‏بچے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بچے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 11 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(77)۔

یادوں کی تتلیاں " (77)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی رحلت ہم بہنوں ، اور بھائی کے لیۓ  شدید اداسی کا باعث تھی کیوں کہ اماں جی کے بعد ،، " ایک گھر،ایک مرکز" ختم ہو گیا تھا ، ، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ گھر جس کے دروازے ، " ہر ایک کے لیۓ ، ہر وقت " کُھلے رہتے ہیں ، اماں جی کے بعد اباجی نے 22 سال یہ سلسلہ بخوبی نبھایا۔ ہم دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے ماں باپ کی توجہ کی وجہ سے اور اپنی بڑی بہن اور بھائی کی شفقت کی وجہ سے بھی،ایک کندھا لینے کی عادت سی پڑ ی تھی۔ہم دونوں بہنیں تو کچھ ذیادہ ہی "اَپ سٹ" تھیں ،،،لیکن میرے بچوں کا وقت اپنے " نانا " کے ساتھ سب سے ذیادہ گزرا ،، لہٰذا ان بچوں کی اُنسیت سب سے سَوا تھی ،، شروع کے دو ، تین ماہ سردیوں کے گزر رہے تھے، میں اور بچے رات کو کافی دیر تک ہیٹر کے گرد بیٹھے رہتے ، اباجی کی باتیں ، کچھ وہ کرتے، کچھ میں ،،،! اور یوں ایک دوسرے کے غم کو شیئر کرتے ، وقت گزر گیا ،،۔
،زندگی پہلے کب کسی کے جانے سے رکی ہے کہ آئندہ رُکے گی ، علی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا ، باقی دونوں بھی کالج میں مصروف ہو گئے،، میں بھی 8 ، 10دن بعد ہی سکول جانے لگی ۔ اور آہستہ آہستہ ، ہمارے جذبات ، اور مصروفیات ہمارے قابو آنے لگیں ۔ 1999ء کے سال کا درمیان میرے لیۓ مزید مصروفیت لے کر آیا ،،، بڑے بیٹے علی کی منگنی طے پا گئی ،، وہ ایک معزز پٹھان فیملی تھی ، جو ہماری ہی سٹریٹ کے ایک گھر میں رہ رہے تھے ،،، تھوڑی سی علیک سلیک ہوئی ، اور آپس کی کیمسٹری نے کام کر دکھایا،،، بلکہ اللہ کی طرف سے جو لکھا تھا وہ ہو کر رہتا ہے ،، اور بہت اچھے طریقے سے منگنی ہوئی ،،، اور پھر سال یکم جنوری 2000ء ہمارے گھر نئے افراد کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہوا ،، صائمہ ،، زیارت گُل خٹک صاحب کی بیٹی ، اپنے گھر میں سب سے چھوٹی ہےاور ہمارے گھر کی بڑی بہو بن گئی،، ! زیارت گُل خٹک صاحب اور اُن کی بیگم ،،، جنھیں ہم باجی گُل کہتے ہیں ،،، بہت وضع دار ،، اور رشتے نبھانے والے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ،، خود بخود عزت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ، وہ جب ملتے ، مجھے لگتا ، اپنے بڑے بھائی سے مل رہی ہوں ، ٹھیک گیارہ ماہ بعد اللہ پاک نے اس گھر میں ، ایک بہت پیاری بچی بھیجی ، جس کا نام اِن دونوں نے ملائکہ علی رکھا ، ! ! تو گویا اب میری یہ پوتی 17ویں سال میں لگ چُکی ہے ، اس کے 5 سال بعد اللہ کی مہر بانی سے ایک پوتا عطا ہوا محمد عمر علی ،، جو اب  سکستھ کلاس میں ہے !۔
اس دوران میری فیملی ، اباجی والے گھر میں ہی رہی ،، ! کیوں کہ ابھی میں اپنا گھر نہ بنا پائی تھی ،،، اور بھائی جان نے کہہ رکھا تھا کہ جب تک تم بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتیں ،، تب تک تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔۔ اور اُن کی یہ محبت ، یہ شفقت میرے لیۓ ناقابلِ فراموش ہے ،،،، ایسے بھائی بہت ہی کم ہوں گے ، جو اپنی بہنوں کے لیۓ ڈھال ، اور سنبھال بن جاتے ہوں ،، اور بھائی جان ایسے ہی بھائی ہیں ! اللہ  کے کرم سے صرف  ہم بہنوں کے لیۓ ہی نہیں ، بلکہ ہمارے بچوں کے لیۓ ،، اور اباجی کے بعد سارے خاندان کے لیۓ "سربراہ " بن گئے ہیں ،،، اگر ہم قبائلی انداز میں رہ رہے ہوتے ،تو یقیناً ، اباجی کے بعد بھائی جان کے سر پر خاندان کے سربراہ کی علامت "پگڑی "پہنائی جاتی ،،،،اس لیۓ کہ قریباً سارے خاندان میں کوئی دور کا رشتہ دار ہے ، یا نزدیک کا ، کوئی غریب ہے یا امیر ، یہ اُن کی خوشی غمی میں ضرور پہنچتے ہیں ،،، اباجی کی زندگی میں وہ اس طرح کی ذمہ داریوں کو کبھی کبھی نبھاتے تھے ، لیکن اُن کے بعد ان کے اندر کا " احساسِ ذمہ داری " ایسا جاگا ، کہ خاندان میں اُن سے بڑے کزنز موجود ہیں ، پھر بھی بہت سے خاندان اپنے گھر کے بگڑے فیصلوں کے لیۓ انھیں ہی بُلاتے ، انہی کی بات کو مانتے ہیں ، اور یوں بہت سے گھر اُجڑنے سے بھی بچے ہیں ،،، لیکن وہ ایک حد تک یہ میٹنگز کرتے اور کوشش کرتے ہیں ،، اب بھی اگر کوئی نہ مانے ، تو وہ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ کہ اب آپ کی اپنی سوچ اور فیصلہ ہو!! اپنی طرف سے وہ خاموشی سے جس کی مدد کرنی ہوتی ، بتاۓ بغیر کرتے ہیں ۔ اُن کی نیک فطرت بتدریج انھیں عزت دلا رہی ہے ، الحمدُللہ ، جب  کوئی اُن کی تعریف کرتا ہے تو میں سوچتی ہوں ، ایسی ہی  اولاد والدین کے لیۓ صدقۂ جاریہ ہوتی ہوں گی ،،، !!! ان شا اللہ ،، ہم بہنیں دل کی گہرائیوں سے ان کے لیۓ دعاگو  ہیں ،۔ کہ اللہ انھیں دنیا و آخرت میں سُرخرو کرے آمین ۔
