اتوار، 31 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(69)

"یادوں کی تتلیاں" (69)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اسکول کی شروعات میں کچھ واقعات ایسے تھے ، جو کبھی پریشان اور کبھی حیران کر دیتے ،،، کیوں کہ جب خواتین اپنے آپ کو بہادر سمجھنے لگتی ہیں ، تو شاید اُنہی کی ٹریننگ ہونے لگتی ہے کہ جب پریشان کر دینے والا کوئی واقع آجاتا ہے ۔ 
ابھی ہمارا سکول جماعت ششم تک ہی  تھا ،،، سبھی جماعتوں کے ایک یا دو سیکشنز تھے،،، فوجی حضرات کی ٹرانسفر ہوتی تو وہ اپنے بچوں کے لیۓ ہمارے سکول کو ترجیح دیتے ،،، ایک دن سکول کی چھُٹی کے بعد میں اپنے معمول کے کام نبٹا رہی تھی ، سارا سکول خالی ہو چکا تھا سواۓ " آیا اور چوکیدار " کے ،،، میرے آفس کا دروازہ کُھلا اور فوجی یونیفارم میں ایک 40 ، 41 سا ل کا جوان سا افسر اندر آیا ،،، اُس نے اس طرح کلام کیا " السلامُ علیکم ،، کہاں ہے آپ کی " فلاں " ٹیچر ؟ میں تو اس کے چیر کر چار ٹکڑے کر دوں گا ، وہ ہوتی کون ہے میری بیٹی کو ہاتھ لگانے والی ، اس نے جراؑت کیسے کی میری بیٹی کو مارے !! " میں ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی اور اُس کے الفاظ نے تو جیسے میرے سَر کو بَھک سے اُڑا دیا تھا ،،،،۔
میں نے اسے کہا " کیا آپ آرام سے بیٹھ کر بتائیں گے کہ کیا ہوا ہے ! تب ہی مجھے علم ہوگا " ،،، جناب نے فرمایا میری بیٹی کی ٹیچر نے اسے سٹک سے مارا ہے " ،، ہماری وہ ٹیچر بہت پڑھی لکھی اور اچھی ٹیچر تھی اور اتفاق سے سکول کے نزدیک ہی رہتی تھی ، میں نے کہا" میں اپنی ٹیچر کو بُلواتی ہوں ، آپ اپنی بچی کو لے آئیں ،،، پھر جو ہو ، سامنے آجاۓ گا ،،، کیوں کہ میں نے جسمانی سزا پر پابندی لگا رکھی تھی ، اور وہ ٹیچر ویسے بھی مار کی بالکل قائل نہیں تھی ،،،،،،،،، خیر فون کیا تو ٹیچر 5 منٹ میں آگئی اور دوسری طرف آرمی آفیسر ، معہ اپنی بیگم اور بچی کے آگۓ !۔
اس سے پہلے کہ آرمی آفیسر کچھ بولے ، میَں نے کہا آپ کچھ نہیں بولیں گے ، پہلے ٹیچر کو مجھے پوچھنے دیں ،، میں نے پوچھا کیا آج اِس بچی کو مار پڑی ہے؟ اگر مارا گیا ہے تو کس چھڑی سے ، اور کس وجہ سے؟ ،،،، میرے سوالوں پر ٹیچر نے کہا " مجھے بچی سے سوال کرنے دیں ، ٹیچر نے پوچھا " بیٹا میں نے آپ کو جسم کے کس حصے پر سٹک ماری ؟ اور وہ سٹک کتنی بڑی تھی ؟؟؟؟
جواباً بچی چُپ ، ٹیچر نے دوبارہ پوچھا ،، بچی پھر بھی چُپ ، میں نے کہا "جب تک آپ جواب نہیں دیں گی آپ یہیں کھڑی رہیں گے !" تب بچی نے ہلکی اور شرمندہ آواز میں فرمایا " سٹک نہیں ماری ،، بس اِن کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ میں نے ابو سے کہا کہ مجھے مار پڑی ہے !! " بچی کی نظریں تو نیچی تھیں ہی ،،، اب اباجان کی نظریں بھی نیچی ہو گئیں ،،،،یہ سب تو صوفے پر بیٹھے تھے صرف بچی کھڑی تھی ،،، میں نے آفیسر سے کہا " کھڑے ہو جائیں ،،، اور نہ صرف مجھ سے بلکہ ٹیچر سے معافی مانگیں ،، اور اگر مجھے آپ کی بیگم کا خیال نہ ہوتا تو میں آپ کے کمانڈنگ افسر کو یہ سارا واقعہ اور آپ کے الفاظ لکھ کر بھیج دیتی ، تو آپ کی رپورٹ میں ہمیشہ کے لیۓ یہ خرابی آجاتی ،،، تب اُس نے مجھ سے اور ٹیچر سے معافی مانگی ، ، ، اور بیٹی کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا کہ مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا ! ،،، بچی کو باہر انتظار کا کہہ کر اُن میاں بیوی سے کہا " اپنے بچے ہر ایک کو اچھے لگتے ہیں ، ، لیکن اُن کی اچھی تربیت کرنا بھی ہمارا ہی کام ہے ،،، آپ کی بچی کتنی بھی لاڈلی سہی ،، کیا شادی کے بعد آپ ساتھ جائیں گے ؟ کہ کہیں اس کی ساس یا نند یا شوہر کوئی ذرا سا بھی ٹیڑھا بولیں ،، تو ہم انھیں " چیر کر رکھ دیں " ،،، بچوں کو اتنا بھی پروٹیکٹ نہ کریں کہ وہ آپ کی محبت کو کیش کروانے لگیں ،،، دوسرے یہ کہ جب آپ افسر بن رہے ہوتے ہیں ، تو آپ کی ٹریننگ میں ایک بات یہ بھی سکھائی جاتی ہے کہ " ہر عورت کا احترام کرنا ہے ، اور یہاں تو ٹیچر ہے ،،، جس کا ادب تو گھروں سے ہی سکھا دیا جاتا ،کجا یہ کہ آرمی کے ماحول میں اس بات کا مزید خیال رکھا جاتا ہے " ؟؟؟ آپ کے ٹیچر سے متعلق الفاظ مجھے زندگی بھر نہیں بھولیں گے ! آپ کی بےجا محبت دراصل بچی کے راستے میں کانٹے بو رہی ہے " وغیرہ ، شاید میں نے اسے بہت کچھ اور بھی کہا ہو گا ، لیکن جو یاد رہے وہ یہ الفاظ ضرور تھے ، ، اب تو محترم کی نظریں اوپر نہیں ہو رہیں تھی ، انھیں جانے کا کہا ، وہ تو اُٹھ کر باہر چلا گیا ،،، بیگم وہیں بیٹھی رہیں ،، اور جو میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ جب آفیسر بچی کو لینے گیا اور ساتھ بیگم ساتھ تھیں تو آفس میں داخلے کے وقت بیگم ، اپنے شوہر اور بچی کے پیچھے تھیں اور انھوں نے مسلسل اپنے ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑے ہوۓ تھے اور جب بچی کا جھوٹ پکڑا گیا تو وہ مسلسل روتی رہی ،،، شوہر کے جانے کے بعد اس نے کہا " آپ کا بہت شکریہ کہ اِسے بھی کسی نے نصیحتیں کی ہیں ورنہ اس کے اِسی غلط لاڈ پیار نے بچی کو خودسر بنا دیا ہے ! آج اِ ن دونوں کو شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے ، عقل ہوئی تو آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے ! "۔ 
میں نے اسے واضح کیا کہ جتنی دیر میں یہ بچی کو لینے گھر گیا تھا میں نے آپ کی بچی کا ایس ،ایل ،سی تیار کر لیا تھا ،، اور ابھی یہ میرے پاس ہی رہے گا ، میں اسے ضائع نہیں کروں گی " وہ بےچاری عورت ، معافی مانگنے اور رونے کے علاوہ کیا کر سکتی تھی ۔ لیکن یہ واقع مہینوں میرے لیۓ کوفت کا باعث بنا رہا ،،،،،،،، مجھے اپنے والد اور ان کے ساتھ کے آرمی آفیسرز کا خیال آتا رہا ، جنھیں اپنے بچوں کو ٹیچر یا سکول سے متعلق غلط جملے بولنے کی قطعی اجازت نہ تھی ،،، ہمارے والدین ہمیشہ ٹیچر کے معاملے میں صرف اُنہی کو حق بجانب سمجھتے تھے ،،، اور وہ صاف کہہ دیتے تھے ، اگر تمہاری جماعت میں 30 بچے پڑھ رہے ہیں اور انھیں کوئی شکایت نہیں ، تو دراصل آپ خود محنت نہیں کر رہیں ، جس کی وجہ سے ٹیچرکو آپ سے شکایت ہے ۔ اپنی محنت سے ٹیچر کی شکایت دور کرو !۔
یہ ایک ایسا تجربہ تھا ، جس کے بعد میں اپنے سالانہ رزلٹ ڈے پر جو تقریر کرتی اس میں یہ ایک جملہ بھی ضرور کہتی " آپ کا بچہ جب کسی سے متعلق شکایت کرے ، تو بہت طریقے سے پہلے اُسی سے کُرید کُرید کر اصل بات کو معلوم کریں ، اور پھر مہذب انداز سے اپنی شکایت ، پہنچانے سکول آئیں ، ورنہ آپ خود شرمندہ ہو سکتے ہیں ،،، کہ اکثر بچے خود کو مظلوم بنانے ، اور ہمدردی سمیٹنے کے چکر میں " بڑے بڑے جھوٹ " بول دیتے ہیں ، جب کہ بات کچھ اور نکل آتی ہے !!! اور گھر میں یہ جملہ کبھی مت بولیں "" ہم فیس دیتے ہیں ،، ٹیچر کی کیا مجال کہ وہ تمہیں مارے " یا یہ کہ "" میں کل آؤں گا تمہارے سکول ، سیدھا کروں گا تمہاری ٹیچر کو " وغیرہ ،،، ہمارے آج کے والدین نے "بچے "کو اپنا " بڑا " بنا لیا ہے ، خود اس کے بڑے نہیں بن رہے ، یہی وجہ ہے کہ ذیادہ تر بچے بہ زعم خود ، عقلِ کل بننے لگتے ہیں ، اسی لیۓ تو اشفاق احمد صاحب نے فرمایا تھا ، "" بچے کو ' نہ' کرنا سیکھیں اسے اس رویۓکی عادت ڈالیں "" !! اور "" بچے کے دوست نہ بنیں، اس کے رہنما ء بنیں ""۔
( منیرہ قریشی، 31 دسمبر 2017ء واہ کینٹ(جاری)

ہفتہ، 30 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(68)۔

 یادوں کی تتلیاں" ( 68)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یادوں کی تتلیاں ،،، کے عنوان کو 58 نمبر کے بعد کچھ دیر کے لیۓ راستے کے اس ٹریک کو روک کر " ڈرائنگ روم " کی جھلکیوں کی طرف موڑ لیا تھا ،،، کہ طبیعت کی بےچینی آمادہ کر رہی تھی کہ پہلے اِن لاجواب اور اثر چھوڑ جانے والے کمروں کی یادیں تازہ کر لوں ،، پھر آگے بڑھوں !!۔
میں نے یادوں کے باغ میں اپنی تتلیوں کو تلاش کیا تو ،،، وہ ذاتی سکول کے دور میں موجود تھیں ۔ 
میں نے اور جوجی نے شروع میں ہی فیصلہ کر لیا تھا ، کہ ہم سکول کو بتدریج آگے بڑھائیں گے ،،، اور وہ بھی اُس صورت میں کہ اگر والدین مطمئن ہوتے چلے گۓ ! ،،، یہ ہی وجہ تھی کہ 1991ء سے شروع ہونے والا سکول 1993ء تک صرف پلے گروپ ، نرسری ، پریپ اور ون ،، تک پہنچا ،،150 بچے تھے۔ سرمایہ کچھ خود اپنے پاس بھی کم تھا ،،، کچھ سکول فیس بھی نارمل رکھی ،،، تاکہ اچھی تعلیم کم سے کم چارجز کے ساتھ " مڈل کلاس تک پہنچ سکے ۔ " الحمدُ للہ ، یہ نظریہ آج بھی سامنے رکھا ہوا ہے " !۔
اُن دنوں میں کچھ ایسے تجربات ہوۓ جنھوں نے ہمیں بھی کچھ ہوشیاری ، سمجھ داری عطا کی ،،جیسا میں نے پیچھے کسی جگہ لکھا ہے کہ ، جب ہم نے سکول شروع کیا تو اُس مال روڈ پر کوئی اور سکول نہ تھا ۔ صرف ایک گندھارا کالج اور ایک بی ایڈ کروانے والا ادارہ " فاطمہ جناح کالج" تھا ، ، ، 94ء تک ، اگر کوئی سکول تھے بھی تو اس مین مال روڈ پر نہیں تھے ،، اندرونی سڑکوں میں کچھ موجود تھے ! لیکن ان سبھی سکولوںمیں ہمارا سکول نمایاں ہوتا چلا گیا ،،، اور لوگوں میں یہ جملہ عام طور پر گردش کرنے لگا کہ ، " بچے کی "بیس'(بنیاد) بنانی ہے تو " مارگلہ گرامر سکول " بہترین ہے ، وغیرہ ،،، ۔
ایک دن میں آفس میں ہی تھی ،، کہ ایک جوان لڑکی جو چہرے سے ہی میچور لگ رہی تھی ،، اور اس کے ساتھ ایک اور میچور شکل کا لڑکا تھا ،، اجازت لے کر آفس میں داخل ہوۓ ، کہنے لگے ہم نے اپنی بھانجی کو پلے گروپ میں داخل کرانا ہے ،،، لیکن ، ہم پہلے پلے گروپ کا کمرہ دیکھنا چائییں گے " ،،،،،،،، میں نے بچی کی عمر پوچھی ، وہ تین ، ساڑھے تین کی تھی ،،، انھوں نے سلیبس دیکھنے کی بھی فرمائش کی ، اور پہلے میں نے انھیں سلیبس کی آؤٹ لائن دکھائی پھر ،،، انھیں لے کر کلاس روم کی طرف آئی ،،اور ساتھ میں کہا " کمرہ اور ماحول کا دیکھا جانا ، بچے کے سرپرستوں کا حق ہے کہ وہ دیکھیں ، پرکھیں "،، اور انھیں پلے گروپ دکھایا ،، بلکہ آتے آتے نر سری کلاس بھی دکھلا دی ،،، آفس آۓ ،، بیٹھتے ہی ،، دونوں میں سے پہلے لڑکی بولی " میڈم ، ہم دونوں بہن بھائی ہیں اور ہم نے کوئی بھانجی داخل نہیں کروانی ، ہم نے آپ کی ان" انیشل کلاسز "کی شہرت سُن کر یہ سب سوچا ، کہ ہم اپنے والد کا چلایا ہوا سکول گذشتہ 6 سال سے چلا رہے ہیں ، لیکن لوگ آپ سے مطمئن ہوتے چلے جا رہے تھے ، سوچا ہم بھی دیکھ کر آئیں ، اور کچھ ٹپس نوٹ کر لیں ، ،،، آپ نے کھلے دل سے اپنی کلاسز کا وزٹ کرا دیا ،، تو ہم بہت شرمندہ ہوۓ ہیں ، کیوں کہ ہم کسی کو کلاسز کا وزٹ نہیں کرواتے,۔
انھوں نے اپنے سکول کا نام بتایا ، والد کا نام بتایا ،،، تو میں پہچان گئی ، تب میں نے انھیں کہا " اب آپ دوبارہ اُنہی کمروں میں چلیں ، وہ کچھ حیران سے ہو گۓ ،،، میں نے کمرے میں لے جا کر انھیں بتایا " یہ کُرسیاں اور میز فلاں ، کاریگر سے بنوائیں ، یہ نرسری ایکوپمنٹس فلاں دکان سے لیں ، یہ اور یہ فلاں جگہوں سے لیا ،،، یہ ہم نے مہنگا ملا ،، آپ نے لینا ہوا تو آپ فلاں سے لیں ،! اور پھر آفس لے آئی ،، اور میں نے اُن دونوں بہن بھائی سےکہا " یاد رکھیں جہاں جائیں اول تو اپنے وزٹ کا مقصد ضروبتادیں۔
،، اس طرح آپ کے لیۓ باعزت انداز ہو گا ،،، اور دوسرے ایسے کاروباری معاملات میں ایک دوسرے سے اچھی مساقبت ہو جاتی ہے تو یہ صحت مند مقابلے کی فضا ہو گی ،،، وغیرہ ، اور یہ کہ ان چیزوں کے ہونے ، نہ ہونے سےکوئی فرق نہیں پڑتا ، اصل چیز آپ کی ٹیچرز کا  سکلڈ ہونا ہے ، اگر وہ اپنے کام سے آگاہ نہیں اور وہ دلچسپی نہیں لے رہی تو ، ان سب بھری ہوئی کلاسز کا کوئی فائدہ نہیں ،،،،،،، اُس دن سے وہ اس حلقہء میں شامل ہو گۓ ، جن سے میرے احترام والے مراسم آج بھی ہیں ، ۔ وہ جب کسی معا ملے میں مدد چاہیں ، مجھے ان کو گائیڈ کرتے ہوۓ خوشی ہوتی ہے ، ،۔
ہم نے سکول کو ، کاروبار کے نقطۂ نظر سے کم اور مشن کے طور پر ذیادہ توجہ دی ۔ جب بھی کسی ٹیچر کی تعیناتی کرتیں ، اسے اس کی ڈگری یا تجربے سے میں کبھی متاثر نہیں ہوئیں ، میں نے اس کے جذبے کو ، اس کی دلچسپی کو ، اور ان اقدار کو جو اس کے اندر مجھے نظر آجاتیں تو تب اہمیت دیتی ۔ اور اسی بنا پر اُس کی تعیناتی کرتیں۔ ہم دونوں اپنے اس خیال اور مقصد سے آج 27 سال بعد بھی ڈٹی ہوئی ہیں ، کہ تربیت پہلے اور تعلیم بعد میں ،،،،،!۔
