بدھ، 15 جنوری، 2025

"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں ''

اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں '' نبی پاک ﷺسے پوچھا گیا ، " ربّ ۔ دنیا کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟" آپ ﷺنے فرمایا " ربّ ، کا تخت پانی پر تھا ، اور آس پاس دھواں تھا " گویا دھوئیں کے پردے سے حیران کن ، ناقابل فہم کائنات کی تخلیق سامنے آئی ۔ آنے والے وقت میں کائنات میں دھند ، دھواں ، اور کہرا جیسا ماحول،، انسان کے لیے پراسراریت کا ہیولا بن گیا ۔ کہ وہ آج تک اس کا اسیر ہے ۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک فضائی ماحول بھی میسر ہونے پر انسانی حسّیات کچھ زیادہ ہی محتاط ہو جاتی ہیں ۔ اگر دھند ہے ، یا دھواں لیکن انسان ان میں سے کسی میں پھنس کر خود کو پراسراریت میں محصور سمجھتا ہے ، یہ خیال آتا ہے کہ شاید کچھ نیا نظر آ جائے۔ ایسے ہی حالات میں ، یا تو کہرا ، دھواں ، دھند کے پس منظر سے ، حیران کن تخلیقات ، " تصاویر" کی صورت میں سامنے آتی ہیں یا پھر الفاظ کی شبنم تحاریر کی صورت القا ہوتی ہے ۔ اورکبھی کبھی ایسی دھند یا دھویں کے عقب سے عجب طلسماتی شخصیت سامنے آتی ہے کہ جو قوم یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ تو گویا دھند یا دھواں غیرمتوقع مستقبل کی علامت ہیں۔

پھر ایک دن کبھی ۔۔۔۔۔۔

۔"آسمان سے اٗترتی منفی چالیس ڈگری فضا میں نیلگوں رنگ گھُل جاتا ہے اور زمین کے اندر کی تہہ سے چالیس فارن ہائیٹ کی حدّت کی شدت باہر آنے کے لئے تیار تھی ، یہ حدت اپنے ساتھ گلابی مائل سلیٹی رنگ لا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتی ۔ تب نیلگوں فضا نے بڑھ کر اس گلابی گرمائش کو گلے لگایا ، اس وقت بادلوں نے اطمینان بھرا سانس لیا ، اور اپنے اندر کے بوجھ کو روئی کے گالوں کی صورت کامل خاموشی سے زمین تک پہنچانے کا کام کرنے لگے ۔ زمین کی ہر مخلوق اپنے اپنے طور سے فائدہ اٹھانے لگی ،، کچھ صرف آنکھوں سے سراہتے ہوئے۔۔ کچھ مخلوق گھروں کو بچاتے ہوئے اور کچھ اس موسم کے مطابق دستر خوان سجاتے ہوئے ۔بعض دیکھنے والوں کے لئے یہ معمول کا منظر ہوتا ہے جب برستے گالے اّترے تو ،۔" آج آسمان نے زمین کو موتیے کے پھولوں کے ہار بھیجے تھے ، زمین کے صبر و تحمل کے انعام کے طور پر " ۔ ( منیرہ قریشی ، 15 جنوری 2025ء مانچسٹر)۔

 

اتوار، 5 جنوری، 2025

"برستی برف میں کائنات"

"برستی برف میں کائنات"

سلیٹی آسمان جیسے تھک چکا تھا تب خود میں رُکی برف ، خاموشی سے برسانے لگا ہوا کی چھیڑ خانی سے بےگانہ کچھ ٹنڈ منڈ اشجار کی نازک ٹہنیاں۔۔۔ برف کے بوجھ کو دعایہ انداز سےسہارے ہوئے ہیں جانے کیا سوچ رہی ہیں! یہ کہ اس دفعہ کا سرد سال جھیل پائیں گے ؟ ،،ہم تو خوبصورتی بانٹتے ہیں کبھی سبز ، کبھی سفید ،کبھی سرخ اور پیلا پھر خدشات کے جالے کیوں گھیرتے ہیں !! کچھ انسانی آنکھیں ، کھڑکیوں سے چپکی ہیں ۔۔ اور برف کے ہر پرت کو دل میں سمو رہی ہیں، جانے کیا سوچ رہی ہیں! کہ اب کے یہ سرد سال وہ جھیل پائیں گی؟ یا وصال کی امیدیں پھر برف میں دب جائیں گی ہم تو خوبصورتی بانٹتی ہیں گرم ذائقہ دار کھانوں کی، گرم لحافوں، جذبوں اور ٹھکانوں کی، کیا ہجر کے خطوط کی کڑوی تحریریں اس سال بھی پڑھنی پڑیں گی ؟؟ (منیرہ قریشی 5جنوری 2025ء مانچسٹر)