اللہ پاک نے مجھے دو بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا ،،، بیٹی دونوں بیٹوں کامل علی ،، اور ہاشم سے چھوٹی ہے ،،، میں نے پہلے بھی ایک صفحے پر لکھا تھا کہ یہ میرے گھر اُس دکھ اور کرب کے دور میں آئی ، جب مجھے اس کی اُس وقت اہمیت کا احساس نہیں تھا ،، میں تو بس حیران تھی ، ایک نیا وجود دینے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے ! اور آہستہ آہستہ ، احساس ہوا کہ یہ میرے زخم پر مرہم بنا کر بھیجی گئی تھی ، اور جوں جوں وہ بڑی ہوئی ، وہ قدم قدم پر میرے لیۓ ایک" کُشن "بنی رہی ،، کیوں کہ میں کافی مزاج دار ہو چکی تھی ،، اورکبھی کبھی ذیارتی کی حد تک سخت ماں بن جاتی تھی ( اور ہوں ) ،،، !لیکن اس نے تعلیم کے میدان میں ، اخلاق کے لحاظ سے ، دین پر عمل کے لحاظ سے ،، مجھے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔ اور  اپنے پسندیدہ مضمون میں بی ایف اے کرلیا تو، ، الحمدُ للہ ،،، میٹرک سے ہی اس کے رشتے آنے لگے تھے ،، میں  اللہ تعالیٰ سے بار بار  صرف ایک دعا مانگتی تھی کہ " اس کی زندگی کا ساتھی نماز ، روزے کا پابند اور رزقِ حلال پر قناعت کرنے والا ہو " ، بس،، ! اور ایک غیرخاندان ، ایک معلوم فیملی کےتوسط سے آۓ تو ،،، ہم انھیں اور وہ ہمیں پسند آگئے، چند ملاقاتوں ،، استخارہ کے بعد میں نے، اپنے تمام فیملی ممبران سے مشورے کے بعد ہاں کردی ، میرا داماد کامران شریف، پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہے، جب مجھے علم ہوا کہ وہ نماز اور روزہ کا بہت پابند ہے ، تو مجھے بہت خوشی ہوئی ،، اور جب میں نے رشتہ قبول کرنے سے پہلے ، اس کے آفس سے بھی معلومات لیں کہ وہاں اس کا مزاج کیسا ہے ۔ جن صاحب سے پوچھا ، وہ کامران کے سینئر تھے " انھوں نے بتایا یہ چند ایمان دار ، افسران میں سے ایک ہے ، اگر میرے گھر آتے تو میں فوراً ہاں کرتا ! تب دونوں جانب سے تیاریاں ہوئیں،اور 4 جنوری 2003ء کو میری بیٹی بیاہ کر"اٹک"چلی گئی،۔
میری بیٹی ، نے اپنا شادی کا جوڑا ، سُرخ شلوار قمیض بنوایا ، اور وہ ناقابلِ یقین حد تک ، کم قیمت تھا ،، ( دراصل اس کے خیال میں ہر دُلہن شرارے وغیرہ کے بھاری جوڑوں میں نظر آتی ہے ، میں منفرد کیوں نا نظر آؤں ،، اور اتنے بھاری قیمتی جوڑاے اورصرف چند گھنٹوں کے لیۓ کیوں فضول خرچی کروں ) ،، اس کی پریکٹیکل سوچ کی مزید انتہا کہ کسی قسم کے " کام دھام والے جوڑے " نہیں بنواۓ ،، جو جوڑے کبھی کسی شادی ، کبھی عید پر بنے ،، وہ ہی اپنے ساتھ لے گئی ،، اس کے لیۓ کچھ زیور بنا ہوا تھا ، جو تھا، اس سے ذیادہ ایک انگوٹھی کی بھی "اور " فرمائش نہیں کی ! اللہ نے اسے بھرا ظرف عطا کیا ہے ،،، وہ آج بھی " بریینڈڈ کومپلیکس " کا شکار نہیں ، نہ اس میں وہ کسی قسم کے مقابلے میں رہتی ہے !! وہ جس خاندان میں گئی ہے وہ آپس میں خوب مضبوطی سے جُڑے ہوۓ ہیں ، اور پہلے سے ایک جیٹھ ، جیٹھانی ، اور ساس موجود تھیں ، دو شادی شدہ نندیں بھی اپنے گھروں میں شاد و آباد تھیں ،،، "کامران"دونوں بہنوں اور بھائی سے کافی چھوٹا تھا ۔ تب بعد کی ایک ملاقات میں کامران کی خوب صورت والدہ نے بتایا کہ جب اُن کے شوہر کی اچانک وفات ہوئی تو سب سے بڑی بیٹی 8ویں میں اور کامران ڈیڑھ سال کا تھا ،،، والد کا کنسٹرکشن کا کام تھا ، ایک گھر انہی دنوں بیچنے کے نکتۂ نظر سے بنوا رہے تھے کہ ہارٹ اٹیک سے ختم ہو گئے۔ پیسے کی کمی نہ تھی ، بچے بہت اچھے پڑھاۓ ،، اور بڑا بیٹا ڈاکٹر بنا ، اور کامران " کیڈٹ کالج حسن ابدال " سے پڑھ کر یو ۔ ای ۔ ٹی لاہور سے پڑھ کر جاب پر لگ گیا ،، اِن خوبصورت خاتون کو بھی گھر والے " گُل آپا " کہتے ہیں ! میری بیٹی انھیں بھا،، گئی ،،یا اپنی فراست سے انھوں نے اسے جانچ لیا ،،اوروہ نشل پر مکمل  اعتماد کرنے لگیں ، میں نے بھی اپنی بیٹی سے کہہ دیا " اپنے اس" اعتبار و اعتماد " کو کبھی ٹھیس نہ پہنچنے دینا ،،، دوسرے وہاں گھر میں سب ہی افراد تم سے کافی بڑے ہیں ،، ان کے آگے کبھی پلٹ کر جواب نہ دینا ، کہ چُپ کا روزہ نہ ہی ٹوٹے ، تو عزت ہے ! الحمدُ للہ ، آج اس کی شادی کو 15 سال ہو گۓ ہیں ، گُل آپا ، نشل کے گھر خوشی سے آتیں ، رہتیں ، اور خوشی سے جاتیں ہیں ،،، ان میں پرانی قدروں ، اور رسوم کو نبھانے کا حوصلہ بہ احسن ہے ! ۔
اللہ رحیم و کریم نے پہلے میری بیٹی کو ایک بچی حمنہٰ سے نوازا ، اور پھر پانچ سال بعد بیٹا محمد موسیٰ کامران عطا کیا ،،، اب میری نواسی بھی 14 سال کی ہوچُکی ہے ،، اللہ تعالیٰ نے اپنی کرم نوازیوں کا سلسلہ کہاں تک نہیں کیا ، میرے پاس الفاظ نہیں ،،،،،،،،!۔
اپنے دوسرے بیٹے ہاشم ( جو علی سے 5 سال چھوٹا اور نشل سے دو سال بڑا ہے ) کے ایم بی اے کرنے اور جاب کرنے کی ابتدا ہی تھی ، کہ میرے پاس اتنا سر مایہ جمع ہو گیا کہ گھر بنانے کا نہایت مشکل قدم اُٹھالیا۔ اور اس کی نگرانی اِسی کے سپرد کر دی۔
(منیرہ قریشی ، 11 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 15 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(44)۔

یادوں کی تتلیاں "(44)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اور وقت نے مرہم رکھا،،،، ٹھیک سات ماہ بعد اللہ نے مجھے پیاری سی بیٹی عطا کی اور اس کی آمد نے، سبھی گھر کے افراد نے نئے مہمان میں دل لگا لیا ، اپنے لیۓ مجھے بیٹی کی بہت خواہش تھی ! کہ بیٹیاں ، ماں کی ذیادہ ہمراز ہوتی ہیں ، اور سب سے ذیادہ یہ کہ ماں کے مرنے پر اس کی پلنگ کی پٹی سے وہی رات بھر لگی روتی ہیں !،،، اور بس !۔
میں نے اس کی آمد کو اللہ کی طرف سے مرہم تو سمجھا ہی تھا ، اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی " عمر نے علی کو خواب میں بتا دیا تھا،علی میں تمہارے لیۓ منی بہن لے کر آیا ہوں" ،،،، کوئی الٹرا ساؤنڈ نہیں ، کوئی توجہ،کوئی سوچ نہیں تھی، حتیٰ کہ کوئی وٹامنز بھی نہیں لیۓ !جب یہ پیدا ہو گئی تو جب اکیلی ہوتی تو کبھی میں اس کی آنکھیں چیک کرتی،کبھی اس کی  سماعت 
 چیک کرتی کہ جس کرب سے گزری ہوں کہیں اس کے اثرات سے اس میں کوئی ابنارملٹی تو نہیں آگئی ،،، اللہ کریم اور رحیم کا کن الفاظ میں شکر ادا کروں کہ وہ نہ صرف نارمل تھی بلکہ باقی دونوں بچوں کی نسبت  صحت مند بھی تھی۔وہ میرے لیۓ نورالعین بن گئی ! ۔
الحمدُللہ ! الحمدُللہ !۔
بچے اپنے اپنے ٹریک پر چلتے گۓ ، ،، جوجی کے گھر بھی اللہ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی دیۓ ! خاص طور پر اس کی بیٹی مائرہ اور میری بیٹی ساتھ ساتھ دنیا میں آئیں ،،، اور اس طرح دونوں نہ صرف کزنز تھیں بلکہ سہیلیوں کی کمی بھی پوری ہو گئی ۔ اور سات آٹھ سال کے بعد جب جوجی کے گھر بھی  جڑواں بیٹیاں آئیں تو میرے اور اس کے بچوں میں خوشیوں کی لہریں پھیل گئیں۔
ایمن ، ثمن ،،، !ا پنے گھر میں تو ان کی اہمیت ہونا ہی تھی لیکن میرے اور آپا کے گھر ان دونوں کا انتظار ہوتا ! اور ہماری شامیں ان کے بہت ہی پیارے بچپن کے ساتھ گزرنے لگیں ،،، اُدھر آپا کے دونوں بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیاں بھی بخیر و خوبی ہو گئیں ! ہمارے اباجی وہ خوش قسمت ،باپ بنے جنھوں نے بتدریج اپنے پوتے پوتی انجواۓ کیۓ ! بلکہ آپا کے چاروں بچوں کی شادیاں دیکھیں اور پھر ان کے بچے بھی دیکھے ! وہ پڑنانا بنے اور دیر تک صحت تندرستی کے ساتھ وقت گزارتے رہے ، اباجی نے کبھی اصراف سے کام نہیں لیا ، وہ زندگی میں اتنے ہی اخراجات کے قائل رہے کہ " قرض " کی نوبت نہ آنے پاۓ ۔ وہ ہمیں بھی یہی کہتے رہتے ! اپنے آپ کو آمدن کے اندر رکھو ۔ انھوں نے اپنی زرعی مربعے اور پنڈی والا گھر بیچ کر یہیں واہ میں دو گھر بنا لیۓ جس میں سے ایک میں خود رہتے اور دوسرا کراۓ پر دیا ، ا اور ایک باعزت ریٹائرڈ زندگی گزارنے لگے ، اسی دوران ،،، واہ کے اس ذاتی گھر میں جہاں اباجی اور اماں جی کے چند سال اکھٹے گزرے ۔ وہاں بھی اماں جی نے اپنے ہاتھوں اپنے پسندیدہ پودے لگاۓ،( جن میں سے چند ایک ابھی بھی موجود ہیں 42 سال بعد بھی )، ا ماں جی کے بعد میَں اباجی کے پاس ہی رہی ،،،، اس گھر میں چند سال ہی گزرے تھے کہ اماں جی فوت ہو گئیں ،، ! تب اباجی کی صبح تو اپنے بہنوئی (اور چچا زاد بھی)اور اپنے داماد کے ساتھ گزرتی ، جو انھیں اپنی کار میں لے کر ایک چکر بازار کا لگاتے ، اور اس کے بعد یہ تینوں حضرات آپس میں کسی کے گھر اترتے ، اپنی چاۓ اور سلاد کا چسکا پورا کرتے اور پھر بڑے بھائی جان انھیں اُن کے گھروں میں ڈراپ کرتے ۔ لیکن سردیوں میں سہ پہر کو اور گرمیوں میں قدرے شام کو ان کی عمر کے چار پانچ ہم مذاق دوست ، لمبی واک کرتے ،،،، اور یہ دلچسپ سین ہوتا ,,,, اس سین کو میرا بیٹا علی ( جس کا نیا نام کامل علی رکھ دیا تھا ) بہت جزیات کے ساتھ ، جب بیان کرتا تو سب کے ساتھ اباجی خود بھی انجواۓ کرتے ۔ دراصل یہ پیارے پیارے بوڑھے جب چلتے ، اپنی اپنی چھڑیوں سمیت تو ، صحیح معنوں میں زندگی کے میدان کے باوقار اور پُراعتماد سپاہی لگتے ،،،، اورجب ان میں سے کسی نے اپنی کوئی بات کہنی ہوتی ، تو سارا گروپ رُک جاتا ، متوجہ ہو کر بات سنتا ،،، اور اگر کسی نے جواب دینا ہوتا تو پھر سبھی رُک جاتے متوجہ ہوتے ، اور چل پڑتے ، کیوں کہ سب " ارکان اُونچا سنتے تھے " ،،،، اگر آپس میں کوئی بحث چھڑ جاتی تو سڑک کے کنارے کسی " بَنی " پر بیٹھ کر کچھ دیر بحث کی جاتی ، سانس درست کی جاتیں اور پھر چل پڑتے ! واپسی پر سب سے پہلے ہمارا گھر آتا اس لیۓ ایک لازمی پڑاؤ یہاں کا ہوتا ،، میں گرمیوں میں ان کے لیۓ لیمو پانی کا شربت تیار رکھتی ، میٹھا بہرحال معمولی ڈالتی کہ ان پانچ ، چھ میں سے 4 کو شوگر تھی ،، لیکن شربت پیتے وقت یہ ہی حضرات میٹھا تیز رکھنے کی فرمائش کرتے۔ سردیوں میں ان کی ٹرے پر برتن تیار ہوتے ، ان سے پوچھ کر کہ قہوہ یا چاۓ ! اس کے مطابق پیش ہوتا ، ان میں ایک دوست اظہار زیدی تھے ،، وہ کپڑے کےکاروباری تھے مسلکا" شیعہ ، اور انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے اہلِ زبان تھے ،،، حیرت انگیز طور پر ان کی شکل اباجی سے اتنی ملتی تھی کہ ، لوگ دونوں کو بھائی سمجھتے تھے ۔ ان کو بھی شوگر تھی ، اُن کی فیملی کا رکھ رکھاؤ ، لین دین اتنا باوقار تھا کہ مل کر دل خوش ہوتا ،، اگر ہم ان سے متاثر تھے تو وہ بھی ہمارے پنجابی اور سُنی ہونے کے باوجود اتنے متاثر تھے کہ انھوں نے اپنے ایک بیٹے کے لیۓ جوجی کے لیۓ رشتہ کی خواہش کی ، ، یہ کتنی سچی ، اور خالص دوستی اور محبت تھی کہ کوئی مسلک ، کوئی زبان حائل نہیں تھی ،،، لیکن اباجی نے ہی انھیں کہا " کیوں اپنے بقایا خاندان کو ناراض کر کے اپنی مشکلات میں اضافہ کرنا چاہتے ہو !! لیکن مجھے ایسی فراخ دلی کم ہی نظر آئی ہے ۔ ،،، انہی دوستوں میں ایک خواجہ انور تھے جو ساری عمر اکاؤنٹ کے محکمے میں رہے اور انہی کے گھر کے فون سے ہم اِس نئے گھر شفٹ ہونے پر فائدہ اُٹھاتے رہے۔ اور ایک "عزت علی شاہ " تھے جن کی کوئی اولاد نہ تھی ، وہ اچھی کلیدی پوسٹ پر رہے ، خاصے خوش حال بھی تھے آخری عمر میں ایک فری زچہ بچہ ہسپتال بنایا ، وہ بہت اونچے لمبے تھے لیکن آخر میں ذرا جھک سے گئے تھے ،، اباجی کے واک کےیہ تینوں ساتھی ، آگے پیچھے ، دنیا کے ہنگاموں کو چھوڑ گئے،،،،۔
تب اباجی کی شام کی سیر بھی ختم ہوگئی کیوں کہ باقی دو ، کبھی کبھی والے تھے ، ،،، اور مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ سارے بوڑھے جنت کی فضاؤں میں اپنے اپنے گھروں سے نکل کر جانے کہاں کہاں کے ستاروں پر واک کرتے ہوں گے ،،، ( آمین)۔ 
( منیرہ قریشی ، 15 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

پیر، 13 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (43)۔

یادوں کی تتلیاں" (43)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ، اس کا کام گزرتے چلے جانا ہے ،،، اور اِسی بات کا اسے حکم ہے ۔ تو وقت آگے بڑھا ، میرے ٹونز اور ان کی پیاری پیاری باتوں سے گھر میں رونق رہتی اور خاص طور پر اباجی نے خود کو اِن میں خوب مصروف کر لیا تھا ، قریبا" ڈھائی تین سال کی عمر میں دونوں اباجی کے ساتھ ضرور گاڑی میں بازار کا ایک چکر لگاتے ! دونوں بولنے میں تیز تھے لیکن اِبھی بہت صاف زبان کے نہیں تھے ۔ اباجی کو دیکھتے ہی ان میں سے ایک گاڑی کی چابی پکڑ کر لے آتا اور " بلےکپ چی " کا لفظ بولتے ! غور کرنے پر پتہ چلا " بڑے اباجی کی چابی " کو انتہائی تیزی سے اپنی زبان میں ادا کرنے پر یہ الفاظ ادا ہوتے ،، اسی طرح جب کار میں بیٹھتے تو خوشی ان کے انگ انگ میں بھر جاتی ، اور وہ کبھی کبھی " بلے کار " ( بڑے اباجی کی کار)کے الفاظ کو کورس میں گاتے ۔ دونوں کی آوازوں میں بہت ردھم تھا اور جب گاتے تو سمجھ نہ آتا کون گا رہا ہے ،یعنی ایک جیسی آوازیں نکل رہی ہوتیں ! ان کا یہ ہنر انھیں مزید پاپولر کرتا گیا،جوں ہی وہ ساڑھے تین سال کے ہوۓ ،قریبی سکول میں پلے گروپ میں داخل کرایا ، ٹیچر اور پرنسپل کے سکول کے یہ پہلے  جڑواں  بچے تھے اس لیے ذرا توجہ بھی ملنے لگی۔ یہ سکول چند ماہ کے بعد ہمارے گھر کے سامنے والے شفٹ ہو گیا ، اب مزید آرام ہو گیا،دونوں بہت دلچسپی سے سکول جاتے، ہنس مکھ طبیعت کی وجہ سے کلاس کے کافی بچے دوست بن گئے، چند ایک اکثر ہمارے گھر آنے لگے ، ایک دو بچے ایسے تھےجو ابھی اپنے گھر کے اکلوتے تھے وہ خاص طور پر آ جاتے کہ ان سے کھیلنا ہے۔ دراصل ان بچوں کی طبیعت میں لڑاکا پن نہ تھا !! بتدریج آگے بڑھتے رہے ! نرسری اور پھر پریپ میں پہنچ گئے ، اس دوران ہماری زندگیوں میں بھی اُتارچڑھاؤ چلتا رہا ! جوجی کی بھی شادی کا وقت 1979ء میں آگیا ، وہ مقامی ہاسپٹل میں ڈاکٹر تھے ! شادی کے شروع کے دو تین ماہ جوجی اور اس کے میاں ہمارے گھر رہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ملنے والے گھر میں کچھ مرمتوں کا کام تھا ، ،،، کہ ایک دن عمر کو رات کے وقت شدت سے کھانسی آئی کہ اس کا رنگ سرخ اور ہونٹ نیلے ہو گئے ! میں نے گھبرا کر جوجی اور ڈاکٹر صاحب کو جگایا ،،، اس دوران اس کا سانس بھی مشکل سے آرہا تھا ! ڈاکٹر صاھب نے دیکھا اور ہسپتال کا مشورہ دیا ، ہم لے جانے کی تیاری میں تھے کہ وہ نارمل ہوگیا !! تو ہم نے شکر کیا ! بچہ نڈھال ہو چکا تھا ! اور سونا چاہتا تھا ،،، اور شاید یہ ہی ہماری غلطی تھی کہ صبح وہ بھی اتنا نارمل تھا کہ کسی اور ڈاکٹر کو دکھانے کا خیال نہ کیا ،،،، مجھے سیالکوٹ میں آپا کے پاس گزارا وقت بعد میں یاد آیا کہ اس دو ، ڈھائی ماہ کے دوران بچے جب بیمار ہوۓ تو آپا وہاں کے ایک بہت نرم طبیعت چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لے جاتیں ، اس دور میں یہ بہت روتے تھے ، اور سواۓ پیٹ درد کے اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی تو اس ڈاکٹر سے دوسری مرتبہ جب ملاقات ہوئی۔ تو ان کے الفاظ مجھے یاد ہیں کہ انھوں نے کہا تھا۔ ان بچوں کو ڈاکٹر کو " انکیوبیٹر" میں رکھنا چاہیے تھا ! اور یہ حقیقت ہے کہ انھیں نہیں رکھا گیا تھا ، ، ،بہر حال مزید 5سال اور گزر گئے اور 27 فروری 1980ِ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا عطا کیا ، وہ بہت پیارا اور خوب صورت تھا ، اس کا نام "قاسم" رکھا گیا ،( اُن دنوں ہمارے بہنوئی کو " پورٹ قاسم " میں بہت اچھی پوسٹ ملی تھی تو بھائی جان نے تجویز کی کہ اس یادگار موقع پر بچہ آیا ہے تو نام بھی اس طرح یادگار ہو جانا چاہیے ) عمر اور علی نے اپنے بھائی کو بہت پیار اور خوش دلی سے قبول کیا ۔وہ چار ماہ کا تھا جب ہمارے اکلوتے بھائی کی شادی 10 جولائی 1980ء میں ہوئی ۔ اور اُن کے ولیمے پر11 جولائی کو ان ٹونز کی پانچویں سالگرہ منائی گئی ، ،،، بعد میں بھائی ، بھابھی کراچی اپنی ڈیوٹیز پر چلے گئے، تین ماہ بعد بھائی جان کی فرمائش ہوئی ،،، کہ بچوں کو کچھ دن کے لیۓ کراچی بھیج دو ! اُن دنوں اُن کی طبیعت خراب تھی ، تو آپا نے بھی فون پر کہا اگربچے آگئے تو احسان کا دل بہل جاۓ گا ، تو ہم نے انھیں ان کی مامی کے ساتھ بائی ایئر بھیج دیا ، بچے 15 یا 18دن گزار کر آۓ تو بہت ہی خوش تھے ، بہت سےتحائف بھی ساتھ تھے ! مزید چار پانچ ماہ گزر گۓ ،،، بھائی جان کا کسی کام سے پنڈی آنا  ہوا ، اپنے کام کی وجہ سے کراچی واپس بائی روڈ جانا پڑا ،،، اور انہی دِنوں 30 ایپریل 81ء کو بچے سکول سے واپس آۓ تو بخار میں پُھنک رہے تھے،دو دن تک معلوم ہو گیا کہ خسرہ میں مبتلا ہیں ، جو اس دوران دوا اور احتیاطیں ہونی چاہیے تھیں وہ کرتے رہے ، لیکن 7 مئی دوپہردو ، تین کے درمیان دونوں بچوں پر نیم بے ہوشی سی طاری تھی ، عمر نے مجھے اسی بےبسی کی حالت میں کہا " اماں پلنگ ٹیڑھا کیوں ہو گیا ہے ،،، ایک دم میرے دل کو دھکا لگا تو میں اسے اُٹھا کر دوسرے کمرے میں لے آئی اور نارمل طریقے سے لٹا دیا ، لیکن کچھ دیر کے بعد اس نے مجھے اجنبی سی نظروں سے دیکھا ،،، اور پھر کہا اماں یہ پلنگ بھی ٹیڑھا ہو گیا ہے ! تب میں نے ان کے باپ کو بلایا ، اور ہم فوراً اسے لے کر ہسپتال روانہ ہو گئے ، راستے بھر وہ میری گود میں لیٹا رہا ، جب جوجی کا گھر جو ہاسپٹل کے پاس تھا کے قریب سے گزرے تو اس نے نیم باز آنکھوں سے کہا " اماں جوجی خالہ کا گھر آگیا ہے " تو میں نے کہا ہاں بیٹا ،، جوجی خالہ ہاسپٹل پہنچ جاۓ گی ۔ ہم اُسے  میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر عمر کے کمرے میں لے گئے ، جوجی کے میاں کو پہلے ہی فون کر دیا تھا وہ بھی پہنچ گئے۔ڈاکٹرز فوراً اس کی نبض ڈھونڈنے لگے تاکہ ڈرپ لگائی جاسکے ، اس دوران اس نے کہا "پانی" کمرے میں موجود سنک سے ہاتھ میں پانی لے کر اس کے منہ میں ٹپکایا ،،، ساتھ ہی ڈاکٹرز نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا انھوں نے اب اس کی ٹانگ کی رگ ڈھونڈنے کی کوشش کی ،،، لیکن میں باہر ہی کھڑی تھی کہ اتنے میں جوجی کے میاں بہت اداس ہو کر باہر آۓ تو ،،،، جو خبر سنائی وہ ، دنیا کی کوئی ماں سننا نہیں چاہتی ! میں  یکدم  اندر گئی تو اس کا حسین چہرہ باہر کھلنے والی کھڑکی کی طرف تھا اور اس کے حسین بال اس سے آنے والی ہوا سے بہت ہل رہے تھے ،،، جیسے وہ خود ہوا میں اُڑ رہا ہو ! مجھے سارا ہسپتال اس طرح ڈولتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جیسے کشتی مسلسل ہل رہی ہو ،،،، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی ، یہ چند لمحوں میں کیا ، کیسے ، اور کیوں ہو گیا ۔،،،جلدی سے دوسرے بچے کو جوجی اور اس کے میاں ہسپتال لے آۓ اور داخل کرا دیا ،،،اس دوران علی کے پاس گھر کی میڈ رہی جب عمر کے چاند چہرے کو ہم اپنے گاؤں کے سر سبز قبرستان کے حوالے کر آۓ تو میں واپسی پر ہاسپٹل میں اُتر گئی ، علی ، بھی نیم بےہوش تھا ، مسلسل ڈرپ لگی رہی ، اس سے بولا بھی نہٰیں جارہا تھا، دن کے وقت آپا اس کے پاس  ہوتیں، اوررات کو میں رہتی۔
جس دن عمر نے ہسپتال میں ہمیں الوداع کہا ،، اس دن اباجی پنڈی گئے ہوۓ تھے ،،، ا نھیں فون پر اطلاع دی گئی !وہ فون کا ہی دور تھا۔لیکن بھائی جان،،جو ان بچوں کے وہ ماموں تھے جن پر اِن دونوں نے خود ہی ایک شعر بنا لیا تھا "ماموں جان ،،، تیری اُونچی شان " ! یہ اُن بچوں کے پیار کا اظہار اس لیے بھی تھا کہ بھائی جان نے بھی انھیں بہت پیار دیا تھا !۔
جیسا ابھی لکھا تھا کہ وہ کراچی کی طرف عازمِ سفر تھے اور وہ راستے میں کہاں پہنچے تھا ابھی کسی کو معلوم نہیں تھا دراصل وہ اس وقت رحیم یار خان کے قریب تھے ،،، بقول اُن کے جب رحیم یار خان سے پہلے کی رات میں ایک بزرگ کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے گیا جہاں قوالی ہو رہی تھی ،ان قوالوں میں ایک بچہ بھی تھا جو اپنی پتلی سی آواز کے ساتھ پورا زور لگا رہا تھا، مجھے وہ عمر جیسا لگا ،، میں نے کچھ دیر قوالی سن کر اس بچے کو خصوصاً کچھ پیسے دیۓ ، اور اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر اپنے ہوٹل آگیا ، ،،، جب بھائی جان کو یہ غم انگیز خبر ملی تو انھوں نے کار وہیں ، کہیں کھڑی کروا ئی اور بائی ایئر واپس گھر آگئے ،،،،،، آپا اور ہماری بھابھی ، کراچی سے آگئیں ! ان سب کا ذکر،،، کہ اِن بچوں کے حصے میں اپنے ننھیال کی طرف سے اتنا پیا ر ملا تھا ،جو بہت کم بچوں کو ملا ہو گا ۔۔۔۔۔۔
جب جب عمر کے نئے گھر جانے کا وقت قریب آرہا تھا اس کی آنکھیں جو ادھ کھلی تھیں ، بالکل سفید ہو گئی تھیں ۔ دوسری طرف میں جب رات کو علی کے پاس ہسپتال رہتی تو اسے یہ ہی کہتی " عمر کی طبیعت ذیادہ خراب ہے اس لیۓ اسے دوسرے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے ،،پانچویں دن جب علی کچھ بولنے قابل ہوا تو اس نے مجھے بتایا " اماں ! میں نے خواب میں عمر کو دیکھا ہے اس نے سفید عربی کپڑے پہنے ہوۓ ہیں اور اس کی آنکھیں بالکل سفید ہو گئی ہیں اور وہ منہ آسمان کی طرف کر کے اللہ میاں سے ہنس ہنس کرباتیں کر رہا ہے " ! میں اس کی چھٹی حس اور جُڑواں ہونے کی اس کیفیت کو سن کر حیران رہ گئ کہ اس کو کسی نے عمر کے انتقال کا نہیں بتایا تھا لیکن اس کی روح نے اس جدائی کی جھلک کتنی صحیح سے دکھا دی۔ جس وقت ان دونوں بچوں کی جدائی ہوئی ،،، اس کے ٹھیک دو ماہ بعد ان کی چھٹی ( 6 ویں ) سالگرہ تھی !۔
جب علی بھی بہتر ہو کر گھر آگیا تو اسے یہ غم و الم کی خبر سنانے کو کوئی تیار نہ تھا ! اگر وہ عمر کاپوچھتا بھی ، تو یہ ہی کہا جاتا اس کی طبعیت خراب ہے ۔ ہسپتال والے اسے چھٹی نہیں دے رہے ! ابھی تک وہ اسی خیال سے بہل رہا تھا، ورنہ اِن چھے سالوں میں وہ ایک دن کے لیۓ بھی جُدا نہیں ہوۓ تھے ، اس لیۓ اس کی طبیعت میں کافی بےچینی ہو رہی تھی ،، قریباًتین ہفتوں کے بعد آپا علی کو ساتھ کراچی لے گئیں ، تاکہ وہاں موقع دیکھ کر اسے اس خبر کو سنایا جاسکے ، علی کو وہاں دو ماہ رکھا گیا ، واپس آیا تو اس کی صحت بہت اچھی ہوئی تھی ،،، لیکن آپا اور بھائی نے فون پر بتایا ہماری ہمت نہیں ہو سکی کہ ہم اسے کچھ بتا سکیں ! ہم اسے یہاں کا وزٹ خوشیوں بھرا دینا چاہتے تھے ،،،،، علی کے ابا نے بھی اس بارے بتانا مشکل تصور کیا ،،، اور وہ بار بار پوچھتا تھا کہ ہاسپٹل والے عمر کو کیوں نہیں آنے دے رہے ! کراچی آنے کے ایک ہفتے بعد ایک رات جب ہم دونوں ہی تھے ، میں اِن کے بچپن اور موجودہ فوٹوز کی البم لے کر بیٹھی اور ہم دونوں مختلف باتیں کرتے رہیں ،،، کہ میں نے اس دوران اسے کہا " بیٹا ،،، عمر کو اللہ تعالیٰ نے پسند کر لیا ہے ، اور اسے جنت کے سکول میں داخل کر لیا ہے ! اس لیۓ اب وہ ہمیں ملنے نہیں آ سکتا " علی کے چہرے پر حیرت ٹھہر سی  گئی ،،، اور اس نے پوچھا ،،،" کیا مجھے بتانے بھی نہیں آسکتا ، کچھ دیر کے لیے بھی نہیں "" میں نے ضبط سے کہا " فرشتے تو چاہتے تھے کہ یہ کچھ دیر کے لیۓ تم سے مل آۓ لیکن اسے نیا سکول اتنا اچھا مل گیا ہے اور دوست ایسے مل گئے ہیں کہ وہ ایک منٹ کے لیۓ بھی آنا پسند نہیں کر رہا "" اسے یہ سن کر حیرت اور افسوس سا ہوا ،،، اب اس کے جذبات کا اُبال شروع ہونا تھا اور میرا امتحان !!! اس نے دوبارہ سارا البم دیکھنا شروع کر دیا اور پھر ،،،ایک دو منٹ کے بعد خوب رویا ،،، میں اسے بلینک ہو کر دیکھتی رہی تاکہ اس کا غم، آنسوؤں میں بہہ جاۓ ! لیکن جب میں نے کہا " اس نے تمہارے لیۓکہلوایا ہے کہ تم یہاں پڑھو ، میں وہاں پڑھوں گا ، دیکھتے ہیں کون اچھا پڑھے گا ! " ،،، تاکہ بعد میں ہم سب کے لیۓ وہ وہاں فرشتوں سے گھر بنوا لے "۔ 
یہ ایک چھے سالہ ذہین بچے کے جسم و جان کے حصے کی جدائی کی اسی کے لیول کے مطابق مرہم رکھی جا رہی تھی ! ،،، بس یہ ایک کوشش تھی ! ورنہ وقت ہی سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے ،،، علی جب اُداسی اور غم کے شکنجے میں آجاتا تو اکثر ڈرائنگ روم کے دروازے کے پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر خوب رو لیتا ! اسی پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر اِنھوں نے عالمگیر کے گانوں کو بہت ہی دلنواز انداز سے گایا تھا ،،،، جن میں ایک گانا " دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا ہے ،، خوشبو کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے !!! بھائی جان نے اس کی قبر کے کتبے پر اس کے نام کے نیچے " خوشبو کا جھونکا" ہی لکھوایا ،،،،،،،،،،، ! رہ جانے 
والا صرف اللہ کا نام ہے !۔

عمر کی تصویر اُسی بیماری کے دوران کی ہے ، تصویر میں لفٹ سائڈ پر عمر ہے ! اور یہ واہ گارڈن اپنے ماموں اور مامی کے ساتھ چلے گۓ تھے ! اسی تصویر کو دیکھ کر میں نے چند نظمیہ جملے لکھے تھے !!!۔
مارچ 1983ء
" عمر کی واہ گارڈن کی آخری تصویر دیکھ کر "
کچھ ایسے ہی نظارے ہوں گے 
کچھ عجب مست ہوائیں ہوں گی 
اور پُر کیف فضائیں ہوں گی
!اُنہی حقیقی نظاروں نے تجھے مسحور کیا اتنا
!!کہ مُڑ کے پھر آنا مشکل ہوا

( منیرہ قریشی،، 13 نومبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

بدھ، 8 نومبر، 2017

" یادوں کی تتلیاں (40)

یادوں کی تتلیاں" (40)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