۔1991ء میں ہم نے سکول شروع کیا ، اور 1994ء میں کچھ ٹیچرز نے ہمیں جوائن کیا ،، انہی میں ایک شیما زاہد تھیں جن کا سسرال ، اور والدین کی طرف سے بہت مضبوط تعلیمی پس منظر تھا ۔ وہ اپنی بیٹی کو داخل کروانے آئیں ، تو میں نے پوچھ لیا کیا کرتی ہو ، کتنا پڑھا ہے ؟ وغیرہ۔ 
اس نے بتایا میں نے بی ایس سی اور بی ایڈ کیا ہوا ہے لیکن ، آج تک کہیں جاب نہیں کی ، ،، میں نے آفر کی ، اگر آنا چاہو تو بیٹی کے ساتھ خود بھی آجاؤ گی تو تسلی ہو گی ، شیما اپنے ساس سسر کے ساتھ رہتی تھی ، اس لیۓ چھوٹی بیٹی جس کی ابھی سکول کی عمر نہیں ہوئی تھی، بچوں کی دادی ،دادا دیکھ بھال کر سکتے تھے۔ اور اس کا بڑا بیٹا کسی دوسرے سکول میں کلاس دوم میں تھا ،،، شیما نے اپنے گھر والوں سے مشورہ کیا ، اور اگلے مہینے ہمیں جوائن کر لیا ،،، شروع میں اسے نرسری کلاس دی اور پھر پریپ کلاس ،، اور پھر جماعت دوم ، کی کلاس ٹیچربنائی گئی ۔ وہ دوچار سال نہیں بلکہ 12 سال کے عرصے میں اپنی ڈیڈیکیشن ، اور مکمل حاضری کی روایت پر کاربند ہونے ،، اپنی کلاس کو مکمل توجہ دینے اور باقی سٹاف ممبرز سے خوشگوار تعلقات کی عادت نے ، ہمارے دلوں میں ایک مقام بنا لیا ۔ تب ہم دونوں نے باہمی مشاورت سے اسے پرنسپل کی ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ، کیوں کہ جوجی کے لیۓ سکول کو بہت وقت روزانہ دینا اس وقت ممکن نہ تھا ،،، سکول ان بارہ سالوں میں پہلے چَھٹی تک اور پھر آٹھویں تک ہو چکا تھا ،، بچے بڑھتے جا رہے تھے، اور اس رش اور والدین کی توجہ اور مطالبے نے ہمیں " بورڈ کلاسز " تک لے جانےپر سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ، اور تب میں نے شیما سے کہا " فری پیریڈ " میں اپنی کاپیاں چیک کرنے کے لیۓ آفس میں ایک کونے میں بیٹھ کر چیک کرنا ،،، اور بس ڈیلنگ دیکھتی رہا کرو وغیرہ ، وغیرہ !!۔
ایک سال مزیدگزر گیا ، تب دوسری بلڈنگ کراۓ پر لی گئی ، اور چھَٹی تا دہم وہاں شفٹ کی گئیں ، اور باقی پلے گروپ تا پنجم یہیں اپنے اباجی کی دی ہوئی بلڈنگ میں رہنے دیں ، اور اب 12، 13 سال بعد ہم اس پوزیشن میں تھیں کہ بورڈ کلاسز بھی شروع کریں پلے گروپ تا پرائمری کلاسز کے تین تین سیکشنز بن گۓ ، اور یوں شیما کو دی گئی ذمہ داری کو آزمانے کا وقت بھی آپہنچا ،،، اور اسے جو نیئر سیکشن کی پرنسپل بنا دیا گیا ، اور میں نے خود سینئر برانچ کو سنبھال لیا ،، مجھے نویں دسویں کو پڑھانے کے تجربے نے بہت فائدہ دیا ،،، یہاں کا سارا سٹاف نیا مقرر کیا گیا ،،، اس نئی برانچ کی بلڈنگ خاصی مایوس کن حالت میں تھی لیکن ہمیں کچھ کم کراۓ پر مل گئی ،،، دو ماہ تو اس کی صفائی ، کچھ مرمتوں میں گزرے ۔ اور ایک نیا قدم اللہ کی مہربانیوں سے اُٹھا اور پھر قدم اٹھتے چلے گۓ ،،،، شیما نے اپنی ذمہ داریوں کو بہ احسن سنبھال لیا ،،، اور میں مکمل یک سوئی سے سینئر برانچ کو چلانے لگی ۔
جیسا میں نے لکھا کہ ہم نے کاروبار نہیں مشن شروع کیا ،، لیکن مختلف تجربات ہمیں سیانا کر تے گۓ، یہ بات جو لکھ رہی ہوں اس وقت تک سکول کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے، میں خود ہی بطورِ پرنسپل سکول چلا رہی تھی، ہماری فیس کافی کم تھی ،، پھر بھی کچھ والدین اس میں بھی  رعایت مانگتے ، اور اس خیال سے کہ چلو کچھ تو آمدن ہوگی تاکہ اخراجات نکلتے رہیں ،،، اور حال یہ تھا کہ آدھا واہ کینٹ اباجی کا واقف تھا کچھ ہماری واقفیتیں تھیں ،،، کچھ رشتہ داریاں بھی موجود تھیں ،،، ان سب کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ،، اور یوں صورتِ حال ، کچھ بہت امید افزا نہیں تھی ،،، اور اس دوران ہمارے" ملک کا ٹاپ سکول سسٹم بیکن ہاؤس "کھُل گیا ، جس کے کامیاب سکول ہونے میں کوئی شک نہ تھا ،،، وہیں ، مین مال پر ایک بہترین بلڈنگ میں اس کی شروعات ہوئیں ،،، اور حیران کن بات یہ ہوئی کہ ہم سے کنسیشن لینے والے بہت سے والدین نے اس طرح اُس نہایت اونچے فیس پیکیج رکھنے والے سکول میں سب سے پہلے بچوں کو داخل کروانے پہنچ گۓ ، جیسے وہاں مفت پڑھائی ہوگی ،،، اور انہی میں سے دو والدین نے ایس ایل سی لیتے وقت بدلحاظی سے کہا " آپ ، تو اب اپنا سکول بند کر دیں ، مشکل ہی اب یہ چل سکے " ،،،، میں نے انھیں غور سے دیکھا (اور دل میں کہا ، آپ تو ہم سے اتنی کم فیس کے باوجود کنسیشن والے لوگ تھے ،اب باتیں کیسی دل آزاری کی کر رہے ہیں !) اور اُن سے کہا ،،، کیوں جہاں جہاں بیکن ہاؤس ہے وہاں سب ہی سکول بند ہو گئے ہیں کیا ؟ ؟ ؟ ،،، اور الحمدُللہ ، کہ وہی لوگ ایک سال کے بعد دوبارہ آۓ کہ ہمارے لیۓ اخراجات پورے کرنا مشکل ہے ،،، !! لیکن اب ہمارے لیۓ مثبت مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی تھی ، ، ، اور ہم اپنے اسی مشن پر قائم رہیں کہ " بہترین تعلیم ، کم فی پیکیج " کے ساتھ !!!! ہمارے لیۓ وہ وقت جلد آگیا کہ تعلیمی سال کے خاتمے پر اور نئے تعلیمی سال کی شروعات پر ہمیں پہلے ہی سکول کے باہر "نوایڈمیشن" کا بورڈ لگا دینا پڑتا ہے ،،، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ !!۔
( منیرہ قریشی ، 30 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

پیر، 25 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(67)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 67)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم " (10)۔"
اور اب " ڈرائنگ روم " کی ذیلی اقساط کا آخری منظر بیان کر رہی ہوں ،،، تاکہ واپس یادوں کے باغ میں اُن تتلیوں کے پاس جا سکوں ،جو انتظار میں ہیں،، جب ہم بانو قدسیہ صاحبہ سے مل کر نہال ، شاداں و فراواں واپس ہوئیں! تو اب اپنی سہیلیوں پر میرا امپریشن پڑ جا چکا تھاکہ یہ ان حسین ملاقاتوں کے بارے میں  سچ بتاتی رہی ہے۔ اس لیۓ پروگرام بنا کہ اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں اور کل ہی " اے حمید صاحب" سے ملنے چلتے ہیں ،،، یہ تینوں انھیں نام سے تو جانتی تھیں ، لیکن انھیں پڑھا نہ تھا ، ،،، جب کہ میں ان کی تحریر کی اس قدر عاشق تھی کہ جب میں نے ان کے نواۓ وقت کے سنڈے میگزین میں " بارش، سماوار اور خوشبو" کا قسط وار سلسلہ پڑھنا شروع کیا ، تو ہر قسط پڑھنے کے بعد بہ مشکل خود کو اپنے کمرے یا لان میں محسوس کراتی ،،، کیوں کہ میں اُن کے ساتھ ساتھ جنگلوں ، ٹرینوں ، اور اجنبی شہروں کی سیر کر رہی ہوتی ،،، اور اس محویت سے نکلنے کے بعد ڈیپریشن میرا پیچھا کرنے لگتا ، کیوں کہ مجھے" سفر " و سیاحت " کے دن رات بہت ذیادہ خوشی دیتے ہیں ،،، اور رہی سہی کسر اُن کی تحریر میں منظر کشی، اور جُزیات کے ساتھ ، ہر شخص کے خدوخال ، ہر منظر کا پس منظر اور پیش منظر ، ہر درخت ، بلکہ ہر پتے کا حال ایسے بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والا خود کو یا تو ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے ،،یا خود کو وہیں کہیں بیٹھا دیکھتا ہے ۔تو انکوئری سے فون نمبر پوچھا ،،اگلے دن انھیں عصر کے وقت فون کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ، حاضر ہو سکتی ہیں ، انھوں نے تحمل کے ساتھ پوچھا " کس سلسلے میں ؟" ،، میں نے شرمندہ ہو کر کہا " جی بس میں آپ کی قاری ہوں ،،، کچھ کتابیں ، کچھ اقساط کے سلسلے پڑھے ہیں ، متاثر ہوں اگر موقع مل جاۓ تو ،،" تب انہوں نے کہا " کیوں نہیں ،کیوں نہیں " اور ایک دفعہ پھر دل خوش ہو گیا ۔ہم نے ثمینہ اور فریدہ کو فون کیا کہ عصر کو چلنا ہے ، لیکن انھوں نے عدم دلچسپی ظاہر کی،، تو مہ جبین نے اپنی کار نکالی ،، اور ہم سمن آباد روانہ ہو گئیں ، ان کا گھر پرانے طرزِ تعمیر کے ساتھ ایک درمیانہ ، بلکہ چھوٹا گھر تھا ،،، پرانا طرزِتعمیر کا ہمیں لگا ، کیوں کہ اس وقت تک نئے نئے طرز کے گھر بن رہے تھے ،، گیٹ کی گھنٹی بجائی تو خود اے حمید صاحب نے آکر گیٹ پر استقبال کیا ،، وہ دُبلے ، لمبے ،اور کھڑے نقوش والے وہ بندے لگے ،،، جن کے چہرے پر ایک تائثر نمایاں تھا اور وہ تھا " سکون "اتنا ٹھہراؤ ،،، اتنا سکون !! بہت ہی کم چہرے ایسے ہوتے ہوں گے ،،، وہ اس وقت قریبا" 75 کے پیٹھے میں تھے ، ، ، وہ مسکراۓ " بغیر" ہمیں لے کر اپنے"ڈرائنگ  روم "میں آۓ ،، جس کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے " افضل پرویز چاچا جی " کا نہایت مختصر ، نہایت سادہ ڈرائنگ روم یاد آگیا ۔ ہو سکتا ہے وہ ڈرائنگ روم نہ ہو ، وہ صرف انہی کی نشست کا کمرہ ہو ،،،جہاں بیٹھنے کے لیۓ اُنہی کا ایک قدرے اُونچا دیوان یا پلنگ تھا جس کے ایک کنارے پر پاؤں اوپر کر کے بیٹھ گئے ،، میں اور مہ جبین 3 فٹ کے فاصلے پر دھری ایک سَیٹی تھی جو دو بندوں کے لیۓ ہی تھی، ہم دونوں اس پربیٹھیں ،، ذرا دیر بعد ہی ہمیں بے آرامی کا احساس ہو نے لگا کہ وہ ذرا ہم دونوں کے لیۓ تنگ تھی ،، لیکن کچھ دیر کی علیک سلیک کے بعد انھوں نے ایک پلاسٹک کی کرسی کو کتابوں سے خالی کیا اور ہمیں دی ،، مہ جبین اس پر جا بیٹھی ۔ انھوں نے کچھ دیر ہمارے شہر ، ہمارے کام کا پوچھا ،، ،، وہ مہ جبین سے مصروفِ گفتگو ہوۓ تو میں نے اس چند فُٹ کے کمرے کا جائزہ لیا ،،،جس میں صرف اور صرف کتابیں تھیں ، دیوار کے اوپر ، نیچے کچھ ریک تھے جن پر کتابیں ،، ان کے پلنگ کے قریب میز پر کتابیں ، ان کے پاؤں کی طرف ایک ریک ، اس پر کتابیں !( راشد اشرف جو کتابوں کا ، ادیبوں کا عاشق ہے اس نے ان کی ایک جگہ جو تصویر دی تھی میں کوشش کروں گی مل جاۓ تو آپ کو میرے الفاظ کا تصور واضع ہو جاۓ گا )۔
مہ جبین کی باتوں ، سوالوں ، جواب کے دوران ،، انھوں نے مجھ سے پوچھا میری کون کون سی کتابیں اچھی لگیں ،،، تب میں نے انھیں بتایا میں آپ سے اپنے بچوںکی وجہ سے متعارف ہوئی ،، جب میرا بڑا بیٹا کتابوں کی طرف مائل نظر آیا تو گھر میں " نونہال ، جاگو جگاؤ ، تعلیم و تربیت ، " تو آ رہے تھے ،،، ہم نے اپنے بچپن میں سعید لخت ،، اور ( چند اور بھی ، ) کی کہانیاں پڑھتی تھیں ،،، اب یہ نسل تو اُس ذوق کو شاید نہ پسند کر سکے ! تب میں نے آپ کے بچوں کے لیۓ لکھے ، ناول پہلے خود پڑھے ، اور بہت لُطف اُٹھایا ،،، " عالی مصر میں ، عالی اسرائیل میں ، عالی امریکا میں " وغیرہ سیریز ،، یہ ایسے معلوماتی ناول تھے ، جس میں بچوں کے لیۓ بھرپورمعلومات بھی تھیں ،، اور جذبہء حب الوطنی کی اور اخلاق کی تربیت بھی ملتی تھی۔ اس کے بعد اگلا تعارف " نواۓ وقت کے سنڈے ایڈیشن میں آپ کا قسط وار سلسلہ " بارش ، سماوار ، خوشبو " جو سالوں جاری رہا اور شاید ہی میں نے کوئ قسط چھوڑی ہو ،،، اور پھر امریکا نو ، لاہور کی یادیں ،اُداس جنگل، اور گنگا کے پجاری ، پڑھیں ہیں ! میں نے واضع کیا ،، کہ میں نے آپ کے افسانے مختلف رسائل میں پڑھے ہیں! ،، مجھے آپ کی طرزِ تحریر نے ہمیشہ متاثر کیا ،، اور ہم آج آپ کے وقت دینے پر مشکور ہیں ،،، ! ( حالانکہ یہ بعد میں علم ہوا میں نے ان کے لکھے ادب کو صرف چھُوا تھا) ہم ان کے لیۓ مٹھائی کا ڈبہ لے گئی تھیں ، انھوں نے چاۓ ، قہوہ کا پوچھا ،، ہم نے صاف انکار کر دیا ،، تو وہی ڈبہ کھول کر ہمیں پیش کر دیا ،، میں نے ان کی بیگم سے متعلق پوچھا کہ " ریحانہ ، آپ کی محبت تھی ، آپ کو مل بھی گئی ،، اتنی لمبی شادی شدہ زندگی میں وہی محبت جوان رہتی ہے "؟ تو اس پوری ملاقات میں پہلی دفعہ مسکراۓ ،،، اور بہت گول مول جواب دیا ، جو مجھ پر واضع نہیں ہوا ،،، البتہ جب میں نے کہا کیا آپ ہمیں اُن سے ملوائیں گے،،کہنے لگے" نہیں" ،،، میں نے جن لفظوں اور جملوں کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے ، وہ اب ایسی نہیں دِکھتی ، اس لیۓ پڑھنے والوں کے امیج میں ویسی رہنی چایئۓ ،" ہم یہ لاجک سن کر خاموش ہو گئیں ،،، اپنی طرف سے انھوں نے ذیادہ باتیں نہیں کیں ،، شاید وہ اتنے اجنبی لوگوں سے کم بولتے ہوں،اور ہم بہ مشکل ایک گھنٹہ گزار کر اُٹھیں ، تو خدا حافظ کرنے گیٹ تک آۓ !! ۔یہ ایک عظیم ادیب سے نہایت انکساری ، اور سادگی ، اور سکون کے ماحول میں ڈوبی ملاقات تھی ،،،، اپنے طور پر میں نے ان کا جو تائثر لیا ،،، وہ ایک "جوگ لیۓ ایسے جوگی کا موجودہ ٹھکانہ تھا جو ، اَب درختوں کے جنگل کے بجاۓ کتابوں کے گھنے جنگل میں بسیرا کیۓ بیٹھا تھا " اور باقی ہر چیز سے بےنیاز لگا " ،،،،۔
اور میری زندگی کے اُن " اہم ترین ڈرائنگ روموں کا ذکر یہاں اختتام پزیر ہو رہا ہے ،،، شاید کسی اور ایسے سورج ، چاند ، ستاروں " جیسے روشن ضمیر لوگوں سے ملوں ،، تو ان سے ہوئی " یک کمرہ " ملاقات کا ذکر کروں گی ، کہ اُس وقت وہ کمرہ اُس شخصیت کی روشنی سے ایسا جگمگ کر رہا ہوتا ہے کہ میں بےاختیار " اس کمرے اور اُس شخصیت " کو میچ کر رہی ہوتی ہوں ،،، کہ یہاں ذوق مہمان نوازی کیوں ذیادہ بلند ہے ، یہاں ویلیوز کی قدر و منزلت اور اہمیت کیسےہے !، کیوں کر یہ " خالص شہد " جیسی شخصیتیں بیٹھی ہیں ، اور ارد گرد شہد بانٹ رہی ہیں ،، کیوں کہ انھوں نے ان کمروں میں "" انسانوں کو لوگوں ""کو ذیادہ اہمیت دے رکھی ہے ،،، قیمتی سجاوٹوں کو نہیں ، قیمتی سجاوٹی اشیاء ، جن پر صَرف کیا گیا پیسہ ان کے نزدیک اَسراف میں شامل تھا ،، یہ نشست گاہیں صرف "ضروری " چیزوں سےآراستہ تھیں ،،، وہ لوگوں کی واہ واہ ، اور اپنے سٹیٹس کے " دبدبے " سے نکل چکے تھے ،،، یہ لوگ بھرے برتن ہوتے ہیں ،،، اور ہم جیسے خالی برتن ان کے سامنے چند گھنٹے ، بیٹھ کر اپنے برتن کو بھی کچھ نا کچھ بھرنے کی کوشش کر لیتے ہیں ،،، ایسے ہی ڈرائنگ رومز ،،، " علم و تربیت " کی عملاً  درسگائیں ہیں ،، کاش ہم اس ، فانی زندگی کا عملی ، مظاہرہ کچھ سیکھ لیں ،،، اور جلد سیکھ لیں ، آمین !۔ 
( منیرہ قریشی، 25 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

ہفتہ، 23 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(66)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 66)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم" (9)۔"
تو میں ذکر کر رہی تھی ، اشفاق احمد صاحب اور بانو قدسیہ صاحبہ جیسے مثالی جوڑے کی ،،، اور یونیک لوگوں کی ، کہ، ،،،، جب آپا اور جوجی بھی ان کے بہت بڑے اور بہت سادہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئیں تو باتوں کا سلسلہ بالکل ایسے شروع ہوا ،، جیسے ہم سب پہلے سے واقف تھے ،، اس دوران ڈرائنگ روم میں صرف 5 افراد رہ گئے تھے جو اپنے سامنے رکھے پیپرز اور کتب ،، پر اتنی محویت سے مصروف تھے کہ انھیں جیسے آس پاس کی خبر ہی نہ تھی، اور اب دونوں میاں ،بیوی مکمل طور پرمتوجہ ہو کر ہمارے سامنے بیٹھ گئے،،، آپا نے اپنی پُر اعتماد فطرت کے ساتھ ،، سلیقے سے باتیں شروع کیں ،، جوجی اور میں تو بس منہ سی کر بیٹھی رہیں اور میں تواُس وقت " سراپا کان " بن چکی تھی ،،،، اور جب آپا نے کچھ مشاورت والے سوال پوچھے تو وہ بھی بس لاجواب اندازِ جواب تھے۔ 
آپا نے ایک بات پوچھی کہ " جب ایک بندہ کسی بے کار ضد پر اڑ جاۓ جبکہ اسے تمام عواقب سمجھاۓ جا چکے ہوں تب کیا کریں ،،تو بانو آپا نے جواب دیا ،،،،۔
" تب جاۓنماز بچھا لیں اور سجدے میں جا کر اپنے اللہ سے کہہ دیں ،،،یا تو میرے اُونٹ کو گھوڑا بنا دے ،یا ، میرے گھوڑے کو اُونٹ بنادے ،،، درمیان کے چکر میں نہ رکھنا "۔
پھر جوجی نے پوچھا کہ" ہم ایک سکول کھولنا چاہتے ہیں،،، اور ہم چاہتے ہیں ، ہر کلاس میں کچھ بچے وہ رکھیں جو بہت ہی غریب گھرانوں سے ہوں ، تاکہ اِس سکول سے ایک ہی وقت میں ایسے بچے بھی فائدہ اُٹھائیں ۔ " یہ سُن کر اشفاق صاحب نے جواب دیا ،،،، ۔
" آپ کے اس خیال سے میں متفق نہیں ! کیوں کہ ہم کھاتے پیتے خوشحال بچوں کے ساتھ ،،، ایسے غریب اور کم حیثیت بچوں کو بٹھا کر اِن بچوں کی حسرتوں میں اضافہ کرتے ہیں ،، اِن بچوں کی عزتِ نفس پر آنچ آ سکتی ہے ،،، کوشش کریں کہ اگر آپ نے اِن بچوں سے ہمدردی کرنی ہے ، تو الگ پروجیکٹ کریں ! " ہم نے بعد میں سکول شروع کیا ،،، الحمدُللہ ،، جب یہ 15،16 سال بعد اس سٹیج تک پہنچا ، ، کہ ہم اپنے سکول سے اتنا حاصل کرنے لگیں کہ اپنے پرانے خواب کو پورا کر سکیں ،تو حالات بنتے گۓ ، بلکہ اُسی ربِ کریم و خبیر و علیم نے تمام وسائل عطا کیۓ کہ اُسی پروجیکٹ کو شروع کیا , جس کا ذکر اشفاق صاحب سے کیا تھا،،، اور آج 11 سال سے وہی سکول الگ سے چل رہا ہے ،،، جو الگ ہی چلنا چاہیے تھا ،،،، 
کچھ بات چیت بچوں کی تربیت کے حوالے سے چل نکلی،،، کیوں کہ ہم دونوں کے بچے اسی تربیتی عمروں میں تھے ،،، جب مائیں سمجھتی ہیں !!!۔
ہم سا عقل مند کوئی نہیں ،، جو ہم کررہے ہیں ، ایسا کوئ نہیں کر سکتا ! چناچہ سوال کیا " بچے کی تربیت میں کیا بات مدِ نظر رکھنا ضروری ہے!؟
اشفاق صاحب نے چار اہم نکات بتاۓ ،،،۔
1) بچے کو " نہ " کرنا سیکھیں ، اس کی ہر بات کو مانتے چلے جانا ، بچے کو ظاہر کرنے لگتا ہے کہ وہ ہر معاملے میں ٹھیک ہے ۔اسی لیۓ وہ اپنے مطالبات کو منوانا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے ،،،، اسے " نہ " سننے کی عادت ڈالیں !!!۔
2) بچے کو بازار کم سے کم لے کر جائیں ،، تواتر سے بازار لے جانے سے ، اس کی آنکھوں میں سامان کی بہتات کا اثر ہونے لگتا ہے ،،،اور اگر آپ اسے ایک کھلونا لے کر دیتے ہیں ،تو اسی دوران وہ دوسرے کھلونے کا دل میں سوچ کر آتا ہے ،،، نیا کھلونا جلد ہی اسے بیکار لگنے لگتا ہے ، اور اب نۓ کی فرمائش شروع ہو جاتی ہے !۔
3) بچے سے بہت ذیادہ مت پوچھیں " میرا بیٹا ناشتے میں کیسا انڈا کھاۓ گا ، فرائ ،،؟ آملیٹ ؟ اُبلا یا ملا جلُا وغیرہ ،،،، بچہ بے حد معصوم ہوتا ہے ، لیکن جب ہم اسے غیر ضروری اہمیت دیتے ہوۓ اس کی فرمائش کے پابند ہوتے چلے جاتے ہیں ،،، تو وہ بھی غیر ضروری اہمیت حاصل کرنا اپنا ضروری حق سمجھنے لگتا ہے ،،اور اسے احساس ہوتا چلا جاتا ہے کہ " میں ہوں چیز دیگرے " ،،،، اور اہمیت کے اس چکر میں وہ دوسرے بہن بھائ یا دوست کو"لٹ ڈاؤن" کرنا سیکھتا چلا جاتا ہے ۔ بچے کے سامنے وہ رکھیں جو سب کے لیۓ بنا ہے ،، یا جو ماں چاہتی ہے کہ بچہ یہ ہی کھاۓ !۔
4) بچے کے دوست مت بنیں، اس کے ماں باپ بنیں ، کیوں کہ دوست وہ ، گیٹ سے باہر بناۓ گا ۔ آپ عمر کے اس دور سے گزر چکے ہیں ،،، اس لیۓ اس کے رہبر ، رہنما بنیں ،،، اسے رہنمائ دینے والا گھر سے ملنا چائیے ، ، وہ دوست سے مشاورت نہ کرے ۔ ورنہ بھٹک سکتا ہے ،،، اس لیۓ اپنے بچے کو صرف روزانہ کی مصروفیت پوچھنے والا ٹائم ٹیبل سیٹ کریں ،، اور وہی وقت اس کے مسائل پوچھنے کا ہوگا ، آپ کے لیۓ یہ طریقہ بچے میں اعتماد پیدا کرے گا۔
مجھے نہیں معلوم ،،،، اِن نکات سے کتنے لوگ متفق ہوتے ہیں ،،، یا کتنے لوگوں کے لیۓ یہ موئثر ہوتے ہیں ،،، لیکن مجھے ہمیشہ ایک ایسے " دانا " بندے کے تجربات کا عکس لگے ،، جو خود بھی بہت سی غلطیوں کے بعد ان نتائج کو اخذ کر سکے ہوں گے ،،!"۔
اور اس دن ہم تینوں آدھ گھنٹے کے لیۓ بیٹھنے  گئیں لیکن 4 گھنٹے بیٹھیں ،،، لیکن کیا مجال اِن دونوں کی طرف سے " اُکتاہٹ " کا شائبہ بھی ہوا ہو ،،، اور ہم محبتوں کے مرکز سے " محبت " کا خزانہ لے کر اُٹھیں ،،، جس کو میں نے آج بھی محبت کے خوشبو کے رومال میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے۔
پھر ایک مدت گزر گئی،،، اور مجھے اپنی عزیز سہیلی مہ جبین کے پاس لاہور جانے کا موقع ملا ، جو اس وقت تک لاہور شفٹ ہو چکی تھی،،، اس نے اپنے گھر دوسری دو سہیلیوں ثمینہ اور فریدہ کو بھی بلایا ،،، خوب گپ شپ ہوئی۔ اور طے پایا کہ اشفاق صاحب سے ملنے کی کوشش کرنی چایئے ، کیوں کہ اُن تینوں کو نہ ان کے گھر کا علم تھا نہ کوئی فون نمبر معلوم تھا ، اس وقت موبائل عام نہیں ہوۓ تھے ،، اس لیۓ فون ڈائریکٹری کا استعمال ضروری تھا،،، بلکہ ایکسچینج سے نمبر معلوم کیا اور فون کیا تو اشفاق صاحب کے گھر سے "رفیق " نام کے لڑکے نے بتایا ،کہ سب ہی گھر پر ہیں ،لیکن اشفاق صاحب کے پاس پی ٹی وی والے آۓ ہوۓ ہیں ، وہ شاید نہ مل سکیں ،،، میں نے اسے کہا "بانو آپا " تو مل لیں گے تو اس کا مثبت جواب سن کر تیار تو ہم تھیں ہی ،،، ثمینہ کی کار میں جو وہ خود ڈرائیو کر رہی تھی پہنچ گئیں ۔ ان کے گیٹ پر حسبِ سابق چوکیدار نے بھی احترام کی زبان سے اندر جانے کا کہا ،،، اور اسی نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر ہمیں اندر داخل کیا ،، آج کی ملاقات اور 12،،11 سال پہلے کی ملاقات کے وقفے میں اس وسیع و عریض ڈرائنگ روم کے حُلیۓ میں شاید رتی برابر فرق پڑا ہو گا۔ ورنہ صفائ کا وہی اعلیٰ معیار تھا ، یا تبدیلی تھی تو صرف پردوں کی،، تو اس مرتبہ ڈرائنگ روم کے آخری کونے میں ہم بیٹھیں ،، ، مہ جبین کہنے لگی ،،، بھئ مجھے تو گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے ،، ،لیکن ثمینہ اور فریدہ خود اعتمادی سے ، تسلی میں تھیں ،،، اُس وقت میں ان کی حرکات کو انجواۓ کر رہی تھی کہ میں جب ان سے ملی تھی تو 34، 35 سال کی عورت تھی ،،، اور اب آئ ہوں تو ہم 46 ، 45 سال کی پختہ عمر ہے ،،، بھلا اس عمر میں کیا گھبراہٹ!!! لیکن اِن خواتین کی زندگیوں میں " شاپنگ مالز ، اور سہیلیوں ، نے گھیرا ڈالا ہوا تھا ،، وہ کبھی کبھار کوئی کتاب پڑھ لیتیں ،، لیکن ایسی ادبی شخصیات کو جا کر ملنے کا تردد ، نہ کیا ۔ بہرحال بانو آپا ،،، اُسی سادگی ، متانت اور باوقار انداز سے آئیں ، ہم سب اُٹھ کھڑی ہوئیں ، سلام دعا ہوئی ،، انھوں حسبِ سابق اخلاق کے ساتھ پوچھنا شروع کیا ،،، کہاں سے آئی ہیں ،، کیا کرتی ہیں وغیرہ ،،، لیکن میں پہلے تو جھجھک گئ کہ اُن سے پہلی لمبی ملاقات کا ذکر کروں یا نہیں ،،، پھر سوچا شاید یاد رکھا ہو،،، اورقارئین کو ناقابلِ یقین بات لگے ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب میں نے ان سے واہ کینٹ اور میری باقی دونوں بہنوں کے دیر تک بیٹھنے کا ذکر کیا تو انھوں کہا " یاد آگیا تین خوب صورت بہنیں آئی تھیں " ،،، یکدم مجھ پر اپنی اہمیت کا احساس طاری ہو گیا ، میں نے انھیں اپنی سہلیوں کا تعارف بہت خود اعتمادی سے کرایا ،،، اور چند جملوں کے بعد اپنی سہیلیوں کو ملاقات کا ، ، باتوں کا موقع دیا ،، بس 20 ،25 منٹ گزرے ہوں گے جب ملازم ، قہوے کی خوبصورت پیالیوں میں قہوہ لے آیا ،، اور ساتھ " کھجور مکس کیک " تھا اور سموسیاں تھیں ،،، ( آپ بےشک سوچتے رہیں یہ کتنی جُزیات کے ساتھ اُن کھانے کی اشیاء کو بھی بیان کر رہی ہے ،،، کیسے ممکن ہے کہ یہ سب یاد رہے ،،، جناب محبوب کی باتیں ، الفاظ ، کپڑے جوتے ، ان کا رنگ اور ان کے برتن ، اور معقولات ، سبھی اہم لگتی ہیں ، اور دل پر لکھی جاتی ہیں ) ،،، البتہ مجھے اپنی " دکھی سہیلیوں " کے سوال ، وغیرہ کچھ یاد نہیں ،،قہوہ یا چاۓ کا پوچھنے پر ہم نے رسماً انکار کیا ،،، تو بانو آپا نے کہا " کل ہی سری لنکا سے بہت اچھا قہوہ آیا ہے آج آپ اسے پیئں اور بتائیں کیسا لگا ،،، اور یہ خوب صورت میزبانی کہ اچھی چیز " اجنبی مہمانوں " سے شیئر کررہی تھیں ،، واقعی قہوہ بہترین تھا،، ! جب میں نےاشفاق صاحب کا پوچھا تو انہوں نے بتایا " پچھلے لان میں اُن کے پروگرام " زاویہ " کی ریکاڈنگ ہو رہی ہے ، آپ شرکت کرنا چائیں گی ،،، لیکن چوں کہ  ہم نے اور جگہوں پر بھی وزٹ کرنا تھا ، تو اس ایک گھنٹے کی ملاقات کو دلی شکریۓ کے ساتھ اختتام پزیر کیا ،، ، میں نے بانو آپا کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا تو میرے کندھے کو پیار سے تھپتھپایا ! ہم سب انھیں اللہ حافظ کہہ کر باہر آئیں ! ۔
اور میری سہیلیاں اب " ٹرانس " سے نکلیں ، اور چہکنے لگیں ،، ثمینہ نے فرمایا " منیرہ ، آج تم نے وہ کام کیا ہے کہ ، ہماری خوشی کا حال نہ پوچھو،جو مانگو گی ہم تمہیں دلانے کی پابند ہیں " باقی دونوں نے بھی بھرپور تائید کی ، اور جب میں نے کہا " بس پھر یہ وعدہ کرو کہ آئندہ بھی یہاں آتی رہو گی ،، تو سبھی نے زور ، زور سے سر ہلاۓ ، " کیوں نہیں کیوں نہیں " ،،، اور پُلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر گیا ،،، مہ جبین تو مختصر سے عرصے میں کینسر میں چل بسی ،، اور پہلے اشفاق صاحب ،،پھر بانو آپا ،، بھی سچے راستے پر چلے گئے ،،، باقی دو ،الحمدُللہ حیات ہیں ، لیکن پھر دوبارہ نہیں گئیں۔ 
یہ کیسے لوگ تھے جن کی صحبت میں وقت گزارتے ہی لوگ ہلکے پُھلکے ہو کر اُٹھتے تھے !۔
؎ اَساں چُپ ساں لوک پیۓ پُچھدے سن !!
اساں شروع کیتی ، ہُن مُکدی نیئں ،،، !!
( منیرہ قریشی ، 23 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعہ، 22 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(65)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 65)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم" (8)۔"
۔16 ستمبر 1989ء میری بھانجی کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے بیٹے عمیر سے نوازا تو ، میں نےاور جوجی نے لاہور کا پروگرام بنا لیا۔ ہم نے بچوں کو ان کے باپوں کے پاس گھر چھوڑا ، ،، اور لبنیٰ اور یعقوب کے گھر پہنچ گئیں۔ ہم صرف دو ،دن کے لیۓ گئیں تھیں ، پہلے دن پہنچیں ،، مبارک سلامت ہوئی ،، گپ شپ ہوئی ! اور دوسرے دن قریباً دس بجے ،، یعقوب سے فرمائش کی " سُنا ہے اشفاق صاحب تمہارے گھر سے نزدیک ہی رہتے ہیں ، اس نے کہا کہ وہ تو ہمارے سٹریٹ سے صرف دو سڑیٹ پچھلی طرف رہتے ہیں،،،، یہ سن کر میں نے کہا" کیا کچھ دیر کے میں اُن سے مل سکتی ہوں اگر تم چھوڑوا دو " ،، اُس نے کہا میں دفتر کے لیۓ نکل رہا ہوں آپ ساتھ چلیں ! میں تو خوشی سے نہال ہو گئی، جلدی سے تیار ہو کر اس کے ساتھ چل دی ،،، جوجی اور آپا نے کہا " چلو جلدی آ جانا " ۔
121۔C ماڈل ٹاؤن کے اس تاریخی گھر جس کے باہر مشہور اور منفرد تختی لگی ہوئی تھی " داستان سراۓ " تک صرف پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد پہنچے ،، گیٹ پر جو چوکیدار کھڑا تھا ،، پوچھنے پر کہ اشفاق صاحب ہیں ، اس نے سادگی سے ( بغیر نخوت کے ) بتا دیا ، جی وہ گھر پر ہی ہیں ۔ میں نے اسے کہا کہ اندر جا کر بتاؤ ،،، میں واہ سے آئی ہوں ، اور کچھ دیر کے لیۓ آسکتی ہوں ؟؟ ،،، اس نے کہا آپ چلیں ، اور خود آگے چل پڑا ،، میں بر آمدے سے ایک بڑے دروازے کے کھلنے پر نظریں جماۓ کھڑی تھی کہ اشفاق صاحب نمودار ہوۓ ، میں نے سلام کیا ،، اور صرف اتنا کہا " کیا میں صرف تھوڑی دیر کے لیۓ آ سکتی ہوں ! انھوں نے بغیر توقف کے کہا " آپ بالکل بیٹھ سکتی ہیں ،،،! میں اپنی خوشی کا بیان نہیں کر سکتی ،،، یہ سن کر نہ ہی پوچھیں کیا محسوس کر تھی سواۓ اس کے کہ میں ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی ،،، ! میں جھٹ سے یعقوب کی طرف مُڑی اور اسے جانے کا کہا ، وہ حیران بھی ہوا ہوگا کہ " خالہ نے کچھ بتایا نہیں کہ کتنی دیر سے لینے آؤں " جب میں اس ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ، تو اندر کم ازکم 25 ،22 خواتین و حضرات بیٹھے ہوۓ تھے ، میں داخلی دروازے کے فوراًبعد دائیں جانب دو تین کرسیاں پڑی تھیں ، اُن پر بیٹھ گئ ،، انھوں نے نہایت   شفقت ، سے کہا کچھ دیر آپ بیٹھیں ، بس کچھ ڈسکشن رہ گئی ہے ، پھر آپ سے بھی باتیں ہوں گئ ۔ سچی بات یہ ہے کہ میں خوشی کی اس لہر میں تھی ، جیسے کوئی " وکٹری سٹینڈ " پر کھڑا ہو تو اسے باقی ہر چیز پس منظر میں لگتی ہے ، اور میں صرف خود کو اور اشفاق صاحب کو پیشِ منظر میں دیکھ رہی تھی ۔ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کہہ کیا رہے ہیں !!۔
میں چند منٹ بعد حواسوں میں آئی تو ذرا ڈرائنگ روم پر نظر ڈالی۔ ایک اچھا بلکہ کافی وسیع کمرہ ،، جس کے تین کونوں پر تین ہی مکمل صوفہ سیٹس رکھے تھے ایک سنتھیٹک کارپٹ پر بہت بڑا قالین بچھا تھا ، کہیں کہیں میز بھی دھرے تھے ، سبھی خواتین حضرات چاۓ پی اور کچھ کھابھی رہے تھے ، کسی نے منہ موڑ موڑ کر نہیں دیکھا کہ کون آیا ہے ۔ بلکہ میرے بیٹھتے ہی ، لمحہ بھر میں جو ڈسکشن ہو رہی تھی اسی انداز سے شروع ہو گئی ،،، میں اتنی بے وقوف سی تھی کہ غور ہی نہیں کیا کہ سامنے بیٹھے لوگوں میں شاید کوئی مشہور شخصیات ہو سکتی تھیں ،، ان دنوں میں تو عام گھریلو عورت تھی ، جسے اِن معروف ادیبوں کو پڑھنے کے علاوہ ، ایسا کوئی خواب میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی کہ اب کسی اپنے پسندیدہ ادیب یا شاعر سے ملاقات ہو پاۓ گی ،،، اور آج حیران کن انداز سے میں اشفاق صاحب اور بانو قُدسیہ آپا کے ڈرائنگ روم میں موجود تھی ،، اتنے بڑے لوگ ،، اتنا بڑا ڈرائنگ روم ،،، اور اتنا سادہ ،جتنا سوچا جا سکتا ہے ،،،، اتنے میں بانو صاحبہ دوپٹہ ٹھیک کرتی ، بے حد سادہ کپڑوں میں گھر کے اندرونی دروازے سے اندر داخل ہوئیں ، میں سامنے ہی تھی ، انھوں نے مجھے دیکھتے ہی ، بے حد شفقت سے سلام کا جواب دیا اور کہا ، ارے تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو ،، چلو وہاں ان لوگوں کے قریب چلو ! میں نے کہا "نہیں میں تو صرف آپ کو دیکھنے آئی ہوں ، میں یہاں ٹھیک ہوں ،تب انھوں نے کہا "تو میں آپ کے پاس بیٹھ جاتی ہوں "،،، میری سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہوں کہ میں تو محض " گُھس بیٹھۓ " کے طور آ بیٹھی تھی ،، اور یہاں وہ عزت کہ شرمندگی ہو رہی تھی ،، وہ سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گئیں ، اور ساتھ ہی اندر آۓ ملازم سے ہلکی آواز میں کچھ کہا ، انھوں نے پو چھا " کہاں سے آئی ہو ، کیا کرتی ہو وغیرہ ، گویا تعارفی جملوں کا آغاز ہوا ، اور یہ اتنے نارمل ،اور عام سے انداز سے بات چیت ہونے لگی کہ میں ریلیکس ہو گئ، ، ، اور تب میں نے انھیں بتایا کہ" میں نے آپ کے کینسر سے متعلق اخبار سے پڑھا ، اور پھر معلوم ہوا آپ کا علاج مکمل ہو چکا ہے ،،، اس وقت میں نے آپ کو خط لکھا تھا کہ ، یہاں میرے گھر کے آس پاس بہت سبزہ ، اور خوبصورتی ہے ، گھر بھی بڑا اور آرام دہ ہے ، ، ہو سکتا ہے آپ کی مرضی جیسا نہ ہو ،،، لیکن اگر آپ تبدیلیء ماحول ، اور سکون کے لیۓ آئیں گی ، اور کچھ دن ریہیں گی تومیرے لیۓ اعزاز ہو گا ،،، " تو آپ نے مجھے جواب بھی دیا تھا ،، جو میں نے ہر آنے ، جانے والے کو دکھایا ! کیوں کہ میرے لیۓ تو یہ بھی اعزاز ہے کہ اتنے بےشمار لوگوں میں سے آپ نے مجھے میرے خط کا جواب دیا۔" ،،، انھوں نے دلچسپی سے ساری بات سنی ،، اور بہت شکریہ کہتی رہیں ،،، اور اس دوران ڈرائنگ روم میں بیٹھے افراد میں ملازمین ٹرے رکھتے گۓ۔اور ایک ٹرے میرے اور بانو آپا کے درمیان رکھے میز پر رکھی گئی، اور بہت پیاری " کراکری " میں دو ڈونگوں میں سالن اور ساتھ دستر خوان میں روٹیاں لپٹی تھیں،، انہوں نے محبت سے مجھے شروع کرنے کا کہا ، میں تو میکانکی انداز سے تھوڑا سا سالن ڈال کر ایک روٹی ایک پلیٹ میں رکھ لی۔ انھوں نے بھی کھانا شروع کیا ،، وہ بچوں کے بارے میں پوچھتی رہیں اور یہ بھی کہ آپ کہاں ٹھہری ہوئی ہیں وغیرہ ، مجھے تو یوں لگا کہ بانو آپا " ہر نئے آنے والے کو ریلیکس کرنے کا کام نہایت خوبی سے انجام دیتی تھیں "،،،،۔ 
جوں ہی کھانا ختم کیا ، اور ملازم ٹرے اُٹھا لے گیا ،، اور اس دوران کافی لوگ خدا حافظ کر کے جانے لگے ، پھر بھی 10،12 لوگ موجود تھے ، کہ دروازہ پھر بجا ، اس وقت تک مجھے یہاں بیٹھے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چلا تھا ،،، اشفاق صاحب نے ہی دروازہ کھولا تو سامنے آپا اور جوجی کھڑی تھیں ، سلام کے بعد آپا نے میری طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا " ہم جی اِس کی بہنیں ہیں اور اتنی دیر سے یہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے اور ہم جیلس ہو کر آگئیں ہیں ، اب آپ کو ہمیں بھی تھوڑی دیر بیٹھنے کی اجازت دینی ہو گی " اور ان " گریٹ لوگوں نے" بہت خوش دلی سے آنے کا کہا ،،،، میں تو اورنہال ہو گئی کہ اب مزید بیٹھنے کا موقع مل گیا ہے ۔ 
اب سوچتی ہوں ،،، جب خود بھی بڑھاپے میں قدم رکھ لیا ہے ،،، کہ مسلسل ، صبح سے مصروفیت ،، کچھ پرانے کچھ نۓ اجنبی لوگوں سے ملتے رہنا ،،، ان سے باتیں کرنا ،،، کسی کو اپنی بیماری کی نہ تو تفصیل بتانا ،، نہ ہی بیماری کا بہانہ کر کے ملنے سے گریز کرتے رہنا ،، نہ ہی سلسلہء لنگر خانہ کم ہو نا ،،،، اور ماتھے پر بل نہیں ،، نہ ہی اپنےاصل کام ( لکھنا ، پڑھنا)کے لیۓ وقت کے زیاں کا احساس ،،،میں اتنی متاثر ہوں ، یہ احساسِ عقیدت بیان نہیں کر سکتی ،،، اور ان کے ڈرائنگ روم میں ہوئی دوسری ملاقات کی تفصیل اب اسی سلسلے کی کڑی ہو گی ،،، میری زندگی کے نہایت خو بصورت ، اور قیمتی دنوں میں سے ایسے ہی دن ہیں جن میں مجھے ان " اپنی ذات میں اداروں " جیسی شخصیات سے سے ملنے کے مواقع ملے ۔ ابھی تو آپا اور جوجی کے آنے کے بعد مزید جو باتیں ہوئیں ،،، میں نے اپنی عادت کے مطابق انھیں " ایک ملاقات " کے عنوان سے لکھ لیا تھا ، اس کے بعد مجھے اشفاق صاحب کے ان اقوال کو سکول چلانے کے دوران جب کسی بڑے ، یا چھوٹے فنگشن میں تقریر کا موقع ملتا تو والدین کے سامنے انہی کے اقوال دہراتی اور اپنا " امیج " بلند کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ میں جب یہ جملہ کہہ بھی دیتی ہوں،، " جب ایک دفعہ اشفاق صاحب اور بانو قُدسیہ سے ملنے گئی تو،،،،،،،" میں تو جیسے اپنی نظر میں خود ہی اہم ہو جاتی ،،،،،،!!!!نیچے بانو آپا کا محبت نامہ شیئر کر رہی ہوں ! جو 1984 ء سے سنبھال کر رکھا ، اور آج اصل جگہ پہنچ گیا !۔

( منیرہ قریشی ، 22 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

منگل، 19 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(64)۔

 یادوں کی تتلیاں" ( 64)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم " ( 7)۔"
"پروفیسراحمدرفیق اختر " کا نام،اور کچھ حد تک" کام" ،،،، مجھ تک ممتاز مفتی کے ذریعے متعارف ہوا ۔ذہن میں ایک " ٹپیکل بابے"کا تصور جا گزیں ہو گیا ، جو دعا کرتے ، تعویز دیتے ، یا دم درود کرتے ہیں ،اور ضرور کوئی ایک " ڈونیشن بکس " ایک کونے میں ہو گا ! وغیرہ وغیرہ۔ 
مفتی صاحب ، کے کہنے پر میں نے انھیں کبھی فون کرنا ، تو وہ خود فون اُٹھاتے ، (یہ وہ وقت تھا کہ جب پروفیسر صاحب اتنے مصروف نہ تھے کہ آج تو فون پر آواز سننا بھی محال ہو چکا ہے )تین منٹ وہ بات سُنتے، اور وہ صرف اللہ کےاسماء حسنہ کا وِرد بتاتے اور پانچویں منٹ میں " گُڈ لک " کہہ کو فون بند کر دیتے ۔ یہ انداز اتنا پُر امید سا نہیں تھا کہ " لو بھئ ، کوئی لمبی ،لمبی تسلیاں تو دیں ہی نہیں "اور فون رکھ دیا ، بھلا یہ کوئی بات ہوئی وغیرہ ! ۔
اس سلسلے کو چلے کچھ ماہ ہی ہوۓ تھے کہ میرے بھانجے یاور کو ایک مسئلہ درپیش ہوا اور وہ اپنے والدین کے پاس آیا ،، آپا ، بڑے بھائی جان نے مجھے کہا کہ " کیا خیال ہے پروفیسر صاحب سے مل آتے ہیں " ۔ میرے لیۓ بھی یہ نادر موقع تھا ، اور میں بھی پہلی مرتبہ ان سے ملنے جا رہی تھی ۔ اور ہم سب دوپہر دو بجے ان کے گھر گوجرخان پہنچے ،،، یہ ایک چھوٹا لیکن خوب گنجان آباد شہر ہے اور پروفیسر صاحب یہاں کے پرانے رہائشیوں میں سے تھے ، ان کے والدین جس گھر میں رہتے تھے ، وہ آج بھی اُسی محلے اُسی گھر میں رہائش پذیر ہیں ، اور اس گھر میں صرف وہ میاں بیوی اور اُن کے پانچ بچے ہی نہیں رہتے ، بلکہ تین چار مزید اپنی نزدیکی عزیز بمعہ بال بچے بھی رہائش پذیر ہیں ،،، اس گھر تک پہنچنے کے لیۓ خوب " زِگ زیگ" تنگ گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ،،میں  آپا  اوربھائی جان جب اُن کے گھر پہنچے تو دوپہر گزر رہی تھی۔ان کی " بیٹھک " میں کچھ دیر بیٹھے، تو جلد ہی کولڈڈرنکس پیش ہو گئیں،،، اور پھر پروفیسر صاحب سامنے آۓ ، وہ کیسے ہیں ، یہ بتانے سے ذیادہ ضروری یہ ہے کہ انھیں دیکھ کر کسی صورت " کسی بابے " کا تصور نہیں آیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سب نے انھیں" اپنے جیسا "عام بندہ سمجھ کر  سلام دعا کی اور ہم سب"ایٹ ایز" ،، میں اور آپا اندر خواتین کے حصے میں آگئے ، تاکہ یاور ، اپنی بات خود کر لے !! تھوڑی دیر کے بعد اُن کی بیگم اور کچھ اُن کی عزیز خواتین بھی آگئیں ،،  سلام کے بات عام باتیں شروع ہوئیں اور چند منٹ کے بعد ہی پروفیسر صاحب کی بیگم نے کہا ، کھانا تیار ہے ، یہیں لے آؤں ،، تو آپا نے کہا ،، کھانا تو ہم کھا کر آۓ ہیں اگر ایک پیالی چاۓ ہو جاۓ ،،، تو انھوں نے کہا " بسم اللہ !" وہ کھانے کے لیۓ چلی گئیں اور پندرہ منٹ میں چاۓ کی ٹرے آگئی ، جو ہم سب کے لیۓ تھی۔ یہ سب مناظر اور بات چیت کا دورانیہ ،،، جلدی جلدی ،،، تبدیل ہو رہے تھے ،،، اور پروفیسر صاحب کے امیج کی " سیٹنگ " بھی بنتی ، بدلتی گئی !! اندر کے کمرے با لکل اسی طرح تھے ، جیسے شہری طرزِ رہائش کے ہوتے ہیں ، جب کہ بیٹھک ، جہاں ہم کچھ لمحے بیٹھی تھیں ، بالکل عام اور سستا سا ایک صوفہ سیٹ رکھا تھا اور ایک سائڈ پر ایک پلنگ بھی رکھا تھا اور بس ،،،،!ہمارے وہاں بیٹھے عصر ہو گئی ،، اور اس دوران پروفیسر صاحب نے ہم سب سے اطمینان سے باتیں کیں ۔ ،، میں نے آتے وقت اُن کی بیگم سے پوچھا بھی، کہ ہم کچھ پیش کر سکتے ہیں ؟ وہ ہنس پڑیں ،،، اور کہنے لگیں " آپ پہلی دفعہ آئی ہیں ،، آپ پھر آئیں گی تو آپ جان لیں گے کہ یہاں کیا سلسلہ ہے " !۔ 
میں چُپ ہو کر رہ گئی۔ 
اور جب بہت دفعہ آنا جانا ہوا تو ، معلوم ہوا ،، یہ " اللہ والوں کا ہی ڈیرہ نہیں ،،، علوم کے اونچے مدارج پر بیٹھے " اِس دور کے عظیم مذہبی سکالر"کا وہ ٹھکانہ ہے ،،، جہاں سے لوگ صرف اور صرف ترجیحِ اول و آخر کی پہچان پانے آتے ہیں ، پروفیسر صاحب صرف اللہ کے ناموں کے وِرد کی تاکید کرتے ہیں ،،، اور یہ کہ اسے اپنی زندگیوں سے کبھی خارج نہ کرنے پائیں ۔ کسی تعویز ، گنڈے کے قائل ہی نہیں ، یہ ایک ایسے رہبر کا ٹھکانہ ہے ،، جہاں بھٹکے ہوؤں کو راستے کی نشاندہی کی جاتی ہے ،،، الحمدُللہ ! اب آگے کون اس راستے پر مستقل مزاجی سے چلتا ہے ، اُس کی اپنی فہم پر مبنی ہے ۔ میں پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب ، کے بارے میں مزید کوئی باتیں قطعاً نہیں لکھ سکتی،، ان کے بارے اتنا ہی کہوں گی ۔ کہ ان کا تعارف کرانا "سورج کو چراغ دکھانے برابر " ہے !۔
( منیرہ قریشی، 19 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

پیر، 18 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(63)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 63 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ڈرائنگ روم " (6)۔"
" یادوں کی تتلیاں " کی اقساط لکھتے لکھتے ،،، جو میں نے یہ سلسلہ اچانک روک لیا ، تو دراصل " کب سے اپنے ذہن میں کُلبلاتے اس موضوع کو لکھنے سے خود کونہ روک پائی" ،،، اور جیسے ہی اُس " ڈرئنگ روم " میں پہنچی ،،، جس کے بعد اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا ،،، تو سب ہی وہ ڈرائنگ رومز بھی " پہلے میں ، پہلے میں " کی صدا دینے لگے ،، اور ظاہر ہے پہلے تو پھر بچپن کے مناظر کا حق ہی بنتا ہے ، اسی لیۓ افضل پرویز چاچا جی کا حق ہی پہلے تھا تو پہلے اُنہی کی سادہ لیکن قد آور شخصیت بارے لکھا ،،، اور درمیان میں بھی جن ڈرائنگ رومز کا ذکر کیا ،، یہ سب سلسلہ وار خود ہی سامنے آتے گئے، اور میں اُنھیں الفاظ کا پیرہن پہناتی چلی گئی ،،، لیکن اب میں ممتاز مفتی صاحب کے ڈرائنگ روم کی طرف آچکی ہوں ،،،،،میں نے پہلے کی قسط میں لکھا تھا کہ اپنی عزیز سہیلی شاہدہ ، کی واقفیت ، مفتی صاحب کی بہو تہمینہ سے تھی ،اسکے ساتھ ہم مفتی صاحب کے گھر پہلی مرتبہ گئیں ،،، جیسا کہ میری غیرشعوری حرکت ہوتی تھی کہ کسی کے گھر کے اِس پہلے تعارفی کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور کسی مناسب جگہ بیٹھ گئی ،،، یہاں بھی جب داخل ہونے لگے تو معلوم ہوا کہ ایک سٹیپ ڈاؤن فرش پر قدم رکھنا ہے ،،، اچھا خاصا کثرتِ استعمال سے پتلا ہو چکے دوقالین بچھے تھے ، جب کہ ان کے نیچے ایک سادہ کسی ہلکے رنگ کا سینتھیٹک قالین تھا ، اب اس کا رنگ یاد نہیں ،،،اس ڈرائنگ روم کو ، جو مستطیل کھلا کمرہ تھا ، دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، شاہد اس لیۓ کہ جب ذیادہ مہمان آجائیں تو اُس کلوز سیٹنگ کے حصے میں بیٹھ جائیں ،جہاں ، سیٹی ، دو سنگل صوفے اور ایک "ٹو" سیٹر رکھا تھا، اور جہاں ہم لوگ بیٹھے ، وہ نارمل ڈارئنگ روم کی طرح ڈیڑھ ، دو صوفوں پر مشتمل تھا ،، نہایت عام سا ، فرنیچر ، کوئی سجاوٹ کا پیس تھا بھی تو اتنا غیر اہم کہ یاد کے صفحے پر کوئی نشان نہیں اُبھر پایا ۔ مفتی صاحب سے ملنے جانا ہی ہمارے لیۓ " اہم واقع " تھا ،،، اس لیۓ میں اور جوجی ،، اپنی بولنے کی صلاحیت سے یکدم عاری ہو گئیں ،،، شاہدہ شروع سےنہ صرف پُراعتماد ہے بلکہ ، اُس کی یہ پہلی ملاقات بھی نہ تھی ،،، اس لیۓ اس نے آرام سے گفتگو شروع کردی ،، ہم دونوں مفتی صاحب کی نہیں ،،، اُن کے " بڑی شخصیت " کے ٹرانس میں آچکی تھیں ،، مفتی صاحب خود اگر اتنے خوبصورت ،ذہن کے مالک نہ ہوتے ، اور الفاظ اور منفرد موضوعات ان کے گِرد گھوم نہ رہے ہوتے ،،، تو خود وہ نہایت عام گھریلو سے بندے نظر آتے ، لیکن ان کی شخصیت میں ذہانت ، محنت اور اُن کی منفرد موضوعات کی کتب نے انھیں وہی کشش عطا کر دی تھی جوایک مشہور و معروف شخصیت کا وصف ہوتا ہے ،،، میں نے پہلے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اُس دن ، قریبا" ملگجے ، استری کے بغیر ، کھلے پاجامے اور کُرتے اور کالے سلیپر میں بہت تیز تیز ادھر اُدھر جا رہے تھے ،،شاہدہ نے ہمارا تعارف کروایا،،، اور انھوں نے ہمیں کچھ دیر دیکھا اور ہماری مصروفیات کا پوچھا ،،، اس دور میں،مَیں کونونٹ  سکول میں پڑھا رہی تھی، اور جوجی ابھی فارغ تھی ،، لیکن ہم نے شاید ہی اُن کی کوئی کتاب ہو گی جو نہ پڑھی ہو ،،، میں نے موقع دیکھ کر انھیں اباجی کا بتایا ، کہ وہ آپ کے صدر ہاؤس میں تعیناتی کے دور میں وہیں تعینات تھے ، اور اُن کا یہ نام تھا ،،، شروع میں انھیں یاد نہیں آیا پھر اُن کے بارے ایک دو باتیں پوچھیں تو انھیں یاد آگیا ،،، اور فوراً اُٹھے اور اپنی ایک کتاب،،،" " اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کی ،، اور بعد میں مجھے بھی اپنی کتاب " روغنی پُتلے" ،،اپنے دستخط کے ساتھ دی ،، جو آج بھی محفوظ ہیں ،، ۔ مفتی صاحب اُس وقت قریبا" 80 سال سے اوپر کے تھے، لیکن اپنی بیماریوں کے باوجود ، خوب ایکٹو تھے،،، اپنے "بلنٹ " انداز میں انھوں نے ہمیں سنا دیا ،،، بھئ چاۓ کی توقع نہ رکھنا " ،،،، لیکن ہم تو اُن سے ملنے گئیں تھیں ، چاۓ پینے نہیں ،،، لیکن گھنٹہ بھر بیٹھی تھیں کہ اُن کی بہو تہمینہ نے ایک ٹیبل پر چند پیالیاں اور ایک تھرمس چاۓ رکھی ، ،،، تو مفتی صاحب نے مسکرا کر ہمیں چاۓ خود ہی لینے کی آفر کر دی ،،،،مفتی صاحب ، ( میرے خیال میں ) اب زندگی کے اُس دور میں تھے ، جس میں کسی بھی بات سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ،،، کوئی اُن سے ملنے آ گیا تو ٹھیک ،، نہیں آیا تو بھی ٹھیک ،،، کوئی بندہ ذیادہ دیر بیٹھا ،تو بھی صحیح ،،، کچھ دیر بیٹھا ، تب بھی صحیح،،،، ! چاۓ پی گئی اور کچھ منٹ بعد ہم نے بھی اجازت چاہی ،، چلتے وقت یہ ضرور اجازت لی ،، کہ کیا کبھی کبھار فون کر لیا کریں " ،، بہ خوشی اجازت دے دی !۔ 
شاید ایک ، ڈیڑھ ماہ گزرا ہوگا کہ میری سہیلی مہ جبین کے اصرار پر پھر پروگرام بنا لیا اور ہمیں شاہدہ کی وساطت سے دوسری ملاقات کا موقع مل گیا ،، اس دفعہ ہم نے مہ جبین کو ہی ذیادہ موقع دیا کہ وہ کوئی مشاورت کرنا چاہتی ہے تو کر لے ،،، لیکن مفتی صاحب نے ہمیں بھی اسی طرح ، کچھ نا کچھ جملے کہہ کو توجہ دی، اس مرتبہ ہم اپنی چاۓ کا سبھی سامان ساتھ لے کر گئی تھیں،،، یہ بات ہمیں خود بھی سوچنی چایئے تھی کہ ایک معروف شخصیت کے گھر تو ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہو گا ،،، آخر وہ کتنی میزبانی کرے ! مفتی صاحب نے ہمارا چاۓ کی تھرمس اور کچھ لوازمات دیکھ کر کہا " اے چنگا کیتا جے " ،،، وہ ذیادہ تر پنجابی زبان میں گفتگو کرتے ! جوجی اور میں نے عام سی باتیں کیں ،، شاہدہ بہرحال کافی ذہانت والے سوال ، جواب کرتی رہی اور کسی حد تک جوابی وار کرتی رہی۔ اسی دن کی ملاقات میں ، جب میں نے اُن سے دعا کرنے کا کہا تو اُن کا مختصر جواب مجھے آج بھی یاد ہے " کُڑیۓ ،، میں دعا والا بابا نیئں " اور پھر فوراً  بولے " کبھی پروفیسر کو ملی ہو ،، " ہم نے تو اُن کانام بھی نہیں سنا تھا ،، تو کہنے لگے ، " مل لینڑاں کدی "،،، !اور پھر ہم واپس آگئیں ! یہ ملاقات کم ازکم دو گھنٹے تک رہی ۔ اورڈرائنگ روم کیسا ہے کیسا نہیں ہے ، مکمل طور پر پسِ منظر میں جا چکا تھا اور صرف وہ شخصیت پیشِ نظر تھی ، جو کمرے میں مرکزِنگاہ ہو چکی تھی ، اُن کا اندازِ ملاقات ، محبت ، والا نہیں بلکہ دوسرے کو " اہمیت " دینے والا ہوتا ۔ وہاں سے اُٹھ کر ہم نے اپنے طور پر آپس میں "پروفیسر " کا ذکر تک نہ کیا ۔ اور تیسری اور آخری ملاقات کے دن اتفاق سے میں اکیلی ہی تھی ،،، اِس ڈرائنگ روم ،، کا دروازہ کُھلا رہتا تھا ،، جب میں داخل ہوئی تو مفتی صاحب ہی اُٹھ کر سامنے آگئے،،،اور میں وہیں  رُک گئی کہ ڈرائنگ روم کے" کلوز سرکل" والے حصے میں کوئی چھے ،سات ادیب حضرات دائرے میں بیٹھے تھے ، اور صرف ایک نے کہ جس کے ہاتھ میں کچھ صفحے پکڑے ہوۓ تھے ، مُڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو وہ "منشا یاد" صاحب تھے،،، مفتی صاحب نے کہا ،بھئ آج تو تمہارے لیۓ وقت نہیں نکل سکے گا ،،، آج ہمارے ادیبوں کادن ہوتا ہے ، ایک پڑھتا ہے ، تو باقی تنقید یا تعریف کر کے اس کو " اپروو" کرتے ہیں !اگر ضروری ہے آنا تو تین ، چار گھنٹے تک پتہ کر لینا اگر یہ چلے گۓ ہوۓ تو ،،،،، ! اور اس دن ڈرائیور اور گاڑی ملی ہوئی تھی ،، کہہ دیتی کوئی بات نہیں مفتی صاحب میں ایک کونے میں بیٹھ کر سُنتی رہوں گی !! لیکن اپنی جھجھک کی وجہ سے " اچھا خدا حافظ " کہہ کر لوٹ آئی ،،، لیکن اتنی اہم اور خصوصی میٹنگ کے باوجود انھوں نے مجھے ساری تفصیل بتائی کہ آج ان ادیبوں کا اکٹھا ہونے کی کیا وجہ ہے ،،، ساتھ ہی مجھے یہ ضرور کہا " اے رنگ تیرے نال چنگا لگدا پیئا اے " ،،، یا تو محض دل رکھنے کے لیۓ کہا یا واقعی اُن کا تبصرہ تھا ، بہرحال شکریہ کہہ کر واپس آگئی ،،،، اور اُس دن میں نے " میرون " سا رنگ پہنا ہوا تھا ،،،، اِس سے پہلے دوسری ملاقات میں ، جب ہم دو گھنٹے اُن کا مغز کھاتی رہی تھیں ،،، تو میں نے انک بلیو رنگ کے کپڑے پہنے ہوۓ تھے ،، ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے ، انھوں کہہ دیا " اے کی رنگ پایا ہویا ،ای ،، اے تیرے نئیں جچ ریا "،،،،، اور اب اِس مرتبہ کی تعریف سے میں سمجھ گئی کہ یہ پچھلی دفعہ کی تلافی کر رہے ہیں ،، کہ کہیں اس کو رنج نہ پہنچ گیا ہو ،،،۔
زندگی شدید مصروف ہو گئی اور اس دوران صرف فون پر رابطہ رہا ،،، اُس وقت تک اپنے ذاتی سکول میں آچکی تھی اور ذاتی قربانیاں بھی چلنے لگ گئی تھیں ،،، ایک دن میں " مالی کمی " کے ہاتھوں پریشان ہو گئی ،، اور سکول کی چھٹی کے بعد انھیں فون کیا ،،، " مفتی صاحب ! بس مجھے 2یا 3 کروڑ چاہیئں ،،، مفتی صاحب فورا" بولے " بس ! (بس کے لفظ کو خوب کھینچا ) میں نے کہا کیوں میں نے اپنی اوقات کے مطابق مانگنا ہے ، بس آپ دعا کریں ،،،، کہنے لگے ،، جس سے مانگ رہی ہے اس کے ظرف کی طرف نظر کر ،،، وہ تو کئی کروڑ لے کر بیٹھا ہے ،، کیا پتہ وہ کتنا نواز دے ! " ،،،، بہرحال ایسے ہی اُن کی تسلی آمیز گفتگو سے دل ہلکا ہو جاتا ، اور کچھ دن اچھے گزر جاتے ! ۔
اسی طرح پھر ایک دن میں نے فون کیا " اور میں نے انھیں بتایا میں نے آپ کو اور شہاب صاحب کو خواب میں دیکھا ہے ،،، انھوں نے خواب سنانے کی فرمائش کی : : : دیکھا کہ ایک محلہ سا ہے ، اور میں ایک گھر میں داخل ہوتی ہوں تو وہ اندر سے بہت کُھلا اور قالینوں سے سجا ہوا ہے ،، جگہ جگہ گاؤ تکیۓ لگے ہیں ،،، صحن میں کچھ لوگ ہیں جو مصروف سے ہیں انہی میں شہاب صاحب بھی موجود ہیں اور وہ دھیمی آواز سے اُن لوگوں کو کچھ کرنے کا کہہ رہے ہیں ،،، میں تو اسی بات سے نہال ہو رہی ہوں کہ شہاب صاحب ، اور مفتی صاحب اکھٹے نظر آرہے ہیں ،،، اور ایک طرف ہو بیٹھتی ہوں، اتنے میں اذان کی آواز بلند ہوتی ہے ، تو وہاں موجودسبھی مرد حضرات ایک کُھلے کمرے میں آکر صفیں بنالیتے ہیں ! اسی دوران کچھ لوگ شہاب صاحب کو کہتے ہیں آپ امامت کرا دیں ، تو وہ ایک نہایت خوبصورت نوخیز ، نوجوان کو بازو سے پکڑ کر امامت کے لیۓ کھڑا کر دیتے ہیں اور خود پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں مفتی صاحب دوسری صف میں کچھ اور لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں ،،، اور میری آنکھ کھل گئی ،،،،، یہ سارا خواب سُن کر مفتی صاحب نے صرف ایک جملہ کہا " کُڑیۓ ،،، لے تُو تے میری نماز پڑھا چھڈی "،،،، جی ہاں یہ جملہ بعد میں مجھے یاد آتا رہا اور تب خیال آیا کہ وہ اس خواب کی تعبیر کو سمجھ گئے تھے ، کہ اب چلنے کا آوازہ آیا چاہتا ہے ،،، اسی آخری فون پر انھوں نے مجھے پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کا فون نمبر دیا ،،،اور کہا ،،، " تم نے انھیں بتانا ہے کہ مجھے آپ کا فون نمبر اور ایڈریس ، مفتی نے دیا ہے " ،،، اور ساتھ ہی کہنے لگے ،،، پروفیسر نوں چھڈی نئیں ،، انھیں روز فون کرنا اور ہر دفعہ کہنا " مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں " اتنافون کرنا کہ تنگ کر ڈالنا ! "،،،، بس یہ ہی میری اُن کی آخری گفتگو تھی ،،، اور اِس دوران میرا فالتو وقت پروفیسر صاحب کو ہر دوسرے دن ایک فون کرنے پر لگ گیا ۔ اور صرف ایک ڈیڑھ ہفتے بعد ، اخبار ، ٹی وی ، ریڈیو پر مفتی صاحب کی رحلت کی خبر سن لی ،،، ایک ایسا بوڑھا ، جس نے جوانوں کو ذیادہ متاثر کیا اور مایوس نہ ہونے کا درس دیا ،،، اُن کی کتاب " لبیک " ہمارے گھر کے ہر فرد نے پڑھی ہوئی تھی،حتیٰ کہ اماں جی اُن دنوں زندہ تھیں اور اللہ سے اُن کی بےتکلفانہ اظہارِ محبت کو بہت انجواۓ کرتیں،، اور ان کی" آخری کتاب" تلاش " تو اللہ کے پیار کا انوکھا انداز لیۓ ہوۓ تھی ! ۔
اللہ تعالیٰ نے بھی کتنے پیارے لوگ دنیا میں بھیجے ہیں ،، کیسے انسانی نفسیات کے ماہر بن کر انھوں نے جو ہو سکا " اچھائی بوئی" ،،، یہ کتنا مشکل کام ہے کہ اپنی برائیوں ، کا علم ہے ،، اور اعتراف ہے ،،، اور انھیں سُدھارنے کی کوشش ہے ،،، اور دوسروں کے دلوں پر مرہم رکھنے کی پوری کوشش بھی ہے ! کم ازکم لوگوں کے راستے کھوٹے نہیں کیۓ ، راستے کے رہبر بنے رہے ،،،، اور ایک عام سے ڈرائنگ روم میں لوگ آ رہے ہیں ،جا رہے ہیں اور کسی کو متاثر کرنے کا کوئی روگ نہیں پالا ہوا۔ امن و سکون کے ساتھ علمی محافل سج رہی ہیں ،،، اور جہاں تک ہم جیسے لوگ ہیں ،، انھوں نے اپنی شہرت کے باوجود ، ہمیں ، کم علمی کا ذرہ جتنا احساس نہیں ہونے دیا، نہ ہی ایسے حد درجہ غنی لوگ، شان دار رہن سہن کے چکر میں ، دوسروں کو گُنگ نہیں کرتے ، واہ مفتی صاحب ، واہ !!!۔
نیچے اُن عظیم ادیبوں سے ملنے کے "محفوظ اور یادگار لمحے "آپ سب کے لیۓ!۔


( منیرہ قریشی ، 18 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعہ، 15 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(62)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 62)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم " (5)۔"
بیٹھک یا ڈرائنگ روم ،،، کا ایک تائثر لے کر ذہن نشین ہو جانا ،،، یا تو میری ہی کمزوری تھی ، یا یہ بات سب ہی میں موجود ہوتی ہے ،،، بس صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ کسی کے عام سے ڈرائنگ روم سے فوری طور پرایسے ، آف ہوجاتے ہیں ،،، کہ پھر گھر والوں کے رویۓ یا اُن کی اقدار بےمعنی محسوس ہونے لگتی ہیں ،،، !جب کہ میں اُن میں سے نہیں ، یا تو کچھ لمحے یا کچھ ماہ میں ضرور لگتے ہیں ۔
واہ کینٹ ، میں ہم 1964ء میں آۓ۔ اور آج الحمدُ للہ 2017ء ہے اور جیسے یہ ہی شہر قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ،،، لیکن اسی چھوٹے سے شہر نے بے شمار کامیابیاں اور خوشیاں بھی دیں ،،، یہاں لاتعداد ایسے لوگ ملے ، جو ہماری زندگیوں کا حصہ بن گۓ۔ جیسا کہ واہ میں آتے ہی ہمارے پڑوسی ، آنٹی ، انکل رشید اور اُن کی چاروں بیٹیاں،،، اور بھی بہت سے لوگ۔ جن کی محبتیں اپنی جگہ یاد گار تھیں اور ہیں۔
جب ہم کبھی کلب جاتیں ، تو وہاں کچھ لوگ ہماری توجہ کھینچ لیتے ،،، انہی میں کرنل رمضان کی فیملی تھی ،،، کرنل صاحب ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچ چکے تھے ، کہ اُن کی پہلی بیوی 9 بچے چھوڑکر فوت ہو گئی ،،، اب اتنے ڈھیر بچوں کی دیکھ بھال کوئی کب تک کر سکتا تھا ،،، انھیں دوسری شادی کا مشورہ اچھا لگا، ، اور قسمت کا قرعہ نسرین باجی کے نام نکلا ۔ رشتہ کروانے والی نے جب سب سے چھوٹے چار ماہ کے بیٹے کو اُن کی گود میں ڈالا ۔ تو وہ کانپ گئیں۔ کہ شاید یہ ہی اُن کی قسمت تھی اور اُس حسین و جمیل خاتون نے جو خود بھی بہ مشکل پینتیس کی تھیں ،،، ہاں کر دی ! خود کرنل صاحب خاصے کم شکل تھے، ماں بھی سادہ سی ہوگی ۔اب بچے ملے جُلے تھے ،،، کیوں کہ سادہ مزاج ، سادہ دیہاتی پس منظر نے اور اوپر تلے کے بچوں نے شاید ہی کچھ سوچنے کا موقع دیا ہو ،،، اور یہاں نسرین باجی ،، جو نہایت کلچرڈ ، خوب صورت ، پڑھی لکھی آئیں تو جیسے کرنل صاحب کی ہی نہیں بچوں کی بھی کایا پلٹ گئی،،، وہ خودپہلے سےایک بیٹی کی ماں بھی تھیں ، ، لیکن جب ہمارا ، اُن سے ذیادہ آنا جانا شروع ہوا،، تو وہی چار ماہ کا بچہ چھٹی جماعت میں پہنچ چکا تھا ،،، کرنل صاحب ریٹائر ہو کر اپنے ذاتی گھر میں آچکے تھے جوہمارے گھر کے نزدیک ہی تھا ،،، یہ ایک ڈبل سٹوری ،بڑا گھر تھا،،، جہاں کرنل صاحب کی بڑی فیملی ممبرز ہی نہیں ،، سماگئی بلکہ ،، دو شادی شدہ بچیوں کے بچے بھی وہیں نظر آتے ،، کہ ان کے تعلیمی مسائل ایسے چل رہے تھے کہ انھیں نانا، نانی کی طرف رُکنا پڑتا۔ 1979ء میں جوجی کی شادی کی تیاری ہورہی تھی ، اور ٹپیکل انداز سے آپا کے گھر رضائیاں بنائی جارہی تھیں ،،، نسرین باجی ، نے آپا کے گھر کے دروازے کی بیل بجائی،تو آپا حیران ہو گئیں ،،، سلام دعا کے بعد اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھایا، تو انھوں نے اپنے آنے کا مقصد بتایا کہ، کل سے عزیز نے تکرار کی ہوئی ہے کہ " میری "مِس " کی شادی ہونے جا رہی ہے ،،، آپ اکثر ملنے والوں کے گھراس موقع پر جا کر کسی مدد کا پوچھتی ہیں ،، میری مس کے لیۓ بھی کوئی کام پوچھ کر آئیں ! "( دراصل اُن دنوں جوجی ،اُس کے سکول میں ٹیچنگ کر رہی تھی اور وہ بچوں میں پاپولر بھی تھی ، ایک پسندیدہ ٹیچر کے لیۓ تو اس کی عقیدت کا اظہار تو بنتا ہے) آپا نے بتایا سب کام ہو گیا ہے ،،، بس آج کل رضائیاں " نگندنے" کا کام چل رہا ہے ،،،اور حیرانی اس بات پر ہوئی کہ انھوں نے اس " پرانے روایتی " انداز کے ہنر کے متعلق سن کر کہا " میں دیکھتی ہوں ،، نہ آیا تو سیکھ لوں گی، اور اگلے دن وہ صبح 10 بجے آ پہنچیں،،، باہر صحن میں دری پر ریشمی رضائی بچھی ہوئی تھی ،، اور انھوں نے بس 15 منٹ سیکھنے میں لگاۓ اور آپا کی طرح ہی نفاست سے پھولوں کے ساتھ ٹانکے لگانے لگیں ،،، میں بھی وہیں تھی ،، اور ایک نہایت ماڈرن ، خوب صورت ، اور بہت رکھ رکھاؤ والی خاتون ،، رضائ میں ڈورے ڈال رہی تھیں اور خوش دلی سے یہ کام کیا جا رہا تھا ، ساتھ ساتھ ایسے گپ شپ ہورہی تھی جیسے بہت عرصے کی واقفیت ہے ، کوئی شک نہیں کہ ہم سب انھیں " ایڈمائر " کر رہی تھیں۔ ایک دفعہ چاۓ کا وقفہ ہوا ،، اور پھر کام شروع ،، ٹھیک ایک بجے وہ اُٹھ گئیں کہ ، باقی کل آؤں گی ، کرنل صاحب کے کھانے کا وقت ہونے والا ہے ۔ اور یوں نسرین باجی آٹھ دن متواتر آتی رہیں ، ہم نے انھیں شادی کا کارڈ بھجوا دیا ۔ 
شادی کی فراغت کے بعد ، آپا نے کہا" ہمیں نسرین کا شکریہ ادا کرنے جانا چایئے ۔ واقفیت نہ ہونے کے باوجود اُس نے اپنے بیٹے کی خوشی کو مقدم سمجھا، اور آتی رہی" ،،، گھر تو قریب ہی تھا،میں اور آپا ایک شام فون کر کےپہنچ گئیں ۔ نہایت باذوق انداز کی ڈرائیو ، وے ،، بر آمدہ ،، اور پھر " ڈرائنگ روم " ،،،، ! خوب بڑا ڈرائنگ روم ،،، جس میں نفاست ، ذوق اور شہانہ انداز تھا، قیمتی قالین ، صوفے ، اور ہر کونے میں ڈیکوریشن کے لیۓ خوبصورت اشیاء ،،اس کی دیواروں پر ، نہ صرف آرٹسٹک دو تین تصاویر تھیں ، بلکہ کالی لکڑی کے بنے افریقی ، قبائل کے مختلف چہرے بھی لٹکے ہوۓ تھے جو میں نے پہلی مرتبہ کسی کے گھر دیکھے ،،، ان کی دیواروں ، یا کارنرز میں بہت سے غیرملکی اشیاء سجی ہوئی تھیں ، جو اُن کے غیر ملکی سیاحت میں لائی گئی ہوں گی !، ،، گویا ،، وہ ڈرائنگ روم ،،، ایک کافی خوشحال ،، آسودہ حال ،، لیکن بہت باذوق اہلِ خانہ کی نشان دہی کر رہا تھا ۔ اسے دیکھ کر کسی " ڈیکوریشن سٹور " کا احساس نہیں ہوا جیسا کہ اکثر خوشحال گھرانوں میں ہر اچھا پیس سجانے کا رواج ہوتا ہے ، اور نتیجتاً وہ ڈیپارٹمنٹل ،،،سٹور نظر آنے لگتا ہے ،، مزید یہ کہ اِن سب پر جو دھول جمی ہوتی ہے ، اسے صاف کرنا بھلا دیتے ہیں ،،،! ہمیں ڈرائنگ روم میں '" اصغر " نے رہنمائی کر کے بٹھایا ،،، ( اصغر اِن کے گھر میں پلا بڑھا ، اور اس فیملی کا حصہ تھا ، یہیں اس کی شادی کی گئی ، اور آج وہ جوان بچوں کا باپ ہے ۔ لیکن اسی گھر سے وابستہ ہے )یہ وہ دور تھا جب ڈرائنگ روم میں ہلکی لائیٹس، ( جنھیں رومینٹک لائٹس کہا جاتا تھا ،) کا رواج تھا ،وہی وہاں بھی لگی تھیں ،میَں اور آپا ، پینڈو سوچ والے ، اصغر کے جاتے ہی میں نے ایک لائٹ اور جلا دی ۔ کہ اگلے منٹ نسرین باجی آ گئیں، اور نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال ہوا ، آپا ، شکریۓ کے طور پر ایک کیک لے گئی تھیں ، انھوں نے بےتکلفی سے آپا کا نام لے کر کہا ، آئندہ آپ یہ تکلف نہیں کریں گی،،،،،! ( وہ آپا سے چھوٹی تھیں )۔ لیکن " چھوٹی بننے کے" چاؤ " یا " کومپلیکس " سے ماوراء ہو چکی تھیں ،، وہ مجھے بھی ، جو چند سال اُن سے چھوٹی تھی ،،، کو بھی " بیٹا بیٹا " کہتی رہیں ۔
بس چند منٹ کے بعد خوب صورت گلاسز میں " کولڈ ڈرنکس" آگئیں ،، اور اگلے دس منٹ میں عزیز ( جوجی کا سٹوڈنٹ ) ، اور کبھی ایک بیٹی ، کبھی دوسری ،،، اور یوں ڈرائنگ روم ،،باتونی چڑیوں کی چہکار سے بھر گیا ۔ وہ اتنے بھرپور طریقے سے اپنی باتیں ہم سے کر رہی تھیں کہ سمجھ نہیں آرہا تھا ، ہم ماں کی سہیلیاں بن گئیں ہیں یا بیٹیوں کی !! ۔
جیسا میں نے شروع میں لکھا ، کرنل صاحب کی اپنی سات بیٹیاں ، نسرین باجی کی اپنی خوبصورت بیٹی، اور ایک کرنل صاحب سے ان کی مشترکہ بیٹی بھی ،، کمرے میں آتی جاتی رہیں ،،، جس وقت ہم ان کے گھر پہنچیں عصر کا وقت تھا ، اسی دوران گپ شپ کا وہ دور چل رہا تھا کہ ایک دفعہ مغرب کی نماز کے لیۓ رخصت ہونا چاہا ،، نسرین باجی نے کہا " یہ چار قدم تک تو جانا ، یہیں پڑھیں ،، کچھ دیر اور رکیں ،، محبت کے اس اصرار میں بڑی تینوں ، چاروں بیٹیاں بھی شامل ہو گئیں ،، مغرب وہیں پڑھی ، اور پھر عشاء کی اذان بھی ہوئی ،، تو جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوۓ ۔ لیکن ہمارے سادہ سے ڈرائنگ روم کے مقابلے میں یہ ڈرائنگ روم نسرین باجی کے اعلیٰ ذوق کا غماض تھا ، لیکن انھوں نے جس محبت ، اور عزت کا اظہار کیا ، اس میں انھوں نے کسی بھی قسم کا " شو آف " کا یا تکبر کا یا بڑبولے پن کا لمحہ بھر کے لیۓ بھی شائبہ نہ آنے دیا ،،، بلکہ اُن کی بیٹیوں سے ایسی بے تکلفی ہوئی کہ دل چاہتا روز ملا جاۓ ،،،( اور یہ دوستی آج بھی چل رہی ہے ) سب ہی بیٹیاں ، ایک سے بڑھ کر ایک ذہین ، بلکہ قابل ، اورکسی نا کسی وصف سے آراستہ ،سب سے بڑی بات کہ " نسرین باجی "نے 9 بیٹیوں اور دو بیٹوں کو سگی ماں سے بڑھ کر پیار دیا ، انھیں سنوارا ،، انھیں آرگنائز کیا،،انھیں نماز روزے کا پابند کیا ،،، جب کہ دیکھنے میں یہ ساری فیملی، اتنی ماڈ نظر آتی تھی کہ اجنبی لوگ اُن سے ملنے سے گھبراتے تھے ،،،،،۔
نسرین باجی کے ذوق کی جھلک ہر بیٹی کے اندر واضح نظر آتی ہے ،، ایک " ورسٹائل خاتون "،،،،، حیران کن صلاحیتوں سے مزین ،،، لیکن عاجزی کے وصف سے آراستہ !!!! اب وہ کینیڈا رہائش پزیر ہیں ۔وہ جہاں ہوں ، اللہ انھیں آسانیاں عطا کرے آمین !۔
( منیرہ قریشی ، 15 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 13 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(61)۔

یادوں کی تتلیاں" (61)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ڈرائنگ روم " (4)۔"
زندگی بھی کبھی کبھار ایسی جگہ لے جاتی ہے ، جہاں انسان کی سوچ بھی نہیں جا سکتی ،، تو کجا یہ کہ خود وہاں جا بیٹھے ،، اس گھر کے رزق میں سے بھی حصہ لے بیٹھے ،،، اور پھر زندگی بھر ، کے لیے ذہن پر ایک الگ نقش لے کر محفوظ کر بیٹھے ،،، کہ جب " اُس محلے ، اُس سڑک پر گزر ہو جاۓ ،،، تو پردہ ہٹ جاۓ ،،، اور وہ کردار ، وہ دن ، وہ ڈرائنگ روم لمحے بھر کے لیۓ ہی سہی ، لیکن جھلک دکھا جاتے ہیں۔
یہ یاد نہیں آرہا ،، کس کے لیۓ جیولری خریدنی تھی،،، لیکن مری روڈ کے " سُوقِ ادریس " مارکیٹ تک پہنچے تو بیشتر دکانیں بند تھیں ،، یا آدھی ، کھلی آدھی بند والا سلسلہ تھا ۔ خود ہمارے جیولر کی دکان بھی ابھی بند تھی ، پتہ چلا اتوار کے دن یہ بازار کچھ دیر سے کھلتا ہے ،،، اباجی ، میں اور آپا ،تھے ،،، بہت بے زاری ہوئی ،، کہ اب وقت کیسے گزارا جاۓ کہ جیولر مارکیٹ کے کھلنے تک کہاں جائیں کہ جو نزدیک جگہ ہو ۔ اباجی کہنے لگے ،، ، پریزیڈنٹ ہاؤس کی ڈیوٹی کے دوران " بریگیڈیر ادریس"سے کچھ علیک سلیک ہو گئی تھی ،، بہت اچھے لوگ ہیں،پتہ کرلیتا ہوں ، ہو سکتا ہے وہ یہیں ہوں ،،، اور گاڑی" سُوقِ ادریس "مارکیٹ کی پچھلی جانب لے گۓ۔ ایک پرانے سے کُھلے ہوۓ گیٹ سے داخل ہو گۓ۔اچھی لمبی ، چوڑی ڈرائیو وے تھی۔ اور پرانی طرزِ تعمیر والی کوٹھی تھی ،، جیسے انگریز کے دور میں ہوتی تھیں ۔ بلکہ وہ کوٹھی خود بھی" عمر رسیدہ" سی تھی ، ہم گاڑی میں بیٹھی رہیں ،،، اور اباجی خود ہی اُتر کر گئے،معلوم کر کے آۓ تو کہا " برگیڈئر صاحب خود تو گھر پر نہیں ہیں ، لیکن اُن کی بیگم کا اصرار ہے کہ آپ میرے پاس کچھ وقت گزاریں ۔ کچھ دو دلی کیفیت سے ہم دونوں بہنیں اباجی کے ساتھ چند سیڑھیاں چڑھ کر پہلے چوڑے سے برآمدے تک پہنچیں ،،،تو دو مرد اور ایک عورت کافی غریبانہ حلیۓ میں بےفکری   کے سٹائل میں بیٹھے تھے ۔ داخلی دروازہ کھلا تھا اورہم پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوئیں ،،، دائیں  ہاتھ خوب کُھلا ، بڑا کمرہ تھا جو ڈرائنگ روم کا منظر پیش کر رہا تھا ،،،، وہاں دو صوفہ سیٹ نہ صرف پرانی طرز کے تھے بلکہ خود بھی پرانے تھے۔ چوں کہ کمرہ بڑاتھا اس لیۓ دو سیٹ صوفوں کے باوجود تنگی کا احساس نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ درمیان میں دو ہی میزیں پڑی تھیں۔ ،،،، دیواروں پر جابجا  برگیڈیئر ادریس صاحب کی فوجی ادوار کی تصاویر لگی ہوئی تھیں، ایک دو خود مسٹر مسز کی جوانی کی تصویریں تھیں ،،،، اس کے علاوہ بہت پرانے چھوٹے چھوٹے گلدان یاد ہیں ،،، کوئی قابلِ ذکر ڈیکوریشن نہیں تھی۔ البتہ دو طرح کے قالین جو بچھے تھے ،، کبھی قیمتی اور خوش رنگ رہے ہوں گے ،، لیکن اب بدرنگ اور کافی پرانے ہو چکے تھے ،،، صفائی کا معیار بھی واجبی سا تھا ،،،،،،،،،،۔
یاد دلا دوں کہ یہ 1979ء 78ء کی بات ہے ،، گویا پنڈی میں نہ تو ذیادہ رش کا شور تھا ، نہ ہی آج کی طرح یوں لوگوں کا اژدھام تھا ،،،،" ویلیوز " کے پردے ابھی لہرا رہے تھے " پھَٹے " نہ تھے۔اسی ڈرائنگ روم کے ساتھ ہی ڈائیننگ روم تھا جو تھوڑے سے اوپن پارٹیشن کے ساتھ تھا، وہاں بارہ کرسیوں والا ڈائیننگ ٹیبل اور کرسیاں دھری تھیں ،، اور باقی کسی قسم کی ڈیکوریشن نہ تھی ، البتہ پردے تمام کھڑکیوں ، دروازوں پر موجود تھے۔ اور شاید اس کے بعد جو ایک دروازہ نظر آرہاتھا وہ کچن ہو گا ،، کہ کسی وقت کسی برتن کی آواز آجاتی ،،۔ 
ڈرائنگ روم ،،، کی حالت قطعی ایسی نہ تھی ، کہ کوئی اچھا تائثر لیا جاسکتا،،، جتنا ادریس صاحب کے اعلیٰ خاندانی پس منظر نے ہمارے دلوں پر اثر کیا ہوا تھا،،،، کہ وہ دونوں کسی نواب فیملی سے تعلق رکھتے تھے ،،، اور یہ مری روڈ پر موجود " سوقِ ادریس " انہی کی تھی اسی لیۓ اُن کے نام پر تھی ۔ یہ بڑی سی کوٹھی شاید خود خریدی تھی ،،، اس زمانے میں زمینیں سستی تھیں ،،، اب اُن دونوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا دور اسی میں گزر رہا تھا۔ چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ایک بہت باوقار ، خوب صورت ، دبلی پتلی ، مسکراتی ، ریشمی ساڑھی میں ملبوس خاتون اندر داخل ہوئیں۔ اور بہت اچھے سے انداز سے سلام دعا کی،، اُنھوں نے ہم دونوں بہنوں کو گلے لگایا ،،، اور اباجی سے کہا " تو میجر صاحب یہ ہیں آپ کی بیٹیاں " ،،، ہمیں بٹھایا ،، اور اسی دوران ایک 15،14 سالہ لڑکی دوپٹے میں لپٹی ، شربت کا ٹرے رکھ گئی۔ مسز ادریس ، نے شربت لینے کا کہا ، اور وہ ہمارے نام اور کام کا پوچھنے لگیں ، یہ سن کر کہ ہم " شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریوں اور بچوں کی پرورش میں مصروف ہیں ،،، تو انھوں نے خوشگوار انداز سے سراہا ،،، " یہ بھی تو اہم ترین ڈیوٹیاں ہیں " کچھ دیر وہ اباجی کے ساتھ ،، صدر ایوب کے بارے میں ،،، اور پھر برگیڈیر صاحب کی مسلسل گرتی صحت کے بارے میں بات کرتی رہیں ، کہ اس دوران دوپہر کا ایک بج گیا ،،، اباجی فوراً اُٹھے ،،، شاید باتوں میں انھیں وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا ،،، اور اجازت چاہی ،،، مسز ادریس نے شُستہ اور اپنائیت کے لہجے میں کہا ،،،" میجر صاحب ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کھانا کھاۓ بغیر چلے جائیں ،،، آپ کو اندازہ ہے ادریس صاحب کتنا بُرا منائیں گے ،،، " یہ جملے اتنے اصرار سے کہے گۓ کہ ہم مجبوراً بیٹھ گۓ ۔ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دو مرد اور پھر ایک باوقار عورت سلام کر کے آنے کی اجازت چاہی۔ انھوں نے خوش دلی سے اور بہت نارمل انداز سے انھیں "ویلکم" کیا ،، جیسے یہ روز کے آنے والے ہوں ۔ بعد میں پتہ چلا ، دونوں مرد الگ الگ اپنے کام سے اور خاتون اپنے کام سے آئی تھیں۔ اتنے میں وہی بچی سامنے نظر آئی اور وہ اُن کے لیے بھی شربت دے گئی ،،، مسز ادریس نے سب کے لیۓ وہیں کھانا لگانے کا کہا ،،، اور ابھی کچھ اور منٹ گزرے تھے کہ ایک بابا جی جو خاصے بزرگ تھے ، ہاتھوں میں صرف ہاٹ پاٹ پکڑے آۓ اور اُن درمیانی میزوں پر رکھ دیا،، پھر ایک اوربزرگ اسی حلیۓ اور عمر کے آۓ اور برتنوں کی ٹرے لا کر ہمارے سامنے رکھ دی۔ دونوں نے کوئی سلام نہیں کیا اور نہ ہمیں نظر بھر کر دیکھا ،،، اور یوں پھر پہلے بزرگ ایک ڈونگا پکڑے لشٹم پشٹم آۓ اور رکھ گئے ،،، مسز ادریس نے پلیٹیں لینے کا اشارہ کیا اور بسم للہ کرنے کا کہا ،،،ہاٹ پاٹ میں روٹیاں بھری ہوئی تھیں ، اور ڈونگے میں دال مونگ تھی ،،،،، ہم نے کھانا شروع کیا ابھی چار نوالے لیۓ ہوں گے کہ دوسرے بزرگ ایک ڈونگا لاۓ اور دھر دیا ،، مسز ادریس نے اس کا ڈھکن اُٹھایا ،، تو مرغی کا سالن تھا ، سب نے تھوڑا اور سالن ڈالا ،،،، ابھی اس کی بھی چار نوالے لیۓ تھے کہ دونوں بزرگ آگے پیچھے ایک ایک ڈونگا لیۓ آۓ اور رکھ کر چلے گۓ ،، میں یہ مناظر پہلے بےزاری سے اور اب دلچسپی سے دیکھنے لگی ۔اِن ڈونگوں میں سبزیوں کی بھجیا تھیں ،، مجھے تو مزید کی چاہت نہیں تھی ،،، لیکن اباجی اور آپا نے تھوڑا سا لیا اور ، لنچ کا دورانیا ختم ہوا ،،،، دونوں آنے والے مرد مسلسل بولتے رہے ، کبھی آپس میں اور کبھی مسز ادریس کے ساتھ ! خاتون بالکل خاموش تھیں ،،، سب نے کھانا کھا لیا ،، تو مرد حضرات نے اپنے کام کی یاددہانی کا کہہ کر رخصت چاہی ،،، ہم نے بھی شکریہ ادا کیا اور اُن کو بھی کبھی واہ آنے کا کہا ،،، لیکن مسز ادریس نے آج ہی میزبانی کے سبھی حق استعمال کرنے تھے کہ ،، " ارے بھئ اب چاۓ بن چکی ہوگی وہ تو پی کر جائیے گا ، اماں بی ،، چاۓ لاجواب بناتی ہیں " ،،، اور ویسے بھی آپ نے بازار کوئی دور تو جانا نہیں ، ساتھ ہی تو دکانیں ہیں"،،، اور ہم پھر اس نہایت عام سے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گۓ۔ جس کے " مالکوں " نے لنگر کھولا ہوا تھا ، ، اسی دوران مسز ادریس نے معذرت کر کے کچھ دیر کے لیۓ اندر گئیں ۔ تو وہاں بیٹھی درمیانی عمر کی باوقار خاتون سے آپا نے باتیں شروع کردیں ، انھوں نے بتایا ،،، مسٹر،مسز ادریس بہت ہی عجیب اور عظیم ، لوگ ہیں یہ ،جو آپنے باہر بر آمدے میں بیٹھے " فقیر " لوگ دیکھے ہیں یہ عین ساڑھے بارہ بجے آ جاتے ہیں ، ابھی اور بھی لوگ آگۓ ہوں گے یہ سب یہیں دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں ،،، اور یہ دونوں بزرگ دنیا میں بالکل تنہا ہیں ، لیکن کچھ کام کر کے کھانا چاہتے ہیں ،، آپ نے ان کی عمر اور صحت دیکھ لی ہے ،، مسز ادریس کے نزدیک یہ ہی کام سب سے آسان تھا لہذٰا یہ کام کہ کھانا لگانا اور دینا کرہی لیں گے ، اب جو رفتار اور طریقہ ہے ،،دیکھ ہی لیا ہے ،،، کیا مجال کہ انھیں کوئی ٹوک دے ،،، اتنے میں مسز ادریس آگئیں اور ان کے ساتھ وہی بچی پھر چاۓ کی پیالیوں کی ٹرے رکھی اور چلی گئی،،، اسی دوران کھانے کی میز کی طرف دو پیارے سے بچے عمر 7 اور 8 سال آۓ ، ایک ٹیوٹر آۓ اور پھر وہ بچی بھی آگئی ،، اور پڑھائی ہونے لگی ،،، اس خاتون نے بچی کے بارے میں پوچھا کس جماعت تک پہنچی ہے ؟ تو انھوں نے بتایا ، " میٹرک " میں اس سال گئی ہے ،،، پھر ادھر اُدھر کی باتوں کے دوران مسز ادریس نے بتایا یہ دونوں بچے میرے نواسے ہیں اور میری بیٹی میرے ساتھ ہی رہتی ہے ، چاۓ ختم ہوئی اور ہم نے شکریۓ کے ساتھ اجازت لی ،،، باہر بر آمدے میں دو تین فقیروں کا مزید اضافہ ہو چکا تھا ،،، اور جناب ،، لان میں کچھ آوارہ کُتے بھی کھانے کے منتظر تھے ، ،،،،،،،،،،،،،،،۔
صرف کچھ عرصے بعد اتفاقاً اسی اجنبی خاتون سے ایک تقریب میں ملاقات ہو گئی ،،،وہ بھی پہچان گئیں ، اور مسز ادریس کا ذکرِخیر ہوا ۔۔۔ انھوں نے بتایا ، وہ جو ایک نوجوان لڑکی آپ نے اُن کے گھر دیکھی ہو گی ،،، وہ کوئی ان کے دروازے پر چھوڑ گیا اور انھوں نے اسے پالا پوسا ،،، اور بعد میں وہ بی اے تک پہنچی اور شکر کہ اس کی شادی بھی مسز ادریس نے اپنے ہاتھوں کر دی تھی ، ،،اور کچن کے کام کے مزید بزرگ خواتین بھی بےبس اور بےآسرا تھیں ،، وہ مسز ادریس کی مکمل ذمہ داری میں تھیں ، اُسی سے علم ہوا کہ ادریس صاحب انتقال کر چکے ہیں اور اُن کی مسز بھی ہاسپٹل میں ہیں ،، !وہ اُس عام ،،، بلکہ بالکل ہی عام سے ڈرائنگ روم ،،، کو جب بھی یاد کرتی ہوں ،،، تو دل سے اُس کے مکینوں کی قدر محسوس کرتی ہوں ،،، دل سے ان کو سلام پیش کرتی ہوں ،،، وہ ایسے لوگ تھے جنھوں نے زندگی میں سے " اپنی ترجیحات " چُن لی تھیں ،، اور پھر وہ "بےنیاز " ہو گے تھے ،،،،، توکل اور بےنیازی کی دولت کا اور پیسے کی دولت کاحسین امتزاج، اور صحیح استعمال کم ہی دیکھنے میں آیا ہے ،،، پیسے کی دولت تو ہم سب کے پاس اکثر ہوتی ہے ،،، اسے اپنی آرام و سکون کے لیۓ استعمال کرنا گناہ نہیں لیکن ،،،، اگر مخلوقِ خدا کی خدمت اور انسان کی عزت کا جذبہ ،، بغیر ناک بھوں چڑھاۓ ساتھ ساتھ چلے تو کیا ہی بات ہو ،،،، تو کوئ اگرآپ کے ڈرائنگ روم سے احترام اور میزبانی کا سلوک لے کر گیا،، توآپ کو ہی یاد کرے گا ، آپ کو سراہے گا ، آپ کے لیۓ دعاگو ہو گا۔ آپ کے شاندار ڈرائنگ روم کو کوئی یاد نہیں رکھے گا ۔ ہمارے لیۓ رہ جانے والے یہ ہی اعمال ہیں ۔ کبھی کبھی شاندار ڈرائنگ روم ،،، کتنے تنہا ہوتے ہیں ،،،،،!۔
( منیرہ قریشی، 13 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

منگل، 12 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(60)۔

 یادوں کی تتلیاں " (60)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ڈرائنگ روم " (3)۔"
۔1980ء 82ءکا دور تھا ، جب میری گود میں میری بیٹی بہ عمر ایک سال نِشل اور اُس سے دوسال بڑا ہاشم تھا ،، علی تو اب کلاس چہارم میں تھا ! اور میں ابھی ، کہیں جاب میں نہیں تھی۔ مکمل طور پر گھریلو ذمہ داریاں پوری کر رہی تھی، اتنے پیارے بچوں کے ہوتے ہوۓ، آس پاس مہربان ہاتھوں کےہوتے ہوۓ بھی ۔ لیکن میں دن بہ دن ڈیپریشن کا شکار ہورہی تھی،،،، جوجی اچھی ڈرائیوکرلیتی تھی ،،،، جب کہ میں نے بی اے کے فوراً بعد اباجی کے ڈرائیور محمدخان سے ، اباجی کی ووکس ویگن چلانا سیکھی تھی ، ،، بعد میں دو، تین سال چلائی، شادی کے بعد تک چلائی ،، لیکن پھر میں " ریورس " میں آگئی ،،، پہلے جڑواں بچوں ، پھر پانچ سال بعد اوپر تلے کے دو بچوں کی ذمہ داریوں نے ڈرائیونگ کی سُدھ بُدھ بُھلا دی ،،، اب جوجی ہی کہیں جانا ہوتا ،تو لے جاتی ، میں اور جوجی ، اکثر ساتھ ہی ہوتیں، لیکن اُن دنوں میرا کہیں جانے کو دل نہیں چاہتا تھا ،، جوجی زبردستی ، کوئی نا کوئی پروگرام سیٹ کرتی اور میں بادلِ نا خواستہ ساتھ چل پڑتی ،،، ہماری ذیادہ تر دوڑ اسلام آباد ،،، شاہدہ کے گھر یا ، واہ کے آس پاس خوبصورت لوکیشنز تک رہتی ۔ لیکن بات میرے لیۓ بڑھتی جا رہی تھی ، ، ایک مرتبہ ہم شاہدہ کے پُرجوش بلاوے پر لمبا ہفتہ گزارنے گئیں ،،، تو جیسا میں نے لکھا تھا کہ شاہدہ وسیع حلقۂ احباب رکھتی ہے، ،،، وہ دوستوں کی دوستی نبھانا ہی نہیں جانتی بلکہ اُن کے مسائل کو حل کرنے میں بھی پیش پیش ہوتی رہی ہے ۔ چناچہ ،،، اِس مرتبہ جب اُس نے محسوس کیا کہ میں کچھ ذیادہ ہی چُپ ہوں ، بےزاری حد سے ذیادہ حاوی ہے ،،، تو اگلے ہی دن اُس نے کہا ، " میری کلاس فیلو آج کل آئی ہوئی ہے وہ لاہور ہوتی ہے ،،، اور خاص بات یہ ہے کہ " شہاب صاحب اُس کے ماموں ہیں اور اُنہی کے گھر رہتے ہیں " ہمارے تو دل کی دھڑکنیں ہی تیز ہو گئیں ،،، اور شاہدہ کو مجبور کیا کہ جتنی جلد ہوسکے وقت لو ! ،،، اُس نے شہاب صاحب کی بھانجی ثمینہ سے وقت لیا اور اُس نےاسی دن ذرا لیٹ نائٹ آنے کا کہا ،ہم پہنچ گئیں،،، ثمینہ نے شاہدہ کو بتا دیا تھاکہ شہاب صاحب جلدی سونے کے لیۓ اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں اس لیۓ جلدی آنے کی کوشش کرنا ورنہ  
ملاقات نہ ہو پاۓ گی،یہ شہاب صاحب کا گھر نہیں تھا ،، اُن کی بیوی فوت ہو چکی تھیں ،،، بیٹا اب بڑی کلاسز میں تھا (شاید) ، وہ درویش بندہ الگ گھر کا کیا کرتا ۔اس لیۓ وہ بہن کے گھر ہی ایک کمرے میں قیام پذیر تھے ،، ہمیں احساس ہو گیا ،، یہ شہاب صاحب کے آرام کا وقت ہے جو ہماری درخواست پر ہمیں دیا جارہا  ہے،رات کے قریباً ساڑھے آٹھ یانو بج چکے تھے ،،، ہم تینوں اس با وقار لیکن سادہ انداز سے سجے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئیں ، کونوں میں تصاویر تھیں جو کارنر ٹیبل پر سجی تھیں ،،، ایک طرف ٹی وی ٹرالی بھی تھی ، ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں ، اور یہاں ایک مکمل صوفہ سیٹ تھا ، اور ساتھ دو اور سنگل صوفے بھی پڑے تھے،ثمینہ اور اُس کی نہایت درجہ دُبلی پتلی امی نے ہم سے علیک سلیک کی ، گرمیوں کے دن تھے ، فوراً ہی شربت پیش ہوا ،،، اور وہ دونوں شاہدہ سے باتیں کرنے لگیں ،،، یقین کیجۓ ،، مجھ پر بےوجہ کا غصہ اوربےزاری کا پارہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اسی کیفیت کےساتھ میں باہر جانے والے راستے کی طرف دیکھنے لگی ،، حالانکہ کُل 20 منٹ گزرے ہوں گے ،، کہ جوجی اور شاہدہ کے سلام کی آواز پر میں نے مُڑ کر دیکھا ،،، سفید کُرتے پاجامہ ، میں ایک دُبلے ، باوقار ، مختصر قامت کے بزرگ داخل ہوۓ ، سفید بال ،سفید چھوٹی داڑھی ، انھوں نے دھیمے انداز سے وعلیکم السلام کہا اور صوفے پر بیٹھ گئے، ہم تینوں ذرا سائڈ پر بیٹھی تھیں ، ثمینہ نے شاہدہ کا تعارف کرایا ،، اور کچھ دیر کے لیۓ اندر چلی گئ ، شاہدہ نے شہاب صاحب کو بتایا ، یہ میری سہیلیاں واہ سے آئی ہیں ، آپ سے ملنے کا شوق تھا وغیرہ ،،، جوجی نے میری طرف دیکھا ،، مجھے کچھ یاد ہی نہ آیا کہ اُن سے کہوں ، میں آپ سے کچھ عرصہ پہلے ، ابنِ انشا صاحب کے ہمراہ مل چکی ہوں ، ، بس مجھ پر چُپ طاری تھی اور میں  خالی ذہن کے ساتھ اُن کو دیکھ رہی تھی، جوجی نے اُنھیں کہا آپ ہمارے لیۓ دعا کریں ،،، انھوں نے نظریں خبروں کے چینل پر لگائی ہوئی تھیں ، اور کہا " جی بہتر " ،،،، جوجی نےپھر کہا آپ نے اِس کے لیۓ دعا کرنی ہے " ،،، انھوں نے مجھے ایک سیکنڈ کی نظر ڈالی ،،، اور چُپ رہے ! بس یہ 7، 8 منٹ کی ملاقات ہوئی اور ہم اُٹھ کھڑی ہوئیں ، وہ بھی اُٹھ کھڑے ہوۓ ،، ثمینہ کی امی کو خدا حافظ کہا ،، باہر جانے کے لیۓ مڑیں تو میں نےتب ذرا اُونچا اور سخت آواز میں کیا " آپ نے میرے لیۓ ضرور دعا کرنی ہے " ،،،، اور وہ پُرسکون چہرے والا بولا " کیوں نہیں " ! اور میں جیسے مطمئن ہو گئی  اور اُس درمیانی سجاوٹ والے درمیانے سائز والے مہمان خانے سے ہم باہر آگئیں جس میں "اللہ کے پیارے لوگ"رونق افروز تھے۔جس پر اللہ کی کرم و فضل کا اظہار یہ تھا اس گھر میں سے سکون کی لہریں محسوس ہوئیں۔
ایک آدھ سال ہی گزرا تو دوسری مرتبہ شاہدہ ہی کی تواسط سے پھر حاضری دینے کا موقع ملا ،لیکن یہ نہایت مختصر دورانیہ تھا اس دفعہ بھی شہاب صاحب اُسی حُلیۓ میں تشریف لاۓ ، اس دفعہ یہ ڈرائنگ روم ،،، کچھ ذیادہ پرانا تائثر دے رہا تھا ،،، اور
بہت بعد میں مجھے خیال آیا ،، جس ڈرائنگ روم میں دن بھر نہ جانے کتنے " وفُود" شہاب صاحب سے ملنے آتے رہے ہوں   گے ،، کتنے ہی لوگ شہاب صاحب کی بہن ،بہنوئی اور اُن کے بچوں سے ملنے آتے ہوں گے ، اُس کا بار بار صفائی کا کتنا بکھیڑا ہوتا ہو گا ،،،یہ تو صاحب خاتونِ خانہ ہی کی ہمت تھی کہ کم از کم وہاں پھٹے قالین نہیں تھے ، اور صاف صوفے ، اور مکمل ڈسٹنگ کیا ہوا ، ڈرائنگ روم تھا ،، اور یہ سادہ اور کم قیمت اشیاء والا ، مہمان خانہ ،،، سب کے لیۓ کُھلا ہوا تھا ۔۔ دوسری مرتبہ بھی دعا کرنے کی تکرار کے ساتھ ہم اُٹھ گئیں ۔لیکن مجھ پر اطمینان کی کیفیت طاری ہونے لگی ،،، کہاں تو یہ کہ زندگی سے بےزاری بڑھتی جا رہی تھی ،،، کہاں یہ حال ہوا کہ ہر لمحہ ، ہر بات میں دلچسپی پیدا ہونے لگی ۔ ڈیپریشن کا فیز خیریت سے گزر گیا ۔ لیکن شہاب صاحب کی ایک لمحے کی نظر نے پھر کام کر دکھایا !! مگر میں آج بھی اُس نہایت سادہ سے باوقار ڈرائنگ روم کو یاد کرتی ہوں ، جہاں نہایت " قیمتی " لوگ ، مخلوقِ خدا کو "خدا " کا راستہ دکھا رہے تھے ،،، لوگوں کو عزت دے رہے تھے۔ تو دلوں میں لوگ رہ جاتے ہیں ،، سجے ، چمچماتے ڈرائنگ روم نہیں ،،، !۔
( منیرہ قریشی ، 12 دسمبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری)