اتوار، 29 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(37)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 37)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جب بھی آج ،کسی کی زبان سے، کسی پرنٹ میڈیا میں ، کسی کتاب ، کسی فلم میں ، کبھی کسی قسم کا تعصب دیکھتی ہوں ، سنتی ہوں ۔ وہ تعصب چاہے لسانی ہو، یا مقام کے لحاظ سے ہو، تو دلی دکھ ہوتا ہے ! اللہ کا شکر کہ اس قسم کا منفی تعصب کا رواج ہمارے گھر نہ تھا،بلکہ ہم نے اماں جی کے منہ سے ہمیشہ یہ جملے سنے،"ہمیں ہندوستان سے آنے والوں کا مشکور ہونا چاہیے، جن کی قربانیوں سے یہ آزاد ملک ملا ، اپنے وطن ، مال ، رشتے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا "،،، ہمارے محلے میں جو بھی "مہاجر" سیٹل ہوۓ اماں جی نےہمیشہ ان کے دکھ سُکھ میں شریک ہونا ،،،اور ان کے لیۓ دل و زبان سے احترام کا انداز رکھنا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم بہن بھائی میں بھی کسی علاقے ، یا زبان کے لحاظ سے متعصبانہ سوچ نہ آئی ! اور آج بھی یہ سوچ ہے کہ اچھے برے ہر ، ذات میں ،ہر علاقے میں ، ہر طبقے میں ہوتے ہیں ،اس اچھائی کا ،،یا ،، برائی کا تعلق کسی مخصوص جگہ ، زبان یا ذات سےکسی صورت نہیں ہوتا ،،،!۔
اسی پنڈی کے محلے میں جس بھوپال کی فیملی کا ذکربھی کر چکی ہوں ،، اماں جی کی اُن سے محبت اور شفقت کی ایک وجہ اُن کا " مہاجر"ہونا بھی تھا ! میں یہ لفظ لکھتے ہوۓ بھی کچھ اتنا پسند نہیں کر رہی کہ کچھ منفی سوچ کے لوگوں نے اسی لفظ "مہاجر" کو اپنے مذموم مقاصد کے لیۓ سیاسی طور پر استعمال کیا اور " انصار اور مہاجر" کے درمیان بےجا نفرتوں کا بیج بویا !!!! ایسا کرنے والوں نے دراصل "ہمارے جیسوں کی خالص محبت" اور "ہمارے خلوص بھرے جذبات " کا مذاق اُڑایا ہے۔ !
ہوا یہ کہ چند دن پہلے میرے پوتے کوسکول میں ایک پراجیکٹ کے لیۓ جو موضوع ملا وہ تھا " ہجرت " !!اور میری یادوں کی تتلیاں مجھے کشاں کشاں اپنی اماں جی کی بتائی باتوں کی طرف لے گئیں اور میں ذہنی طور پر ان کے سامنے بیٹھ کر وہی باتیں سنتی رہی! اور اپنے پوتے سے یہ معلومات شیئر کرتی رہی ،،،ایک مرتبہ ہم پنڈی صدر میں موجود اباجی کے دلی دوست "الطاف شاہ " چاچا جی ( جو حضرت پیر مہر علی کے بھتیجے تھے) کی دکان سے " رشین کراکری" کی ایک دو چیزیں خرید کر لاۓ ، ہم نے نیلے رنگ کی چینک اور اس کے ساتھ کی چار عدد نیلی قہوہ پینے والی پیالیاں لیں ، اماں جی نے دیکھ کر بہت پسند کیں ۔ اماں جی کی چند عادات میں سے میں اب تک ایک آدھ عادت چلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ایک یہ کہ جب نئی کراکری خریدی جاتی اسے دھو کر ایک دفعہ سب گھروالوں کےلیۓ استعمال کی جاتی ،،،، اُن کا خیال تھا کہ اب یہ برتن مہمانوں کی آمد کا باعث رہے گا ، دوسرے جب کوئی زیور بن کر گھر آتا ، اگرچہ وہ ایک دو تولےکا ہے یا چند گرام کا ،، بس اتنے کلو چینی ، کا صدقہ فورا" نکالا جاتا ۔ ،،، اب یہ رشین نیلی کراکری آئی جو استعمال شدہ تھی ، اور کسی رشین سے خریدی گئی ہو گی ، لیکن اسی وقت دھو دھلا کر شام کو قہوے کی صورت استعمال کی گئی ، اس دن اماں جی نے بتایا کہ جب وہ بارہ ، تیرہ سال کی تھیں تو انکے گاؤں سے ایک مرتبہ ایک مختصر سا قافلہ گزرا جنھوں نے چند ہفتے اس گاؤں میں گزارے ،وہ یقیناً مسلمان تھے کیوں کہ لینن کی تحریک کی کامیابی نے اس وسطی ایشیائی ریاستوں کے باشندوں کے قدم اپنے اپنے علاقوں سے
اُکھاڑ ڈالے تھے ، لاتعداد لوگ اپنے مذہب ، معاشرت اور عزت کو سنبھالے دنیا میں بکھر گئے ، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ اپنی تہذیب ، زبان ، عقائد اور جدا ہوۓ وطن کی یادوں کو دلوں میں لیۓ تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئے۔ اماں جی نے بتایا ، انہی دنوں ان کے والد اور گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگوں کو گاؤں کے نمبردار نے کہلا بھیجا کہ گھروں کی خواتین اپنے جو کپڑے اور بستر ، پلنگ کی چادریں دینا چاہیں، نکال کو نمبردار کے گھر پہنچا دیں ، پھر وہ اس قافلے کے بڑے کو دے دی گئیں ، اگر کبھی انھیں کسی  چیز  کی ضرورت ہوتی تو وہ اپنے خوبصورت برتن یا کڑھائی کی ہوئی ٹی کوزیاں ،میزپوش وغیرہ بیچتے اور بدلے میں وہ چیز خریدتے ، باوجود اس کے کہ گاؤں والے انھیں خوراک مفت دیتے لیکن وہ غیرت والے تھے کہ چاہتے تھے ،کوئی معاوضہ یہ بھی دیں ، ،،اسی لیۓ میرے نانا کے گھر بھی دو پلیٹیں رشیا کی مخصوص تصویری انداز کی موجود تھیں ، جو کسی گھرانے نے ان کے ہاتھ بیچی تھیں ، اماں جی کی یادوں میں اُن کی گوری چٹی ،سر تا پیر گھیر دار فراک اور مکمل با پردہ بڑی چادروں میں ملفوف خواتین موجود تھیں۔ وہ اُس وقت بھی اُن مہاجرین کے لیۓ افسردہ تھیں کہ ہم نے اُن کی وہ خدمت نہیں کی جو اُن کا حق تھا اور ہمارا فرض !!! ہم نے کیوں یہ رشین کراکری ان سے خریدیں ، ،، لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ایسے عزت دار گھرانے ہوں جو دوسروں کی امداد "ایسےہی" لینا پسند نہ کرتے ہوں اور چاہتے ہوں کہ ان کی مدد ، کاروباری طور سے کی جاۓ ،،،انھوں نے جو مزید بتایا ،، کہ ان میں سے ذیادہ تر لوگ ڈائریا ، سے بچ نہ پاۓ اور فوت بھی ہوۓ ،جن کو وہیں دفنایا گیا ،،،،،،،،،،،،،!۔
اپنے پوتے سلمان کو یہ نالج دیتے ہوۓ ،، تب اماں جی کی حساس طبیعت کے تحت محلے کے اسی صوبیدار کی دوسری بیوی کی یاد آئی جس کی ، اماں جی نے رات کے اندھیرے میں مدد کرتی رہی تھیں ۔ وہ بھی انڈیا کے ہی کسی علاقے سے تعلق رکھتی فیملی تھی ،،،( اور اس کا ذکر پچھلی ایک قسط میں کر چکی ہوں )۔
حضرتِ علامہ اقبالؒ سے محبت اور عقیدت ہمیں " اباجی " کی وجہ سے ملی ، مجھے یاد پڑتا ہے اباجی نے بہت نوجوانی کی عمر میں لاہور جا کر علامہ صاحبؒ کی زیارت کی تھی ،، یہ دورانیہ15 ،16 منٹ کا تھا، شاید انھیں اتنا ہی بیٹھنے کی اجازت ملی تھی یا انہی کے پاس وقت نہ ہوگا،،،لیکن اباجی کی زندگی کے آخری دو سال ایسے گزرے ہیں جب اُن کی یاداشت متاثر ہو چکی تھی، ورنہ ہمارے گھر ہمارےبچپن سے علامہ صاحبؒ کی برسی منائی جاتی رہی ہے،ہر 21 اپریل کے دن کوئی میٹھا بنایا جاتا،(اور اگر گرمیاں ہیں تو شربت بھی ساتھ رکھا جاتا ) اباجی کے سامنے یہ سب رکھا جاتا وہ دعا کرتے اور یہ سب گھر ، باہر کے بچوں میں بانٹ دیا جاتا ۔ اور اُس دن ہر صورت کچھ دیر تک ہم سب بیٹھ جاتے، اباجی انؒ کے کلام کو ترنم سے پڑھتے ، اور اس دوران ایک دفعہ ضرور ان کی آواز بھرا جاتی ، وہ ضرور جذباتی ہوجاتے !! چوں کہ اباجی ان کے اشعار کے سیاق وسباق سےآگاہ تھے ، وہ ان کے فارسی کلام کو بھی سمجھتے تھے ، ، جبکہ علامہؒ کے" اُردو کلام "کوسمجھنا ہی کمال بات تھی کجا فارسی کلام کو سمجھنا ،،،،،، سچی بات ہے کہ پنڈی قیام کے دوران تو ہمیں ،،،،شاعری سے اور خاص طور پر علامہؒ کی شاعری سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی،نظمیں تو بہت سی یاد تھیں لیکن علامہؒ صاحب کی شاعری سے دلچسپی نویں دسویں جماعت میں آ کرہوئی،،، اور انؒ کی نظم یا غزل کی تشریح اباجی سے سمجھی۔ بہت بعد میں جب خود تدریسی شعبے سے وابستہ ہوئی ، تو رات گیارہ بجے سب  کاموں سے فارغ ہو کر اباجی کےپاس نویں دسویں کی اردو کی درسی کتب لے کر بیٹھتی ،کیوں کہ میں اپنے طور پر اگر اردو میں اچھی تھی یا میں نے بےشمار اردو کتابیں پڑھی تھیں تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں "پڑھانے" میں بھی بہت اچھی ہوں گی ،،،یہ ہی غلط فہمی ہم میں سے اکثر کو محدود کر دیتی ہے کہ "" مجھے سب آتا ہے یا میں بہت کچھ جانتی ہوں""" اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں نے ٹیچنگ کے دوران اس زعم کو نہیں پالا ، ، ، 12 ، ساڑھے بارہ بج جاتے ، اور بہ مشکل ایک نظم مکمل ہو پاتی ، کیوں کہ اس وقت مجھے علم ہوا کہ علامہؒ کے ایک ایک شعر کے پیچھے " ہسڑی ، جغرافیہ "ہے اوراس سےبھی آگاہی ضروری ہے ۔ ورنہ اُن کے شعر کی روح کو سمجھنا ،،،یا آپؒ کے کلام کے پیغام کو سمجھنا ناممکن ہے ، میں نے اپنے دورانِ تدریس کوشش کی کہ اباجی کے علامہؒ سے عقیدت کے " جذبے " کو بھی شامل کر کے بچوں کو پڑھاؤں ۔ کس حد تک کامیاب رہی یا نہیں ،،،، اتنا محسوس کرتی ہوں کہ دلی طور پر مطمئن ہوں کہ اپنی ذمہ داریاں اپنی توفیق اور صلاحیتوں  کے مطابق ٹھیک نبھائیں ۔ آگے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
آج کا موضوع غیرارادی تھا یعنی ہجرت کی " ہسٹری " ،، !اور باقی بھی علامہؒ کی ہمارے گھر میں اہمیت ،،، کا موضوع بھی چِھڑ گیا ،، اسی عقیدت ، محبت کے تحت ہمارے ڈرائنگ روم میں صرف ایک شخصیت کی تصویر تھی اور وہ " حضرتِ علامہ اقبالؒ" کی ،!!! اماں جی سے ہمیں " اپنے عظیم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ " کی محبت ملی،،، جی ہاں ہمارا دوسرا کمرہ جو اباجی کا کمرہ کہلاتا تھا اور گھر کے اندر آنے والے مہمانوں کو وہیں بٹھایا جاتا تھا اسی میں قالین بچھا ہوا ، اور صوفے پڑے ہوۓ تھے اور کارنس پر آپا ، بڑے بھائی جان کی شادی کی تصاویر تھیں اور اسی کی اوپری دیوار پرقائدِ اعظم کی تصویر لگائی گئی تھی ، اماں جی ہمیشہ ان کا ذکر "باباجی قائدِ اؑظم" کے نام سے کرتیں ! وہ اُن کے بارے میں ہمیں ذیادہ معلوماتی لیکچر نہیں دیتی تھیں ،،، بس ہمیشہ یہ ہی کہنا " اگر یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی ہندوؤں کے غلام ہوتے ،،،! محب اور عقیدت کے لیۓ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ، یا محبِ وطن ہونے کے لیۓ اپنی مالی حالت کا ارفعٰ ہونا ، شرط نہیں ہے ! یہ اپنے اندر کی اچھائیاں اور مثبت سوچیں ہوتی ہیں جو انسان کو زندگی گزارنے کا سیدھا راستہ سُجھاتی ہیں ،،،،،،! اللہ ہمیں ، ہماری آگے کی نسلوں کی سوچ کو محبِ وطن بناۓ ، اللہ سے دعا ہے کہ شکرگزاری کا جذبہ ہر لمحہ ہمارے ذہنوں پر حاوی رکھے آمین !۔
جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں ،،، ان کی اپنی ہسٹری میں " ہیروز " کے خانے خالی ہوتے ہیں ، آئندہ لکھی جانے والی ہسٹری ( تاریخ ) کی کتابوں میں ان ہیروز کا ذکر ضرور ہوگا ، لیکن ہم نے انھیں بُھلا دیا تو ہم احسان فراموش قوم کے طور پر یاد رکھی جائیں گی ! کاش آج کے والدین کچھ تھوڑی دیر کے لیۓ اس ملک کی ، اس آزادی کی ، اور اپنی شناخت کی قدر کریں ،،، اور اپنے بچوں کو کچھ نہ کچھ اس ملک کے بارے میں ، اس کی آزادی کی مشکلات کے بارے میں بتایا کریں ، اپنے ہیروز کے دن منانے کا اہتمام کیاکریں ،، ورنہ ہم بھی اسی گناہ میں شامل ہوں گے جو ، بچوں کو " بےشناخت " کرنے والے ہوتے ہیں !۔
(منیرہ قریشی ،29 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 26 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں "( 36)۔

