منگل، 28 جولائی، 2020

"لمحے؟(9،10،11،12،)

" لمحے نے کہا " (9).۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" میرے خالق ! میرے آنسو تیرے سامنے ، تیری محبت میں بہتے ہیں ،،یا ،، تیرے خوف سے ،، یا ،، تیری شکرگزاری میں!!! درجہ بندی کرنے والی بس تیری ذات پاک ہے ۔
( منیرہ قریشی 16 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 10)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" اگر کسی کا راز رکھنے کا ظرف نہیں ہے ،،تو نہ اگلے کو " کُریدیں " ،،، نہ کچھ سننے کی کوشش کریں ! ایسے موقعوں پر " بہرا " بن جانا ،اعمال کو وزن دار کر سکتا ہے " !۔
( منیرہ قریشی 17 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا" (11)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" اچھی سوچ " خیر" ہے ،،،، اب اسےنرم ریشم اور احترام کے "الفاظ " کا لباس پہنا دو ۔
۔" بُری سوچ " شَر"ہے ،،، اسے طنز و تنقید کے" الفاظ کا لباس " پہناؤ گے ،،، تو خود ہی ننگے ہو سکتے ہو !!
( منیرہ قریشی، 19 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " (12)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔'' یہ اولیاء اللہ بھی خالق کی کیا شاندار اور بےمثال تخلیق ہیں ۔ اپنے نفس کو نکال کر اُسے چوکیدار کی وردی پہنا ، ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا ،، دروازے پر کھڑا کر دیتے ہیں ۔ خود پچھلے دروازے سے دنیا پِھر آتے ہیں جہاں ضرورت ہو وہاں مدد پہنچا کر ،،، پچھلے دروازے سے ہی داخل ہو کر ،،،، چوکیدار سے پو چھتے ہیں ،،، " کوئی آیا ، گیا؟؟؟ ""!۔
( منیرہ قریشی ، 20 جولائی 2020ء واہ کینٹ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 13 جولائی، 2020

"لمحے(4،5،6،7،8)۔"

" لمحے نے کہا " (4)۔
امیر خُسروؒ نے مُرشدؒ کی نعلین 7 لاکھ چیتل ( اُس وقت کا سِکّہ) میں خرید لی تھی ، اللہ کی محبت تک لے جانے والے "رہنما"سے شاندار اظہارِ عقیدت ،،،،،۔
لیکن عام عوام بھی خوش قسمت ہیں کہ جیب خالی ہی سہی ،،زبان اور دل، اُس کے وِرد سے اظہارِمحبت کر تے رہتے ہیں۔! (باعثِ اطمینان ، باعثِ اطمینان )۔
( منیرہ قریشی ، 8 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
" لمحے نے کہا " (5)۔
کئی دفعہ دل کا برتن سکون اور شکرگزاری سے اتنا لبالب بھرا ہوا ہوتا ہے کہ اب ایک قطرے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ،،،،، لیکن پھر پتہ نہیں کیسے ،، اس میں سے بےچینی اور بےسکونی چھلکنے لگتی ہے ۔ اور لبریز برتن دیکھتے ہی دیکھتے آدھا ہو جاتا ہے ،، نہ جانے کیوں ؟! شاید فطرتِ انسانی !! شاید تلاشِ اَصل !!!!۔
( منیرہ قریشی 9 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
"لمحے نے کہا " (6)۔
'' زندگی میں کچھ لوگ ہمارے لیۓ ہمارا ٹسٹ ہوتے ہیں ،،، لیکن لمحے بھر کے لیۓ سوچیئے ،،،،کہیں ہم اُن کے لیۓ تو " ٹسٹ " تو نہیں بن رہے !!۔
( منیرہ قریشی 11 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 7)۔
۔" عجمی سے عربی کی الہامی آیات و الفاظ کی ادائیگی میں کچھ کمزوری ہو بھی جاۓ ،،،تب بھی اخلاص و محبت کے گراف سےپاسنگ مارکس لے ہی لے گا " ( ان شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 12 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
" لمحے نے کہا " ( 8)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔" متکبر لوگ کتنے ' قابلِ رحم ' ہوتے ہیں ۔ اپنی سزا خود اپنے کاندھوں پر اُٹھاۓ پھرتے ہیں ،، وہ سزا ،، نخوت کی رسی ہوتی ہے ۔جو روزانہ اسےجکڑتی چلی جاتی ہے "
( منیرہ قریشی15 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 7 جولائی، 2020

" لمحے نے کہا" (3)۔

۔" لمحے نے کہا" (3)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
٭۔۔۔ جب" رات " کو
میَں نے کھڑکی سے جھانکا
تو اندھیرے نے مجھے ڈرا دیا !!۔
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات میں
درخت یوں سہمے کھڑے ہیں
جیسے اندھیرے سے ڈر رہے ہوں
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات نے
چُپکے سے آکر میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے
اور اٹکے آنسوؤں سے اسکے ہاتھ بھیگ گئے!۔
٭٭٭٭٭٭
( منیرہ قریشی 7 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

پیر، 6 جولائی، 2020

" لمحے نے کہا " (1،2)۔

۔" لمحے نے کہا" ( 1)۔
٭جب زندگی میں آپ کبھی برائی  یا رویوں  کی گراوٹ کا شکار ہو جائیں،اور اس کھائی میں لڑھکتے چلے جا رہے ہوں،،، کوئی منع کرنے والا نہیں،کوئی روکنے والا نہیں۔۔۔بس اتنا کریں کہ لمحے بھر کو رُک جائیں،،جہاں ہیں وہیں بیٹھ جائیں،،اب اِس جگہ ، اس گھڑی سےمزید " سطحی اخلاق " کے رویےپر جم نہ جائیں ،،،مزیدکوئی  جملہ کہہ کر جوابی وار نہ کریں ،، رُک جائیں۔ایسا نہ ہوکہ لڑھکتے چلےجائیں اور ابھی تو ڈھلان کی طرف لڑھکتے ہوئے،،،کچھ تو بیٹھنے، سانس لینے کی جگہ ہے ،،، لیکن اگر یہاں اس وقت نہ رُکے،،، تو پھر آگے کھائی ہے اور وہاں کہے گئے گھٹیا جملوں کی کھائی میں ، ہم خود چُورا چُور پڑے ہوں گے!!! کیوں کہ جواباً کچھ کہنا آسان ہے ،،، لیکن کچھ نہ کہنا معراج ہے ۔
پسِ تحریر۔۔۔
 یہ دانشمندی کی باتیں شاید نہ ہوں ،، البتہ زندگی کے وہ تجربات  ضرور ہیں  جو ہم ایسے ہی جملوں سے ترتیب دے ڈالتے ہیں ،،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے تو ہم " ٹھاکر " بنتے چلے جاتے ہیں !! کہ شاید کوئی ہماری تجویز سے فائدہ اُٹھا لے ۔ ایک فریق وہ ہوتا ہے ، جو ٹھوکر کھا کر جلدی سمجھ اور سنبھل جاتا ہے جبکہ وہیں دوسرا فریق ہوتا ہے جو " مجھ سے کچھ غلط نہیں ہوسکتا" کا رویہ اپناۓ رکھنے میں زندگی گزار دیتا ہیں ۔ اللہ ہمیں فراست سے بہرہ مند فرماتا رہے۔آمین !۔
( منیرہ قریشی ،، 5 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " (2)۔
٭"جب بھی کسی سے اختلافِ راۓ ہو ، اور اُسے جوابی جملے بہ آسانی سناۓ جا سکتے ہوں ،،، تو لمحے بھر کو رُک کر یہ ضرور سوچ لیں کہ اگلے پانچ یا دس سال بعد یہی جملے آپ کو خود کوئی اور سُنا رہا ہو گا ،،، تو دل کی کیا کیفیت ہو گی ؟؟؟؟کیوں کہ جس طرح محبت کے بدلے محبت مل ہی جاتی ہے تو دل آزار جملوں کی بھی کبھی نہ کبھی باری آ ہی جاتی ہے "۔
( منیرہ قریشی 6 جولائی 2020ء واہ کینٹ )