جمعرات، 24 دسمبر، 2020

' پنجرے'

" اَک پرِ خیال "
' پنجرے'
،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کتنے خوبصورت پنجرے ہیں ، لائن سے دھرے ،،، کوئی ہلکے نیلے ، کوئی لیمن رنگ کے ،، ذیادہ سفید رنگ میں ڈھلے ،،، کچھ زنگال رنگ کے بھی ہیں ،، کچھ کے باہر ہلکا سبز رنگ عجب بہار دے رہا ہے ،،،، ان سب پنجروں کے سائز کچھ چھوٹے کچھ بڑے ہیں ۔ اور ان کے داخلی در کچھ چھوٹے ، کچھ کے اونچے بھی ہیں !
اندرکی رہائشی مخلوق میں کچھ پُرسکون ،، کچھ بےچین ہے ، نہ جانے کیوں ،،، کچھ کے انداز میں بےحسّی ہے ،، اور کچھ بےبسی میں ڈوب چلے ہیں ۔۔ نہ جانے کیوں ،،،،!
کبھی کسی پنجرے سے آہ وفغاں کی لہریں اُٹھتی ہیں کہ جیسے کسی کی جدائی کا نوحہ پڑھا جا رہا ہو !!!
اور کبھی کسی پنجرے سے بےآواز آنسو ،،، دلوں پر گر رہے ہوتے ہیں ،،کیسے عجیب پنجرے ہیں ، خوبصورت ، خوش کن ، آسودہ ، آرائشی ،، لیکن ہر پنجرے کے گِرد عجیب سی سیاہی کا ہالہ ہے ،،، یہ کیسا ہالہ ہے کہ چاہے چھوٹے سے چھوٹا پنجرہ ہے یا بڑے سے بڑا ،،، سبھی ایسے سیاہ ہیولے میں ملفوف نظر آ رہے ہیں ۔۔ اور ان کے اندر کی مخلوق کو ہولا رہے ہیں!!،،،، اور جب بھی کسی پنجرے سے کوئی " پنجر " ،،، اپنا پنجرہ چھوڑ کر اُڑ جاتا ہے ، تو باقی ساتھ رہنے والے کیسے اجنبی ہو ، ہو جاتے ہیں ۔۔۔ آہ یہ خوبصورت پنجرے ،،، آہ کتنے ذوق و شوق سے بنائے ، خوب آرائش و آسائش لیۓ پنجرے ،،، کیسے خودساختہ ، خود قبولیت کے قید خانوں میں بدل گۓ ہیں ۔ یہ اکیسویں صدی نے زمین کے مکین کو کیسے اِک نیا ، لیکن تکلیف دہ طرزِ رہن سہن سکھایا ہے ۔
آہ ،، خوب بڑے پنجروں کے مکین ہاتھوں میں مال ودولت پکڑے ڈھونڈتے پھرتے ہیں ،، وہ خطۂ زمین جہاں ان کو آزاد فضائیں مل جائیں ، آزادانہ ملنا ملانا ہو ،، جہاں چہرے دیکھے بھالے ہوں ، کہ یہ میرے ہی جیسا ہے ،، یا کوئی اور مخلوق ،،،،، جہاں کا خطہ خوف و وہشت سے آذاد ہو !!! پنجر اپنے اپنے حصوں کی خود ہی تجویزکردہ قید کے شیڈول میں قید ہیں ،،، ہم پرندوں اور جانوروں کی ،،، اور ،،، انسانی قید کا احساس اب تو ہو گیا ہو گا ۔ شاید یہ آزمائش " احساسات " کے مرتے لیول میں جان ڈالنے کے لیۓ ہی بھیجی گئی ہو ، شاید یہ ان خوبصورت پنجروں کی محبت سے آزادی کا کوئی گُر ہو ۔ شاید ،،، شاید ،، شاید !!!

( منیرہ قریشی 24 دسمبر 2020ء واہ کینٹ )( کورونا وباء کے تناظر میں لکھی تحریر ۔) 

جمعہ، 27 نومبر، 2020

' معیارِ محبت'

اِک پرِ خیال

' معیارِ محبت'

۔" ماں کی گود سے قریباً دس بارہ سال کی عمر تک،والدین ، بہن بھائی پسندیدہ ترین لوگ،چند کھلونے اور ایک دو " لباس" پسندیدہ ترین چیزیں رہتی ہیں ۔ اور اسی دوران خوف اور بےہمتی کی لمبی لِسٹ بنتی بگڑتی رہتی ہے ۔ اور نہایت آہستگی سے وہ طولانی ، طوفانی دور شروع ہو جاتا ہے جو پندرہ تا پینتیس کی عمر تک ضرور چلتا چلا جاتا ہے ،،یہی دور خود سے محبت کا عجب جوار بھاٹا لیۓ ہوتا ہے ۔ صبح سویرے سے رات گئے تک ایک ہی " سُر " نکلتا ہے ،،،، " میَں ، میَں ، اور بس میَں" ۔ اور اس کے ساتھ ہی باقی محبتیں کمزور پڑ نے لگتی ہیں ، جبکہ چند نفر تیں یا تو شدید ہو جاتی ہیں یا ،، معدوم !!! اور یہی دو جذبے نمایاں طور پر ارد گرد گھومتے چلے جاتے ہیں۔

یکدم نئے رشتے جب مکمل توجہ کے کڑے حصار میں لے آتے ہیں تو کتنے ہی سال انہی محبتوں ، کی خوبصورت دمکتی ہتھکڑیاں کیسے خوشی سے پہنے پہنے سب کے سامنے جاتے ہیں ،، دکھاتے ہیں کہ لو بھئ ہم ہیں کامیاب لوگ ۔ تب ایسے میں یکدم واٹر کلر سے لکھے لفظ " محبت " پر ایک ہی بےاعتنائی کا قطرہ گرتا ہے ، اور لفظ محبت عجیب بےہیت روپ اختیار کر جاتا ہے ،،، وہ لفظ ، محبت اور میَں سے بدل کر " تُو ، تُم اور صرف وہ " ،،،، کی تکرار میں بدل جاتا ہے ۔ اور " وہی " اپنی تخلیق کو کچھ نئے نکتے سُجھاتا چلا جاتا ہے کہ نفی کرلو ، اور اثبات کی چادر اوڑھ لو ۔ کہ یہی اصل حلیہ ہے۔

اور پھر ہمت کی دیوار اونچی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، نفرتیں معدوم اور خوف محدود ہوتا چلا جاتا ہے ۔ نہ جانے پُلوں تلے کتنا پانی گزر گیا ہوتا ہے کہ ،،، نمکین پانی والی دوات سے پلکوں کے قلم نئی تحریریں لکھتے چلے جاتے ہیں ، تب محبتیں ، نفرتیں ، ہمتیں ،، اور خوف نئے روپ دھار لیتے ہیں ، تفکرات بےمعنی ہو جاتے ہیں اور بےنیازی کا دریا،دعوتِ تیراکی دیتا ہے،،معیارِمحبت،،کتنی محبت سے بدلایا جاتا ہے،،،!شکریہ اے مالک۔


منگل، 20 اکتوبر، 2020

" تھکن "

" اک پَرِ خیال"
" تھکن "
بچہ ابھی پنگھوڑے میں ہی ہوتا ہے کہ اس کی تھکن اور صحت کے خیال سے مائیں اس کی مالش کرتی ہیں ۔ بتدریج بڑا ہونے تک یہ ہی سلسلہ جاری رہتا ہے ۔جیسے جیسے بچے کی مصروفیات بڑھتی جاتی ہیں ،، اس کی جسمانی اور ذہنی قلابازیاں اسے فرق قسم کی' تھکن ' کے احساس سے دوچار کرتی چلی جاتی ہیں ۔یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا ہے ،،،اور بچہ اب سکول یا کالج ، یا یونیورسٹی کا وہ جوان بن چکا ہوتا ہے ،، جس میں توانائی ، جرآت ، اور ہمت کا جواربھاٹا موجود ہوتا ہے ،، زندگی کے سبھی راستے 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیۓ جا رہے ہوتے ہیں ،،، لیکن اِس دور میں بھی تھکن کا احساس غیرمحسوس انداز سے اعصاب کو متاثر کرتا چلا جاتا ہے ۔ جسے جوانی کا جوشیلا خون کوئی اہمیت نہیں دیتا ،،،، تب پھر غمِ جاناں اور غمِ روزگار کا انوکھا راؤنڈ شروع ہوتا ہے ،،، زندگی کی آرزوئیں ، مطالبات اور مختلف ٹارگٹ ،، 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑاتے ہوئے ، ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچا کر دم لیتے ہیں ۔ اور آخر میں آرم چیئر پر بیٹھ کر چاۓ پیتے ہوۓ ، اخبار پر نظریں جماۓ پُرسکون ، بےفکر بڑھاپا ،، کسی کسی کی " پِچ " پر میچ کو جتاتا ہے ،اور انھیں تھکن کا احساس بھی خوشگوار لگتا ہے ،،،، زیادہ تر لوگ زندگی کے اس میچ میں اپنی آخری اننگ بغیر ہار جیت حاصل کیۓ ، چلے جاتے ہیں اور بہت سے جیت بھی جائیں تو تب تک اتنے تھک چکے ہوتے ہیں کہ جیت کا لطف لینا تو کُجا ،،، انھیں پھر یاد ہی نہیں آتا کہ " ہم کیا کھیل رہے تھے ، اور کھیلے تھے تو کس کے ساتھ "،،،،،،، وہ بس چہرے پر جھریاں سجائے ،، ہونٹوں کے کونے ڈھلکائے ،، پپوٹے آنکھوں پر جھکائے ،، ایک بےتائثر چہرہ لیۓ زندگی کے آخری ' اوور' کو گزار رہے ہوتے ہیں ،، تھکن نے انھیں وہ تھکن دے دی ہوتی ہے کہ وہ اس جملے کی تصویر بن جاتے ہیں "بس میں بہت تھک چکا / چکی ہوں!
شاید تھکن کو روح کی پیدائش کے ساتھ ہی تخلیق کر لیا گیا تھا ، اسی لیۓ روح نکلتی ہے تو تھکن بھی اسی کے ساتھ روانہ ہو تی ہے ۔ وَاللہُ العلم !!

( منیرہ قریشی 20 اکتوبر 2020ء واہ کینٹ ) 

پیر، 28 ستمبر، 2020

" اِکتارا"

" اِک پَرِ خیال "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" اِکتارا"
سُر اور سوز ، ہمیشہ انسانی روح کے لیۓ " ٹھٹک" جانے کا سبب بنتے رہتے ہیں ۔ لیلُ و نہار کڑی محنت سے گزارنے والا ہے ،،،یا ،،عیش کے خُمار میں ڈوبا شخص ، اگر ہوا کے دوش پر کوئی پُرسوز سُریلی آواز کان سے ٹکرائی ،،، تو لمحے بھر کے لیے یا چند منٹ کے لیۓ وہ سراپا کان بن جاتا ہے ،،، دل کی دھڑکنیں کچھ دیر کے لیے مست انداز سے چلتی ہیں ،،، اور بس ،، !!!
دراصل اس لمحے انسان کی روح اُسے " قانونِ فطرت " کی وہ شِق یاد دلاتی ہے ،،کہ ،،،،،" پُرسوز سُر میں ڈھلی آواز گلے میں محفوظ کرنے والی ایک ذات ہے اُس کا قُرب حاصل تو کر کے دیکھو،، مزید ہزار ہا لہروں کے ترنگ ، و رنگ سے آگاہی پا لو گے"
شاید 30 سال قبل ، حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ کے مزار پر جانا ہوا ،، بڑے سے، داخلی حصے سے داخل ہوئی تو کچھ منگتے آس پاس بیٹھے تھے لیکن ایک سائڈ میں گہرا سانولا ، دُبلا، مفلوک الحال سا اٹھائیس ، انتیس سالہ
نوجوان آگے رکھے ہارمونیم کی ہلکی آواز سے اپنی بلند ، لیکن پُرسوز آواز میں سرائیکی زبان میں صوفیانہ کلام گا رہا تھا ،، اندر داخلے سے پہلے ہی ٹھٹک گئی ، اور چند لمحے اسے دیکھا ، سُنا ،،، چند روپے اس کے ہارمونیم پر رکھے ،،، اس کی آنکھیں بند تھیں یا کسی لمحے نیم وا ہوتی ہیں ،، پھر جیسے اپنی ہی آواز کے سُر اور لَے میں ڈوبا ،، آنکھیں بند کر کے مست ہو کر گا رہا تھا ،،، مزار میں داخل ہو کر فاتحہ پڑھ کر واپس پھر قدم اس کی آواز کے ردھم نے روک لیۓ ،، وہ اسی مستی کے ساتھ سُر اور سوز میں ڈوب اور اُبھر رہا تھا ،، بے اختیار چند روپے پھر اس کے ہارمونیم پر رکھ دیۓ۔
ابھی اس نے پہلے کے روپے بھی نہیں اُٹھائے تھے ۔ بند آنکھوں سے ہی اس کی ہلکی سی مسکراہٹ محسوس ہوئی ، ،، اور میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔
30 سال کا وقفہ ہوا ،، لندن کے ٹیوب سٹیشن سے ٹرین پکڑنا تھی ، سٹیشن میں داخل ہوتے ہی ایک پِلر سے ٹیک لگائے ، 28/ 29 سالہ جوان ، قدرِ سانولا ، اور کچھ نیگرو خدوخال ، موٹے شیشوں کی عینک ، لمبے بالوں جینز شرٹ اور جینز کی کوٹی پہنے ،،، آنکھیں بند کیۓ ایسا بلند آہنگ کا پُر سوز سُر بکھیر رہا تھا کہ سارا سٹیشن ، بغیر مائک کے ہی گونج رہا تھا ،،، لیکن یہ گونج سوز کے تال سے اس سُر سے مل رہی تھی،،کہ میرے قدم رُک گۓ، اس نے اپنے گٹار کی آواز کو بہت مدھم رکھا ہوا تھا ،،، یہاں غیر ملکی زبان گائی جا رہی تھی ،، جس سے میَں ناواقف تھی ۔ گائک اتنے مست انداز سے گا رہا تھا ،، جیسے اپنے ہی ردھم سے لطف اندوز ہو رہا ہو ،، اس کی آنکھیں بند تھیں ، وہ بھی ملتان کے مست گلو کار کی طرح زمین پر بیٹھا اپنی ذات کے ردھم میں جھولے لیتا محسوس ہوا ۔ لندن کے اس گائک کے سامنے پڑے ہیٹ میں ایک پونڈ ڈالا ،، مزید چند منٹ کھڑی رہی ،،، اس نے نیم وا انکھوں سے شکریہ کی ہلکی سی مسکراہٹ دی ۔ اور پھر آنکھیں بند کر لیں ، اور میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔،،
کائنات میں سُر شاید اس کی پیدائش سے ہی رواں دواں ہیں ۔ سوزِ سُر جب بھی کوئی بکھیرتا ہے ،، فاصلے ، سمتیں ، زبانیں ، جگہیں ،، بے معنی ہو جاتی ہیں ۔ سُر کی یہ لہریں کس قدر پُر اثر ہوتی ہیں ،، کہ " دل کے تار ،، " اِکتارا" بن کر سُر بکھیرتے ہیں تو پاؤں پکڑ لیتے ہیں ،،، اور اس کی لَے پر مست ہو کر ناچنے کو دل چاہتا ہے ۔ اب سمجھ آیا شمسِ تبریؒز نے رومیؒ کو رقصِ درویش کی طرف کیوں متوجہ کیا۔

( منیرہ قریشی 28 ستمبر 2020ء واہ کینٹ ) 

پیر، 24 اگست، 2020

"لمحے(17،1819،20،21)

لمحے نے کہا  (17)۔
۔" اگر بندے کی ذات اور صفات کو ایک پلڑے میں رکھا جاۓ ،دوسرے پلڑے میں اس کے رویے اور احساسِ ذمہ داری کو ! تب باآسانی" ستھرے یا گندے جینز" کا تعین ہو سکتا ہے۔(ورنہ بزعم خود بہت بلند باگ دعویٰ داری چلائی جاتی ہے)۔
( منیرہ قریشی 18 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا  ( 18)۔
۔" کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ،، دنیا سے جانے کے بعد بھی "دلوں اور باتوں" میں روزانہ کی بنیاد پر خوشبو کی طرح موجود رہتے ہیں ، میرے خیال میں " شہادت " کا یہ بھی ایک درجہ ہوتا ہے۔
( منیرہ قریشی، 19 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا (19)۔
( الذّٰ رِ یٰت ، 28/29 )
۔" کہنے لگے فرشتے ، " نہ تم ڈرو " اور خوشخبری دے دی اُس کو ایک لڑکے کی ، تو اُس کی بیوی حیرت میں آ گئی اور چہرے پر ہاتھ مار کر کہنے لگی "میَں بڑھیا ، بانجھ "،؟! کہنے لگے فرشتے " اِسی طرح ہو گا "،، گویا   "اللہ  ذاتِ باکمال  "بندوں کو "خوشگوار حیرت" دے کر خوش کرتا ہے۔دنیا میں بھی بعض دفعہ غیرمتوقع نعمتوں کا ِمل جانا  ہوتا ہے ،، امیدِ واثق ہے ، دوسری دنیا کاٹکٹ دائیں ہاتھ کی 'خوشگوار حیرانی' سے ہو گا ۔ ( اِن شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 24 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا (20)۔
۔" سواۓ تیری رحمت کے ، میرے پاس کوئی ' ہتھیار ' نہیں ۔اُمیدِ واثق ہے یہ ہتھیار کُند نہیں ہو گا ،،کہ زنگ سے بچانے کے لیۓ اسے نمکین پانی ملتا رہتا ہے"۔

( منیرہ قریشی ،27 اگست 2020ء واہ کینٹ )
لمحے نے کہا ( 21)
" اگر مچھلیوں کے تیزی سے رقص کرنے سے سمندر کے پانی میں بُو پیدا نہیں ہوتی ،،،،، اگر زمین کے اندر کے کیڑے اپنی جگہوں کو تبدیل کرتے اور کھودتے ہیں اور ،،، یوں زمین بار آور ہونے کے عمل سے گزرتی رہتی ہے ۔ تو انسان جب تمام فرائض سے عہدہ برا ہو چکا ہوتا ہے ،،اور کرنے کو کوئی خاص کام نہیں رہتا ،،، تب اُسے تبدیلی آب و ہوا اور جگہ ،، اور ،، نئے مناظر کی اشد ضرورت ہوتی ہے ! تاکہ وہ بھی بقایا زندگی ، میں مچھلی یا چیونٹی کی طرح کوئی کام کر تا جاۓ ،، خود کے آخری دَور کو بدمزاجی اور نظراندازی کے صحرا کے حوالے نہ کر دے ! بھلا کیوں کرے ؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی ، 12 ستمبر 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 14 اگست، 2020

"اے میرے وطنِ خاص"

۔" 14 اگست 2020ء"۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اے میرے وطنِ خاص
تیرے لیے ہجرت کرتے نفُوس
تیری راہ میں شہادت کے پھول چُنتے نفُوس
خونِ غیرت سےتیری راکھی کرتے ،،،،۔
سرحدوں پرپرچمِ پاک کا نشاں لگاتے نفُوس
ہم آج اُن کی بھی یاد منا رہے ہیں !!۔
آنسوؤں سے سجے تشکر کے پھُول
ہماری طرف سے ہوں قبول !!!۔
(۔14 اگست 2020ء کے یومِ آزادی پر )
( منیرہ قریشی ، واہ کینٹ )

بدھ، 12 اگست، 2020

لمحے(13،14،15،16)

" لمحے نے کہا " (13)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔'' میَں دعاؤں میں بہت سے لوگوں کو شامل رکھتی ہوں ، اس اُمید پر ،، کہ اب بہت سے لوگ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر رہے ہوں گے ۔۔۔سوچتی ہوں دعاؤں کے اتنے پارسلز کی "وصولیاں " کیسے نظر انداز ہو سکتی ہیں ۔ تو پھِر رحمت ، مغفرت ، اور تحفظ پر یقین تو بنتا ہے مولا !!! ( بھلے یہ لین دین ہی سہی ) !۔
( منیرہ قریشی 23 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " ( 14)۔
کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیۓ "دُم دار ستارہ "بن جاؤ ! ( دُمدار ستارے کی جو بھی توجیع ہو) وہ لمحے بھر کے لیۓ ،،، وارفتگی ، استعجاب ، اُمید ، اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
پسِ تحریر۔۔
دعا کے ایلیمنٹ کا کیا کہنا،،، کہ جب مانگو ،، کچھ فوری ملے نہ ملے ،،، تسلی اور سکون ضرور مل جاتا ہے ،، جو کسی بھی بازار سے نہیں مل سکتا ! اور یوں اپنے ' اصل ' کے ساتھ کبھی مضبوط ، اور کبھی کمزور تعلق قائم رہتا ہے ،، اپنی باری پر پارسل کھلتے چلے جاتے ہیں ،الحمدُ للہ !۔
( منیرہ قریشی ، 25 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا" ( 15)۔
۔"جب آپ کسی محفل میں صرف دوسروں کی سُنیں اور کسی کے لیۓ کندھا بنے رہیں ۔اور خود کو منوانے ، سنانے کی کوئی کوشش نہ کریں ،،، تودراصل آپ نے " سلمانی ٹوپی " پہنی ہوتی ہے " ۔
( منیرہ قریشی ، یکم اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " (16)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔ کبھی کبھی بولے جانے والے الفاظ ہی بندے کا لیول ،،، اور تعارف بن جاتے ہیں۔اور ، کبھی کبھی بولے گئے الفاظ ، بولنے والے کے خلاف گواہی بن جاتے ہیں ،،، اور سزا پر سزا سناتے چلے جاتے ہیں۔
آہ ! بندہ کب ، کہاں اور کیا بولے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی 12 اگست 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 28 جولائی، 2020

"لمحے؟(9،10،11،12،)

" لمحے نے کہا " (9).۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" میرے خالق ! میرے آنسو تیرے سامنے ، تیری محبت میں بہتے ہیں ،،یا ،، تیرے خوف سے ،، یا ،، تیری شکرگزاری میں!!! درجہ بندی کرنے والی بس تیری ذات پاک ہے ۔
( منیرہ قریشی 16 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 10)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" اگر کسی کا راز رکھنے کا ظرف نہیں ہے ،،تو نہ اگلے کو " کُریدیں " ،،، نہ کچھ سننے کی کوشش کریں ! ایسے موقعوں پر " بہرا " بن جانا ،اعمال کو وزن دار کر سکتا ہے " !۔
( منیرہ قریشی 17 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا" (11)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" اچھی سوچ " خیر" ہے ،،،، اب اسےنرم ریشم اور احترام کے "الفاظ " کا لباس پہنا دو ۔
۔" بُری سوچ " شَر"ہے ،،، اسے طنز و تنقید کے" الفاظ کا لباس " پہناؤ گے ،،، تو خود ہی ننگے ہو سکتے ہو !!
( منیرہ قریشی، 19 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " (12)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔'' یہ اولیاء اللہ بھی خالق کی کیا شاندار اور بےمثال تخلیق ہیں ۔ اپنے نفس کو نکال کر اُسے چوکیدار کی وردی پہنا ، ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا ،، دروازے پر کھڑا کر دیتے ہیں ۔ خود پچھلے دروازے سے دنیا پِھر آتے ہیں جہاں ضرورت ہو وہاں مدد پہنچا کر ،،، پچھلے دروازے سے ہی داخل ہو کر ،،،، چوکیدار سے پو چھتے ہیں ،،، " کوئی آیا ، گیا؟؟؟ ""!۔
( منیرہ قریشی ، 20 جولائی 2020ء واہ کینٹ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 13 جولائی، 2020

"لمحے(4،5،6،7،8)۔"

" لمحے نے کہا " (4)۔
امیر خُسروؒ نے مُرشدؒ کی نعلین 7 لاکھ چیتل ( اُس وقت کا سِکّہ) میں خرید لی تھی ، اللہ کی محبت تک لے جانے والے "رہنما"سے شاندار اظہارِ عقیدت ،،،،،۔
لیکن عام عوام بھی خوش قسمت ہیں کہ جیب خالی ہی سہی ،،زبان اور دل، اُس کے وِرد سے اظہارِمحبت کر تے رہتے ہیں۔! (باعثِ اطمینان ، باعثِ اطمینان )۔
( منیرہ قریشی ، 8 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " (5)۔
کئی دفعہ دل کا برتن سکون اور شکرگزاری سے اتنا لبالب بھرا ہوا ہوتا ہے کہ اب ایک قطرے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ،،،،، لیکن پھر پتہ نہیں کیسے ،، اس میں سے بےچینی اور بےسکونی چھلکنے لگتی ہے ۔ اور لبریز برتن دیکھتے ہی دیکھتے آدھا ہو جاتا ہے ،، نہ جانے کیوں ؟! شاید فطرتِ انسانی !! شاید تلاشِ اَصل !!!!۔
( منیرہ قریشی 9 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
"لمحے نے کہا " (6)۔
'' زندگی میں کچھ لوگ ہمارے لیۓ ہمارا ٹسٹ ہوتے ہیں ،،، لیکن لمحے بھر کے لیۓ سوچیئے ،،،،کہیں ہم اُن کے لیۓ تو " ٹسٹ " تو نہیں بن رہے !!۔
( منیرہ قریشی 11 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 7)۔
۔" عجمی سے عربی کی الہامی آیات و الفاظ کی ادائیگی میں کچھ کمزوری ہو بھی جاۓ ،،،تب بھی اخلاص و محبت کے گراف سےپاسنگ مارکس لے ہی لے گا " ( ان شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 12 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 8)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" متکبر لوگ کتنے ' قابلِ رحم ' ہوتے ہیں ۔ اپنی سزا خود اپنے کاندھوں پر اُٹھاۓ پھرتے ہیں ،، وہ سزا ،، نخوت کی رسی ہوتی ہے ۔جو روزانہ اسےجکڑتی چلی جاتی ہے "
( منیرہ قریشی15 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 7 جولائی، 2020

" لمحے نے کہا" (3)۔

۔" لمحے نے کہا" (3)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
٭۔۔۔ جب" رات " کو
میَں نے کھڑکی سے جھانکا
تو اندھیرے نے مجھے ڈرا دیا !!۔
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات میں
درخت یوں سہمے کھڑے ہیں
جیسے اندھیرے سے ڈر رہے ہوں
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات نے
چُپکے سے آکر میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے
اور اٹکے آنسوؤں سے اسکے ہاتھ بھیگ گئے!۔
٭٭٭٭٭٭
( منیرہ قریشی 7 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

پیر، 6 جولائی، 2020

" لمحے نے کہا " (1،2)۔

۔" لمحے نے کہا" ( 1)۔
٭جب زندگی میں آپ کبھی برائی  یا رویوں  کی گراوٹ کا شکار ہو جائیں،اور اس کھائی میں لڑھکتے چلے جا رہے ہوں،،، کوئی منع کرنے والا نہیں،کوئی روکنے والا نہیں۔۔۔بس اتنا کریں کہ لمحے بھر کو رُک جائیں،،جہاں ہیں وہیں بیٹھ جائیں،،اب اِس جگہ ، اس گھڑی سےمزید " سطحی اخلاق " کے رویےپر جم نہ جائیں ،،،مزیدکوئی  جملہ کہہ کر جوابی وار نہ کریں ،، رُک جائیں۔ایسا نہ ہوکہ لڑھکتے چلےجائیں اور ابھی تو ڈھلان کی طرف لڑھکتے ہوئے،،،کچھ تو بیٹھنے، سانس لینے کی جگہ ہے ،،، لیکن اگر یہاں اس وقت نہ رُکے،،، تو پھر آگے کھائی ہے اور وہاں کہے گئے گھٹیا جملوں کی کھائی میں ، ہم خود چُورا چُور پڑے ہوں گے!!! کیوں کہ جواباً کچھ کہنا آسان ہے ،،، لیکن کچھ نہ کہنا معراج ہے ۔
پسِ تحریر۔۔۔
 یہ دانشمندی کی باتیں شاید نہ ہوں ،، البتہ زندگی کے وہ تجربات  ضرور ہیں  جو ہم ایسے ہی جملوں سے ترتیب دے ڈالتے ہیں ،،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے تو ہم " ٹھاکر " بنتے چلے جاتے ہیں !! کہ شاید کوئی ہماری تجویز سے فائدہ اُٹھا لے ۔ ایک فریق وہ ہوتا ہے ، جو ٹھوکر کھا کر جلدی سمجھ اور سنبھل جاتا ہے جبکہ وہیں دوسرا فریق ہوتا ہے جو " مجھ سے کچھ غلط نہیں ہوسکتا" کا رویہ اپناۓ رکھنے میں زندگی گزار دیتا ہیں ۔ اللہ ہمیں فراست سے بہرہ مند فرماتا رہے۔آمین !۔
( منیرہ قریشی ،، 5 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " (2)۔
٭"جب بھی کسی سے اختلافِ راۓ ہو ، اور اُسے جوابی جملے بہ آسانی سناۓ جا سکتے ہوں ،،، تو لمحے بھر کو رُک کر یہ ضرور سوچ لیں کہ اگلے پانچ یا دس سال بعد یہی جملے آپ کو خود کوئی اور سُنا رہا ہو گا ،،، تو دل کی کیا کیفیت ہو گی ؟؟؟؟کیوں کہ جس طرح محبت کے بدلے محبت مل ہی جاتی ہے تو دل آزار جملوں کی بھی کبھی نہ کبھی باری آ ہی جاتی ہے "۔
( منیرہ قریشی 6 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 9 جون، 2020

" محض ایک دروازہ ہوں

" محض ایک دروازہ ہوں "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مَیں تو محض ایک دروازہ ہوں
کبھی اُونچا ، کھُلا ، میخوں جڑا
کبھی نیچا ، اُکھڑا ، اُجڑا
مگر اِس کو الانگتے قدم
کبھی پُر اعتماد ، سیدھی نظر ، جمے قدم
کبھی یہیں سےگھُستی تیز ، تیکھی حاسد نظر
کبھی پلٹتے مایوس قدم ،،،گیلی نظر
کبھی پلٹتی انتقامی پھُونکیں ،،،،،
بہ واپسی طنز کے خنجر ، سازشی محفلیں
تیاریاں ،، تیاریاں !
کبھی حوالہ کہ باپ ہوتا ہے گھر کا دروازہ
سراپا مدافعت ، معاونت ، محافظت
کبھی مانند مثالِ ماں ہے گھر کا دروازہ
گرم ، سرد ، رُوکھا سُوکھا سمیٹنا سمٹانا
لیکن میَں تو محض ایک دروازہ ہوں
شاید محض ایک اِستعارہ ہوں ،،،،؟
( منیرہ قریشی 9 جون 2020ء واہ کینٹ 

اتوار، 24 مئی، 2020

" صبر کا سُرمہ "

" صبر کا سُرمہ "
( دعا ،،، اُن کے لیۓ جن کی آنکھیں اس عید سے اور آئندہ عیدوں میں بھی نمناک رہیں گی )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کوئی لفظ نہیں ،۔
کوئی جملہ نہیں ،۔
کہ بعض دفعہ الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں
کہ بعض دفعہ بھر پور جملے حقِ ادائیگی کھو دیتے ہیں !۔
خاموش آنسو زمانوں تک خود ہی مداوا بنتے رہیں گے !۔
دعا ہے ، اُن آنکھوں میں صبر کا سُرمہ بہہ نہ پاۓ
صبر کی صَف سے وہ کہیں نکل نہ جائیں !۔
کہ صبر اور محبتِ الہیٰ ،،، شرطِ حق ہےٹھہرا !!۔
اِنّ اللہَ مَعَ الصَابریِن ( اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے )۔
( منیرہ قریشی ، 24 مئی 2020ء واہ کینٹ )

 

منگل، 19 مئی، 2020

" اِک پر خیال(43)"

" اِک پر خیال"
تاریخ ہی تاریخ (حصہ دوم)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مؤرخینِ تاریخ ، چاہے کسی بھی خطے سے متعلق ہوں ،، ذیادہ تر اُن میں وہ ہیں ،جنھوں نے لکھتے وقت انصاف سے کام لینے کی کوشش کی ہوتی ہے ،، ظاہر ہے تھوڑا بہت تعصب اگر آ بھی جاۓ ،،، تو یہ انسانی فطرت ہے ۔ کہیں عقیدہ ، کہیں معاشرتی لیول ، کہیں قبیلہ یا کہیں میلانِ طبیعت آڑے آ ہی جاتا ہے،،، لیکن مؤرخ ہمیں گزرے وقت میں چلائی جانے والی سازشوں ، خودغرضیوں ، ہیروز کی ان تھک محنتوں ، محبتوں ، اور اُن کی راہوں میں رکاوٹیں ڈالنے والوں شطرنج کی بساط بچھاۓ مہرے چلانے والوں کی کمینگیوں کو بےنقاب کرتا چلا جاتا ہے ،، اور اسی دوران عام عوام پر اِن چالوں سے ہونے والے اثرات کو ساتھ ساتھ واضح کرتا چلا جاتا ہے ۔ مؤرخِ تاریخ کا شکریہ ،،، جوہمارے لیۓ ایسے صحیفے چھوڑ جاتا ہے جو دراصل " ہمارا اپنا نوشتہ ہوتا ہے "۔
ہم جو آج زمانۂ حال میں ہیں ،،، ہم جو آج تاریخی کُتب پڑھ رہے ہیں ،، ہم جو آج کل، ماضی کے ہیروز اور غداروں سے متعلق جان رہے ہیں،،،، اس سب کا کیا فائدہ ؟ زمانۂ حال ہے لیکن کردار وہی ہیں ،، وہی انا کا مسئلہ ،، وہی لالچ  وخودغرضی کی ہوس،،وہی عارضی زندگی کے لیۓ عیاشیاں، اپنی اگلی نسلوں کا محفوظ مستقبلکرنے کے جوڑ توڑ، وہی مخلص اور اہل شخصیات کی راہ میں رکاوٹیں ،،،،، آہ ،،، یہ سب کچھ ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ،، یا اِن پر بنے ڈرامے دیکھتے ہیں ،،،،، اور اگر ہم اشرافیہ میں سے ہیں ،، یا اُمراء کے طبقے میں سے ہیں ،، یا انقلابی سوچ رکھنے والے ہیں تو آج ،،،، اور ،، ابھی ہم انہی تاریخ کے صفحات میں سے اپنا کردار چُن کر اس پر ' ٹک مارک ' لگا سکتے ہیں ! کیوں کہ ابھی ہم نے کتاب کا اگلا صفحہ پلٹنا ہے اور آگے بھی ہم موجود ہیں ،، لیکن یہ سوچ لیں ، تاریخ ہمیں ایک چھُپی آنکھ سے دیکھ رہی ہے ، یہ ہی وقت ہے کہ ہم چُن لیں کہ ہمیں کس کردار کے لیۓ یاد رکھا جاۓ گا ۔ غدار یا جانباز !! یہ ہی وقت ہے کہ ہماری نسلوں کو شرمندگی نہ ہو ، ۔ ایسا نہ ہو کہ عدالت کے باہر مِیرصادق اور میرجعفر کی اولادیں جب پہلی نسل کے بعد ہی جائیدادوں کے جھگڑے لیۓ پہنچیں تو عدالتی اہلکار جج کے سامنے حاضر ہونے کے لیۓ آواز لگاتا " میر صادق غدار کی اولاد حاضر ہو """۔
" گویا تاریخ ہی اپنی تاریخ پڑھ رہی ہے ، لیکن عبرت کے بغیر "
" اللہُ اکبر ، اللہُ اکبر "
پسِِ تحریر۔۔۔
تاریخی کتب پڑھنا یا ڈرامے یا فلمیں دیکھنا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ، ان دنوں ڈرامہ " ارتغل غازی " دیکھا ،،، تو سوچ یہاں اَٹکی کہ آج بھی ہیروز کا جہان اور اس کے ارادے فرق اور آس پاس کے ولن تمام تر چالوں کے باوجود ناکام و نامراد ،،، لیکن تاریخ انھیں کن الفاظ سے یاد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی " ! طاقتور کی سوچ بدلنا بےحد ضروری ہے"۔
جس محنت سے ترکیہ کے عظیم ہیرو ارتغل سے متعلق مصنف نے لکھا ، ڈائریکٹرز نے اور اداکاروں نے فلمایا ،،،، جہاں جہاں اسے دیکھا گیا ، لوگوں کی کثیر تعداد کو  تاریخ سے دلچسپی ہوئی ہے ، اور یہ ایک محبِ وطن کی اپنے ملک کے ہیروز کو خراجِ تحسین کا بہترین طریقہ ہے۔
( منیرہ قریشی 19 مئی 2020ء واہ کینٹ )

پیر، 18 مئی، 2020

" اِک پرِ خیال(42) "

" اِک پرِ خیال "
' تاریخ ہی تاریخ ' ( حصہ اوّل )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہم جب بھی کسی تاریخی کتاب کو پڑھتے ہیں ،، اور جدید دور میں بنائی تاریخی واقعات پر مبنی فلمیں یا ڈرامے دیکھتے ہیں ،،،، تو تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اسے اپنے تصور کی آنکھ سے بھی جانچتے چلے جاتے ہیں ۔
ایک تاریخی کتاب پڑھنے والے کو اُس وقت یہ کتاب محویت کے عالم میں لے جاتی ہے کہ ،،، قاری خود کو اُسی دور کے گلی کوچوں میں پھرتا ، اسی دور کے لوگوں کے قریب سے گزرتا محسوس کرنے لگتا ہے ،،، ایک اچھے مؤرخ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ تاریخی واقعات اور مکالمے اس انداز سے لکھے کہ کرداروں کے ہونٹ ہلتے ، اُن کےکپڑوں کی سرسراہٹ ،، اُن کے گرد گزرتے گھوڑے یا گھر کے صحن میں کھنکتے برتنوں یا قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں ،،،،،یہ اچھے مؤرخ کے الفاظ اور تصورات کا وہ جادو ہوتا ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔ ہر وہ تاریخی کتاب جسے مصنف مکمل ریسرچ اور روحانی درجے کے ساتھ لکھے ضرور اس کی زبان ، ماحول معاشرت ، یا سچائی کی بنا پر تا دیر زندہ رہتی ہے ،،، بلکہ اُس اہم تاریخی واقع اور اسکے اہم کرداروں کو زندہ رکھتی ہے ۔
اور جب سے فلم کا دور آیا ،، کچھ باہمت پروڈیوسرز ، ڈائریکٹرز نے تاریخ جیسے مشکل موضوعات پر ہاتھ ڈالا ،،، اور پھر شدید محنت سے ایسے شاہ کار دنیا کو دکھا ڈالے کہ شاید جب وہ خود بھی اُس فلم کو دیکھتے ہوں گے تو سوچتے ہوں گے ،،، کیا واقعی یہ میں نے تاریخ کو " ریورس " نہیں کر دیا !!! اَن مٹ نقوش چھوڑ جانے والی یہ تاریخی فلمیں احساسات کو نئی دنیا میں لے جاتی ہیں !! حتیٰ کہ اِن تاریخی فلموں میں کردار ادا کرنے والے فنکار ،، اپنی عام زندگی میں اُسی کردار کی وہ چلتی پھرتی تصویر اور پہچان بن جاتے ہیں کہ دیر تک وہ خود بھی اُس کردار سے نہیں نکل پاتے ! شاید یہ اُس تاریخی شخصیت کے مضبوط ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔
ہم کتاب پڑھتے یا تاریخی فلم دیکھتے خود کو بھی اُنہی حویلیوں ، قلعوں ،،، یا خیموں میں موجود پاتے ہیں ،،،، کبھی کسی قلعے کی راہداریوں میں سازشیں کرتے کردار ،، کبھی حویلیوں پر اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب ،، اور کبھی پُر امن رہتے لوگوں کے جلاۓ جانے والے خیموں کو دیکھتے ہوۓ ، کہنا چاہتے ہیں ،،،،، چند لمحوں بعد یہ قیامت  آیا  چاہتی ہے ،، یہ سازشیں نہ کرو ،،، اس کا انجام بُرا ہی بُرا ہے ،،، یہ بےانصافیاں نہ کرو ! کہ صرف چند سال ، یا چند سو سال بعد لکھی گئی تاریخ میں تم نفرین زدہ کردار بنو گے،،،، مت ایسا قدم اُٹھاؤ کہ عارضی دولت ، شہرت کی خاطر لمحوں کی غلطیاں اور انا کے تکبر سے پوری قوم صدیوں عذاب جھیلے گی،، اس کچھ دیر کی دنیا کے بدلے ہمیشگی کی زندگی کا سودا نہ کرو !! اور پچھتاوے کا طوق گلے میں مت 

ڈالو ،، کہ یہ دنیا تو کسی کی نہیں ہوئی ، چاہے وہ تاریخ کا ہیرو تھا یا ولن !!۔
پسِِ تحریر۔۔۔
تاریخی کتب پڑھنا یا ڈرامے یا فلمیں دیکھنا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ، ان دنوں ڈرامہ " ارتغل غازی " دیکھا ،،، تو سوچ یہاں اَٹکی کہ آج بھی ہیروز کا جہان اور اس کے ارادے فرق اور آس پاس کے ولن تمام تر چالوں کے باوجود ناکام و نامراد ،،، لیکن تاریخ انھیں کن الفاظ سے یاد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی " ! طاقتور کی سوچ بدلنا بےحد ضروری ہے"۔
جس محنت سے ترکیہ کے عظیم ہیرو ارتغل سے متعلق مصنف نے لکھا ، ڈائریکٹرز نے اور اداکاروں نے فلمایا ،،،، جہاں جہاں اسے دیکھا گیا ، لوگوں کی کثیر تعداد کو  تاریخ سے دلچسپی ہوئی ہے ، اور یہ ایک محبِ وطن کی اپنے ملک کے ہیروز کو خراجِ تحسین کا بہترین طریقہ ہے۔
( منیرہ قریشی 18 مئی 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 1 مئی، 2020

" اِک پرِ خیال " (41)

" اِک پرِ خیال "
' نیا اعلان ' ( کرونا ، لاک ڈاؤن کے تناظر میں )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سال 2019ء نے دنیا سے رخصت ہونے کے لیۓ پَر جھاڑے ،،، اور اِن پروں سے، کچھ نئی مثبت سوچیں نازل ہوئیں ، کچھ نئے تجربات کے آئیڈیاز کا نزول ہوا ،،، کچھ نئے چنڈالوں نے دنیا کو ایک نیا ریوَڑ بنانے کا ٹھیکہ لیا ،،، کچھ بےچین لوگوں پر منفی خیالوں کا چھڑکاؤ ہوا ،،،،، اور کچھ ایسے ہی وائرس گِرے ،، جس نے دنیا کے گلوب کو پہلے حیرانی کی کیفیت میں ششدر کیا،،، اور پھر شدتِ پریشانی نے اِسے گھُما کر رکھ دیا ۔ تحقیق ہوئی اور دنیا کے فطین اذہان کی طرف سے چارٹر جاری ہوا ،، کوئی آپس میں نہ ملے ، کوئی کاربار نہ چلے ، کوئی اس وائرس کے شکار کے قریب مکمل حفاظتی لباس کے بغیر نہ جاۓ ،،،،،، اور ہر دفعہ ہاتھ بیس سیکنڈ تک دھوئیں وغیرہ،،،،،! تو جہاں پینے کو پانی نہیں ،،، جہاں پہلے ہی غربت کا گہرا سایہ سالہا سال سے ڈیرے ڈالےہو ،، گلوب میں موجود کچھ ممالک میں ایک کمرے میں آٹھ بندوں کا رہنا ازبس ضروری ہو ،،،،،جہاں کے گلی محلے میں بدبوؤں کا مقابلہ ہو رہا ہو ،،،کچھ ممالک کی ستر فی صد آبادی صحت کے اُصولوں سے نا واقف ہو کیوں کہ انھیں صحت کیا اور اُس کے اُصول کیا ،، انھیں خبر ہی نہ ہو ،،،، تو انھیں اِس اَن دیکھے ، وائرس سے کیا ڈرانا ۔ کیوں کی ابھی وہ پیٹ کی بھوک کے وائرس سے کُشتی جیتنے کی کوشش میں ہیں ۔
ہاں البتہ جدید دنیا کی جدید ترین ایک نئی ایجاد کے " لاک ڈاؤن " سے ضرور ڈرایا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ غربت ،سے جہالت جنم لیتی ہے اور غریب کے پاس روٹی بےشک نہ ہو موبائل اس کی زندگی کی اولین ضرورت بن چکا ہے۔
جی ہاں ،، اگر یہ " اعلان " سامنے آ گیا کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق آپ کے ہاتھوں میں پکڑے موبائل سے ایسی " ریز " نکل سکتی ہے جو دماغ کو فوراً سُن کر سکتی ہے ، اور بندے کو لمحوں میں ختم کر سکتی ہے ، میڈیا چیخنے لگے ،،، موبائل ہاتھوں سے گِرا دیں ۔ ورنہ ہلاکت یقینی ہے،، اور اگر ایسا کوئی " نیا اعلان " آ گیا تو اے آج کے انسان! تیرا کیا بنے گا ،،؟ آج کی دنیا کے90 فیصد لوگ صبح آنکھ کھُلتے ہی تکیۓ تلے ہاتھ پھیرتے اور اپنے اِس اہم ساتھی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ،، کس نے کیا ، اور کیوں پیغام بھیجے ہیں ، ذرا دیکھوں ،، اور اِسی ذرا دیکھنے میں سارا دِن گزر جاتا ہے ، نظریں نہ رشتوں کی ذمہ داریوں سے نہ آدابِ اقدار سے آگاہ رہیں ،، نہ پائیدار علم کی کوشش کی خواہش رہی ۔ طبیعتوں کا ٹھہراؤ کہیں گُم ہو گیا ہے،، علوم انگلی کے پَور   پر منحصر اور منتقل ہو چکے ہیں ،،،، بس لمحاتی علم ہے ، انگلی پھری تو بھول گئے کہ ابھی ایک لمحہ پہلے کیا پڑھا تھا !! تو اگر موبائل کا " لاک ڈاؤن " ہو گیا تو سوچیں ہماری مصروفیات کیا ہوں گی ؟؟؟ تب بندہ تو " بندۂ بےحال " بن سکتا ہے !۔
( منیرہ قریشی یکم مئی 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 28 اپریل، 2020

" اِک پَرِ خیال "(40)

" اِک پَرِ خیال "
" تعزیت " ( کرونا لاک ڈاؤن کے دوران )
،،،،،،،،،،،،،
آج دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے تقریباً پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے ، کوئی ملک ایسا نہیں بچا جہاں اس " اَن دیکھے وائرس " نے اپنے متحرک ہونے کا ثبوت نہ دیا ہو ۔ " دنیا کی تاریخ " میں ایسی وباؤں کے پھوٹنے اور ان سے ہونی والی ہلاکتوں کی تفصیل موجود ہے ، اگرچہ ایسا کڑا وقت چند بار ہی آیا لیکن لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ تہہِ خاک ہو گئے۔
یہ وہ دور تھا ،، جب دنیا بہت امیر ،،، یا ،، بہت غریب کے خانوں میں نہیں بٹی  ہوئی تھی ،،، شاید ہم دنیا کو " اچھے خوشحال اور کم خوشحال " کے دو درجوں میں دیکھ سکتے ہیں ،،،، بہت کم ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک دوسرے تک بربادی یا بچ نکلنے کی خبروں سے آگاہی نہ ہو پاتی تھی ،،،،،،لیکن آج کی اکیسویں صدی میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے ، وہ امیر ممالک جو دنیا کی قسمتوں کے فیصلے کرتے ہیں لاکھوں میل دور بیٹھے ہمارے کمروں میں رسائی حاصل کر چکے ہیں !!اور یوں " ہر ملک ، ملکِ ما است " کے خیال کو نیا معنی مِل گیا  یا پہنا دیا گیا ہے ۔
لیکن یہ کیا ہوا کہ ایک " اَن دیکھے ، ایک عام زکام زدہ " جرثومے نے اِس جدید ترین ٹیکنالوجی سے لَیس دنیا کا کیا حال کر دیا ،،، تمام سُپر پاورز اپنے تمام تر عادلانہ اور ظالمانہ نظام سمیت چند ہفتوں میں گھٹنوں کے بَل جھک گئیں،،،اُن کی معیشت کا دیو اندھیرے کونے میں جا کھڑا ہوا ہے ۔ نہ جانے روشنی آنے تک وہ کتنا چھوٹا یا بونا ہو چکا ہو ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ،،، مجھے تو بس اِس سارے دورانیے  میں " امریکا " سے بہت ہمدردی ہو رہی ہے ۔ وہ سکندرِ اعظم اور مغلِ اعظم سے بھی بڑا " چنگیزِِ اعظم " بن کر کئی عشروں سے دنیا پر ایسا راج کر رہا تھا کہ جب فرعونیت سے سرشار تالی بجاتا اور حکُم جاری ہو جاتا ۔۔۔ اُس فلاں ملک کی یہ جرات کہ ہمیں آنکھیں دکھاۓ ، ہمیں اپنے ملک کی تلاشی دینے سے انکار کرے ،، ہمارے مطلوبہ لوگ ہمارے حوالے نہ کرے ،، ہم سے مشورہ لیے  بغیر پالیسیاں بناۓ،،، تباہ کر دیا جاۓ !!! یہ چھوٹے چھوٹے ملک سانس بھی ہم سے پوچھ کر لیں !! اور یوں چند صدیوں میں بناۓ گئے  ملک،، چند عشروں میں " تورا بورا " کر کے رکھ دیے گئے،،،،، پھر نہ جانے قدرت نے کون سی آہ سنی کہ آج دوسروں کو چُٹکی میں مسلنے والے ایک " اَن دیکھے " سے چو مُکھی لڑائی لڑ رہے ہیں ،،، مجھے امریکا اور اس کے حورایوں سے ہمدردی ہے اور ہمارا اُن سے تعزیت کرنا بنتا ہے،" کہ اتنے ہفتوں سے تالی نہیں بجی ،، کسی اگلی سرزمین کو ملیا میٹ کرنے کا حکم جاری نہیں کیا جا سکا ،، لاکھوں مسلمانوں کے جسموں کو قیمہ نہیں بنایا جا سکا،، آہ بے چارہ دنیا کا " جگا بدمعاش " ،،،،، سوچوں کے بھنور میں ہے !!شطرنج کی بساط نئے  کھلاڑیوں کی منتظر ہے ، قدرتِ الہیٰ کی طرف سے نیا ورڈ آرڈر جاری ہو گا ان شا اللہ !۔
مشہور یہودی نام نہاد دانشور ہنری کیسنجر نے دنیا کو تجویز پیش کی ہے کہ ' وقت آگیا ہے کہ نیو ورلڈ آڈر تیار کیا جاۓ ، اور دنیا ایک مشترکہ کرنسی کے ساتھ چلے " وغیرہ ،، بالکل صحیح لیکن اِ س نئے ورلڈ آرڈر کی سربراہی اب مشرق کرے گا ،،، اور اس کی سربراہی " پاکستان ، اور ، ترکی کو سونپی جاۓ ،، کہ مغرب نے یہ لیڈر شِپ بہت کر لی ۔
" اور اللہ ہی بہترین جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے "
( منیرہ قریشی 28 اپریل 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 27 مارچ، 2020

"اِک پَرِ خیال(39) "

" اِک پَرِ خیال "
" جائزہ تو لیں " ( عالمی وباء کرونا کے تناظر میں )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
٭بندہ کئی دفعہ مسائل سے گھبرا کر تنہائی کا شکار ہو کر ، خوب روتا ہے ، اور اس کے منہ سے یہ جملے بےاختیار نکلتے ہیں ' میرے مولا ، میَں تنہا ہوں ، میرا کوئی نہیں جو میرے دکھ کو سمجھے " ،،، اُس کی فریادیں سُن کر خالقِ حقیقی مسکراتا ہے ، تُو غور کر میرے بندے میَں تو تیری شہ رگ سے بھی قریب تر ہوں ، تُو جو سوچتا ہے میَں اس سے پہلے ہی جان جاتا ہوں، تُجھے خود ہی پریشان ہونے کا شوق ہے، تو میَں کیسے تیرے دل کو اطمینان دوں ،،میَں تو ہر لمحہ تیرے ساتھ ہوں ،لیکن میَں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا " میَں آزماؤں گا ، مال سے ، اولاد سے، نفس سے " !!۔
٭ ،،مجھے اپنے بچوں سے عشق ہے ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ۔ میری محبوبہ اگر مجھے نہ ملی تو میں مَر جاؤں گا ، خود کُشی کر لوں گا۔ اپنے والدین سے میری محبت دنیا کی تمام محبتوں پر حاوی ہے ،،،،،،لیکن یہ کیسی وباء ، اور ہوا چلی کہ ہر محبت کو تین فٹ دور کر دیا ، ذرا سا بھی دوسرے کی چھینک ، یا کھانسی ہمارے فیلرز ( محسوسات) کو عام دنوں سے دُگنا کر چکی ہے ،،، کہیں ایسا نہ ہو جاۓ ،کہیں ویسا نہ ہو جاۓ،،، حالانکہ ہم پر واضع کیا جا چکا ہے " روزِ محشر نہ اولاد والدین کو دیکھے گی ، نہ والدین اولاد کو،کہیں مجھ سے نیکی کی مدد نہ مانگ بیٹھیں " !!۔
٭ اس زندگی کی حددرجہ چہل پہل کے دوران ، وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں " اکثر" جا کراُن کی غمی خوشی میں شریک ہوں ،، لیکن قدرت نے بتا دیا ، میَں تمہیں اسی چہل پہل سے بےنیاز کر دوں گا ۔ پھر تمہیں بھُولے رشتے یاد آ ئیں گے ،، لیکن اب ملنا ممکن نہیں ، اس لیے ابھی یہاں کی شرمندگی کا ازالہ کر لو !!۔
٭ یو کے ،، اور یو ایس تو جنت ہے ،، سیر کے لیۓ بھی ، اور جب بیمار ہو تو علاج کے لیۓ بھی ،،، واہ !وہاں کے علاج کا کیا کہنا ،،، ان ممالک کا ویزہ لگنے پر " الحمدُ للہ" کہا جاتا ہے ۔ لیکن اب ،، ایک اَن دیکھے جر ثومے نے یو کے اور یوایس کی حیثیت کھوٹے سِکے جیسی کر کے رکھ دی ہے ۔ یہ تیسری دنیا جیسی بھی ہے ، ٹھیک ہے ! قدر و منزلت کے معیار کیسے بدل گئے۔
٭ مدتوں بعد گنجان آباد شہروں کے باسیوں نے "خاموش کرونے کے ذریعے خاموشی کی آواز سنی ،، !!۔
٭ جدید ٹیکنالوجی کو کم فہم لوگوں نے صرف اپنی ذات کا غلام بنا لیا تھا ،،، موبائل ہے تو گھنٹوں ، گوسپ چل رہی ہے ، میری ساس ، میری بہو ، میری دیورانی ، میرا شوہر ، میرا نمک حرام نوکر،، کون سے رشتے نہ تھے جو زبان کی غلاظتوں سے آلودہ نہ کیۓ جاتے ہوں ،،، کوئی ڈر نہیں کوئی خوف نہیں کہ کاتبین کو لکھنے کے لیے کیا کیا مواد دیا جا رہا ہے ، آہ اور واہ کے پروگرام کی حدیں نہ رہیں تھیں ۔ ننّھے سے جر ثومے نے ایسی لمبی چھٹیاں کروا دیں کہ " بوریت " جا ہی نہیں پا رہی ۔ جنھوں نے سبق نہیں لینا ، وہ اس دورِ فتن میں بھی آلودہ ہیں ، حالانکہ صرف ہاتھ ہی نہیں دھونے لازم ،،، بلکہ اخلاق بھی دھونے کا موقع مل گیا ہے ، !!۔
٭ یہ وباء انسانی سازش کا نتیجہ ہے ، یا نہیں !! اللہ اپنے بندوں کو جھنجھوڑنے کے لیۓ ، کبھی بخت نصر کو بھیجتا ہے، کبھی چنگیز خان کو ،، بھی تیمور لنگ کی صورت میں انسان کی عقل کو گُھما کر رکھ دیتا ہے ۔اور انسان ؟؟؟؟ " بےشک انسان بڑا جلدباز ، جھگڑالو ، اورمتکبر ہے ،، وہ اگرسوچے تو وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں ناک و ناک ڈوبا ہوا ہے ۔ اور یہ ہی غفلت شیطان اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے !!۔
( منیرہ قریشی 27 مارچ 2020ء واہ کینٹ)

ہفتہ، 21 مارچ، 2020

" اِک پَرِ خیال(38) "

" اِک پَرِ خیال "
" ٹھہراؤ "
،،،،،،،،،،،،،،،
پچھلے پندرہ ، بیس دن سے ٹی وی کا کون سا چینل ہے ، جو صرف"کرونا وائرس " کی خبریں نہیں دے رہا ،، چینل چاہے ملکی ہے یا غیر ملکی ۔۔ چاہے مشہور چینل ہے یا بہت کم دیکھا جانے والا ۔ بس ایک ہی موضوع کی خبریں سنائی اور دکھائی دے رہی ہیں ، ، شروع میں تو اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ، لیکن چینی حکومت نے اپنے پر گزری خوفناک حقیقت عیاں کی تو ، دنیا پہلے تو دنگ ہوئی ،، پھر جس طرح طوفان آنے سے پہلے خوب جھکڑ چلتے ہیں اور فہم والے اپنی پیشگی تیاری پکڑ کر ،، کبھی گھر کے باہر کی وہ اشیاء جو اُڑ جانے کا خطرہ ہوں ، انھیں سمیٹتے ہیں ، گھر کی کھڑکیوں دروازوں کے لاک خوب اچھی طرح بند کرتے ہیں ، گھر کے افراد کو محفوظ کمروں میں سمیٹ لیتے ہیں ، اور ذیادہ دور اندیش ،، گھر میں خوراک کا ذخیرہ بھی کر رکھتے ہیں ،، بالکل ایسے ہی ،، حکومتوں نے اپنی لیبارٹریز ، میں تحقیقی کام وسیع کر لیا ،، " یہ کیسا اَن دیکھا جرثومہ ہے جو دنیا کے ہر ملک کی سرحدوں کو پامال کرتا ، آنِ واحد میں ایسے حملہ آور ہوا ہے کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ۔ گویا ایسا سونامی ، جس نے نہ آواز نکالی ، نہ کوئی آثار دکھاۓ ،، اور ہر گھر کے دروازے پر آن پہنچا ۔
اور پھر چند ہفتوں میں ، ساری دنیا تحفظ کی ایک چھتری تلے اکھٹی ہو گئی ہے ۔ نہ موبائل کے نئے ڈیزائن کے بدلاؤ کی جلدی ، نہ نئی ایجادات کا رعب ،، نہ کپڑوں کے گرما یا سرما کے تعارف ،،، نہ ڈالر اور پونڈ کے اتار چڑھاؤ کی پروا،،، نہ اسٹاک ایکسچینج،،، پر لگی متفکر نظروں کی فکریں ۔۔۔ نہ ہی کسی مذہب کی کوئی اہمیت رہی نہ مذہبی رہنماؤں کا دبدبہ ،،، نہ موسموں کے بدلے جانے پر کوئی امید ہے ،، نہ ہی اُمراء یا غرباء کے تفریحی شیڈول کا اتا پتا ،، نہ کڑوے رشتوں سے متنفر ، نہ محبت کی چالوں کی فکر، نہ انفرادی سوچ کی منصوبہ بندی،نہ اجتماعی فیصلوں کی کوئی شدت !!! دنیا پہلے صرف ایک گلوب ایک کُرّےمیں سمائی ہوئی تھی اور ہے ،، لیکن اب ایک لفظ " ہمدردی اور انسانیت " کے اندر سما گئی ہے ، ہر ملک ، بِنا کسی مذہب ، بِنا کسی زبان و ماضی و حال کے حالات کے ،،،،، بِنا کسی دوستی و دشمنی کے ،،، صرف "ہمدردی " کے جذبے سے آشنا ہو چکا ہے ۔ یہ وقت ہے جب پرانی دشمنیاں ،،، پاؤں تلے روند دی جائیں ۔ کہ اب ،،،،،،،، خالق و مالکِ حقیقی دیکھ رہا ہے ،،، " اے انسان ، اب کیسی تیزیاں ؟ ، کیسی گھاتیں ؟،، کیسی منصوبے بندیاں ؟ ،، کیسی جلد بازیاں ؟؟ِِِ
اللہ واحد لا شریک نے واضح کر دیا ہے" ایک تیری سوچیں ہیں اور تیری چالبازیاں ہیں ، ایک میری چال ہے ، اور یہ ہی بات اوّل و آخر کی ہے کہ انسان اپنی بےپناہ دنیاوی ترقی کے زعم میں ،،، ایک اَن دیکھے جرثومے " سے مات کھا کر حیران ہے کہ " کیسے ،کیونکر، کس طرح " بچ رہوں کہ اس ان دیکھے سے تو مجھے وہی " اَن دیکھا خالق "ہی بچا سکتا ہے ، جس پر آدھی دنیا اسی بحث میں مبتلا تھی کہ " وہ ہے بھی یا نہیں " ! اور آج کی تمام سُپر پاورز ، سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی سُپر نہیں رہیں ،،، آج صرف ایک ہی " سُپریم پاور " ہے جس نے یہ سب تخلیق کیا ہے۔
اور کائنات اپنے" قدرتی ٹھہراؤ " سکون کے راستے سے مدت بعد " آشنا " ہوئی ہے ، دعا ہے یہ ٹھہراؤ عافیت کے کنارے سے ہمکنار ہو جاۓ آمین !۔
( منیرہ قریشی ،، 21 مارچ 2020ء واہ کینٹ )

بدھ، 11 مارچ، 2020

" اِک پَرِ خیال"(37)۔

" اِک پَرِ خیال"
" سُر کہاں کہاں، سُر توہر جا"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں ہی یہ سوچ آئی کہ جن لفظوں میں جن جملوں میں سُر ہوتا ہے وہی ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ردھم سے وہ الفاظ یا جملے ، زبان   پر یوں رواں ہو جاتے ہیں ، جیسے یہ الفاظ ، یہ جملے نہ تو اجنبی ہیں ، نہ ہی مشکل !! 1500 سال سے قرآن کو  حرف حرف یاد کرنے والے حفاظ اَن گنت ہیں ، اس میں نہ مخصوص خطے کی بات ہے ، نہ مخصوص بولی بولنے والوں کی اور نہ ہی چُنیدہ نفوس کی !! دنیا کے ہر گوشے میں اس سچی الہامی کتاب کے سُر اور اس کے اِسرار سے سرشار دل جھوم رہے  ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کسی اور الہامی کتاب کے حفاظ انگلیوں پر گنے جا تے ہیں ۔بہ عینہ اچھی شاعری کے دیوان کا دیوان یوں یاد ہو جاتا ہے کہ جیسے اس کا سُر ، یاد کرنے والے کے خون میں انجیکٹ کر دیا گیا ہو ۔
یہ سُر یہ ردھم ، کائنات کے ذرے ذرے میں چھُپا ہواہے ۔ کائنات کا  ایک خاص  زاویے سے جھکاؤ کے ساتھ چکر میں رہنا ،ایک خاص سُر کی عکاسی ہی تو ہے،، آہ ، یوں لگتا ہے ، جیسے،،،" کائنات " ایک دور اُفتادہ وادی کے پہاڑوں کے پیچھے سے نمودار ہوتی ندی کی طرح ہے ، جو ابتداء میں مدھم سُر الاپتی ، اِٹھلاتی ، بَل کھاتی چلی آ رہی ہے ، جوں ہی وسیع میدان ملا ، خود بھی وسیع کینوس   کوسمیٹ لیا ، یہ وسعت سرشاری کی کیفیت لیۓ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی چلی جارہی ہے ،، ابھی سُر کچھ بلند اور کچھ پست ہوتے نشیب کو پاٹتے جا رہے   ہیں ، اور ردھم میں روانی ہی روانی آ چکی ہو ،،، اور پھر یکدم یہ نشیب بہت " اونچے سُر" کو بلند کرتا آبشار کی صورت جب گِرا ،، تو اُونچے سُروں کی ہیبت اور ندرت نے کائنات کے باقی موجودات کو مبہوت کر کے رکھ دیا ۔ اور اگلے لمحے کائنات کچھ دیر بلند ،، لیکن پھر یہاں ایک " اَن سنا گیت" گنگناتی چلی جارہی ہے ،، وہ ایسے میں اس پُرسکون سرشاری کی کیفیت میں محو ہے کہ جیسے " خالق کے حکم " کی تابعداری کے سُر نے اسے بےحال و دیوانہ بنا دیا ہو ،، سُریلے ردھم ،،کا وہ دریا چڑھا ہوا ہے کہ جیسے " دیوانہ بنایا ہے مجھے تو دیوانہ بنا دے " اور یہی دیوانگی دریا کی صورت خیر بانٹتی ،،، اسے سمندر کے شوریدہ آہنگ سے جا ملاتی ہو !! اور یوں اس سمے سمندر اسے سُر کی نئی سمفنی سکھا دیتا ہے ،، وہ سُر جو " مَن و تُو" کے فرق کو مٹا دیتا ہو ،،، خالق نے کائنات میں سُر کے اِسرار کو کس کس طور سے عیاں نہیں کیا ۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات صرف سات سُروں کی رہینِ منت ہو ،، یہاں تو رنگوں ، موسموں، نقوش ، خِطوں اور رویوں کے سُر چوبیس گھنٹے بدلتے چلے جا رہۓ ہیں ۔ یوں ،،، جیسے قطرے ٹپ ٹَپ ٹپا ٹَپ کی صورت میں سُر پھیلا رہے ہوں ۔ بس ،،،، یہ سُر اسی لمحے بند ہوں گے جب " صورِ اسرافیل" کا سُر تمام تر ہیبت سے وقت پر حاوی ہو جاۓ گا ، تب " کائنات اپنے سبھی سُروں سمیت " اپنے خالق کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہوگی !! اور ہر جی دار کو اس کے حصے کے سُر پکڑا دیۓ جائیں گے ، چاہے کوئی چاہے ، یا نہ چاہے !!۔
( منیرہ قریشی ، 11 مارچ 2020ء واہ کینٹ )

اتوار، 2 فروری، 2020

" کیفیت "

" کیفیت "
مطالبہء طبلِ دل ہے
کچھ لکھو ، کچھ تو لکھو !!۔
مگرکبھی کیفتِ حال وہ ہو جیسے ،،،،،۔
آس پاس کی خاموشی
ذہن پر چھائی اداسی
حسّیات بے دم ہو چلی ہوں جیسے
آوازیں معدوم ہو چکی ہوں جیسے
سبھی سبز رنگ ، بھورے ہو چلے
سبھی سُرخ رنگ ،سفید پڑ چکے ہوں جیسے
سبھی کھلیان، و چمن ،صحرا و دَمن
اور ایستادہ جبل اور تارے، یوں ساکت ہوں جیسے
اِک یک رنگی میں ڈوب چکے ہوں جیسے
شور توہے چاروں اَور
لفظ دست وگریباں ہوں جیسے
بےحسّی بھی اِک منظرِ قیامت ہو جیسے
بندہ اپنے ہی مراقبے کے ، جال میں ہو جیسے !!۔
اندر اِک سمندرِ سکوں ہو جیسے
باہر ، یک رنگ صحرا ہو جیسے
بس اِک دل ہے طبل کناں
کچھ لکھو ، کچھ تو لکھو !!!۔
( منیرہ قریشی ، 3 فروری 2020ء واہ کینٹ )