےذریعےپیغام دے چکے ہوتے ہیں ،ہمیں سراہنے اور چاہنے والا آیا چاہتا ہے ، اسے خوش آمدید کہنا۔ تب احساس ہونے لگا ، جنگل تو کچھ کہنے ، کچھ سننے کو بےتاب ہوتے ہیں ۔کبھی غور تو کرو ، وہ تو کسی کسی کو یہ شرف دوستی دیتے ہیں ۔اب یہ دوستی نبھاتی رہنا کہ " جنگل کچھ کہتے ہیں " سنو تو سہی کیا بتا رہے ہیں ، کیسی کہانیاں سنا رہے ہیں ! بالکل ایسے ہی جیسے خاموشی کچھ کہہ رہی ہوتی ہے لیکن اس کی آواز کون سُن پاتا ہے ؟ اشفاق احمد صاحب جیسا " احساسات کا گُرو " یا محمد حُسین نقش جیسا گم نام ، عاشقِِ فطرت جس نے باطن کی آنکھ کو ایسی ہی خاموشی اور فطرت کے حُسن میں سَمو دیا ہو ۔کون سن سکتا ہے خاموشی کی آواز کو ، تب وہی درختوں کی آواز بھی سُن لیتا ہے ۔

( منیرہ قریشی 10 مارچ 2024ء واہ کینٹ ) ( جاری )