‏ابا جی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ابا جی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 11 نومبر، 2018

اک پرِخیال(19)۔۔(3)۔

" وجودِ خاکی "
' محبت و شفقت' ( اباجی ) ( حصہ سوم)۔
ابا جی نے، زندگی کے ساتھی کو جو توجہ دی ، اور دنیاوی سہولتیں دیں ، یہ اُن کی صرف چھُپی محبت تھی ،، وہ اظہار نہ کر سکنے والے انسان رہۓ ۔ شاید اُن کے اندر ایک ایسی " شائ نیس " تھی ، جس پر وہ قابو نہ پا سکے ،، اور اسی جھجھک نے اماں جی کوکچھ گلہ مند رکھا ۔ کیوں کہ وہ جرات سے خاندانی پالیٹیکس میں ، غلط لوگوں کو غلط نہ کہہ سکے تھے۔ ایسا اس لیۓ بھی تھاکہ اُن میں سے کئ بہت نزدیکی رشتے تھے ، اور اباجی بنیادی طور پر رشتے دار اور خاندان کو اہمیت دینے کے قائل تھے ۔ ہم بطورِ اولاد ، اپنے والدین کی عادات ، کمزوریوں ، اور خوبیوں سے ذرا دیر سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ اور جب تک شعور آتا ہے ، تب تک ہم لحاظ اور ادب و مؤدب کے اُس دائرے میں رہنے کے اتنے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ والدین سے بحث نہیں کر پاتے ۔ حالانکہ اماں جی اکثر اپنے شوہر کی در گزر کرنے والی عادات کو بہت سراہتیں بھی تھیں ۔ ،،،، 
دوسری بات ، دونوں مہمان نواز تھے ، اس لیۓ ہمارے گھر مہمان صرف چند گھنٹوں والے نہیں ، "اکثر " ، چند دن ، یا چند ہفتے رہنے والے آتے تھے ، اور کئ تو ایسے مہمان بھی ہوتے جن کا علاج کروایا جاتا،، اور چونکہ ان کے پاس سواری کا معقول انتظام نہیں ، اس لیۓ بہتر ہے یہ یہیں رہۓ ، علاج مکمل ہو جاۓ تو چلا جاۓ ،، شاید ، آج میَں بھی خود کو اُن کی جگہ پر رکھوں تو ایسا نہیں کر سکوں گی ، کئی ایسے افراد ہمارے ہاں قیام پزیر رہۓ ، جن سے کوئی رشتہ نہیں ، کوئ آنا جانا نہیں ، بلکہ ایک پرانے نوکر کی بہن ہے اسے ٹی بی ہے ، غریب ہے اس لیۓ وہ معہ اپنے دونوں چھوٹے بچوں کے یہیں رہۓ گی ،،، اباجی کو جو بنگلہ ملا ہوا تھا ، اس کے ساتھ تین سرونٹ کواٹرز بھی تھے ، دو میں تو ملازمین رہتے اور ایک ، ایسے آجانے والے خاندانوں کے لیۓ ہر دم تیار رہتا ۔ وہاں ضرورت کی سب چیزیں لگی رہتیں ، اور کھانا پینا تو اماں جی کے حکم پر اُنہی کے کچن سے جاتا ، ،، کچھ ایسے لوگ بھی تھے ، جنھیں اباجی کچھ اتنا پسند نہیں کرتے تھے ،لیکن اگراُس فیملی سے کوئ مسلہء لے کر آتا ، جیسے صحت یا پولیس سے مسائل ،، تو ایسے میں اباجی نے کبھی کوتاہی نہیں دکھائ ، بلکہ ان کے خاندان میں سے کسی کو علاج کے لیۓ ہمارے گھر رکنا پڑا ، تو کبھی غصہ نہیں دکھایا ۔ گویا ،، اباجی نے خود پر ضروری حد ،،، والا ضبط قائم کر لیا تھا ۔ ایسے موقع پر اُن کی خاموشی ذیادہ ہو جاتی ۔کہ اِس سے گھر آۓ کی دل آزاری نہ ہو ۔ ۔ ویسے بھی وہ ہر کسی سے بہت گپ شپ والے نہیں تھے ۔ اس لیۓ رشتہ داروں پر اُن کا ایک خاص رعب اور دبدبہ تھا ۔ہمارے ساتھ اُن کا رویہ فرق تھا ، ، ، ۔
اماں جی ، دنیا کی اُن ٹپیکل عورتوں کی طرح ہی تھیں ، جنھیں جائیداد بنانے کا شوق ہوتا ہے ۔ اور صرف یہ ایک ایسا " ایشو " تھا ، جو دونوں کے درمیان شدت سے اختلاف اور ناراضی کا باعث بنتا ، روال پنڈی کا گھر خریدا گیا تو اماں جی نے اپنا ، سارا زیور سامنے لا رکھا کہ اسے بھی بیچ کر ادائیگی پوری کر لیں ، لیکن گھر ہاتھ سے نہیں جانے دینا ۔ اباجی کا خیال تھا "کوئی ضرورت نہیں گھر خریدنے کی ، ریٹائر ہوں گا ، تب دیکھا جاۓ گا ،، گاؤں تو اپنا ہے ہی " ۔ لیکن اماں جی نے بات منوا کر چھوڑی ۔
اور میرا خیال ہے ،، عورت کے اندر "" اپنی ، ذاتی ، چھت بنانے کا خیال ، اس قدر مضبوط اس لیۓ ہوتا ہے ، کہ اسے تحفظ کا عجیب سا احساس رہتا ہے "" ،،،، اگر ہم جانوروں یا پرندوں کی دنیاؤں کو دیکھیں تو چند ایک کو چھوڑ کر سبھی مادائیں ، گھر خود اکیلے ہی بناتی ہیں ، یا نر اور مادہ مل کر بناتے ہیں ،، شاید قدرت کا یہ قانون ، انسانی فطرت کا حصہ بھی بنادیا گیا ہے ۔ 
اماں جی کی وفات کے بعد اباجی نے 22 سال اکلاپے میں گزارے ، اس دوران میَں ہی ان کے ساتھ مستقل طور پر رہی ۔ اگر وہ چاہتے تو دوسری بیوی کے ساتھ کا قدم اُٹھا سکتے تھے ،، لیکن وہ بہت ذیادہ اس پر آمادہ نہ ہوۓ ، اور میرا اُن کے ساتھ رہنا ایسا صرف قسمت کے پھیر نے کر دیا ،، لیکن ، یہ اماں جی کی آخری خواہش بھی تھی ،، اباجی شاید میرے اور میَں اُن کے مزاج کی واقف تھی ۔ اس لیۓ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات بناۓ رکھے ،، کہ میَں اباجی کے ساتھ آخری لمحے تک رہی ۔ 
اباجی نے ، اپنی دلچسپیاں ، اور ملنا ملانا ، عین اسی طرح رکھا جیسا اُن کا دل چاہا ،،، اب رہنے والے مہمانان تو بہت ہی کم ہو گۓ ۔ لیکن روزانہ آنے والوں کا ماشا اللہ تانتا رہتا ۔ یہ اباجی کی مہمان نوازی اور مہمان کے لیۓ خوش مزاجی کا مظہر تھا ۔ ان کی پینشن ، اور ایک گھر کا کرایا آنے سے بہترین گزارا ہونے لگا ، ، ، انھوں نے زندگی کے صرف آخری تین سال بغیر کار چلاۓ گزارے جب ، ان کی بینائ کمزور ہو گئی تھی ۔ کار تو کھڑی رہی ، لیکن خود نہیں چلا سکے ۔ 
اباجی ، کچھ بہت پریکٹسنگ مذہبی بندے نہیں تھے ، جمعے کی نماز مسجد جاتے ، صبح کی نماز ضرور پڑھتے ، لیکن دن بھر میں کبھی ایک ، کبھی دو نمازیں پڑھ لیتے ، قرآن ، اکثر صبح ہی تھوڑی دیر پڑھتے لیکن ، ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ۔ بغیر تفسیر پڑھنا ، ان کے لیۓ محال تھا ۔ مولانا مودودیؒ کی چھے جلدوں کے تفہیم القرآن کے ابتدائ ایڈیشن ، بہت عرصہ پہلے ہی خرید لیۓ گے تھے ، اور اکثرانہی کو دونوں میاں بیوی پڑھتے ، بعد میں ہم بہنوں نے بھی پڑھا ۔ الحمدُللہ ۔،،، لیکن اباجی رشتہ داروں ، پڑوسیوں ، اور مہمانوں کا بہت ذیادہ خیال کرنے والے ، " مسلمان " تھے ، گھر میں آۓ اور جُڑے نۓ اجنبی رشتوں " دامادوں ، اور بہو " کو جس ہمبل طریقے سے انھوں نے نبھایا ۔ ایسی اعلیٰ ظرفی بہت کم نظر آتی ہے ۔
چند بہت ضرورت مند رشتہ داروں کو ہمیشہ مالی مدد پہنچائ ۔ اماں جی کی نرم دلی ،، کا مزاق اُڑانے ،، یا ، اُن کی مدد سے انکار کے بجاۓ ،، کسی نا کسی طرح اس کام کو پائیہء تکمیل تک پہنچا دیتے ، یہ ایک مرد کی وہ اعلیٰ کوالٹی ہے کہ اُن معاملوں میں بیوی کا ساتھ دینا ،، جو شوہر کی مرضی اور مزاج کا نہیں ہوتا تھا ، کیوں کہ وہ جان گۓ تھے کہ اپنی نرم دلی کی وجہ سے یہ کام کروانا چاہے گی ، جبکہ صحت کی خرابی اسے ایکٹو نہیں کر پاۓ گی ۔ ( اللہ انھیں اُن کاموں پر اجرِ عظیم عطا کرے ۔)
اباجی کی پوری کوشش رہی کہ اپنے " وسائل " کے اندر رہ کر گھر چلائیں ، اور تمام " نیکیاں " بھی اسی دائرے میں رہ کر کریں ۔اس وقت وہ مجھے کچھ " کنجوس " بھی لگتے ،، لیکن اب سوچتی ہوں ، تو وہ بالکل صحیح نہج پر " متوازن " طرز ِ زندگی گزار گۓ ۔ اباجی 80 سال تک پہنچے ، تو وہ نہ کسی کے قرض دار تھے ،، نہ اکلوتے بیٹے پر انحصار کی نوبت آئ ، اُن کے پرانے ، نۓ دوست میں سے کئ یکے بعد دیگرے چل بسے ۔ اور جب بھی کسی کی جدائ کا سنتے یا اسے دفنا کر آتے دو تین دن ڈیپریشن میں رہتے ۔ ان دنوں رئیس امروہوی کا یہ اشعار اکثر دہراتے ،۔
؎ خاموش زندگی بسر کر رہے ہیں ہم 
گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہم 
ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے ریئس
یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم
آخر دورِ علالت آگیا ، پہلے یاداشت متاثر ہونا شروع ہوئی ۔ پھر مزید بیماری بڑھی ، اور ان کے ہمدرد معالج ڈاکٹر شاہد سلیم نے ہمیں پوری سچویشن سمجھائ ،، میجر صاحب ، پارکنسن کا شکار ہو رہے ہیں ، آہستہ آہستہ ، مزید بھولنے لگیں گے ۔ اور ایک وقت آۓ گا ، چلنا بھی ممکن نہیں رہے گا ۔" اور خود ڈاکٹر شاہد کا یہ حال ، چاہے رات کتنی بھی دیر سے فارغ ہوں ، اباجی کو ضرور دیکھتے ہوۓ گھر جاتے ، یا ضرورت پڑتی تو ہماری ایک کال پر پہنچتے، ان کا آخری دن کے وزٹ پر یہ جملہ ہمیں بے حد اطمینان دے گیا ،" اس سے ذیادہ اچھی نرسنگ کوئ نہیں ہو سکتی ، جتنی میجر صاحب کی ہوئ "" کیوں کہ اباجی اُن خوش قسمت لوگوں میں سے تھے ، جن کو بہت محبتوں سے سنبھالا گیا ، کہ گھر کی پرانی ملازمہ شہناز نے بیٹی کی طرح خدمت کی ،، میری چھوٹی پھوپھو ، اور آپا ، صبح سے دوپہر تک ڈیوٹی دیتیں ، اور پھر دوپہر سکول سے آ کر اگلے دن صبح تک میَں اور میرے بچے پوری توجہ سے ان کے سب کام نبٹاتے ، الحمدُ للہ ، ہم جب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ابا جی کی خوش نصیبی پر رشک آتا ہے ، اُن کے سب بچوں نے ،، ان کے نواسے نواسیوں ، نے اور پوتے پوتی نے اپنے اپنے طور پر حصہ ڈالا ، ، خاص طور پر میرا بڑا بیٹا علی ، تو خود اُن کا "اباجی " بن گیا تھا ،،،، یہ اُن کی اپنی نیکیاں تھیں ، کہ ڈیڑھ سال بستر پر رہنے کے باوجود، ان کی اہمیت بڑھی ، کم نہیں ہوئی ، کسی کی طرف سے کوئی کوتاہی ،کوئی اُکتاہٹ نہیں ہوئ ۔ وہ ایک ایسے مرکز رہۓجس نے صرف اپنے بچوں کو ہی نہیں جوڑے رکھا ، بلکہ خاندان کے بہت سے لوگ بھی ان کی معاونت کے محتاج رہۓ ، یہ مددصرف مالی ہی نہیں اخلاقی بھی رہی ۔ اباجی ، نے رزقِ حلال کو اپنا اوڑھنا ، بچھونا بناۓ رکھا ۔ اور اپنے بچوں کو یہ سبق عملا" دیا ۔ "" کہ جتنا پاس ہے اتنے میں گزارا کرو "" اباجی ،،، کی شخصیت ، بہت سی خوبیوں ، اور بہت کم کمزوریوں کے ساتھ مُسَجَع تھی ،، وہ الحمدُ للہ ایسی نیک نامی کما گۓ ، کہ جن کا نام آج بھی ہمارے لیۓ تعارف کا باعث ہے ۔ جبکہ ہم سب بہن بھائ ، خود گرینڈ فادرز ، مدرز بن چکے ہیں ،، اور جب کبھی ہم سے کوئ کہتا ہے کہ اچھا میجر صاحب کے بیٹے / بیٹی ہو ،،، تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے ، کہ مرنے کے 20 سال بعد بھی ، ہمارے والدین کی نیک نامیاں ہم کما رہۓ ہیں ۔ کاش ، ہم بھی اپنے والدین کی اچھی خوبیاں اپنا لیں ،، اور ہم اُن کے لیۓ باعثِ شفاعت بن سکیں ۔
اباجی جوانی سے لٹریچر پڑھنے کے ہی شوقین نہیں تھے بلکہ ، خود بھی شاعری کرتے تھے ،' خالد' تخلص رکھا ، تو اکثر اپنے پورے دستخط ظفرالحق قریشی خالد لکھتے تھے ، افسوس اُن کی کئ غزلیں ، جس رسالے میں چھپیں ، نہ مجھے اُن کانام معلوم ہے ، اور نہ ہی اُن کی غزلوں کا کوئ ریکارڈ ، لیکن اُن کے جگری یار جو خود پنجابی کے نامور شاعر تھے ، " افضل پرویز " نے ایک خط میں انھیں یاد دلایا کہ ، ، ظفر ، تمہارے اندر کا خالد کہاں چلا گیا ہے ، تم اب کوئی شاعری کیوں نہیں کرتے ، جب ایسے شعر لکھے تھے ، تو اب کیا ہوا ہے ،، اور یوں ایک شعر ہمارے لیۓ یاد گار کے طور پر ہاتھ آگیا ،، ۔
؎ رہ گۓ محوِ تماشا لبِ ساحل دانا ! !
اور موجوں سے لگے کھیلنے دیوانے چند 
مجھے فخر ہے کہ اباجی نے اپنی گھریلو تعلیم حاصل کر سکنے والی ، ذہین بیوی کے ذوق کو بے شمار کتب لا کر دینے سے اور بڑھایا ۔ اور اپنی اولاد کو بھی فضول محافل کے بجاۓ ، الفاظ کی دنیا کو کھوجنے کا ہنر دیا ۔ 
بڑے بہنوئ غلام یٰسین ہمارے لیۓ مانندِ باپ رہے ، جب کچھ عرصے بعد اُن کا بھی انتقال ہو گیا ، تو میرے چھوٹے صاحب ذادے نے بہت اچھا ایک جملہ کہا " بڑے ابا جی ، اور یہ بڑے ابو ،،،ایسے لوگ تھے ، جن کے کہنے پر، اور ایک پھیرے پر لوگ بیٹیوں کے رشتے دے دیتے ہیں "۔
اللہ سبحانَ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرماۓ ، دعا ہے ہم اُن کے لیۓ شرمندگی کا باعث نہ بنیں ، ، اللہ اُن کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے آمین ثم آمین !۔
( منیرہ قریشی 11 نومبر 2018ء واہ کینٹ ) ( اختتام )

جمعہ، 9 نومبر، 2018

اک پرِخیال (19)۔۔۔۔(2)۔

" وجودِ خاکی"
' محبت و شفقت ' ( اباجی ) ( حصہ دوم )۔
اور جب بھی ہم بہنیں اور بھائی اپنے بچپن پر نظر ڈالتے تھے ، تو ایک دوسرے سےبہت سی اور باتیں پتہ چلتیں ،،، کہ بڑے دونوں یعنی آپا ، اور احسان بھائ جان جن میں سات سال کا فرق تھا اور دونوں نہایت شریف اور تمیز دار بچے تھے ،، وقت پر کام ، سونا کھیلنا ، سکول باقاعدگی سے جانا وغیرہ جیسی عادات ، کی آبیاری سو فیصد اماں جی کی وجہ سے تھی ۔ دونوں بچوں کو اباجی بہت کم وقت دے پاتے تھے ، کہ انکے کیپٹن بننے کے بعد انٹیلی جینس میں تعیناتی سے انھیں شدید مصروفیات رہتیں ،، اس دوران اگر وہ گھر آتے تو ، اماں جی کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ انھیں گھریلو مسائل سے دور رکھیں ،، لیکن ایسا ممکن نہ ہو پاتا ، کسی نا کسی مسلۓ میں الجھی ہماری اماں جی ، اگر کبھی اس مسئلے کی ذیادہ یا کم اہمیت کا احساس دلاتیں بھی ،،، تو بھی اباجی کا پہلا ری ایکشن یہ ہی ہوتا کہ ،،، "تم غلط سوچتی ہو " تمہیں غصہ ذیادہ آ رہا ہے وغیرہ ،، !اور اُن کی پوری کوشش ہوتی کہ دوسرے سے جھگڑے یا اسے الزام دینے کے بجاۓ ،، معاملہ ہلکے پھلکے انداز سےرفع دفع کردیا جاۓ ۔ جبکہ اماں جی اُن کی یہ بے جا نرمی پسند نہیں کرتی تھیں ، اور واقعی بعض دفعہ اماں جی کا مؤقف صحیح ہوتا تھا ۔ لیکن اباجی کی بچپن میں ماں کی محبت کی کمی ،، والد کا لیۓ دیۓ رویہ ، اور جلد ہی چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنا تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داریاں اُٹھالینے سے ، وہ ایک ہمبل انسان بن گۓ تھے ،، جن کے پاس لڑائ کا ، یا نفرت کرنے کا وقت نہیں ہوتا تھا ،، !آپا اور بھائ جان بتاتے تھے کہ ان کے بچپن میں اباجی گھر میں بہت ذیادہ سنجیدہ رہتے ،، بچوں سے ان کے سکول کی پراگریس پوچھ لی ، یا کیا لکھتے ، پڑھتے ہو ؟ لیکن اس نان فرینڈلی دور میں بھی ، بچوں کے لیۓ بہت سی کتابیں لائ جاتیں کہ یہ ایکسٹرا بکس ریڈنگ کی عادت ڈالیں ، آپا کے لیۓ خوب رنگین پینسلیں لائ جاتیں کہ وہ ڈرائنگ میں اچھی ہوں ، اباجی کی طرف سے آرڈر ہوتا ، کہ اپنے ماموں کو انگلش میں خط لکھو ، تاکہ انگریزی اچھی ہو ۔شاعری میں علامہ اقبالؒ کے اشعار یاد ہوں تو خوش ہوتے ،، بھائ جان کے کمرے میں ایک الماری ایسی تھی ، جس میں بہت سے سائنسی ایکویپمنٹس ہوتے ، وہ جس سکول میں ساتویں تک پڑھے ، وہاں کی اچھی پڑھائ تھی کہ بغیر کسی ٹیوشن کےجلد ہی وہ پاکستان کے پہلے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں داخل کر لیۓ گۓ ، اور یوں آپا کی شادی ، بھائ جان کا ہوسٹل جانا ، اور اماں جی کا بہت سیریئس آپریشن سے گزرنا ، ایک ہی سال اور چند مہینوں میں وقوع پزیر ہوۓ ،، میَں اور جوجی ، چار ، پانچ سال کی عمر میں تھیں ،۔ اور یہ ہی وہ دور تھا کہ ہم دونوں اباجی کی منظورِ نظر بن گئیں ، اور یوں بڑے دونوں بچوں کے ساتھ وہ جتنے سنجیدہ باپ رہۓ ، اتنے ہم دونوں کو کبھی بھی نہیں ڈانٹا ، اور ہمارے بچپن یا لڑکپن کا دورانیہ ، اُن سے محبت سمیٹنے میں گزرا۔ 
پنڈی کے قیام کے دوران ، اچھی انگریزی فلمیں دکھانے خود لے جاتے ، آرمی کلب میں کوئی فنگشن ہے تو وہاں ، ہر سال گرمیوں میں مَری کا قیام ، اور وہاں کا کونا کونا دکھایا ، جب بھی کراچی ، یا ڈھاکہ سے ہو کر آتے ، وہاں کی سوغات لانا ضروری ہوتا ، صدر ایوب کے عملے میں شامل ہوۓ ،تو ان کے ساتھ وہ شکار پر جاتے ، تو یہ اپنے حصے کا شکار مرغابیاں ، تیتر ، بٹیر اتنے لے آتے کہ نہ صرف اسی محلے میں موجود رشتہ داروں کو بھیجی جاتیں ، بلکہ محلے کے کچھ ملنے والوں میں بھی یہ سوغات بٹتی ۔ جبکہ ہم دونوں بہنوں نے کبھی عام بکرے کاگوشت شوق سے نہیں کھایا ، تو یہ مرغابیاں تو ہماری شدید محبت کی حقدار ٹھیرتیں ،، کہ انھں کیوں مارا گیا ،، میَں تو باقاعدہ بحث کرتی تھی۔ ہمارا یہ بحث مباحثہ کرنا آپا کو اکثر حیران کرتا کہ اباجی کتنے بدل گۓ ہیں ۔ ڈھاکہ کے شیرے میں لتھڑے رَس گُلے ، جو پتوں میں پیک اور تنکوں سے بنی ٹوکریوں میں آتے ، انھیں بھی دونوں میاں بیوی ، کھلے دل سے بانٹتے ۔ 
اباجی نے ہم دونوں کے بچپن میں ہمیں پیار اور اہمیت دیۓ رکھی ۔ اُن کے لاۓ ، چابی والی ہاتھ میں گُلدستہ پکڑے ڈانس کرتی گُڑیا ، بہت سالوں تک میرے پاس محفوظ رہی اور جوجی کے لیۓ چابی ، والی ایک پریم چلاتی گڑیا تھی ،، ہم دونوں یہ کھلونے بہت محتاط طریقے سے گھنٹہ بھر کھیل کرواپس ڈبوں میں رکھ دیتیں ، ،، گھر میں ایک اردو کا اخبار ، اماں جی کے لیۓ حُور اور زیب النسا اردو میگزین،، اور ہم دونوں کے لیۓ " تعلیم و تربیت ، بچوں کی دنیا اور کھلونا " رسالے آتے ،، تو گویا اباجی کو یہ سب فضول خرچی نہیں لگتی تھی لیکن ،، دوسری طرف وہ محتاط اخراجات کے قائل تھے ۔ وہ اپنے والد کے آگے کبھی" نہ" نا کر سکنے والے بیٹے رہۓ ۔
اباجی کے آرمی سے ریٹائر ہونے اور واہ فیکٹری میں بطورِ چیف سیکورٹی آفیسر تعینات ہونے پر ہم واہ فیکڑی آۓ تو 1964ستمبر کے دن تھے ، ہلکی ہلکی سردی شروع ہو چکی تھی ، ، اماں جی اتنے بڑے لان والے گھر کو دیکھ کر بہت خوش ،، اور میں اور جوجی غموں میں ڈوب گئیں تھیں ، ، کہ اتنا ویران لان ،، دراصل اباجی کو ملنے والا گھر تب تک خالی نہ ہو سکا تھا ، تو فوری طور پر یہ گھر لینا پڑا جس میں ایک بنگالی فیملی رہ کر گئ تھی ، اور انھوں نے اس گھر کو تین سالوں تک ایسے استعمال کیا ، جیسے " بس کل ہی چلے جائیں گے " اس لیۓ وہ کمروں تک محدود رہۓ ، اور وہ بھی سفیدی کے قابل تھے ۔ ،، لیکن اگلے ہی دن سے اباجی نے ملنے والے اختیارات کا بھرپور استعمال ہوا،، پھر تو روزانہ کی بنیاد پر سارے کام ہوۓ ، اور اباجی نے ،، اپنی بیگم کو خوب خوش کیا ،، جیسا اماں جی نے فرمائش کی ، ویسے کیا گیا ،، بچے بازار کا دودھ نہیں پیئیں گے ،، بھینس جو اب تک گاؤں میں رکھی گئی تھی ، واپس لائ گئ ، اسکے لیۓ دو چھپر والےکمرے بنا دیۓ گۓ ، ایک خدمت گار بھی آگیا ، اور اجڑے لان کو گُل و گلزار بنا دیا گیا ، اس سب میں اباجی نے دل کھول کر خرچ کیا ۔ تاکہ ، بیمار بیوی کا دل راضی ہو جاۓ ۔ اور وہ اپنا ذاتی گھر چھوڑنے پر افسوس نہ کرے ۔ یہاں ہمیں اباجی سے ذیادہ وقت ملنے لگا ، سردی کی جلد چھا جانے والی راتوں میں ،، اباجی ہمیں کبھی کبھار لیبیا ، یا سوڈان کی باتیں بتاتے ،،، یا ،، ہم سے تاش کھیلتے اور چند آسان کھیل انہی سے سیکھے ، سکریبل کا شاید ہماری سہیلیوں نے نام بھی نہ سنا ہو گا ۔ لیکن اباجی نے ہمیں لا کر دیا اور سکھایا ۔ پنڈی صدر میں ایک چائینیزفیملی کی جوتوں کی شاپ تھی ،، ( جو آج بھی موجود ہے) اُس دور میں آرڈر پر بھی جوتے بنواۓ جاتے تھے ، اور اس سلسلے میں بھی اباجی نے ہمارے ذوق کو بہت بڑھایا ، اور دوتین سال تک عیدوں سے دو ماہ پہلے ہمیں اباجی راولپنڈی لے جاتے ، اور ہمارے ناپ کے ،ہماری پسند کے جوتے آرڈر دیۓ جاتے ۔ اُن جوتوں کو اپنی پرانی تصویروں میں دیکھتے ہیں ، تو اباجی کے لاڈ ، کے انداز یاد آ جاتے ہیں ۔ ،،، 
بنیادی طور پر ہم دیہات سے تعلق رکھنے والی " قدامت پسند " خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، آغا جی جیسے پڑھے لکھے دادا کی اجازت " نہ " ملنے کے باوجود آپا کا دس جماعت پڑھ جانا ، اباجی اور اماں جی کا جہاد تھا ۔ لیکن جوں ہی ہم واہ آۓ ، اباجی کے دل و دماغ کو جیسے مزید آزادی مل گئ ، حلانکہ یہاں سے گاؤں ذیادہ نزدیک پڑتا تھا ۔ اور آغا جی کا آنا جانا زیادہ رہنے لگا ۔ اور اب ہمارا آرڈینینس کلب جانا بھی ایشو بنتا چلا گیا ، لیکن اباجی نے اس قسم کی باتوں کو بالکل نظر انداز کیۓ رکھا ، اور ،،،،، ہم نے اس دوران کلب میں بہترین فلمیں بھی دیکھیں ،، کلب کی لائیبریری سے بہترین کتابیں ایشو کروائی گئیں ۔ اور اسی کلب میں ملک کے اعلیٰ و ارفعٰ   شعراء کے مشاعروں میں شرکت کی ،،، استاد امانت علی ، فتح علی کی خوبصورت گائیکی کا لطف اُٹھایا ،، اور جی ہاں ،، " تمبولا " بھی کھیلا ۔( جس کا نام ہم نے یہیں سنا ، صرف ہمارے شوق اور معلومات کے لیۓ اباجی نے یہ دو یا تین مرتبہ کھیلنے دیا ) اور یہ سب ماحول ہم نے اپنے محبت و شفقت بھرے والد کے زیرِِنگرانی ، انجواۓ کیا ۔ لیکن ان سب میں اماں جی کی کہیں شرکت بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی ، لیکن ان کی خوشی ضرور ہوتی تھی ۔ ہر دو ماہ میں ایک دفعہ کسی پکنک سپاٹ لے جایا جاتا ،، اور اکثر ہمیں گاڑی معہ ڈرائیور پنڈی کے لیۓ شاپنگ کے لیۓملتی ، ہمارے ساتھ جگری سہیلیاں ، شاہدہ اینڈ سسٹرز کی کمپنی ہوتی ۔ اس دوران ہمارے کالج کے دن آ چکے تھے ، تب بھی اباجی نے کسی برقعے سے متعلق کبھی بات نہیں کی ، حالانکہ آپا نے آٹھویں یا ساتویں میں ہی برقع اوڑھ لیا تھا ،،، البتہ ہمارے کالج کے دوران اُن دنوں سفید اوورآل کارواج تھا جو ہم بہنیں پہنتی تھیں ۔ اباجی کی سوچ ، منفرد اور قدرِ آزاد تو تھی ۔ لیکن آزاد خیال نہیں ، نہ ہی اباجی نے کبھی ہمیں آزاد روش اپنانےیا جدید ہر طرح کا لباس پہننے کی اجازت دی ،،، گویا انھوں نے بھی حد مقرر رکھی ، تو ہم نے بھی حد کراس نہیں کی !وقت گزرتا گیا ، میں نے بی اے کے بعد پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں لی ، لیکن جوجی نے بائیو میں ایم ایس سی کر لیا ، اور وہ ہمارے خاندان کی پہلی ایم ایس سی لڑکی تھی ، اور یہ علمی سفر اباجی ، کی اجازت سے مکمل ہوا۔
اماں جی مسلسل بیمار تھیں ، لیکن علاج میں رتی بھر کوتاہی نہیں ہوئ ۔ آخر کار اماں جی ایک لنگ ، ایک کڈنی ،کے ساتھ اور شدید دمہ رہنے کے بعد ، تھک سی گئیں ۔ اور ربِ رحیم کریم نے انھیں ابدی سکون سے نواز دیا ، 7 فروری 1976ء غم و دکھ کا سال تھا لیکن یہ سال بہت لمبا چلا ۔ آہستہ آہستہ اباجی نے اپنی دلچسپیاں ڈھونڈلیں ۔ وہ میرے جڑواں بچوں میں اتنے محو ہو گۓ ، کہ جہاں تک ممکن ہوتا انھیں گاڑی میں ساتھ لیۓ لیۓ پھرتے ۔ چونکہ فیکٹری سے بھی نو سالہ ملازمت کے بعد ریٹائر ہو چکے تھے ۔ اس لیۓ اب گھریلو کاموں میں بھی دلچسپی لینے لگے ، جو ان کی کبھی عادت نہیں رہی تھی ۔ لیکن سبزی ، گوشت کے بھاؤ معلوم ہو گئے ۔ (جاری)۔
( منیرہ قریشی 9 نومبر 2018ء واہ کینٹ )

جمعرات، 8 نومبر، 2018

اک پرِخیال(19)۔۔(1)۔

" وجودِ خاکی"
' محبت و شفقت ' ( اپنے والد کی بیسویں برسی کے موقع پر خراجِ تحسین )
ان دو خوبصورت الفاظ کو سنتے ہی ، تصوراتی طور پر ہمارے پردہء خیال میں ، فوری طور پر یا تو والدین کے چہرے اُبھرتے ہیں ،، یا ،، وہ مہربان اور دعاؤں کے حصار لیۓ متفکر چہرے اُبھرتے ہیں ،جن سے کبھی تو کوئ رشتہ ہوتا ہے اور کبھی کوئ رشتہ نہیں ہوتا ،،،، کہا جاتا ہےاللہ رحیم و کریم نے جب " قلم " کی تخلیق کی تھی تو اس نے اِس قلم سے پہلا جملہ لکھا " میری رحمت ، ،میرے غضب پر حاوی رہے گی" ،،،، اور یہ بھی کہ " اس دنیا میں اس کی رحمت کا نزول ایک سوئ کی نوک برابر نازل ہوا ہے ، باقی "رحمت" روزِ محشر کے لیۓ مختص کر دی گئی اور آج ،،، اسی رحمت ، محبت اور شفقت کی تقسیم کا عکس ،،،، کبھی ماں باپ ، کبھی بہن بھائ ، یا ، کچھ دوسرے انسانی رشتوں ، کی صورت میں نظر آتا ہے تو اس محبت کی پاکیزہ مِٹھاس کے (ہم وصولنے والے) شیرے میں نچڑ نچڑ جاتے ہیں ۔ اور یہ اُس مہربان اول و آخر کی ہی صفتِ رحیمی کا عکس ہوتا ہے ،،، ورنہ اس کی یہ"تخلیق" محبت و شفقت کے دریاؤں سمندروں کے بغیر نہ پنپ پاتی ۔ حتیٰ کہ جب یہ شفقت و رحمت ،، جانوروں میں بھی نظر آتی ہے تو ایسے ڈھنگ سے کہ کبھی کبھی انسان بھی شرمندہ ہو جاتا ہے ،، "کہ میَں تو اتنی محبت بھی نہیں کر پایا / پائی ۔ جتنی یہ جانور ماں اپنے بچوں سے کر رہی ہے۔اس رب نے تخلیقِ کائنات کے ساتھ ہر چیز اور ہر جذبے کے" جوڑے " بنا دیۓ ۔ اور اسی میں بقا اور فنا ،،، کے ساتھ کا بھی جوڑا بنا دیا ،،،،، بقا صرف "خالق" کو اور اور فنا " تخلیق " کو حاصل ہو گئی ۔ 
اب اگر اپنے والدین کی طرف دیکھیں تو ہر اولاد کو اپنے والدین بہت عظیم اور منفرد لگتے ہیں ۔ مجھے بھی اپنے ماں باپ کےاندر جو خوبیاں نظر آتی ہیں ، شاید اور لوگوں میں بھی ہوں گی ،، لیکن کم ،، اوروہ میرے نزدیک لاکھوں میں سے ایک تھے ! اباجی 24 نومبر 1998ِکو 82 سال کے ہو کر ، اس جہانِ فانی سے رخصت ہوۓ ۔ چارسدہ کے گاؤں " عمر زئ ، صوبہ سرحد میں پیدا ہونے والے اپنے نوجوان والدین کی وہ پہلی اولاد تھے ،،، یقینا" ان کے والدین پہلی اولاد بیٹا ہونے پر خوش ہوۓ ہوں گے ۔ لیکن میَں اُس جوڑے کی اداسی، اور ،،،عجیب سے دکھ کو اکثر محسوس کرتی ہوں ، کہ خاندانی دشمنی کے باعث اس جوڑے کو غیر منقسم برِ صغیر کے اس نزدیکی صوبے میں جانا ، پناہ لینا اور کئی سال رہنا پڑا ،، نوجوان ماں اور باپ خوش قسمت تھے کہ ان کے پڑوسی ، پٹھان خاندان نہ صرف اثر نفوذ ،والا تھا، بلکہ تعلیمی میدان کا شہسوار بھی تھا ،، اباجی کے والد فضلِ حق قریشی فسٹ ڈویژن میٹرک پاس ، اور انگلش ، اردو ، فارسی اور عربی کی زبانوں پر اتنا عبور ضرور تھا کہ اردو ، فارسی میں شاعری کرتے ، اور پڑوس کے خان صاحب سے انگلش ناولز اور کتب کو ایکسچینج کرتے تھے ،، خود انھوں نے لاء کالج میں داخلہ لے لیا تھا لیکن ،،اب دن تو اپنی نوکری کے سلسلے میں پوسٹ ماسٹر جنرل کے طور پر اور شامیں ، با ذوق پڑوسی اور ان کی کتابوں کی صحبت میں گزرتیں ، اِسی خاندان کی ایک بہن سلمیٰ تھیں جو تحریکِ پاکستان میں شامل خواتین کی صف میں بیگم سلمیٰ تصدق حسین کے نام سے نامور ہوئیں ۔ تو گویا آغا جی ( ہم دادا جی کو یہ ہی کہتے تھے ) کو بالغ النظر پڑوسی ملے ، تو اباجی ظفر الحق کا بچپن لٹریری اور با اخلاق ماحول میں گزرا ،، کہ پڑوسی کے 11 بچوں میں سب ہی لڑکے ، لڑکیاں سکول جاتے ، اور ان کے ساتھ اباجی کو بھی داخل کروایا گیا ۔ اباجی کی والدہ کو ایک دبنگ اور بہت محبتی پڑوسن ملی ، جس نے اس پنجابی نوجوان ماں کے آنسو بھی پہنچے اور تینوں بچوں کی زچگی میں بھی مکمل ماں کا کردار ادا کیا ، کہ محبت کی نہ کوئ زبان ہوتی ہے نہ سرحدیں ،، نہ عمر ، نہ دنیاوی دولت کا کوئی لیول ،،،،،،،!اباجی کے بعد ایک بھائ انوار الحق اور ایک بہن اقبال بیگم پیدا ہوۓ ، یہ سب اِس پختون ماحول میں ، پشتو ہی بولتے تھے ،، یہ ہی وجہ تھی کہ یہ تینوں پشتو بول اور سمجھ لیتے تھے لیکن ، اباجی ، اس معاملے میں بہت آگے رہے کہ جماعت ششم تک اسی ماحول میں پلنے کی وجہ سے اور مکمل طور پر پختون ساتھیوں اور ٹیچرز کی وجہ سے زندگی بھر اپنے سے ملنے کے لیۓ آنے والے پشتو بولنے والوں سے اِسی زبان میں بات چیت کرتے تھے ، اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہاں کے بنے دوستوں سے ان کی محبت دو چند ہوتی ،، ان سے لین دین ، انھیں گھر بلانا ، دعوت کا اہتمام کرنا ۔۔ اور اُس تعلیمی ماحول میں گزارے اثرات تا دیر اور پختہ رہے ۔ "جوان ماں" کی وفات اور اُسے اسی گاؤں میں ان کو دفنا کر ، جوان"غم ذدہ باپ" اپنا مختصر خاندان واپس پنجاب ، اپنے والدین کے پاس لے آیا ۔،،بچے نا سمجھ تھے ، ان کے دادی دادا نے نئ ماں کا اہتمام کیا ۔ 
اور اباجی ،،، کے دل کے اندرہمیشہ کے لیۓ ، ماں ، کی محبت کا خانہ خالی رہا ۔۔۔ اباجی پڑھائ میں شاید بہت اول دوم نہ آتے تھے ، لیکن ایک اچھے طالب علم رہۓ ۔ ساتویں سے دسویں تک ٹیکسلا کے گورئنمنٹ سکول سے فسٹ ڈویژن سے میٹرک پاس کیا ، اور والد نے بہت شوق سے پنڈی اسلامیہ کالج میں داخل کروایا ،،، فسٹ ایئر کا فائنل نزدیک تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوا چاہتا تھا،، انگریز حکومت کو دنیا میں پھیلی اپنی مختلف " کانونیز " بچانے کے لیۓ ،، قربان کی جانے والے بے شمار اجسام کی ضرورت تھی ، اور انہی میں وہ لوگ بھی تھے ،، جن کے نزدیک تعلیم سے ذیادہ " ماحول " کی تبدیلی اولیت رکھتی تھی ، اور اباجی نےیہ تبدیلی والد کو اطلاع دیۓ بغیر کی ۔ اور جب تک باپ کو پتہ چلتا ، بیٹا ٹریننگ کے لیۓ جا چکا تھا ، اباجی کی انگریزی اور اردو ، میں بہترین استعداد کی وجہ سے ، انھیں سنگنلز میں بطورِ کلرک بھرتی کیا گیا اور ساتھ ہی کچھ ماہ کے لیۓ پنڈی پوسٹ کر دیا گیا ، یہ ہی دورانیہ تھا جب وہ گھر آۓ ، تو باپ نے اپنی بات منوائ ، کہ 24 سالہ بیٹے کی شادی دور کے رشتے دار، کی 16 سالہ بیٹی سے کر دی ،،، ایک ڈیڑھ سال میں وہ ایک بیٹی کےباپ اور ماںبن گۓ ۔ 
اباجی ، کی نئ دوسری والدہ بھی دو بیٹیا ں اور ایک بیٹا (جو بہت چھوٹے تھے ) چھوڑ کر اگلی دنیا جا بسی ۔ لیکن اباجی اب اپنے سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کے بڑے بھائ ہی نہیں ،، باپ اور ماں بھی بن گۓ ،،، کہ آغا جی نے تیسری شادی کر لی تھی ،، اباجی اپنے بہن بھائیوں سے محبت میں اتنے آگے آگے رہے کہ بیوی بچی کی حیثیت ، دوسرے نمبر پر رہی ، ، اور " بیوی عزیزہ بیگم " نے اس راستے کو جلد اپنا لیا ، کہ شوہر کو جیتنا ہے تو اس کے بہن بھائیوں کی خوشنودی کو اولیت دینی ہو گی ۔ اور اماں جی نے یہ پالیسی زندگی بھر اپناۓ رکھی ۔ 
بعد میں اباجی دوسری جنگِ عظیم شروع ہوتے ہی، سوڈان ، مصر ، لیبیا اور عراق میں چار سال کے لیۓ چلے گۓ ۔ اباجی بتاتے تھے اس چار سال میں ، میَں نے شاید ہی کوئ اچھا انگریزی ناول چھوڑا ہو ۔ وہ بتاتے تھے ، سارا وقت کانواۓ کا ایک جگہ دوسری جگہ کے سفر کے دوران ، ٹینشن سے دور رہنے کا سب سے بہترین علاج ، انگلش فکشن پڑھنا تھا ،، اس کے ساتھ اگر کسی ذریعے سے " علامہ اقبال ؒ" کی کوئ کتاب مل جاتی ، تو اب عاشقِ اقبالؒ کے لیۓ اسے سمجھنا اور بھی آسان ہو گیا کہ انؒ کے ایک ایک مصرعے میں وہ ہسٹری اور جغرافیہ تھا ، جس میں وہ اُس وقت پھر پھرا رہے تھے ، اور یوں جب وہ اس جنگِ عظیم سے واپس پاکستان آۓ ، تو انگریزی لٹریچر میں ان کی دلچسپی تو دوچند ہو ہی گئ تھی ۔ لیکن علامہؒ سے ان کا عشق اور ہی انداز سے اُن کے مزاج میں آگیا ، علامہؒ کی ساری کتب کا سیٹ اس لیۓ بھی موجود تھا کہ اپنی پہلی اولاد " زاہدہ نسیم " کو آٹھویں پاس کرنے پر یا سالگرہ پر علامہ ؒ کی کتاب کاہی تحفہ ملتا ، 1938ء کا پرنٹ شدہ علامہؒ کی سب کتب پاکستان بننے سے پہلے کی خرید لی گئیں تھیں ،، بعد میں مولانا مودودی ؒ کی تفہیم القرآن کی چھے جلدیں خرید لی گئیں ، جو میرے خیال میں اِن جلدوں کا پہلا ایڈیشن تھا ، الحمدُ للہ ! کہ اس کے بعد اکثر بہت خوبصورت قرآن پاک جن کے رنگین حاشیوں سے سجے صفحے ، ایک دم آنکھوں کو روشن سے کر دیتے ، حتیٰ کہ انگلش ترجمے والا قرآن بھی گھر میں تھا جو دو جلدوں پر مشتمل تھا ، اس کی ایک جلد کوئ لے گیا ، واپس نہ کرنے کے لیۓ اور ایک آج بھی موجود ہے ،، ! کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اباجی کے شوق اور ذوق نے گھر کی فضا کو بھی وہ ماحول دیا ، جو میرے خیال میں شاید ہمارے ، خاندان کے 60، 70 گھرانوں میں سے ایک آدھ میں نظر آیا ،، اباجی نے پاکستان بننے کے فورا" بعد کمشن حاصل کیا اور 
آرمی میں ان کو انٹیلیجینس کے شعبے میں تعینات کیا گیا ، ،، اس دوران اللہ تعا لیٰ نے انھیں ایک بیٹا دیا ، جس کا نام " احسان الحق " رکھا گیا ۔ اور اِن کے کچھ وقت کے بعد ہم دو بہنیں پیدا ہوئیں ،، تو میرا نام نیرہ رکھا گیا،لیکن اباجی نے علامہؒ کی بیٹی کا سُن کر میرا نام " منیرہ " رکھا اور یوں ، ہم تین بہنوں اوراکلوتے بھائ نے اپنے ادبی ذوق والے ، والد ، اور نہایت ذہین والدہ کے زیرِ نگرانی پرورش پائی۔ 
اماں جی ،،، اپنے شوہر سے متعلق ایک جملہ اکثر بولتی تھیں ، " تمہارا باپ تو فرشتہ ہے ، اس بندے کے تن کے کپڑے بھی کوئ مانگ بیٹھے ، تو یہ اسے دینے میں لمحہ بھر بھی نہیں سوچے گا ۔ ہمیں اس جملے کی کچھ سمجھ نہیں آتی تھی ۔ بعد میں، کبھی کوئ قصہ سنانے کا اُن کاموڈ بن جاتا تو اباجی کی شخصیت کا مثبت پہلو سامنے آتا ۔ اور ہم بچے حیران ہوتے کہ ان کا کتنا بڑا دل تھا ۔
جب اباجی دوسری جنگِ عظیم کے دوران رہے ، اچھی سیلری کی بنا پر ، اس دور میں جو پیسے ملتے، سارے اپنے والد کو بھیجتے ، اس میں سے چھوٹی بہنوں اور بھائ کو 10 ، 10 روپے ، پاکٹ منی دینے کی ہدایت ہوتی ، نیز ایک نزدیکی رشتہ دار جاب لیس تھا ، اسے اسکی چار ممبران پر مشتمل فیملی کو 25 روپے مہینہ دینے کی ہدایت تھی ۔ ( یہ واضع رہے اس دور میں 25 روپے ایک 15 یا 16 گریڈ کی تنخواہ ہوتی تھی ) آغا جی ، کو مزید تفصیل مہیا تھی کہ خاندان میں کس کو کتنے دینے ہیں وغیرہ ، اور اِن سب اخراجات کے بعد بھی اتنے پیسے بچتے کہ آغا جی زمینیں خریدتے رہتے ۔ لیکن وہ یہ اپنے نام سے خریدتے ،، اورجس رشتہ دار کو جاب لیس ہونے کی بناپر 25 روپے ماہانہ دو تین سال دیا جاتا رہا ، وہ سال بعد ہی جاب پر لگ گیا تب بھی اس نے آغا جی کو آگاہ نہیں کیا کہ اب اسے ضرورت نہیں رہی ۔ لیکن اباجی نے اپنے والد کو اسے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا ۔
اس زمانے کے دستور کے مطابق ، ہمارے نانا جی نے اپنی بیٹیوں کو اچھا جہیز دیا ۔ جس کی خاصی تفصیل دوسروں سے سنتے لیکن ، جب اباجی کمشن ملنے ا(ور پاکستان بننے سے پہلے )کے فورا" بعد پہلی ٹرانسفر جہلم میں ہوئ اور انھوں نے عندیہ دیا ، کہ میَں اپنی بیوی اور بیٹی کو ساتھ لے کر جاؤں گا ،، تو اُس وقت کی آغا جی کی چوتھی ، بیوی نے فیصلہ سنایا کہ ، تمہارے جہیز کی کوئ چیز تم نہیں اُٹھا سکتیں ۔ یوں عائلی زندگی کا آغاز ہی مشکلات سے ہوا لیکن جہاں محبت اور اعتماد کا سرسبز پودا لگا ہو ، تو کوئ مشکل ، مشکل نہیں لگتی ۔ 
اباجی کو کتابوں کے شوق میں اکثر اس قدر محو دیکھا کہ رات کو کوئ کتاب پڑھے بغیر سوتے نہیں دیکھا ،، جب میں پانچ سال کی تھی تو ہماری سب سے بڑی بہن جنھیں ہم آپا کہتی تھیں کی میٹرک ( فسٹ ڈویژن ) کے رزلٹ سے اگلے مہینے اباجی کے پھوپھی ذاد سے ہوگئ ، وہ بھی آرمی میں کیپٹن تھے ، آپا اس وقت صرف 15 سال کی تھیں ۔ لیکن اباجی ، اپنی بیٹی جو خاندان کی حسین ترین لڑکی تھیں ، کو مزید نہیں پڑھانا چاہتے تھے کیوں کہ ، نہ اس دور میں کالج کا بہت رواج تھا نہ ہی بڑے بزرگوں کی طرف سے اجازت ،،، آپا سخت برقعے میں سکول جاتی رہیں وہ ایک لائق سٹوڈنٹ تھیں ،،، دراصل ہمارے بزرگ کنزرویٹو خیالات کے مالک تھے ، جن کے نزدیک لڑکیاں کالج جا کر خراب ہو جاتی ہیں ،، حالانکہ ، ٹیکسلا کے گاؤں سے تعلق رکھنے کے باوجود ، میری دونوں پھو پھییاں سکول پڑھنے ، تانگے پرجاتیں ، خوب بڑے بڑے برقعوں میں ۔۔ یہ اور بات کہ وہ پانچویں تک پڑھ کر گھر بیٹھ گئیں ۔ 
بچپن میں ہم نے اباجی کو ذیادہ تر سنجیدہ دیکھا ۔ وہ دوست پرست ، اپنے والد کے انتہائ تابعدار بیٹے اور بھائ بہنوں کے بےحد کنسرنگ بھائ تھے ، اپنے امیر یا غریب رشتہ داروں کی تکالیف کو دور کرنا تو جیسے ان کا فرض تھا ، یہ ہی وجہ تھی کہ ہمارا گھر ، خاندان کے ان لوگوں سے اکثر آباد رہتا جو ، علاج کرانے ٹھہرتے تھے ، اور یہ قیام چار دن سے چار ماہ تک کا ہوتا ، ، بے شک اس آؤ بھگت میں اماں جی کا ذیادہ ہاتھ ہوتا ، لیکن وہ بھی اپنے شوہر کی خوشنودی کی رمز جان چکی تھیں ، اس لیۓ ، وہ مریض میں کافی دلچسپی لیتیں ، اور میرا خیال ہے ۔۔ بنیادی طور پر دونوں ، نرم دل ، مدد پر ہاتھ پھیلانے والے کا ہاتھ تھامنے والے ، کھلے دل کے مالک ، اور شفقت کرنے والے تھے ، اسی لیۓ مہمان کی آمد پر ناک بھوں نہیں چڑھائ جاتی تھی ، حالانکہ بجٹ خاصا اِپ سِٹ ہو جاتا تھا ، گھر میں دو تین ملازم ضرور تھے ، جس کی وجہ سے اماں جی پر کام کاج کا بوجھ نہیں پڑتا تھا لیکن ، روٹین کافی بدل جاتا ۔ ،،، اس سب میں اباجی ، مریض کو جس ڈاکٹر کا دکھانا ہے تو پہلی دفعہ اماںجی لے کر جائیں تاکہ ڈاکٹر سے تعارف بھی ہو جاۓ ، اور مریض راستوں سے بھی واقف ہو جاۓ ۔۔۔ مریض چاہے مرد ہے یا عورت ،،، اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا ،، اور میں سمجھتی ہوں یہ اباجی کا اپنی بیوی پر انتہا درجے کا " ٹرسٹ " تھا اعتبار کا یہ رشتہ اتنا ذبردست تھا ، کہ اماں جی کے اعتماد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ،،، اباجی کی فطرت کا یہ پہلو ،،، اتنا روشن ہے کہ آج بھی میَں بہت سے بہت پڑھے لکھے ، بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز یا مال و دولت سے آسودہ حال بھی اپنی بیویوں ، بیٹیوں پر " شک " کرتے ہیں ۔ جس سے اکثر خواتین شوہروں سے بد دل ہوجاتی ہیں ۔ اور یہ " شک " گھر کی بنیادوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر ڈالتا ہے ۔ اباجی کی بہترین عادتوں میں سے ایک اور بھی تھی جو میَں نے خال خال ہی دیکھی ہے کہ ، کبھی احسان کر کے نہیں جتایا ۔ 
بلکہ در گزر سے کام لیتے ، اور ایسے احسان فراموش کو سامنے پاتے تو بس اتنا کرتے کہ اس سے بہت گرم جوشی سے نہ ملتے ۔ اپنے بہن بھائیوں کی زمینوں سے آنے والی ، پائ پائ کا حساب کر کے لکھ لیتے ، اور جب باہر رہنے والا بھائ ، پاکستان آتا ، تو اسے اسکی بینک سٹیٹمنٹ دیتے ،، وہ صاف کہتے تھے " بھائ جان محنت آپ نے کی لیکن لاٹری ہماری نکل آئیں " ،، 
( کم ازکم ضیا الحق چچا نے ایڈمٹ تو کیا ) اور آخر کار اباجی نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ، باپ ، دادا کی زمینوں کے مشترکہ زمینوں کو الگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ، تو اکیلے ہی گرمی سردی ، کار دوڑاتے 8 سال لگے ، لیکن پاکستانی قانون کی کمزوریوں کی وجہ سے کام تین حصہ ختم کروا لیا ۔ جبکہ باقی اب ہمارے بھائ نے زمینوں کے جھنجھٹوں سے فراغت کروائی ۔ لیکن کیا مجال کہ ضیاء چچا جیسا شکر گزار رویہ کسی نے دکھایا ہو ۔ 
اباجی ، نے اماں جی کی شدید بیماری میں جو خدمت کی ، وہ خاندان بھر میں مثال بنی رہی ، آپا کی شادی کو ابھی دو ماہ ہی گزرے تھے کہ اماں جی کو بہت سیریس بیماری کے سلسلے میں چار ماہ ہسپتال رہنا پڑا ، ہم دونوں بہنوں کو صبح سکول کے لیۓ تیار کرنا ، اباجی نے اپنا فرض سمجھا ، ہمارا اکلوتا بھائ ، ہاسٹل جا چکا تھا ، اس دور میں آپا کو ان کے شوہر نے ایبٹ آباد سے بھیج دیا کہ والدہ کے لیۓ ہاسپٹل میں رہنا تھا ، گھر پر ، اردلی ، اور دو نوکرانیاں بھی ہوتیں لیکن اباجی ، ہماری خوراک کا خاص خیال خود رکھتے تھے ۔ ہماری دیکھ بھال کے لیۓ کبھی اباجی کی ایک بزرگ خالہ آ جاتیں ، اباجی کہتے تھے ،، یہ دور مجھ پر بہت بھاری رہا ، اور اپنے خاندان کی ان گھروں کی بے اعتنائیاں سہیں ، جن کو میَں نے ہی قدموں پر کھڑا کیا تھا ، یا اُن کی نرمی، بیماری میں ان کا ہاتھ تھاما تھا " ،،،، اباجی نے ہی بتایا ،، " جس دن تمہاری اماں کا آپریشن صبح ہونا تھا میَں ساری رات ہاسپٹل کے لان میں ، سجدہ ریز رہا ، کہ میرے اللہ ، میں بھی اور میری بیوی بھی اپنی ماؤں کی محبت نہیں پا سکے ، اب میرے ان نا سمجھ بچیوں کو ان کی ماں نصیب کر دے " ،،،، اماں جی کے بقول ، " مجھے تو اللہ نے تمہارے باپ کی وجہ سے زندگی دے دی " ،،، ڈاکٹرز نے اباجی سے سائن لینے کے وقت بتادیا تھا ، کیپٹن ظفر ( اس وقت اباجی کیپٹن تھے ) بچنے کا چانس صرف دو فیصد ہے ،،، اور جب آپریشن ہو گیا تو ڈاکٹر نے کہا اس حالت میں یہ 10 سال زندہ رہیں گی ، وہ بھی بہت خیال اور احتیاط کرنے سے، جبکہ اماں جی کو اللہ نے 19 سال تک کی زندگی دی ۔ اباجی نے اماں جی کی ہر طرح کی بیماری کو ہمیشہ سیریئس لیا ،، اور کبھی بھی ان کے منہ سے کوئ احسان یا اکتاہٹ کے جملے نہیں سنے ۔ الحمدُ للہ ! ۔
( اباجی کی بیسویں برسی پر انھیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتی تھی ، تاکہ اپنے اپنے والدین کی خوبیوں کو ہم یاد تو کریں صرف زبانی نہیں ، تحریری بھی، ، اور اپنا بھی جائزہ لیں کہ ہم کیسے والدین ہیں)۔
( جاری )
( منیرہ قریشی ، 8 نومبر 2018ء واہ کینٹ )

جمعرات، 11 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(77)۔

یادوں کی تتلیاں " (77)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی رحلت ہم بہنوں ، اور بھائی کے لیۓ  شدید اداسی کا باعث تھی کیوں کہ اماں جی کے بعد ،، " ایک گھر،ایک مرکز" ختم ہو گیا تھا ، ، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ گھر جس کے دروازے ، " ہر ایک کے لیۓ ، ہر وقت " کُھلے رہتے ہیں ، اماں جی کے بعد اباجی نے 22 سال یہ سلسلہ بخوبی نبھایا۔ ہم دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے ماں باپ کی توجہ کی وجہ سے اور اپنی بڑی بہن اور بھائی کی شفقت کی وجہ سے بھی،ایک کندھا لینے کی عادت سی پڑ ی تھی۔ہم دونوں بہنیں تو کچھ ذیادہ ہی "اَپ سٹ" تھیں ،،،لیکن میرے بچوں کا وقت اپنے " نانا " کے ساتھ سب سے ذیادہ گزرا ،، لہٰذا ان بچوں کی اُنسیت سب سے سَوا تھی ،، شروع کے دو ، تین ماہ سردیوں کے گزر رہے تھے، میں اور بچے رات کو کافی دیر تک ہیٹر کے گرد بیٹھے رہتے ، اباجی کی باتیں ، کچھ وہ کرتے، کچھ میں ،،،! اور یوں ایک دوسرے کے غم کو شیئر کرتے ، وقت گزر گیا ،،۔
،زندگی پہلے کب کسی کے جانے سے رکی ہے کہ آئندہ رُکے گی ، علی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا ، باقی دونوں بھی کالج میں مصروف ہو گئے،، میں بھی 8 ، 10دن بعد ہی سکول جانے لگی ۔ اور آہستہ آہستہ ، ہمارے جذبات ، اور مصروفیات ہمارے قابو آنے لگیں ۔ 1999ء کے سال کا درمیان میرے لیۓ مزید مصروفیت لے کر آیا ،،، بڑے بیٹے علی کی منگنی طے پا گئی ،، وہ ایک معزز پٹھان فیملی تھی ، جو ہماری ہی سٹریٹ کے ایک گھر میں رہ رہے تھے ،،، تھوڑی سی علیک سلیک ہوئی ، اور آپس کی کیمسٹری نے کام کر دکھایا،،، بلکہ اللہ کی طرف سے جو لکھا تھا وہ ہو کر رہتا ہے ،، اور بہت اچھے طریقے سے منگنی ہوئی ،،، اور پھر سال یکم جنوری 2000ء ہمارے گھر نئے افراد کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہوا ،، صائمہ ،، زیارت گُل خٹک صاحب کی بیٹی ، اپنے گھر میں سب سے چھوٹی ہےاور ہمارے گھر کی بڑی بہو بن گئی،، ! زیارت گُل خٹک صاحب اور اُن کی بیگم ،،، جنھیں ہم باجی گُل کہتے ہیں ،،، بہت وضع دار ،، اور رشتے نبھانے والے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ،، خود بخود عزت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ، وہ جب ملتے ، مجھے لگتا ، اپنے بڑے بھائی سے مل رہی ہوں ، ٹھیک گیارہ ماہ بعد اللہ پاک نے اس گھر میں ، ایک بہت پیاری بچی بھیجی ، جس کا نام اِن دونوں نے ملائکہ علی رکھا ، ! ! تو گویا اب میری یہ پوتی 17ویں سال میں لگ چُکی ہے ، اس کے 5 سال بعد اللہ کی مہر بانی سے ایک پوتا عطا ہوا محمد عمر علی ،، جو اب  سکستھ کلاس میں ہے !۔
اس دوران میری فیملی ، اباجی والے گھر میں ہی رہی ،، ! کیوں کہ ابھی میں اپنا گھر نہ بنا پائی تھی ،،، اور بھائی جان نے کہہ رکھا تھا کہ جب تک تم بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتیں ،، تب تک تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔۔ اور اُن کی یہ محبت ، یہ شفقت میرے لیۓ ناقابلِ فراموش ہے ،،،، ایسے بھائی بہت ہی کم ہوں گے ، جو اپنی بہنوں کے لیۓ ڈھال ، اور سنبھال بن جاتے ہوں ،، اور بھائی جان ایسے ہی بھائی ہیں ! اللہ  کے کرم سے صرف  ہم بہنوں کے لیۓ ہی نہیں ، بلکہ ہمارے بچوں کے لیۓ ،، اور اباجی کے بعد سارے خاندان کے لیۓ "سربراہ " بن گئے ہیں ،،، اگر ہم قبائلی انداز میں رہ رہے ہوتے ،تو یقیناً ، اباجی کے بعد بھائی جان کے سر پر خاندان کے سربراہ کی علامت "پگڑی "پہنائی جاتی ،،،،اس لیۓ کہ قریباً سارے خاندان میں کوئی دور کا رشتہ دار ہے ، یا نزدیک کا ، کوئی غریب ہے یا امیر ، یہ اُن کی خوشی غمی میں ضرور پہنچتے ہیں ،،، اباجی کی زندگی میں وہ اس طرح کی ذمہ داریوں کو کبھی کبھی نبھاتے تھے ، لیکن اُن کے بعد ان کے اندر کا " احساسِ ذمہ داری " ایسا جاگا ، کہ خاندان میں اُن سے بڑے کزنز موجود ہیں ، پھر بھی بہت سے خاندان اپنے گھر کے بگڑے فیصلوں کے لیۓ انھیں ہی بُلاتے ، انہی کی بات کو مانتے ہیں ، اور یوں بہت سے گھر اُجڑنے سے بھی بچے ہیں ،،، لیکن وہ ایک حد تک یہ میٹنگز کرتے اور کوشش کرتے ہیں ،، اب بھی اگر کوئی نہ مانے ، تو وہ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ کہ اب آپ کی اپنی سوچ اور فیصلہ ہو!! اپنی طرف سے وہ خاموشی سے جس کی مدد کرنی ہوتی ، بتاۓ بغیر کرتے ہیں ۔ اُن کی نیک فطرت بتدریج انھیں عزت دلا رہی ہے ، الحمدُللہ ، جب  کوئی اُن کی تعریف کرتا ہے تو میں سوچتی ہوں ، ایسی ہی  اولاد والدین کے لیۓ صدقۂ جاریہ ہوتی ہوں گی ،،، !!! ان شا اللہ ،، ہم بہنیں دل کی گہرائیوں سے ان کے لیۓ دعاگو  ہیں ،۔ کہ اللہ انھیں دنیا و آخرت میں سُرخرو کرے آمین ۔
اللہ پاک نے مجھے دو بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا ،،، بیٹی دونوں بیٹوں کامل علی ،، اور ہاشم سے چھوٹی ہے ،،، میں نے پہلے بھی ایک صفحے پر لکھا تھا کہ یہ میرے گھر اُس دکھ اور کرب کے دور میں آئی ، جب مجھے اس کی اُس وقت اہمیت کا احساس نہیں تھا ،، میں تو بس حیران تھی ، ایک نیا وجود دینے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے ! اور آہستہ آہستہ ، احساس ہوا کہ یہ میرے زخم پر مرہم بنا کر بھیجی گئی تھی ، اور جوں جوں وہ بڑی ہوئی ، وہ قدم قدم پر میرے لیۓ ایک" کُشن "بنی رہی ،، کیوں کہ میں کافی مزاج دار ہو چکی تھی ،، اورکبھی کبھی ذیارتی کی حد تک سخت ماں بن جاتی تھی ( اور ہوں ) ،،، !لیکن اس نے تعلیم کے میدان میں ، اخلاق کے لحاظ سے ، دین پر عمل کے لحاظ سے ،، مجھے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔ اور  اپنے پسندیدہ مضمون میں بی ایف اے کرلیا تو، ، الحمدُ للہ ،،، میٹرک سے ہی اس کے رشتے آنے لگے تھے ،، میں  اللہ تعالیٰ سے بار بار  صرف ایک دعا مانگتی تھی کہ " اس کی زندگی کا ساتھی نماز ، روزے کا پابند اور رزقِ حلال پر قناعت کرنے والا ہو " ، بس،، ! اور ایک غیرخاندان ، ایک معلوم فیملی کےتوسط سے آۓ تو ،،، ہم انھیں اور وہ ہمیں پسند آگئے، چند ملاقاتوں ،، استخارہ کے بعد میں نے، اپنے تمام فیملی ممبران سے مشورے کے بعد ہاں کردی ، میرا داماد کامران شریف، پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہے، جب مجھے علم ہوا کہ وہ نماز اور روزہ کا بہت پابند ہے ، تو مجھے بہت خوشی ہوئی ،، اور جب میں نے رشتہ قبول کرنے سے پہلے ، اس کے آفس سے بھی معلومات لیں کہ وہاں اس کا مزاج کیسا ہے ۔ جن صاحب سے پوچھا ، وہ کامران کے سینئر تھے " انھوں نے بتایا یہ چند ایمان دار ، افسران میں سے ایک ہے ، اگر میرے گھر آتے تو میں فوراً ہاں کرتا ! تب دونوں جانب سے تیاریاں ہوئیں،اور 4 جنوری 2003ء کو میری بیٹی بیاہ کر"اٹک"چلی گئی،۔
میری بیٹی ، نے اپنا شادی کا جوڑا ، سُرخ شلوار قمیض بنوایا ، اور وہ ناقابلِ یقین حد تک ، کم قیمت تھا ،، ( دراصل اس کے خیال میں ہر دُلہن شرارے وغیرہ کے بھاری جوڑوں میں نظر آتی ہے ، میں منفرد کیوں نا نظر آؤں ،، اور اتنے بھاری قیمتی جوڑاے اورصرف چند گھنٹوں کے لیۓ کیوں فضول خرچی کروں ) ،، اس کی پریکٹیکل سوچ کی مزید انتہا کہ کسی قسم کے " کام دھام والے جوڑے " نہیں بنواۓ ،، جو جوڑے کبھی کسی شادی ، کبھی عید پر بنے ،، وہ ہی اپنے ساتھ لے گئی ،، اس کے لیۓ کچھ زیور بنا ہوا تھا ، جو تھا، اس سے ذیادہ ایک انگوٹھی کی بھی "اور " فرمائش نہیں کی ! اللہ نے اسے بھرا ظرف عطا کیا ہے ،،، وہ آج بھی " بریینڈڈ کومپلیکس " کا شکار نہیں ، نہ اس میں وہ کسی قسم کے مقابلے میں رہتی ہے !! وہ جس خاندان میں گئی ہے وہ آپس میں خوب مضبوطی سے جُڑے ہوۓ ہیں ، اور پہلے سے ایک جیٹھ ، جیٹھانی ، اور ساس موجود تھیں ، دو شادی شدہ نندیں بھی اپنے گھروں میں شاد و آباد تھیں ،،، "کامران"دونوں بہنوں اور بھائی سے کافی چھوٹا تھا ۔ تب بعد کی ایک ملاقات میں کامران کی خوب صورت والدہ نے بتایا کہ جب اُن کے شوہر کی اچانک وفات ہوئی تو سب سے بڑی بیٹی 8ویں میں اور کامران ڈیڑھ سال کا تھا ،،، والد کا کنسٹرکشن کا کام تھا ، ایک گھر انہی دنوں بیچنے کے نکتۂ نظر سے بنوا رہے تھے کہ ہارٹ اٹیک سے ختم ہو گئے۔ پیسے کی کمی نہ تھی ، بچے بہت اچھے پڑھاۓ ،، اور بڑا بیٹا ڈاکٹر بنا ، اور کامران " کیڈٹ کالج حسن ابدال " سے پڑھ کر یو ۔ ای ۔ ٹی لاہور سے پڑھ کر جاب پر لگ گیا ،، اِن خوبصورت خاتون کو بھی گھر والے " گُل آپا " کہتے ہیں ! میری بیٹی انھیں بھا،، گئی ،،یا اپنی فراست سے انھوں نے اسے جانچ لیا ،،اوروہ نشل پر مکمل  اعتماد کرنے لگیں ، میں نے بھی اپنی بیٹی سے کہہ دیا " اپنے اس" اعتبار و اعتماد " کو کبھی ٹھیس نہ پہنچنے دینا ،،، دوسرے وہاں گھر میں سب ہی افراد تم سے کافی بڑے ہیں ،، ان کے آگے کبھی پلٹ کر جواب نہ دینا ، کہ چُپ کا روزہ نہ ہی ٹوٹے ، تو عزت ہے ! الحمدُ للہ ، آج اس کی شادی کو 15 سال ہو گۓ ہیں ، گُل آپا ، نشل کے گھر خوشی سے آتیں ، رہتیں ، اور خوشی سے جاتیں ہیں ،،، ان میں پرانی قدروں ، اور رسوم کو نبھانے کا حوصلہ بہ احسن ہے ! ۔
اللہ رحیم و کریم نے پہلے میری بیٹی کو ایک بچی حمنہٰ سے نوازا ، اور پھر پانچ سال بعد بیٹا محمد موسیٰ کامران عطا کیا ،،، اب میری نواسی بھی 14 سال کی ہوچُکی ہے ،، اللہ تعالیٰ نے اپنی کرم نوازیوں کا سلسلہ کہاں تک نہیں کیا ، میرے پاس الفاظ نہیں ،،،،،،،،!۔
اپنے دوسرے بیٹے ہاشم ( جو علی سے 5 سال چھوٹا اور نشل سے دو سال بڑا ہے ) کے ایم بی اے کرنے اور جاب کرنے کی ابتدا ہی تھی ، کہ میرے پاس اتنا سر مایہ جمع ہو گیا کہ گھر بنانے کا نہایت مشکل قدم اُٹھالیا۔ اور اس کی نگرانی اِسی کے سپرد کر دی۔
(منیرہ قریشی ، 11 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 7 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(76)۔

 یادوں کی تتلیاں " (76)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی خدمت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ تو کسی کی طرف سے ہو رہی تھی ، نہ کسی کوتاہی کو برداشت کیا جاتا تھا ،، اُن کی بیماری میں ، اباجی کی چھٹی حِس شاید تیز ہو گئی تھی ،،، کہ وہ بےدھیانی سے بعض ایسے جملے کہہ دیتے ، جس میں ان کی مضبوط ٹیلی پیتھی کا انداز ہ ہوتا ، ایک دن یکدم اُٹھ کر بیٹھے اور اپنے بہت ہی عزیز ترین دوست کرنل افضل کو آوازیں دیں ،،، اور پھر کہا " بھئ افضل کی فیملی آگئی ہے ، چاۓ تیار کرو "۔
ہم سمجھ گئےکہ کوئی خواب دیکھا ہے ، کیوں کہ افضل چاچا کو فوت ہوۓ اس وقت تک 18 سال ہو چکے تھے اور ان کی فیملی گجرات میں رہتی تھی۔ البتہ ان کی ایک شادی شدہ بیٹی وہیں واہ میں رہتی تھیں ، جن سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہتی ۔ اور حیرت ہوئی جب اگلے دن افضل چاچا جی کی بیوی ، بیٹی اور دو بیٹے ہمارے گھر آۓ ،،، اور ہم گھر والوں میں سے کسی کواُن کی آمد کا علم نہیں تھا ۔ کہ وہ اپنی بیٹی کی طرف ایک دن پہلے ہی پہنچیں تھیں ۔ 
اللہ کا شکر کیسے ادا کرتی ہوں کہ اباجی کو اِس بڑھاپے میں ، بیماری میں سب نے محبت کے ساتھ ان کی کیئر میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ،،، اور مزید شکر کہ اُس دو ڈھائی سال سکول ، بھی چلتا رہا ، اباجی کی شام کی ڈیوٹی بھی پوری ہوتی رہی ، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ ، الحمدُ للہ !!! اور اس سلسلے میں مجھے اپنے بچوں کو کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی ،،، اس لیۓ کہ وہ نیک فطرت تو ہیں ہی ،،لیکن میں سمجھتی تھی ،، والد میرے ہیں مجھے اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیۓ ،، اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آجاتا ،،، کیا پتہ یہ اس ذمہ داری کو بےدلی سے نبھائیں گے ، تو مجھے بُرا لگے گا ،، اس لیۓ میں نے انھیں کبھی زبردستی کسی کام کا نہ کہا ! تاکہ مجھے کوئی ناگوار جواب نہ سننا پڑجاۓ ! کہ جوانی میں کون بیمار اور بوڑھے مریض کے ساتھ خوش دلی سے وقت گزارنا پسند کرتا ہے،،، لیکن اللہ کا شکر اس دو ڈھائی سال کی سخت بیماری میں میرے بچوں نے بہت تعاون کیا ، اور میرے ساتھ ہر موقع پر ہاتھ بٹایا ۔ اباجی کی بیماری میں ضروری تھا کہ ایک کوئی " بڑا " ہر وقت گھر میں موجود رہے ،،، خاندان میں کوئی شادی ہوتی ، یا کوئی نرمی سستی یا کوئی فوتگی ہوتی تو میں گھر میں رہتی ،، کیوں کہ مجھے لگتا ، کہ میں اباجی کو ذیادہ بہتر طریق سے سنبھال سکتی ہوں ،،، یا میں ان کے مزاج کو زیادہ بہتر جانتی ہوں ،،،، ! اس باہر کی ذمہ داری کو آپا اور بڑے بھائی جان نے ہی نبھایا ،،۔ 
اباجی کی یادداشت کبھی کبھی ایک سپارک سا ہوتا ، اور بالکل ٹھیک بھی ہو جاتی لیکن ایسا موقع بہت ہی کم وقت کے لیۓ آتا ،،، ایک دن میں ان کو کھانا کھلا کر فارغ ہوئی ، اُٹھنے لگی تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،، اور ایسے مریض کی ہاتھ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے ،، میں نے ان کی طرف دیکھا ،، میرا خیال تھا ، کچھ اور کھانا چاہتے ہیں ،،، لیکن انھوں نے میرا ہاتھ پکڑے پنجابی میں یہ جملہ " تُوں تھک گئی ہوسیں " ،،، ( تم تھک گئی ہوگی ) ،،، میری آنکھوں میں آنسو آگۓ ، اور میں نے اباجی کا ہاتھ چوم کر کہا " اباجی ،، آپ 20 سال بھی اس حالت میں رہے تو میں خود سنبھالوں گی " ،،، ان کی آنکھوں کے کونے بھیگ گئے ،،، اور اس واقع کے بعد تو جیسے اباجی چُپ سے ہو گۓ ،، آپا اور رقیہ پھو پھی جی ،،، باقائدگی سے دن کی ڈیوٹی دے رہیں تھیں ، دوسرے دن بھائی جان معہ فیملی آۓ ، ملاقات ہوئی ،، لیکن اباجی مزید بےنیاز دکھائ دیۓ ،،، جیسے اب وہ جانے کو تیار بیٹھے تھے ۔ اورٹھیک تیسرے دن،، اس دن جمعہ تھا ، سکول سے واپس آکر نماز پڑھی ،، آپا اور پھوپھی جی اپنے گھر جا چکی تھیں،،، بچوں نے نماز پڑھ لی ،،، تو میں نے اباجی کو کھانا کھلانا ،، چاہا ،،لیکن انھوں نے سختی سے منع کر دیا ،، میں نے سوچا ، تھوڑی دیر بعد کوشش کرتی ہوں۔ اور 20 منٹ کے بعد دوبارہ درخواست کی کچھ کھا لیں ۔،، لیکن اباجی نے اس وقت """ میری طرف دیکھا ،،، لیکن انھوں نے میری طرف نہیں ، بلکہ میرے پیچھے کی طرف دیکھا ،، اُن کی آنکھوں میں حیرت سی تھی ،، لیکن صرف چند لمحے کے لیۓ ،، اور کہنے لگے ،، میں کچھ دیر بعد کھالوں گا "لیٹانے کا اشارہ کیا ، میں نے لیٹا دیا ،،، اور آپا اور پھوپھی جی کو فون کیا ، اباجی کی طبیعت صحیح نہیں لگ رہی ،، آپ کچھ دیر آرام کر کے پھر آجانا ، مجھے ان کی آنکھوں کی " عجیب سی اجنبیت " نے الرٹ کر دیا تھا ،،، کیوں کہ ایسی ہی حیرت ذدہ آنکھیں میرے بیٹے عمر رؤف کی آخری گھنٹے میں نظر آئیں تھیں ۔ آپا اور پھوپھی جی شام 4 بجے تک دوبارہ آگئیں ، میں نے بتایا ، انھوں نے ابھی تک کھانے سے انکار کیا ہوا ہے ، آپ انھیں شہد ملی چاۓ پلا دیں ،، ان کی کوشش سے شاید آدھی پیا لی پی لی ۔ لیکن پھر لیٹانے کا کہا ،، میں اِن دونوں کے آنے سے بے فکر ہوگئی اور کچھ دیر ریسٹ کرنے اپنے کمرے میں آگئی ، عصر پڑھ کر لیٹ گئی اور گہری نیند میں تھی کہ میری بیٹی نِشل نے بہت گھبرائی آواز میں جگایا " اماں اُٹھیں ، بڑے اباجی کو کچھ ہو گیا ہے " ،، لمحوں میں اُن کے کمرے میں گئی ۔لیکن وہاں ایک " باوقار ،، پُرسکون ،،، خوب صورت بوڑھا وجود " اپنے اصل کی طرف جا چکا تھا ،،،،، !۔
یہ 24 نومبر جمعہ کادن ، مغرب کا وقت تھا اور 1998ء کا سال !! اگلے دن تدفین کی گئی۔
یہ جو میں نے اباجی کی بیماری کی ایک ایک تفصیل بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس کی چند وجوہات ہیں ،، جو میں نے اپنی زندگی کے ان تجربات سے سیکھا ہے ،،،اسی کو شیئر کرنا چاہ رہی ہوں۔
؛ ۔ گھر کے بڑے اپنی زندگی کی شام گزار رہے ہوتے ہیں ،،، ان کی کافی عادات بھی فِکس ہو چکی ہوتی ہیں ،، نئی نسل اگر اکھٹے رہ رہی ہے تو انھیں ان کی عادات سمیت ، بہت نارمل انداز سے قبول کر لے ،،، کہ ان کے ساتھ منفی رویہ اپنانے کا نہ دین میں گنجائش ہے ،،، نہ دنیا کے کسی اخلاقی پیمانے میں ،،،،،،،،،،۔
؛۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ گھرانے جو مشترکہ خاندانی سسٹم سے رہ رہے ہوتے ہیں ،، بچے خودبخود ، بزرگوں سے کچھ نا کچھ سیکھتے ہیں، اور بزرگ یا مریض بھی اکیلا نہیں ہوتا ، ،،،،۔
؛۔ گھر کے بزرگ بیمار ہو جائیں تو ان کی ذمہ داری گھر کے سب بالغ لوگوں میں بانٹی جاۓ تو ، وہ بچے بہت کچھ سیکھتے چلے جاتے ہیں ،،،،،۔
؛۔ جب بھی گھر کے بزرگ بیمار ہوں ، اپنی توفیق کے مطابق ، اور ڈاکٹر کی ہدایات لے کر ، انھیں آسانیاں دینے کی کوشش کریں ،،،،،،،،،۔
؛۔ اس دوران اپنے رویۓ کو "روزانہ" کی بنیاد پر پرکھتے رہیں ،،کہیں خدمت کے دوران ہمارا لہجہ ،سخت یا اُکتایا ہوا تو نہیں ،،،،، ایسا ہرگز نہ ہونے دیں یہ ہی آزمائش کا وقت ہے ،، اور وقت کی سوئی " پِھر کر "واپس آتی ہے تو وہاں ہم بھی لیٹے ہوئے ہو سکتے ہیں ،،،،،۔
؛۔ مریض کے بستر ، اسکے جسم ، کپڑوں ، اور کمرے کی صفائی کا ازحد خیال رکھیں ،،، اس بات کا تعلق مالداری سے نہیں ،، ایک تو مریض بیمار ،، اور جب گندہ بھی ہو گا تو وہ مزید بیمار ہو گا ،،، اور عیادت کو آنے والے ناگوار تائثر لے کر جاتے ہیں ۔ ،،،،،،،
؛۔ اپنے مریض کواول تو محبت سے سنبھالیں ،،، کہ وہ چند دن ، چند سال کی محبت سے کی گئی خدمت ،، دراصل اللہ کی رضا کا باعث بن رہی ہوتی ہے ،،، ورنہ آپ نے صرف فرض سمجھ کر یہ عرصہ گزارا ،، تو اپ کا ضمیر آپ کو بےچین رکھے گا۔
؛۔ مریض کے کھانے میں اس کی خوشنودی کا ضرور خیال رکھیں ،،،،،،۔
؛،۔مریض کے پاس عیادت کے لیۓ آنے والے،اس کے رشتہ دار یا دوستوں کو اخلاق سے پیش آئیں کیوں کہ وہ سمجھ سب رہا ہوتا  ہےلیکن ،،بےبس ہوتا ہے ،،،اور یہ انتہائی سنگین بد اخلاقی ہوگی،کیا پتہ مریض کے دل سے کیسی دعائیں یا   بددعائیں نکل رہیں ہیں ، اسی کے مطابق آپ نے " مال " سمیٹنا ہے !!!۔
؛۔ اگر کسی کے گھر والدین میں سے ایک یا دونوں زندہ ہیں ،،،تو آج ، اورابھی سے قدر کر لیں ،، گلے شکوے اگر آپ کو ہیں تو انھیں بھی ہوں گے ۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں ، والدین کی خدمت آپ کا فرض ہے ، لڑکے کی بیوی کا نہیں ، اگر وہ کرے گی تو اخلاقی فرض نبھاۓ گی ! ! اسی طرح بیٹی کو بھی ماں نے اتنا ہی درد سہہ کر پیدا کیا ہے جتنا لڑکے کو ! اس لیۓ اگر وہ اپنے والدین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تو خود آ کر ان کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے ،،، اور اس سلسلے میں داماد کو چاہیۓ کہ اپنی بیوی کو لازماًاکثر بھیجے ،،،،،،،،،،۔ 
حدیثِ مبارکہﷺ ہے " خاک آلود ہوا اس کا چہرہ ،،، پھر فرمایاؑ " خاک آلود ہوا اُس کا چہرہ ،،، اور پھر تیسری مرتبہ فرمایا ؑ " خاک آلود ہوا اس کا چہرہ ،،،! صحابہء کرام نے بےچین ہو کر پوچھا " یا رسول اللہ ﷺکس کا ؟؟؟ 
فرمایاؑ "جس نے والدین یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت نہ کی " ۔
( منیرہ قریشی 7 جنوری 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

ہفتہ، 6 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(75)۔

یادوں کی تتلیاں "(75)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کا مکمل چیک اَپ واہ کینٹ کے پی او ایف ہاسپٹل میں بھی ہوتا تھا ، اور جب ضرورت پڑتی فوجیوں کے سی ایم ایچ سے بھی ! لیکن اس زمانے میں واہ کے ہسپتال کا حال ، احوال بہت بہتر تھا ،، اباجی اسی ہسپتال کو ترجیح دیتے تھے ، اُن کی یاداشت کے متاثر ہونے پر مکمل چیک اِپ کیا گیا تو ڈاکٹر شاہد سلیم جو کارڈیالوجسٹ بھی تھے ،،نے واضع کیا کہ یہ "پارکنسن" کے شکار ہوتے جا رہے ہیں ،، تب میں نے اس بیماری کی تفصیل پہلی مرتبہ سنی ۔ انھوں نے واضع کیا کہ مریض کی یاداشت بھی 
متاثر ہوتی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ ، چلنا پھرنا ، یا کھانا چبانا بھی بھولنے لگتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے اس طرح کہنے پر مجھے تو بالکل یقین نہیں آیا تھا ،، بےشک وہ 81 کے سال میں آ چکے تھے لیکن ،، باقی گھر کے اندر ان کا چلنا پھرنا ،، یا مہمانوں کو وقت دینا ، اخبار پڑھنا ، یہ تسلسل ٹوٹا نہیں تھا ،،، لیکن اباجی کی خاموشی بتدریج بڑھتی جا رہی تھی ،،، !۔
ذاتی ، ادارہ چلانا اچھا خاصا توجہ چاہتا ہے۔ چُھٹی ، بلکہ چُھٹیوں کا سوچنا بھی نا ممکن نظر آرہا تھا ، والدین کے بوڑھے ہونے پر صرف اولاد کی ہی آزمائش شروع نہیں ہوتی ، بلکہ خود بزرگوں کی آزمائش بھی شروع ہو جاتی ہے ،،، یہ آزمائشیں ،،،، ہوتیں چند سالوں کے لیۓ ،،، لیکن ہمارے حوصلے مہینوں اور کبھی کبھی "دِنوں " میں جواب دے جاتے ہیں ۔ اور ایسے ہی موقع پرکبھی تو اُس مہربان مالک الملک ، رحیم و کریم کی حیران کر دینے والا " کرم کا نظارہ " نظر آتا ہے اور کبھی ، "افسردہ "کر دینے والا نظارہ سامنے آجاتا ہے ۔ 
ہماری اماں جی تو " ڈھلتی عمر کی ابتدا " ہی میں چل بسیں ،، اور جیسا میں نے پہلے لکھا تھا کہ اباجی ، گھر میں کسی کی بیماری کو نارمل نہیں لیتے تھے ۔ حتیٰ کہ کسی بڑے ، یا بچے کو، گھر کے فرد کو یا ملازم کو ،،، کھانسی بھی لگتی تو ،،، دو تین قسم کی دوائیاں آجاتیں ، اور اپنے سامنے کھلائی جاتیں ،،، وہ کسی کی بھی بیماری سے نہیں ،،،،،، " دراصل جدائی سے خوفزدہ " تھے ! کیوں کہ ان کی ماں ان کی 6 برس کی عمر میں چل بسی، اور ایک پیاری ڈھائی سالہ بیٹی بھی نمونیا میں مبتلا ہو کر جُدا ہو گئی۔ پھر بیوی اور میرے ایک بچے نے انھیں " بیماری سے متعلق " حساس " بنا دیا تھا ، ، ، اماں جی کے ہوتے ہوۓ بھی وہ ان کی بیماری میں پریشانی کی انتہا پر ہوتے۔
اب جب وہ خود بیماری ،،، یا ،، لاچاری کی طرف جا رہے تھے تو ،، ابتدا میں ، سچی بات ہے اسے اتنا سیریس نہیں لیا ،، لیکن دو چار ہفتوں میں احساس ہوگیا ، کہ معاملہ ذیادہ توجہ چاہتا ہے ،،، کیوں کہ ایک رات کو وہ کمرے سے نکل ، ہاتھ میں چھڑی پکڑے بیرونی ، داخلی دروازہ کھول رہے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی ،،، میرا کمرہ اُن کے کمرے کے ساتھ ہی تھا ،، میں فوراً کاریڈور میں آئی تو اباجی باہر جانے والے تھے ، پوچھا " خیریت "؟ کہنے لگے " صبح ہو چکی ہے ، گیٹ کھولنے جا رہا ہوں ، میں نے انھیں کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دکھایا ، دیکھیں ابھی تو اندھیرا ہے " ، تب انھیں تسلی ہوئی اور جا کر لیٹ گئے ،،،، یہ الارمنگ حرکات تھیں ، اس دن کے بعد میں انہی کے کمرے میں سونے لگی ،،،، !۔
تب وہی دن تھے جب آپا ،،احسان بھائی جان ، اور میں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ کسی " میل " ہیلپر کو رکھا جاۓ ، دن تو سب کی موجودگی میں گزر جاتا ہے ، رات کو میں خود ان کے کمرے میں ہوتی ہوں لیکن باتھ روم لے جانا ، نہلانا ، ان کی مالش کرنا ، اور ایک خاص وقت کے لیۓ باہر بٹھانا ، واپس کمرے میں لانا ، یہ کام وہی کرواۓ ۔ فوری طور پر ایک ریٹائیرڈ حوالدار مل گیا ، جو کام کی تلاش میں بھی تھا ۔ وہ اونچا لمبا ، صحت مند بندہ تھا ، سارا وقت وہ باہر بر آمدے میں بیٹھا رہتا ، جب کسی وقت اس کی ضرورت ہوتی ، تو بُلا لیتے ،،، لیکن وہ صرف ایک ہفتہ رُکا ،،، کیوں کہ اسے جب کہا جاتا ،، یہ اب باتھ روم جانا چاہتے ہیں تو کہتا " جی یہ میرا کام نہیں ،، یا مجھے اس کی پریکٹس نہیں " ،،، اور اگر کہتے کہ اس وقت کوئی مہمان نہیں ،، چلو تم ان کی مالش کردو ،، تو بہت بےدلی سے آتا ، اور بےدلی سے بس تھوڑی دیر مالش کرتا ، اور واپس برآمدے میں جا کر بیٹھ جاتا ،،، بلکہ فوراً چاۓ کا آرڈر دیتا ،، اسی لیۓ ایک ھفتے بعد ہی اس کی چُھٹی کر دی ،،، اب یہ صورتِ حال ، آپا نے اور میں نے خود سنبھالی ،،طے یہ ہوا کہ ٹائمنگ سیٹ کر لی جائیں، تو ہم اپنے والد کی خدمت خود کریں گی۔صبح سویرے "شہناز ( ہماری بہت پرانی اور وفادار ملازمہ ) تو پہنچ ہی جاتی ہے، صبح 8 ، 9 کے درمیان آپا پہنچ جایا کریں ،،، اور اباجی کی دوا ، یا دوسری ضروریات کی نگرانی کریں ، اورمیں سکول چلی جایا کروں ، اور میرے سکول سے واپسی پر آپا واپس گھر چلی جایا کریں ، اور پھر میں جانوں ، اور میرا کام ،،! ہمارےبھائی جان اسلام آباد رہتے تھے ( اور ہیں) اور وہ فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر کینیڈین ایمبیسی میں بہت اچھی پوسٹ پر تھے ، ، اور وہ صبح 8 سے شام 5 کے پابند ِ جاب تھے ۔ وہ ویسے شام کو ایک چکر واہ کا لازماً  لگاتے لیکن اکثر انھیں بیرونِ ملک بھی جانا پڑتا ،،اور جوجی اگرچہ قریب ہی رہتی تھی لیکن اس کی جڑواں بیٹیاں ابھی بہت چھوٹی تھیں ، اس لیۓ ،، ہم نے اسے شامل ہی نہیں کیا !!! ۔
ہماری اس " خوشدل خدمت پارٹی" میں اباجی کی سب سے چھوٹی بہن ، یعنی ہماری رقیہ پھوپھی جی بھی بہ خوشی شامل ہو گئیں ، وہ اپنے بھائی کی محبت میں سر شار تھیں ،،ان کا گھر نزدیک تھا ، آرام سے پیدل یا عزیزالرحمٰن چاچا جی کے ساتھ ویسپا میں آجاتیں ،،،سبھی بچے شادی شدہ تھے ،، ایک بیٹی رابعہ مانو نے گھر اچھے سے سنبھالا ہوا تھا ، اس لیۓ وہ بےفکر ہو کر وقت دے سکتی تھیں۔پھوپھی جی کے آنے سے آپا کو بھی مزید مدد مل گئی اور گپ شپ کا ماحول بھی بن گیا ،،،، اس دوران ، مہمانوں کا سلسلہ ، تواتر سے چلتا رہتا ، اور کچن سے شہناز ، کی طرف سے کسی کو شکایت نہ ہوتی !!۔
ایک مرتبہ اباجی کی طبیعت ذیادہ بگڑ گئی ، ڈاکٹر شاہد سلیم ، کا ذکرِخیر کررہی ہوں ، کہ انتہائی مصروف ہونے کے باوجود ، جب میرا فون جاتا ، وہ لازماً آتے ، اچھی طرح معائنہ ہوتا ،،، وہ بہت شریف النفس ، اور ادب و احترام کے اوصاف سے مالا مال ہیں ،،، انھیں فون کیا ، وہ آۓ تو دیکھ کر کچھ ٹسٹ کرانے کا کہا ،، ٹسٹ رپورٹ اگلے دن آگئی ،، وہ خود ہی آۓ ، اور بتایا ،، ان کے گُردے فیل ہو رہے ہیں ،، اور عمر بھی 81، 82 ہو رہی ہے ،،، صورتِ حال ذیادہ خراب ہو سکتی ہے ،،، لیکن جو علاج ہاسپٹل میں ہو گا ، میں سبھی کچھ یہیں گھر میں لے آتا ہوں ، بس آپ لوگ دعا کریں ،،، میں نے پوچھا ، ہم اباجی کے لیۓ ایسا کیا کریں کہ کوئی بہتری ہو جاۓ ،، کہنے لگے ،، جتنا ہو سکے ابال کے ٹھنڈا کیا پانی پلاتے رہیں (اُن دنوں موسم ِبہار چل رہا تھا ) ،، انھوں نے دوائیں منگوا دیں ۔ اور اس دن میں نے خود ، ، میرے تینوں بچوں نے شہناز سمیت ، ڈیوٹی سنبھال لی کہ ، ایک نیم بےہوش مریض کو چمچ سے منہ میں پانی پلاتے رہیں ،،، یہ عمل اتنے تواتر سے انجام دیا گیا کہ دن رات میں کم ہی وقفہ ہوا ہو کہ پانی نہ پلایا جا رہا ہو ۔،تیسرے دن اباجی کے یورین کا رنگ نارمل ہونے لگا جو بالکل دہی کی طرح سفید ہو چکا تھا ،،، ڈاکٹر شاہد سلیم قریباً روزانہ چکر لگاتے تھے، انھوں نے یورین کے رنگ اور مزید ٹسٹ کے بعد کہا ،،،،، " اتنی اچھی نر سنگ " بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے ،،، یہ ہم خود ہی اپنے والدین کے لیۓ کر سکتے ہیں ، کوئی ہاسپٹل ،کوئی غیرایسی کیئر نہیں کر سکتا ،، پاکستان میں ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ اور( اگرچہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے) لیکن اس نے ہمیں شاباش بولا  دراصل وہ خود بھی ایک بہترین بیٹا ، شوہر اور باپ ہے ،، اور بہت اچھا ڈاکٹر بھی !!۔
اباجی بتدریج ٹھیک ہو گئے ،، کھانا پینا، اور چلنا پھرنا بھی نارمل ہو گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ان کی یاداشت کمزور ہونے لگی ۔ وہ نام بھول جاتے ، خاموشی ان کی طبعیت کا حصہ بننے لگی ،،، اور حیرت مجھے اس بات پر ہے کہ ، رات کو اکثر نارمل باتیں کرتے یا ذیادہ باتیں کرتے تھے ۔ چلنے کی عادت بھی بھولنے لگے ، جبکہ میں اور میرا بیٹا کامل علی ، اور پھوپھی جی روزانہ ان کے ٹانگوں کی مالش ایک خاص تیل سے کرتے ، اور آخر کار ، دو تین ماہ بعدایک شام اچانک اباجی اُٹھ کھڑے ہوۓ ، اس وقت اتفاق سے میں اور تینوں بچے کمرے میں موجود تھے،وہ کھڑے ہوۓ اور باتھ روم کی طرف خود ہی چلنے لگے ،،، یہ منظر ہم سب کے لیۓ اتنی خوشی اور ہیجانی کیفیت کا تھا کہ ہم سب بےاختیار تالیاں بجانے لگے ،،، میری تو آنکھوں میں آنسو آگئے ،، بیٹی نِشل نے اپنی دونوں خالاؤں کو فون کرنا شروع کر دیا اور اباجی مسکرا کر کہنے لگے ،،،" کیوں بھئ ، میں چل نہیں سکتا ،، ! ؟"۔
اباجی کی خرابیء صحت کی اونچ نیچ سات آٹھ مہینے رہی ،،، پھر جب چلنا شروع کیا تو مسلسل چار ، پانچ ماہ خوب صحیح رہے ،، مالش اب دوسرے ، تیسرے دن ہوتی ،،، لیکن جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو دوا میں شفا آ جاتی ہے ورنہ وہی دوا بےاثر ہونے لگتی ہے ،،، اور پانچ ماہ بعد پھر ، چلنا بند اور یاداشت ختم ہونے کی کیفیت میں آنے لگے ،،، میرے دونوں چھوٹے بچے فسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر میں تھے ، جبکہ علی ایم بی اے کے آخری سال میں تھا ،، چھوٹے دونوں کالج سے آکر کچھ دیر تک ضرور اباجی کے پاس بیٹھتے ،، ان دنوں جب اباجی چل نہ سکتے تھے تو پلنگ پر صرف ایک طرف منہ کر کےبیٹھتے تھے ،، اور چونکہ کمرے کا رنگ آف وائٹ تھا اور الماریاں ، بالکل سفید پینٹ میں تھیں ،،، تو اباجی ، چند دن سے اکثر کہتے ، " ہم ہسپتال میں ہیں ؟ " ،،، میں یا بچے بتاتے ،" یہ آپ کا کمرہ ہے " !۔
لیکن چند دن بعد ہی نشل کو احساس ہو گیا کہ کمرے کی بےرنگی انھیں ہسپتال کا احساس دلارہی ہے ،، اس نے اپنے کمرے سے رنگارنگ ربن لا کر ان کی الماریوں کے ہینڈل سے لٹکا دیۓ ، شاید یہ ہی رنگینی ان کو خوش گوار احساس دے ،،، یہ دونوں چھوٹے ، کالج سے آکر انھیں اخبار پڑھ کر سناتے ،، اور اباجی کو خاموشی کی دنیا سے آوازوں اور اہم خبروں سے " اِن ٹچ " رکھتے ،،، سردیوں میں اباجی کو باہر دھوپ میں میں لانا ، واپس کمرے میں پہنچانا ، ، انہی کی ذمہ داری تھی ۔نِشل اکثر ان کے ہاتھ میں تسبیح پکڑا دیتی اور ، اللہ کے نام ،، یا آیت کریمہ کا ورد ، دہراتی ، تاکہ انھیں یاد آجاۓ ۔ 
لیکن علی جو عادتاً تیزیوں میں رہتا ، ، جوانی کی ترنگ میں، اپنی مرضی سے وقت گزارنا پسند کرتا تھا،،، لیکن اباجی ، جو بہت بزرگ اور مریض تھے ، یکدم ،، اللہ نے اُس کے دل میں ان کے لیۓ محبت اور کیئر ڈال دی ،، اور ایسی ڈالی کہ جیسے اُس کے نانا اسی کی ذمہ داری ہوں ،،، وہی انھیں رات کا کھانا خودکھلاتا ، اُن کی شیو کرنا ، سَر کے بالوں کی کٹنگ ، انھیں نہلانا ، ، تمام جسمانی صفائی سُتھرائی کا خیال کرنا ،،، اور اگر وہ دوا کھانے سے انکار کرتے تو ، وہی انھیں لاڈ پیار کر کر کے دوا کھلاتا ، ، ، یہ سب میں دیکھتی ،،، اور رات کو اُنہی کے کمرے میں سوتے وقت انھیں دیکھتی تو سوچتی ، اباجی کتنے خوش قسمت ہیں ، زندگی بھی عزت سے گزاری، اور اب بڑھاپے میں بھی اپنی اولادوں کے جھرمٹ میں ، "ہتھیلی کا چھالا " بنے زندگی کے آخری دور کو گزار رہے ہیں۔
سردیاں چل رہیں تھیں ،، اس دوران ، علی کے ایک جگری دوست کی شادی آگئی ،،، دونوں بھائی اس شادی کے ہنگاموں کو انجواۓ کرنے جاتے لیکن رات کو واپس آجاتے ، لیکن ایک رات بارات کی وجہ سے وہ وہیں رُک گیا ،، اور اباجی کی دوا کا وقت ہوا تو انھوں نے دوا لینے سے انکار کیا اور کہنے لگے " وہ کہاں ہے ،، میں بار بار پوچھتی ،،کون ؟ لیکن وہ بار بار پوچھنے پر یہ ہی کہتے وہ کہاں ہے جو مجھے گال پر پیار کرتا ہے " ،،، میں سمجھ گئی کہ علی کو یاد کیا جارہا ہے وہ جب اباجی کو مناتا تو وہ ان کے گال پر پیار کرتا ،، تب اباجی ، ہنس پڑتے ،،، جیسے اندر سے وہ یہ لاڈ پیار چاہتے تھے۔ 
اسی بیماری کے دوران ، ایک دفعہ رات دو ڈھائی بجے اباجی اُٹھ جاتے ، اور پوچھتے صبح ہوگئی ہے " ؟؟ میں بتا دیتی ، نہیں ابھی تو آدھی رات ہے !!!۔
وہ مزید دو تین بار پوچھتے ،،، اگلی رات بھی یہی وقت ہوا تو اباجی یہ ہی پوچھتے ،،، لیکن بتا نہ پاتے کہ صبح کاکیوں پوچھ رہے ہیں ،،، جب تیسری رات بھی قریباً اُسی وقت جاگ گئے اور یہ ہی سوال پوچھا تو یکدم ،،، مجھے خیال آیا ،،، کہ انھیں بھوک لگی ہو گی ، تو وہ سوچ رہے ہوں گے ، صبح ہو تو کچن سے کچھ لا سکے گی ،،،، میں فورا" کچن گئی اور ان کی پسندیدہ چیز گرم کر کے لے آئی ،،، یعنی شہد ملا دودھ ، اور رَس ،،، انھوں نے کھایا اور پُرسکون ہو کر سو گۓ ،،، مجھے اپنے اوپر سخت غصہ اور افسوس ہوا کہ ان کی کچھ مطالبہ نہ کر سکنے کی حالت میں ،،، مجھے اس بات کی طرف خیال کیوں نہ آیا ،،،،، اور اس دن کے بعد ان کی ہر بات کا ہر پہلو سے اندازہ کیا جاتا ،، کہ یہ کیوں با ر بار ایک بات کو دہرا رہے ہیں۔ 
اباجی ، صرف اولاد کے ہی لاڈلے نہ تھے ، بلکہ اپنے تمام کزنز ، اپنی دو بہنوں اور بہنویوں ، اپنے بہت سے رشتہ داروں میں ہر دل عزیز تھے ، اس لیۓ خاندان کا شاید ہی کوئی بندہ ہو گا جس نے دو، چار دفعہ وزٹ نہ کیا ہو ، اور اس طرح یہ آخری دو ، سال ، کی بیماری میں جیسے ہمارے گھر مہمانوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا ،،، یہ ان سے محبت کا اور ان کی ذات سے پہنچنے والی آسانیوں کا انداز بھی تھا۔ 
( منیرہ قریشی ، 6 دسمبر 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعہ، 5 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(74)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 74)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی طبیعت 1996ء سے خراب رہنے لگی انھیں نہ بلڈ پریشر تھا اور نہ شوگر ،، البتہ یورک ایسڈ کا مسئلہ رہتا تھا ،، باقی وہ نہ تو کھانے پینے کے شوقین تھے،، نہ سُست تھے، وہ بڑھاپے میں بھی ایک خوبصورت انسان رہے ،، موٹاپا ان پر کبھی نہ آیا۔ جوں ہی وہ 80 سال کے ہوۓ ، وہ کچھ سُست ہو گئے تھے ،، چلتے وقت کچھ لڑکھڑا جاتے ، چھڑی پکڑنے پر آمادہ نہ ہوتے ،،، لیکن بھائی جان کے کہنے پر لیۓ رہتے ،،، انھوں نے زندگی میں ایک بدپرہیزی کی ،،، وہ تھی سگریٹ !! اور جب 75سال کے ہوۓ تو ایک دفعہ انھیں سانس کا سخت اٹیک ہوا ،،، ڈاکٹرز اکثر میل ملاقات والے ،،، یا اباجی کے عقیدت مند ہوتے ، جو گھر آکر بھی چیک کرتے ،،، دو میڈیکل سپیشلسٹ نے یہی کہا " اب نہیں تو کب ؟ بس اب سگریٹ چھوڑنا ہو گا " ،،، تب اباجی نے بات مان لی اور سگریٹ یکدم چھوڑ دیا ،، ! اور اس سے یہ ہوا کہ ان کی کھانسی کافی کم ہو گئی ۔ اباجی کی زندگی میں ، چند اچھی عادات ایسی تھیں ، جس کی عادت ہم سب بہن بھائی ، اور ہمارے بچوں میں بھی ہیں ،، وہ تھی سلاد وافر کھانے کی عادت،اباجی سلاد کے بغیر دوپہر کے کھانے کا تصور نہیں کرتے تھے ،، دوسرے ان کا آرڈر ہوتا کہ مٹن جب بھی پکے گا سبزی کے اندر ، اور شوربہ والا پکے ،، بھلے ساتھ دوسرا سالن جو مرضی بنے ! الحمدُ للہ ،، ہمارے والدین کے گھر کے افراد کم اور ملازمین ، یا مہمان اتنے ہوتے کہ روزانہ کا یہ ہی معمول تھا ،۔،، سلاد کھانے کے شوق کے علاوہ ، چاۓ کی آفر پر کبھی انکار نہ کرتے ، ، ، واہ فیکٹری سے ریٹائر منٹ کے بعد ان کے معمولات یہ تھے ،، صبح کی چاۓ خود بنانی ، اور دونوں میاں بیوی چاۓ بھی پیتے اور باتوں کے ساتھ ساتھ اباجی بیرونی گیٹ اور دروازے کھولنے چلے جاتے ،،، اماں جی کا ایک پھیرا پچھلے لان کا ہوتا ، جو جانوروں کی دنیا کا احوال جاننے کے لیۓ ہوتا ،، یعنی ہماری بھوری بھینس ، اور اسکے بچھڑے کا حال دیکھنا ،، انھیں پیار سے منہ پر ہاتھ پھیرنا ،، چند مرغیوں ، اور چند بطخوں کو کھانا ڈالنا ،، اور اگر بھینس کا رکھوالا پہنچ چکا ہوتا تو اس سے بات چیت کر کے اندر آجانا ،، لیکن اماں جی کا یہ معمول اُن کی صحت پر مبنی ہوتا ، جب کہ اباجی کا گرمی سردی یہی معمول ہوتا ،،، گیٹ کھولنے تک " دو تین اخبار آچکے ہوتے اور اب وہ دو گھنٹے کے لیۓ مصروف ہو جاتے ، ہم نے اباجی کی صبح ایسی ہی دیکھیں ۔ دوپہر سے پہلے پہلے میرے پھوپھا جی جو ہمارے گھر سے قریب رہتے تھے ( اور وہ اباجی کے چچا ذاد بھی تھے ) آجاتے دونوں اپنی مرضی کا پروگرام بناتے ، وہ اپنے ویسپا پر آتے ، اباجی پیچھے بیٹھتے اور دونوں حضرات ، نہ صرف گھر کی سلاد ، سبزی ، گوشت وغیرہ لے آتے ،، بلکہ واپسی پر میری اپنی پھوپھی جی کے گھر پہنچ کر چاۓ پی جاتی ، ،،اور پھر گھر آجاتے ،، دوپہر کا ہلکا پھلکا کھانا کھاتے ، اور قیلولہ ضرور کر لیتے ،، اباجی کی دوچچا ذاد بہنیں معہ اپنے "گروئینگ " ہوتے بچوں کے ساتھ رہتیں تھیں ،، وہ دونوں بیوہ ہوچکی تھیں ،، ہر دوسرے ، تیسرے دن اِن دونوں کزنز کا پھیرا ، اُن کے گھر لگتا ،،، اول تو وہ اپنے سب کام خود نبٹاتیں تھیں ،، لیکن اگر اباجی، اورچاچاجی ( اپنے پھوپھا جی کو ہم چاچاجی کہتی تھیں ) اُن کے گھر جاتے اور کسی کام کا مسئلہ ہو تو پوچھتے۔تو وہ بہت ہی خوش ہوتیں ،،، بعد میں عرصہ بعد وہ دونوں ایک محفل میں ملیں تو انھوں نے کھلے دل سے اپنے ان دونوں بزرگ کزن بھائیوں کا ذکر بہت دعاؤں سے کیا کہ " اِن کے آنے جانے سے ہمیں بہت حوصلہ ہوتا کہ اس گھر میں مردوں کے آمد ہے ، اس طرح ہمارا بھی آس پاس رعب پڑا رہتا ہے کہ یہ گھر صرف عورتوں ، یا بچوں والا ہی نہیں ۔
اباجی ،کو گھر کے سودا سلف لانے کی عادت بالکل نہیں تھی ، ظاہر ہے ایک از حد مصروف فوجی زندگی نے انھیں ایسی مصروفیات سے دور رکھا ، دوسرے اماں جی جو اپنے شوہر کی عاشق تھیں ، انھوں نے گھر کے ہر طرح کے محاذ سے اباجی کو بے فکر رکھا، یہ ہی وجہ تھی کہ جب ، مکمل ریٹائرڈ زندگی شروع ہوئی تو وہ چاچاجی عزیزالرحمٰن کےساتھ اس طرح پھرنا پسند کرتے ،، اُن کی صبح کی مصروفیت بھی ہو جاتی ، اوراسطرح خریداری کے انداز بھی سیکھتے رہے ،، دکانداروں سے واقفیت بھی ہونے لگی ، ، ، بنیادی طور پر اباجی ، چالاک نہیں تھے ( یہ حقیقت ہے ، میں صرف اپنے والد ہونے کی وجہ سے نہیں لکھ رہی ) ،، انھیں کوئی بھی بے چارہ بن کر ٹھگ لیتا تھا ،، اور اپنی بےکار چیز بِکوا لیتا ۔ لیکن انھیں اس پر کبھی غصہ نہ آتا ۔ خیر اُن کے لیۓ نہایت احترام کا جذبہ رکھنے والے ، اُن کے مختلف کزنز ، آتے ، محفلیں جمتیں ،،، چاۓ ، یا کھانے کے اوقات کے مطابق میزیں سجتیں ،، میں ان محافل میں دو قدم پیچھے رہ کر سب دیکھتی ، کوئی نا کوئی نئ ڈش بنا کر ساتھ رکھتی ، تو اباجی مزید نہال ہو جاتے ، لیکن میں ان محفلوں سے ،، غیرمحسوس طور سے بہت کچھ سیکھتی رہی ! ۔
۔( میں یہ لکھ رہی ہوں اور میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں کہ آج میں یہ ہی سب کچھ چاہتی ہوں ، اوریہ ہی کر رہی ہوں ) اباجی کے پاس معلومات کا خزانہ تھا ، وہ ذیادہ تر خاموش رہتے ، بہت باتونی نہیں تھے ، لیکن جب کوئی آجاتا ،، تو وہ اس آنے والے کے" کیلیبر " کے مطابق اس سے باتیں کر لیتے، خاص طور پر جب ان کے عقیدت مند کزنز آتے تو اباجی خوب خوش ہوتے ۔ ان کے ایک چچا ذاد بھائی حمید چاچا تھے ،، وہ ذہنی طور پر کچھ بہت مضبوط نہ تھے ، انتہائی سادہ ،، کہ ہر کوئی ان کو ہلکا لیتا ،، وہ جیسے تیسے ، ایک فیکٹری میں کلرک کی پکی نوکری پر لگے ہوۓ تھے ، جب ہمارے ملک میں اتوار کی چُھٹی ہوتی تو پکی  بات تھی کہ حمید چاچا جی ، عین گیارہ بجے آئیں گے،،، اوراگر جمعہ کی چُھٹی کا آرڈر چل رہا ہوتا تو عین 11 بجے دوپہر کو چاچا جی بغیر دروازہ کھٹکھٹاۓ ہمارے گھر آتے ،،اور کاریڈور سے سیدھے پچھلے بر آمدے میں آپہنچتے ،، آتے ہی جو سامنے ہوتا ، پوچھتے ،،" بیٹا ، بھائی جان کہاں ہیں ؟؟ ۔ اور اگر اباجی سامنے بیٹھے مل جاتے ، تو سلام کے بعد کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ جاتے ، وہ ایسا مؤدب انداز اختیار کیۓ رہتے جیسے کوئی اپنے مُرشد کے آگے بیٹھا ہے ، اُن کے پاس کسی بھی قسم کی باتوں کا موضوع نہ ہوتا ،،، جو اباجی پوچھتے ، بس وہ اُسی بات کا جواب دیتے ،، اباجی چاۓ کا پوچھتے ، وہ انکار کر دیتے ،، لیکن کبھی کبھار اباجی زبردستی پلاتے ،، پیالی پکڑتے ، تو اُن کے ہاتھ مسلسل کانپتے رہتے ! اباجی ، ان کے ساتھ بہت نرم طریقے سے بولتے ،، کچھ سمجھاتے بھی رہتے ، کیوں کہ اپنے گھر اور نوکری پر توجہ دیا کرو وغیرہ ،،، وہ جی اچھا ،، جی بھائی جان ،، کہتے جاتے ،، دونوں کزنز کبھی کسی واقع کو یاد کرتے تو ان کی ہنسئ بھی کچھ عجیب سی نکلتی ،، اور کچھ دیر اور بیٹھ کر وہ ٹھیک 12 یا ساڑھے بارہ اُٹھ جاتے ،،اُنھیں کتنا بھی روکا جاتا ،، وہ کبھی بھی کھانے پر نہ رُکتے ،،، یہ معمول اتنا رٹا رٹایا چلتا کہ کسی چُٹھی کو وہ نہ آسکتے تو سب ہی ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ،،، گویا اس ایک گھنٹے والی " ایپیسوڈ " کے بچے، بڑے سب عادی ہو چکے تھے ،،، ایک دن حمید چاچا بہت اہمیت والی شکل کے ساتھ سیدھے پچھلے برآمدے میں پہنچے تب ، انھوں نے محض عادتاًملازمہ سے پوچھا " بھائی جان کدھر ہیں ؟ " حالانکہ اباجی سامنے ہی دھوپ سینک رہے تھے ، انھوں نے اس دن سلام بھی نہ کیا اور کہا " مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے "! اباجی نے کہا " ہاں بتاؤ کیا کام ہے " کہنے لگے نہیں یہاں نہیں ، آپ اپنے کمرے میں چلیں ! اباجی نے کہا ٹھیک ہے ذرا میں اپنا سلاد ختم کر لوں ،،، تب تک وہ نہایت صبر سے بیٹھے رہے۔ جب اباجی انھیں لے کر کمرے میں آۓ تو انھوں نے نہایت رازدارانہ انداز سے کہا " بھائ جان ، مجھے محسوس ہوا ہے کہ آپ کا گزارا بہت مشکل سے ہو رہا ، میں نے بیوی سے چُھپ کر کمیٹی ڈال رکھی تھی ، اب یہ کمیٹی نکل آئی ہے میں 8 ہزار روپے آپ کے لیۓ لایا ہوں ،، آپ لیں گے تو مجھے بہٹ خوشی ہو گی ۔ بلکہ آپ کو لینا پڑیں گے !!!۔
اباجی ،،، نے کچھ دیر سوچا ، اور کہا ٹھیک ہے حمید ، رکھ جاؤ " ،،، اُن کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ باہر صحن میں آکر بھی پھیلی رہی ۔ وہ کچھ دیر ہی بیٹھے ، اور چلے گئے،،، اُن کے جانے کے بعد اباجی نے سارا واقع سنایا ، تو اُن کی آنکھیں نم ہو گئیں ،، کہنے لگے ،،، اپنے سارے خاندان میں انھیں کوئی اہمیت نہیں دیتا ،،، اسے محض میری توجہ ، نے یہ سُجھایا کہ شاید بھائ جان ریٹائر ہوچکے ہیں تو انھیں پیسے کی ضرورت نہ ہو ! تو یہ اُس نے اپنی سمجھ کے مطابق میرا" خیال " کیا ہے " ،،، چاچا جی اگلے دو ہفتےمزید آۓ ،، اباجی کا کہنا تھا کہ وہ جذباتی لمحوں سے نکلے گا تب امانت واپس کروں گا تو اسے بُرا نہیں لگے گا " وہی ہوا تیسرے اتوار کو چاچا جی آۓ تو اباجی نے انھیں کہا " حمید ، میرا ایک ضروری کام ہے ، ذرا میرے کمرے میں آؤ ،،، وہ تابعداری کے انداز میں پیچھے چلتے ہوۓ گئے" تب اباجی اسی رازدارانہ طریقے سے کہا ، " مجھے پیسے جس کام کے لیۓ چاہیۓ تھے ، وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے " سوچا جب مسئلہ ہی نہیں رہا ، تو حمید کو اپنے بچوں کے لیۓ ضرورت ہوگی ، یہ اپنی امانت لو ، اور سیدھے لے جا کر بیوی کو جا کر دو " ،، انھوں نے مسکراکر ، کہا ، جی اچھا ! اباجی ، دراصل اپنی طرف سے"جس کا جس وقت بھی ، جس حد تک جائز کام ہوتا" ،،، اپنے رشتہ دار ،یا ملنے والے کو اپنی وسائل سے فائدہ پہنچاتے رہے تھے ،،، لیکن " اِن کو ایکنالج " کوئی کوئی کرتا  ،،، !جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا ،، اباجی کی یادداشت متاثر ہوتی جا رہی تھی ، اور اسی بنیاد پر اُن کا علاج ہو رہا تھا ،،، !۔
( منیرہ قریشی ، 5 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)