یادوں کی تتلیاں "( 36)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
خوب صورتی ، جہاں ہو،جس جگہ ہو ،کسی کی ہو سبھی کے لیۓ متاثر کن ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک ضروری حس رکھ دی ہے، کہ وہ جب آنکھ سے کوئی خوب صورتی دیکھتا ہے تو اُس کا دل دھک سے رہ جاتا ہے ۔بلکہ اس کی دھڑکنیں بےترتیب ہو جاتی ہیں ، اور عجیب بات ہے کہ خوب صورتی کا یہ ایکشن اور ری ایکشن، چند ماہ کے بچے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔خوب صورتی چاہے انسان میں ہو،،، کسی چیز میں ہو،یا ،، کسی منظر میں ! بہرحال متاثر کرتی ہے اور دیر تک اس کے اثرات رہتے ہیں ،،،،،!۔
ہم تو عام انسان ہیں ، ہم اثرات جلدی لیتے ہیں، اور نتیجتاً جلدی خوش اور جلدی اداس ہو جاتے ہیں ،، پنڈی کے جس محلے میں ہم رہتے تھے ، اس میں ایک چھوٹا سا میدان تھا ، میدان سے مراد 4 ساڑھے چار کنال کے "سرکل "کو میدان کہا جاسکتا ہے ۔ کافی سارے گھر اسی  دائرے  کے گرد ا گرد تھے،اسی میدان سے ہر ایک دو گھروں کے بعد ایک گلی تھی ، جو اندر جاتی اور پھر ہر گلی میں بھی بہت سے گھر تھے ،،،، اور ہر گھر میں کہانیاں ہی کہانیاں ،،،،،،۔
جب بھی ہم کسی جھیل میں پتھر زور سے پھینکتے ہیں۔ تو دائرے بنتے چلے جاتے ہیں اور مجھے یوں ہی لگتا ہے کہ ایک گھر کے دروازے کو کھولیں تو وہاں ایک کہانی شروع ہوتی ہے اور پھرانسانوں کی کہانیوں کے دائرے بنتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ازل سے ہوتا چلا آیا ہے اور ابد تک " دائرے بنتے چلے جائیں گے !!!۔
بات خوب صورتی سےچلی ،اور میں حسبِ معمول کہاں سےکہاں پہنچ گئی۔
اس محلے میں سرکل پر بنے گھروں کے لیۓ شام کو اپنے اپنے گھروں کے سامنے کی جگہیں ان گھروں کے "لان" بن جاتے۔ خاص طور پر ہمارے ایک قریبی رشتہ دار کا گھر اسی سرکل کے کنارے تھا جہاں یہ چاچاجی" کیپٹن غلام فرید" بڑے اہتمام سے چھڑکاؤ کرواتے ، کُرسیاں رکھوائی جاتیں ، درمیان میں ایک میز جس پر کڑھائی ہوا میزپوش ہوتا اور اس پر تازہ اخبار پڑا رہتا ، جو آکر بیٹھتا ، اخبار بھی پڑھ لیتا۔ وہ میرے والد کی طرف سے اُن کے چچا لگتے تھے، اور میرے بہنوئی کے بڑے بھائی
تھے، شاندار ، باوقار شخصیت ، ہر بندہ ان کی عزت کرتا ، ان کو سیاست ، میں اتنی دلچسپی تھی جتنی کہ شام کو" لان" میں لازماً   بیٹھنا اور شام کی چاۓ پینا۔خود پڑھےلکھے تھے، اپنے آس پاس بھی کچھ باشعور لوگوں کا حلقہ پسند کرتے تھے۔انہی لوگوں میں ایک " شیخ عمر "تھے جن کا پیشہ ٹھیکیداری تھا لیکن ان میں سیاسی،علمی شعور تھا۔لوگ ان کا پورا نام "عمرٹھیکیدار" کہہ کر پہچان کراتے تھے ۔وہ درمیانی قدوقامت کے گورےچٹے ، نازک نقوش کے مالک موٹے شیشوں  والی نظر کی عینک لگاتے تھے ، ان کی بیوی بھی خوب صورت ، دہرے بدن کی خاتون تھیں۔ یہ دونوں کھلے دل اورذہن کے مالک تھے،اپنی مہمان نواز اور میٹھی  زبان سے مقبول بھی تھے ، ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے، بیٹیوں میں سے چھوٹی بہن آپا کی وہ سہیلی تھی جو کم کم ہی ملتی تھی ، ، بڑی بہن ایک فوجی سے بیاہی ہوئی تھی اور اس کے دو بیٹے تھے ۔ یہ دونوں جب اپنے نانا کی طرف دن گزارنے آتے تو دن کا ذیادہ وقت اسی " قدرتی بنے لان " کے کنارے ، احسان بھائی جان کے ساتھ کھڑے گپ شپ لگاتے گزارتے۔ کیوں کہ وہ سکول کے ساتھی بھی تھے۔ "عمرٹھیکیدار " کے اپنے دو بیٹوں تھے جو شاید بہنوں سے ذرا بڑے تھے ،، اپنی محنت سے دونوں بھائیوں نے الگ الگ کاروبار جمالیۓ تھے ، ۔ ٹھیکیدار صاحب کی ساری فیملی ،،،،حسین و جمیل تھی ، چاہے گھر کے مرد ہوں یا عورت یا بچے ، سبھی ! خاص طور پر ان کی دونوں بیٹیاں مسحورکن حُسن کی مالک تھیں، جب بھی ان میں سے کوئی اپنے والدین کی طرف آتیں ، گلی کی خواتین اپنی اپنی ، نوکرانیوں کو ان کے باہر آنے جانے کی خبررکھنے کی ڈیوٹی دیتیں تاکہ ان کو دیکھ سکیں ۔ حالانکہ وہ سفید چادریں لیتی تھیں ۔اور اِن حسین خواتین کا یہ عالم ہماری بہن یعنی آپا کے لیۓ ہوتا کہ جب نسیم ( شادی کے بعد) آۓ تو ہمیں خبر کرنا ،جب کہ آپا کالا برقعہ لیتی تھیں،، یہ حسین لوگوں    کا عجیب طرح کا آپس میں ایک دوسرے کو تحسین کا طَور تھا ۔ یہ ذرا  ہمارے ناسمجھی کے دور کی باتیں ہیں جب ہم 8 یا نو سال کی ہوئیں ، تو ٹھیکیدار صاحب کے چھوٹے صاحب ذادے کی بیوی 4 بچے چھوڑ کر فوت ہوگئی ، صرف ایک سال کے اندر ہمارے سکول کی ایک میٹرک پاس ، 17، 18 سالہ،حسین لڑکی سے اس کی شادی ہو گئی ، وہ لڑکی شادی کے چند دن بعدہی اپنی گلی سے میدان پار کر کے ہماری گلی سے گزرنے کے لیۓ آتی ،کیوں کہ اسی گلی کے آخر میں سڑک تھی اور پار ہی اس کا گھر ، وہ روزانہ اپنے گھر والوں سے ملنے جاتی !!اور میں ، جوجی اور ہماری دوتین سہیلیاں( جن کا گھر میدان کی طرف تھا ) انہی کے میدان کی طرف کھلتے دروازے کی " چِک " کے ساتھ چپک کر کھڑے ہو جاتٰیں ، تاکہ ذیادہ سےذیادہ دیر تک اسے دیکھا جاسکے، اس کے ساتھ ہمیشہ ایک نوکرانی ہوتی ، وہ کالے برقعے میں ہوتی ، اس کے پرفیوم کی خوشبو 10 ، 11 گز سے آنے لگتی ، ہم اسکے کپڑوں کے صرف پائنچوں سے اسکا رنگ اور گوٹا کنارے دیکھتے ، خوش ہوتے اور پرفیوم کو خاص طور پر سراہتے ،،،،! شاید دو بچے ہی ہوۓ تھے ، کہ کسی ڈاکو سے مُڈبھیڑ کے دوران اس کا شوہر قتل ہو گیا !اس دوران گھر کے بزرگ میاں بیوی انتقال کر چکے تھے ، ہم واہ آگئے،، اُس حسن کا کیا بنا ، اللہ بہتر جانتا ہے۔ 
خاندان میں ایک کشمیری لڑکی بہو بن کر آئی ،وہ بھی حسین اور شوہر بھی حسین اور یوں وہ حسین وجمیل جوڑا تھا، خوب خوشحال گھرانہ ، اور پھر پہننے ، سجنے کا بھی بہترین ڈھنگ آتا تھا ، آتے ہی سب ہی حسن سے مرعوب ہو گئے ، اور وہ جو کہا گیا ہے " خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے " ! اسی مقولے کے تحت وہ بھی کم ہی کسی کو لفٹ کراتیں ، اللہ نے اوپر تلے ، تین بیٹے دیۓ ، چوتھے نمبر پر بیٹی تھی جو والدین کے برعکس تھی ۔ بہت سے ٹوٹکے بھی آزماۓ گئے۔ جوان ہونے پر کسی نا کسی طرح اپنے ہی رشتہ داروں میں رشتہ ہوا ، اس دوران حسین خاتون کا شوہر انتقال کر گیا ، اور حُسن نے بُجھنا شروع کر دیا ، بیٹی کی 10 سالہ شادی ختم ہوگئی۔ بچے نہ تھے، اسی دوران چار چھوٹے بچے چھوڑ کر بیٹا فوت ہو گیا ،،، اور " حُسن " کی تمام تر " لَو " مزید کمتر ہو گئ ، ، ایک وقت آیا کہ غم نے ہوش وخرد سے بیگانہ کر دیا ۔ اور اسی میں انتقال ہو گیا ،،، کیسا حسن ؟ کیسی جوانی اور کون سی پائیداری ،،،،، سب مایا ہے !۔
میں کافی عرصے سے کہانیوں کے درمیان وقت گزار رہی ہوں ،،،، ایک دن اپنے سکول کے آفس میں بیٹھی تھی ، جاب کے لیۓ ایک لڑکی آئی ! وہ آفس میں نہیں آئی " چاند " کا ٹکڑا سامنے آکر بیٹھ گیا ،،، پتہ چلا پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں ، کسی مضمون میں ماسڑ بھی ہوں ، شادی شدہ ، لیکن بچے نہیں ہیں ، ایک ٹیچر جانے والی تھی ، کہا ، کل سے آجائیں ، جب تک فلاں ٹیچر جاۓ آپ اسکے ساتھ وقت گزاریں اور ٹریننگ لیتی رہیۓ ، اس کے بعد ہی باقاعدہ اپائٹمنٹ کا فیصلہ ہو گا ، پندرہ بیس دن لگاتار آئی ، دو دن غائب رہنے کے بعد آئی ، پوچھا ابھی تو آپ کی تعیناتی بھی نہیں ہوئی تو چھٹی کیسے ہوئی ؟ میرے آفس میں بیٹھی تھی ،،، آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے ، کسی نے پانی کا نلکہ کھول دیا ہو ،،، مشکل سے قابو پا کر بتایا ، ، میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں ، پہلی غیرملکی ہے اور یہ بھی اسی کے ساتھ اسی ملک میں رہتا ہے ، میں ایف اے میں تھی جب یہ چھٹی پر ہمارے پڑوس میں آیا ،، میری ماں پر کچھ ایسا ڈر ، لالچ ، اور دھمکی کا دباؤ ڈالا کہ ماں کو مجھے بیاہ کر دینا پڑا ، اب مجھے اس نے یہ گھر لے کر دیا ہوا ہے ، اپنے اعتبار کے نوکر ، نوکرانی رکھوائی گئی ہے ، میں نے پرائیویٹ بی اے اورپھر ماسڑ کر کے فارغ ہوئی ،،، تین چار سال سے منتیں کر کے اب مانا تھا کہ ٹھیک ہے یہاں جاب کر لو ،، لیکن کل اس کا فون آیا کہ میں آرہا ہوں جتنے دن پاکستان میں رہوں ، باہر نہیں نکلنا ،،،، چاند کے ٹکڑے نے بتایا ، اُس کے پہلی بیوی سے چار بچے ہیں ، اس لیۓ مجھ سے بچے نہیں " ہونے چایئیں " ، جب میں نے دس سالہ رفاقت کے بعد کوشش کی کہ اس سے آذاد ہو جاؤں ،، اس نے آ کر دھمکا کر کہا " اول تو تیزاب سے تمہیں اس قابل نہیں رکھوں گا کہ باہر نکل سکو! ورنہ کراۓ کے قاتل سے قتل کروا دوں گا ۔ کیوں کہ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس دن سے ہر خیال ،، خواب کر دیا ہے ، وہ ایک ہفتے کے لیۓ آرہا ہے ، میں اس دوران نکل نہیں سکتی ،اور آنسوؤں کے دوران اس کا یہ جملہ میرے دل کو زخمی کر گیا " آپ دعا کرنا اسی دوران آپ کومیرے مرنے کی خبر ملے" ! " میڈم میں سونے کے پنجرے میں رہتی ہوں "!!! چاند کا ٹکڑا پھر نظر نہ آیا ، مجھے تو اس کا نام بھی یاد نہیں ، لیکن آہ،، اس کا حسن! جو اس کا دشمن بن گیا۔
ہمارے ہاں ایسے ہی حالات کو دیکھ کر بزرگوں کا قول ہے!۔
" رُوپ روۓ ، اور کرم کھاۓ "
( منیرہ قریشی ،26 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

منگل، 24 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (35)۔

 یادوں کی تتلیاں" (35)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہم سب اپنے اپنے بچپن کو یاد کریں ،اور اس کی یادوں میں بسے وہ سفر یاد کریں جو اپنے والدین کے ساتھ کیۓ ، تو جو مناظر اس وقت ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہوتے ہیں ، یاد آنے پر اپنی جُزیات کے ساتھ ایسے سامنے آتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے ہاتھ بڑھائیں گےتوہم انھیں چھو لیں گے ! کبھی کبھی یہ احساس مدھم اور کبھی بہت تیز ہوتا ہے ،،،،،۔
ہم نے کوئی خاص معرکے دار سفر نہیں کیۓ کہ جو قابلِ ذکر ہوں ، اور دیکھا جاۓ تو پوری یادوں کی تتلیاں ہی محض میرے اپنے لیۓ بچپن کی دہرائیاں ہی ہیں ، ،، کچھ میری عمر کے لوگ پڑھ کرمسکراتے ہوں گے کہ یہ سب تو ہم بھی کرتے تھے ، ،، یا ،،، یہ سب تو ہم بھی سوچتے تھے ، یہ سب ہم بھی کھاتے تھے وغیرہ ، یہ تو بس عام سی باتیں  ہیں، ۔
" یہ تو سب عام سی باتیں ہیں "
چُھپن چھُپائی کس نے نہیں کھیلی 
بےاختیار ہنسی کس نے نہیں بکھیری
کس نے نہ کی ہوگی پھل کی چَوری
کس نے نہ کھائی ہو گی مار اُستانی کی
کتنے فکر مند ہوتے تھے ہم !
ہاۓ ، عید کی چوڑیاں نہیں ہیں میچنگ
اس دفعہ کے ربن اتنے نہیں ہیں چَوڑے
سب ہی کزنز کی نئی ہیں بیلٹیں !
اِک ہم نے پرانی پر کیۓ ہیں گزارے
کبھی کبھی یہ اماں ،ابا کنجوس سے لگتےہیں
کبھی کبھی یہ ناما نوس سےلگتے ہیں !
اب یاد آتی ہیں بچپن کی " فکرمندیاں "۔
آرا م سے پا رہوتی تھیں، ، ،
سبھی چڑھائیاں، اُترائیاں!
ان یادوں پر ، ہونٹ مسکا اُٹھتے ہیں ،
کچھ دیر کوموجودہ منظر مہکا اُٹھتے ہیں !!!!۔
بات سفر کی تھی اوراس " نثری نظم " کی ضد نے مجھے یہ الفاظ لکھنے پر مجبور کر دیئے ، چوں کہ اب لفظ" قلم" نہیں لکھ سکتی کہ " قلم پھسلا اور کہیں سے کہیں نکل گیا " ،،،، جدید اُسلوب نے الفاظ کا چلن اور محاورہ بھی بدلا دیا ہے ۔
چُھٹپن میں اپنی جاۓپیدایش راولپنڈی سے اگر کوئی سفرکیا تو اپنے گاؤں ٹیکسلا تک کا کیا ، ( جو بس سے ایک گھنٹے کا ہوتا )وہ بھی کسی کی شادی یا فوتگی کے موقع پر ۔ اماں جی کو کبھی کسی کے گھر راتیں گزارنا یا بچوں کو گزروانا پسند نہیں تھا۔کبھی تو اسی دن واپسی ، ہو جاتی ورنہ ایک رات کا قیام ہو جاتا ۔ البتہ ٹیکسلا سے چند میل ہی آگے سیمنٹ فیکٹری تھی جہاں ہمارے بہت سے نزدیکی رشتہ دار ملازمت کرتے تھے ان میں ہماری چھوٹی پھوپھی جی رقیہ بیگم بھی تھیں جو اباجی کے سگے چچاذاد سے بیاہی گئی تھیں ۔ اباجی کو اپنے بہن بھائیوں سے بہت پیا رتھا ، اس پیار کے اظہار میں ، خاص بات یہ تھی کہ اگر کوئی بیمار ہے تو وہ اس پر فوراًحرکت میں آجاتے ، اسے پاس بلاتے ، اسے اس وقت تک رکھتے جب تک وہ بہن ، بھائی مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتا تھا ۔ یہ مہربانی اگر غیروں کے لیۓ تھی تو سوچیں اپنوں کے لیئے کتنی دو چند ہوتی تھی۔
  ،،پچھلی کسی قسط میں بڑی پھوپھی جی " اقبال بیگم " کا ذکر کر بھی چکی ہوں ، چھوٹی بہن اسی سیمنٹ  فیکٹری میں   اپنے شوہر
 اور بچوں کے ساتھ رہتی تھیں ، اور اباجی اکثر خود ہی یا ، کبھی ہمیں بھی ساتھ لے جا کر چاۓ کی پیالی پینےجتنا وقت گزار کر  آ جاتے ، ہمارے چھوٹے چچا بھی وہیں ملازمت کرتے تھے ، میں ایک بار اُن کے پاس چار پانچ دن رہی تھی کیوں کہ وہ اماں جی سے ناراض ہو گۓ کہ آپ کو ہم اچھے نہیں لگتے اسی لیۓ آپ بچوں کو نہیں آنے دیتیں ۔میری چچی بھی اباجی کی طرف سے رشتہ دار تھیں ،اُن کی سلائی بہت اچھی تھی ، اوراُن کی آواز بھی اچھی تھی وہ اکثر یہ گانا ،،، کام کاج کے دوران گاتی رہتی تھیں ، " ستارو، تم تو سو جاؤ پریشاں رات ساری ہے " ،،،، وہ میرے لیۓ ایک کاٹن کا کپڑا لے کر آئیں  جو ہلکا گلابی تھا اور اس پر گہری گلابی ٹوکریاں بنی ہوئی تھیں ، اور ان ٹوکریوں میں رنگا رنگ چھوٹے چھوٹے پھول تھے ،،، قارئین یہ سوچیں گےکہ مجھے اس 7 یا 8 سال کی عمر کے فراک کی جزیات بھی یاد ہیں ،،شاید اِس وقت جب میں بچپن کی یادوں میں اُتر جاتی ہوں تو مناظر اپنی جُزیات کے ساتھ میرے ذہن کے نہاں خانوں سے نکل نکل کر اپنی جھلکیاں دکھاتے چلے جاتے ہیں اور میری انگلیاں " کی بورڈ " پر ان مناظر کو لفظوں میں ڈھالتی جاتی ہیں ،،،،، وہ فراک چچی نے اسی قسم کے گانے گاتے  سیا اور میرا رخصتی کا تحفہ دیا گیا ، ،،،، بچپن کے ہمارے سفر بس اتنے ہی تھے ، لیکن ایک انہی عمروں کا ہم دونوں کا سفر مردان کا تھا جو ہمارے بہنوئی کی ٹرانسفر کی وجہ سے ہمیں کرنے کا موقع ملا تھا ، میں نے اور جوجی نے اپنے جانے کی تیاری کی، آپا اور بڑے بھائی جان اپنی کا ر میں لینے آۓ تھے ، اس وقت آپا کا ایک ہی بیٹا " یاور " اور بیٹی لبنیٰ گود میں تھی، اور ہمارے لیۓ ایک پیارا کھلونا ۔ ہم نے اپنے " دی بیسٹ " فراک پہنے ،،، جی ہاں یہاں بھی "فراک " میری دلچسپی کی وجہ سے ایسا میرے ذہن میں فکس ہو گیا ہے کہ اس کا ذکر کیۓ بغیر نہیں رہ پا رہی ، یہ وہ دور تھا جب اماں جی سلائی کر لیتی تھیں ، اور ہم دونوں کے ایک جیسے کپڑے سلتے یا خریدے جاتے ، یہ فراک عید کے موقع پر سلے تھے ، " گوبی کریب " نام کا گہرے سبز رنگ اور اوپر چھوٹے چھوٹے پھول اور بکھری باریک ٹہنیاں بنی ہوئی تھیں ،،والا کپڑا تھا ، اس کےگلے گول کالر کے اور آدھے بازو جو خوب چُنٹوں والے، ذرا اُبھرے ہوۓ تھے، ،، مجھے یہ اتنے پسند تھے کہ تا دیر میں نے پہنا اور جب چھوٹا ہو گیا تو میں نے کسی کو دینے سے انکار کر دیا ، بہت بعد میں اس فراک سے کچھ گڑیوں کے فراک بناۓ گئے ( اس فراک نے مجھے اپنی یاد اس دن کرائی جب اپریل2015ء میں میرا بہت سیریس ایکسیڈنٹ ہوا ، یہ الگ ایک قصہ ہے جو اپنے وقت پر لکھوں گی)۔ 
مردان میں ان گرمیوں میں بھی بہت اچھا موسم تھا ، آپا کے پڑوس میں ایک آفیسر اپنی نئی نویلی بیوی ، اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہے تھے ! ان میں چھوٹی دو بہنیں ہماری ہی عمر کی تھیں جن سے فوراً  ہماری دوستی ہو گئی ، میری ہم عمر کا نام فریدہ اور چھوٹی کا پیار کا نام " کُنتی " تھا ، وہاں ہمارا قیام 20، 22 دن کا تھا لیکن کُنتی، فریدہ سے دوستی 4یا 5 سال کی بن گئی کیوں کہ ہم نے خط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ، مدتوں یہ خط بھی اپنے " قیمتی خزانے "میں سنبھال کر رکھے رہے ۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہر چیز بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے ، ،، اور اس کو ضائع کر دینے میں کوئی دکھ نہیں رہتا ،،،،،،،! ۔
جب ہم واہ میں سیٹ ہو گۓ ، تو اس دوران بڑے بھائی جان کی ٹرانسفر " صوبہ سرحد کے شہر "بنوُں " ہوگئی ۔ ان دنوں یہ علاقہ خاصا غیرآباد اور بہت سی سہولتوں سے عاری تھا ! آپا کے بڑے دونوں بچوں کو اپنی سکولنگ کے لیۓ ہمارے پاس واہ میں رہنا پڑا ۔ان کے داخلے کے فوراً بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں تو آپا اور بھائی جان کے اصرار پر ہم دونوں بھی چل پڑیں ، اس دور میں وہاں تک کی سڑکیں بھی بہت چوڑی نہ تھیں اور رات کا سفر بھی محفوظ نہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیۓ صبح سویرے سفر شروع کیا ، سہ پہر کو کوہاٹ کے آرمی کلب سے ہائی ٹی، پی اور قریباً رات کے 8 بجے تک بنوں پہنچ گئے ، اب رات کو کیا نظر آتا ! سفرسے تھکے ہوۓ تھے ، جلد سو گئے،،،، صبح سویرے اُٹھے ، تب گھر دیکھا اور ہم حیران ہو گئیں کہ انگریز کے زمانے کا بنا پرانا اور خوب بڑا گھر تھا جس کی خوب اُونچی چھتیں ،کھلے کمرے ، اونچی فرانسیسی کھڑکیاں ، اور لان اتنا بڑا کہ کہ گھوڑا دوڑایا جا سکتا تھا ۔ اس لان کے کناروں پر لائن سے 7یا 8 سرونٹ کواٹرز بنے ہوۓ تھے جن میں سے صرف دو آباد تھے ، ایک میں اردلی او ایک میں مالی رہتے تھے ۔ آپا کے پاس گھر کے استعمال میں صرف تین کمرے تھے ڈرائنگ روم الگ اور ڈائینگ روم الگ ، اور ایک بیڈ روم ،،،، اب ہمارے آنے سے آپا کے بیڈ روم کے ساتھ جڑا دوسرا بیڈ روم آباد ہوا ،،،، یاور اور لبنیٰ نے ہمارے ہی کمرے میں رہنے کا کہا ، اور اگر وہ نہ بھی کہتے توبھی ہم انھیں اپنے ساتھ سلاتے ، کیوں کہ وہاں شام ہوتے ہی جو ویرانہ چھا جاتا ۔ تو دل بری طرح خفقان کا شکار ہو جاتا ، پہلے تین ، چار دن تو ہمارا رونے کو دل چاہا ،،، حالانکہ میں ابھی میٹرک کر چکی تھی ، جوجی میٹرک میں تھی ، ہم کوئی بچیاں نہ تھیں لیکن اس ویرانے میں ہمیں خود اپنے ، آنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہونے لگا ۔ آپا اور بھائی جان سمجھ گۓ ، یہ تو دودن میں اداس ہو گئی  ہیں ،انھوں نے بتایا،یہاں کلب میں روزانہ ایک فلم دکھائی جاتی ہے ہم روز تمہیں لے کر جائیں گے،( ذرا حوصلہ دینے کے لیۓ ) اور جب  جب "اجازت" ملی بازار بھی لے جاؤں گی ۔۔۔ اجازت سے مراد بھائی جان کی اجازت نہیں ،،، بلکہ بڑے حکام جب بتاتے جی حالات ٹھیک ہیں ، بازار ہو آئیں " تب 12 پنجاب کی طرف سے ایک فوجی ٹرک ملتا جس میں وہ خواتین بیٹھ جاتیں جن کے پاس کارکی سہولت نہ ہوتی۔ان کے ساتھ مسلح دو تین فوجی ہوتے اس ٹرک کے پیچھے وہ لوگ جن کے پاس کاریں تھیں ، ڈرائیورز کے ساتھ چلتیں ،یوں ایک چھوٹا سا قافلہ کچھ اور گارد کی نگرانی میں بازار کا رُخ کیا جاتا ، بازار کیا تھا چند دکانیں ، کپڑوں کی ، چند دوسرے سامانِ ضرورت کی ،اور ذیادہ فروٹ کی !یہ صورتِ حال کچھ ایسی نہ تھی کہ ہم دوبارہ وہاں جانے کی خواہش کرتیں ! چناچہ اگلی دفعہ بازار جانے کا اجازت نامہ ملا تو ہم نے آپا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور بچوں کے ساتھ گھر ہی رہیں ۔ 
وہاں کا موسم خشک تھا ،اس گرمی میں اس لیۓ ہلکی سی ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی کہ وہاں سبزہ بےتحاشا تھا۔اسی لیۓ لان کی گھاس کا یہ عالم تھا کہ بےچارہ مالی لان کا ایک کنال کی گھاس کاٹ لیتا اور دوسرے کنال کی گھاس کاٹنے تک پہلی پھر اُگ چکی ہوتی ، ، تیسرے اور چوتھے کنال کی باری تو تب آتی جب اس کے ساتھ کوئی اور مالی لگتا ، کیوں کہ سانپوں کا بھی ڈر رہتا تھا تو اس کے لیۓ الگ دوائیاں جلائی جاتیں ، گھر کے بیشتر کمروں میں صرف ہم نے ایک جھانکی لگائی اور بس ! باقی تین چار کمرے خالی ہی رہے،،، ان میں دن کو بھی جاتے ہوۓ خوف آتا تھا۔
ہم دونوں اپنے اماں جی ، اباجی کو بقاعدگی سے خط لکھ کر تفصیل سے یہاں کے روزانہ کی مصروفیت بتاتے ، اور ان کے کا خط سلسلہ بھی تواتر سے رہا ، جب ان میں سے کسی کا خط آتا ، ہم دونوں کو ان کی یاد کا دورہ پڑ جاتا اور ہمارا وہ دن کچھ نا کچھ آنسو بہا کر گزرتا۔
ایک دن میری آنکھ صبح نماز کے وقت کھل گئی، مجھے ایسی آوازیں آئیں جیسے کچھ گھُڑ سوار تیزی سے چلے آرہے ہیں پھر تیز سانسوں کی آوازیں آئیں ،، پھر ٹھک ٹھک اور پھر خاموشی !! ڈر کے مارے برا حال ہو گیایہ صورتِ حال "بنوں" پہنچنے کے آٹھویں دن کی تھی ۔ آپا کو صبح بتایا تو انھوں نے ہنس کر بتایا بھئ صبح سویرے دودھ والا اپنی " خچر گاڑی " میں دودھ دے کر جاتا ہے ، یہ ساری اسی کی آوازیں ہیں ،،، اور پیارے قارئین ،،، یہ سنتے ہی میں اس " دودھ والے پر اس کی گاڑی سمیت " عاشق " ہوگئ ،، اب پلیز اس لفظ عاشق کےکوئی اورمعنی نہ لیۓ جائیں ۔ کیوں کہ ابھی میں نے نہ خچر گاڑی دیکھی تھی  نہ دودھ والا دیکھا تھا ، بس مجھے بےشمار پڑھی ہوئی کہانیوں کا ایک جیتا جاگتا کردار ملنے کی توقع ہو گئی۔ 
وہی کہانیاں کا ماحول جو آلیور ٹوسٹ نے لکھی تھیں ،، اور اس کے بعد ہر روز میں نے خصوصا" صبح سویرے اُٹھ بیٹھنا اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے گیٹ پر نظریں گاڑ دینی اور بنوں کی " دھند میں ڈوبی " سویر میں سے گیٹ پر کبھی ایک اور کبھی کبھی دو خچروں والی گاڑی نمودار ہوتی جس کا دودھ والا بڑی سی چادر لپیٹے اور سر پر ادھورا سا پگڑ لپیٹے اُترتا ، خچر گاڑی اندر تک کچن کے قریب آ چکتی اس کے خوب تواناخچروں کے منہ سے سانس لینے کی آوازیں آتیں اور مجھے ان کی ناک سی بھاپ نکلتی آج بھی یاد ہے ( شاید وہ بہت فاصلہ طے کر کے آرہے ہوتے تھے )تو اردلی برتن لیۓ کھڑا ہوتا ، دودھ لیا جاتااور اسی دھند میں دھندلی شبیہیں ، عجیب پراسرا انداز سے بغیر کچھ بولے واپسی ہو جاتیں ۔ کاش میں اس وقت کچھ میچور ہوتی تو اس سارے ماحول کو سامنے رکھ کر کہانیاں لکھ لیتی ، یا کردار تخلیق کر لیتی یا تصویریں بناتی ۔لیکن اس دھندلے ماحول نے میری یادوں کو نہیں دھندلایا ، میں نے آج بھی دھند کو ہمیشہ پر اسرار جانا ۔ اور 70ء میں جب اپنی ٹوٹی پھوٹی نظمیں لکھیں تو اس بھی اکثر لفظ " دھندلایا " یا لفظ مِسٹی لکھا کہ دھندلایا منظر بندے کے اندر اگلی ، اَن دیکھی دنیا کے بہت سے راز کہنے آتا ہے ( آہ میں ! اور میرے عجیب خیالات ) ،،،، بنوں کے قیام کے دوران ہم نے روز ایک فلم دیکھی اسی کے انتظار میں دن گزر جاتا ، اس دوران دو اہم باتیں ہوئیں ایک جوجی کا میٹرک کا رزلٹ نکلا ، عزت سے ہائی فسٹ ڈویژن آگئی اور دوسرے "محترمہ فاطمہ جناحؒ " کی وفات کی خبر ملی یہ 1967ء کی بات ہے !۔
اس دوران ایک دو وزٹ آپا ،بھائی جان کے ملنے جلنے والوں کے ہوۓ ، کچھ کے گھر ہم گئے ، ایک شام کلب  گئے تو بھائی جان کو ان کے ینگ آفیسرز نے گھیر لیا وہ بھائی جان کو " کامریڈ " کے نام سے بلاتےتھے ۔ انہی میں سےایک کے بارے میں آپا نے بتایا کہ وہ اباجی کے سیکورٹی کے عملے میں شامل میجر سعید خان کے رشتہ دار ہیں ۔ انہی دنوں اس کی شادی ہوئی تھی,وہ بہت سمارٹ ،لمبے قد کا چمکتی آنکھوں والا بولڈ ، کیپٹن تھا. بعد میں 1971ء کی جنگ کے پہلے دن ہی اس کی شہادت ہوگئ ، اور آج بھی شہیدوں کی تصاویر دیکھوں تو بہت سی مسکراتی چمکتی آنکھیں یوں جگمگا رہی ہوتی ہیں جیسے اندھیری راتوں میں جگنو ، ٹمٹما رہے ہوں ، جو نہ صرف اندھیری رات کو سجا رہے ہوں بلکہ اندھیرے کو بھگا بھی رہے ہوں !!!! ۔
۔(منیرہ قریشی 24 اکتوبر2017،واہ کینٹ) (جاری)۔

پیر، 23 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (34)۔۔

یادوں کی تتلیاں "(34)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہر انسان بہت سے رشتوں کی ریشم ڈوریوں کے جال میں جکڑا ہوتا  ہےاور یہ جال زندگی میں تو کیا مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ،،، میری تحریر بالکل عام ، روزمرہ واقعات سے مزین ہے، لیکن کچھ کردار جو ان یادوں کا حصہ بھی ہیں وہ خصوصی طور پر لطف لے رہے ہیں ، لیکن دیگر اور قارئین نے بھی جس طرح حوصلہ افزائی کی ۔یہ ہی وجہ ہے کہ لکھتی چلی جارہی ہوں اور واقعات فلم کی سکرین پر خود بخود آتے چلے جاتے ہیں ، ایسا میرے ساتھ نہیں ہو رہا ،جو بھی " عمرِ رفتہ کو آواز" دیتا ہے اسے ایسی ہی صورتِ حال کاسامنا ہوتا ہے ، اور یہ ایک قدرتی عمل ہے !۔
۔1970ء میں ہمارے پڑوسی انکل اور آنٹی رشید کی سب سے بڑی بیٹی تسنیم کا رشتہ طے ہوا ،اور ہم دونوں بہنیں اور تسنیم کی تینوں بہنیں ، جوش و خروش سے تیاریوں میں مصروف ہو گئیں ، یہ ہمارے لیے" بگ ایونٹ " تھا ، شاہدہ ، جوجی اور میں نے ایک دن کے فنگشن کے لیے غرارے سلواۓ، تسنیم رخصت ہو کر پشاور چلی گئی ، شادی کے ہنگاموں سے فرصت ملی، تو لگا ہمیں کوئی کام ہی نہیں رہا ۔ ایک دن شادی کے کپڑوں میں سےغراروں کو دیکھ کر خیال آیا ،،، چلو ان کو پہن کر ایک یادگار تصویر کھچوائی جاۓ ، ان دنوں کیمرے یوں گھر گھر نہیں ہوتے تھے ، بلکہ ایک ٹوٹا پھوٹا کیمرہ بھائی جان کا تھا جو اب ہمارے پاس ہوتا تھا، وہ بھی کوئی اچھی سروس نہیں دے پا رہا تھا تو فیصلہ ہوا ، فلاں مارکیٹ میں ، ایک فوٹو گرافر کا سٹوڈیو ہے وہیں سے کھنچواتی ہیں ، غرارے پہنے گئے ، ہلکی سی لپ سٹک لگائی گئی ، کنگھیاں کیں اور صوفی جی کو بُلا کر اپنی ووکس ویگن میں عین دوپہر کو فوٹو گرافر کی دکان میں پہنچ گئیں ، ( کہ یہ وقت رش والا نہیں ہے اس لیے ابھی چلتے ہیں ) اس کے فضول سے سٹوڈیو میں گُھستے ہی ہم کچھ بوکھلا گئیں کہ ایک تو وہ بہت  "چیپ"سے اندازمیں سجا ہوا تھا ایک ،دو لوگوں کے بیٹھنے کی چھوٹی سی" تھی ، جس کے گرد کاغذی پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں جن پر گرد بھی تھی ، اب ہوا یہ کہ فوٹوگرافر بھائی صاحب اندر داخل ہوۓ تو ، ہم تینوں نے پہلے اسے پھر آپس میں دیکھا ، اور مارے ہنسی کے ہم فوری طور پر سٹوڈیو سے باہر نکل، کا رمیں آبیٹھیں اور اتنی کھل کر ہنسیں کہ صوفی جی پریشان ہو گئے کہ کیا ہوا ہے ؟ ہم نے انھیں تسلی دی ! اور جب ہماری ہنسی کنٹرول ہو گئی تو دوبارہ سٹوڈیو میں داخل ہوئیں اور کوشش سے سنجیدگی طاری کر کے اسے فوٹو کھچوانے کا کہا ، اصل میں اُن دنوں وحید مراد سٹائل بہت مقبول تھا ۔فوٹو گرافر کا قد چھوٹا ، سانولا رنگ ، خوب سُرمہ آنکھوں میں ، اور وحید مراد سٹائل کے بال ، اور زیادہ سے زیادہ وہ ہم سے تین ، چار سال بڑا ہو گا ، اس لیے  ہم اسے سیرئیس نہیں لے رہی تھیں ، اب جوں ہی اس نے ہمیں اس کارنر میں کھڑا کیا جو سجاوٹ ذدہ نہ تھا ، جوں ہی وہ کہتا' " اسمائل پلیز " (سمائل نہیں) ،،،،اور ہم تینوں قہقہے لگا کر کر دہری ہو جاتیں ،، ایسا بلا مبالغہ چھے ، سات مرتبہ ہوا ( آپ اس سچویشن کو ذہن میں لائیں اور تین بےوقوفی کی عمر والیاں ہوں ، جس میں ہنسنے کی بات ہو نا ہو ہنسی ہوتی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی ، اب اس وقت جب میں لکھ رہی ہوں تو بھی میرے لیے کچھ دیر ہنسی نہیں رُکی ) آخر کار بہ مشکل دو تصویریں اُتریں ،،، اور ہم بھاگیں ، اسے بتا دیا یہ ہی صوفی جی ( اباجی کے ڈرائیور ) آئیں گے انھیں فوٹو دے دینا ، اپنا بل بھی بھجوا دینا ! ! !۔
اگر ہمارا بچپن ایسے والدین کے کے زیرِ سایہ گزرے جو گھر کے ماحول کو بہتر رکھنے کے لیے  اپنے اختلافات کے باوجود، محض بچوں کی خاطرآپس میں خوشی سے رہیں ، گلے شکوے اور شکایتوں کے ڈھول نہ پیٹیں ، انھیں سہیلیوں کو بلانے ، ویلکم کرنے کا ماحول دیں گے تو ،،،، بیٹیوں کے ہونٹوں پر بےاختیار ہنسی آتی رہے گی ،،، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں مزاح کا رنگ ، انگ نکال ہی لیں گی ، اور اس طرح جب وہ لڑکیاں عملی زندگی کی اُلجھنوں ، اور نشیب وفراز سے تھک جاتیں ہیں اور کبھی اکٹھی ہو جائیں تب ان کے پاس ہنسی کی پٹاری کُھلتی ہے ،، وہ تادیر معمولی معمولی باتوں کو یاد کر کے ہنستی ہیں اور خون میں ملٹی وٹامن لے کر پھر گھروں کے کاموں میں کولہو کا بیل بن جاتی ہیں۔لیکن پرانی سہلیوں کی ملاقات سے  "چارج " ہو جانے سے روزانہ کی روٹین میں جلترنگ بجا دیتا ہے ! ہمیں اپنی بیٹیوں کواتنا خوش گوار ماحول ضرور دینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو ہنسنے کی عادت ہو ، یہ ہی ان کے لیے مینٹل تھیرپی ہوتی ہے ، کیا پتہ آگے چل کر زندگی اُن کو کتنے کڑوے گھونٹ پلاۓ ،، کیا پتہ وہ کتنے ہی ناقابلِ حل مسئلوں کے گھن چکر میں پستی رہے ،،، اور وقت سے پہلے " بڑی " ہو جائیں ۔ یہ ہی ماں باپ کے گھر کا بےفکری کا ماحول ، بےفکری کی ہنسی ، بےفکری کے دن رات بہترین اور پیاری یادیں بن جاتی ہیں اس خزانے کا بکس جب بھی کھولنے کا موقع ملتا ہے تو اپنے والدین کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنھوں نے ہمیں پُرسکون بچپن دیا تھا جو ہو سکا لاڈ اُٹھاۓ ۔( یہ مشہور تصویر جوں ہی ملی شامل کر وں گی )۔
بےاختیار ہنسی آجانا ، یا کسی بھی سچویشن میں جب ہماری نظریں ملتی ہیں تو ہنسی پر قابو نہ رہ سکنے کی عادت آج بھی موجود ہے ، ، اب جب کہ ہم " بوڑھی اور ذرا معزز " ہو گئیں  ہیں ، تو کبھی کبھی کوئی نہایت معمولی بات کچھ ایسی ہی صورتِ حال بنا دیتی ہے ،،، ایک دن ہمارے آفس میں دو پراپرٹی ڈیلر آۓ ۔ ایک پرانا واقف تھا جو دوسرے کو ساتھ لے کر آیا ۔ وقت کم تھا ہم نے اسے کہا آپ اپنا موبائل نمبر لکھادیں ، ہم آپ  کو خود بلا لیں گے اس نے اپنا نام ۔۔۔چیمہ لکھوایا، میں جلدی میں تھی متوجہ ہوۓ بغیر ڈائریکٹری میں اس کا نام " شفقت چیمہ " لکھ دیا( جو پاکستانی فلموں کا مشہور ولن ہے) کچھ ہفتے گزر گئے ، ہمارے نہ بلانے پر وہ  خود دوبارہ آگیا ، اس وقت "جوجی" بھی بیٹھی ہوئی تھی ، اس نے کہا میں نے آپ کو اپنا نام بھی لکھوا دیا تھا آپ نے مجھے یاد نہیں فرمایا میں خود ہی حاضر ہو گیا ہوں ! میں نے اسے دکھانے کے لیے اپنی ڈائریکٹری کھولی اور کہا " یہ دیکھیں آپ کانام لکھا ہوا ہے " شفقت چیمہ " !! اس نے حیران ہو کر کہا نہیں جی میرا نام ،،،،،، چیمہ ہے ،اب میں نے جوجی کی طرف اور اس نےمجھے ایسی مسکراہٹ سے دیکھا کہ ہم نے بمشکل ہنسی روکی اور میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا " جی جی شفقت چیمہ صاحب میں نے آپ کا نام لکھ لیا ہے یہ جملے دوبارہ اسی غلطی کے ساتھ میں نے اتنا بےاختیار کہا کہ اب ہم دونوں نے ہنسی روکنے کی کوشش میں ، منہ لال اور آنکھوں سے آنسو نکال لیے۔ ،،، وہ بھی سمجھ گیا ہوگا "آج اِن بوڑھی خواتین کا سنجیدہ رہنے کا موڈ نہیں لگ رہا " وہ رخصت ہو گیا۔
ایسے ہی تو نہیں کہا گیا " ہنسی علاجِ غم ہے یا ۔۔۔
"laughter is a best medicine"
( منیرہ قریشی 23 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(33)۔

یادوں کی تتلیاں"(33)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
نویں جماعت سے ایف ۔اے تک کی چار سالہ دوستی میں ہم سہلیوں کواللہ نے ایسا ملایا کہ آج اس دوستی کو اب سالوں سے نہیں " خلُوص اور کیئرنگ " سے ہی ناپا جا سکتا ہے ، سالوں کے لحاظ سے تو 46 سال ہو گۓ ہیں۔میں فروری کی پیدائش ہوں ، کہتے ہیں اسکا سٹار دوست پرست ہوتا ہے ! (کم ازکم مجھے سٹار کی دنیا پر قطعی یقین نہیں ،البتہ یہ عادت قابلِ یقین ہے)۔ جیسا پہلے بھی ذکر کیا کہ یہ پانچ کا ٹولہ تھا ، نسرین جمال ، رخسانہ تسنیم ،رفعت صمصام ۔ شہناز مہدی ،اور زبیدہ ،،،، اور ایک ممبر اور تھی ثریا قدوسی !! ثریا بوائز کالج کے پرنسپل کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی ! خوب صورت اور بہت چنچل ! پڑھائی سے ذیادہ شرارتوں اور ہنسی مذاق میں دل لگتا، اکثر پیریڈ گول کر جانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ،،، ہم دونوں کے گھر ایک ہی روڈ پر تھے اس لیۓ ہم دونوں کالج سے واپسی پر اکھٹی جاتیں ! البتہ صبح کا جانا ہمیشہ الگ ہی رہا ، واپسی پر اس کا ساتھ مجھے الرٹ رکھتا ، کیونکہ راستے میں لوگوں کے گھروں کے لان میں بےدھڑک داخل ہو جانا اور جو موسمی پھل نظر آتا ، اتنے ضرور توڑ لاتی کہ گھر پہنچنےتک کھاتی جاۓ ! اندر داخل ہوتے وقت اپنی کتابیں مجھے پکڑا دیتی اور میں ڈر کے مارے آہستہ آہستہ اُس گھر سے آگے چل پڑتی کہ یہ جرؑات یا شرارت میں کبھی نہ کر سکی۔ ایک آدھ چکر ہر دوسرے دن ، شام کوہمارے گھر کا بھی لگ جاتا ، وہ آتی شاید پندرہ منٹ کا کہہ کر اور بیٹھتی آدھ ، پون گھنٹہ !! یہ سب کرتے سال گزر گیا ، ایک دن وہ کچھ ذیادہ ہی دیر تک بیٹھی رہ گئی اور شام کا ہلکا اندھیرا پھیل گیا ، کہ اتنے میں اس کی امی ہمارے گھر آئیں وہ ایک گوری چٹی اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے ایسی خاتون تھیں جو خالص ، روایتی گھرانوں سے تعلق رکھنے والی ہو، ایسی خاتون جو خاندان کی اقدار کی سختی سے پابندی کرنے اور کروانے والی ہوں ، ،،، اماں جی نے انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا ، لیکن انھوں نے لگی لپٹی کے بغیر کہا ، "مجھے آپ کے گھر پر مکمل تسلی ہے، اور یہ مجھے بتا کر آتی رہتی ہے لیکن آج اس نے اتنی دیر لگائی ہے کہ اس کے ابا بھی پریشان ہو گۓ، تو مجھے آنا پڑا،،، اسے آپ خود کہہ دیا کریں کہ اب جاؤ!"اس دوران ہم ڈرائینگ روم میں آچکی تھیں ، ثریا اپنی امی کو دیکھ کر موڈ آف کرچکی تھی ، جیسا اس بےوقوفی کی عمر میں اکثر لڑکیاں کرتی ہیں ،اور اسی وقت اس نہایت اچھی خاتون کایہ جملہ میرے کانوں میں پڑا اور یاد رہ گیا " بہن،لڑکی کی ذات آبگینے ہو وے ہے،اور یہ وہ موتی ہوتا ہے جو نالی میں گرا نہیں کہ آبرو گئی ہی گئی!"( میں ہمیشہ مسجع ومکفع اردو سن کر شدید متاثر ہو جاتی ہوں اور اب بھی ایسا ہی ہے)،،، بس اسکے بعد میں نے ثریا کو ہمیشہ اپنی امی کی بات ماننے کا کہنا ، اور وہ مجھ سے کترانے لگی ۔ اُس کی محبت اپنی جگہ قائم رہی لیکن اس کی مجھ سے دوستی نہ ہو سکی ،، دسویں کے فوراً بعد اس کی شادی اپنی ہی فیملی میں ہو گئی ، اور ایک خوب صورت، حسین لڑکی تقدیر کے لکھے کو جھیلنے کے لیۓ حوالہء زمانہ ہو گئی،،،زبیدہ ہم سہیلیوں میں پڑھائی میں سب سے اچھی تھی۔ اس کی طبیعت میں ایک عجیب سی بےچینی تھی ، اسکے جلدباز اندازکی وجہ سے ہم اسے " جنگلی " کہتی تھیں ۔اس لقب کو اس نے بہ خوشی قبول کر لیا تھا ، ، وہ اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی تھی ، اس کے تین یا چار بھائی تھے ابا فیکٹری ملازم ، کچھ بہت خوشحالی نہ تھی ، لیکن وہ خوش رہنے والی لڑکی تھی۔ بعد میں اس نے دو مضامین میں ماسٹرکیا ، ایک سرکاری سکول میں پہلے بطورِ ٹیچر اور بعد میں بطورِ پرنسپل تعینات ہوئی ،، اس دوران اس کی شوگر بڑھتی رہی،، جوں ہی وہ ٹیچر بنی ، اس کے کچھ عرصہ بعدہی اس کی امی فوت ہو گئیں اور جب وہ سینئر ٹیچر تھی تو اس کے ابا کا انتقال ہوگیا،،اور اس کی شادی کا باب بھی بند ہو گیا ۔ان کے ابا اپنی پینشن وغیرہ سے ایک مکان بنا چکے تھے ، لیکن زبیدہ نے اپنی کمائی سے اپنا گھر تو بنا لیا لیکن اس کے دو بھائی اور ان کی فیملیز اسی کے ساتھ رہتیں ! وہ کھلے دل سے اپنی کمائی اُن پر لگاتی ، ہم ایک ہی جگہ رہنے کی وجہ سے اکثر آپس میں رابطے میں رہتیں ۔ آخری مرتبہ اس کی ٹرانسفر میرے گھر کے سامنے والے ایک سرکاری سکول میں ہوگئی، اور مجھے کسی بچے کے داخلے کے لیۓ اسکے سکول جانا پڑا ، مجھے اسکی مصروفیات کا علم تھا اسی لیۓ میں 20 منٹ بیٹھ کر اٹھنے لگی تو اس نے چاۓ پر اصرار کیا ، لیکن میں نے اپنی مصروفیت کا بتا کر معذرت چاہی ، وہ مجھے خدا حافظ کرنے باہر برآمدے تک آئی اور اس نے یہ کہا " دیکھا پاؤں اتنے سُن ہو جاتے ہیں کہ مجھے جوتی اترنے کا احساس ہی نہیں ہوتا ، " میں نے اس بات کو نارمل لیا اور " اپنا خیال رکھا کرو " کہہ کر آ گئی ! صرف دو دن بعد اس کی شوگر بہت ہائی یا بہت لو ہوئی اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور صرف ایک رات ہسپتال گزار کر وہ اللہ کی جنت میں جا بسی ۔ کچھ لوگ زندگی میں اپنے لیۓ جو لیبل لگوا کر آتے ہیں اس کا " ٹیگ " ہوتا ہے " خدمت گار " ،،،،، اور ان میں زبیدہ بھی تھی ، جو بہترین بیٹٰی، بہترین بہن اور بہترین نند تھی اور دوستی کا خانہ بھی رنگ بھرا رہا ،،، ! اللہ اس کو جنت الفردوس میں بھی ٹیچر کی جاب ضرور دے کہ وہ " سر تا پا " ٹیچر تھی ، اور مرنے کے بعد بھی بھائیوں نے اس کی آخری تنخواہ ، پینشن اور گھر کی ملکیت حاصل کی ،،،،معلوم نہیں کبھی اس کے نام پر کوئی خیرات کی یا نہیں ،،،، کچھ لوگ دینے والے اور کچھ صرف " لینے " والے ہوتے ہیں !!!۔
میرے مولا کے رنگ نرالے !!۔
ایف جی کالج کے دنوں میں پکنک کے لیۓ فسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کو پشاور لے جایا گیا جہاں پشاور وویمن ہوسٹل دکھایا یا ان طالبات سے ملوایا گیا ، پھر پشاور میوزیم اور آخر میں واپسی پر ایک پکنک سپاٹ " کُنڈ " میں رُک کر کھانا پینا اور کشتی کی سیر بھی ہوئی !،،، یہ ایک تفریحی اور معلوماتی ٹرپ تھا ، تاکہ لڑکیاں اگر آگے چل کر کسی یونیورسٹی کا انتخاب کرنا چاہیں تو پشاور یونیورسٹی بہت سی فیکلٹیز متعارف کرا چکی تھی ، تفریحی ٹرپ کنڈ کا تھا ،،،، مجھے یاد ہے ہمارے ساتھ جانے والی ٹیچرز بہت ریلیکس تھیں اور خود بھی کافی انجواۓ کرتی رہیں ،،، کشتی کی سیر کے بعد واپسی ہوئی ! عافیت سے گھر پہنچ گئیں ، صرف دو دن بعد " کنڈ " میں کشتی کی سیر کرتےکالج کے سٹوڈنٹ کو حادثہ پیش آگیا اور چند لڑکوں کوہی بچایا جا سکا ! تحقیق پر معلوم ہوا وہاں موجودتمام کشتیاں اپنی مدت پوری کر چکی تھیں ۔ لیکن کبھی کوئی چیکنگ نہ ہوئی اور چند پیسوں کی کمائی پر بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں ،،، اوردودن پہلے ہم طالبات دو کشتیوں میں سیر کر چکی تھیں اس خبر کے بعد ایسا ہوا کہ ٹیچرز ہی نہیں پرنسپل کی طرف سے کسی بھی پکنک کے موقع پر آرڈر آتا " کشتی کی سیر کسی صورت نہیں ہوگی " لیکن آج بھی ویسی ہی لا پرواہی کشتیوں ، یا پکنک پر جانے والی ویکلز ، کے لیۓ کی جارہی ہے ۔ اور ہم وہ ملک بن چکے ہیں جہاں بچوں کی حفاظت ، اور سکون سے تفریح کا تصور محال ہو گیا ہے ،،، حالانکہ ہمارے وقت میں ٹریفک کم تھی ، اور تفریحی مقامات پر کشتیوں یا جھولوں کی چیکنگ آسان تھی اگر اسی وقت سخت قانون لاگو ہوتے تو آج والدین اپنے بچوں کو ان تفریحی یا علمی ٹرپس پر مطمئن ہو کربھیجتے۔ 
۔1969 یا 1970ء کے 23 مارچ کے یومِ پاکستان میں اباجی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے "تمغۂ قائدِ اعظم " کی اطلاع دی گئی۔یہ تمغے یا تو صدر ہاؤس پنڈی میں یا ہر شہر میں موجود گیریزن میں کوئی جنرل صاحب کے زیرِصدارت لگاۓ جاتے ، ہم دونوں بہنیں اور اماں جی ، اباجی کے ساتھ 23 مارچ کو صبح سویرے پشاور روانہ ہوئے کہ اباجی کو تمغہ وہیں دیا جانا تھا ، ایک چھوٹے سے ہال میں کچھ اور لوگوں کو بھی اباجی کے ساتھ تمغے لگاۓ گئے ، اور ہم اباجی کے ایک دوست کے گھر چاۓ پینے چلے گئے کہ انھوں نے پہلے ہی کہلا دیا تھا ابھی صبح کے ، 10 یا گیارہ بجے تھے ، واپسی پر ہم نے اباجی سے درخواست کی کہ ہم " رشکئی " کی جھگیوں میں " سمگلڈ " کپڑا لینا چاہتی ہیں ۔ اباجی نے کہا '' میں لوگوں کو ایسے غیرقانونی کاموں پر پکڑتا ہوں، میری ہی فیملی یہ کام کرے !! لیکن ہمارے ضد کرنے پر اور خاص طور پر ڈرائیور " صوفی جی " کی سفارش پر ہمیں صرف دس پندرہ منٹ کے لیے جانے کی اجازت ملی ، ظاہر ہے اتنے کم وقت کے لیۓ ہم نے کیا تیر چلانے تھے جبکہ اماں جی کار میں ہی بیٹھی رہیں ۔ ہم بےدلی سے چیونگم ، اور ایک پرفیوم ، اور شاید کچھ ڈرائی فروٹ لے کر بُڑ ، بُڑ کرتی واپس آ گئیں ، لیکن اباجی نے ہماری بالکل " حوصلہ افزائی " نہیں کی ،واپسی پر دو جگہیں ایسی ہوتی تھیں جہاں سخت چیکنگ ہوتی تھی ، اباجی نے بلا کسی تعارف کے اپنی کار کی چیکنگ کروائی ! اور ہم گھر آگئے ۔ بعد میں اماں جی نے احساس دلایا ۔ " جو چیز عزت سے ملے صرف اسی پر قناعت کرو ، کیا تمہیں اچھا لگتا کہ لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اوروں کو اسی بات پر پکڑنے والے سے دو جوڑےغیرملکی کپڑے کے بر آمد ہوۓ " ! یہ بات ایسے انداز سے کہی گئی اور سمجھائی گئی کہ پھر کبھی ہوس ہی نہیں ہوئی کہ ایسا اور ویسا لباس پہنیں ! یا تو ہم اچھے بچے تھے یا ہمارے ماں باپ کے سمجھانے کا انداز اچھا تھا کہ ہم جلد اثر لے لیتیں ، ،، میں سمجھتی ہوں ، آج ہمیں اچھی مائیں بننے کے سنٹر کھولنے چاہییں ،، وہاں ہر وہ لڑکی جس کی شادی ہونے والی ہو اچھی بیوی یا اچھی ماں کی ،،،،، اور لڑکے کو اچھا شوہر اور اچھا باپ بننے کے تربیتی کورس کراۓ جائیں ۔کیوں کہ آج کل کے والدین نے تربیت کا ذمہ ٹی وی ، آئی فون ، دوست ، اور سکول کو دے دیا ہے ،،،، آج بہت کم اور قسمت والے والدین ہیں جو بچوں کو " ویلیوز" کا سبق دینے کی تگ ودو ذیادہ کرتے ہیں ، صرف اس بات پر ہی فخر نہ کریں ہم تو بےحد مصروف رہتے ہیں ، بچوں کے لیۓ اتنا تھکتے ہیں سکول سے آتا ہے تو قاری صاحب آجاتے ہیں ، پھر میں انھیں اکیڈمی چھوڑتی اور پھر دو گھنٹے بعد لینے جاتی ہوں پھر شام کو ان کو ٹینس کھلانے یا فٹبال کلاسز کروانے جاتی یا جاتا ہوں وغیرہ وغیرہ ! اِن سب کے درمیان بچوں کو سکون سے اماں ابا کے پاس کب بیٹھنا ملا ؟؟؟؟؟؟؟ ذرا سوچنے کی بات ہے۔
( منیرہ قریشی 21 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(32)

 یادوں کی تتلیاں "(32)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جس طرح میرے ذہن کے نہاں خانوں میں لا تعداد واقعات بسیرا کیۓ ہوۓ تھے اسی طرح کچھ " نمبرز " کے نقوش بھی دھندلے نہیں ہو پاتے ! ان میں پنڈی والے گھر کا نمبر    ایچ 228،اباجی کی پہلی ذاتی گاڑی جو ووکس ویگن تھی کا نمبر آر ڈبلیو 2827 ، اور پنڈی کے گھر کا فون نمبر،3676 تھا ، ،، اور اب واہ کے گھر کا ایڈریس نمبر 1 کچنار روڈ تھا ۔جو 9 سال تک ہمارے لیۓ، ملنے اور خطوط کےرابطہ کاباعث بنا رہا ۔اس گھر میں گزاری عیدیں بہت ہی خوشیوں اور محبتوں کے جلُو میں گزریں۔ دراصل جب آپ کے سر پر محبت اور شفقت کرنے والے والدین کا سایہ ہو تو زندگی جنت کا باغ لگتی ہے، لیکن زندگی کے کسی موڑ پر والدین بےبس نظر آئیں تو بندہ اندھیروں میں گھِر جاتا ہے ،،،،،،،۔
جب میں 7ویں جماعت میں تھی تو میں نے اپنی ایک ڈرائنگ بُک بنائی اور اپنی فہم کے مطابق ان تصاویر بنائیں اور ان کے عنوان ضرور لکھتی ، جیسے ایک عورت کا چہرہ اور اس کے بکھرے بال سمندر کی لہروں کی مانند دور دور تک بکھرے ہوۓ، کا عنوان رکھا " سمندر کا ایک راز " ،،، وغیرہ ، یہ سب بتانے کا خیال اس لیۓ آگیا کہ وہ ڈرائنگ بک ، اماں جی ہر اس بندے کو  دکھاتیں جس کے بارے میں انھیں احساس ہوتا کہ یہ خوش ہوگی ، یہ بالکل عام سی ڈرائنگ تھی لیکن ان کے نزدیک یہ منفرد کام تھا ،،، مائیں بھی کتنی خوش فہمی میں رہتی ہیں کہ اُن کے بچوں کچھ خاص ہیں ، اماں جی نے ہماری واہ کینٹ کی سہیلیوں کو بھی ویلکم کرنا ، اور طبیعت ٹھیک ہوتی تو ان کے ہاتھ بھی دیکھتیں ( جس کا میں ذکر کر چکی ہوں ) اور جیسا ہر لڑکی کا دل چاہتا کہ کچھ " آنے والا " کے بارے  میں بتا دیں ! لیکن وہ صرف یہاں تک رہتیں کہ تم اور پڑھو گی یا جاب کرو گی وغیرہ ، میں کبھی اچھی سٹوڈنٹ نہیں رہی ، لیکن میرے خواب یہ تھے کہ بس فائن آرٹس لازماً پڑھنا ہے ، اور دنیا کی سیر خوب کرنی ہے۔یہ کتنے سطحی خواب تھے جو مِڈل کلاس لڑکی صرف اس لیۓ دیکھ رہی تھی کہ ماں باپ نے کبھی کسی مشکل میں نہ ڈالا نہ کبھی کسی بات میں رکاوٹ ڈالی ،،،سواۓ چند جائز پابندیوں کے!میں نے جب ایک دن ایک اور ڈرائنگ بُک( سیکنڈایئرمیں)میں شام کے دھندلکے میں نے لان کے ایک ٹُنڈ منڈ درخت کا سکیچ بنایا تو نیچے اماں جی نے دستخط کیے اور ڈیٹ لکھی اور یہ میرے پاس ان کی بہترین یاد تھی۔اور ان کے سراہے جانے کا انداز تھا ۔ اباجی ہمارے لیۓ پینٹنگ بکس ، کلرز، برش لانے میں کمی نہ کرتے تھے ۔ ،،،ہماری سہیلیاں آتیں تو انھیں آس پاس کی قابلِ دید جگہوں کو دکھانے کو اہتمام کرتے ، اس اعتماد اور اعتبار کا اُس دور میں عام دورہ تھا، اب آج کل نہ ہم بچیوں کو کہیں بھیج سکتے ہیں نہ کسی کے گھر جانے اور رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں،،آہ ، شیطان کےاثرات کتنے پھیلے ہوۓ ہیں کہ نئی نسل بےفکری اور محافظت سے دور ہو گئی ہے ۔ اور مصنوعی خوشیوں اور مصروفیت میں اس نئی ٹیکنالوجی میں  مکڑی کے جیسے جالوں میں پھنس چکے ہیں۔ 
ہر عیدالفطر کے موقع پر ہم سب بہن بھائی اپنے والدین اور ایک تصویر اپنے بہترین پڑوسیوں کی ہمراہی میں باہر لان میں بہ اہتمام کھینچواتے ۔یہ فوٹو باقاعدہ پروفیشنل فوٹو گرافر آکر کھینچتا ،،،،، وہ تصاویرآج ہمارے لیۓ " سنہری یادیں " بن چکی ہیں۔ 
اس زمانے میں ہمارے تین البم تھے اور تینوں میں کونے سنہری ہی ہوتے تھے ، اور ہم دونوں بہنوں نے انھیں تین الگ کیٹیگری میں بانٹا ہوا تھا ، ایک بہت پرانی اور دور کے رشتے داروں کی ، دوسرے میں زمانۂ حال سے متعلق افراد کی اور
تیسرے  میں ہم نے اپنی سہیلیوں کی لگائی ہوئی تھیں ، اور یہ کام گرمیوں کی لمبی دوپہروں میں انجام پاتے تھے۔یہاں ایک تصویر فوری موجود تھی تو سوچا یہ بھی یا دوں کی تتلیاں کا حصہ بن جاۓ تو کوئی حرج نہیں ! ۔
درمیان میں ہمارے والدین اور ان کے آس پاس ہماری آپا اور بڑے بھائی جان ، آپا کی گود میں اُن کا چھوٹا بیٹا خاور ، پیچھے دائیں  سے جوجی,ساتھ پڑوسی اور پکی سہیلی شاہدہ ، درمیان میں کھڑے ہمارے بھائی جان!ساتھ ماموں ذاد طارق اور ساتھ میں ہوں،سامنے بیٹھے آپا کے بچے یاور اور لبنی اور ساتھ ہمارا دوسرا ماموں ذاد ارسلان!۔

منگل، 17 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں ( 31)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 31)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کے دوستوں میں ایک نمایاں نام " چودھری غلام اکبر" ہے ۔ 1951ءمیں وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے روز جس پولیس عملےکی اس جلسہ گاہ میں ڈیوٹی تھی ، ان تمام کو  تحقیقاتی ٹیم کے سامنےمہینوں گزرنا پڑا ، اس ٹیم کےممبرز میں اباجی بھی شامل تھے ، اس دوران یہ ساری  پولیس ٹیم معطل تھی ،چودھری غلام اکبر کے بیانات میں ایسی کلیئرنس تھی کہ ، وہ سال بھر کے بعد چند اور پولیس افسران کے ساتھ بحال ہو گئے ، لیکن یہاں دوستی کا بھی ایک دروازہ اور کھل گیا ۔ اور جب جب یہ دوستی آگے بڑھی ، دوستی کی وہی بےمثال ، روایت ڈلی جس کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ ان کی فیملی میں اس وقت 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ، انکی رہائش ہمارے گھر سے دو تین گلیاں چھوڑ کر تھی ،ہمارے گھر  خالہ جی کا ایک چکر دن بھر میں  لازماً لگتا ، اور کوئی نا کوئی مشورہ یا دل کی بات کہتیں اور چلی جاتیں ۔چودھری صاحب اب ہمارے لیے چاچا جی تھے ، ان کے گھر آنا جانا ہوا تو معلوم ہوا وہ پیچھے سے اچھے خوشحال زمیندار تھے لیکن ابھی سب کچھ مشترکہ حساب چل رہا تھا ، اس لیے فصل کے علاوہ پیسے کی کوئی " آمدن " نہ تھی اور ان کے گھر سے بہت واضح تھا کہ یہاں واقعی " رزقِ حلال " آرہا ہے اور گھر کے اخراجات بہ مشکل چل رہے ہیں ۔ ان کے ایک بیٹی شمیم سب سے بڑی اس کے بعد بیٹا غلام ربانی اور ان کے بعد ہم دونوں بہنوں کی طرح اوپر تلے کی دو بیٹیاں ، نسیم اورکلثوم تھیں یہ ہی دونوں ہماری بھی ایسی سہیلیاں بنیں ،کہ اب ہم مر کے ہی بےتعلق ہو سکتے ہیں!۔
۔" چودھری چاچا جی " گوجر خان سے آگے ایک گاؤں کے تھے،ان کا قد 6 فٹ سے اونچا،صاف رنگ اور بارعب ، پُرکشش نقوش کے حامل تھے، وہ صحیح معنوں میں، فوج یا پولیس کے لیے ہی فِٹ تھے کہ وردی میں ان کی شخصیت کا رعب بڑھ جاتا اور بندہ متاثر ہوۓ بغیر نہ رہ سکتا ۔،، جبکہ خالہ جی ان کے مقابلے میں اتنی لمبی اور گوری بھی نہ تھیں ،،، لیکن گھر کو جس طرح وہ چلا رہی تھیں یا بچوں کی تربیت بہ احسن کر رہی تھیں ان خوبیوں نے چاچاجی کو گھر سے مکمل بےفکر کر رکھا تھا۔ چاچاجی کی والدہ،ان کے گھر جب گاؤں سے آتیں تو ہمارے گھر کے چکر ضروری ہوتے ، میں انھیں بہت غور سے دیکھتی اور بہانے بہانے دیر تک ان کے پاس بیٹھی رہتی ، وہ اچھے قد کی، صاف رنگت ، بالکل سفید گھنے بالوں والی اور سفید ہی کپڑے پہننے والی ایسی خاتون تھیں ، جو دیہات کی کہانیوں کا ایک دبنگ کردار ہو ، مجھے ان کی بہت تفصیل کا علم نہیں ، لیکن اتنا معلوم ہے کہ بےشمار زمینوں کی دیکھ بھال ، میں انہی کا دبدبہ چلتا تھا ، وہ اماں جی سے ملنے آتیں ،دیر تک بیٹھتیں ۔ چاچاجی کی اباجی سے محبت کا حال ہی تھا کہ گھر کا کوئی بھی معاملہ ہوتا ، میجر صاحب سے مشورہ لینا ہے یا کوئی بڑی خریداری کرنا ہے وغیرہ،،، وقت گزرتا گیا اور چاچا جی کی اپنی ترقی بھی ہوتی گئی ، جب وہ ایس،پی بنے تو تین سال کی ڈیپوٹیشن پر انھیں فیملی سمیت "تُرکی " رہنے کا چانس ملا، تین سال بعد پاکستان واپس آۓ ،تو مجھے باقی افرادِخانہ کایا دنہیں ،لیکن میرے لیے ایک خوب صورت ، سنہری جلد والا البم اور کمرے میں لٹکائی جانے والی تین رنگین پینٹنگ والی سٹیل کی گول پلیٹس لاۓ ، اور سب سے زیادہ اہم " ٹرکش ڈیلائیٹ " کا ایک بڑا ڈبہ ،،، اور یہ ترکی مٹھائی ہم نے پہلی دفعہ دیکھی اور کھائی ! جس کا ذائقہ مدتوں یاد رہا ،،،، اتنی تفصیل سے ان تحائف کا ذکر اس لیے کر رہی ہوں کہ ایک تو وہ دلی محبتوں کے ساتھ غیر ملک سے لاۓ گئے تھے ، دوسرے اس دور میں جب میں شاید میٹرک میں تھی ،اور بہت سے غیر ملک سے رہنے والے رشتہ داروں کی طرف سے بھی ایسی نوازش دیکھنے کو نہیں ملی تھی ، یہ تحائف تو صرف میرے تھے ، اماں جی اباجی کے لیے الگ پیکٹ دیئے گئے ،آنے کے کچھ عرصہ بعد چاچاجی کی مزید ترقی ہوئی اور وہ ڈی آئی جی بن گئے ، چوں کہ ہم واہ میں اور وہ پنڈی میں رہائش پذیر تھے ، اور دونوں دوستوں کی اپنی پیشہ وارانہ مصروفیتیں بھی سخت تھیں ، اس لیے ملنا ملانا کم ہو گیا ، تُرکی سے آتے ہی میری سہیلی جو نسیم سے چھوٹی تھی ،، کی شادی اپنے دور کے رشتہ دار سے کردی گئی جب کہ وہ ابھی میٹرک سے فارغ  ہوئی تھی ! جس کا ہمیں افسوس سا ہوا ،،، کہ ایسی بھی کیا جلدی تھی ، یہ دونوں بہنیں آپس میں جُڑواں بہنوں کی طرح ہم مزاج تھیں ، دونوں حددرجہ " حسِ مزاح " رکھنے والیاں ، اور زندہ دل تھیں ،،، کلثوم کی شادی چونکہ جلدی میں اور اپنے گاؤں میں کی گئی تھی جس میں ہم شرکت نہ کر سکے ، بعد میں کسی موقع پر اس کے شوہر کو دیکھا تو ہمیں یہ فیصلہ کچھ اچھا نہیں لگا کہ وہ اس نئی نئی میٹرک پاس لڑکی سے 17،، 18 سال بڑا تھا ، وہ انگلینڈ کا رہائشی تھا ، کلثوم کے کاغذات مکمل ہوۓ اور چند ماہ بعد وہ بھی سدھار گئی ،، پھر نسیم کی شادی ایئر فورس آفیسر سے ہو گئی ، ربانی بھائی نے اپنی پسند کی شادی کر لی ،،، باقی ایک بیٹا اور بیٹی جو لیٹ ایج میں ہوۓ تھے ، وہ بھی جوان ہو گئے، خالہ جی کی زندگی میں وہ ان دونوں کے فرائض سے بھی فارغ ہو گئیں اورجیسے ہی انھوں نے یہ فرائض پورے کیے ، وہ معمولی بیماری کے بعد ، اپنے خالقِ حقیقی کے پاس اپنی تھکن اُتارے چلی گئیں ! ! یہ مائیں بھی ایسے موقع پر اپنی سیٹ خالی کر دیتی ہیں ، جب ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ سب اس رب کا لکھا ہے ،جس کے سامنے کسی کا زور نہیں !۔
چاچاجی نے پنڈی میں ایک دو منزلہ گھر بنوا لیا تھا ، ریٹائر ہونے کے بعد اسی میں شفٹ ہو گۓ اور آخری دونوں بچوں کی شادیاں اسی گھر میں کیں ۔ان کا سب سے چھوٹا بیٹا بہت حسین تھا ، اتفاق سے اسے بھی پولیس کی نوکری مل گئ ، باپ کی طرح اُونچا لمبا ،،اکثر ماں باپ کو سب سے چھوٹی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے۔ وہ بھی آنکھوں کا تارہ تھا ، بڑا بیٹا اپنی دنیا میں مگن کراچی شہر میں ۔۔ خالہ جی کی وفات کے بعد چاچاجی نے کچھ سال اکیلے گزارے ،لیکن جلد ہی ہمت ہاری اور کسی کے توسط سے ایک 35،40 سال کی خاتون سے شادی کر لی ، اب چوں کہ ریٹائرڈ زندگی تھی ، فراغت بھی تھی ، وہ اپنی گاڑی میں نئی بیوی کے ساتھ اکثر ہمارے گھر آتے اور دو ، تین دن رہ کر چلے جاتے، چاچاجی ایک مرتبہ باتھ روم میں گرنے کی وجہ سے ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے، اور اب اس ٹانگ میں راڈ ڈلا ہوا تھا اور وہ ہا تھ میں چھڑی پکڑے رکھتے ،لیکن اس بڑھاپے میں بھی وہ بہت بارعب اور خوب صورت لگتے بلکہ ایک مرتبہ میں نے انھیں کہا " چاچاجی ، کچھ لوگوں پر ٹوٹ کر جوانی آتی ہے آپ پر تو ٹوٹ کر بڑھاپا آیا ہے " اس کمنٹ پر بہت ہنستے رہے ، لیکن خوشیوں اور اطمینان کے دن سدا نہیں رہتے،،،،یہ شادی شاید 6،7 سال چلی اور یکدم سننے میں آیا کہ ختم کردی گئی ،،، اب اُن کے اکیلے رہنے کے دن نہیں تھے ، ان کا ایک وفادار ملازم بہت عرصہ ان کا ساتھ دیتا رہا لیکن آخرکار وہ بھی اپنے گاؤں چلا گیا اور چاچاجی بہ حالت مجبوری چھوٹے، لیکن نہایت لاڈلے بیٹے کے پاس آگئے ، واحد گھر جو اپنی کمائی سے بنایا تھا دوسری شادی کے بعد بک چکا تھا ، اور اس بات کا بیٹے کو بہت دکھ تھا، شاید یہ ہی مال کا فتنہ درمیان میں آ گیا اور بدسلوکی اور ناگواری کا تکلیف دہ دور گزرنے لگا ،،،،،، پولیس کا ڈی آئی جی جو اپنی بہترین پینشن پر گزارا کر سکتا تھا ،، محض بچوں کی قُربت کے نکتۂ نظر سے ان کے پاس آگیا تھا ، اور یہاں اچھوت ہو کررہ گیا ،، !!۔
اس اکلاپے کے دور میں بھی وہ آتے تو اباجی انھیں ایک ایک ہفتے کے لیے روک لیتے ۔ یہاں بھی اماں جی کو فوت ہوۓ مدتیں گزر چکی تھیں ،اس لیے بھی وہ بےفکر ہو کر کچھ دن پرانی یادوں کو دہراتے اورمیں ہی ایک ایسی خدمت گار تھی جو خاموشی سے اکثر انھیں باتیں کرتے دیکھتی اور غور بھی کرتی کہ " زندگی آخر کس چیز کا نام ہے "؟ لیکن میں اباجی کے سب بوڑھے دوستوں کی کمپنی سے کبھی بور نہ ہوتی ، ، ، ( میری زندگی دراصل بچپن سے ڈائرکٹ بڑھاپے کو کوچ کر گئی تھی اور میری سوچ میں، میری پسند میں ، میرے ارادوں میں بڑھاپے کے نمایاں اثرات آنے لگے تھےِ۔اماں جی کی وفات نے مجھے گھر کی بڑی بنا دیا تھا اور میں نے یہ عہدہ بہ خوشی قبول بھی کر لیا تھا !) اب چاچاجی آتے تو میں ان سے گپ شپ لگاتی۔جو کچھ سیاسی کچھ مذہبی ، مو ضوعات پر ہوتیں ! اگر اُن کی عینک کے شیشے مجھے گندے محسوس ہوتے تو خاموشی سے اتارتی اور انھیں دھو کر خوب چمکا کر پہناتی ، تو وہ صرف اتنا کہتے ، "دیکھا یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو اتنا باریکی سے ہمارا مسئلہ دیکھ لیتی ہیں " یہ کہتے ہوۓ ان کی آنکھوں کی نمی میں دیکھ لیتی اور جلدی سے موضوع بدلا لیتی !!!!!۔
چاچاجی کی بیٹی نسیم اگرچہ تیسرے نمبر پر تھی لیکن اپنی ذہانت ، کچھ کر گزرنے کی صلاحیت کی بنا پر نمبر ون بن گئی ، نہ بڑی بہن ، نہ بڑے بھائی میں وہ " گٹس"تھے، جو ایک باپ کو سنبھالنے کی سعادت حاصل کرتے ! اور چاچاجی کو نسیم اپنے آرام دہ گھر میں زبردستی لے آئی۔اس معاملے میں سلام اس کے میاں کو جس نے یہ اعلیٰ جملہ کہا " اپنے والد کو اپنے پاس رکھو ،، ماں باپ ،، صرف ماں باپ ہوتے ہیں ،چاہے وہ بیوی کے ہوں یا شوہر کے،،،" کاش یہ سوچ ہر داماد کی ہو تو بےشمار والدین اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے بچ جائیں۔
چاچاجی کی اپنی پنشن اتنی تھی کہ نسیم نے دو نوکر رکھے جن میں سے ایک دن کے لیے اور ایک رات کے لیےتھا ، چاچاجی اتنے بیمار شاید نہ تھے جتنا اس احساس نے انھیں ڈیپریشن میں ڈالے رکھا کہ میرے لیے بیٹوں کے پاس محبت کے دو بول بھی گم ہو گئے  ہیں !،،،،،لیکن بیٹی کی محبت ، اورخدمت نے ان کے آخری 10 ، 12 سال آرام دہ اور پُرسکون بناۓ ، رکھے آخر کا ر اس شاندار انسان کی کہانی ختم ہوئی ، ،،، اُس بیٹی کواللہ نے اس خدمت کا صلہ ایسا دیا کہ دولت ، عزت ، محبت ، سبھی نعمتوں سے نوازی گئی ۔ اس کی ساری اولاد کامیاب ہوئی ، اصل چیز دل کا اطمینان اور نرم دلی ہے ! جو ان دونوں میاں بیوی کے حصے میں آگئی ہے۔ 
( منیرہ قریشی 17 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 15 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں"(30)

یادوں کی تتلیاں " ( 30 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مجھے اس وقت اباجی کے دوستوں کا رنگارنگ حلقۂ احباب یا د آگیا ، کچھ دیر کے لیے میں ذرا انہی کے ذکرِخیر کی طرف آنا چاہوں گی ، اباجی پاکستان کے پہلے مارشل لاء کے دوران کراچی میں تعینات ہوگئے ،، فوجی حکومت آتے ہی اِن کے پاس لاتعداد ایسی عرضیاں آئیں جس میں اُن کی شکایات تھیں کہ ہمیں انصاف دلایا جاۓ ، کسی کی زمینوں پر ، تو کسی کے جبری مشقت کے تحت وڈیروں ، امیروں کی قید میں خاندان کے خاندان زندان میں ہوتے اور ایسا کئی سالوں سے ہو رہا تھا۔اس دوران اباجی کے پاس ایک عرضی بھیجی گئی ، اباجی نے اس شکایت کنندہ کو بھی بلایا ، وہ حیدر آباد سے، اندرونِ سندھ سے تعلق رکھتے تھے کافی خوشحال زمیندار تھے ، باغوں کے بھی مالک ، لیکن حددرجہ سادہ مزاج اور شریف بندہ ! اس کی سادگی اور شرافت سے فائدہ اُٹھا کر کچھ قریبی لوگوں نے اس کی کافی زمینوں پر کئی سالوں سے قبضہ کر رکھا تھا اباجی کو شاید ایسے بےبس انسان زیادہ بھا جاتے تھے کہ فوراً عمل درآمد شروع ہوا اور چند ہفتوں میں معاملہ کلیئر ،،، زمینیں اصل مالک کے پاس اور وہ سندھی بھائی جن کا پورا نام میرے ذہن میں نہیں رہا لیکن " عالم صاحب " کہا جاتا تھا ! ان کا خوشی کا یہ حال کہ اباجی کو پیر و مرشد کی طرح ماننے لگے ، اور شکریے کے طور پر اباجی کا آفس " بہترین آموں " سے مہک گیا ( اباجی میس میں مقیم تھے ) یہ محبت بھرا اظہار تین سال جاری رہا ۔ اباجی کراچی میں ڈھائی ،تین سال رہے کہ اس دوران ان کی جیپ کا ایکسیڈنٹ ہوا ، کوئی سیریس انجری نہیں ہوئی ۔ لیکن اماں جی نے پہلی دفعہ پنڈی سے کراچی تک کا سفر کیا ،اور کراچی بھی پہلی مرتبہ دیکھا ، کچھ دن رہ کر آگئیں اور پھر کچھ ماہ بعد اباجی کو واپس پنڈی ٹرانسفر کر دیا گیا ۔ وہ جی ایچ کیو کے تحت تھے ، اب ان کے آنے کے بعدجب پہلی گرمیاں آئیں تو ایک دن فون آیا کہ ریلوے سٹیشن پر آپ کے نام کی دو پیٹیاں آئی ہیں ، اردلی نے جا کر وصولی کی ، اور اباجی بھیجنے والے کا نام پڑھ کر مسکراۓ ۔ اماں جی کو بتایا کہ یہ قصہ کہانی ہےاور عالم نے کسی طرح میرا ایڈریس لیا اور یہ تحفہ بھجوا دیا ۔ یہ اس کی شکریے  کی روایت ہے جو نبھا رہا ہے ۔ آموں کی یہ اتنی اچھی قسم تھی کہ خوشبو بند پیٹیوں سے نکل نکل جا رہی تھی ، ایک آم ، ایک ایک کلو کاتھا ، اور حسبِ معمول اماں جی نے ایک ایک آم آس پاس کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو بھجواۓ ، ،، اور سب نے اس پُرخلوص تحفے کی تعریف کی۔ 
جب ہم واہ شفٹ ہو ۓ تو نئی  جگہ میں پرانی باتیں ذہن سے محو ہو گئیں ! ہم ستمبر میں شفٹ ہوۓ ، اور سخت گرمیاں آئیں تو7،8 ماہ گزر چکے تھے!ایک دن دو پیٹیاں وہاں پہنچ گئیں ، اور ہم مان گئے کہ انسان اپنے محسنوں کو یاد رکھنا چاہے تو وہ کسی نا کسی طرح یہ سلسلہ چلا سکتا ہے ۔ لیکن ہمارے پڑوسی اور اباجی کے آفس کے احباب نے ان کو خوشی سے وصول کیا ۔ یہ سلسلہ 68 ءتک چلا اور بعد میں ایک سال ناغہ ہوا لیکن اس سے اگلے سال پھر پیٹیاں آئیں اور ساتھ ایک خط بھی ۔جس میں درج تھا والد صاحب پچھلے سال انتقال کر گئے اور انھوں نے مجھے اس روایت کو جاری رکھنے کا کہا تھا ، میں شرمندہ ہوں کہ پچھلے سال آپ کا ایڈریس نہیں مل سکا تو ناغہ ہو گیا ، اباجی نے  فوراً ٹیلی فون پر تعزیت کی اور اسے سختی سے منع کیا کہ آئندہ ایسی فکر کی ضرورت نہیں کہ والد کی بات کو آگے چلاؤ ،،، لیکن اگلے 4، 5 سال پھر بھی پیٹیاں آتی رہیں ، کیا آج ہم اپنی اولادوں کو ایسی نصیحت کریں تو وہ یہ روایت چلا سکیں گی ؟؟
!ان کو تو شاید اصلی نصیحتیں بھی یاد نہ رہیں ، آنکھ بند ،اور نصیحتوں پر دھول 
!لیکن ایک دن اباجی نے اسے سختی سے منع کیا کہ اب یہ قصہ ختم کرو ، تب آم آنے بند ہوۓ
اباجی کے دوستوں میں ہر مذہب ، ہر مسلک ، ہر علاقے کے لوگ تھے ۔ چونکہ اباجی کا بچپن ،صوبہ سرحد میں گزرا تھا اور ان کی پشتو مادری زبان کی طرح تھی اس لیے ان کے دوستوں میں پشتون لوگ زیادہ تھے ، اباجی کے آفس میں کبھی ہمیں بھی جانے کا اس وقت موقع مل جاتا جب اماں جی ڈاکٹر کے پاس گئی ہوتیں ، تو وہاں ایک صوبیدار میجر اسحٰق خان خٹک ہوتے تھے جو ہم سے بہت پیار سے ملتے اور ضرور کچھ نا کچھ کھلاتے ۔ بعد میں پتہ چلا اباجی اور ان کی ایک قدرِمشترک تو یہ تھی کہ پکے سچے پاکستانی ، کوئی تعصب نہیں ،، اور دوسرے دونوں حضرت علامہ اقبالؒ کے عاشق ، جب انھوں نے بتایا۔ میری ایک بیٹی کا نام منیرہ ہے ، تو اباجی نے بھی اپنی بیٹی کے نام کا ذکر کیا ، انکے بیٹوں کے نام تاریخی ہستیوں کے نام پر تھے ۔ راس مسعودخٹک ، خالد خٹک اور طارق خٹک ،،،، دونوں کے درمیان شاعری کے اس ذوق نے ایسی محبت ڈالی کہ اگلی نسل تک یہ محبت اور احترام چلا ، راس مسعود خٹک ،اباجی کی وفات تک دونوں عیدوں پر انتہائی احترام اور محبت بھرا خط لکھتے رہے اباجی کو " محترم چچا جان " لکھتے اور والد کی وفات کے بعد بھی کوہاٹ سے ہمارے گھر چکر لگاتے رہے ۔ جب اباجی بھی فوت ہو گئے تب بھی انھوں نے ہائی شوگر کے باوجود آنا جانا رکھا ،حالانکہ ان کی نظر بھی متاثر ہو چکی تھی ، اسحاق چچا کی دی ہوئی شیشے اور "تلے کے کام " والی کوٹی ایک عرصہ میں نے پہنی اور بھائی کو کوہاٹی چپل تو اکثر ملتی رہی ! ان کی بیٹیاں آج بھی رابطے میں رہتی ہیں ! ہم سب بوڑھی ہو گئی ہیں ، اور ہماری مصروف ترین زندگی نے ہم سے محبت کے بہت سے زمزمے" دور کر دیے ہیں جس کا مجھے بے حد افسوس ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سراپا اخلاص ہیں اور صحیح معنوں میں"خاندانی"
!کا لفظ ان پر صادق آتا ہے 
؎ مٹی کی مورتوں کا ہے میلہ لگا ہوا 
آنکھیں تلاشتی ہیں انساں کبھی کبھی
(منیرہ قریشی ، 15 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعہ، 13 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں" (29)

 یادوں کی تتلیاں" (29).۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
میں ذرا پلٹ کر واپس ان سہیلیوں کے جھرمٹ میں جاتی ہوں ، جن کے ساتھ میرے،بہترین دن گزرے ،،، اور مجھے ان سب سےبہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ، یہ اپنے طور پر خوشحال گھرانے تھے ، لیکن محنت کے دور سے گزر رہے تھے! خاص طور پر رخسانہ تسنیم وغیرہ ، جو ماشا اللہ آٹھ بہن بھائی تھے۔دو ماں باپ ، اور ایک نانی اماں ،، یہ سب دو ،ڈھائی بیڈ رومز پر مشتمل گھر میں رہتے تھے ، مجھے جب اس کے گھر آنے جانے کا موقع ملا۔ تو اس کی امی جو دبلی پتلی خاتون تھیں ہر وقت کچن کے کاموں میں مصروف رہتیں ، ان کی کوشش ہوتی،وہ سب کے لیے مقوی ، ستھری ، اور زیادہ مقدار میں غذائیں تیار کرتی رہیں۔کچھ ہی مہینے میں آنے جانے کے بعد اندازہ ہوا اس گھر کے والدین کے پاس کتنا بڑا دل تھاہر آئے گئے کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں  اور سبھی کوکھاۓ پلاۓ بغیر جانے نہٰیں دیتے تھے ، اس کے ابا سے مل کر مجھے یوں لگا جیسے وہ بہت گھلنے ملنے والے نہیں ، لیکن یہ خیال بعد میں غلط ثابت ہوا ،،، اتفاق سے مجھے اس کے گھر اس طالب علمی کے دور میں جانا ہوا اور میرا گھر حالانکہ نزدیک تھا، لیکن اس کی امی نے بہ اصرار دوپہر کے کھانے پر روکا ۔اور وہاں اس دن مچھلی پکی تھی ، مجھے کبھی مچھلی کھانا پسند نہیں تھی ،لیکن اس دن کھانا پڑی ،اور وہی دن تھا کہ مچھلی میری پسندیدہ ہو گئی۔ اتنا مزیدار سالن تھا کہ ہاتھ رُک ہی نہیں رہا تھا۔اور اس کی وجہ اس خوش ذائقہ ہاتھ والی ماں تھی ، اس کے بعد بھی دو تین دفعہ کچھ بھی کھانے کا موقع ملا،تو ایسا ذائقہ شاید کم ہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا۔قریباً   ہر ہفتہ اتوار ان کے گھر رہنے والے مہمان آئے   ہوتے ، اور ان کے گھر سے واپسی پر اکثر سوچتی یہ کیسے سیٹنگ کرتے ہوں گے، کہ مہمان بھی پورے آجائیں اور گھر کے افراد بھی ِ،،، یہ صرف ان کی اعلیٰ ظرفی اور مہمان نوازی کی وجہ سے ممکن ہوتا تھا ،،، ماں باپ کی اس کھلے ماتھے کی عادت نے ، ان کے بچوں کے راستے آسان کردیئے ۔ سبھی لائق ، اور سب ہی خوشحال ہوۓ ۔ ماں باپ گلاب بوتے ہیں ، انھیں سینچتے ہیں ، اور اس کا فائدہ ان کی اولادیں بلکہ اگلی نسلیں بھی اُٹھاتی ہیں ، اللہ کسی کا کوئی اجر ضائع نہیں کرتا ،،،، رخسانہ ، چار بہنیں اور چار ہی بھائی تھے ،ہر بچے کی شادی پر ان کے ابا شادی کا کھانا آتا تو سب سےپہلے ایک دیگ یتیم خانے بھجوا دی جاتی ، اس کے بعد کبھی کھانا کم نہ ہوتا ۔ بالکل اسی طرح ہمارے رشتے کے چچا چچی تھے ان کے بھی آٹھ بچے تھے ، سرکاری کوارٹر ملا ہوا تھا چھوٹا سا ، اس کے پچھلے نہایت چھوٹے صحن میں ایک کمرہ بنوا لیا گیا تھا، اور ان کے گھر بھی کوئی دن ایسا نہ ہوتا کہ رہنے والے نہ آۓ ہوتے بلکہ کئی مہمان ایک ہفتے ، یا پندرہ دن رہ کر جاتے ۔ دونوں میاں بیوی نے بچوں کو بھی اسی عادت پر سیٹ کر دیا تھا ، جب دو بیٹیوں کو کچن میں 40 یا 50 روٹیاں پکانی پڑتیں اور وہ بھی گرمی میں ،تو ، ہم ان کی ہمت پر آفرین کرتیں۔ چاچا جی خود مہمان نوازی ، اور بڑھ چڑھ کر سبھی کے بگڑے یا رُکے کام کراتے رہتے اور تھکتے رہتے،لیکن کیا مجال کوئی احسان کرتے ، ہم نے خود بھی دیکھا ان کے گھر پر شام کو ایک "پینجا " ( روئ دھننے والا) اپنا " روئی کا لمبا سا پینجا پچھلے صحن میں رکھتا اور ایک سبزی بیچنے والا اپنی ریڑھی رکھواتا ، کیوں کہ اُن کے گھر دُور تھے، اور وہ اس اعتباری گھر میں اپنے "رزق کے ہتھیار" رکھواتے ، صبح آکر لے جاتے (کیا ہم آج بڑے گھروں کے باوجود ایسا بڑا دل "کر " سکتے ہیں؟) دونوں اگر شام کے اس وقت آجاتے جب کھانے کا وقت ہوا چاہتا، تو چاچی جی ، فوراً بڑی بیٹیوں کو کہتیں " چلو ان کے لیے دو دو روٹیاں توے پر پھینکو ! خدائی مہمان آۓ ہیں "یہ یونیک جملہ میں کبھی نہیں بھولوں گی !!!! اور آج ان کے بھی سبھی بچے اپنی بہترین خوش حالی کو انجواۓ کر رہے ہیں ، ماں باپ نے کم وسائل کے باوجود جب بھی مہمان نوازی کی ان کی اگلی نسلیں ،حیرت انگیز طور پر خوش حال ہوئیں "" کہ اللہ کسی کا احسان نہیں رکھتا ""، وہ ضرور نوازتا ہے ، کاش ہم اس نکتۂ لین دین کو جلد جان جائیں اور فقر سےبےفکر ہو جائیں ۔ مجھے اپنے پیارے نبیﷺ کی سبھی احادیث سے پیار ہے لیکن مہمان کی توقیر ،کھانا کھلانے کی فضیلت پر مبنی احادیث تو جیسے ہمارے لیۓ مفت کی جنت کا سودا ہے ، ایک حدیثِ مبارکہؐ ہے "میں اللہ سے خودغرض ہونے اور بخیل ہونے سے پناہ چاہتا ہوں"گویا وہ ان دو کمزوریوں کو ناپسند فرماتے تھے۔
( منیرہ قریشی ، 12 اکتوبر 2017ءواہ کینٹ) ( جاری )

جمعرات، 12 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں " ( 28 )۔

یادوں کی تتلیاں " ( 28 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جیسا میں نے ذکر کیا ، کہ سی بی کالج ایک کامیاب کالج تھا ، اس کے مقابلے میں گورنمنٹ کالج سکستھ روڈ تھا اور ہے ! میری چھوٹی بہن اِسی کالج میں بی ایس سی میں داخل تھی،اس کی پرنسپل مشہور ومعروف ماہرِتعلیم ڈاکٹر کنیز فاطمہ تھیں۔ان کے فوراً بعدہمارے پسندیدہ ادیب ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی بیوی آئیں ، وہ ڈسپلن کےسختی سے نفاذ کی قائل تھیں ،،، جبکہ سی بی کالج کی پرنسپل مسزسلمیٰ خواجہ ، ذرا نرم اور کالج میں نت نئے مقابلے اور، تفریح کے مواقع فراہم کرنے والی تھیں ، یہاں کی یونین بھی مضبوط اور مشہور تھی ۔ اس کی سیکریٹری یا صدر کا نام " نویدہ " میرے ذہن میں رہ گیا ہے۔وہ خوب صورت اور بہترین  مقررہ تھی۔ شاید ہی کبھی کسی  تقرری مقابلے میں خالی ہاتھ آئی ہوگی ۔مجھے یادوں کے باغ میں جب داخلے کا وقت ملتا ہے ، تو بہت سے کردار میرے قریب سے گزرتے چلے جاتے ہیں،کسی کردار کی آنکھوں میں اداسی اور کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوتی ہے ،کسی کی آنکھوں میں عجیب سی شکایت اور کسی کردارکے رویے میں بےزاری ہوتی ہے ، ،،،،،،، مجھے لگتا ہے جب انسان کا آخری وقت آتا ہوگا تو وہ ایسے ہی کسی باغ میں سے تیزی سی گزارا جاتا ہوگا اور ، سب ایسے لوگ جو اسے کبھی ملے ، تیزی سے جھلک دکھلا کر گزرتے چلے جاتے ہیں ، جیسےفاسٹ فارورڈ فلم چلادی گئی ہو !۔
چونکہ سائیکالوجی میرامضمون تھا ، تو ایک سال اس مضمون کی طالبات کو لاہور جانے کا موقع ملا ، اس ٹرپ میں قریبا" 20 ،22 لڑکیاں گئیں ، اور شاید 5 ،6 ٹیچرز تھیں۔وہاں ہمیں کہاں ٹھہرایا گیا تھاِمیری یاد سے محو ہو گیا ہے ! ،، کیوں کہ میرے بھائی جان ان دنوں لاہور میں  تعینات تھے، وہ مجھے ملنے ، بلکہ لینے آگئے کہ تم اپنی سہیلی ( پڑوسی شاہدہ )کے پاس رہنا چاہو تو رہ لینا ،کیا پتہ یہاں تم بہت آرام دہ نہ ہوسکو ! انچارج ٹیچر سے اجازت لے کر وہ مجھے شاہدہ کے پاس پنجاب یونیورسٹی لے آۓ ، جو وہاں باٹنی میں بی ایس سی آنرز کر رہی تھی اسے جو کمرہ ملا تھا،اس میں اس نے بہت خوش دلی سے استقبال کیا، بھائی جان ہمیں کھلانے پلانے لے گئے ، اگلے دن صبح بھائی جان آۓ اور مجھے کالج کے گروپ کے پاس چھوڑا ، آج کا دن لاہورکے مشہور " مینٹل ہاسپٹل " ( جسے پاگل خانہ کہا جاتا ہے ) کا  دورہ کرنا تھا ،، جب ہم وہاں پہنچیں،تو بہت اونچی دیواروں کے اندر گاڑی داخل ہوئی۔ اور ایک طرف انچارج ڈاکٹرز کے کمرے تھے ، وہ اچھی طرح ملے، اور انھوں نے ہمیں گائیڈ کیا کہ آپ کو ذرا کم ، کچھ زیادہ ، اور کچھ بہت زیادہ " وائلڈ " مریض نظر آئیں گے ، آپ نے خود کو پُرسکون رکھنا ہے ۔ ہمارا عملہ ساتھ ساتھ ہو گا لیکن اپنی طرف سے آپ لوگ کوئی اشتعال دلانے کی کوشش نہ کرنا ،،، وغیرہ ! ہم لوگ بھی الرٹ ہو گئیں ۔ ٹیچرز اور طالبات دو دو ، تین ، کی صورت چلتے گئے، مجھے چند مناظر کبھی نہیں بھول پاۓ ، شروع میں ذہنی کم اور جسمانی زیادہ معذور خواتین کا تعارف ہوا ،،،اور آگے قطار میں کمرے بنے ہوۓ تھے جن کے ایک طرف موٹی سلاخوں والا بڑا دروازہ تھا کوئی کھڑکی نہ تھی ، یہ بالکل ایسے ہی تھے جیسے چڑیا گھر میں جانوروں کے پنجرے ۔ ( یہ 1970،71ء کی بات ہے ، اب اگر کچھ تبدیلی آگئی ہو تو علم نہیں )۔ ان پنجروں یا کمروں میں ، بہت باتیں کرنے والی ، کچھ بالکل گم سُم ، کچھ جوان اور کچھ ادھیڑ عمر خواتین تھیں۔ہر کمرے میں ایک ہی عورت تھی،،،، ان سب میں جو کردار میری یاد میں رہ گئی وہ ، انتہائی خوب صورت کافی جوان 25 ،26 سال کی لڑکی تھی۔ وہ بالکل بےلباس تھی اور وہ مسلسل مسکراۓ جارہی تھی ، اس نے مریضوں کو دیئے گئے سُرخ کمبل کے بے شمار ٹکڑے کیۓ ہوۓ تھے ، ٹیچر نے اس کی لائف ہسٹری پوچھی تو ، جو مجھے یاد ہے وہ مقبوضہ کشمیر سے آئی ایسی لڑکی تھی جو ہندو فوجیوں کے ہتھے چڑھی اور بہت بری حالت میں ، لواحقین کو ملی ، کسی طرح بارڈر کراس کر کے وہ لوگ یہاں آۓ وہ جب ہوش کی دنیا میں آتی ،بہت بےقابو ہو جاتی اور اپنے کپڑے پھاڑ دیتی ، ظاہر ہے ایسے حالات میں آئی فیملی کے اپنے کتنے ہی مسائل ہوں گے ، کہ وہ اس کے علاج یا اسے سنبھالنے سے عاجز آگۓ، اور کسی طرح یہاں چھوڑ گئے،پھر پلٹ کر نہیں آۓ اسے وہاں سال ڈیڑھ ہوا تھا ،،،،اس کی چمکتی آنکھیں، گلابی رنگ، پیارے نقوش ، میرے ذہن میں جیسے چھَپ سے گئے ہیں ،،، میں دنوں نہیں ، "سالوں " اُداس رہی ، مجھے جب بھی یہ وزٹ یاد آتا ، میری یادوں کے کونے میں وہ حسین مجسمہ، لمحے بھر کے لیے چمک جاتا ، اور مجھے بہت اداس کر جاتا ہے۔ مجھے انسانیت کے جذبے کا پرچار کرنا ، اس پر عمل کرنا وغیرہ وغیرہ اچھا لگتا ہے ، معاف کرنا ، نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا، یہ سب بہت سطحی باتیں لگتی ہیں۔سبھی جرم قابلِ نفرت ہوتے ہیں لیکن کچھ جرائم تو ناقابلِ معافی بھی ہوتے ہیں جب کسی عورت یا بچےکے معاملے میں اس کی عصمت کی ذلت کرنا سنتی ہوں، میں اسے ناقابلِ معافی جرم سمجھتی ہوں ، مجھے سمجھ نہیں آتی مرد اپنے سے کئی درجہ جسمانی کمزور مخلوق کو اس طرح اذیت دے کر کس بہادری کا ثبوت دیتا ہے ؟ ،،،،، آگے چل کر ہمیں ایک کافی بڑے کمرے میں لے جایا گیا،جہاں پڑھے لکھے  یا ٹیلنٹڈ مریضوں کے ہاتھ سے بنی اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔مجھے چونکہ تصاویر کا شعبہ پسند تھا ، وہی دیکھیں ، بتایا گیا یہ سب براۓفروخت ہیں اور انہی مریضوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ سب نے ہی کچھ نا کچھ لیا اور میں نے ہلکے رنگوں میں میں بنی ایک تصویر خریدی ، جس میں شاید لاہور یا اس سے ملتے کسی اور شہر کےکونےکے منظر کو بنایا گیا تھا،اس میں ملگجی شام تھی۔ٹرین کی پٹڑی تھی اوراس کے گرد بہت بدحال جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں ! اس خریداری کے بعد ہم واپس آگئے ، وہاں کافی صفائی کا خیال رکھا گیا تھا ، پورے اس ایریے  میں کوئی دوا ایسی ڈالتے ہوں گے جو جراثیم کش ہو گی ! لیکن اس کی بُو مہینوں دماغ میں بسی رہی ،، وہاں سے آنے کے بعد مجھے نہیں معلوم کسی اورپر کیسا اثر ہوا لیکن میں عرصہ تک ڈیپریشن میں رہی ، شاید یہ نوعمری کا حساس دور ہوتا ہے ، یا میں بہت حساس تھی،میں نے وہ تصویر سال ہا سال اپنی الماری میں رکھی ، دیوار پر نہیں لگائی ، لیکن جب فرصت سے ہوتی تو بہت دیر اس کو لے کربیٹھی رہتی۔ میں نے وہاں کے متعلق اماں جی کو تفصیل سے بتایا ،، انھوں نے بہت خاموشی سے سب تفصیل سن کر صرف اتنا کہا " اللہ کی ہر نعمت کا ہر لمحہ شکر ادا کیا کرو ،، اور ان محروم لوگوں سے نہ کبھی نفرت کرو ، نہ ان کامذاق اُڑاؤ " اماں جی اس طرح نصیحت کرتیں کہ اس بات یا نصیحت میں وزن ہوتا۔ 
ہمارا بچپن جس گھر میں گزرا میں نے اس گھر کا مکمل نقشہ ایک قسط میں لکھا ہے ، اس گھر کا کھانے والا کمرہ اچھے سائز کا تھا وہاں کھانے کا درمیانے سائز کا میز اور چھے کرسیاں تھیں ۔ ایک طرف اتنی جگہ خالی بچ گئی تھی کہ چارپائی بچھی رہتی اور اس پر ہلکا سا بستربھی بچھا رہتا ، مہمانوں کی آمد پر اس چارپائی کو ہٹا دیا جاتا ، عام دنوں میں جو بھی اردلی ان دنوں ہوتا ، دن کے وقت اگر کمر سیدھی کرنا چاہتا تو اپنے کمرے میں جو تیسری منزل پر تھا، جانے کی بجاۓ وہیں ، دوپہر گزار لیتا ۔ ہمارے گاؤں سے ایک ایسا ذہنی پسماندہ کردار کبھی بھولے بھٹکے آ نکلتا ، وہ گاؤں میں کہاں سے آیا ، کون تھا ،کسی کو معلوم نہیں ، اگر اس کا کوئی خاندان تھا بھی تو وہ خود ، حواس کی دنیا سے دور شخص بن چکا تھا ، کسی نےاس سے کرید نہ کی کبھی کسی نے کچھ دے دیا تو کھا لیاکبھی کسی نے کوئی کوٹھڑی دے دی وہ اسی طرح 50 ، 55 کی عمر تک پہنچ گیا تھا ،، یہ معلوم نہیں کہ اسے سال میں ایک آدھ دفعہ ہمارے گھر کا کیسے پتہ چلتا اور وہ آجاتا بےتحاشا  بڑھی  ہوئی داڑھی، منہ سے کوئی واضح بات نہیں ، سخت گرمی میں بھی اوور کوٹ پہنے رہتا ، سردیوں میں سر پر کنٹوپ والی اونی ٹوپی ہوتی ، اور فوجی بوٹ تو اسے اباجی دیتے رہتے ،، اسے " بادی " کے نام سے بلایا جاتا ۔ اماں جی اس سے خوش مزاجی سے بولتیں ، اباجی کا اردلی کو حکم ہوتا سب سے پہلے اس کی داڑھی کم کرا لینا اور خط بنوا دینا ۔، اردلی وہیں نائی کے حمام میں اپنی نگرانی میں اسے نہلا دیتا ،،، یہ سب" بادی" کو بہت ناگوارگزرتالیکن اس بات کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ " بادی " اتنی مخبوط الحواسی میں بھی " اباجی کا نہ صرف احترام کرتا بلکہ انہی کا ہر کہنا مانتا ،،،، مجھے اس کے حلیے یا بےربط باتوں کی وجہ سے ڈر لگتا ،، لیکن جوجی اس سے بالکل نہ ڈرتی ( ہم لوگ 6اور 7 سال کی ہوں گی ) وہ بہت دلچسپی سے روز صبح شام جا کر اسے پنجابی میں ضرور پوچھتی "بادی" کے کھاسیں (کیا کھاؤ گے ؟)، تو وہ فورا" کہتا مرچیں ! اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی خوراک کا کوئی خرچ نہ تھا وہ صبح شام چاۓ پیتا تو اس میں بھی پسی سرخ مرچیں دو تین چمچ بھر کر ڈالتا ، دوپہر کو آدھی روٹی تو وہ بھی سبز یا سرخ مرچوں کے ساتھ کھا لیتا ، بادی کا قیام کبھی دس دن اور کبھی پندرہ دن ہوتا لیکن اس دوران وہ اسی اردلی والی چارپائی پر قبضہ کیے رہتا ، لیکن اس سے بدسلوکی کی اجازت کسی کو نہ تھی ،،،، میں جب ایسے کرداروں کے متعلق سوچتی ہوں ، تو اپنے والدین کی طرف سے عملاً کردارسازی کو محسوس کرتی ہوں ، ، وہ بہت حد تک " پریکٹسنگ مسلم " تھے ! افسوس ہم اُن کے نقشِ قدم پر نہ چل سکیں ، نہ ہی اتنی وسعتِ قلبی پیدا کر سکیں۔
!!!دورِ حاضر میں میسر ہر چیز ہے لیکن 
کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں وہ بچھڑے ہوۓ لوگ 
( منیرہ قریشی 12 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )