‏مارگلہ گرامر اسکول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مارگلہ گرامر اسکول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 14 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(79)۔

 یادوں کی تتلیاں " (79)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کے گھر سے کراۓ کے جس گھر میں شفٹ ہوۓ ، حسنِ اتفاق سے وہ بھی اتنا اچھا گھر ، مناسب کراۓ پر ملا ،، کہ اللہ کی طرف سے یہ بھی غیبی مدد ہوئی ،،، اللہ پاک کی طرف سے2004ء کا سال بہت سےخاص اقدامات کے ساتھ آیا ، 2004ء جون میں ہونے والی چُھٹیاں ، اپنے وقت پر10 جون سے شروع ہوئیں ،،، اس سے اگلے ہی دن، اسکول کے ایریا کا وہ حصہ ، جو پرانے تعمیر شدہ گھر پر مشتمل تھا، فوراً اکھاڑنا شروع کر دیا گیا۔
تاکہ مکمل دو حصوں میں برابر الگ الگ تعمیرات ہو سکیں ، اس سلسلے میں ہمیں نگرانی کے لیۓ ہر وقت ایک ایسا بندہ چائیے تھا جو ایمان داری سے اپنی ڈیوٹی دے، اور وہیں  رہے ۔ کیوں کہ ہمارا گھر کچھ فاصلے پر تھا ۔،، بڑے بھائی جان کے ہاسپٹل میں داخلے پر ایک اٹینڈنٹ ، ہائرکیا گیا تھاجو خود ڈرائیور بھی تھا ، اور جاب لیس بھی ! وہ ہاسپٹل کی ڈیوٹی کے لیۓ راضی ہوا ،، جو رات وہاں گزارتا ، اور دن کو واپس اپنے گھر آجاتا ۔ چند دنوں میں ہی اس نے اپنے کام کو سمجھ لیا ، اس کانام " قمر زمان " تھا ، ،، بڑے بھائی جان کی ڈیتھ کے بعد ، آپا نے اسے اپنے ڈرائیور کے طور پر رکھ لیا ، وہ بھی خوش تھا کہ گھر کے قریب ہی نوکری مل گئی ، اب آپا اپنی عدت گزارنے اپنی بیٹی کے پاس جانا چاہتی تھیں ، ڈاکٹر اسرار صاحب کی بیگم سے پوچھا گیا ، ان کے کہنے پر آپا ، لاہور جانے کی تیاری کرنے لگیں ،،، اس دوران آپا نے کہہ دیا کہ اگر تم لوگ سکول کے کاموں کے
لیۓ اسے رکھ لو گی تو ، یہ کہیں اور نہیں جاۓ گا ، ہم لوگ اس کی دیانت دارانہ ، ڈیوٹی کو دیکھ چکے تھے ، اسی کو کہا گیا " جب تک گھر بنے گا تم ہی چوکیدار ہو گے ،، مناسب تنخواہ دیکھ کر وہ بھی خوشی سے راضی ہو گیا ۔ گھر کے اکھاڑنے ،، تک اس کی نگرانی کا انداز دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ مزاج کا تو سخت ہے لیکن ، کام کا بھی سخت ہے ۔ البتہ اس پروجیکٹ کی نگرانی چھوٹے بیٹے " ہاشم " کے سپرد کی گئی کہ انہی دنوں وہ ایم بی اے کر کے فارغ ہی ہوا تھا ، آرکیٹکٹ ناصر نے جن صاحب کا نام بطورِ ٹھیکیدار تجویز کیا ،،، اتفاق سے وہ میری میٹرک تک کی کلاس فیلو اور اسی دور کی پڑوسی ، " خورشید" کے شوہر نکلے۔
ہم سب کی  ملاقاتیں ہوئیں ، اور باہمی مشاورت سے ، لین دین ، کے کاغذات فارم وغیرہ " پُر " کیۓ گۓ۔ اس دوران کینٹ بورڈ میں نقشہ پاس ہونے کے لیۓ دے چکی تھی ، وہاں سے اپرول کی بہت دیر ہوتی ہے لیکن اگر این او سی مل جاۓ تو اس دوران گھر شروع کروایا جا سکتا ہے ! ہمیں یہ سرٹیفکیٹ مل گیا ، پہلے 10 ، دن میں پرانا گھر اکھڑا ،، اور جس دن ٹھیکیدار ، صلاح الدین صاحب ، اپنی نگرانی میں زمین پر بنیادیں کھودنے کے نشانات لگوا رہے تھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔
میں ، اپنے بھائی جان اور آپا کو دعا کے لیۓ زمین پر لے آئی ،،، ہم دونوں بہنیں ، آپا اور بھائی جان اور میرے بچوں نے دعائیں کیں ،، آس پاس کے تمام افراد میں مٹھائی ، تقسیم ہوئی ،، بھائی جان نے کہا ،، تم نے " بیسمنٹ " کا پلان کیوں نہیں بنایا ؟ ،، زمین بہت قیمتی ہوتی جا رہی ہے ، ہمیں چاہیے اس کے نیچے کابھی ، فائدہ اٹھائیں ،،، صلاح الدین صاحب بھی پاس کھڑے تھے ،، کہنے لگے کوئی مسئلہ نہیں ، ابھی سکول کی لمبی چھٹیاں ہیں ،، اس دوران " نقشے کی تبدیلی کروا کر دوبارہ پاس ہونے کے لیۓ دے دیں گے " ،،، تب ناصر کو نقشے کی " عین اسی دن " کی تبدیلی سے آگاہ کیا ،،، اور بغیر ، بُرا مناۓ اس نے بات سن لی ،اور جلد دوسرا نقشہ تیار کر کےلانے کا وعدہ کیا،،،، گویا ،،،15 لاکھ میں سے اب 6،یا 7 لاکھ صرف بیسمنٹ کے ایک خاصے بڑے کمرے کے خرچ ہونے تھے ، پیچھے بمشکل اوپر دیواریں اور پہلی چھت پڑنے کا امکان تھا۔ اور میں نے یہ قدم اپنے وسائل سے بڑھ کر اُٹھا لیا تھا ، دوسرے دن ناصر سعید کی تجویزپر ، نئے نشانات لگاۓ گۓ ، سکول کی باؤنڈری وال کے ساتھ ساتھ ، قناتیں لگا دی گئیں ،، اور کھدائی شروع ہو گئی ، ، یہ کام پہلے مشینری سے ، اور پھر " گدھے والوں کے ذریعہ" انجام دیا جانے لگا ،، ہاشم اور قمر ایک ایک روپے کا حساب اپنے اپنے رجسٹر پر لکھتے جاتے ،، ،،، اس دوران آفس پھر بھی کھلا رہا ،، یعنی کچھ وہ کمرے جو گرانے ضروری نہیں تھے ، انھیں موجود رہنے دیا گیا ،،، اس دوران ایک دو لطیفے بھی ہوۓ کہ ایک دن جب " اِکا دُکا " گدھے والے کام کر رہے تھے ،، ایک بچہ اپنے والدین کے ساتھ داخلے کے لیۓ آیا ،، اور اس نے والدین سے پُرزور انداز سے کہا " میں اس سکول میں ضرور پڑھنا چاہتا ہوں کہ یہاں گدھے بھی پڑھتے ہیں "یہ ایک 3 سالہ بچے کا بہت دلچسپ اور گہرا جملہ تھا۔
جون میں کام بہت تیزی سے شروع ہوا ، صدقات کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلا ،، اللہ سے اس کا کرم مانگتے رہنے کا ایک بہترین طریقہ ، بہت ذیادہ صدقہ و خیرات کا ہے ، جو ہم نے اپنے والدین سے سیکھا ،، اور دعا کرتی ہوں کہ یہ چلن میرے ، بچے اور آگے ان کی اولادیں ہمیشہ ہمیشہ اپناۓ رکھیں ، آمین ،،کہ اُس رب کا کرم دو چند ہو جاتا ہے ،،،،،،،،،،،۔
اس کے ساتھ ساتھ مکان کی شروعات کے پہلے دن جب پرانا گھر اکھڑنا شروع ہوا ،، ہر رات ، دو نفل حاجت پڑھ کر سوتی تھی ،، اور یہ ہی دعا کرتی رہی " تیری توفیق ، اور کرم سے یہ ٹھکانہ بن رہا ہے ،، بس اپنی جناب سے برکت ڈالنا ،، مجھے کسی سے کوئی پیسہ نہ مانگنا پڑے ، اور اسی پیسے کے اندر ہمارا کام مکمل ہو جاۓ "،،،،،،،،،،، میں چاہوں گی کہ میرے پڑھنے والے میری اس دعا اور نفل حاجت کے عمل کو ذہن میں رکھیں ،،،،، کیوں کہ میں نے پچھلی قسط میں لکھا تھا کہ میرے اللہ نے غیب سے معاملات کو سیدھا کیۓ رکھا !!!۔
۔2004ء ، جولائی کی  سات تاریخ تھی ،،، جب انگلینڈ کے " ٹیوب سٹیشن میں بم بلاسٹ ہوا " ، اور جوجی کے بیٹے نے انھیں انگلینڈ آنے سے منع کر دیا کہ " کچھ عرصہ پاکستانیوں کے لیۓ پریشانی کا باعث رہے گا ، لہذٰا ابھی نہ آئیں " چناچہ جوجی نے انگلینڈ کا پرو گرام ، کینسل کر دیا ۔ اور کہا ، اب اگر وہ الگ کیۓ گۓ 3 لاکھ ضرورت ہوۓ تو نکلوا لیں گے ۔
ساری بیسمنٹ بن گئی ،، پہلی منزل بن گئی ،، تین بیڈ رومز اور ڈرائنگ ، ڈائیننگ ،کچن ، لاؤنج ،،، سیڑھیاں اوپر چلی گئیں ،،، دوسری منزل شروع ہو گئ ،، اس دوران میں نے اپنی آنکھیں " اس کبوتر کی طرح بند کی ہوئی تھیں ، جس کے سامنے بلی بیٹھی ہو "،،،، ۔
جیسا میں نے ذکر کیا ، اللہ کا شکر کہ ہمیں اس ادارے کے چلانے میں ایسے دیانت دار لوگوں کا ساتھ مل گیا ، جنھوں نے ہمارا کام آسان کر دیا ۔اور ان بہترین مدد گاروں میں سے " مسز شیما زاہد " تھیں ، جس پر ہم گھر کے فرد کی طرح اعتبار کر سکتی تھیں ، اور الحمدُ للہ آج بھی کرتی ہیں ،،۔
جب جوجی کے انگلینڈ جانے کی تیاریاں تھیں ، تو سکول کے اکاؤنٹ کو دو یاتین بندوں کےسائن سے ، چلانے کی پابندی ہوتی ہے ، اب جوجی کی غیر موجودگی ہوتی تو دوسرا کون ہونا چائیے ، ، ہم دونوں کے مشورہ سے تیسرا نام شیما ، کا شامل کر لیا ، اس طرح ایک بنک سے چیک نکلوایا جاتا تو صرف میرے نہیں ، شیما کے سائن بھی ضروری ہو گئے ،،، گھر بنتا گیا ،، ( میں، چونکہ دوسری برانچ جسے " سینئر برانچ کہا جاتا تھا ، کو چلاتی تھی جو اس جونیئر برانچ سے 5 ،6 منٹ کی ڈرائیو پر تھی ،) اس لیۓ جب میرا بیٹا ہاشم آکر کسی بِل کو کلیئر کرنے کا کہتا تو میں ، یا جوجی ،،، شیما سے کہتیں " شیما ، پیسے ہو جائیں ؟ تو وہ پُر یقین انداز سے کہتی " جی بالکل ہیں " ،،، اور چیک سائن ہو کر میرے یا جوجی کے پاس جاتا ، اور کیش کروایا جاتا ،،، پے منٹ ہوتی چلی جاتی ، اور دوسری منزل بن گئی ،، اور اندر کا کام شروع ہو گیا ،،، بیٹا ہاشم ، صلاح الدین صاحب کا بہت پسندیدہ بچہ بن گیا ،،، ان کے اپنے بچے نہیں تھے ، ہاشم کا مؤدبانہ رویہ ، انھیں بہت اچھا لگتا ،، اکثر اس کی تعریف کرتے ،، مجھے اُن کے بارے میں ناصر اور میری دوسری سہیلی نے آگاہ کر دیا تھا کہ یہ مزاج کے غصے والے ہیں ، اس لیۓ ان کے کاموں میں ذیادہ دخل نہ دینا ،،، لیکن وہ اپنے کام کے ایمان دار اور " پرفیکشنسٹ " تھے ،، مجھے ہاشم ، ان کی باتیں بتاتا رہتا کہ ان کی مرضی کا پلستر نہیں ہوا تو مستری کو نہ صرف جھاڑ پلاتے ، بلکہ کام اکھاڑ کر دوبارہ کام کرواتے ،،، میں کبھی جاتی بھی تو سرسری سا جھانک کر آجاتی ، ایک دن انھوں نے خود ہی کہہ دیا " توں آندی کیوں نئیں " ،، میں نے کہا " جی جس کام کی مجھے سمجھ ہی نہیں ، میں نے آکر کیا کرنا ہے " کہنے لگے " عورتیں تو سر کھا جاتی ہیں ، اپنے گھروں میں آ آ کر ۔۔ ضرور آؤ ، جہاں الماریاں بنوانی ہیں ، جس جگہ کچن کی ضروری چیزیں لگوانا ہیں ، یہ سب تو تم خود بتانا "،،،، جب وہ وقت آیا تو ،، جیسا میں نے تجویز دی انھوں نے مانا ،،، صلاح الدین صاحب ،،، اپنی ذات میں فقیر ٹائپ بندے تھے ،، اپنے گزارے لائق " چارجز " کو لے کر خوش تھے ،، ورنہ ذیادہ ترٹھیکدار تو جس گھر کو بنا رہے ہوتے ہیں ، ساتھ ساتھ اپنا بھی ایک آدھ گھر بن رہا ہوتا ہے ۔ ان کا یہ حال تھا کہ 6 مرلے کے گھر میں یہ میاں بیوی، اپنی والدہ ، اپنے دو شادی شدہ بھائی ،اور دو غیر شادی شدہ بھائی، ایک ساتھ رہ رہے تھے ، یہ دو منزلہ گھر لوگوں اور محبتوں سے بھرا ہوتا ۔ میرے گھر کو بنوا رہے تھے ۔ لیکن کہتے تھے " سمجھو یہ میں اپنا گھر بنا رہا ہوں ، اتنے دل سے بنا رہا ہوں کہ تم یاد کرو گی "،،،اور گھر اندر سے بھی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کرتا گیا ،، ہر بِل پر دھڑکتے دل سے شیما سے پوچھتی " شیما پیسے ہوں گے ، اتنے کا بِل آگیا ہے " ،، وہ اُسی پُریقین انداز سے جواب دیتی " جی بالکل ہیں " ،،،، ا
اندرونی ، آرائش کا وقت آیا ، تو اپنے بیٹے ہاشم کو میں اکثر کہتی تھی ، تمہیں اللہ تعالیٰ کسی نواب کے گھر پیدا کرتا تو اچھا رہتا کہ تمہاری چوائس ، کچھ ذیادہ ہی خاص ہوتی ہے ،،، اب یہاں اس کے ساتھ بڑی بہو بھی مل گئی اور " دیکھیں نا ، گھر تو روز روز نہیں بنتے " یہ کہہ کر دونوں نے بہت اچھے فرش ، لکڑی کا کام ، وغیرہ وغیرہ سب کروا دیا ،،، سبھی نوک پلک ، درست کر لی گئی ،،،،اور آخری بِل کے لیۓ ہاشم مجھ سے سائن کروا کر ، شیما سے سائن کروانے گیا ، تو شیما نے اطلاع دی " بس اب اور چیک نہ بھجوایۓ گا ، آخری 5 ہزار رہ گیا ہے " ،،، اور آخری بِل بھی ادا ہو گیا ، ۔
۔23 ستمبر بروز جمعہ 2005ء میں نے جتنا سامان ہو سکتا تھا اُٹھوایا ،، جمعہ کی نماز اِسی "نئے گھر" آکر پڑھی ،، لڑکے بھی جمعہ پڑھ کر آگئے ،، اور بقایا سامان لینے چلے گئے ،،، اور میں، ،،جس نے صرف خواب دیکھا تھا کہ کبھی نا کبھی ،،، اور صرف سوچا تھا ،،شاید کبھی نا کبھی میں اپنا ذاتی گھر بنوا لوں گی ۔ اور اس خالق و مالک ، و ولیُ و والی نے مجھے صرف 15 مہینوں میں ، بغیر کسی سے پیسے مانگے ، اپنی رحمت کے ساتھ اپنی مدد کے ساتھ گھر عطا کر دیا ، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ ، الحمدللہ!۔
دو دن اور دو راتیں میں بالکل سو نہیں سکی ،،، اس رب سے باتیں کرتے راتیں گزریں ، کہ مجھے شکریۓ کے الفاظ عطا کر ، کہ میرا دل مطمئن ہو اور تیری محبت کا " کچھ حق " ادا ہو سکے ِِ،،، ! کہ تو نے میرا پردہ رکھا ، مان رکھا ، اور مجھے صرف اپنے در سے نوازا ۔ اب خیر و عافیت سے اس گھر میں رہنا ہو آمین !۔
( منیرہ قریشی ، 14 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 4 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(73)۔

یادوں کی تتلیاں" (73)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔2003 اور 2004 تک ہم اپنے سکول کی میٹرک کلاسز کے لیۓ ایف جی بورڈ کی مختلف کاغذات مکمل کرنے میں لگی رہیں۔ اس دوران ہم نے جن 7 طلباء کو بٹھا لیا تھا ، ان کے بارے میں ہمیں بورڈ کے رولز کے مطابق واضع کر دیا گیا تھا کہ 10 طلباء کی کلاس ہونا ضروری ہے ورنہ ایفیلی ایشن نہیں ہو گی! ! اب چونکہ ہم نے ان بچوں کے مستقبل کا تو سوچنا ہی تھا ،، جنھیں والدین نے لے جانے سے انکار کر دیا تھا ،، دراصل انہی میں چار بچے تو ہمارے پاس پلے گروپ سے پڑھ رہے تھے، باقی تین مختلف کلاسز میں آکر شامل ہوۓ تھے ۔ ہمیں ان کے ریگولر داخلے کی فِکر تھی ، اور ہم چاہتی تھیں کہ جلد از جلد ہمارا سکول رجسٹر ہو اور ایفیلی ایشن ہو تاکہ اُن کے داخلے بھیج سکیں ،،، لیکن وہ آرزو جس کے جلد قبول ہونے کی دلی خواہش ہوتی ہے اسے ، مزید دیر ہوتی چلی جاتی ہے ،،، اور اسی میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے ،،،، اُس وقت نویں ، دسویں کا امتحان اکٹھے لیۓ جاتے تھے۔ اور بچوں کی رجسٹریشن کروانے کا وقت قریب آرہا تھا ۔ چناچہ ، ہم نے اپنے ایک بہت اچھی واقف شخصیت ، جن کے سکول کی ایفیلی ایشن ہو چکی تھی ،، سے درخواست کی ، اگر آپ ہمارے بچوں کا داخلہ اپنے سکول کے بچوں کے ساتھ بھجوا سکیں ، تو کیا یہ ممکن ہو گا ،،،، ؟ان کی پرنسپل سے ملاقات کی ، ، انھوں نے کہا " ہم اپنے 15 بچوں کے پری بورڈ امتحان لے رہے ہیں ، آپ اپنے بچوں کو بھی اس امتحان میں بٹھائیں ،،، اِن بچوں کے پیپرز ہماری ٹیچرز ہی چیک کریں گی ،،، اگر آپ کے بچے ان امتحانات میں کامیاب نہ ہو سکے تو ہم معذرت کر لیں گے ، ہم نے کہا ٹھیک ہے !! ہم نے اپنی سی محنت ڈبل کر لی ، اور میرا ٹیچرز پر دباؤ بھی ذیادہ ہو گیا ،،،،،۔
جب ہمارے طلباء ، پری بورڈ امتحانات کے لیۓ ان کے سکول جانے لگے تو وہ ذرا گھبراۓ ہوۓ تھے ،، ہم نے انھیں تسلی دی ۔ اور ہماری دو ٹیچرز روزانہ بچوں کو اُس قریبی سکول پہنچانے اور حوصلہ دینے جاتیں ۔ چند دن میں امتحان ختم ہو گۓ ،،، 8 دن مزید گزر گۓ ، رزلٹ نہیں آرہا تھا ،، اُن سے پوچھا تو کہنے لگیں ،، آپ کے بچوں کو سخت محنت کی ضرورت ہے ، اِن بچوں کی کارکردگی بہت 
مایوس کن ہے ،،، قریباً سبھی مضامین میں کمزور ہیں ۔ وغیرہ ، ،،، ہم لوگ تو خاصی پریشان ہو گئیں ، ، اور سوچا ، چلو ہمیں مزید محنت کا موقع مل جاۓ گا ،،، اور یوں سکول کی ٹیچرز نے بھی اپنی سی مزید محنت کرنی شروع کر دیں ،، لیکن اتنا ہوا کہ انھوں نے ہمارے بچوں کا داخلہ اپنے سکول کے طلباء کے ساتھ ہی بھیج دیا۔ انھوں نے مزید محنت کا توکہا ، لیکن پرنسپل نے ہمیں ہمارے بچوں کے پری بورڈ پیپرز نہ دکھاۓ ۔
سالانہ امتحان ہوتے رہے ،، یہ صرف اِن بچوں کے نہیں ہم سب کے بھی امتحان تھے ،،،،، دو ماہ کے بعد ہمارا پہلا میٹرک کا رزلٹ ،آگیا ، جو اگرچہ اس دوسرے سکول کے نام پر تھا ،،، میٹرک کی سٹاف ممبرز صبح سویرے سکول آگئیں ، اور سٹیشن کمانڈر کے آفس سے گزٹ منگایا گیا ،،، اور وہ دن " مارگلہ گرامر سکول" کے لیۓ حیران کن خوشی لے کر آیا ،، سات بچوں میں سے دو نے , اےگریڈ لیا ، اور تین نے بی  ،،،اور دو نے  سی گریڈ لیا ،،، اور کسی بچے کو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا ! الحمدُللہ ،،،،، جب کہ اُس دوسرے سکول کے 15 بچوں میں سے صرف ایک بچہ بی گریڈ سے پاس ہوا اور باقی 14 بچوں کی سپلیز تھیں !۔
یہ واقع ہمارے لیۓ بہت اہم ہے ،، ہم نے اس " امتحان سے ، اس رویۓ سے ،، اس مدد سے " بہت کچھ سیکھا ۔ اور دیکھا جاۓ تو ہر ناکامی بھی اور کامیابی بھی سبق دے رہی ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں ،،،،،،،۔
۔1) تعلیمی میدان میں کوئی مدد مانگے تو اسے خوشی اور خلوص سے مکمل مدد دیں ۔ ( احسان نہیں جتانا ،،، بلکہ دوسرے کو اتنا  "ایٹ ایز"کریں کہ وہ ہمارے احسان کو خود محسوس کرے ، ورنہ نہ سہی )۔
۔2) کبھی دوسرے کو بے حوصلہ (ڈس کریج) نہ کریں ، اس طرح آپ کے اپنے لیۓ شرمندہ ہونے کے مواقع بھی آسکتے ہیں ۔ 
۔3) ہم کچھ اچھا کر ہی رہے ہیں ، تو اس میں کسی بات کو چُھپانے کی کوئ ضرورت نہیں ،، اگلے کو صحیح صورتِ حالات سے آگاہی ہمارا ، اخلاقی فرض ہے ، ، تاکہ وہ صحیح یا غلط نتائج کے لیۓ تیار رہے ۔
۔4) ہم سے اگر کوئی غلطی ہو ہی گئی تو ہمیں کھلے دل سے معافی مانگ لینا چاہیۓ ، ، تاکہ بعد میں کبھی ملیں تو آنکھیں ملانے کے قابل تو رہیں ۔
۔5) ہمیں اُس میدان کو اپنی تجربہ گاہ نہیں بنانا چاہیۓ ، جس میں داخلے کے دروازے ہمارے لیۓ اُس وقت نہیں کُھل رہے ۔ بہتر ہوتا ہے کہ ہم صحیح وقت کا انتظار کریں ۔ تاکہ " سہج پکے سو میٹھا " والا سلسلہ ہو ،۔
۔6) اپنی سی بھر پور کوشش کریں ، تاکہ محنت نہ کرنے کا افسوس نہ رہے ، کبھی اپنی کامیابیوں کو"فورگرانٹڈ" نہ لیں ،،، اس طرح معیارِ کامیابی نیچے بھی آسکتا ہے ،۔
میں ایک دفعہ پھر اُس خالق ومالک ، خبیر و بصیر کا شکر ادا کرتے ہوۓ کہتی ہوں ،،، کہ ہمیں یہ تمام تر کامیابیاں اسی کی رحمت سے ملیں ،،، ورنہ محنت تو سب ہی کرتے ہیں ،، آج ہمارے سکول کے میٹرک کے گیارہ بیج نکل چکے ہیں ،، سواۓ دو سالوں کے جب ہمارا رزلٹ 99 ٪ رہا ۔ ورنہ باقی نو مرتبہ 100 ٪ رزلٹ رہا ،، 2017ء میں ہمارے سکول کی طالبہ نے بورڈ میں آٹھویں پوزیشن لی ،،،، اور واہ کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں پہلی پوزیشن تھی ۔ اس مرتبہ 110 طلباء نے
میٹرک امتحان دیا تھا جن میں سے 38 طلباء و طالبات نے اے پلس لیا ،،،، الحمدُ للہ !۔

ہمارے سکول کےمیٹرک کے پہلےاور اچھے رزلٹ سے ہمارے حوصلے بڑھے ،،، اور اب نویں دسویں کے لیۓ مزید بچوں کے داخلے لینے میں ہماری ہچکچاہٹ دور ہو گئی ،،،، یہ اور بات کہ میٹرک کی ابتدا تھی اور ابھی والدین کا اعتماد بحال ہونے میں وقت لگنا تھا ۔ لیکن ایسا بتدریج ہی ہونا تھا اور ہونا بھی چاہیۓ تھا ! س سے پہلے کی کامیابیاں یہ تھیں کہ ہمارا سکول اس ریپو کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ اس میں بچوں کی بنیاد بہت اچھی بناتے ہیں وغیرہ !۔
ہم اپنے والدین کے لیۓ پانچوں وقت کی دعا گو ہیں کہ ، اللہ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے ،،، اگر اماں جی اپنے گھر سے اپنی ہمت اور جذبہ خدمت کے تحت غریب لوگوں کو پڑھنے پر آمادہ نہ کرتیں رہتیں،، تو ہم میں "سکول "کی ،"تعلیم" کی اہمیت اجاگر نہ ہوتی ، ،،، اگر اباجی کی طرف سے ہمیں گھر نہ ملتا ،، ہر ماہ کے کراۓ کی بےفکری نہ ہوتی ،،، اور ان کی مورل سپورٹ نہ ہوتی تو ،،، آج ہم محنت کے باوجود ایسی کامیابیاں حاصل نہ کر سکتیں ۔ جب ہم نے سکول شروع کیا تو اباجی نے دو تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا  " اگر کسی کام کا ذمہ اُٹھا لیا ہے ، تو اس میں ڈھیلاپن نہ دکھانا ، چُھٹی کا تو سوچنا بھی نہیں ، کام ، کام اور بس کام والا قائد کا پیام مدِ نظر رکھنا "اور پھر اللہ پاک کی خصوصی مدد یہ رہی کہ ہمیں ، ایمان دار ، محنتی ، اور اپنے کام سے کمٹڈڈ سٹاف ملا رہا ،،، انہی میں سے جو سینئر موسٹ ، ٹیچرز تھیں ، ہم اُن کی کارکردگی جج کرتی رہتیں ، اور جب نئی برانچ کی بنیاد رکھی تو انہی میں سے انچارج منتخب کیں ،،، امید تو یہ ہی ہے کہ وہ بھی ہم سے مطمئن ہوں گی ،،،، لیکن یہ ہی جدوجہدِ زندگی کا حسن ہے کہ " کبھی نشیب کبھی فراز " کے منظر پیش آتے رہتے ہیں ،اور قافلہ چلتا رہے۔ 
؎ زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات ایک
دلیلِ کم نظری ،، قصہء جدید و قدیم ! ( علامہ اقبال ؒ )
( منیرہ قریشی ، 4 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

بدھ، 3 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(72)۔

یادوں کی تتلیاں "( 72)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جب ہم نے ارادہ کیا کہ اب سکول کو میٹرک تک لے جانے کا وقت آ گیا ہے ۔ تب ، پہلے ہم نے سکول کی رجسٹریشن اور ایفیلی ایشن ، پنڈی بورڈ سے کروانے کا فیصلہ کیا ،،، سنا یہ تھا کہ یہاں سب کام جلدی اور آسانی سے ہو جاۓ گا ، میں نے لکھا ہے کہ کہ ہم دونوں بہنوں کے لیۓ یہ میدان ، یعنی سکول کو خود چلانا ،یا مختلف دفاتر میں جانا بالکل پہلا تجربہ تھا ،،، بےشک ہمارے خاندان میں کچھ تھوڑے افراد کاروباری تھے لیکن ،،، سکول بہرحال کسی نے پہلی مرتبہ چلانا شروع کیا تھا ، اور وہ بھی دو خواتین نے ،،، جن کو کئی فیصلے خود کرنا پڑتے تھے ، جو غلط بھی ہو سکتے تھے ، اور ہو بھی جاتے تھے ۔ اباجی تو ویسے بھی بزرگ ہو چکے تھے، اور بڑے بھائی جان کو بھی اِن معاملات کا کوئی تجربہ نہ تھا ،،،!۔
ہمارے سکول کو جب 12 سال ہو گۓ تو سکول کی سبھی کلاسز کے دو یا تین سیکشنز ہوتے چلے گۓ ، لیکن 8 ویں جماعت سے آگے کوئی کلاس ہمارے پاس نہ تھی , جس کی وجہ سے والدین بہت مایوس سے ہو جاتے ، کہ اب ہم کس سکول کا انتخاب کریں ، آپ کیوں نہیں بورڈ کلاسز مکمل کرتیں ، جب ہم مطمئن ہیں تو آپ آگے بڑھیں ، وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن کچھ سال ایسے ہی ہم مسکرا کر اُن کی بات ٹالتی رہیں ۔ لیکن 2003 یا 2004کا سال ہمارے لیۓ فیصلے کا سال بن گیا ،، اور نویں میں 7 ایسے بچے بیٹھے رہ گۓ ، جو کسی صورت کہیں جانا نہیں چاہتے تھے ، اور انھوں نے کہا آپ بے شک انھیں پرائیویٹ طالب علم کے طور پر بِٹھاۓ رکھیں ،،لیکن آپ کے ماحول سے اور پڑھائی سے ہم مطمئن ہیں ،،،وغیرہ !۔
تب ہم نے پنڈی بورڈ کے چکر لگانے شروع کیۓ ،، اور اسی سلسلے میں ایک واقف صاحب کو ساتھ لے کر گئیں ، جو ان کاموں کو اچھے سے جانتے تھے اور خود بھی بہت پڑھے لکھے ، اور ایک سکول چلا رہے تھے ، لیکن پہلی دفعہ جب ہم ان دفاتر کی طرف گئیں ، تو جوجی اور میں انھیں اپنے ساتھ لے گئیں ، گرمیوں کے دن تھے ، سخت گرمی میں اُس دفتر میں اپنے تمام فارم جمع کروانے گئیں ،،، سیڑھیاں چڑھ کر پہنچے تو ایک ایسا آفس تھا جو اچھا بڑا کمرہ تھا جس میں دو یا تین مناسب سائز کے میز اور ہر میز کے پیچھے ، کلرک ٹائپ بندے مصروفِ کار تھے ،ہر میز پر فائلوں کے پلندے پڑے تھے۔ ان تینوں نے ہمیں لمحہ بھر کو دیکھا ، اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گۓ ،،، جیسے کوئی آیا ہی نہیں ، اب جس کلرک کے پاس ہم نے کاغذات جمع کروانے تھے ہم اس کے پاس کھڑے ہو گۓ ، اُن"پردھان" صاحب جن کو ہم ماہر سمجھ کر لے گئیں تھیں ، نے بہت  عاجزی    سے انھیں مخاطب کر کے بتایا ، ہمارا یہ کام ہے اور یہ پیپرز جمع کروانے ہیں ،، ہم دونوں اِس منظر کو" حیرت " سے دیکھ رہی تھیں کہ اُ س کلرک کی میز کے دوسری طرف تین کرسیاں رکھی ہوئی تھیں،،،جن میں سے ایک کرسی کی ایک بازو ، اور دوسری کے دونوں بازو ٹوٹے ہوۓ تھے، ،،، لیکن اس نے ہماری فائل نہایت اطمینان سے دیکھنی شروع کی ، اور ایک دفعہ بھی تو اس نے ہمیں بیٹھنے کا نہ کہا ،،، ہم تو حیران تھیں اور " پردھان " صاحب شرمندہ سے ہو رہے تھے ۔مکمل پچیس منٹ کے مطالعے کے بعد انھوں نے فرمایا آپ " وہ فلاں جگہ کے آفس چلے جائیں" باقی کام وہ آپ کو گائیڈ کریں گے !!! ۔
ہم سخت گرمی میں " اس فلاں آفس " چل پڑے ،، یقین کیجۓ اگر یہ صاحب ساتھ نہ ہوتے تو وہ آفس ہمیں کبھی نہ مل پاتا ۔ کیوں کہ وہ ایسی پیچیدہ جگہ پر واقع تھا ، کہ اس تک پہنچ کر غصے سے ذیادہ " رونا " آ رہا تھا کہ پاکستانیوں ( شاید سب تیسری دنیا میں )کے لیۓ آسانیاں دینا " نا ممکن " کیوں بنا دیا گیا ہے !وہاں خوب چہل پہل تھی ،،، دو منزلہ عمارت میں 8،یا 9 کمرے تھے " پردھان" صاحب نے کمرہ درکمرہ پھرنا ، پھرانا شروع کیا ،، اور آخر یہ مژدہ سنایا گیا،، " آپ غلط جگہ آ گۓ ہیں ابھی آپ اس فلاں دفتر جائیں ! وہ کچھ کاغذات مکمل کریں گے ،،، پھر وہ آپ ہمارے پاس لے آئیں ! ہم سب صبح 8 بجے کے نکلے ہوۓ تھے ،، سخت بھوک اور پیاس لگی ہوئی تھی ، یہ بھی اللہ کا لاکھ شکر کہ سواری اپنی تھی ، اور ادھر اُدھر جانے کے لیۓ ، ٹیکسی وغیرہ کا انتظار نہیں کرنا پڑا ، گاڑی میں رکھا پانی بھی ختم ہو چکا تھا ،،،، اس ایک دفتر اور دوسرے دفتر کے درمیان 10 میل کا فاصلہ تھا لیکن، سخت رَش کی وجہ سے وہاں پہنچنے میں کافی دیر لگی ۔ ،،، یہاں سے نکل کر پہلے ہم تینوں نے ایک ہوٹل سے کھانا ، کھایا ، پھر اُس تیسرے دفتر کی طرف روانہ ہوۓ ،،، اور جب مطلوبہ دفتر پہنچے تو ، جس اہلکار سے ملنا تھا اسے ملے تو وہ فرمانے لگے " آپ لیٹ ہو گۓ ہیں ، آپ کل آئیں ، اب دفتر بند ہونے والا ہے " ،،، ،،،،، چنانچہ ہم اپنا سا منہ لے کر واپس ہو لیۓ !! ۔
واپسی پریہی  موضوع چِھڑا رہا ،،، " کہ اگر حکومت نے،نئے سکولوں کو کھولنے کی اجازت دے ہی دی ہے تو اس کے لیۓ آسانیاں بھی دیں ، یہ سارے دفاتر ایک لائن میں ، یا ایک روڈ پر ہوں تو کیا حرج ہے،، خیر ہم نے اس " پردھان " کا شکریہ ادا کیا ،،، جس کی مدد نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ۔ 
کچھ دن بعد سارے مناظر بعینہ اسی ترتیب سے ہم دونوں نے خود ،،دہراۓ ،،، ایک دفتر ، دوسرا اور پھر تیسرا ،، اور وہی کلرکوں کا تمسخرانہ انداز !!! اور آخری اطلاع یہ ملی، کہ آپ اُس چوتھے دفتر جا کر یہ مکمل شدہ فائل دے دیں " ،،، ہم اس نمبر چار دفتر گئیں تو وہ صاحب ایک کمرے میں اکیلے میز ، کرسی پر موجود تھے ،، فائل دی گئی، مطالعہ چند منٹ میں ہو گیا ہمیں 10 دن بعد آنے کا کہا گیا ، اور یہ کہ آپ خود نہ آئیں بےشک اپنے ڈرائیور کو بھیج دیں ،، 5 ہزار روپے بھی ساتھ لائیں !! ( یہ واضع کر دوں کہ ان سب دفاتر میں جانے کے لیۓ پہلے ایک گھنٹے کی ڈرائیو کرنی پڑتی ہے ، اگر ذرا سا بھی رَش ہو تو ڈیڑھ گھنٹہ بھی لگ جاتا ہے )۔
ہم نے اسے معمول کی کارروائی سمجھا ، دس دن بعد ڈرائیور نے جا کر 5 ہزار دیۓ اور فائل لے آیا ،، جب فائل آئی تو آدھی تھی ،،،،، ڈرائیور نے کہا ، " جی ، اُس نے باقی فائل کے مزید 5 ہزار طلب کیۓ ہیں " ،، ہم نے شدید صدمے کے ساتھ بقایا ، 5 ہزار اسے دیے ! ،،،، اور جب فائل لے کر بنک ڈرافٹ بنا نے کے لیۓ، گورنمنٹ کی مقررہ فیس جمع کروانے 
بنک گئیں تو پتہ چلا ،، یہ سب کچھ ابھی نامکمل ہے ،،، ! نہ پوچھیں کتنا  ڈپریشن ہوا ،،، یہ بنک ،، " ایف جی بورڈ " کے اندر ہی تھا ،،، ہم اپنی فائل کے ساتھ مزید معلومات لینے انہی کے کافی بڑے اور بہت مصروف کمرے کے اندر چلی گئیں ، ، ہمیں گائیڈ لائن چاہیے تھی ،، اور اس دن اللہ نے ہمیں ۔"امتیازمحمود " سے ملا دیا ،،، ہم نے اسی سے اپنی فائل چیک کرائی ، اور ساتھ ساتھ اپنی " جدو جہد " اور ناکامیوں کا بتایا ،،،! یہ سب سُن کر اس نے ہمیں بتایا ،، اب تک جو کچھ آپ اُن دفاتر میں دیتی رہیں ہیں ، وہ سب رشوت تھی ، جو وہ منہ سے مانگ کر احسان جتا کر لیتے رہے ! ،، آپ پنڈی بورڈ کو رہنے دیں ، اور فیڈرل گورنمنٹ بورڈ سے سکول کا " الحاق " کریں ،، صرف 35 ہزار روپے آپ نے ڈائریکٹ بنک میں جمع کروانے ہیں ، فائل یہیں چھوڑ جائیں ، اسی میں جو تبدیلی کرنی ہے میں کروں گا ،، کل ہی آجائیں ، فارم لے کر رکھوں گا ، آپ آکر یہیں میری نگرانی میں "فِل" کر لینا ،،،، ہمیں اتنی آسانی ، اتنی عزت ، اور احترام کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا ،،، خیر ہم اگلے دن پہنچ گئیں ،، اور ایک گھنٹے بعد بنک میں 35 ہزار جمع کرواۓ ،،، امتیاز نے ، جس اخلاص و اخلاق سے سارا کام کیا ،،، صحیح بات تو یہ تھی کہ ہمیں اب کسی پر یقین نہیں رہا تھا ، ہمارا خیال تھا ، اب امتیاز کی طرف سے بھی کوئی مطالبہ ہو گا ،، لیکن امتیاز نے اس سارے کام کا صرف ایک مطالبہ " واہ کینٹ کی آدھ کلو برفی " لیتی آئیے گا " اور بس !!! جب ہماری فائل کی منظوری ہوگئی ،، تو اگلا مرحلہ انسپکشن ٹیم کے وزٹ کا تھا ،،، پہلی دو وزٹس والی ٹیموں نے مسترد کر دیا کہ، لائیبریری میں کتابیں کم ہیں ،، دوسری دفعہ ،، فزیکل انسٹرکٹر ، ڈگری یافتہ نہیں ،،، اور تیسری دفعہ آنے والی ٹیم میں ، معجزاتی طور پر جوجی کا قائدِاعظم یونیورسٹی کا کلاس فیلو نکل آیا ،،، اور اس نے صرف اتناکہا تم لوگ بورڈ لگالو میٹرک کا ،،، میں دو دن بعد تمہیں ایفیلی ایشن کا سرٹیفیکیٹ بھیج دوں گا ، اور واقعی دو دن بعد یہ سر ٹیفیکٹ مل گیا ۔
ہمیں ہی نہیں ہر اس بندے کو ہم سے ذیادہ تلخ تجربات سے گزرنا پڑتا ہے ، جو ذاتی کاروبار چلانا چاہے ،،، اور جب ہر جگہ رشوت بھی چلے ، اور بے توقیری کا احساس بھی ہو تو ذرا " انا " پر ضرب ضرور لگتی ہے ،، لیکن ہم نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا ! ! خاص طور پرمختلف النوع انسانی چہروں اور ، رویوں کے تجربوں نے ہمیں " ماہرِنفسیات " بننے میں مدد دی ( خود بخود ) ،اور آگے چل کر ہم دونوں " مشورہ " دینے کی اہل سمجھی جانے لگیں۔
ان دفاتر میں خوار ہونا ، بھی تجربات میں اضافہ کا باعث بنا ،،، کہ اگر 5 بُرے بیٹھے ہیں تو ، ایک اچھا بھی وہیں موجود ہے ،،، اور امتیاز محمود ، ہمارے لیۓ فرشتہ بن کر سامنے آیا ،،، اس نے ہمیں بڑی بہنوں جیسی عزت دی ،، اس کے ساتھ محبت ، احترام ، اور خلوص والے تعلقات آج بھی قائم ہیں ،، بلکہ ایک دن اس نے ہمارے آفس میں اپنی بہت بزرگ اور حسین و جمیل والدہ کے ساتھ سر پرائز وزٹ کیا ، وہ واہ کی طرف کسی کے گھر مل کر واپس جا رہے تھےاور اپنی والدہ کو بتایا ،،، یہ ہیں وہ " باجیاں " جن کا ذکر کرتا ہوں ، ہمیں اُن کے آنے کی بے حد خوشی ہوئی ،،، وہ عجیب نورانی سی شخصیت تھیں ،، کہ جب وہ آفس میں آئیں تو جیسے آفس مزید روشن ہوگیا ، شاید ایسی ماؤں کے بچے ،، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے میں مصروف ہوتے ہیں ،،، ہماری دلی دعائیں امتیاز کے ساتھ ہیں ،، وہ آج بھی ایک فون پر ہمارا کام کر دیتا ہے ،،، اور ہمارا ، انحطاط زدہ معاشرے ، میں ایسے لوگوں کی وجہ سے اقدار اور ایمان داری پر یقین ہونے لگتا ہے ،،،، ! دو ماہ گزرے تھے کہ امتیاز محمود کی والدہ کے انتقال کی خبر آگئی ،، ہم اس کے گاؤں سے واپسی پر اس سے تعزیت کرنے گئیں ، تو اس نے اپنی والدہ کا بتایا کہ وہ ساری عمر بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی رہیں ،،، اور نمازِ جنازہ میں ان کے رشتہ داروں سے ذیادہ ، اُن کے طلباء کی صفیں تھیں ،،، ! اللہ رحمت العالمین ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ آمین !۔
( منیرہ قریشی ، 3 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

پیر، 1 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(71)۔

یادوں کی تتلیاں " (71)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اللہ رب العالمین کی کرم نوازی کہ پہلے سال ہی سکول کی اچھی " ریپو "(ساکھ) نے آج تک سلسلہ چلایا ہے ، ہم نے بہت سے اداروں سے ، شخصیات سے سیکھا ، بلکہ، اپنے سکول میں آنے والے نئی اور پرانے ممبرز سے ، والدین سے ، اُن کے رویوں کو مدِ نظر رکھے ،، آگے بڑھتی رہیں ،،، اور سکول کے پہلے " پیرنٹس ڈے " کا ذکر تو میں کر ہی چکی ہوں ،،، اس کے بعد ہم نے اپنے سلیبس اور سٹیشنری کو سکول کے" نام اور لوگو " سے چھپوانے کا سوچا، اس سلسلے میں کچھ مقامی پرنٹرز سے رجوع کیا ، لیکن اُن کی پیشکش ، ہمارے بجٹ سے باہر تھیں ، اس لیۓ صبر کرکے بیٹھ رہیں ،، حالانکہ ہماری ، نرسری لیول کی " کیلی گرافک " کاپیوں کا رف پروف تیار تھا ، لیکن انھیں چھاپنے کے لیۓ سرمایہ درکار تھا ،، اُنہی دنوں ہمارے آفس میں " اشتیاق بھائی " آۓ ،، جوجی نے بہت خیر مقدمی انداز سے اُن کا استقبال کیا ،، اور بتایا کہ یہ اُس کی کلاس فیلو ، شاہین اور ناہید کے بھائی ہیں ، اور ایک اچھی بڑی سٹیشنری کی دکان چلا رہے ہیں ، وہ اسی سلسلے میں آۓ تھے کہ ہماری  دُوکان کو اپنے سلیبس رکھنے کی اجازت دو ، وہ ہم نے فوراً دے دی ۔ وہ کبھی کبھار ، آتے ، اور کاروباری باتیں ،، کچھ بہن بھائیوں کی باتیں ہوتیں ، چاۓ پی جاتی اور رخصت ہو جاتے ! آخر میں نے ایک دن کہہ دیا کہ ہمیں کاپیاں اپنے سکول کے مونو گرام کے ساتھ پرنٹ کروانی ہیں لیکن ابھی کچھ مسائل ہیں ،، انھوں نے فوراً، نہایت خوش دلی سے آفر کی " ارے بھائی پیسے کون مانگ رہا ہے ، جیسے جیسے کاپیاں بِکیں گی ، ، دیتی رہنا ،،،، یہ بہت ہی اچھی اور قابلِ بھروسہ آفر تھی ،،، ہم نے فوراً نرسری کی جو کاپیاں خود سے بنا کر رف پروف رکھا ہوا تھا انھیں دیا اور دو چار میٹنگز کے بعد فائنل ہو گیا ،، اور اشتیاق بھائی ،،،  وہ پہلا شخص تھے جو کاروبار میں بالکل نئے  لوگوں پر اپنا سرمایہ لگا رہے تھے ، ،، انھوں نے انگلش کے ڈجٹس ، اردو کے حروفِ تہجی اور گنتی کے ، 1، 2 ،3 کی کتابوں کو تین ، تین کالمز میں تقسیم کر کے دیا ، اور چونکہ ہم سے نارمل قیمت لی جا رہی تھی اس لیۓ ہم بھی والدین سے ، نارمل قیمت وصول کر کے ، باقاعدہ سیٹ بنا کر دینے لگے ، والدین بھی مطمئن ہونے لگے،، دراصل ایسی ورک بکس بازار میں موجود نہ تھیں ۔اشتیاق بھائی کا لگا سرمایہ کم ازکم دو سال میں ختم ہوا ،،، لیکن کیا مجال کہ انھوں نے کبھی جلد واپسی کا مطالبہ کیا ہو ،،، یا کبھی مزاج کڑوا کیا ہو ،، کبھی انھوں نے کہا ہو کہ میں اب مزید تم لوگوں سے لین دین نہیں کر سکتا وغیرہ قطعاً نہیں ! ! ہم ہمیشہ اُن کا یہ احسان یاد رکھیں گے ،،، کہ جب ہمیں ان کُتب یا" والیومز " کی ضرورت تھی ، صرف اشتیاق بھائی نے کھلے دل سے آفر کی ،، اور ہمارا مسئلہ  حل ہوا ۔ ہمارے 18 ، 19 سال بہت ہی اچھے گزرے ، اُن کے ساتھ گھریلو سطح پر مراسم بھی رہے ، اُن کی بیوی ذکیہ بھابھی بہت اخلاق والی اور سادہ مزاج خاتون ہیں ،،،،،، اشتیاق بھائی کے ساتھ بےشک اُن کی ہمارے ساتھ کاروباری ڈیل تو ہو گئی تھی،،، لیکن اس سے ہٹ کر وہ بہترین ، بھائی ، بیٹا ، اور باپ بھی "تھے " ۔ یہ تھا کا صیغہ اس لیۓ لگانا پڑا کہ 3،4 سال قبل اُن کا انتقال ہو گیا ، وہ کچھ عرصہ سے دل کے مریض ہو چکے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اُنھیں جنت الفردوس میں جگہ دے ،، ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آسانیاں بانٹتے ہیں ،، اور اپنی گفتگو میں اس طرح ہمیں حوصلہ دلاتے ، جیسے ہمارے بڑے بھائی ہوں !! اُن کے دل کی طرح ، دستر خون بھی وسیع تھا ،،،، یہی لوگ دعائیں سمیٹتے ہوۓ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔
ہمارے سکول پر لوگوں کااعتماد بڑھتا گیا ،،، اور مزید داخلوں کے رَش کے باعث ، پلے گروپ، نرسری اور پریپ کے لیۓ الگ بلڈنگ لینی پڑی ، اور یہاں کی انچارج ، مسز فرحت ممتاز کو بنایا ،،، وہ اور میں نویں ، دسویں میں کلاس فیلوز تھیں ۔ کالج میں اُس نے سائنس اور میں نے آرٹس کے مضامین لیۓ ، وہ شروع سے لائق سٹوڈنٹ رہی ، اس کے شوہر ڈاکٹر تھے ،، دو تین جگہ ٹرانسفر کے بعد واہ کینٹ تعینات ہو گئے ، تو میں نےبھی اسے اپروچ کی ، کہ اب بچے بھی بڑے ہو گۓ ہیں ، چلو اپنی قابلیت کا فائدہ ہمیں بھی پہنچاؤ ،، اس کا شکریہ کہ میرے ایک دفعہ کہنے پر اس نے سکول جوائن کیا، ، ، اُس کو پریپ کلاس دی گئی ( اس وقت تک سکول  سکستھ کلاس تک تھا ) ،،، فرحت نے بہت احسن طریقے سے یہ سلسلہ شروع کیا ،،، حتیٰ کہ دس سال بعد اس نئی برانچ کی انچارج اسے بنانے کا ایک تو اس کا سینئر ہونا ، پھر بہت ہمبل ہونا اور پھر اسے اپنے فیلڈ میں کمانڈ بھی حاصل تھی ،،، فرحت نے مزید دس سال بطورِ انچارج گزارے ،، الحمدُ للہ ، والدین اُن سے بہت مطمئن رہے ،،، جیسے ہی اُس کے شوہر ریٹائر ہوۓ ، دو ماہ بعد ہی ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گۓ ۔ اس حادثے نے فرحت کو بہت دکھی کر دیا ،، وہ خود بھی بیمار رہنے لگی ،، بیٹی کے فرض سے تو کافی عرصہ پہلے فارغ ہو چکی تھی ، اب دونوں بیٹے ماشا اللہ اچھی پوسٹ پر تھے ،،،اس تمام عرصہ میں وہ اپنے والدین کے پاس رہتی رہی ،،، اس دوران دونوں لڑکوں کی شادی ہوئی ، اور دونوں کو غیر ممالک میں جانے اور رہنے کے چانس مل گئے ، اب دونوں بیٹوں کی فرمائش ہونے لگی کہ " امی آپ ہمارے پاس رہیں " ،،، فرحت کے لیۓ زندگی کا نیا دور شروع ہونے جا رہا تھا ،،، اس کے بہن بھائیوں نے بھی اسے بیٹوں کے پاس جانے کا مشورہ دیا ، تو اس نے ہمیں بتایا ،،، لیکن اسے اس فیصلے تک پہنچنے کے لیۓ خاصا سوچنا پڑا ،،، ہم نے اسے بہترین طریقے سے رخصت کیا ،، اب وہ کبھی یو کے ،،، کبھی امریکا ،،، اور کبھی پاکستان ہوتی ہے ۔ اس کے لیۓ دل سے دعائیں ہیں ، کہ جہاں رہے ، مطمئن اور صحت کے ساتھ رہے آمین !! " لفظ ، ایمان داری " ،،، فرحت جیسے لوگوں کو دیکھ کر اس لفظ کی عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ 
میں ایسے ہی مثالی لوگوں کا ذکر کرتی رہوں گی ،،،، کیوں کہ یہ اللہ کی خاص کرم نوازی رہی کہ ہمیں ، ایمان دار ، اپنے پیشے سے محبت کرنے والے ، اَن تھک ، اِس ادارے کے ساتھ دیانت داری، اور وفاداری رکھنے والے لوگ ملتے رہے ، ، ، اور رب العالمین کے حکم سےیہ قافلہ چلتا جا رہا ہے،،، یہ اسی رب کا حکم ہوتا ہے کہ کس نے کہاں اپنا وقت اور صلاحتیں آزمانی ہیں ،،، اگر ہمارے ساتھ ، ایسے" ڈیڈیکیڈڈ "لوگوں کی تعداد نہ ہوتی ،تو ہم کبھی اتنے پُرسکون ہو کر کام نہ کر پاتیں ۔ میں سمجھتی ہوں کوئی ادارہ " ون مین شو " نہیں کر سکتا ، سبھی کارکن اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو کوئ ادارہ بہتر نتائج حاصل کر پاتا ہے ، میں تو ان سبھی ممبران کے لیۓ دل سے دعا گو ہوں ،،، کہ اللہ اُنھیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا کرے آمین ثم آمین !!۔
آج 2018ء کی یکم جنوری ہے ،،، اور فروری میں ہمارے سکول کو 26 سال مکمل ہو جائیں گے ،اور 27 واں سال شروع ہو گا ،،، اس دوران لاتعداد تجربات سے گزریں ،،، لیکن کیا کہوں کہ لوگوں کے اعتماد نے حوصلہ نہ دیا ہوتا ،،، تو تب ہم بھی ہمت ہار دیتیں ۔ لیکن اس ساری جدوجہد میں اباجی ، بڑے بھائی جان ،، اور پُرخلوص لوگوں کی پُرخلوص دعائیں بھی شامل ہیں ،،، تبھی تو اتنے طوفان آۓ لیکن اللہ پاک نے ہمیں اپنی امان میں رکھا ، اللہ کی شکرگزاری کے لیۓ لفظ کم پڑ چکے ہیں !۔
( منیرہ قریشی ، یکم جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

یادوں کی تتلیاں(70)۔

 یادوں کی تتلیاں "( 70)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اور اسی طرح ، ہمارے سکول کو شروع ہوۓ شاید تین سال ہوۓ تھے کہ ایک دن صبح پلے گروپ کا کمرہ کھولا گیا، تو آیا سفیداں بھاگی آئی ،،، جی کمرے سے چیزیں چوری ہو گئی ہیں ،، میں بھی جلدی سے گئی ،تو دیکھا کمرے کی کھڑکی کا پردہ اتار کر ٹی وی اسی میں باندھ کر اور قریبا" تمام کلر پینسلز ، اور پینٹ باکسز بھی غائب کیۓ گۓ تھے ، میں نے سکول کے قریبی پولیس سٹیشن پر فون کر دیا ،،،، تاکہ شاید کچھ بہتر نتیجہ نکل آۓ ، اپنا مکمل پتہ اور فون نمبر لکھوا دیا ،،، بہ مشکل 10 منٹ گزرے ہوں گے کہ تھا نیدار صاحب خود آفس آگئے۔ اور سلام کے بعد پوچھا " آپ کا ٹی وی کس کمپنی کا ماڈل کا تھا " میں نے جوجی سے پوچھا کیوں کہ اسی نے وہ رشین ٹی وی خریدا تھا ۔ سب چیزوں کی تفصیل انھیں بتا دی، تھانیدار صاحب کہنے لگے ،،، جی ، صبح سویرے ، تھانے کی ساتھ والی مسجد کے نمازیوں میں سے دو نمازیوں نے آکر بتایا ،، کہ مسجد کے باہر ، کپڑے میں لپٹا ایک بنڈل پڑا ہے ، ہم نے چیک کیا تو اسی ماڈل اور میک کا ٹی وی ہمارے تھانے میں ہے جو آپ نے بتایا ہے !میں کچھ دیر تک آپ کو آپ کا ٹی وی بھیج دیتا ہوں"" ، چوری کی چیز کا واپس مل جانا ہی حیران کن بات تھی ، اور اس سے ذیادہ پولیس کا اتنا تعا ون ،،،، ہم حیران ہو گئیں ،،،،،!!!۔
کچھ عرصہ اور گزرا ، سکول کی ایک ہی برانچ تھی، میں ہی انچارج تھی ، ہفتہ ، اتوار سکول کی چُھٹی ہوتی تھی۔ اُس دن ہفتہ تھا ، میری ایک سہیلی کا بیٹا مجھ سے ملنے اس خیال سے آیا کہ آفس تو کھلا ہوتا ہے ،، لیکن وہ ،جب داخلی دروازےسے داخل ہوا ، تو خاموشی پر حیران ہوا ، مزید حیرت اسے یہ ہوئی کہ آفس سے دھواں نکل رہا تھا ، وہ اُلٹے پاؤں میرے گھر کی طرف آیا جو وہاں سے 15 منٹ کی واک پر تھا ، اور آکر اس تشویشناک صورتِ حال کا بتایا ،،، میں اور اباجی فوراً کار میں جا پہنچے ،، داخلی کاریڈور کا دروازہ کھلا ہوا تھا میرے آفس کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا،اس زمانے میں آفس کے فرش پر "وینائیل فلورننگ" بچھی ہوئی تھی، وہ دروازے سے لے کر میرے آفس ٹیبل تک جلا ہوا تھا ، ٹیبل کی ایک ٹانگ بھی جل چکی تھی اوراسی کے ساتھ دیوار تک سیاہ ہو چکی تھی ،اس پر لٹکا نوٹس بورڈ بھی معہ تصویروں کے جل چکا تھا ، درازوں میں پڑی فالتو پینسلوں کے بنڈل نہیں تھے ،، اس میں سے بھی کچھ کاغذات نکال کر آگ میں پھینکے گۓ تھے ،،، کیش ہم سکول میں رکھتی نہیں تھیں ، اور بہت ٹیکٹ سے سکول کے سٹور میں سے فرش کی دری کو لا کر آفس کی بڑی سی کھڑکی پر ڈالا گیا تھا ، تاکہ باہر سے کسی سرگرمی کا شبہ نہ ہو !۔
ایک مرتبہ پھر تھانیدار صاحب کو کال کی گئی ، پہلے تھانیدار کی ٹرانسفر ہو چکی تھی ، یہ دوسرے صاحب بھی اچھے طریقے سے ملے،،، پوچھا ،، کسی پر شک ؟ ہم نے کہہ دیا ایسا کچھ بھی نہیں ! انھوں نے اردگرد کا معائنہ کیا ، کہنے لگے ، آفس کے باہر کے لان میں بائیک کے ٹائروں کے نشان ہیں ، آفس کے صوفے پر مردانہ جوتوں کے نشان ہیں ،،، لیکن کوئی چیز چوری نہیں ہوئ ، یہ نقصان محض آپ سے جیلسی ظاہر کر رہا ہے ۔ شکر کریں آگ پھیلی نہیں ،،،، بس یہ پرفیشنل جیلیسی لگتی ہے ! آپ رپورٹ درج کرانا چاہتی ہیں ، تو ہم کر لیتے ہیں ، ہم نے اُن کا شکریہ ادا کیا ،، اور اُس مہربان ، حافظ و ناصر ہستی کے آگے سجدہ ریز ہو گئےجس نے ہر چیز کی حفاظت کی اور کسی بڑے نقصان سے ہمیں بچا لیا ،،، اور ہم حیران ہو گئیں ، کہ ہم تو اپنی دنیا میں مگن ہیں ،لیکن ہم سے فی سبیل اللہ کوئی جیلس ہو رہا تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے !!!!۔
کچھ اور وقت گزرا ،، میں اپنے ہی سکول کی اوپر کی منزل پر آکر رہنے لگی ، اس دوران ہماری ایک سینئر ٹیچر کی شادی اچانک طے پا گئی ، کسی شادی ہال میں بکنگ نہ مل سکی ، میں نے اسے اسی سکول کے لان کو بطور مارکی استعمال کرنے کی تجویز دی ، اس نے شکر کیا ،،، کیٹرنگ کا انتظام اس کے گھر والوں نے کیا ، اور بہ عزت طریقے سے شادی ہو گئی ، ہم نے انہی دنوں سکول کے کاموں کے لیۓ چھوٹی وین خریدی تھی ، جو ایک پورچ میں کھڑی تھی ،، کیٹرنگ والے لڑکوں میں سے دو بہت ینگ بیرے بار بار وین کے پاس آتے ، میں نے بھی انھیں ایک آدھ دفعہ دیکھا تھا ! شادی کا ہنگامہ ختم ہوا میں اوپر کی منزل میں گھر آ گئی ، آدھی رات کو میری چھوٹی بہو کو گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی ، تو اس نے میرے بیٹے ہاشم کو جگا کر کہا ، کہیں آنٹی کی طبیعت تو خراب نہیں ہو گئی ،، اس نے پہلے میرے کمرے میں جھانکا ، پھر نیچے جا کر اپنی اور بھائی کی گاڑی دیکھی ، اب وین نظر نہ آئی تب مجھے جگایا کہ وین کہاں کھڑی کی تھی ، مجھے یاد نہ تھا ،، تب اس نے بڑے بھائی کو جگایا ،، یہ دونوں فوراًنیچے اترے ایک کار سٹارٹ کی اور واہ کے قریبی بیریئر کی طرف چل پڑے ، بڑے کامل علی نے جلدی جلدی تینوں بیرئرز پر فون کیا ، اور ساتھ ہی موٹر وے پولیس کو فون کر دیا کہ اس رنگ ، کمپنی ، اور اس نمبر کی وین گزرے تو روک لیں ، اور خود بھی موٹر وے کی طرف ہو لیۓ ، اتنے میں اس وین کے سکول ڈرائیور کو بھی بلا لیا گیا ، اور اس کا ٹریکر نمبر لے کر ، موٹروے کی پولیس کےکمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کو دیا گیا ،، آدھ گھنٹے میں انھوں نے اس کا ٹریکر ، بلاک کر دیا ، اور اب یہ خود دونوں بھائی اور موٹر وے پولیس اس طرف روانہ ہوگئی،وین ابھی نزدیکی گاؤں کی طرف پہنچنے والی تھی جو ہمارے گھر سے 35 میل دور تھا،گویا وہ خوب تیز رفتاری سے گئے تھے ، اس گاؤں کی سڑک پر گاڑی کھڑی تھی، اور چور بھاگ چکے تھے،،،،،،،،،،!۔
علی نے وین ڈرائیو کی ، اور ہاشم کار میں پولیس کے شکریۓ کے ساتھ واپس آگۓ ،،، رات کو ہی جلدی جلدی مقامی پولیس کے ایس ایچ او ، ،، کو بھی اطلاع کر دی گئ تھی ،،، گویا ابھی مقامی پولیس کا کام شروع بھی نہ ہوا تھا ، کہ کام ختم بھی ہو گیا ،یہ سارا ہنگامہ رات 4 بجے شروع ہوا ، اور صبح ساڑھے سات وین واپس پورچ میں کھڑی تھی ،،،،، پولیس والے بھی حیران تھے کہ ایسا " وقوعہ " بھی کم ہی نظر آتا ہے ، ہم نے انھیں مٹھائی کا ڈبا دیا ( جو انہی کی فرمائش پر تھا  ،،،،،، صبح سکول سٹاف میں ایک ہنگامہ برپا تھا ، کہ مبارک دیں یا افسوس کریں ،،،،،،،، لیکن ہم دونوں کے ساتھ ساتھ اس دفعہ بہت سے لوگ حیران تھے ! ! الحمدُ للہ کہ اللہ حامی و ناصر نے ہمیشہ اپنی حفاظت کے ساۓ تلے رکھا ، الحمدُ للہ !!!۔
( منیرہ قریشی ، یکم جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 31 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(69)

"یادوں کی تتلیاں" (69)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اسکول کی شروعات میں کچھ واقعات ایسے تھے ، جو کبھی پریشان اور کبھی حیران کر دیتے ،،، کیوں کہ جب خواتین اپنے آپ کو بہادر سمجھنے لگتی ہیں ، تو شاید اُنہی کی ٹریننگ ہونے لگتی ہے کہ جب پریشان کر دینے والا کوئی واقع آجاتا ہے ۔ 
ابھی ہمارا سکول جماعت ششم تک ہی  تھا ،،، سبھی جماعتوں کے ایک یا دو سیکشنز تھے،،، فوجی حضرات کی ٹرانسفر ہوتی تو وہ اپنے بچوں کے لیۓ ہمارے سکول کو ترجیح دیتے ،،، ایک دن سکول کی چھُٹی کے بعد میں اپنے معمول کے کام نبٹا رہی تھی ، سارا سکول خالی ہو چکا تھا سواۓ " آیا اور چوکیدار " کے ،،، میرے آفس کا دروازہ کُھلا اور فوجی یونیفارم میں ایک 40 ، 41 سا ل کا جوان سا افسر اندر آیا ،،، اُس نے اس طرح کلام کیا " السلامُ علیکم ،، کہاں ہے آپ کی " فلاں " ٹیچر ؟ میں تو اس کے چیر کر چار ٹکڑے کر دوں گا ، وہ ہوتی کون ہے میری بیٹی کو ہاتھ لگانے والی ، اس نے جراؑت کیسے کی میری بیٹی کو مارے !! " میں ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی اور اُس کے الفاظ نے تو جیسے میرے سَر کو بَھک سے اُڑا دیا تھا ،،،،۔
میں نے اسے کہا " کیا آپ آرام سے بیٹھ کر بتائیں گے کہ کیا ہوا ہے ! تب ہی مجھے علم ہوگا " ،،، جناب نے فرمایا میری بیٹی کی ٹیچر نے اسے سٹک سے مارا ہے " ،، ہماری وہ ٹیچر بہت پڑھی لکھی اور اچھی ٹیچر تھی اور اتفاق سے سکول کے نزدیک ہی رہتی تھی ، میں نے کہا" میں اپنی ٹیچر کو بُلواتی ہوں ، آپ اپنی بچی کو لے آئیں ،،، پھر جو ہو ، سامنے آجاۓ گا ،،، کیوں کہ میں نے جسمانی سزا پر پابندی لگا رکھی تھی ، اور وہ ٹیچر ویسے بھی مار کی بالکل قائل نہیں تھی ،،،،،،،،، خیر فون کیا تو ٹیچر 5 منٹ میں آگئی اور دوسری طرف آرمی آفیسر ، معہ اپنی بیگم اور بچی کے آگۓ !۔
اس سے پہلے کہ آرمی آفیسر کچھ بولے ، میَں نے کہا آپ کچھ نہیں بولیں گے ، پہلے ٹیچر کو مجھے پوچھنے دیں ،، میں نے پوچھا کیا آج اِس بچی کو مار پڑی ہے؟ اگر مارا گیا ہے تو کس چھڑی سے ، اور کس وجہ سے؟ ،،،، میرے سوالوں پر ٹیچر نے کہا " مجھے بچی سے سوال کرنے دیں ، ٹیچر نے پوچھا " بیٹا میں نے آپ کو جسم کے کس حصے پر سٹک ماری ؟ اور وہ سٹک کتنی بڑی تھی ؟؟؟؟
جواباً بچی چُپ ، ٹیچر نے دوبارہ پوچھا ،، بچی پھر بھی چُپ ، میں نے کہا "جب تک آپ جواب نہیں دیں گی آپ یہیں کھڑی رہیں گے !" تب بچی نے ہلکی اور شرمندہ آواز میں فرمایا " سٹک نہیں ماری ،، بس اِن کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ میں نے ابو سے کہا کہ مجھے مار پڑی ہے !! " بچی کی نظریں تو نیچی تھیں ہی ،،، اب اباجان کی نظریں بھی نیچی ہو گئیں ،،،،یہ سب تو صوفے پر بیٹھے تھے صرف بچی کھڑی تھی ،،، میں نے آفیسر سے کہا " کھڑے ہو جائیں ،،، اور نہ صرف مجھ سے بلکہ ٹیچر سے معافی مانگیں ،، اور اگر مجھے آپ کی بیگم کا خیال نہ ہوتا تو میں آپ کے کمانڈنگ افسر کو یہ سارا واقعہ اور آپ کے الفاظ لکھ کر بھیج دیتی ، تو آپ کی رپورٹ میں ہمیشہ کے لیۓ یہ خرابی آجاتی ،،، تب اُس نے مجھ سے اور ٹیچر سے معافی مانگی ، ، ، اور بیٹی کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا کہ مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا ! ،،، بچی کو باہر انتظار کا کہہ کر اُن میاں بیوی سے کہا " اپنے بچے ہر ایک کو اچھے لگتے ہیں ، ، لیکن اُن کی اچھی تربیت کرنا بھی ہمارا ہی کام ہے ،،، آپ کی بچی کتنی بھی لاڈلی سہی ،، کیا شادی کے بعد آپ ساتھ جائیں گے ؟ کہ کہیں اس کی ساس یا نند یا شوہر کوئی ذرا سا بھی ٹیڑھا بولیں ،، تو ہم انھیں " چیر کر رکھ دیں " ،،، بچوں کو اتنا بھی پروٹیکٹ نہ کریں کہ وہ آپ کی محبت کو کیش کروانے لگیں ،،، دوسرے یہ کہ جب آپ افسر بن رہے ہوتے ہیں ، تو آپ کی ٹریننگ میں ایک بات یہ بھی سکھائی جاتی ہے کہ " ہر عورت کا احترام کرنا ہے ، اور یہاں تو ٹیچر ہے ،،، جس کا ادب تو گھروں سے ہی سکھا دیا جاتا ،کجا یہ کہ آرمی کے ماحول میں اس بات کا مزید خیال رکھا جاتا ہے " ؟؟؟ آپ کے ٹیچر سے متعلق الفاظ مجھے زندگی بھر نہیں بھولیں گے ! آپ کی بےجا محبت دراصل بچی کے راستے میں کانٹے بو رہی ہے " وغیرہ ، شاید میں نے اسے بہت کچھ اور بھی کہا ہو گا ، لیکن جو یاد رہے وہ یہ الفاظ ضرور تھے ، ، اب تو محترم کی نظریں اوپر نہیں ہو رہیں تھی ، انھیں جانے کا کہا ، وہ تو اُٹھ کر باہر چلا گیا ،،، بیگم وہیں بیٹھی رہیں ،، اور جو میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ جب آفیسر بچی کو لینے گیا اور ساتھ بیگم ساتھ تھیں تو آفس میں داخلے کے وقت بیگم ، اپنے شوہر اور بچی کے پیچھے تھیں اور انھوں نے مسلسل اپنے ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑے ہوۓ تھے اور جب بچی کا جھوٹ پکڑا گیا تو وہ مسلسل روتی رہی ،،، شوہر کے جانے کے بعد اس نے کہا " آپ کا بہت شکریہ کہ اِسے بھی کسی نے نصیحتیں کی ہیں ورنہ اس کے اِسی غلط لاڈ پیار نے بچی کو خودسر بنا دیا ہے ! آج اِ ن دونوں کو شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے ، عقل ہوئی تو آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے ! "۔ 
میں نے اسے واضح کیا کہ جتنی دیر میں یہ بچی کو لینے گھر گیا تھا میں نے آپ کی بچی کا ایس ،ایل ،سی تیار کر لیا تھا ،، اور ابھی یہ میرے پاس ہی رہے گا ، میں اسے ضائع نہیں کروں گی " وہ بےچاری عورت ، معافی مانگنے اور رونے کے علاوہ کیا کر سکتی تھی ۔ لیکن یہ واقع مہینوں میرے لیۓ کوفت کا باعث بنا رہا ،،،،،،،، مجھے اپنے والد اور ان کے ساتھ کے آرمی آفیسرز کا خیال آتا رہا ، جنھیں اپنے بچوں کو ٹیچر یا سکول سے متعلق غلط جملے بولنے کی قطعی اجازت نہ تھی ،،، ہمارے والدین ہمیشہ ٹیچر کے معاملے میں صرف اُنہی کو حق بجانب سمجھتے تھے ،،، اور وہ صاف کہہ دیتے تھے ، اگر تمہاری جماعت میں 30 بچے پڑھ رہے ہیں اور انھیں کوئی شکایت نہیں ، تو دراصل آپ خود محنت نہیں کر رہیں ، جس کی وجہ سے ٹیچرکو آپ سے شکایت ہے ۔ اپنی محنت سے ٹیچر کی شکایت دور کرو !۔
یہ ایک ایسا تجربہ تھا ، جس کے بعد میں اپنے سالانہ رزلٹ ڈے پر جو تقریر کرتی اس میں یہ ایک جملہ بھی ضرور کہتی " آپ کا بچہ جب کسی سے متعلق شکایت کرے ، تو بہت طریقے سے پہلے اُسی سے کُرید کُرید کر اصل بات کو معلوم کریں ، اور پھر مہذب انداز سے اپنی شکایت ، پہنچانے سکول آئیں ، ورنہ آپ خود شرمندہ ہو سکتے ہیں ،،، کہ اکثر بچے خود کو مظلوم بنانے ، اور ہمدردی سمیٹنے کے چکر میں " بڑے بڑے جھوٹ " بول دیتے ہیں ، جب کہ بات کچھ اور نکل آتی ہے !!! اور گھر میں یہ جملہ کبھی مت بولیں "" ہم فیس دیتے ہیں ،، ٹیچر کی کیا مجال کہ وہ تمہیں مارے " یا یہ کہ "" میں کل آؤں گا تمہارے سکول ، سیدھا کروں گا تمہاری ٹیچر کو " وغیرہ ،،، ہمارے آج کے والدین نے "بچے "کو اپنا " بڑا " بنا لیا ہے ، خود اس کے بڑے نہیں بن رہے ، یہی وجہ ہے کہ ذیادہ تر بچے بہ زعم خود ، عقلِ کل بننے لگتے ہیں ، اسی لیۓ تو اشفاق احمد صاحب نے فرمایا تھا ، "" بچے کو ' نہ' کرنا سیکھیں اسے اس رویۓکی عادت ڈالیں "" !! اور "" بچے کے دوست نہ بنیں، اس کے رہنما ء بنیں ""۔
( منیرہ قریشی، 31 دسمبر 2017ء واہ کینٹ(جاری)

ہفتہ، 30 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(68)۔

 یادوں کی تتلیاں" ( 68)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یادوں کی تتلیاں ،،، کے عنوان کو 58 نمبر کے بعد کچھ دیر کے لیۓ راستے کے اس ٹریک کو روک کر " ڈرائنگ روم " کی جھلکیوں کی طرف موڑ لیا تھا ،،، کہ طبیعت کی بےچینی آمادہ کر رہی تھی کہ پہلے اِن لاجواب اور اثر چھوڑ جانے والے کمروں کی یادیں تازہ کر لوں ،، پھر آگے بڑھوں !!۔
میں نے یادوں کے باغ میں اپنی تتلیوں کو تلاش کیا تو ،،، وہ ذاتی سکول کے دور میں موجود تھیں ۔ 
میں نے اور جوجی نے شروع میں ہی فیصلہ کر لیا تھا ، کہ ہم سکول کو بتدریج آگے بڑھائیں گے ،،، اور وہ بھی اُس صورت میں کہ اگر والدین مطمئن ہوتے چلے گۓ ! ،،، یہ ہی وجہ تھی کہ 1991ء سے شروع ہونے والا سکول 1993ء تک صرف پلے گروپ ، نرسری ، پریپ اور ون ،، تک پہنچا ،،150 بچے تھے۔ سرمایہ کچھ خود اپنے پاس بھی کم تھا ،،، کچھ سکول فیس بھی نارمل رکھی ،،، تاکہ اچھی تعلیم کم سے کم چارجز کے ساتھ " مڈل کلاس تک پہنچ سکے ۔ " الحمدُ للہ ، یہ نظریہ آج بھی سامنے رکھا ہوا ہے " !۔
اُن دنوں میں کچھ ایسے تجربات ہوۓ جنھوں نے ہمیں بھی کچھ ہوشیاری ، سمجھ داری عطا کی ،،جیسا میں نے پیچھے کسی جگہ لکھا ہے کہ ، جب ہم نے سکول شروع کیا تو اُس مال روڈ پر کوئی اور سکول نہ تھا ۔ صرف ایک گندھارا کالج اور ایک بی ایڈ کروانے والا ادارہ " فاطمہ جناح کالج" تھا ، ، ، 94ء تک ، اگر کوئی سکول تھے بھی تو اس مین مال روڈ پر نہیں تھے ،، اندرونی سڑکوں میں کچھ موجود تھے ! لیکن ان سبھی سکولوںمیں ہمارا سکول نمایاں ہوتا چلا گیا ،،، اور لوگوں میں یہ جملہ عام طور پر گردش کرنے لگا کہ ، " بچے کی "بیس'(بنیاد) بنانی ہے تو " مارگلہ گرامر سکول " بہترین ہے ، وغیرہ ،،، ۔
ایک دن میں آفس میں ہی تھی ،، کہ ایک جوان لڑکی جو چہرے سے ہی میچور لگ رہی تھی ،، اور اس کے ساتھ ایک اور میچور شکل کا لڑکا تھا ،، اجازت لے کر آفس میں داخل ہوۓ ، کہنے لگے ہم نے اپنی بھانجی کو پلے گروپ میں داخل کرانا ہے ،،، لیکن ، ہم پہلے پلے گروپ کا کمرہ دیکھنا چائییں گے " ،،،،،،،، میں نے بچی کی عمر پوچھی ، وہ تین ، ساڑھے تین کی تھی ،،، انھوں نے سلیبس دیکھنے کی بھی فرمائش کی ، اور پہلے میں نے انھیں سلیبس کی آؤٹ لائن دکھائی پھر ،،، انھیں لے کر کلاس روم کی طرف آئی ،،اور ساتھ میں کہا " کمرہ اور ماحول کا دیکھا جانا ، بچے کے سرپرستوں کا حق ہے کہ وہ دیکھیں ، پرکھیں "،، اور انھیں پلے گروپ دکھایا ،، بلکہ آتے آتے نر سری کلاس بھی دکھلا دی ،،، آفس آۓ ،، بیٹھتے ہی ،، دونوں میں سے پہلے لڑکی بولی " میڈم ، ہم دونوں بہن بھائی ہیں اور ہم نے کوئی بھانجی داخل نہیں کروانی ، ہم نے آپ کی ان" انیشل کلاسز "کی شہرت سُن کر یہ سب سوچا ، کہ ہم اپنے والد کا چلایا ہوا سکول گذشتہ 6 سال سے چلا رہے ہیں ، لیکن لوگ آپ سے مطمئن ہوتے چلے جا رہے تھے ، سوچا ہم بھی دیکھ کر آئیں ، اور کچھ ٹپس نوٹ کر لیں ، ،،، آپ نے کھلے دل سے اپنی کلاسز کا وزٹ کرا دیا ،، تو ہم بہت شرمندہ ہوۓ ہیں ، کیوں کہ ہم کسی کو کلاسز کا وزٹ نہیں کرواتے,۔
انھوں نے اپنے سکول کا نام بتایا ، والد کا نام بتایا ،،، تو میں پہچان گئی ، تب میں نے انھیں کہا " اب آپ دوبارہ اُنہی کمروں میں چلیں ، وہ کچھ حیران سے ہو گۓ ،،، میں نے کمرے میں لے جا کر انھیں بتایا " یہ کُرسیاں اور میز فلاں ، کاریگر سے بنوائیں ، یہ نرسری ایکوپمنٹس فلاں دکان سے لیں ، یہ اور یہ فلاں جگہوں سے لیا ،،، یہ ہم نے مہنگا ملا ،، آپ نے لینا ہوا تو آپ فلاں سے لیں ،! اور پھر آفس لے آئی ،، اور میں نے اُن دونوں بہن بھائی سےکہا " یاد رکھیں جہاں جائیں اول تو اپنے وزٹ کا مقصد ضروبتادیں۔
،، اس طرح آپ کے لیۓ باعزت انداز ہو گا ،،، اور دوسرے ایسے کاروباری معاملات میں ایک دوسرے سے اچھی مساقبت ہو جاتی ہے تو یہ صحت مند مقابلے کی فضا ہو گی ،،، وغیرہ ، اور یہ کہ ان چیزوں کے ہونے ، نہ ہونے سےکوئی فرق نہیں پڑتا ، اصل چیز آپ کی ٹیچرز کا  سکلڈ ہونا ہے ، اگر وہ اپنے کام سے آگاہ نہیں اور وہ دلچسپی نہیں لے رہی تو ، ان سب بھری ہوئی کلاسز کا کوئی فائدہ نہیں ،،،،،،، اُس دن سے وہ اس حلقہء میں شامل ہو گۓ ، جن سے میرے احترام والے مراسم آج بھی ہیں ، ۔ وہ جب کسی معا ملے میں مدد چاہیں ، مجھے ان کو گائیڈ کرتے ہوۓ خوشی ہوتی ہے ، ،۔
ہم نے سکول کو ، کاروبار کے نقطۂ نظر سے کم اور مشن کے طور پر ذیادہ توجہ دی ۔ جب بھی کسی ٹیچر کی تعیناتی کرتیں ، اسے اس کی ڈگری یا تجربے سے میں کبھی متاثر نہیں ہوئیں ، میں نے اس کے جذبے کو ، اس کی دلچسپی کو ، اور ان اقدار کو جو اس کے اندر مجھے نظر آجاتیں تو تب اہمیت دیتی ۔ اور اسی بنا پر اُس کی تعیناتی کرتیں۔ ہم دونوں اپنے اس خیال اور مقصد سے آج 27 سال بعد بھی ڈٹی ہوئی ہیں ، کہ تربیت پہلے اور تعلیم بعد میں ،،،،،!۔
۔1991ء میں ہم نے سکول شروع کیا ، اور 1994ء میں کچھ ٹیچرز نے ہمیں جوائن کیا ،، انہی میں ایک شیما زاہد تھیں جن کا سسرال ، اور والدین کی طرف سے بہت مضبوط تعلیمی پس منظر تھا ۔ وہ اپنی بیٹی کو داخل کروانے آئیں ، تو میں نے پوچھ لیا کیا کرتی ہو ، کتنا پڑھا ہے ؟ وغیرہ۔ 
اس نے بتایا میں نے بی ایس سی اور بی ایڈ کیا ہوا ہے لیکن ، آج تک کہیں جاب نہیں کی ، ،، میں نے آفر کی ، اگر آنا چاہو تو بیٹی کے ساتھ خود بھی آجاؤ گی تو تسلی ہو گی ، شیما اپنے ساس سسر کے ساتھ رہتی تھی ، اس لیۓ چھوٹی بیٹی جس کی ابھی سکول کی عمر نہیں ہوئی تھی، بچوں کی دادی ،دادا دیکھ بھال کر سکتے تھے۔ اور اس کا بڑا بیٹا کسی دوسرے سکول میں کلاس دوم میں تھا ،،، شیما نے اپنے گھر والوں سے مشورہ کیا ، اور اگلے مہینے ہمیں جوائن کر لیا ،،، شروع میں اسے نرسری کلاس دی اور پھر پریپ کلاس ،، اور پھر جماعت دوم ، کی کلاس ٹیچربنائی گئی ۔ وہ دوچار سال نہیں بلکہ 12 سال کے عرصے میں اپنی ڈیڈیکیشن ، اور مکمل حاضری کی روایت پر کاربند ہونے ،، اپنی کلاس کو مکمل توجہ دینے اور باقی سٹاف ممبرز سے خوشگوار تعلقات کی عادت نے ، ہمارے دلوں میں ایک مقام بنا لیا ۔ تب ہم دونوں نے باہمی مشاورت سے اسے پرنسپل کی ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ، کیوں کہ جوجی کے لیۓ سکول کو بہت وقت روزانہ دینا اس وقت ممکن نہ تھا ،،، سکول ان بارہ سالوں میں پہلے چَھٹی تک اور پھر آٹھویں تک ہو چکا تھا ،، بچے بڑھتے جا رہے تھے، اور اس رش اور والدین کی توجہ اور مطالبے نے ہمیں " بورڈ کلاسز " تک لے جانےپر سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ، اور تب میں نے شیما سے کہا " فری پیریڈ " میں اپنی کاپیاں چیک کرنے کے لیۓ آفس میں ایک کونے میں بیٹھ کر چیک کرنا ،،، اور بس ڈیلنگ دیکھتی رہا کرو وغیرہ ، وغیرہ !!۔
ایک سال مزیدگزر گیا ، تب دوسری بلڈنگ کراۓ پر لی گئی ، اور چھَٹی تا دہم وہاں شفٹ کی گئیں ، اور باقی پلے گروپ تا پنجم یہیں اپنے اباجی کی دی ہوئی بلڈنگ میں رہنے دیں ، اور اب 12، 13 سال بعد ہم اس پوزیشن میں تھیں کہ بورڈ کلاسز بھی شروع کریں پلے گروپ تا پرائمری کلاسز کے تین تین سیکشنز بن گۓ ، اور یوں شیما کو دی گئی ذمہ داری کو آزمانے کا وقت بھی آپہنچا ،،، اور اسے جو نیئر سیکشن کی پرنسپل بنا دیا گیا ، اور میں نے خود سینئر برانچ کو سنبھال لیا ،، مجھے نویں دسویں کو پڑھانے کے تجربے نے بہت فائدہ دیا ،،، یہاں کا سارا سٹاف نیا مقرر کیا گیا ،،، اس نئی برانچ کی بلڈنگ خاصی مایوس کن حالت میں تھی لیکن ہمیں کچھ کم کراۓ پر مل گئی ،،، دو ماہ تو اس کی صفائی ، کچھ مرمتوں میں گزرے ۔ اور ایک نیا قدم اللہ کی مہربانیوں سے اُٹھا اور پھر قدم اٹھتے چلے گۓ ،،،، شیما نے اپنی ذمہ داریوں کو بہ احسن سنبھال لیا ،،، اور میں مکمل یک سوئی سے سینئر برانچ کو چلانے لگی ۔
جیسا میں نے لکھا کہ ہم نے کاروبار نہیں مشن شروع کیا ،، لیکن مختلف تجربات ہمیں سیانا کر تے گۓ، یہ بات جو لکھ رہی ہوں اس وقت تک سکول کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے، میں خود ہی بطورِ پرنسپل سکول چلا رہی تھی، ہماری فیس کافی کم تھی ،، پھر بھی کچھ والدین اس میں بھی  رعایت مانگتے ، اور اس خیال سے کہ چلو کچھ تو آمدن ہوگی تاکہ اخراجات نکلتے رہیں ،،، اور حال یہ تھا کہ آدھا واہ کینٹ اباجی کا واقف تھا کچھ ہماری واقفیتیں تھیں ،،، کچھ رشتہ داریاں بھی موجود تھیں ،،، ان سب کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ،، اور یوں صورتِ حال ، کچھ بہت امید افزا نہیں تھی ،،، اور اس دوران ہمارے" ملک کا ٹاپ سکول سسٹم بیکن ہاؤس "کھُل گیا ، جس کے کامیاب سکول ہونے میں کوئی شک نہ تھا ،،، وہیں ، مین مال پر ایک بہترین بلڈنگ میں اس کی شروعات ہوئیں ،،، اور حیران کن بات یہ ہوئی کہ ہم سے کنسیشن لینے والے بہت سے والدین نے اس طرح اُس نہایت اونچے فیس پیکیج رکھنے والے سکول میں سب سے پہلے بچوں کو داخل کروانے پہنچ گۓ ، جیسے وہاں مفت پڑھائی ہوگی ،،، اور انہی میں سے دو والدین نے ایس ایل سی لیتے وقت بدلحاظی سے کہا " آپ ، تو اب اپنا سکول بند کر دیں ، مشکل ہی اب یہ چل سکے " ،،،، میں نے انھیں غور سے دیکھا (اور دل میں کہا ، آپ تو ہم سے اتنی کم فیس کے باوجود کنسیشن والے لوگ تھے ،اب باتیں کیسی دل آزاری کی کر رہے ہیں !) اور اُن سے کہا ،،، کیوں جہاں جہاں بیکن ہاؤس ہے وہاں سب ہی سکول بند ہو گئے ہیں کیا ؟ ؟ ؟ ،،، اور الحمدُللہ ، کہ وہی لوگ ایک سال کے بعد دوبارہ آۓ کہ ہمارے لیۓ اخراجات پورے کرنا مشکل ہے ،،، !! لیکن اب ہمارے لیۓ مثبت مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی تھی ، ، ، اور ہم اپنے اسی مشن پر قائم رہیں کہ " بہترین تعلیم ، کم فی پیکیج " کے ساتھ !!!! ہمارے لیۓ وہ وقت جلد آگیا کہ تعلیمی سال کے خاتمے پر اور نئے تعلیمی سال کی شروعات پر ہمیں پہلے ہی سکول کے باہر "نوایڈمیشن" کا بورڈ لگا دینا پڑتا ہے ،،، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ !!۔
( منیرہ قریشی ، 30 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

ہفتہ، 9 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(57)۔

 یادوں کی تتلیاں" (57) ۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
میں نے ایک عام گھریلو خاتون ، اور تین بچوں کی اماں ہوکر ، " ورکنگ وویمن" کی شروعات کیں ، میں سمجھتی ہوں ، نوجوانی میں کوئی جاب کرنا خوب شوق و ذوق کا معاملہ ہوتا ہے،،، جب کہ خود میں توانائی بھی ہوتی ہے ،،، البتہ بال بچوں ، اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت کی ابتداء کرنا خاصا ، آزمائش کا باعث ہوتا ہے! کیوں کہ بندہ کسی اور روٹین کا عادی ہو چکا ہوتا ہے ،،، البتہ مجھے وہ جاب ملی جس میں ، مجھے بچپن سے دلچسپی تھی ،،، اور آج بھی ہے،،،، اسی لیۓ میں نے اسے بہت سنجیدگی اور شوق سے لیا ،،، اور،،،،جب اپنے سکول کی ابتدا کی تو ، اللہ نے مزید ہمت عطا کی۔ صبح سویرے نماز کے بعد کام کی ابتداِ ہوجاتی ،، ناشتہ ،، اور بچوں کو سکول بھیج کر خود ، جلدی جلدی تیاری کرتی ، اس دوران مہ جبین پہنچتی اور پھر سکول ،،، جیسا میں نے پچھلی اقساط میں سکول کا ایریا اور عمارت کا لکھا ہے ،،،، اور مزید بےترتیب کمرے بھی بنوا لیۓ کہ ، بچے بتدریج بڑھ رہے تھے۔اس دوران پاکستان نے ، 30مئی 1998ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا ،،، تو جیسے پوری دنیا کو سکتہ ہو گیا ۔ جب دنیا سکتے سے نکلی ، تو اسلامی ممالک نے شادیانے بجاۓ ،مبارک سلامت کا شور اُٹھا ،،، ہم وہ قوم ہو چلے تھے ، جس کے دن رات یکسانیت کا شکار ہو چکے تھے ،،، کسی طرف سے کوئی تحقیقی کامیابی کی خبریں نہیں مل رہی تھیں ،،، ایسا کیوں تھا یا کیوں ہو رہا تھا ہم " عام عوام " ،، تو بالکل لاعلم تھے ،،، کہ یہ دھماکہ ہوا ، اور ایک دو نہیں ،،،، سات دھماکے کیے گئے،
 اور   اللہ رب العزت کا شکریہ کہ سبھی کامیاب رہے ۔یہ خبر ،، یہ کامیابی جیسے قوم کے لیۓ ، نئے خون مل جانے کا باعث بنی ،،، دل ، دماغ ،، اور وطن کی فضائیں  ،،مٹی ، پھول پودے تک جھومتے محسوس ہونے لگے ،،، یوں لگتا جیسے ہم سب بھی "نئے" بن  گئے ہیں۔ 
مزے کی بات کہ اس دھماکے کے بارے میں ،یا دوسرے ممالک سے اس کا تقابلی فرق کیا ہے کیا نہیں ہے کوئی خاص معلومات نہیں ،،،، بس خوشی ہے کہ ہمارے سائنسدان کامیاب و کامران ہو گئے،،،،،، اس وقت تک نہ موبائل کی ریل پیل تھی ، نہ گھر گھر کمپیوٹر کا ہونا عام تھا ،،، اس لیۓ آ،،، جا،،، کر اخبار ، رسائل یا ٹی وی کی خبریں ہی معلومات کا ذریعہ تھیں۔ تب ہی بڑے بھائی جان ،،، ایک دن آپا کے ساتھ شام کو کہیں گۓ ہوۓ تھے،،، شام کو اباجی سے روز کی ملاقات تو ہوناہوتی تھی ، تب انھوں نے بتایا "" بھئ ، ہمارے گھر سے چھٹا گھر " طارق جمال صولیجہ صاحب" کا گھر ہے ، وہ اُس ایٹمی سائنسدانوں کی ٹیم کے ایک سائنس دان ہیں جو ابھی ابھی ایٹمی کارنامہ کرچکی ہے ،،،تم لوگ انھیں اپنے سکول میں بلاؤ ! تاکہ وہ اصل معلومات دیں " " میں اور تمہاری آپا اُن کے گھر کیک لے گۓ تھے،، اور نہ صرف اس شاندار کامیابی پر مبارک باد دی ،، بلکہ اُن کا شکریہ ادا کیا کہ آپ سب کی وجہ سے اس قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے "" ،،،، یہ سب سن کر مجھے اور جوجی کو بہت خوشی ہوئی کہ اتنی اہم شخصیت ، سے ہم جلد متعارف ہوں گے ۔ اگلے ہی دن صبح ، سکول کے آف ہونے کے بعد سٹاف ممبرز کو بتایا کہ " اتنی اہم شخصیت " ہمارے پڑوس میں ہے اور اب ہم نے انھیں باقاعدہ انھیں بلانا ہے تو کیا کچھ ہونا چاہیۓ ۔،،،،،،،،،،،،،،،،،سب سے پہلے جن ٹیچرز کا مضمون ، فزکس رہا ہے ،، وہ اچھے سوالات مرتب کریں ،،،، اور پھر کمرے میں بلیک بورڈ ہو ، یا سفید بورڈ ہو ،،، پھر چاۓ میں کیا کچھ ہو،،، اور آخر میں !ہم انھیں کیا تحفہ پیش کریں۔یہ سب مشاورت کے بات ایک"دعوت نامہ " دینے ، جوجی اور بڑے بھائی جان گۓ ۔ اور انھوں نے آنے والے بدھ کی حامی بھری ،،، اپنی طرف ان کے اعزاز میں جو کر سکتے تھے کیا ،، ان کی آمد پرسکول کا پہلا سفید بورڈ خریدا گیا ، تاکہ وہ اُس پر مارکر سے تفصیل سے ہمیں بتا سکیں ،، جب " صولیجہ صاحب " تشریف لاۓ ،، تو اوروں کا پتہ نہیں لیکن میرا توخوشی سے جو حال تھا بیان نہیں کر سکتی ،،، اور جب اُن کے تحمل ،منکسرانہ انداز کو دیکھا ، تو دل میں اُن کی قدر مزید بڑھی ۔ اُس وقت ہماری ٹیچنگ سٹاف بہ مشکل پندرہ افراد پر مشتمل تھا ، لیکن سب ہی اپنے کام سے جُڑی ، محبِ وطن خواتین تھیں ،،، " طارق جمال صولیجہ صاحب " کو اس " ذرا بڑے کمرے "میں لے گئے جہاں سب ہی ٹیچرز اکٹھی تھیں ،، اور سفید بورڈ بھی لگا دیا گیا تھا ،، پہلے انھوں نے کچھ تفصیل " ایٹم " سے متعلق بتائی ،،، اور جب انھوں نے " چاغی پہاڑ" کوبورڈ پر" ڈرا " کر تفصیل بیان کی ،،،، تو ہماری معلومات میں گراں قدر اضافہ ہوا ،،، ورنہ ہم صرف ادھوری ، اخباری خبروں تک محدود تھے ۔ انھوں نے ہمیں دو گھنٹے تک تفصیل سے ، اور آسان ترین الفاظ میں سب کچھ بتایا ،،، اور پھر چاۓ کے دوران بھی معلومات بہم پہنچائی جاتی رہیں ۔ بڑے بھائی جان بھی موجود رہے۔ اور بعد میں ہم نےاس یاد گار دن کے طور پر انھیں کچھ سوینئر جوسکول کے بچوں کے بناۓ ہوۓ تھے، اور پین ، ڈائری وغیرہ تحفہ پیش کیا ،،، اس دو ڈھائی گھنٹے میں ، انھوں نےایک دفعہ بھی کسی " اُکتاہٹ " کا اظہار نہ کیا ، کہ یہ " عام فہم خواتین " ہیں انھیں مزید کیا بتانا ۔ نہ ہی انھوں نے کسی قسم کا علمی رعب ڈالنے کی کوشش کی ،،، یہ ایسے اوصاف تھے جو کہ میں نے اب تک انگلیوں پر گنے لوگوں میں دیکھے ہیں ۔ وہ اتنے سادہ سے حلیۓ میں تشریف لاۓ تھے کہ عام بندہ انھیں دیکھ کر اندازہ نہ کر سکتا کہ یہ ہمارے ملک کے " ہیرو " ہیں ،،،، جاتے وقت انھوں نے بتایا اُن کا سب سے چھوٹا بیٹا اسی سکول میں " نرسری " میں پڑھتا ہے ، ،، اور باوجود اس کے کہ سبھی بچوں کے داخلہ فارم وغیرہ میں خود سائن کر کے رکھتی تھی ،،، مجھے علم ہی نہیں تھا کہ ایک سائنسدان کا بیٹا یہاں داخل تھا ،، میں تو شرمندہ سی ہو گئی کہ مجھے کیوں نہیں پتہ چلا کہ " صہیب جمال صولیجہ " ان کا بیٹا ہے۔ انھوں نے فوراً بتا دیا میں نے " والد کا پیشہ" کے خانے میں صرف "انجینئر " لکھا تھا ،،، ،،، کچھ لوگوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کی تربیت " کیسے عظیم والدین " نے کی ہوگی ، جن کے اخلاق کو دیکھ کر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے ۔بعد میں جلد ہی اُن کی نفیس ، بااخلاق ، اور رکھ رکھاؤ کی تہذیب سے آراستہ بیگم سے ملنا ہوا ،،، اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ،، الحمدُللہ ۔اُن سے مل کرہر دفعہ اتنا ہی لطف آتا ہے ، جیسے کسی ہم مزاج ، ہم مشرب شخصیت کے آنے پر دل کی کلی کِھل اُٹھے ، یہ اُن دونوں میاں بیوی کی محبت اور اعلیٰ ظرفی ہے کہ انھوں نے ہمیں ہمیشہ " اہمیت " کا احساس دلاۓ رکھا ۔ صہیب جمال ،، نے بالاآخر ہمارے ہی سکول سے میٹرک ، شاندار نمبروں سے پاس کیا ۔ وہ بچہ بھی اسی تہذیب سے آراستہ نظر آیا ، جو سکول کے بچوں کے لیۓ مثال بنا رہا ،،، وہ اپنے اساتذہ سے آج بھی رابطہ میں رہتا ہے ، اور اپنی کامیابیوں کی خبریں شیئر کرتا رہتا ہے ،،،، پڑھنے والوں کو یہ احساس ہو رہا ہوگا کہ ،،، "سولیجہ فیملی " نے ان کو کچھ ذیادہ ہی " محبت " دی ہے اسی لیۓ اتنا ذکرِخیر،  ہو رہا ہے ،،،، میں یقین سے کہتی ہوں کہ ہم میں سے جو اِنھیں ملے ، تو وہ یہ ہی " محسوسات " لیۓ لوٹے گا ۔ چند دن پہلے مسز صولیجہ کا فون آیا " کہ صہیب جمال " نے انجینئرنگ " کےبعد ایم ایس کےنتائج میں " گولڈ میڈل " لیا ہے ، آپ کو خوشی ہو گی اسی لیۓ فون کیا ہے " ،،،،، یقیناً اللہ اولاد کے نیک ہونے اور پھر لائق ہونے کی صورت میں جس سکون سے نوازتا ہے ، یہ سکون بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے ۔ میں نے اس کی شاندار کامیابی کو سنا تو " فخر" محسوس کیا ،، اور دعا ہے کہ اپنے والد کی طرح " سچا پاکستانی اورکامیاب سائنسدان بنے آمین ! مجھے ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوۓ 28 سال ہونے کو ہیں ،، پہلے کافی عرصہ خود ٹیچر رہی اور پھر صرف ٹسٹ کاپی کی ری چیکنگ تک محدود ہو گی ،، ٹسٹ کاپیوں پر بچوں کے والدین کے سائن کروانے کے لیۓ کاپیاں گھر بھیجی جاتیں ہیں اور ماں یا باپ اس ٹسٹ پر سائن کر دیتا ہے ، بچے کے فُل نمبر لینے والے والدین ہمشہ سائن کر کے فارغ ہو جاتے ہیں ،،،، صہیب جمال واحد بچہ تھا ، اور ، ہے ،،، جس کی کاپی پر سائن کے ساتھ " الحمدُللہ " بھی لکھا ہوتا تھا ،! ! یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ،،،، کیا ہم میں سے کبھی کسی نے ایسا اپنے بچے کی کامیابوں پر کھلے عام اللہ کو " کریڈٹ " دیا ؟؟ ہم بچے کی کامیابی کو یا تو ماں کی محنت سے جوڑتے ہیں یا بچے کی ذہانت کو کریڈٹ دیتے ہیں ! میرے خیال سے نا متفق ، کہتے ہوں گے " بھئ یہ تو سب "انڈرسٹوڈ"ہوتا ہے لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟؟، جی ہاں ، لیکن اس کا اظہار بھی کوئی کوئی کرتا ہے ۔ اور ہمیں کرنا ہی چاہیۓ ،کہ وہ ہی یہ ذہانت ، متانت ، اور فطانت عطا کرتاہے ، ، اُس کا کرم نہ ہو تو یہی قابلیتیں " شیطانی ذہانت " کی طرف بھی چلی جاتی ہیں ۔لہذٰا اُس کی حمد و شکر گزاری کا اظہار بھی ہوتے رہنا چاہیے ،،، اب یہ فیملی اسلام آباد شفٹ ہو چکی ہے ، لیکن ان کی بیٹی کے بچے اسی سکول میں پُراعتماد اندازسے پڑھ رہے ہیں ، جبکہ آس پاس ۔ پاکستان کے مشہور سکولوں کی چین کھلی ہوئی ہے۔ لیکن جب ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا اس ادارے پراعتماد دیکھتی ہوں ،،، تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ ہم نہ تو دائیں دیکھ رہی ہیں ، نہ بایئں ،،،، اپنے مشن کوسامنے رکھا ہوا ہے کہ جتنا ہو سکے " بچوں کی تربیت کو شاملِ تعلیم " رکھیں ، اِسی پہلو کو اولیت دیں ! اللہ ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کر دے آمین ۔ 
( منیرہ قریشی ، 9 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

منگل، 5 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(56)۔

یادوں کی تتلیاں" (56)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یہ جو میں اپنی یادوں کا رُخ سکول کی جُزیات کی جانب موڑ لیا ہے کہ ،، ایسے "پیرینٹس ڈیز " مناۓ گۓ ، اور ایسے ہمارے اخراجات ہوتے رہے ، اس کی وجہ ایک تو محض یہ ہے کہ یادوں میں چُھپے کھٹے میٹھے واقعات کو قلمبند کر کے دوسروں کے ساتھ شیئر کر لوں ،،، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی اور ایسا بندہ جو ہماری طرح جدوجہد کے دور سے گزر رہا ہے، تو وہ گھبراۓ نہیں کہ روزانہ کے پیسوں کو ایسے تقسیم کرنا کہ ،،،، یہ بچت کے مد کے پیسے ہیں یہ اخراجات کے لیۓ ، یہ مزید کچھ سامان خریدنے کے لیۓ اور آخر میں اپنی تنخواہوں کو نکالنا ،،،، یہ سب کام اتنے تواتر سے سالوں ہوتا رہا کہ کئی مرتبہ بددل ہو کر سکول بند کرنے کا سوچا !! میں سمجھتی ہوں ، یہ کیفیت اس لیۓ طاری ہو جاتی تھی کہ میں محنت بہت ذیادہ کررہی تھی اورکامیابی کا ریشو خاصا کمزور تھا۔ ۔ لیکن 10 سال بعد صورتِ حالات میں تبدیلی آنا " شروع" ہوئی ،،،، مزید پانچ سال میں ایسا خوشگوار دور آنے لگا ،،، جس نے ہمیں حوصلہ دیا ۔ اس دوران ہم پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا رہا ،،، بچوں کی تعداد بھی بڑھی لیکن سکول کی ایک ہی برانچ تھی جس میں نرسری سے جماعت ہشتم تک کے بچے تھے ! اور یہاں میں واضح کر دوں کہ ہم نے شروع دور میں جو آمدن جمع ہوتی تو بےربط انداز سے جو تین کمرے بناۓ تھے ،، اب ایسے اخراجات کو بند کردیا ، ،، اور کسی بھی قسم کے اللے تللے کیۓ جانے پر بھی خود پر پابندی لگا دی ، تاکہ کچھ سرمایہ جمع ہو جاۓ کہ مناسب اور طریقے کی بلڈنگ بنائی جا سکے ،،، !۔
سکول ،، اور اپنے بچوں کو دیکھنا ، اُن سے جڑے مسائل حل کرتے چلے جانا ،،، اور گھر میں آنے جانے والے دوستوں،رشتہ داروں کے ، پڑوسیوں کے ،،،، اور باقی جو انسانی زندگی کے اہم فرائض ہوتے ہیں ،،،، وہ سب بھی نبھاۓ چلے جانا ،،،،، کم ازکم میرا وہ دور قائدِ اعظم کے اس فرمان کے عین مطابق تھا " کام کام اور بس کام " ،،،، اسی لیۓ جب کوئی اور مجھے ایسی جہد میں جُتا نظر آتا ہے تو کم ازکم ہم اسے زبانی کلامی حوصلہ نہیں دیتیں ، بلکہ ہم اپنے تجربات کو اُس سے شیئر کرتی ہیں۔ اور اسے مشورے دیتی ہیں ،،،، (ا ب ویسے بھی مشورے ہی دینے والی عمر بھی آگئی ہے !)۔
ہم اپنے سکول میں بچوں کو 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پڑھائی ، پڑھائی پر زور نہیں دے رہی تھیں ،،، اور ایسا بھی نہ تھا کہ صرف آۓ دن چھوٹے بڑے فنگشنز ہو رہے ہوں اور بچوں کی خوشی کو ہی مقدم سمجھا جارہا ہو۔جیسا کہ اکثر سکولوں کا ماٹو تھا اور ہے ! بلکہ بچوں کے آئی کیو کو جانچنے ، بڑھانے کی طرف بھی مختلف اقدامات کرتی رہتیں ،،، ایک تو آرٹ ٹیچر کی موجودگی اور ہر کلاس کو آرٹ پیریڈ کا ملنا لازمی تھا ۔ جماعت نرسری تا پنجم کے بچوں کا سارے سال میں اتنا آرٹ ورک جمع ہو جاتا کہ آخر میں انہی بچوں کی فائل کے ساتھ نتھی کر کے دے دیا جاتا ہے ،،،، لیکن ابتدائی سالوں میں بچے کم تھے ،، آرٹ ٹیچر بھی ٹیلنٹڈ مل گئی تو ،،، اُسی نے تجویز کی کہ سکول کا " آرٹ ایگزیبیشن " کروانا چاہیے ، لہٰذا ہمارا پہلا آرٹ ایگزیبیشن " واہ آرڈیننس" کلب میں ارینج کیا گیا ، اور یہ بہت کم اشیاء کے ساتھ تھالیکن والدین حسبِ معمول اتنے پُرجوش تھے کہ انھوں نے شرکت بھی بھرپور کی اور پھر فرمائش شروع ہو گئی کہ ہم اپنے بچوں کی بنائی چیزیں لینا چاہتے ہیں ، ہم نے محض اس خیال سے ان کی نہایت معمولی قیمت بھی رکھ دیں کہ ان پیسوں کا کہیں نا کہیں چیرٹی کی مد میں استعمال کر لیں گے ،،،، کہاں ،،،؟؟؟؟ کریں گے ، یہ ابھی سوچ نہیں آئی ،،، دیکھتے ہی دیکھتے 1500 روپے جمع ہو گئے۔ جی ہاں صرف پندرہ سو روپے ،،، یہ 1994ء کی بات ہے ۔ ہمارے اس فنگشن میں واہ میں موجود " گونگے بہرے بچوں " کے سکول " نشیمن " کی پرنسپل مسز صبیحہ آئی ہوئی تھیں ،، میں نے اور جوجی نے فوراً صلاح کی اور اسی وقت اپنے سٹاف اور چند والدین کی موجودگی میں انھیں " نشیمن " کے لیۓ اس ڈونیشن میں مزید 500 روپے شامل کر  کےدے دیۓ ۔ بھابھی صبیحہ ،، بہت کمال خاتون تھیں ( اب وہ واہ میں نہیں رہتیں ) ، انھوں نے بہت جوانی میں شوہر کی وفات کے بعد نشیمن کی پرنسپل شپ کی جاب شروع کی، وہ ایک نہایت دردمند ، اور اپنے کام سے مخلص خاتون تھیں ،، اس لیۓ وہ اس ادارے کو جسے فیکٹری سے ایڈ ملتی تھی ، باقی لوگ کم ہی مدددیتے تھے۔ ان بےبس بچوں کے لیۓ ہر طرف سے جو مدد ملتی ،، نہال ہو جاتیں ۔ اللہ انھیں جہاں رکھے ، مطمئن اور خوش رکھے، ، ، اللہ کا شکر ،،،، کہ نشیمن کو ہر سال ڈونیشن دینے کایہ سلسلہ اور یہ مقصد کچھ ایسے طور چلا کہ 1994 سے 2006 تک یہ تواتر نہ ٹوٹا ۔ ( اور رابطہ کیوں ٹوٹا اس کا ذکر آگے کروں گی )اور ہر سال یہ رقم بڑھتی چلی گئ،، یہاں تک کہ انکے لیۓ ایک سال ایسا آیا کہ ایک بڑا فریج اور ٹی .وی بھی اسی میں سے خرید کر دیا گیا ۔ مسلسل نشیمن کے " کاز " میں شمولیت سے وہاں کا سٹاف اور فیکٹری کے سرکردہ افسران ہم سے واقف ہو چکے تھے اور ہمیں " فرینڈز آف نیشیمن " کا اعزازی ٹائٹل بھی مل گیا تھا ،،، انہی سالوں میں ہم نے تین سال ایسے گزارے جن میں ہر سال اپنی " سب سے سینئر " کلاس کو تیار کرتے کہ گھر سے ٹافیوں کا ایک ایک پیکٹ لا کر دو ،، سکول اپنی طرف سے ایک پنسل ، ایک خوبصورت ربر اور ایک شاپنر شامل کرتا ،،، ہر بچے سے موصول شدہ دو ٹافیاں شامل کی جاتیں اور انہی چیزوں پر مشتمل جتنے پیکٹ بن سکتے بناۓ جاتے ،،،، اگر 30 بچے ساتھ جانے والے ہوتے ، تو ہر ایک کے ہاتھ میں دو پیکٹ دیۓ جاتے ، کہ ہم " سپیشل بچوں کے سکول" جا رہے ہیں ،،، وہاں آپ نے کیسا رویہ رکھنا ہے اور اپنے ہم جماعت بچوں کی کلاسز میں جا کر ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک پیکٹ کا تحفہ دینا ہے ، ،،، کسی کی طرف مذاق سے ،یا بہت غور سے نہیں دیکھنا ،،، جو بھی وہ آپ سے کہنے کی کوشش کریں انہی کی زبان کو ان کی ٹیچر سے سیکھ کر جواب دیں۔ یہ ہدایات ہمارے بچوں نے بہ خوبی سمجھ لیں ، جب پہلی مرتبہ صبیحہ بھابھی کی اجازت سے ان کے سکول کا وزٹ کیا تو وہ بھی پُرجوش تھیں ، اور ہم بھی،،،،! میں اور جماعت پنجم کے دو سیکشنز اور اُن کی تمام ٹیچرز ساتھ تھیں ،،، صبیحہ بھابھی نے بذاتِ خود ہر کمرے میں جاتیں رہیں اور تفصیل سے ان کے مسائل بھی بتاتی رہیں ، مجھے بھی بہت سے باتوں کا علم وہاں جا کر ہوا ،،، مثلاً وہاں دو بڑے کمرے اُن جسمانی معذور بچوں کے تھے جو بول ، اور سُن ،، دیکھ سکتے تھے لیکن جسم کے اعضاء بےبسی کی تصویر تھے ،،، ان کے والدین انھیں اس لیۓ وہاں کچھ گھنٹوں کے لیۓ چھوڑ جاتے کہ ان بچوں کے لیۓ بھی ماحول کی تبدیلی ہو ، اور خود اُنھیں بھی کچھ دیر کے لیۓ ریلیف مل جاۓ ،، ان ہی بچوں میں ایک 12،،13 سال کی" تھی نیلو "جس کا چہرہ ،پیارا سا لیکن جسم ایک ڈیڑھ فٹ کا تھا ، وہ مکمل طور پر جسمانی حرکات سے دوسروں پر انحصار کرتی تھی جب کہ ذہنی طور پر پوری طرح الرٹ تھی ، جب ہم ان کے کمرے میں گئیں  تو ٹیچر نے ملوایا ، نیلو نے بہت اچھے انداز سے خوش آمدید کہا ، اور پوچھا " کیا آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ میں آپ کو ایک گیت سنا سکوں؟ " میں نے کہا کیوں نہٰیں ، ضرور !! تب اس نے جب بہت ردھم کے ساتھ پُرسوز آواز نکالی اور ایک نعت سنائی کہ میں نے منہ پھیر لیا ، کہ آنسو ضبط نہ کر سکی اُس کی آواز جیسی کم ہی ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد اس نے اپنی پسند کا گانا انتہائی خوب صورت لَے کے ساتھ سنایا " آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے" کہ ،،، آج اس وقت بھی جب میں یہ جملے لکھ رہی ہوں تو میرے کانوں میں اس کی خوبصورت آواز گونج رہی ہے اور اس کی معصوم شکل یاد آرہی ہے ، ، ، اور میری آنکھیں برس رہی ہیں ،،، ،،،،، میں نے بچی کو پیا ر کیا ، اور پوچھا تمہیں کس چیز کا شوق ہے ۔ کہنے لگی میرا دل چاہتا ہے ایک اچھی سی گڑیا ہو " میں نے اسے کہا ٹھیک ہے تمہاری گڑیا تمہیں مل جاۓ گی ! واپسی پر بھابھی صبیحہ کو پیسے دیۓ کہ یہ گڑیا خریدنے کا کام آپ کریں گی ! !اگلے دن بھابھی کا فون آیا " منیرہ میں نے اسے گڑیا دے دی ہے ! وہ شکریہ ادا کرنے کا کہہ رہی تھی اس لیۓ فون کیا ہے " ،،،،،، پھر بہ مشکل 8 ،9 ماہ ہی مزیدگزرے ہوں گے ، کہ صبیحہ بھابھی کا فون آیا " وہ جسے تم نے گڑیا بھجوائی تھی ، وہ گڑیا ، خود اللہ مالک و خالق کے پاس پہنچ گئی ہے !!! کہ ڈاکٹرز نے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ یہ بس 12، 13 سال کا آب ودانہ لے کر آئی ہے ۔ ۔
خیر ہم نے بچوں کو مختلف کلاسز کو دکھایا ، گونگے بہرے بچوں نے اشاروں کی زبان میں اپنی خوشی اور محبت کا اظہار کیا۔ ہمارے بچوں کے چہروں پر کچھ حیرت اور کچھ زندگی کا ایک اور ہی روپ دیکھے جانے کا تجسس کا انداز بھر پور تھا ،،،، جب اِن بچوں کی گیم ٹیچرنے بتایا ،، آپ سب کے اعزاز میں بچوں نے اپنی پرفارمنس دکھانی ہے ، آپ بھی بچوں کو لے کر گراؤنڈ میں آجائیں ، ہم نے گراؤنڈ میں دیکھا کہ 70 کے قریب بچے ترتیب سے لائنوں میں کھڑے تھے،۔ ٹیچر نے اپنے گلے میں اچھا بڑا سا ڈرم بمعہ سٹکس لٹکارکھا تھا۔ اب پہلی مرتبہ میں بھی دیکھ رہی تھی کہ ڈرم کی دھمک ، جسے بچے پاؤں سے موصول کر رہے تھے، اور اسی ترتیب سے وہ اپنا ایکشن بدل رہے تھے ،،، جن بچوں کو سنائی بھی نہ دے وہ موسیقی کے ردھم کو انجواۓ کر رہے تھے ، آفرین ہے اُن ٹیچرز کے لیۓ جو ان سینکڑوں بچوں کو نہ صرف معاشرے کا کارآمد فرد بنا رہی تھیں۔ اور انھیں خود کفیل بھی بنا رہی ہیں۔ دوسرے دن ہم نے بچوں کو اسمبلی میں بتایا ، کل کے وزٹ میں ہمیں اللہ سے ملی ان نعمتوں کا ازحد شکر ادا کرتے رہنا چاہیے جو دیکھنے ، سننے، اوربولنے کی نعمتیں ملی ہوئی ہیں اور ہم اس کا احساس ہی نہیں کرتے ۔ لیکن ہم نے دیکھا ،،، اتنے چھوٹے بچوں نے بھی اچھا اثر لیا ، ،، اور آگے چل کر انھیں جب بتایا جاتا آپ کی بنائ چیزیں ،،، بِکیں گی تو اُن بچوں کے کام آئیں گی تو وہ اور بھی جوش سے کام کرتے ، نشیمن سکول وزٹ کا یہ سلسلہ تین بار ہی دہرایا جا سکا ،،، اس کے بعد ایک تو ہماری مصروفیت ، دوسرے صبیحہ بھا بھی کی نشیمن سے ریٹائر منٹ ! ! لیکن اُن کے بعد آنے والی پرنسپلز نے رابطہ قائم رکھا ،،،،،، اور ہماری تھوڑی بہت ڈونیشن جاری رہی ،،،،،، اور نشیمن میں ایک گرینڈ پیرینٹس ڈے کے موقع پر فیکٹری کے چیئر مین جنرل درانی مہمانِِ خصوصی تھے۔ ہمارے سکول کو خصوصی دعوت نامہ ملا،،،، مَیں اور ہماری رائٹ ہینڈ مسز شیما زاہد ، اور ( شاید جوجی بھی ) ہم اس تقریب میں شریک ہوۓ ،، جنرل صاحب نے ہمارے سکول کی خصوصی توجہ کی تعریف کھلے دل سے کی، اور آخر میں " فرینڈز آف نشیمن " کی ایک شیلڈ دی گئی۔ جو ہمارے لیۓ اس لیۓ اعزاز ہے کہ پورے واہ میں اُس وقت 100 کے قریب سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں سے ہمیں یہ محبت دی گئی ،، الحمدُ للہ ! کہ ہم نے کئی سالوں تک یہ ربط قائم رکھا تھا ،،،!۔
لیکن پھر ہماری توجہ اپنے ایک ایسے پروجیکٹ کی طرف ہوگئی جو حادثاتی طور پر شروع ہوا ،،، اور اُس ربِ غفور و کریم کا شکر کہ آج ابھی تک تو جاری ہے ،،، آگے بھی اُس جلِ جلالہ' کا حکم ہوا تو ہی جاری رہے گا۔
( منیرہ قریشی ،5 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

پیر، 4 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(55)۔

یادوں کی تتلیاں " (55)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جب اپنا سکول شروع ہوا ، تو اکثر نئےننے تجربات کیۓ جاتے ، یا ہمیں نئے نئے تجربات سے گزرنا پڑتا ، اب سمجھ آتی ہے کہ " جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا " ہی تواصل زندگی ہے ۔ اگر سبھی دن لگے بندھے ، یک رنگی لیۓ ہوتے تو ہم اِتنا کچھ نہ سیکھ پاتیں ،جو کچھ بھی سیکھا دوسروں کو گائیڈ بھی کیا ۔ 
جیسا پہلے لکھا تھا کہ یہ صرف تین بنیادی جماعتوں پر مشتمل سکول تھا ، ارادہ بھی اتنا ہی رکھنے کا تھا ، کہ سرمایہ بھی محدود تھا ۔ لیکن جب میں نے چارج سنبھالا تو تین بچے کلاس وَن کے بھی تھے ،جنھیں ان کے والدین نے یہ کہہ کر لے جانے سے انکار کر دیا تھا کہ ایک تو ہمارے باقی دوبچےاسی سکول میں ہیں ہم بڑے کو کہاں الگ کسی اور سکول میں بٹھائیں! دوسرے دو ، بہت خوشحال خاندان سے تھے اور وہ جس سکول میں تھے وہاں چل نہیں پا رہے تھے ، والدین کے خیال میں ،، یہاں کم بچے ہیں ،ذیادہ توجہ ملے گی تو چل پڑیں گے ، اس وقت ہمیں بُرا لگا کہ یہ زبردستی ہم پر ان بچوں کو لاد رہے ہیں ،، لیکن انہی تین بچوں سے ہماری ٹریننگ ہونے لگی ۔ اوریہ سب اللہ کی خصوصی کرم نوازی تھی کہ وہ ہمیں سٹپ وائز تیار کر رہا تھا ۔ ورنہ اگر ہم پر یکدم 10 یا 20 بچوں کا بوجھ پڑ جاتا ، اور ہم انصاف نہ کر پاتیں تو ، شروع سالوں میں ہی ہمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ جاتا،،، شاید یہ بات والدین کو پتہ بھی نہ چل سکتی ،، لیکن ہمارے ضمیر پر بوجھ بن جاتا ، انہی تین بچوں سے ہمیں جلدی جلدی اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتا چلا گیا ، اور اگلے ہی سال میں جب ون میں 16 بچے آموجود ہوۓ ، تو ہمیں انھیں پڑھانے ، لکھانے ، اور ایکسٹرا ایکٹیوٹیز کروانے میں کوئی مسئلہ  نہ ہوا۔ اس دوران مسز انجم رضوی ، انگلش ،  ریاضی اور سائنس پڑھاتیں ، جبکہ میں اردو ، اسلامیات ، اور مطالعہ پاکستان  لیتی رہی ۔ جوجی نے سکول کے اکاؤنٹ کا شعبہ سنبھالے رکھا ۔ ہم وقت پر اپنے سٹاف کو تنخواہیں  دیتیں ، اور ذیادہ تر سکول کی چیزوں کی خریداری کے لیۓ ہی بقایا پیسے بچتے ،،، تب اپنے آپ کو مائینس کرنا پڑتا ۔ سکول کا سلیبس تو مل جل کر بنایا جاتا ، لیکن سب کلاسز کا " ٹائم ٹیبل" سال ہا سال میں ہی بناتی رہی،ہمارے بڑھتے قدم بہت ہی آہستہ آہستہ چل رہے تھے ،اور اپنے طور پر ہم کچھ ایسے کامیاب نہیں تھے کہ مطمئن ہونے کا سوچتے ،،،،، جیسا میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ بہت جُز رسی سے گزارا کر کے کبھی ایک کمرہ اور کبھی اس کے ساتھ لٹرین بنوایا، پھر مزید پیسے جمع ہوۓ تو دو کمرے اور بنوا لیۓ ، اس طرح ہماری جدوجہد کا آغاز بھی ٹف تھا ۔ اسی دوران چوتھا سال آگیا ، اور اب سکول میں 150 بچے تھے ،، اور کلاس فور تک جماعتیں تھیں۔ کہ سٹاف ممبرز کی طرف سے پُرزور فرمائش ہونے لگی کہ "پیرینٹ ڈے" منایا جاۓ ، چناچہ تیاری شروع کی ، صرف تین ہفتے ان کو تیاری کے دیۓ۔ اپنی بھی سخت نگرانی رکھی کہ کوئی ناچ گانا ،، یا غیرمعیاری ڈرامہ وغیرہ نہ پسند کر لیا جاۓ ۔ اور اس دن کے لیۓ مہمانِ خصوصی، اپنی عزیز سہیلی ، اور اس سکول کے اجراء کی وجہ بننے والی ،،،" مسز شاہدہ نعیم " کو چُنا ۔ انکل رشید کو بھی خصوصا" دعوت دی ۔ اس فنگشن میں اباجی ، بڑے بھائی جان ، اور آپا ،،، فرنٹ لائن کے مہمانانِ گرامی تھے ،،، ہمارے سکول کا اپنا گراؤنڈ اتنا بڑا تھا کی 250 لوگ بہ آسانی بیٹھ سکتے تھے ،،،،ہم نے مہمانوں کے لیۓ پُرتکلف چاۓ کا اہتمام کیا تھا ،،، لیکن میں سکول کے
اس سب سے پہلے فنگشن پر بہت" ٹینس " تھی اس لیۓ مجھ پر ذرا بو کھلاہٹ طاری تھی،، حالانکہ " مہمانِ خصوصی " ،، اپنی ہی "پکی سَکی" سہیلی تھی ، اس کے سامنے کچھ بلنڈر ہو بھی جاتا تو کوئی فکر کی بات نہیں تھی لیکن بچوں کے والدین بھی ہمارے لیۓ " مہمانِ خصوصی" تھے ، ، اور چاہتی تھی کہ وہ بھی ہمارے فنگشن سے مطمئن ہو کر جائیں۔ خیر شاہدہ اور انکل رشید وقت پر پہنچے ،ان کا استقبال بڑے بھائی جان ، آپا ، جوجی اور ہماری سینئر ٹیچرز نے کیا ، ، اباجی اور میں سٹیج کے قریب رہے ، اور وہاں ان کو خوش آمدید کہا ، اور بٹھایا،،، سب سے پہلے ایک پیارے بچے نے تلاوت کی اور ایک نے نعت پڑھی ،،، اس کے بعد کلاس وائز بچوں نے اپنے اپنے تیار شدہ ڈرامے پیش کرنے شروع کر دیۓ۔ اور واقعی بہت ہی "ڈیسنٹ" انداز سے بچے ، اپنے لیول کے مطابق " نظمیں آڈیو " کی بیک گراؤنڈ کے ساتھ ایکٹ کرتے ہوۓ آتے اور چلے جاتے ، ،،، ایک موقع پر مجھے احساس ہوا ، سب " بہت آہستہ چل رہا ہے " ،،، یا یہ میرا خیال تھا،،، جو بھی تھا ، میں اُٹھی اور ایک دفعہ ذرا سب کو ڈانٹ آئی کہ، بچے جلدی جلدی سٹیج پر آئیں ،! اس بیک سٹیج ڈیوٹی میں میری بیٹی نشل ( نور العین ) اور جوجی کی بیٹی ماہرہ لیلیٰ بھی شامل تھیں ۔ وہ بھی میرے چڑھے پارے کو دیکھ کر گھبرا گئیں ۔ اور ٹیچرز کی مدد کرنے لگیں۔ اس دوران نرسری اور پریپ کے پیارے بچوں نے " جوڈو کراٹے " کی پرفارمنس کی تو " والدین نہال ہو گۓ ۔ لیکن جب اگلا" سِکٹ "پیش ہوا تو آواز کافی مدھم تھی ،،، مجھے پھر غصہ آیا اور اُٹھ کر سٹیج کے پیچھے پہنچی اور ٹیچرز ، اور مائک انچارج لڑکے سے کہا " طُو ، طُو " کہاں ہے اس کا رُخ ٹھیک کرو ،،، آواز نہیں آرہی ،، اب میں یہی لفظ دہرا رہی ہوں ، اور سب " بلینک " چہروں کے ساتھ مجھے دیکھ رہی تھیں کہ یہ کیا کہہ رہی ہے ، یہ کیا لفظ ہے ،،،،، دراصل بوکھلاہٹ میں ، مَیں سپیکر کو پنجابی زبان میں بول رہی تھی جسے " طُو طُو " کہتے ہیں ،،، وہ لمحے تو گزر گۓ لیکن آج 23 سال بعد اس " سین اور لفظ طُوطُو " کو نہ صرف انجواۓ کیا جاتا ہے بلکہ ،،، جب ہم میں سے کوئی ، اپنی بات سمجھا نہ پا رہا ہو ،،، تو کہہ دیا جاتا "اچھا تو طُوطُو " ،،،،، دوسرا لطیفہ یہ ہوا کہ نرسری کے جن بچوں نے " فینسی ڈریس شو " میں حصہ لیا ہوا تھا ،، وہ اپنے اپنے لباس پہنے پہنے نہ صرف تھک گئے تھے بلکہ بور ہو چکے تھے ،،، جب میں سب کو ڈانٹ کر اس بہت بڑے کمرے کے ایک کونے میں اس گروپ کو دیکھا ، تو اس کی ٹیچر عائشہ بھی بدحواس نظر آئی ،،، تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں اسی ٹینشن میں اس سے بولی ، تو وہ بولی " میڈم ، ہمارا کسان اتنا رو رہا ہے کہ کلہاڑی اُٹھانے سے بھی انکاری ہے ،، ہم کہہ رہے ہیں ، للہ ابھی چُپ ہو جاؤ ، لیکن انھوں نے چُپ ہونے سے انکار کر دیا ہے " !!!! عائشہ کی اتنی ، سُتھری اردو کو میں اس وقت کہاں انجواۓ کرنا تھا ،،، لیکن بعد میں یہ سب یاد کر کر کے ہنسی نہیں رُکتی ۔ لیکن سچ بتاؤں ، یہ انتہائی چھوٹے بچوں کی پرفامنس اتنی آرگنائز اور اتنی اچھی رہی کہ ہر ایک نے تعریفوں کے پُل باندھے ،،، بلکہ شاہدہ نے کُھلے دل سے سب آٹمز کی تعریف کرتے ہوۓ کہا کہ میں اپناسکول دس سال سے چلا رہی ہوں،اور دس فنگشنز کروا چکی ہوں لیکن تمہارے بچوں نے ، عین بچوں کے مطابق کار کردگی دکھائی ،،،،،، یہ ستائشی جملے ،، تو جیسے ہماری تھکاوٹ دور ہوگئی۔ ایسے ہی اور فنگشن ہوۓ لیکن ان میں سے دو اور کا ذکر مختصر طور پر کرنا چاہوں گی ۔ 
ایک " پیرنٹس ڈے " ایسا منعقد ہوا جس کےہونے تک ہمارے سکول کی کلاسز آٹھویں جماعت تک ہو چکی تھیں ، اگرچہ یہ تبدیلی بہت آہستہ آہستہ رو پزیر ہوئی ،لیکن یہ بات پہلے لکھ چکی ہوں کہ ہم نے خود کو " واہ واہ " کے چکر کے بجاۓ ،،، محنت اور ایمانداری کے دائرے میں رکھا اور یہ سکول قریباًً سولہ سال تک 8 ویں جماعت تک پہنچا ، شروع کے 6 سال تو پانچویں ، تک رہا ،،،، بہر حال ، جس فنگشن کا ذکر کر رہی ہوں ، یہ واہ کے بہت خوبصورت اور بڑے ہوٹل میں ہوا ،،، ہمیں اس کے لیۓ اُن سےاجازت لینی پڑی ، بچے اور ان کے والدین کو ملا کر قریبا" 600 افراد تھے ، بچوں نے بہت ہی معیاری اور خالص پاکستانی تصور اور تہذیب کے اندر رہ کر اپنے ڈرامے پیش کیۓ ۔،،،، لیکن جب نرسری جماعت کے پیارے پیارے بچوں نے تمام اسلامی ممالک کے ملبوسات پہن کر " جوڑا جوڑا " بن کر جب سٹیج پر آۓ اور اُن کے ہا تھوں میں اُسی ملک کا جھنڈا بھی پکڑا ہوا تھا جسے لہرا رہے تھے اور پسِ منظر میں " ہم مصطفوی مصطفوی ہیں " کا پُرجوش ترانہ لگا ہوا تھا ،،، یہ ہی سکول کا آخری آئٹم تھا ،،، پورا ہال کھڑے ہو کے نہ صرف خود گا رہا تھا بلکہ تالیوں سے وہ گونج اُٹھی کہ ہوٹل کے بےشمار لوگ بھی آ کر اس میں شامل ہو گۓ ،،، حتیٰ کہ کیمروں کی چکاچوند میں بہت سے والدین جذباتی ہو کر رونے لگے ! خود میں بھی جذباتی ہو چکی تھی ،، اب سٹیج کا پردہ گر چکا تھا ۔ چاۓ کا اعلان بھی ہو چکا تھا ، لیکن خواتین میرے گلے لگ لگ کر مجھے مبارک باد کہتیں ، یہاں تک کہ مہمانِ خصوصی جو اس کالج کی موجودہ پرنسپل تھیں جہاں کبھی میں نے اور جوجی نے پڑھا تھا۔،،،، انھوں نے کہا " بچوں کی پرفامنس اتنی اچھی تھی ، کہ لوگوں کو چاۓ بھی بھول گئی ہے۔ انھوں نے ہمارے سٹاف کے ساتھ چاۓ شروع کی تب باقی لوگوں کو خیال آیا ۔،،،،،،، پھر کچھ وقت اور گزرا اورہماری کلاسز نہم دہم تک پہنچ گئیں ! انہی دنوں "پیرنٹس ڈے " کا موقع پھر آگیا ۔ اس میں جماعت دہم نے اپنا ڈرامہ تیار کیا وہ " علامہ ؒ کی مشہور نظم " شیطان کی مجلسِ شوریٰ" پر تھا ،، بچوں نے انتہائی محنت سے اس کے مختلف مجالس کے اشعار یاد کیۓ اور کہیں نہ اٹکے ،،،، شیطان کے گیٹ اَپ والے بچے " محمدعلی گلفراز " نے کمال دکھایا ۔ اور یہ بھی اتنی قابلِ تعریف پیش کش رہی کہ اس میں موجود "کیڈٹ کالج حسن ابدال "کے پرنسپل نے دل کھول کر تعریف کی ،،،،،،، اور یوں ہمارے سکول کی یہ اچھی ، تقریبات اچھی شہرت کا باعث بھی بنیں ۔الحمدُ للہ !۔
( منیرہ قریشی ، 4 دسمبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری)