ہفتہ، 21 دسمبر، 2024

"خط"

"خط"

تیرے ہر رنگ میں انوکھا رنگ بہار کی رنگینیوں میں ، خزاں رسیدہ درختوں کی جبینوں میں شدت برودت کی سنگینیوں میں اور قہر گرم لو کی حدتوں میں دل مطمئنہ ہلکے اور، بھاری ہچکولوں میں عجب تیری رنگین دنیا ،،،، صد ہا برس سے یہی ڈھنگ تکتی آنکھیں! مٹی ہوتی ،زندہ آنکھیں ! جانے تو خود کیسا ہو ،،، تیری محبتوں میں ڈوبی ہیں یہ منتظر آنکھیں ! معدوم جذبوں سے سرشار، یہ معصوم سطریں ! ایک خط ہے مولا تیرے نام

(منیرہ قریشی 21 دسمبر 2024۔ مانچسٹر)

جمعرات، 19 دسمبر، 2024

" یادوں کی تتلیاں" "کتاب کہانی" از کومل ذیشان "

" یادوں کی تتلیاں"

"کتاب کہانی" از کومل ذیشان " لکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جو پیپ سے بھرے زخموں پر چاک لگاتے ہیں اور ایک وہ جو ادھڑے ہوئے زخموں پر سلائی لگاتے ہیں، ان پر مرہم لگاتے ہیں۔معاشرے میں دونوں اہم ہیں۔کچھ یہ دونوں کام اکٹھے کرتے ہیں۔ منیرہ قریشی آپ زخموں کو سینے والوں میں سے ہیں۔ ڈھانپنے والوں میں سے۔ جب آپ کے ابا اور حمید چچا کا واقعہ پڑھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ شے آپ کو اپنے ابا کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے۔ آپ کی اماں میں میری نانی کی جھلک ہے۔ نانی نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، پانچویں کے امتحان میں اول آئیں۔ ان کو انعام میں نقشہ ملا تھا۔ آخر وقت تک بالکل آپ کی اماں کی طرح غریبوں، ناداروں کے لیے ان کے گھر کے دروازے کسی لنگر خانے کی طرح کھلے رہے، جہاں سے ایک دنیا نے فیض اٹھایا۔ کاش میں آپ کی اماں سے بھی مل پاتی۔ آپ کا "کوشش پبلک سکول" ہو یا میری فیس بک دوستوں کی فہرست میں فرح دیبا ہیں ان کا "عالم بی بی فاؤنڈیشن" میں خود کو خوش قسمت گردانتی ہوں کہ میرے سامنے آپ کی مثالیں موجود ہیں۔ آپ نے ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ سے ملاقاتیں کروائیں اس کے لیے شکریہ 🤍۔ میں نے جب سے علی پور کا ایلی پڑھا ہے مجھے اب تک شہزاد اس نم اندھیری گلی کے ایک گھر کے چوبارے سے جھانکتی محسوس ہوتی ہے، اس کی اداس آنکھیں۔۔۔۔جیسے شاید ممتاز مفتی کو ان کی یاد آتی ہو گی مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کی دو سال پہلے افسانوں کی ایک کتاب پڑھ کر میں الجھن کا شکار ہو گئی تھی۔ مجھے عورتوں سے متعلق ایک دو افسانے شدید کھٹکے۔شاید میں ناراض تھی لیکن اس کتاب کے ذریعے میں نے پھر سے ان کے لیے نرم گوشہ محسوس کیا۔ دو جگہوں پر میری آنکھیں برسنے لگی تھیں شاید لکھتے ہوئے آپ کی بھی برسی ہوں گی۔ ایک ممتاز مفتی کے حوالے سے آپ کے خواب کے ذکر پر اور ایک ابا جی جب پوچھتے تھے کہ "صبح ہوگئی؟" میرے بھائی علی اور میرے دادا کا بھی بالکل ایسا تعلق تھا جیسے آپ کے بیٹے علی اور ان کے نانا کا تھا۔ اشفاق احمد بانو قدسیہ کے وجود مجھے ہمیشہ ایسی ٹھنڈی چھاؤں محسوس ہوئے ہیں جہاں بیک وقت نور بھی پھوٹ رہا ہو۔ آپ کی ملاقات کے احوال سے بھی میرے تصور کی تائید ہوئی۔ آپ کی پیاری دوستوں کو سلام پہنچے۔ اس کتاب کے لیے بہت شکریہ منیرہ آنٹی۔ یہ میرے لیے ایک چراغ کی مانند ہے۔ میری اور آپ کی دوستی مزید گہری ہوئی۔

( کومل ذیشان 19دسمبر ،2024)

 

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2024

"انتساب "

"انتساب"

" ببول کے اُس درخت کے نام جس کے سائے تلے عظیم ترین معاہدۂ حدیبیہ طے پایا " 



"فہرست "

"فہرست "

   ٭ ا ۔کبھی کبھی ہم بس یہی کچھ چاہتے ہیں

٭2۔ خیالات و الفاظ کا جنگل

٭3۔ نتھیا گلی کا سِحر

٭4۔ایپنگ فارسٹ کے مکین

٭5۔زمین بوس درخت کی کتھا

٭6۔ کوئینز پارک کے قدیم درخت

٭7۔ٹینڈل ہل پارک کی اُداسی

٭8۔ایش ورتھ سے باتیں

٭9۔خوشبو جیسی باتیں اور صندل کا جنگل

٭10۔بیک اپ کے جنگل سے مصنوعی جنگل تک

٭11۔سلطان صلاح الدین عبدالعزیز مسجد

٭12۔سوات ریسٹ ہاؤس ایک دل فگار یاد

٭13۔ریمز بوٹم انگلینڈ کی دردناک پہاڑی

٭14۔ مہاتمابدھ کا پسندیدہ انجیر کا درخت

٭15۔سرگودھا کا صدیوں پُرانا برگد کا درخت

٭16۔ افریقی جنگل کا فضائی نظارہ

٭17۔ رقصِ درویش اور ترکی کے تاریخی شہر بُرصہ کا فضائی نظارہ

٭18۔ میرا دوست چِھدرا جنگل

٭19۔ راہِ اُمید

٭20۔چھانگا مانگا کا دُکھ

٭21۔ خواہشِ ناتمام

٭22۔الوداع دوست

              


جمعہ، 13 ستمبر، 2024

"پیش لفظ "

"پیش لفظ" 

    منیرہ قریشی اور واہ کینٹ لازم وملزوم ہیں۔پینتیس برس پہلے ایک تعلیمی ادارے کی    بنیاد    رکھی، جو اب ایک شجرِسایہ دار کی صورت نونہالِ وطن کی آبیاری میں سرگرم ِعمل ہے۔تعلیم کے فروغ کی کامیاب عملی کوشش کے بعد محترمہ منیرہ قریشی اب ایک لکھاری کے طور پر سامنے آئی ہیں۔اپنے تجربات،مشاہدات اور احساسات کو لفظوں  میں پرو کر کتابوں کی رنگارنگ مالا  ترتیب دی ہے۔

خودنوشت "یادوں کی تتلیاں" اگر جسم وجاں پر بیتے  حالات و واقعات کے موسموں کی کتھا ہے  تو "سلسلہ ہائے سفر" دیارِغیرکی فضاؤں میں حیرت وانبساط کے در کھولتے  تاثرات   کی   سرگوشیاں ہیں ۔

انشائیے "اِک پرِخیال"  اگر کھلی آنکھ سے دیکھے گئے معاشرتی مسائل پر خودکلامی ہے تو  "لمحے نے کہا" شاعری کی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار ہے۔

نئی آنے والی کتاب" جنگل کچھ کہتے ہیں"لفظوں کے اس رنگارنگ گلدستے میں  ایک خوب صورت اضافہ ہے۔یہ اپنی نوعیت کا  ایک طویل مکالمہ ہے، شناسائی کا سلسلہ ہے جو نصف صدی    سے زائد کئی عشروں پر محيط ہے۔جیسا کہ       نام سے ظاہر ہے  یہ دوبدو بات چیت کی ایسی انوکھی داستان ہے کہ  قاری  خودبخود  اس   گفتگو میں شامل ہو جاتا ہے۔

اہم بات یہ  "جنگل کچھ کہتے ہیں "تخیل  کی انتہا پر جا کر دیوانہ وار رقص کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں  درختوں ، جنگلوں کےحوالے سے  نہ صرف ہمارے وطن بلکہ  باہر کے ممالک  کے  بہت سے ایسے دل سوز تاریخی واقعات  و سانحات  کا ذکر ہے جن کو  پڑھ کر قاری لمحے بھر کو دکھ اور تاسف کےجنگل میں بھٹک جاتا ہے تو  اگلے پل امید کی کرن اسے نئے  راستوں کی چھب دکھلا دیتی  ہے۔

جنگل کچھ کہتے ہیں بطور خاص رپورتاژ نہیں بلکہ فاضل  مصنفہ کےذہنی اور جسمانی سفر کا اپنی طرز کا ایک  منفرد سفرنامہ   ہے.  جس میں بچپن کی معصومیت دِکھتی ہے تو کبھی  لڑکپن کی حیرانی دم بخود کر دیتی ہے۔نوجوانی کی جذباتیت قدم روکتی ہے تو  ادھیڑ عمر کی تنقیدی نگاہ کہانیاں کہتی ہے۔کہیں کہیں گزرتی عمر کی چاپ سنتے ماضی اور حال کے تضادات اُداس بھی  کرتے ہیں۔تخيل  اور حقائق کے خوب صورت امتزاج سے گندھے لفظوں کی یہ مہک قاری کو   آخر تک اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہے۔

 منیرہ قریشی  کی تمام تحاریر اُن کے بلاگ " خانہ بدوش" پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

munirazafer.blogspot.com

  محترمہ پروین شاکر کا شعر آپ کے ادبی سفر  کے نام

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے 

موج ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ  ہے

      نورین تبسم

اُردو بلاگر۔ "کائناتِ تخیل"۔

noureennoor.blogspot.com 

یکم اکتوبر  2024

اسلام آباد 

بدھ، 28 اگست، 2024

"دیباچہ "

"دیباچہ "
دیکھا جائے تو کائنات میں دو رنگ حاوی ہیں ,ہلکا نیلا اور سبز !! نیلا آسمان ، نیلا پانی ، نیلی آنکھ اور نیلے رنگ کی دنیا میں جابجا بہاریں الگ ۔جب کہ سبز رنگ سبز درخت ، سبز پہاڑ اور بہت سے سبز دریا اورپھر ساتھ ہی سبز کی دنیا میں الگ ہی جہتیں ۔سمجھ نہیں آتا کہ سبز کے اتنے شیڈز کہ ان کے منفرد نام رکھنے اور لینے کے لئے کچھ لمحے سوچنا پڑتا ہے ، زمردیں ، سمندری سبز ، کاہی سبز ، یا پھر ہلکے پیلے سبز ۔گویا اللہ نے ہر رنگ کو صرف رنگ کے طور پر ہی تخلیق نہیں کیا بلکہ اس میں ہلکے سے لے کر گہرے سے گہرا شیڈ ایسا بنایا کہ رنگوں کی ہوس رکھنے والی آنکھوں کی تسکین ہو سکے۔
درختوں کی اپنی شکل و قامت ، تنّوں کی موٹائی ،رنگوں کے مختلف النوع شیڈز ، پتّوں کی بناوٹ اور پھر ان میں چھُپے خواص و صفات اور جب یہ احساس جاگ جائے کہ یہ درخت میرا انتظار کرتا ہے ، مجھے بلاتا ہے اور کچھ کہنا بھی چاہتا ہے شاید وہ کچھ دکھی ہے نہ جانے کیا دکھ سمیٹے کھڑا ہے۔یہ سب دیکھ کر انسان مسحور نہ ہو تو کیوں کر نہ ہو ۔
والدین فطرت کے شیدائی رہے ۔ جس کے اثرات اولادپر ہونا ہی تھے ، بچپن سے درختوں ، پودوں کی محبت اور صحبت ہماری فطرت کا حصہ بن گئی ۔ بچپن ایک شہری گھر میں گزرا جس کے صحن میں گملوں کی قطاریں تھیں جیسے کوئی نرسری ہو ۔ صحن کے وسط میں کسی کا تحفہ دیا سفیدے کا درخت اور اس پہ مستزاد صحن کے دونوں اطراف چنبیلی اور موتیا کی بیلیں ۔ یہ وہ پُر بہار اور سر سبز ماحول تھا جس میں آنکھ کھُلی ، پھر درخت اور سبز رنگ ہمارے ساتھ ساتھ رہے ۔ سفیدے کے اس درخت نے تیز رفتاری سے قد نکالا ، جب شمالی ہوا چلتی تو وہ پورے زور و شور سے جھومتا کہ جیسے ہوائیں اس کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہی ہوں اور وہ دھمال ڈال رہا ہو۔ میرے لئے اس کا یہ رُخ بہت دلچسپی کا باعث رہا ۔
کچھ وقت اور گزرا ،میرے جُڑواں بہت خوش مزاج بچپن گزار رہے تھے ۔ وہ چہکتے پرندوں کی طرح اپنی مدھُر آوازوں سے ہر وہ گانا گاتے ، جو اِن دنوں ٹی وی پر مقبول ہوتا ، وہ گھر کے پچھلے باغیچے میں لوکاٹ کے درخت کے نیچے زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ۔ خاص طور پر لوکاٹ کی ایک ٹہنی اِن کی پہنچ میں تھی جس پر روزانہ دو تین گھنٹے گزارنا از بس ضروری ہوتا ۔ چھ سال کی عمر آتے ہی ایک جان کو خالق کا بلاوا آ گیا اور دوسرے کی دلچسپی لوکاٹ یا اس کی ٹہنی پر جھولنا یکسر ختم ہو گئی ۔ چند ماہ تک اپنے اندر کی دنیا نارمل کرنے کے بعد پچھلے لان میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ لوکاٹ کا سارا درخت توہرا بھرا تھا لیکن وہی ٹہنی سوکھ رہی تھی جس پر وہ بلا ناغہ بیٹھتے تھے ، مزید چند ہفتے گزرے اور ٹہنی ٹوٹ کر گر گئی۔ درخت کی حساسیت اور کرب و غم کے اس واقعہ نے مجھے درختوں کی صُحبت اور ان کی زبان کے مزید قریب کر دیا ۔ بہت بعد میں علم ہوا کہ درخت صرف سانس لینے والی مخلوق نہیں بلکہ وہ تو باتیں کرتے ہیں ، احساسات کی دنیا بسائے پوری دنیا کے درختوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ۔ انھیں دکھ اور خوشی کا بھرپور اظہار کرنا آتا ہے اور ان کی دنیا میں انسانی یا جنگلی مخلوق کے لئے وسعتِ قلب ہے ، اسی لئے تو جہاں درخت ہوں وہاں ، رنگ ، خوشبُو ، جنگلی حیات ، اور ہواؤں کے ساتھ رقصِ درویش کرنے سے ہی فطرت کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے ۔
درختوں پر لکھی کتاب "جنگل کچھ کہتے ہیں" کو مکمل کر لیا تو انتساب کا سوچا اور سوچ نے لمحہ بھی نہ لگایا کہ
" ببول کا وہ درخت ، جو مقام حدیبیہ میں ایک چھتنار درخت کی طرح موجود تھا اور جس کا ذکر سورہ فتح میں اللہ شان جل جلالہ' نے بہت اہمیت کے ساتھ کیا ہے ۔ جس کے سائے تلے ، ایک خاص وقت میں کائنات کی عظیم ترین ہستیؐﷺنے چند ارفع ساتھیوں کے ساتھ وہ معاہدہ کیا کہ ایسا منظر شاید ہی کسی اور درخت کے سائے تلے نظر آیا ہو " یہ درخت اس اہم واقعہ کے چند سال بعد ہی وہاں سے ایسا ناپید ہوا کہ جیسے وہ سر زمینِ حجاز پر تھا ہی نہیں ۔ شاید اس درخت کو اس پاکیزہ فرض کے بعد دنیا میں اپنا مقصد حیات پورا ہوتا محسوس ہوا اور مالک حقیقی نے اسے اوجھل کردیا ۔میں نے "جنگل کچھ کہتے ہیں " کا انتساب اس اہم ڈیوٹی دے کر چلے جانے والے ببول کے درخت کے نام کیا ہے ۔
منیر نیازی کا ایک خوبصورت شعر ہے ،
؎ ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو
جو شخص سُنتا ہے، وہ بول بھی تو سکتا ہے
مجھے یہ شعر صرف ایک لفظ کی تبدیلی سے اپنی کتاب میں درج خیالات کی عکاسی کرتا محسوس ہوا ،جو شاعر سے معذرت کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔
ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو
جو "درخت " سُنتا ہے،وہ بول بھی تو سکتا ہے
منیرہ قریشی
اردو بلاگر"خانہ بدوش"
munirazafer.blogspot.com
یکم اکتوبر 2024
واہ کینٹ

 

اتوار، 21 جولائی، 2024

" اِک پَرخیال. ڈنگ "

" اِک پَر خیال "
" ڈنگ "
'ڈنگ ' کے لفظ سے ذہن میں کبھی بھی اچھا خیال نہیں آتا ۔ کیڑوں مکوڑوں کے ڈنگ تو ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں واضح ہوتے ہیں ۔ کہ سانپ ، بچُھو ، مکوڑے ، بھِڑ ، اُڑتے کیڑوں کے ڈنگ ،،، انسانی اجسام کے لئے کتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ، یا تو جان چلی جاتی ہے ، یا ، کچھ دیر یا تا دیر جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے زہریلے ڈنگ کو علاج اور صبر سے رفع کیا جاتا ہے ۔
البتہ مدت دراز کے بعد انسانی تحقیقی اذہان نے انہی کیڑوں ، کے ڈنگ سے ہی انہی کے کاٹے کا علاج دریافت کر لیا ، اور یوں ، قیمتی جانوں کو بچانا ممکن ہو گیا ۔ دیکھا جائے تو سانپ ، یا بچھُو ، یا بھِڑ یا زہریلی مکڑیوں کے ڈنگ کی کٹیگریز ہیں ۔۔ کچھ کی کم ، کچھ کی زیادہ !
اس کے برعکس مکھی ، کھٹمل ، یا مچھر وغیرہ کے ڈنگ ایسے لیول کے ہوتے ہیں ،، جو کم طاقتور تو ہوتے ہیں لیکن ،، ان کے ڈنگ کے زہر کو حاصل کر کے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج دریافت ہوچکے ہیں ۔ اسی طرح کچھ جانوروں کے تھوک یا لعاب اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ بظاہر ان کے کاٹے کا کوئی نشان نہیں ہوتا مگر جہاں ان کا لعاب گرا ،،، وہی جگہ سُن ہو کر انسان یا جانور کو بے بس کر ڈالتا ہے ۔ اور اس زہریلے تھوک سے اس میں ہلنے جلنے کی سکت نہیں رہتی پھر یہی وقت ہوتا ہے جب ایسے جانور کے لئے متاثرہ جسم تر نوالہ بن جاتا ہے ۔
' ڈنگ ' کی اِس کیٹگریز میں ،،، الفاظ کے ڈنگ بھی اپنی ہی طاقت رکھتے ہیں ۔ کچھ الفاظ کی پوٹینسی کم،، لیکن زیادہ تر ہائی پوٹینسی کے بولے جاتےہیں ۔ ایسے الفاظ کی پھوار زہریلے مادوں سے بھرپور ہوتی ہے ۔۔ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی صداقت پر یقینِ کامل ہو جاتا ہے ، " تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے ، لیکن زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا "
زہریلے الفاظ ، کم یا زیادہ نوعیت کے ہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قدرت نے اس سلسلے میں اپنا قانون سختی سے لاگو کر رکھا ہے ، یہاں کان کے بدلے کان ، آنکھ کے بدلے آنکھ کے قرآنی احکامات نافذ کرنے کا حکم ہے تو ،،،، بے عزتی کے بدلے بے عزتی ،،، دوسرے کو ذلت دے رہے ہیں تو بدلے میں ذلت کا انتظار کریں ۔۔ البتہ اِس میں کچھ ماہ ، کچھ سال ، کچھ عشرے گزر سکتے ہیں ،، لیکن الفاظ کے ڈنگ کا جوابی ڈنگ کا وار ، قدرت کی طرف سے صحیح وقت اور صحیح جگہ کا منتظر ہوتا ہے ۔
آج کے دور کا ایک اور ڈنگ بھی ہے جسے عام طور پر ڈنگ نہیں سمجھا گیا ۔ وہ ہے " پرائیویسی " ( privacy ) کا ڈنگ ۔
میرا کمرہ الگ ہونا چائیے ، آخر کو میں 14 سال کی ہو گئی / ہو گیا ہوں ،،،
میری الماری کو کس نے کھولا ؟ میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دیتا / دیتی ۔۔۔
یہ مہمان آ گئے تو ہماری پرائیویسی نہیں رہے گی ،،،،
میرے موبائل ، میرا پرس ، یہ سب کچھ صرف میرا ہے ، کسی کو اجازت نہیں کہ انھیں میری اجازت کے بغیر ہاتھ لگائے ۔
کچھ معاملات میں تربیت کے تقاضے ہوتے ہیں کہ وہ اہم ، ہمدرد رشتے ان اولادوں کی الماری ، کمرہ ، یا موبائل کا جائزہ لیں ، ہم دیکھیں یہاں کے کونے کھدروں میں کیا چل رہا ہے ؟ ایسا نہ ہو پرائیویسی کے ڈنگ سے ہماری اولاد بہت ہائی پوٹینسی کے زہر نگل چکی ہو ،، کہ تب تک مرض لا علاج ہو چکا ہو !
پرائیویسی کے نکتہء نظر سے مہمان نوازی کے خوبصورت رسم و رواج پر جو کاری ضرب پڑی ہے ، کہ پہلے دُور نہ سہی نزدیکی رشتوں کا جو والہانہ انتظار ہوتا تھا ۔ کہ سب کزنز مل کو چھٹیاں گزارتے ،،، رشتوں کی آپسی مٹھاس کچھ دنوں یا ہفتوں کے لئے 'ریوائز ' ہو جاتی ۔ اور دال ساگ کھا کر بھی بد مزہ نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ اور اگلی محفلوں کو سجانے کے وعدے کر کے جدا ہو جاتے ،،،
کچھ ایسا رویہ بعض اوقات ہمارے خوشحال خاندان کا بھی دیکھنے میں آتا ہے جب ان کے لئے گھریلو چیزیں ، اُن کی ترتیب ،،، اور اپنے دن اور رات کے پروگرام اتنے عزیز ہوتے ہیں کہ اس شب و روز میں کسی " آنے والے " کی چند گھنٹوں کی آمد بھی " زہریلا ڈنگ " بن جاتی ہے ۔۔ آہ انسان کی کم فہمی !!
لیکن پرائیویسی کے ڈنگ نے ایسا ڈسا ہوا ہے کہ اس کے اثرات سے خون سفید ہو گیا ہے ۔ رشتے کڑوے ، اور اپنی ذات کے حصار میں رہنے میں ہی عافیت سمجھا جا رہا ہے ۔ اور یوں آدم و حوا کی اولاد غلطیوں کے پہاڑ پر چڑھتے چڑھتے اترنے کی راہ کھو بیٹھی ہے ! اللہ ہی بہترین جاننے والا ہے ۔

( منیرہ قریشی 21 جولائی 2024ء واہ کینٹ ) 

منگل، 11 جون، 2024

" اِک پَرِ خیال "۔۔۔" کشیدہ کاری "

" اِک پَرِ خیال "
،،، " کشیدہ کاری "
میَں نے ایک ایپ کو جوائن کیا ہوا ہے ۔ جو فلکیاتی دنیا کے نام سے ہے ،، اس میں ایپ چلانے والے سیٹلائٹ اور سپیس شٹلز سے لی گئی آسمانِِ تحیّر کی معلومات اور تصاویر ، ہم جیسوں تک آسان اردو میں پہنچاتے اور دلی دعائیں لیتے رہتے ہیؐں ۔ جب بھی وہاں کی کچھ نئی معلومات اور تصاویر پہنچتی ہیں تو انھیں دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہوں ۔ ،،، دل ساکت سا ہو جانے کا دورانیہ جتنا لمبا ہوتا ہے ،، دل کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ خالق کی محبت میں سر مستی سی آ جاتی ہے ۔ دنیائے آسمان کی یہ حیران کن دنیا مالک سے عشق کو مزید راسخ کر دیتی ہے ۔،،،، اُس خالق نے اپنی کائنات انتہائی محبت ، اور باریک بینی ،، اور کاری گری سے بنائی ہے ۔
انسان بذاتِ خود اس رب ِ مصور کا عجب شہکار ہے ،، اور اُس نے خود اس شہکار کو وہ ہُنر عطا کیا ۔ کہ جب بھی وہ کسی رنگ ، آہنگ سے کوئی تخلیق بناتا ہے تو خود ہی اس پر عاشق بھی ہو جاتا ہے ۔ یا دوسرے اس ہنر کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ،،، کبھی کلام میں ، کبھی طعام میں ، کبھی لباس ، کبھی برتن ، کبھی رسوم کی کاریگری اور کبھی اُس دلربا رقص میں کہ جب پاؤں اٹھیں ،، نہ اٹھیں ،، لیکن جھومنا ہی اُس کی کاری گری دکھا جاتا ہے ۔ ہر دور میں ،، ہر تہذیب میں ایک طبقہ ایسا ودیعت کیا گیا ،، جو دوسروں کو نفاست ، لطافت ، نزاکت کے معنی سے آگاہی عطا کرنے کا فریضہ ادا کرتا رہا ۔ یہ کشیدہ کاری کبھی کمہار کے ہاتھوں میں ،، کبھی مصور کے رنگوں اور برش میں ،، کبھی کپڑے کے تھان پر ،،، اور کبھی سُر و چنگ کے ذریعے یا تحاریر کے باریک نکات کے ساتھ سامنے آتی چلی جاتی ہے ،،، تب سمجھ نہیں آتا ،،، اصل کو دیکھیں ،،یا نقل کو سراہیں !!
دیکھا جائے تو انسان کی بہترین ہنر مندی یہی ہے کہ وہ،،، خالقِ کائنات کی ان تخلیقات کو "پُر سکون ماحول میں احترام اور امن" سے رکھے ،،
انسان انہی جذبوں کی " کشیدہ کاری " سے شیطان کے منصوبے ناکام کر سکتا ہے ۔
کشیدہ کاری سیٹلائٹ سے دنیائے آسمانی کو دیکھنے سے ہی عیاں نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسانی ہاتھوں میں پکڑے بُرش ، اور رنگوں کے سٹروک سے ،،، سُوئی اور رنگین دھاگوں کے امتزاج سے ،، ایک پُر شفقت لہجہ ،، ایک محبت بھرا لمس ! سامنے کے تاریک اور معدوم ہوتے دل کو یکدم جگانے کا باعث بن سکتا ہے ۔ کشیدہ کاری کے اصل ٹانکے کا ہنر پھٹے دل اور دُریدہ روحوں کو سینے سے نظر آئے گا ۔ انھیں نیا سٹروک دے ڈالیں ۔۔ اُن کے سوراخوں کو رنگین دھاگوں سے سی ڈالیں ۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ،، کائنات کی آسمانی کشیدہ کاری اپنا کام مسلسل کر رہی ہے ۔ زمینی کاری گری میں سُستی ناقابل قبول ہو گی ،، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔۔اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔

( منیرہ قریشی 11 جون 2024ء واہ کینٹ ) 

اتوار، 9 جون، 2024

" اور قسم ہے راتوں کی دَس "

" اور قسم ہے راتوں کی دَس "
" کچھ دن ہیں سُنہری سے
کچھ راتیں ہیں نیازوں کی
سجدے کچھ فرض کے ،
سجدے کچھ غرض کے
اور اِن میں ، دہرانے ہیں
کچھ شَبد ہیں نگینے سے
کچھ شَبد ہیں سکینت سے
دہرائیں تو فضیلت ہے
شادابی اور آبادی ہے ،
رضا اور ، رعنائی ہے ،
چاروں اَور مُشک چھائی ہے
یہ شَبد ہیں ، تکبیر کے ،تہلیل کے ، تمجید کے
عشرہ میں چُھپی ،،،، مستبشرہ
اور جو لُوٹ چاہو میلے کی
نقدی یاں صرف اَخلاص کی
سودا ملے دیدار کا
عشق کا سُرمہ آنکھوں میں
لڑیاں ہیں بہار کی !!
شبد ہیں نگینے سے
دہراؤ تو فضیلت ہے
سکینت ہی سکینت ہے

( منیرہ قریشی 9 جون 2024ء واہ کینٹ ) 

پیر، 3 جون، 2024

" اِک پَرِ خیال ۔۔ اندھیرا ، اندھیرے"

" اِک پَرِ خیال "
" اندھیرا ، اندھیرے"
دیکھا جائۓ ، تو اللہ تبارک تعالیٰ نے سوائے اپنے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا ۔ زندگی اور موت ،،، خوشی اور غم ، بہار اور خزاں اندھیرا اور روشنی ،،، گویا ہر احساس کے ساتھ ساتھ ہر سانس لیتی مخلوق بھی جوڑوں میں زندگی گزار رہی ہوتی ہے ۔ لیکن اندھیرے پر غور کریں تو مکمل ، کامل اندھیرا تو نظر ہی نہیں آتا ۔ حالانکہ اندھیرے کے ساتھ اجالے کا جوڑا سمجھا جاتا ہے ۔
اندھیرا اگر پہاڑوں میں چھایا ہوا ہے تو ، وہ گھَور اندھیرا پھر بھی نہیں ہو گا ۔ بلکہ قدرِ ملگجا اندھیرا چھایا ہو گا ۔ اس لئے کہ پہاڑوں کی بلندی انھیں شفاف فضا مہیا کر رہی ہوتی ہے ۔ کہ جیسے ستاروں کی جگمگاہٹ اندھیرے کی دہشت کم کر رہی ہو۔ یہی شفافیت اور وسعتِ ،،، اندھیرا چھا جانے کے باوجود سارے میں نہایت ہلکی چاندنی کی ملاوٹ گھول رہی ہوتی ہے ۔ جیسے کوئی ہاتھ میں اجالے کی تلوار ،، وقفے وقفے سے لہرا رہا ہو ۔ اور اندھیرا مسکراتا ہوا ،، اندھیرے میں اتر جاتا ہے ۔
دیکھا جائے تو میدانوں کا اندھیرا ، آج کے دور کے لوازمات کے ساتھ زمین سے 30 یا 40 گز کے کہیں بعد شروع ہوتا ہے ۔ "رات " کو دیکھنے کے لئے منہ اُٹھا کر اندھیرے کو گھُورنا پڑتا ہے ۔ تب کچھ چھَب دکھاتا ہے لیکن تاروں کی موجودگی اسے بھی ملگجا بنا دیتی ہے ۔
بِعَینہٖ سمندر کی بظاہر ہیبت اور وسعت کے باوجود سورج اپنی کرنیں 200 میٹر تک پہنچا کر بے دم ہو جاتا ہے ۔ اب یہاں گَھور اندھیرے کا راج شروع ہوجاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا ،،، لیکن یہ کیا !! اِس اندھیرے کی کاٹ کے لئے تو سمندر کی تہہ میں موجود بے شمار تیرتی پھرتی مچھلیاں اور گونگے ، اپنے اجسام سے روشنی چھوڑ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ نا شُکرے انسان کے لئے ، ہر لمحے کی شکر گزاری کے مواقع !!
تو پھر اندھیرا کہاں ہے ۔ ؟؟
اندھیرا تو دراصل ہمارے دلوں میں ہے،،
اندھیرے نے تو ہماری تنگ نظر سوچ پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔۔
اندھیرا ہمارے کردار کی گراوٹ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہوا ہے ،،،،
اب یہی سب اندھیرے مل کر ہماری قبر میں ایک ساتھ اُتریں گے ۔ تو کیا اپنی ذات کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے ،،، ہمارے پاس ابھی وقت نہیں ! تو پھر اِس زندگی کا مقصد کیا ہوا ؟؟ اور قبر کے مستقل اندھیروں کو دور کرنے کے لئے چاندنی کی کون سی لہر محفوظ کر لی جائے ،، کون سے چمکیلے اعمال کی مچھلیوں کو لبھا لیا جائے ؟؟؟ مستقل وِرد ، حُسں اخلاق ،،، حُسنِ طعام ،، حُسنِ کلام !!

( منیرہ قریشی 3 جون 2024ء واہ کینٹ ) 

جمعہ، 17 مئی، 2024

" پہچان "

" پہچان " ( 14 اگست 2023ء پر لکھی گئی اک نظم )
پہلے اِک خطۂ زمیں تو ملے
پاؤں کسی سطحء کو تو چھُوئیں
آسماں تو اپنا ہو !!
تب اِک پہچان ہو !
غیر دیکھیں تو کہہ اُٹھیں
اچھا ،، تو تم ہو اِس خطۂ سرسبز کے باسی،
یوں اِک وطن ملا !
پاکستان بنا ،، پہچان بنا
لیکن ،،،، کچھ لوگ انمول ہوتے ہیں
وہ خود وطن کی پہچان ہوتے ہیں
" کبھی جناحؒ اور کبھی عمران خان ہوتے ہیں "

( منیرہ قریشی 17 مئی 2024ء واہ کینٹ )( نشرِ مکرر) 

پیر، 13 مئی، 2024

" خانہ بدوش ۔۔ کل اور آج"

" عمر رفتہ "
"خیال" کھڑا ہے ساحل کنارے
ریت ہے پھسلتی پاؤں تلے ،،،،
خواہشوں کی کشتیاں ہیں رواں دواں
ڈوبتا ، اُبھرتا سورج بُلا رہا ہے
آو ، نا معلوم جزیروں کی جانب ،،،
اور کبھی ،،،
" خیال " کوہء تجسّس پر قدم جمائے
سرسراتی ہوائیں ، کریں سرگوشیاں !
آؤ نا ! نا معلوم جزیروں کی جانب ،،،،
مگر دنیا تو اب ہے ایک کمرے میں !!
جھولتی کرسی پر
ہاتھ میں ریموٹ لئے
وقت پر طعام ہے
وقت پر آرام ہے ،،،
زندگی کو کہاں دوام ہے ؟
" خیال " بھی سراب ہے
انت تو پُر حجاب ہے !!!

( منیرہ قریشی 14 مئی 2014ء واہ )

۔۔۔۔۔۔
" خانہ بدوش "
اگر تمہیں دوبارہ شروعات ملیں تَو !؟
سہیلیوں کے جھرمٹ نے سوال پو چھا
" میَں تو صرف فطرت کا حصہ بنتی
پہاڑ ، وادیاں ، صحرا اور جنگل پاٹتی
کبھی دریا ، کبھی سمندر سے خود کو سہماتی
میَں تو بس اِک ریوڑ لیتی ،،،
اور دنیا کو اِس کونے سے اُس کونے تک چھاپتی
موسموں کی سختیاں میری جِلد کو بوڑھا کرتیں
میَں وہیں کہیں کسی جنگل کنارے
کسی صحرا یا وادی کی کھائی میں ڈھیری بنتی
الفاظ اور نظروں کے سلگتے کوئلوں کی پروا نہ کرتی
کیوں ، کہاں ، کیسے ،، کے تفتیشی وار سے بہت اُوپر ہوتی
اب تو ،،، ستّر میں آ لگی ہوں ،،،
بس تھوڑا سا تو وقت ہے !
ریوڑ ہو گا اور میَں ،،،،
خانہ بدوشی کا ' اعزازیہ' پانے میں کیا دقت ہے!"
اُٹھو جوان سہیلیو ! ہم جولیو !!
( منیرہ قریشی 14 مئی 2024ء واہ کینٹ)
(یہ نظمیں دراصل 3 جون 2018ء کو لکھی تھیں ،، جب ہم پانچ جہاندیدہ سہیلیاں دس دن اکٹھی رہیں ، اور ہر موضوع کو زیرِ بحث رکھا تھا ، یہ نظمیں جس صفحے پر لکھی تھیں وہ گم ہو گیا اور اتفاق سے پرانے کاغذات میں سے یہ دونوں نظمیں نکل آئیں ، جنھیں درج کر رہی ہوں )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 

بدھ، 8 مئی، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔ 22)


"الوداع دوست"
باب۔22
گھر کے لان کی باڑ سے باہر کے قدرتی جنگل سے ایسی دوستی ہو گئی گویا ہم عشروں سے اکٹھے رہ رہے ہوں ۔ اُس کے کونے کونے کے پودوں سے ، درختوں کے پتوں کے رنگوں کی تبدیلی سے ، وہاں کے مستقل باسیوں ، اور اُن کی چلنے پھرنے سے ایسی آشنائی ہو چلی تھی کہ جیسے میں ان کا ہی حصہ ہوں ۔ جنگل نے اپنی صنف کے علاوہ دوسروں کو محبتیں بانٹنے کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا ، یہی صفت ہر جنگل میں بھی ہوتی ہے ۔ مجھے لمبے عرصے تک اس چھدرے جنگل نے جس محبت سے اپنے حلقۂ احباب میں شامل کیا ہو ا تھا ، اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں ۔ اِس محبت کا ہی انداز تھا کہ وہ کبھی کوئی نظارہ میری آنکھوں کی چمک دوبالا کر دیتا، کبھی اُس رقص کا مظاہرہ ہوتا ، جو میرے انگ انگ کو سرور دے دیتا ، کبھی یہ درخت اپنے ساتھ رہتے ، چھوٹے ، خوبصورت پرندوں کی چہکار کو ایسے مختلف سُر میں پیش کرتے کہ انسان حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے معمور ہو جائے ، اِس لئے کہ عام روٹین میں اِن پرندوں کی بولیاں انہی کی ذات کا مقرر کردہ حصہ لگتیں ، لیکن خاص خاص لمحات میں اُن کی بولیوں میں وہ انفرادیت ہوتی جو جنگلوں کے شیدائی ہی محسوس کر سکتے ہیں ۔ اللہ کا کرم کہ یہ نیلے ، سُرمئی ، اناری اور سیاہ رنگوں کے مختلف جسامت کے پرندے اپنے خوشی اور بے چینی کے دورانیےمیں نکلتی آوازوں سے دل اور آنکھوں کو طمانیت بخشتے رہے ۔ نہایت چھوٹی اور کچھ بڑی گلہریاں ، شروع دنوں میں سہمی اور اَتھری رہیں لیکن آہستہ آہستہ اُن کے لئے انسانی موجودگی نارمل ہوتی گئی اور جنگل کے مکینوں نے مجھے بھی داخلِ خاندان کر لیا تھا ۔
لیکن ! اب وقت کا " کاؤنٹ ڈاؤن " شروع ہو چکا تھا ۔ میں دن میں دو اور کبھی تین مرتبہ " سلام کرتی اور احوال " پوچھتی !! یہی دلی رابطہ مضبوط ہوتا چلا گیا تھا ۔ لیکن الوداعی ملاقاتیں شروع ہو چکی تھیں اور جدائی سے دو دن قبل میں اپنے پیارے دوست سے ملنے گئی ، تو جنگل نے حیرت انگیز طور پر سَرد مہری دکھائی ۔ ہر چیز ، ہر پتّا ، ساکت تھا کسی شاخ پر ایک بھی پرندہ نہ تھا ۔ جیسے دن کا آغاز نہیں رات کا کوئی پہر ہو !
میں نے حیرت سے یہ سب دیکھا اور کچھ دیر بعد ہی کہا "اچھا چلتی ہوں ، اپنے وطن کی تیاری ہے ، شاید مزید ملاقاتیں نہ ہوں "، جواباًخاموشی اور گہری ہو گئی ۔
میں نے جنگل سے کہا " مجھے یاد کرتے رہنا ۔ میری تو شدید خواہش تھی کہ تمہیں برف کے لبادے اوڑھے ، چُپ کی عبادتوں کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھا دیکھتی ، لیکن سب خواہشیں کہاں پوری ہوتی ہیں ۔ ویسے بھی " آرزوؤں کی ٹوکری کو ادھورا ہی رہنا چاہیے، تاکہ جینے کے کچھ جواز رہیں ۔ پھر جنگل تو خزاں ، بہار ، گرمی ، سردی ، برسات میں الگ رنگ و انگ میں نظارے دیتے ہیں ، تمہارے وہ روپ جو تم کم ہی کسی پر عیاں کرتے ہو ، وہی تمہارے مہمانِ خصوصی ہوتے ہیں ۔شکریہ پیارے جنگل ! تم نے مجھے بہت سے رُوپ دکھائے ،اپنا گانا ، اپنے رقص ، اپنے راز ، خاموشی کی مخصوص زبان سُجھائی ۔ ان سب کے لئے شکریہ " ۔
لیکن اُس وقت اس دوست جنگل کی بے اعتنائی ، سرد مہری ، میرے روئیں روئیں کو دکھ اور کرب سے دوچار کر رہی تھی ۔ہاں البتہ یہی کرب ، جنگل بھی تو برداشت کر رہا ہو گا ، مجھے خیال آیا ۔ تو میری آنکھ سے اِک قطرۂ جدائی بزرگ درخت کی جڑ تک جا پہنچا ، دل گیر ہو کر میں نے اللہ حافظ کہا اور جوں ہی مڑ نے کے لیے قدم بڑھائے ،جنگل کا سرسراہٹ بھرا جملہ ٹکرایا ، " ہم اِس لئے اداس نہیں کہ تم جا رہی ہوں ، تم نے تو اپنی تحریر میں الفاظ کے جنگل میں ہمیں اسیر کر لیا ہے ، اِس تحریر کو جب تم پڑھو گی ، ہزاروں میل دور تصورات کی دنیا سجا کر ہمیں سامنے پاؤ گی ۔ ہم تو یہاں عشروں کے سَرد گرم سہہ سہہ کر شاید کبھی ڈھیر ہو چکے ہوں گے ۔ تم نہیں آؤ گی تو بس یہی ملال رہے گا کہ ہماری خاموشی کی زبان ، ہمارے لئے دل میں عجب محبت لیے ، جانچتی آنکھیں لیے ، ہماری داستانوں پر کامل کان دھرے ، کوئی تو سُنتا ہے ۔ ! ابھی تو ہم نے اپنی کہانی درمیان تک ہی سنائی ہے کہ یا تو تمہیں اپنی دنیا کا بلاوہ، یا مٹی کا بلاوہ آ جاتا ہے ۔ نہ ہم مکمل کہہ پائے نہ تم کامل سُن پائیں ۔ جانے اب ایسی سراہتی آنکھوں والا کوئی کب آئے ؟ یا کبھی نہ مل سکے !! بس یہی وجہ تھی ہماری اداسی کی "
یہ سارا جواب سن کر میرے دل کو سکون آ گیا تو گویا اب میں بھی کسی کے خیالوں اور یادوں میں دہرائی جاتی رہوں گی ۔
میں نے دوست جنگل کو یہ رباعی نذر کی کہ عین میرے حالِ دل کی عکاسی تھی اور کہا مجھے جب یاد کرو گے تو اس رباعی کے الفاظ پر غور کرنا ۔ میں تمہارے اور تم میرے آہنگ تک پہنچ جاؤ گے ۔۔۔
؎ پھر میَں نے قطرہ قطرہ یہ سب سبزہ پی لیا
جیون زمین کے ہر جیو کا میں نے جی لیا ! !
گُل ، پھل ، شجر ، پہاڑ ، سمندر ہیں آیتیں
قرآن میں نے سَو روح پہ یہ سارا سی لیا ( بشکریہ کومل ذیشان )

( منیرہ قریشی ، 9 مئی 2024ء واہ کینٹ ) 

منگل، 7 مئی، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔21)


" میرا دوست چِھدرا قدرتی جنگل جو کچھ تو باڑ کے اندر تھا اور باقی باڑ کے باہر"
" خواہشِ ناتمام"
باب۔۔21
آج اتنے عرصے بعد چھانگا مانگا کے جنگل کی بھیگی آنکھوں کی یاد نے دل گرفتہ کر ڈالا ، تو اپنے پیارے دوست " چھِدرے جنگل " کے پاس چلی گئی ۔ یہ محفل میرے لئے غم غلط کرنے کی بہترین تھیراپی بن جاتی تھی اور ابھی تک ہے !!
ان درختوں کے بھی کیا کہنے کہ آپ کے کچھ کہے بِنا ہی دل کی کیفیت اور چہروں کے تاثرات کو جانچ جاتے ہیں کہ ہمارے قریب آنے والا اس وقت کس اتھل پتھل کا شکار ہے ۔ وہ غم میں ہے یا خوشی میں ۔ اس کی خوشی میں خوش ہونا تو آسان ہے لیکن دوسرے کے غم کو کیسے کم کر سکتے ہیں ۔ اِس معاملے میں درخت ہمارے اچھّے استاد ہوتے ہیں ۔ " باڑ کے باہر کے چھِدرے جنگل" کے پاس پہنچتے پہنچتے جیسے ہی آہستہ سے سلام کیا اور ایک آہ بھر کر خاموش کھڑی ہو گئی کہ آج مزید کچھ کہنے کو نہ تھا ۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک خراماں خراماں چلتا ہوا ایک خوبصورت جوان ہرن چرتا نظر آیا ،کیا ہی حسین منظر تھا ۔ جنگل اِس وقت اپنے مکمل حُسن کے ساتھ سامنے تھا ، خوبصورتی صرف چاندنی رات اور دریا کے کنارے کی موجودگی سے ہی نہیں ہوتی بلکہ جنگل اپنے درختوں ، پتوں ، چڑیوں ، تتلیوں اورجنگلی جانوروں کی موجودگی سے اپنے حُسن کو مکمل کر کے دِکھا رہا ہوتا ہے ۔
آج اس لمحے اس جنگل میں اطمینان سے چرتے ، خوبصورت دھبے دار ہرن کی موجودگی سے دل باغ باغ ہو گیا ۔ فطرت اپنے آپ کو عیاں کر کے خوشی دینے کا باعث بنتی ہے ۔ بس لمحے کی گرفت ہو اور درختوں سے دوستی ہو ۔ تو گویا یہ آج کی اداسی کو رفع کرنے کی ایک پیاری سی کوشش تھی ۔ گرچہ جنگل سے دوستی کو کئی مہینے گزر چکے تھے تتلیوں ، چڑیوں اور گلہریوں سے دوستی کروا دی گئی تھی اور ایک دن لومڑی کی جھلک نے بھی دل شاد کیا تھا اور آج ہرن ! ہرن مزید بےفکر ہو کر چَرتا چُگتا ٹہلتا رہا ۔ میَں بھول ہی گئی کہ کچھ دیر پہلے مجھے وطن اور اُس کے ساتھ زیادتی کرتے اہلِ وطن کے کرتوں نے کس قدر دل گرفتہ کر رکھا تھا ۔
دن گزرتے جا رہے تھے، اِس نئی سرزمین کے صاف ستھرے نظاروں نے جیسے پاؤں میں زنجیر ڈال دی تھی ۔ یہاں کی سب سے اہم بات انصاف و قانون کی بالا دستی اور صفائی نے دل کو سکون دیا ہوا تھا ۔ ایسا میرے وطن میں بھی ہو جائے ، ویسا میرے خطے میں ہو جائے ۔ جانے میرا وطن کب بھیڑیوں کے چُنگل سے آزاد ہو گا ؟، میری قوم کب با شعور اور با خبر ہو گی! اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہی اور اس پر عمل درآمد سے ہی ہم ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھ پائیں گے ۔
یہاں ایک جھیل پر بنے ڈیم کی طرف جانا ہوا ،ڈیم سے باہر کی دو فرلانگ کی گول چوڑائی کو باریک بجری سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ وہاں آس پاس کوئی درخت نہیں تھا ، لیکن ایک بڑا سا بورڈ ان ہدایات کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔۔۔
" یہاں کسی قسم کے بار بی کیو ، یا پکنک کی اجازت نہیں ، عمل نہ کرنے والے پر ڈھائی ہزار پونڈ جرمانہ کیا جائے گا "
اب اگر کسی وزیر کی فیملی ہے یا بادشاہ کی اولاد ۔۔ اوّل تو قانون توڑیں گے نہیں ورنہ اتنا بھاری جرمانہ اور بدنامی الگ سہنا پڑے گی ۔ میرے ملک کوایک عام پولیس کا سپاہی یا آفس کا کلرک بھی اپنی ذاتی جائیداد سمجھ کر لُوٹ رہا ہے تو بڑے عہدے دار تو مکمل فرعون بنے بیٹھے ہیں ۔ ایسی سوچ کب بدلے گی ؟ جانے کب ؟۔

( منیرہ قریشی ، 8 مئی 2024ء واہ کینٹ ) 



منگل، 30 اپریل، 2024

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( رپور تاژ۔ 20)

"چھانگا مانگا کا دُکھ"
باب ۔۔20
دل پر پڑا بوجھ تھا کہ جانے کا نام نہیں لے رہا تھا ،انسان کی عمر بہت ہوا تو اسّی یا سو سال ہی ہو پاتی ہے ۔اُس میں بھی آخری دس ، بیس سال دماغی کمزوری یا یاداشت کے چلے جانے کے مرض سے وہ حالاتِ حاضرہ سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ ہر غم اور خوشی سے بھی ماورا ہو جاتا ہے ۔لیکن یہ بزرگ درخت جنھیں کہیں پانچ سو ، کبھی ایک ہزار اور کبھی دس ہزار سال کی عمر دے کر بھیجا گیا ہوتا ہے ، وہ کیسے کیسے دل فگار مناظر کو دیکھتے اور چُپ سادھے خدمات بجا لاتے رہتے ہیں ۔ ایسے نا قابلِ برداشت حالات میں بھی وہ اپنی طرف سے کوئی انتہائی قدم نہیں اُٹھاتے ، صبر اور خدمت کے جذبے سے سرشار حکمِ خداوندی پر سرِ تسلیمِ خم کیے رہتے ہیں ، اسی لیے تو اُن کے سینے میں کتنے گھاؤ ہوتے ہیں، ان کا سینہ کیسے کیسے رازوں کا امین ہوتا ہے مگر اپنی خدمت میں کیا مجال کوئی کوتاہی کر جائیں ۔ کمرے کی فضا میں بھی اداسی گُھلی محسوس ہوتی رہی ۔
؎ دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
اور اُسی دن مجھے چند وہ اداس لمحات پھر یاد آگئے ، جو کبھی بھول نہ پاؤں گی ۔۔۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر "پتّوکی " سے سات کلو میٹر کے فاصلے پر بارہ ہزار ایکڑ پر محیط ،انسانی ہاتھوں سے ترتیب اور تکمیل پائے گئے جنگل کی سیر کا موقع ملا ،جِسے دنیا کا ایک بڑا مصنوعی جنگل بھی کہا جاتا ہے اور چھانگا مانگا کا نام دیا گیا ہے ،یہاں شیشم ، کیکر کی بہتات تھی ۔ خوبصورت درختوں ، جگہ جگہ بنچ ، کچھ قطعات پر پُھولوں کے تختے ،کہیں پانی کی رکاوٹ سے بنی جھیل اور اسی کے کنارے خوبصورت ریسٹ ہاؤس ، عجب دل پذیر مناظر تھے ۔ خوب صورت جنگلی حیات اور پرندوں کی چہکار سے ، سکون ہی سکون پھیلا محسوس ہوا ۔ ادھر اُدھر کی سیر کے بعد درختوں کے ایک جھُنڈ تلے ڈیرہ ڈالا گیا اور طعام کے بعد قیام بھی کیا جانے لگا ، تو اِرد گِرد پھیلی نرم میٹھی دوپہر کی غنودگی میں جیسے کِسی نے چھینٹے گرائے ۔ یوں محسوس ہوا ، شاید کِن مِن بارش آ گئی ہے ، آسمان پر آوارہ بادل تو تھے ، ساتھ نرم دھوپ بھی تھی ، فضا میں بھی سکوت و سکون تھا کہ چند قطرے پھر گِرے توجھُنڈ کے خوبصورت چھتنار درختوں کی طرف نظر پڑی ، تو ڈُبڈبائی آنکھوں کے آنسو مزید پھیل گئے ،اوہ ! میَں اپنے گروپ کی سنگت کی خوشی اور اس جنگل کی خوبصورتی میں محو ہو کر اپنے دیرینہ دوستوں کو نظر انداز کر بیٹھی تھی ۔انسان بھی کیسا خود غرض ہو جاتا ہے ۔ اپنی خوشیاں کتنی عزیز ہوتی ہیں کہ باقی سب کچھ پس منظر میں چلا جاتا ہے لیکن درخت ہوں اور کچھ کہا کچھ سُنا کی کیفیت سے گزرے بغیر آ جاؤں ، ایسا کبھی ہوا نہیں تھا ، یہ آج کیوں کر ایسا ہو گیا ؟
جلدی سے ذرا اُس حصے کی طرف قدم بڑھائے کہ راز و نیاز کے لئے وہ خوبصورت گوشہ سامنے تھا جہاں لمبے ، پتلے تنّوں والے سفیدے کے جوان درختوں کے ساتھ دو پختہ عمر شیشم کے درخت اپنی لمبی گھنی ٹہنیوں کو اتنا پھیلا چکے تھے کہ بیچارے سفیدے کے درخت قدرے ٹیڑھے ہو چکے تھے لیکن سفیدے کے درخت ایسے مطمئن نظر آئے جیسے اچھا شاگرد ، استاد کی تعظیم کرتے ہوئے اُس کی گھمبیر خاموشی اور سخت رویے کو بھی خوش دلی سے سہہ جاتا ہے ۔ پانی کے چھینٹے انہی شیشم کے درختوں نے چھڑکے تھے جو دوسو سال پرانے تھے ، جانے لالچی ٹمبر مافیا سے کیسے بچ گئے !! اُن کی اداسی اور عمیق فراست اُن کے ٹھہرے ٹھہرے لہجے پر اتنی حاوی تھی کہ نظریں خود بخود جھک سی گئیں ، یہ ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب ان پاکیزہ فضاؤں کو متعفن کرنے والے اذہان نے انھیں اپنی طمع کے لئے استعمال کیا تھا۔ شیشم کے درختوں نے یاد دلایا ،
" تم شاید پہلی مرتبہ یہاں آئی ہو ، اسی لئے تم نے ہماری دکھی فضاؤں کو فوری محسوس نہیں کیا ،کیوں کہ ہمیں حکمِ الٰہی ہے کہ کوئی بھی تمہاری چھاؤں تلے بیٹھے ، اُنھیں خوش آمدید کہنا ہے ۔ آج تم یہاں آئی ہو ، ہمیں سوات ریسٹ ہاؤس کے قدیم درختوں نے صبح پیغام دیا تھا ، آج درختوں کی عاشق ، انھیں سراہنے والی پہنچے گی ، بے شک اُسے وطن کی تاریخ کے سیاہ صفحات سنا دینا ۔ وہ نئی نسل کو اپنی زندگی میں کبھی کبھار یاد دلاتی رہے گی کہ کیسے تمہارے نام نہاد رہنماؤں نے شراب ، کباب ، اور دوسرے لوازمات سے چند ضمیر فروشوں کو اُسی طرح گھیرا ، جیسے ہر دور کی تاریخ میں دُنیاوی لالچ میں پھنس جانے والے میر جعفر ، میر صادق خریدے جاتے رہے ہیں اور یہ بے ضمیراپنے آپ کو تھوڑے سے مال کے بدلے لالچ کی دلدل میں دھنسا کر آگ کا سودا کر تے رہے ہیں۔غیر ملکی آقا اپنی بادشاہت کی مضبوطی کی خاطر اگر نام نہاد اسمبلیوں میں چند بکاؤ مال خریدتے رہے تو وہ "پُھوٹ ڈالو اور حکومت کرو " کی پالیسی پر عمل کرنا اپنا حق سمجھتے تھے لیکن یہاں ان کے اپنے ہم وطن ، ہم مذہب تھے کسی دوسرے ملک و مذہب کے لوگ نہیں تھے ۔ وہ سمجھتے ہیں " ووٹ ، اور جمہوریت کی سیاست کا یہ اہم رُکن ہے کہ آزاد ارکان خریدو اور حکومت بنا لو " !! جیسے اللہ کے نام پر اور اس کی کتاب پر حلف اٹھا لینا اور پھر توڑ دینا آج کی سیاست کا حصہ ہے ! اُن بکاؤ مال کے نزدیک اخلاقیات کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا ۔
بے ضمیری نے انہی کی نسلیں تباہ نہیں کیں ، بلکہ لفظ " خاندانی ، اصلی نسلی " کے معنی تبدیل کر دئیے ۔ پاک وطن کی آنے والی نسلوں نے ایسوں کو کامیاب دیکھا تو یہی سبق سیکھا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو ۔ کون سا عہد ، کیسی وفاداری ؟"۔
اِس خوبصورت جنگل میں سب سے پہلے 1988ء میں نواز شریف نے جواُس دور میں پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ تھا اپنی اگلی وزارتِ اعلیٰ کی سیٹ کی خاطر چالیس آزاد ارکان ِصوبائی اسمبلی کو یہاں کے ریسٹ ہاؤس میں قید کیا ۔ یہ قید ان ارکان کی اپنی خواہش پر تھی ۔ نواز حکومت نے انھیں ہر وہ سہولت بہم پہنچائی جس سے گِدھ خوش ہو جائیں ، پھر عین ووٹ ڈالنے کے دن انہی بے ضمیروں نے حقِ نمک ادا کیا اور یہ حسین جنگل اب ایک بُرے فعل کے نتیجے میں بدنامِ زمانہ بنا دیا گیا ہے ۔دنیا کی گندگی کھانے والے گِدھ ، جن کے ناپاک اذہان نے گندگی بھرے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ جیسے یہ سب کرتوت انجام دینے میں کوئی قباحت ہی نہیں ۔ جانے اُن کا کیا انجام ہوا ؟ جانے انھیں وہ دولت کتنے دن استعمال کرنا نصیب ہوئی ؟ بالکل یہی حرکات بے نظیر نے جاری رکھیں اور اس کے ضمیر فروشوں کو سوات کے ایک ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ،جو بھی حکومت میں بیٹھا ، اُس نے ببانگِ دہل یہ گناہ کیے ۔ اور " لوٹا کریسی ، ہارس ٹریڈنگ ، فلور کراسنگ اور نہ جانے کیا کیا اصطلاحات ایجاد ہوئیں، کیوں کہ انسانوں نے مویشی منڈی کا روپ خوب دکھایا ،اِس جوڑ توڑ میں محو لوگوں کو شطرنج کی سب چالیں آ گئی تھیں اور ہیں !! نہیں آیا تو یہ کہ " روزِ محشر بھی کچھ پوچھا جائے گا ۔ عہد توڑنے کی وعید بھی بتا دی گئی ہے ،اُن کے فیصلوں نے جانے کتنے کروڑ نصیبوں پر سیاہ لکیر پھیر دی!" ۔
شیشم کے درختوں نے شدید دکھ میں ڈوبے لیجے میں بتایا ،" ہماری آنکھوں کی طرف دیکھو ، آنسو مستقل اِن میں ٹھہر گئے ہیں ، ہم سوات کے اُس ریسٹ ہاؤس کے درختوں کی طرح جھومتے نہیں ، بے آواز بین کرتے ہیں ۔ جانے اِس پاک سر زمین کے سادہ لوح لوگوں کو کب تک احمق سمجھا جاتا رہے گا ؟ جانے ان کے بے ضمیر لیڈروں کو عبرت ناک سزا کب ملے گی ؟ جانے تم لوگ کب شعور کی منزل پاؤ گے ؟ کب تمہارے اندر کی محدود سوچ بدلے گی ، دُور مستقبل کی روشنی جو دکھائی دے رہی ہے، اسے پانے کی کوشش نہیں کر رہے ؟ کب تک شاندار لوگوں کا استحصال ہوتا رہے گا ؟ ،کب تک اپنے دشمنوں کے لئے تر نوالہ بنتے رہو گے، کب ایکا کرو گے ؟ جانے ہمارے سایوں تلے کب تک گھناؤنے کھیل رچائے جاتے رہیں گے ، کب تک ؟ ۔ہم درخت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ہوا اور پرندے ہمارے لئے وہ پیام بر مقرر کیے گئے ہیں جن کی خبروں سے ہی ہم اپنے دکھی ساتھیوں کے دکھ سے پل بھر میں آگاہ ہو جاتے ہیں ۔ ہم مل کر اُن کے لئے دعا گو رہتے ہیں۔ ہمارے اتفاق و اتحاد سے کچھ سیکھو ۔اُس دن کے بعد سے چھانگا مانگا کے اِس جنگل کو اِیسی مذموم سازشوں کے لئے جیسے چُن لیا گیا ہو ایک وقت ایسا بھی آیا جب رمضان کا مہینہ تھا جس کا احترام بھُلا دیا گیا اور شراب و کباب کی محفلیں ایسے منعقد کی گئیں جیسے خالق کائنات ،کہیں اور گیا ہوا ہے اور یہ خود دنیا کے مالک بن گئے ہیں ، ان کو یومِ محشر بھُولا ہوا تھا ۔ تمہیں جب موقع ملے ، اِس تاریخ کو نئی نسل تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرتی رہنا کہ اسی طرح ہی زندگی سبق سکھاتی ہے ۔ آنکھیں کھلی رکھو کہ دشمن کبھی غافل نہیں ہوتا ، اُٹھو ، اور اُسی با وقار دور کو پا لو ، جب یہ ملک دوسرے ممالک کو قرضہ دیتا تھا ۔ یہاں غیر ملکی آتے اور ہمارے بہترین پالیسیوں سے سیکھتے اور آج وہ ہم پر ہنستے ہیں ۔ غلط کار حکمران کے منحوس اثرات " !۔
شیشم کے درختوں نے آہ بھری اور آنکھیں موند لیں ۔ اچانک مجھے یہ جنت ، یہ بےفکری ، بے معنی لگنے لگی ۔ جب قوم کے ہر فرد کو مستقل نہ سہی ، کبھی کبھی کی تفریح کی بنیادی سہولتیں ستتر (77) سال میں نہ مل سکیں ۔ تو گویا اپنے دشمن ہم خود ہیں ۔!!

( منیرہ قریشی یکم مئی 2024ء واہ کینٹ)