یادوں کی تتلیاں جب اپنے خوب صورت " پروں " کو کھول اور بند کرتی ہوئی،  ماضی کے تصویری باغ میں اُتریں تو مجھے ذاتی طور پر ان تصاویر کو ڈھونڈنا پڑا ،، اور جب ملیں تو تا دیر انھیں دیکھتی رہی اور  ماضی میں پہنچ گئی ،، کب کیسی جگہ تھی ، کیسا ماحول تھا ، کون کون یہ لوگ تھے جن کو اللہ نے ہمارے ساتھ ملایا ، کچھ وقت گزارا ، اور وقت کی ٹک ٹک آگے بڑھ کر، ایک نیا ماحول اور نئے لوگوں کے درمیان لا کھڑا کرتی چلی گئی ، اب ان سے ملو ،،، اب ان کے ساتھ وقت بِتاؤ ، اور پھر آگے مزید پھر آگے اور خالق و مالک کے حکم سے جب آخری منزل پر پہنچیں تو مطمئن روح اور پُرسکون چہرے کے ساتھ اُس  نئے اور آخری گھر کو اپناتے ہیں ، اور یہی فوز العظیم ہے !!۔
جب کسی گھر میں بچیاں جوان ہو جاتی ہیں تو زمانے کے دستور کے مطابق ان کے نئے مقدر کے فیصلے کا وقت بھی آتا ہے ،، ، جیسا میں نے کئی مرتبہ ذکر کیا کہ ہماری اماں جی کی زندگی کے کُل 53 سالوں میں سے 35 سال بیماریوں کو سہتے گزرے، وہ اپنی اولاد اور اپنے شوہر سے محبت نہیں،بلکہ عشق کرتی تھیں ،،، شاید کبھی کبھی یہ عشق مبالغے کی حد تک محتاط اور خودغرض بنا دیتا ہے ،،،لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسے میں ماں باپ کی نیت ہرگز غلط نہیں ہوتی،صرف اولاد کی "پروٹیکشن" کا احساس ان سے کچھ فیصلے " عجیب "بھی کروا دیتا ہے ، میری زندگی کے اس نئے فیصلے کا ووٹ اباجی کے چچاذاد کے حصے میں آیا ، اور اس میں اماں جی کی پسند سے ذیادہ اُن کا یہ خیال کہ اپنوں میں ہی ٹھیک رہتا ہے ، اور بچیوں کو نزدیک ہی رہنا چاہیے ،،، یہ سوچ اتنی حاوی تھی کہ ماحول کے فرق کو نظرانداز کر دیا گیا ، اور شروع دور کے بعد سے معمولی باتوں میں بھی اختلافی سوچ کم نہ ہو سکی اور اس دوران اللہ نے پہلی اولاد کی صورت میں ہمیں دو بیٹے عطا کیۓ ۔ ان کی پیدائش سے بہت پہلے، پہلا خواب کالج کے دوران دیکھا اور ہوبہو وہی خواب ایک ایک جزیات کے ساتھ 3 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ دیکھا،،، اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی،،، یہ میرے ذہن میں تھا کہ جب کبھی اللہ نے بیٹا دیا تو اس کا پوارنام عمر علی رکھوں گی ، کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی محبت اور عقیدت اتنی ہی تھی ، اور جب ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ جڑواں بچے ہیں اور دونوں لڑکے تھے تو یہ ہی نام تقسیم کر لیا ایک کا عمر اوردوسرے کا علی رکھا گیا ۔ دونوں کی صحت شروع سال تک خاصی کمزور رہی ، آہستہ آہستہ دو ایک جیسی شکلوں والے کھلونے ادھر اُدھر پھرتے اور اپنی پیاری ، منفرد حرکتوں سے متوجہ کرتے تو ہر کوئی ان پر فدا ہوتا ۔ جب یہ خوب باتوں کے دور میں آۓ توایک دو ان کی حرکتیں بہت فرق تھیں ،،، ایک یہ کہ خوش مزاج اور بہت ذہین تھے ، تین سال کی عمر میں ہی پہلے دو کلمے یاد کیۓ اور سورہ اخلاص بھی یاد کر لی ،،، آپس میں ہی دونوں کھیلتے ،، شاید ہی کبھی لڑے ہوں ،، اُن دنوں ٹی وی پر گلوکار بہن بھائی نازیہ حسن اورزہیب حسن کے گیتوں کو بہت پسند کیا جاتا تھا ، ،،، میں خود خالص گھریلو خاتون تھی ، گھر کے باقی کام کاج کے لیۓ دو ملازمائیں تھیں لیکن سالن خود بنانا ، گھر میں ہی ایسی چیزیں بناتے رہنا کہ مہمان آئیں یا گھر کے لوگ شام کو کچھ کھانا چاہیں تو سب گھریلو چیزیں بنی ہوں ، بازارسے کم ہی منگانا پڑے ، اس کے علاوہ صرف گھر سجانا ، ایمبرائڈری کرنا ،، اور اپنی پسند کی کتابیں پڑھنے میں وقت گزرتا ۔ لیکن میں دوپہر کو ضرور کچھ دیر کے لیۓ آرام کرتی تھی ، اور بچوں کو کسی کے حوالے کرنے کے بجاۓ اپنے کمرے میں رکھنا اور دروازے کواندرسے کُنڈی لگا دینا، تاکہ یہ باہر نہ نکلیں ، بچوں کے کھلونے اُن کے سامنے رکھ دیتی کہ ان سے کھیلو ، آدھ گھنٹے یا بیس منٹ کے بعد اُٹھ جاتی ، یہ اِن کی عمر کا تیسرا سال تھا ،، جب ایک دن میں ابھی سوئی نہ تھی ، کمرے میں ایک کونے میں دو تین رضائیاں اوپر تلے رکھی ہوئیں تھیں ان کی دلچسپی کھلونوں سے ذیادہ رضائیوں پر چڑھنا ، اترنا ہوا اور پھردونوں ان پر چڑھ کر بیٹھ گۓ اوربہت ردھم کے ساتھ " نازیہ ،زوہیب کا گانا گانے لگے ،،، آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آۓ،، تو بات بن جاۓ ""،،،،، یہ میرے لیۓ نہایت خوش گوار اور حیرانی والا تجربہ تھا کہ درمیان میں میوزک کی آوازیں بھی بالکل صحیح طور سے منہ سے نکالی جاتیں رہیں ، اور دونوں اتنے سُر میں ایک آواز کے ساتھ گاتے رہے کہ لگتا تھا جیسے کوئی میوزک کلاسز اٹینڈ کرتے رہے ہوں !!! اب میں بھی انہی ماؤں کی طرح اپنے بہن بھایئوں کے سامنے ،ہر نزدیکی دوست ، سہیلی کے سامنے یا ذرا با ذوق رشتہ داروں کے سامنے اُن کے اِس ٹیلنٹ کا ذکر کرتی اور اگلا فرمائش کرتا ، شروع میں بچے شرماتے اور بہت اصرار پر گاتے بھی تو کمرے کے دروازے کے پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر دو تین گانے گاتے ، ، سننے والے ان کو بہت سراہتے ، ابھی اِ نھوں نے سکول بھی جانا، شروع نہیں کیا تھا۔ اس دوران ٹی وی پر ایک اور گلو کار ' عالم گیر " کی شہرت ہوئی ،، اور مشہور شاعر" محمود شام " کی خوب صورت نظمیں اُس کی پہچان بن گئیں ، ،، عمر اور علی اس کی یہ نظمیں اتنے ماہرانہ انداز سے گاتے، کہ سننے والے یقین ہی نہ کرتے کہ یہ کسی سے سیکھے بغیر اتنے ردھم سے گا رہے ہیں ۔ خاص طور پر " یہ شام اور تیرا نام ،کتنے ملتے جلتے ہیں " ،،، " دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا ہے ۔ خوشبو کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے " ،،، اور مزید بھی ! ،،،، جب کوئی لفظ بیچ میں بھول جاتے تو اتنا ہنستے کہ اُن سے سے گایا نہ جاتا ،، اور " سامعین " بھی ہنسنے لگتے ،،، دونوں کی شکلوں میں 19، 20 کا فرق تھا ،۔ اِن کی پیدائش کے وقت تک اماں جی حیات تھیں ، لیکن اور بھی کمزور ہو چکی تھیں اس دوران جوجی ایم ایس سی بوٹنی کرکے انہی دنوں قائدِاعظم یونیورسٹی کے ہوسٹل سے آگئی تھی ، اور میرے اس مشکل وقت کو نبٹانے کے لیۓ آپا بھی ( جو اُن دنوں سیا لکوٹ میں تھیں ) آ گئیں  ۔ اور ہوا یہ کہ اُن دنوں "ملازم کرائسس " آگیا ، اور مہمان نوازی کا بھی عُروج ہو چلا تھا ، تو کچن سنبھالنے کے لیۓ ہماری "پیاری ، مہربان ، اور محبت کا ڈھیر" خالہ جی کو بلایا گیا ، آپا مجھے تو مدد دیتیں ، ساتھ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتیں ، جوجی ، تو صرف بچوںکو سنبھالنے میں مدد دیتی رہتی ۔ گویا ان دو بچوں نے گھر بھر کو مصروف کر دیا تھا ،،، 
یہ بچے 11 جولائی بہ روز جمعہ شام 5 بجے ایک اور 5 بج کر 20 منٹ پر دوسرا 1975ء کو دنیا میں آۓ۔یہ ڈاکٹر صاحبہ کے ہی مطابق تھا کہ یہ بڑا ہے اور یہ چھوٹا ،، چناچہ اس کے مطابق عمر بڑا اور علی چھوٹا قرار پایا ۔ جولائی میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اسی لیۓ آپا بچوں سمیت رہ رہی تھیں ،، لیکن سکول کھلنے کا وقت آیا تو آپا نے فیصلہ کیا جب تک کچن کے کام کے لیۓ ملازم نہیں ملتے ،، منیرہ اور بچے میرے ساتھ سیالکوٹ چلیں گے ، اس وقت بچے ڈیڑھ ماہ سے ذیادہ کے ہو چکے تھے ! چناچہ ہمارا پیارا بھائی " ووکس ویگن " میں سیالکوٹ چھوڑ آۓ ، میں وہاں مزید دو ماہ رہی ، آپا نے ایک نوآموز ماں کو بہت اچھا ٹرینڈ کیا ، اور بڑے بھائی جان ہمیں دو ماہ بعد واپس چھوڑنے آۓ تو ملازم کرائسس ختم ہو چکا تھا ، لیکن اماں جی کی کمزوری کا یہ عالم تھا کہ وہ ان چار ماہ کے کمزور ایک بچے کو بھی اُٹھا نہ سکتی تھیں ۔ لیکن ماں ، باپ کی محبت اور بیٹی کے لیۓ فکر کا یہ عالم تھا کہ صبح 7 بجے ہی بچوں کو میرے پاس سے لے جاتے ، کہ انھیں علم تھا کہ میں ساری رات کی جاگی ہوتی تھی ،، یہ دونوں ٹھیک دو ، دو گھنٹے بعد جاگتے اور بیک وقت اتنا رونا دھونا ڈالتے کہ جلدی جلدی ان کے فیڈرز تیا ر کیۓ جاتے اور بیک وقت ہی انھیں پلانے کا کام کیا جاتا ، فیڈر تیاری کے دوران کے چند منٹ کے لیۓ اُن کے منہ میں شہد لگی چوسنیاں دی جاتیں ، اور پھر دودھ پلا کر ، انھیں کچھ دیر کندھے سے لگا کر ہضم کرا کے پھر سلایا جاتا اور ٹھیک دو گھنٹے بعد یہی عمل دہرایا جاتا ،،، یہ ایسا الرٹ رکھنے والے دن رات تھے کہ اکیلی ماں کو ریسٹ اور نیند کی بہت ضرورت ہوتی اسی وجہ سے بچے ، میری نیند کی خاطر ، نانا ، نانی سنبھالتے ، سیالکوٹ سے آۓ دو ماہ چلے تھے کہ ایک دن اسی معمول کے مطابق ، بچے، اباجی اُٹھا کر لے گۓ ۔ اور میں تھک کر گہری نیند سو گئی ، جو خواب دیکھا اس نے مجھے وقت سے پہلے جگا دیا ، ورنہ میں گیارہ ساڑھے گیارہ تک سوتی تھی ، اس دن پریشان ہو کر میں اماں جی کے پاس باہر بر آمدے میں آگئی ، نومبر کے دن تھے اور اماں جی بچوں کے ساتھ دھوپ میں بیٹھتی تھیں ، ساتھ ساتھ ہاتھ میں یا تو کوئی کتاب ہوتی یا کروشیا سے لیس بنا رہی ہوتیں ! میں نے انھیں کہا ، میں نے عجیب سا خواب دیکھا ہے " کہ حضورپاک ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی جارہی ہے ،،، میرا وجُود بھی وہیں آس پاس موجود ہے آپﷺ کے ساتھ ایک فرشتہ بھی ہے جو میں نہیں دیکھ پاتی ، لیکن اُس کی آواز ایک مقام پر آتی ہے جب ایک کمرے میں خُون بکھرا ہوا ہے اور اس کے درمیان ایک " سر اور چہرہ معہ داڑھی " کے پڑا ہے ، حضور ﷺ متعجب سے ہوتے ہیں تو آواز آتی ہے " یہ امام حسین (ر ض ) " کا سر ہے " ،،، بس میری آنکھ کھل گئی ،،، ( جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اماں جی کو خواب کی تعبیر کا قدرتی طور پربہت فہم و ادراک حاصل تھا ) ،،میں نے اُن سے اس کا مطلب پوچھا تو وہ اُس وقت کروشیا سے لیس بُن رہی تھیں ا نھوں نے لیس بُننا چھوڑا اور کچھ لمحے خاموش رہیں پھر کہنے لگیں " تمہارے اِن بچوں میں سے ایک شہادت پاۓ گا " ،،،، میں نے نارمل انداز سے یہ سنا ، ا نھوں نے مزید کچھ نہ کہا ، لیکن اُن کے چہرے پر اُداسی چھا گئی۔ میں نے سوچا جب یہ بڑے ہوں گے ، فوج میں جائیں گے، تب کسی محاذ پر یہ واقعہ ہو گا ، تو اللہ کے حکم سے ان میں سے جس کے نصیب میں شہادت ہوئی تو کوئی بات نہیں ۔ جو اللہ کو منظور ہوا ۔ !
( منیرہ قریشی ، 8 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )