جمعرات، 12 فروری، 2026

" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات


" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات " کیلنڈر پر فروری میں بارہ کا ہندسہ میرے لئے مِلے جُلے تاثرات کاحامل ہوتا ہے ۔ کیوں کہ یہ میرا جنم دن ہے اور چند لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپے پر ایک طائرانہ نظر دوڑ ہی جاتی ہے۔
کیسا محبتوں بھرا مطمئن بچپن گزراِِ۔لڑکپن بھی تربیت اور تعلیم کے عجب خوبصورت امتزاج سے گزرا ،،، اس میں کوئی بڑی عیاشی نہیں تھی ،،، لیکن بے فکری اور اپنے عمر کے مطابق بہت کچھ ملتا رہا ، سب سے بہترین نعمت با شعور والدین ، محبت ، تحفظ ، سکون اور خوش حالی کے حصار کا ملنا تھا ۔
جوانی تو ہوتی ہی خوابوں کی دنیا ہے ۔ والدین سمجھ دار ہوں تو ہاتھ پکڑ کر اس اتھرے دریا سے یوں گزار دیتے ہیں جیسے وہ بہت بڑے ماہرین نفسیات ہوں یا کوئی ایسے اسکالر جن کی زندگی دینی ادارے میں گزری ہو۔۔۔گویا والدین کا فہم و فراست والا ہونا اصل وصف ہے ، اعلی و ارفع ڈگری یافتہ ہونا نہیں !۔
اور جب ایک" انسان " اس قرن ہا قرن سے چلتی زندگی کا حصہ بنتا ہے تب اسے اس بات کے جھٹکے لگتے چلے جاتے ہیں کہ جن کمزوریوں سے والدین کے گھر صرفِ نظر کیا جاتا رہا ،،، وہی اگلی زندگی کے موڑ پر دوسروں کو پہلے نظر آنے لگیں ،،،،،یعنی زندگی کا نیا مطالبہ دکھایا جاتا ہے کہ ،،،، یہ نہیں ،، وہ اپناؤ !!یہ سب جھٹکے وقتاً فوقتاًسہتے رہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۔۔۔
۔" جس طرح بہترین پھلوں کے رس کا گلاس تیار کیا ، لیکن کچھ دیر تک استعمال نہ کیا جائے تو اس کے ذرّے گلاس کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اُوپر بے ذائقہ پانی آ چکا ہوتا ہے ، ، تب اسے دوبارہ خوش ذائقہ بنانے کے لئے چمچ سے ہلا کر ، نچلا اور اوپر کا پانی ملا دیا جاتا ہے گویا جھٹکا دیا جاتا ہے تو وہ خوش ذائقہ ہو جاتا ہے" ۔ قدرت بھی اسی طرح کٹھے ، میٹھے جھٹکے دیتی رہتی ہے ، تاکہ "انسان " (بھلے وہ عورت ہے یا مرد ) کامیابیوں یا ناکامیوں کے یکساں دور میں ہی نہ پھنس کر رہ جائے ،،، کبھی خوش ذائقہ ، کبھی بد ذائقہ زندگی کے رنگ بندے کو تجربات کی سوئی سے نِت نئے ٹانکے سکھائے چلے جاتے ہیں ،، کسی بھی دورانیے کا تسلسل اُسے متکبر ، یا مایوس بنا سکتا ہے ۔۔۔ !! بہر حال بڑھاپا انہی تجربات کا مُرکب ہوتا ہے۔
اب اس لمحے بڑھاپے کی چوٹی پر "عاجزی اور شکرگزاری "کا اوزار یا ہنر ہر وقت ہمراہ رکھنا چاہیے۔ ویسے تو زندگی کے ہر ہر موڑ پر اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں لیکن عمر کے اس دور میں یہ بہت فائدہ مند ہے ۔ بقایا زندگی اس ٹول سے آسانیوں کے ساتھ گزر سکتی ہے ۔ سال گرہ کا دن خوشی کے لمحات کے ساتھ ہی سہی ، لیکن بہ نظر غائر بچپن ، لڑکپن ، جوانی گزارنے پر ایک خاص اطمینان کا احساس غالب نظر آتا ہے ۔اور اب بڑھاپے کی موجودہ سیڑھی پر ہیں ،،، جو آخری بھی ہو سکتی ہے ، اور چند سٹپس اور بھی منتظر ہو سکتے ہیں ۔ بس جس خالق نے اب تک زندگی کے ذائقوں کو خوش ذائقہ بنائے رکھا ،، اُسی سے آگے بھی بہترین کی امید ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ کارآمد ٹول پر گرفت مضبوطی سے جمی رہے۔ آمین۔
۔( منیرہ قریشی۔12 فروری 2026۔ واہ کینٹ)۔


بدھ، 15 جنوری، 2025

"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں ''

اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں '' نبی پاک ﷺسے پوچھا گیا ، " ربّ ۔ دنیا کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟" آپ ﷺنے فرمایا " ربّ ، کا تخت پانی پر تھا ، اور آس پاس دھواں تھا " گویا دھوئیں کے پردے سے حیران کن ، ناقابل فہم کائنات کی تخلیق سامنے آئی ۔ آنے والے وقت میں کائنات میں دھند ، دھواں ، اور کہرا جیسا ماحول،، انسان کے لیے پراسراریت کا ہیولا بن گیا ۔ کہ وہ آج تک اس کا اسیر ہے ۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک فضائی ماحول بھی میسر ہونے پر انسانی حسّیات کچھ زیادہ ہی محتاط ہو جاتی ہیں ۔ اگر دھند ہے ، یا دھواں لیکن انسان ان میں سے کسی میں پھنس کر خود کو پراسراریت میں محصور سمجھتا ہے ، یہ خیال آتا ہے کہ شاید کچھ نیا نظر آ جائے۔ ایسے ہی حالات میں ، یا تو کہرا ، دھواں ، دھند کے پس منظر سے ، حیران کن تخلیقات ، " تصاویر" کی صورت میں سامنے آتی ہیں یا پھر الفاظ کی شبنم تحاریر کی صورت القا ہوتی ہے ۔ اورکبھی کبھی ایسی دھند یا دھویں کے عقب سے عجب طلسماتی شخصیت سامنے آتی ہے کہ جو قوم یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ تو گویا دھند یا دھواں غیرمتوقع مستقبل کی علامت ہیں۔

پھر ایک دن کبھی ۔۔۔۔۔۔

۔"آسمان سے اٗترتی منفی چالیس ڈگری فضا میں نیلگوں رنگ گھُل جاتا ہے اور زمین کے اندر کی تہہ سے چالیس فارن ہائیٹ کی حدّت کی شدت باہر آنے کے لئے تیار تھی ، یہ حدت اپنے ساتھ گلابی مائل سلیٹی رنگ لا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتی ۔ تب نیلگوں فضا نے بڑھ کر اس گلابی گرمائش کو گلے لگایا ، اس وقت بادلوں نے اطمینان بھرا سانس لیا ، اور اپنے اندر کے بوجھ کو روئی کے گالوں کی صورت کامل خاموشی سے زمین تک پہنچانے کا کام کرنے لگے ۔ زمین کی ہر مخلوق اپنے اپنے طور سے فائدہ اٹھانے لگی ،، کچھ صرف آنکھوں سے سراہتے ہوئے۔۔ کچھ مخلوق گھروں کو بچاتے ہوئے اور کچھ اس موسم کے مطابق دستر خوان سجاتے ہوئے ۔بعض دیکھنے والوں کے لئے یہ معمول کا منظر ہوتا ہے جب برستے گالے اّترے تو ،۔" آج آسمان نے زمین کو موتیے کے پھولوں کے ہار بھیجے تھے ، زمین کے صبر و تحمل کے انعام کے طور پر " ۔ ( منیرہ قریشی ، 15 جنوری 2025ء مانچسٹر)۔

 

اتوار، 5 جنوری، 2025

"برستی برف میں کائنات"

"برستی برف میں کائنات"

سلیٹی آسمان جیسے تھک چکا تھا تب خود میں رُکی برف ، خاموشی سے برسانے لگا ہوا کی چھیڑ خانی سے بےگانہ کچھ ٹنڈ منڈ اشجار کی نازک ٹہنیاں۔۔۔ برف کے بوجھ کو دعایہ انداز سےسہارے ہوئے ہیں جانے کیا سوچ رہی ہیں! یہ کہ اس دفعہ کا سرد سال جھیل پائیں گے ؟ ،،ہم تو خوبصورتی بانٹتے ہیں کبھی سبز ، کبھی سفید ،کبھی سرخ اور پیلا پھر خدشات کے جالے کیوں گھیرتے ہیں !! کچھ انسانی آنکھیں ، کھڑکیوں سے چپکی ہیں ۔۔ اور برف کے ہر پرت کو دل میں سمو رہی ہیں، جانے کیا سوچ رہی ہیں! کہ اب کے یہ سرد سال وہ جھیل پائیں گی؟ یا وصال کی امیدیں پھر برف میں دب جائیں گی ہم تو خوبصورتی بانٹتی ہیں گرم ذائقہ دار کھانوں کی، گرم لحافوں، جذبوں اور ٹھکانوں کی، کیا ہجر کے خطوط کی کڑوی تحریریں اس سال بھی پڑھنی پڑیں گی ؟؟ (منیرہ قریشی 5جنوری 2025ء مانچسٹر) 

ہفتہ، 21 دسمبر، 2024

"خط"

"خط"

تیرے ہر رنگ میں انوکھا رنگ بہار کی رنگینیوں میں ، خزاں رسیدہ درختوں کی جبینوں میں شدت برودت کی سنگینیوں میں اور قہر گرم لو کی حدتوں میں دل مطمئنہ ہلکے اور، بھاری ہچکولوں میں عجب تیری رنگین دنیا ،،،، صد ہا برس سے یہی ڈھنگ تکتی آنکھیں! مٹی ہوتی ،زندہ آنکھیں ! جانے تو خود کیسا ہو ،،، تیری محبتوں میں ڈوبی ہیں یہ منتظر آنکھیں ! معدوم جذبوں سے سرشار، یہ معصوم سطریں ! ایک خط ہے مولا تیرے نام

(منیرہ قریشی 21 دسمبر 2024۔ مانچسٹر)

جمعرات، 19 دسمبر، 2024

" یادوں کی تتلیاں" "کتاب کہانی" از کومل ذیشان "

" یادوں کی تتلیاں"

"کتاب کہانی" از کومل ذیشان " لکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جو پیپ سے بھرے زخموں پر چاک لگاتے ہیں اور ایک وہ جو ادھڑے ہوئے زخموں پر سلائی لگاتے ہیں، ان پر مرہم لگاتے ہیں۔معاشرے میں دونوں اہم ہیں۔کچھ یہ دونوں کام اکٹھے کرتے ہیں۔ منیرہ قریشی آپ زخموں کو سینے والوں میں سے ہیں۔ ڈھانپنے والوں میں سے۔ جب آپ کے ابا اور حمید چچا کا واقعہ پڑھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ شے آپ کو اپنے ابا کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے۔ آپ کی اماں میں میری نانی کی جھلک ہے۔ نانی نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، پانچویں کے امتحان میں اول آئیں۔ ان کو انعام میں نقشہ ملا تھا۔ آخر وقت تک بالکل آپ کی اماں کی طرح غریبوں، ناداروں کے لیے ان کے گھر کے دروازے کسی لنگر خانے کی طرح کھلے رہے، جہاں سے ایک دنیا نے فیض اٹھایا۔ کاش میں آپ کی اماں سے بھی مل پاتی۔ آپ کا "کوشش پبلک سکول" ہو یا میری فیس بک دوستوں کی فہرست میں فرح دیبا ہیں ان کا "عالم بی بی فاؤنڈیشن" میں خود کو خوش قسمت گردانتی ہوں کہ میرے سامنے آپ کی مثالیں موجود ہیں۔ آپ نے ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ سے ملاقاتیں کروائیں اس کے لیے شکریہ 🤍۔ میں نے جب سے علی پور کا ایلی پڑھا ہے مجھے اب تک شہزاد اس نم اندھیری گلی کے ایک گھر کے چوبارے سے جھانکتی محسوس ہوتی ہے، اس کی اداس آنکھیں۔۔۔۔جیسے شاید ممتاز مفتی کو ان کی یاد آتی ہو گی مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کی دو سال پہلے افسانوں کی ایک کتاب پڑھ کر میں الجھن کا شکار ہو گئی تھی۔ مجھے عورتوں سے متعلق ایک دو افسانے شدید کھٹکے۔شاید میں ناراض تھی لیکن اس کتاب کے ذریعے میں نے پھر سے ان کے لیے نرم گوشہ محسوس کیا۔ دو جگہوں پر میری آنکھیں برسنے لگی تھیں شاید لکھتے ہوئے آپ کی بھی برسی ہوں گی۔ ایک ممتاز مفتی کے حوالے سے آپ کے خواب کے ذکر پر اور ایک ابا جی جب پوچھتے تھے کہ "صبح ہوگئی؟" میرے بھائی علی اور میرے دادا کا بھی بالکل ایسا تعلق تھا جیسے آپ کے بیٹے علی اور ان کے نانا کا تھا۔ اشفاق احمد بانو قدسیہ کے وجود مجھے ہمیشہ ایسی ٹھنڈی چھاؤں محسوس ہوئے ہیں جہاں بیک وقت نور بھی پھوٹ رہا ہو۔ آپ کی ملاقات کے احوال سے بھی میرے تصور کی تائید ہوئی۔ آپ کی پیاری دوستوں کو سلام پہنچے۔ اس کتاب کے لیے بہت شکریہ منیرہ آنٹی۔ یہ میرے لیے ایک چراغ کی مانند ہے۔ میری اور آپ کی دوستی مزید گہری ہوئی۔

( کومل ذیشان 19دسمبر ،2024)

 

اتوار، 21 جولائی، 2024

" اِک پَرخیال. ڈنگ "

" اِک پَر خیال "
" ڈنگ "
'ڈنگ ' کے لفظ سے ذہن میں کبھی بھی اچھا خیال نہیں آتا ۔ کیڑوں مکوڑوں کے ڈنگ تو ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں واضح ہوتے ہیں ۔ کہ سانپ ، بچُھو ، مکوڑے ، بھِڑ ، اُڑتے کیڑوں کے ڈنگ ،،، انسانی اجسام کے لئے کتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ، یا تو جان چلی جاتی ہے ، یا ، کچھ دیر یا تا دیر جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے زہریلے ڈنگ کو علاج اور صبر سے رفع کیا جاتا ہے ۔
البتہ مدت دراز کے بعد انسانی تحقیقی اذہان نے انہی کیڑوں ، کے ڈنگ سے ہی انہی کے کاٹے کا علاج دریافت کر لیا ، اور یوں ، قیمتی جانوں کو بچانا ممکن ہو گیا ۔ دیکھا جائے تو سانپ ، یا بچھُو ، یا بھِڑ یا زہریلی مکڑیوں کے ڈنگ کی کٹیگریز ہیں ۔۔ کچھ کی کم ، کچھ کی زیادہ !
اس کے برعکس مکھی ، کھٹمل ، یا مچھر وغیرہ کے ڈنگ ایسے لیول کے ہوتے ہیں ،، جو کم طاقتور تو ہوتے ہیں لیکن ،، ان کے ڈنگ کے زہر کو حاصل کر کے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج دریافت ہوچکے ہیں ۔ اسی طرح کچھ جانوروں کے تھوک یا لعاب اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ بظاہر ان کے کاٹے کا کوئی نشان نہیں ہوتا مگر جہاں ان کا لعاب گرا ،،، وہی جگہ سُن ہو کر انسان یا جانور کو بے بس کر ڈالتا ہے ۔ اور اس زہریلے تھوک سے اس میں ہلنے جلنے کی سکت نہیں رہتی پھر یہی وقت ہوتا ہے جب ایسے جانور کے لئے متاثرہ جسم تر نوالہ بن جاتا ہے ۔
' ڈنگ ' کی اِس کیٹگریز میں ،،، الفاظ کے ڈنگ بھی اپنی ہی طاقت رکھتے ہیں ۔ کچھ الفاظ کی پوٹینسی کم،، لیکن زیادہ تر ہائی پوٹینسی کے بولے جاتےہیں ۔ ایسے الفاظ کی پھوار زہریلے مادوں سے بھرپور ہوتی ہے ۔۔ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی صداقت پر یقینِ کامل ہو جاتا ہے ، " تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے ، لیکن زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا "
زہریلے الفاظ ، کم یا زیادہ نوعیت کے ہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قدرت نے اس سلسلے میں اپنا قانون سختی سے لاگو کر رکھا ہے ، یہاں کان کے بدلے کان ، آنکھ کے بدلے آنکھ کے قرآنی احکامات نافذ کرنے کا حکم ہے تو ،،،، بے عزتی کے بدلے بے عزتی ،،، دوسرے کو ذلت دے رہے ہیں تو بدلے میں ذلت کا انتظار کریں ۔۔ البتہ اِس میں کچھ ماہ ، کچھ سال ، کچھ عشرے گزر سکتے ہیں ،، لیکن الفاظ کے ڈنگ کا جوابی ڈنگ کا وار ، قدرت کی طرف سے صحیح وقت اور صحیح جگہ کا منتظر ہوتا ہے ۔
آج کے دور کا ایک اور ڈنگ بھی ہے جسے عام طور پر ڈنگ نہیں سمجھا گیا ۔ وہ ہے " پرائیویسی " ( privacy ) کا ڈنگ ۔
میرا کمرہ الگ ہونا چائیے ، آخر کو میں 14 سال کی ہو گئی / ہو گیا ہوں ،،،
میری الماری کو کس نے کھولا ؟ میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دیتا / دیتی ۔۔۔
یہ مہمان آ گئے تو ہماری پرائیویسی نہیں رہے گی ،،،،
میرے موبائل ، میرا پرس ، یہ سب کچھ صرف میرا ہے ، کسی کو اجازت نہیں کہ انھیں میری اجازت کے بغیر ہاتھ لگائے ۔
کچھ معاملات میں تربیت کے تقاضے ہوتے ہیں کہ وہ اہم ، ہمدرد رشتے ان اولادوں کی الماری ، کمرہ ، یا موبائل کا جائزہ لیں ، ہم دیکھیں یہاں کے کونے کھدروں میں کیا چل رہا ہے ؟ ایسا نہ ہو پرائیویسی کے ڈنگ سے ہماری اولاد بہت ہائی پوٹینسی کے زہر نگل چکی ہو ،، کہ تب تک مرض لا علاج ہو چکا ہو !
پرائیویسی کے نکتہء نظر سے مہمان نوازی کے خوبصورت رسم و رواج پر جو کاری ضرب پڑی ہے ، کہ پہلے دُور نہ سہی نزدیکی رشتوں کا جو والہانہ انتظار ہوتا تھا ۔ کہ سب کزنز مل کو چھٹیاں گزارتے ،،، رشتوں کی آپسی مٹھاس کچھ دنوں یا ہفتوں کے لئے 'ریوائز ' ہو جاتی ۔ اور دال ساگ کھا کر بھی بد مزہ نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ اور اگلی محفلوں کو سجانے کے وعدے کر کے جدا ہو جاتے ،،،
کچھ ایسا رویہ بعض اوقات ہمارے خوشحال خاندان کا بھی دیکھنے میں آتا ہے جب ان کے لئے گھریلو چیزیں ، اُن کی ترتیب ،،، اور اپنے دن اور رات کے پروگرام اتنے عزیز ہوتے ہیں کہ اس شب و روز میں کسی " آنے والے " کی چند گھنٹوں کی آمد بھی " زہریلا ڈنگ " بن جاتی ہے ۔۔ آہ انسان کی کم فہمی !!
لیکن پرائیویسی کے ڈنگ نے ایسا ڈسا ہوا ہے کہ اس کے اثرات سے خون سفید ہو گیا ہے ۔ رشتے کڑوے ، اور اپنی ذات کے حصار میں رہنے میں ہی عافیت سمجھا جا رہا ہے ۔ اور یوں آدم و حوا کی اولاد غلطیوں کے پہاڑ پر چڑھتے چڑھتے اترنے کی راہ کھو بیٹھی ہے ! اللہ ہی بہترین جاننے والا ہے ۔

( منیرہ قریشی 21 جولائی 2024ء واہ کینٹ ) 

منگل، 11 جون، 2024

" اِک پَرِ خیال "۔۔۔" کشیدہ کاری "

" اِک پَرِ خیال "
،،، " کشیدہ کاری "
میَں نے ایک ایپ کو جوائن کیا ہوا ہے ۔ جو فلکیاتی دنیا کے نام سے ہے ،، اس میں ایپ چلانے والے سیٹلائٹ اور سپیس شٹلز سے لی گئی آسمانِِ تحیّر کی معلومات اور تصاویر ، ہم جیسوں تک آسان اردو میں پہنچاتے اور دلی دعائیں لیتے رہتے ہیؐں ۔ جب بھی وہاں کی کچھ نئی معلومات اور تصاویر پہنچتی ہیں تو انھیں دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہوں ۔ ،،، دل ساکت سا ہو جانے کا دورانیہ جتنا لمبا ہوتا ہے ،، دل کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ خالق کی محبت میں سر مستی سی آ جاتی ہے ۔ دنیائے آسمان کی یہ حیران کن دنیا مالک سے عشق کو مزید راسخ کر دیتی ہے ۔،،،، اُس خالق نے اپنی کائنات انتہائی محبت ، اور باریک بینی ،، اور کاری گری سے بنائی ہے ۔
انسان بذاتِ خود اس رب ِ مصور کا عجب شہکار ہے ،، اور اُس نے خود اس شہکار کو وہ ہُنر عطا کیا ۔ کہ جب بھی وہ کسی رنگ ، آہنگ سے کوئی تخلیق بناتا ہے تو خود ہی اس پر عاشق بھی ہو جاتا ہے ۔ یا دوسرے اس ہنر کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ،،، کبھی کلام میں ، کبھی طعام میں ، کبھی لباس ، کبھی برتن ، کبھی رسوم کی کاریگری اور کبھی اُس دلربا رقص میں کہ جب پاؤں اٹھیں ،، نہ اٹھیں ،، لیکن جھومنا ہی اُس کی کاری گری دکھا جاتا ہے ۔ ہر دور میں ،، ہر تہذیب میں ایک طبقہ ایسا ودیعت کیا گیا ،، جو دوسروں کو نفاست ، لطافت ، نزاکت کے معنی سے آگاہی عطا کرنے کا فریضہ ادا کرتا رہا ۔ یہ کشیدہ کاری کبھی کمہار کے ہاتھوں میں ،، کبھی مصور کے رنگوں اور برش میں ،، کبھی کپڑے کے تھان پر ،،، اور کبھی سُر و چنگ کے ذریعے یا تحاریر کے باریک نکات کے ساتھ سامنے آتی چلی جاتی ہے ،،، تب سمجھ نہیں آتا ،،، اصل کو دیکھیں ،،یا نقل کو سراہیں !!
دیکھا جائے تو انسان کی بہترین ہنر مندی یہی ہے کہ وہ،،، خالقِ کائنات کی ان تخلیقات کو "پُر سکون ماحول میں احترام اور امن" سے رکھے ،،
انسان انہی جذبوں کی " کشیدہ کاری " سے شیطان کے منصوبے ناکام کر سکتا ہے ۔
کشیدہ کاری سیٹلائٹ سے دنیائے آسمانی کو دیکھنے سے ہی عیاں نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسانی ہاتھوں میں پکڑے بُرش ، اور رنگوں کے سٹروک سے ،،، سُوئی اور رنگین دھاگوں کے امتزاج سے ،، ایک پُر شفقت لہجہ ،، ایک محبت بھرا لمس ! سامنے کے تاریک اور معدوم ہوتے دل کو یکدم جگانے کا باعث بن سکتا ہے ۔ کشیدہ کاری کے اصل ٹانکے کا ہنر پھٹے دل اور دُریدہ روحوں کو سینے سے نظر آئے گا ۔ انھیں نیا سٹروک دے ڈالیں ۔۔ اُن کے سوراخوں کو رنگین دھاگوں سے سی ڈالیں ۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ،، کائنات کی آسمانی کشیدہ کاری اپنا کام مسلسل کر رہی ہے ۔ زمینی کاری گری میں سُستی ناقابل قبول ہو گی ،، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔۔اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔

( منیرہ قریشی 11 جون 2024ء واہ کینٹ )