‏آخری لمحات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏آخری لمحات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 13 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(78)۔

 یادوں کی تتلیاں " (78)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ذاتی گھر کا ہونا ، اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ،، میں نے ایک لمبا عرصہ اباجی کے ساتھ ، اماں جی کی وصیت کی وجہ سے بھی گزارا ،، کچھ اپنے حالات کے اتار چڑھاؤ ، کی وجہ سے ،، اور کچھ اس لیۓ بھی کہ اباجی میرے اور میں اُن کی عادی اور ہم ایک دوسرے کے مزاج کو بہتر جانتے تھے ،، اللہ کا شکر کہ یہ دور بہترین گزر گیا ،،، اباجی کی فوتگی کے بعد میں مزید اس گھر میں اتنی دیر رہی کہ میرے دو بچوں کی شادیاں بھی ہوئیں اور ان دونوں کے گھر ایک ایک پری آچکی تھیں ۔ اب وقت آچکا تھا کہ سکول سے جمع شدہ کچھ رقم کا استعمال میں اپنے گھر کے بنانے کےلیۓ لوں ، ، ، چناچہ جوجی اور میں نے اپنے واقف آرکیٹیک ناصرسعید سے رابطہ کیا ، ناصر نے بہت سنجیدگی سے میرے لیۓ یکے بعد دیگرے ، کئی نقشے بناۓ ،، کبھی میرے ذہن کچھ آتا ، تو میں وہ تجویز کر دیتی ، وہ برخوردار ہفتے بعد نقشے میں تبدیلی کر کے لے آتا ، آخر دس یا بارہ نقشوں کے بعد اس نے کہا " کبھی بھی کوئی اپنے گھر کے نقشے سے مطمئن نہیں ہوتا چاہے وہ محل ہو ،یا ، جھونپڑی !! میں نے ایک نقشے پر انگلی رکھ دی،تووہ اس کی ڈیٹیلز بنانےکا کہہ کر چلا گیا ۔ " اور اس دوران ہم قریبا'ً ڈیڑھ سال کے لیۓ قریب ہی ایک کراۓ کے گھر میں اُٹھ آۓ ،، ،،،۔
جب میں کراۓ کے گھر آگئی ، تو اس وقت میری پوتی ، دو ، ڈھائی سال کی تھی ۔اس گھر میں پہلی شام ہوئی تو وہ ایک صوفے پراداس سی بیٹھی تھی ، میں نے پوچھا " میری مِٹھی کیوں چُپ ہے "؟ ،، تو اس نے کہا" اماں چلیں واپس واہ کینٹ والے گھر میں "،،، اتنی سی بچی کو بھی " گھر " کی یاد آرہی تھی ، تو میرے تینوں بچوں کا کیا حال ہوا ہو گا ، جو یہیں پیدا ہوۓ، یہیں جوان ہوۓ ، اور دو کی شادیاں ہوئیں ،،، اور دو نوں ماں ،باپ بنے ،، اِس گھر کے آخری ایک ہفتہ میری بیٹی ، سامان کی پیکنگ کے لیۓ آگئی تھی ، اس کے آنسو تو رکتے ہی نہ تھے۔ ان سب کو اس گھر سے " دلی ، اور روحانی" پیار تھا ۔ اباجی کے گھر کے سرونٹ کوارٹر میں جو فیملی رہ رہی تھی ، اس گھر کو جو بھائی جان کے حصے میں آیا تھا ،،، نے ،، جن کو بیچا تھا ، میں نے ان سے درخواست کی کہ ابھی ان لوگوں کو، کوارٹر میں رہنے دیں۔ دونوں لڑکے ایک ہی وقت میں اسلام آباد سے 6 بجے شام پہنچ جاتے تھے ،،، تو سیدھے اِسی گھر  اے 65،مدنی سٹریٹ میں آجاتے ، جنوری یا فروری تھا۔ دونوں کے ساتھ دو چار دوست ہوتے ، ہیٹر لگتا اور بچے رات 9 تا 10 بجے اپنے نئے گھر آتے اور چہرے پر اداسی کی چھاپ ہوتی ، ایک دو دن کے بعد میں نے ملازمہ نگینہ کو دودھ کا کارٹن، چینی ، چاۓ کا سامان پہنچایا ، کیوں کہ یہ" اداس ٹولہ " ابھی اس فیز سے نکل ہی نہیں رہا تھا ، میں نے سوچا نگینہ پر ان کی میزبانی کا بوجھ کیوں پڑے، ، ان کی حسرت تھی کہ " کاش " ہم یہ گھر کسی کو خریدنے نہ دے سکتے !!! گھر کی چابی ابھی انہی کے پاس تھی ،،!! اور جب چابی لینے کے لیۓ اصلی مالک آگۓ۔ تب دو ماہ کے بعد دونوں لڑکے نارمل روٹین میں آۓ ،،،،۔ 
گھر بنانے کے لیۓ ہمیں والد نے اِسی سکول کی زمین وراثت میں دے دی تھی ،، اس لیۓ زمین کی فکر نہ تھی۔اس دوران موجود سرماۓ کا جائزہ لیا ، ہمارے گھر کے بنانے کے لحاظ سے اتنے روپے تھے کہ " گراؤنڈ فلور ، چھت تک بن جاتا ، اور اوپر کی منزل نا ممکن تھی ،اور اندر کی فنشنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔،، اور ناصر کے خیال میں مجھے اتنی ڈبل رقم مل جاۓ تب کام آگے بڑھے گا ۔ اور جو کل رقم ہمارے پاس تھی وہ 18 لاکھ تھی ، اور اس میں سے تین لاکھ ، جوجی کو الگ کرنے پڑے ، کیوں کہ اسی سال اسے اپنی دونوں ٹونز کو انگلینڈ کی " اِنٹری کروانی " تھی ،، جوجی کے بچوں کی اپنے والد کی وجہ سے انگلینڈ کی نیشنلٹی تھی ، بڑا بیٹا اور بیٹی ڈاکٹر مائرہ وہیں انگلینڈ میں تھے ، اور اب  جڑواں بیٹیوں  کا نیشنیلٹی پروسس شروع ہونا ضروری تھا ، ٹونز ان دنوں " اے لیول " میں داخلہ لینے جا رہی تھیں ۔ اب پیچھے 15 لاکھ رہ گئے تھے۔ ،،، اور ہم سوچ بچار سے قدم اٹھانا چاہتیں تھیں ۔
اسی دوران دسمبر 2002ء میں آپا کی نواسی مہرین کی شادی ہوئی ، جس میں شرکت کے لیۓ ہم سب فیملی ممبرز لاہور گئے ۔ آپا کی بڑی بیٹی کے چچا سُسر مشہور و معروف دینی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد نے نکاح پڑھانا تھا ،انھوں نے جو مسجد لاہور ماڈل ٹاؤن میں بنائی تھی ،، نکاح اسی مسجد میں ہونا تھا ،،، ان میں باقاعدہ بارات کا کوئی تصور نہیں،، نہ ہی کسی مہندی کی تقریب کا رواج ہے ۔ نہایت سادگی سے گھر کے لوگ مسجد گئے ، ان میں ہم سب اس لیۓ شامل تھے کہ ہم دوسرے شہر سے آۓ مہمان تھے ، ورنہ گھر کی کچھ خواتین اور چند مرد حضرات دولہے کے ساتھ مسجد میں نکاح کروا کر دُلہن لے آتے ہیں ،، کوئی کھانا نہیں ہوتا۔صرف "بِد" تقسیم کر دی گئی اور لڑکی والوں نے شدید ٹھنڈ کی وجہ سے "سُوپ" پیش کر دیا ،،،، آپا اور بڑے بھائی جان کے " گرینڈ چلڈرن " میں سے یہ پہلی بچی بیاہی جا رہی تھی ، اور نانا نانی اپنی دوسری نسل کو شادی کے بندھن میں دیکھ رہے تھے ! ، یہ ہی دن تھے جب بڑے بھائی جان کی مسلسل کھانسی نے سب کو متوجہ کیا ہوا تھا،، وہ شادی کے ہر دن کو انجواۓ کر رہے تھے ،،، میں نے نکاح اس طرح مائک پر ، پہلی مرتبہ سُنا تھا ،،، اور خود ڈاکٹر صاحب نے پڑھایا،پہلے چند آیات اور ترجمہ اور پھر چھوٹا سا خُطبہ دیا ، پھر لڑکے کے ایجاب وقبول اور سائن سے پہلے اعلان کیا کہ" حقِ مہر ، لڑکے کی طرف سے جتنا زیور دُلہن کو چڑھایا گیا ہے ، اسی صورت میں ادا ہو گیا " ،،، یہ اتنی اچھی بات تھی کہ واپس آکر میں نے اپنی بیٹی کے ہونے والے نندوئی ونگ کمانڈر محبوب صدیقی صاحب سے رابطہ کیا کہ میں بھی حق مہر کی مد میں یہ ہی لکھوانا چاہتی ہوں ( دراصل ، اس گھر کے بڑوں یا بزرگوں میں اُن کا شمار ہوتا ہے ،،) انھوں نے میری بات سُن کر کہا " کوئی مسئلہ  ہی نہیں !" اور نکاح کے کاغذات میں ایسا لکھا گیا !۔
یہی دن تھے جب بڑے بھائی جان اپنی نواسی کی شادی کے ایک ہفتے بعد ، نشنل کی شادی میں سبھی معاملات میں پیش پیش ضرور تھے لیکن تھکے تھکے سے !اور ٹھیک ایک ماہ بعد کھانسی نے شدت اختیا کر لی تو بڑا بیٹا یاور اپنے گھر پنڈی لے گیا ، ٹسٹ کرواۓ ، تو پتہ چلا" لنگز کینسر" کی آخری سٹیج ہے ،فوراً ہاسپٹل داخل کروا دیا گیا ،، اور مزید مہینہ ، ڈیڑھ گزر گیا ، نو محرم
۔2003ء ،،، ہم دونوں بہنیں انھیں دیکھنے گئیں ،، تو ان کا اٹینڈنٹ باہر ہی کھڑا تھا ،، اس نے ہمیں دیکھتے ہی  کہا " اچھا ہوا جی ،، آپ آ گئیں ، صاب بہت یاد کر رہے تھے ،، دراصل ہم ایک دن چھوڑ کر جاتی تھیں ۔۔ اندر کمرے میں ان کی بڑی بیٹی ، آپا ، اور دونوں بیٹے موجود تھے ، ڈاکٹر نے رش کم کرنے کا کہا ،، بہو اور بیٹا مسلسل ان کی ٹانگیں دبا رہے تھے ! وہ اس ساری بیماری میں چلنے سے رہ  گئے تھے ،،، ہمیں دیکھ کر اتنا ہی کہا " اچھا کیا جو تم دونوں پہنچ گئیں " ،،، کہ آدھ گھنٹے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئ دو تین ڈاکٹرز آگئے ، چھوٹا بیٹا پاس ہی رہا اور باقی کمرے کے باہر ، آگئے،، بمشکل 15 ، 20 منٹ اور گزرے کہ ڈاکٹرز بھی باہر آگۓ اور ان کے چہرے کچھ لفظ کہے بغیر ہی کچھ کہہ گۓ ، چھوٹا بیٹا ، دل گرفتہ ان کے پاس کھڑا رو رہا تھا ،،، اور اگلے دن 10 محرم 2003ء ،،، بڑے بھائی جان ، نے ہمارے خوب صورت گاؤں میں مٹی کی چادر اوڑھ لی ،، اور یوں ایک شاندار شخص کا شاندار دور ختم ہو گیا ! ! ۔
( منیرہ قریشی ، 13 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 7 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(76)۔

 یادوں کی تتلیاں " (76)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی خدمت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ تو کسی کی طرف سے ہو رہی تھی ، نہ کسی کوتاہی کو برداشت کیا جاتا تھا ،، اُن کی بیماری میں ، اباجی کی چھٹی حِس شاید تیز ہو گئی تھی ،،، کہ وہ بےدھیانی سے بعض ایسے جملے کہہ دیتے ، جس میں ان کی مضبوط ٹیلی پیتھی کا انداز ہ ہوتا ، ایک دن یکدم اُٹھ کر بیٹھے اور اپنے بہت ہی عزیز ترین دوست کرنل افضل کو آوازیں دیں ،،، اور پھر کہا " بھئ افضل کی فیملی آگئی ہے ، چاۓ تیار کرو "۔
ہم سمجھ گئےکہ کوئی خواب دیکھا ہے ، کیوں کہ افضل چاچا کو فوت ہوۓ اس وقت تک 18 سال ہو چکے تھے اور ان کی فیملی گجرات میں رہتی تھی۔ البتہ ان کی ایک شادی شدہ بیٹی وہیں واہ میں رہتی تھیں ، جن سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہتی ۔ اور حیرت ہوئی جب اگلے دن افضل چاچا جی کی بیوی ، بیٹی اور دو بیٹے ہمارے گھر آۓ ،،، اور ہم گھر والوں میں سے کسی کواُن کی آمد کا علم نہیں تھا ۔ کہ وہ اپنی بیٹی کی طرف ایک دن پہلے ہی پہنچیں تھیں ۔ 
اللہ کا شکر کیسے ادا کرتی ہوں کہ اباجی کو اِس بڑھاپے میں ، بیماری میں سب نے محبت کے ساتھ ان کی کیئر میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ،،، اور مزید شکر کہ اُس دو ڈھائی سال سکول ، بھی چلتا رہا ، اباجی کی شام کی ڈیوٹی بھی پوری ہوتی رہی ، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ ، الحمدُ للہ !!! اور اس سلسلے میں مجھے اپنے بچوں کو کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی ،،، اس لیۓ کہ وہ نیک فطرت تو ہیں ہی ،،لیکن میں سمجھتی تھی ،، والد میرے ہیں مجھے اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیۓ ،، اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آجاتا ،،، کیا پتہ یہ اس ذمہ داری کو بےدلی سے نبھائیں گے ، تو مجھے بُرا لگے گا ،، اس لیۓ میں نے انھیں کبھی زبردستی کسی کام کا نہ کہا ! تاکہ مجھے کوئی ناگوار جواب نہ سننا پڑجاۓ ! کہ جوانی میں کون بیمار اور بوڑھے مریض کے ساتھ خوش دلی سے وقت گزارنا پسند کرتا ہے،،، لیکن اللہ کا شکر اس دو ڈھائی سال کی سخت بیماری میں میرے بچوں نے بہت تعاون کیا ، اور میرے ساتھ ہر موقع پر ہاتھ بٹایا ۔ اباجی کی بیماری میں ضروری تھا کہ ایک کوئی " بڑا " ہر وقت گھر میں موجود رہے ،،، خاندان میں کوئی شادی ہوتی ، یا کوئی نرمی سستی یا کوئی فوتگی ہوتی تو میں گھر میں رہتی ،، کیوں کہ مجھے لگتا ، کہ میں اباجی کو ذیادہ بہتر طریق سے سنبھال سکتی ہوں ،،، یا میں ان کے مزاج کو زیادہ بہتر جانتی ہوں ،،،، ! اس باہر کی ذمہ داری کو آپا اور بڑے بھائی جان نے ہی نبھایا ،،۔ 
اباجی کی یادداشت کبھی کبھی ایک سپارک سا ہوتا ، اور بالکل ٹھیک بھی ہو جاتی لیکن ایسا موقع بہت ہی کم وقت کے لیۓ آتا ،،، ایک دن میں ان کو کھانا کھلا کر فارغ ہوئی ، اُٹھنے لگی تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،، اور ایسے مریض کی ہاتھ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے ،، میں نے ان کی طرف دیکھا ،، میرا خیال تھا ، کچھ اور کھانا چاہتے ہیں ،،، لیکن انھوں نے میرا ہاتھ پکڑے پنجابی میں یہ جملہ " تُوں تھک گئی ہوسیں " ،،، ( تم تھک گئی ہوگی ) ،،، میری آنکھوں میں آنسو آگۓ ، اور میں نے اباجی کا ہاتھ چوم کر کہا " اباجی ،، آپ 20 سال بھی اس حالت میں رہے تو میں خود سنبھالوں گی " ،،، ان کی آنکھوں کے کونے بھیگ گئے ،،، اور اس واقع کے بعد تو جیسے اباجی چُپ سے ہو گۓ ،، آپا اور رقیہ پھو پھی جی ،،، باقائدگی سے دن کی ڈیوٹی دے رہیں تھیں ، دوسرے دن بھائی جان معہ فیملی آۓ ، ملاقات ہوئی ،، لیکن اباجی مزید بےنیاز دکھائ دیۓ ،،، جیسے اب وہ جانے کو تیار بیٹھے تھے ۔ اورٹھیک تیسرے دن،، اس دن جمعہ تھا ، سکول سے واپس آکر نماز پڑھی ،، آپا اور پھوپھی جی اپنے گھر جا چکی تھیں،،، بچوں نے نماز پڑھ لی ،،، تو میں نے اباجی کو کھانا کھلانا ،، چاہا ،،لیکن انھوں نے سختی سے منع کر دیا ،، میں نے سوچا ، تھوڑی دیر بعد کوشش کرتی ہوں۔ اور 20 منٹ کے بعد دوبارہ درخواست کی کچھ کھا لیں ۔،، لیکن اباجی نے اس وقت """ میری طرف دیکھا ،،، لیکن انھوں نے میری طرف نہیں ، بلکہ میرے پیچھے کی طرف دیکھا ،، اُن کی آنکھوں میں حیرت سی تھی ،، لیکن صرف چند لمحے کے لیۓ ،، اور کہنے لگے ،، میں کچھ دیر بعد کھالوں گا "لیٹانے کا اشارہ کیا ، میں نے لیٹا دیا ،،، اور آپا اور پھوپھی جی کو فون کیا ، اباجی کی طبیعت صحیح نہیں لگ رہی ،، آپ کچھ دیر آرام کر کے پھر آجانا ، مجھے ان کی آنکھوں کی " عجیب سی اجنبیت " نے الرٹ کر دیا تھا ،،، کیوں کہ ایسی ہی حیرت ذدہ آنکھیں میرے بیٹے عمر رؤف کی آخری گھنٹے میں نظر آئیں تھیں ۔ آپا اور پھوپھی جی شام 4 بجے تک دوبارہ آگئیں ، میں نے بتایا ، انھوں نے ابھی تک کھانے سے انکار کیا ہوا ہے ، آپ انھیں شہد ملی چاۓ پلا دیں ،، ان کی کوشش سے شاید آدھی پیا لی پی لی ۔ لیکن پھر لیٹانے کا کہا ،، میں اِن دونوں کے آنے سے بے فکر ہوگئی اور کچھ دیر ریسٹ کرنے اپنے کمرے میں آگئی ، عصر پڑھ کر لیٹ گئی اور گہری نیند میں تھی کہ میری بیٹی نِشل نے بہت گھبرائی آواز میں جگایا " اماں اُٹھیں ، بڑے اباجی کو کچھ ہو گیا ہے " ،، لمحوں میں اُن کے کمرے میں گئی ۔لیکن وہاں ایک " باوقار ،، پُرسکون ،،، خوب صورت بوڑھا وجود " اپنے اصل کی طرف جا چکا تھا ،،،،، !۔
یہ 24 نومبر جمعہ کادن ، مغرب کا وقت تھا اور 1998ء کا سال !! اگلے دن تدفین کی گئی۔
یہ جو میں نے اباجی کی بیماری کی ایک ایک تفصیل بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس کی چند وجوہات ہیں ،، جو میں نے اپنی زندگی کے ان تجربات سے سیکھا ہے ،،،اسی کو شیئر کرنا چاہ رہی ہوں۔
؛ ۔ گھر کے بڑے اپنی زندگی کی شام گزار رہے ہوتے ہیں ،،، ان کی کافی عادات بھی فِکس ہو چکی ہوتی ہیں ،، نئی نسل اگر اکھٹے رہ رہی ہے تو انھیں ان کی عادات سمیت ، بہت نارمل انداز سے قبول کر لے ،،، کہ ان کے ساتھ منفی رویہ اپنانے کا نہ دین میں گنجائش ہے ،،، نہ دنیا کے کسی اخلاقی پیمانے میں ،،،،،،،،،،۔
؛۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ گھرانے جو مشترکہ خاندانی سسٹم سے رہ رہے ہوتے ہیں ،، بچے خودبخود ، بزرگوں سے کچھ نا کچھ سیکھتے ہیں، اور بزرگ یا مریض بھی اکیلا نہیں ہوتا ، ،،،،۔
؛۔ گھر کے بزرگ بیمار ہو جائیں تو ان کی ذمہ داری گھر کے سب بالغ لوگوں میں بانٹی جاۓ تو ، وہ بچے بہت کچھ سیکھتے چلے جاتے ہیں ،،،،،۔
؛۔ جب بھی گھر کے بزرگ بیمار ہوں ، اپنی توفیق کے مطابق ، اور ڈاکٹر کی ہدایات لے کر ، انھیں آسانیاں دینے کی کوشش کریں ،،،،،،،،،۔
؛۔ اس دوران اپنے رویۓ کو "روزانہ" کی بنیاد پر پرکھتے رہیں ،،کہیں خدمت کے دوران ہمارا لہجہ ،سخت یا اُکتایا ہوا تو نہیں ،،،،، ایسا ہرگز نہ ہونے دیں یہ ہی آزمائش کا وقت ہے ،، اور وقت کی سوئی " پِھر کر "واپس آتی ہے تو وہاں ہم بھی لیٹے ہوئے ہو سکتے ہیں ،،،،،۔
؛۔ مریض کے بستر ، اسکے جسم ، کپڑوں ، اور کمرے کی صفائی کا ازحد خیال رکھیں ،،، اس بات کا تعلق مالداری سے نہیں ،، ایک تو مریض بیمار ،، اور جب گندہ بھی ہو گا تو وہ مزید بیمار ہو گا ،،، اور عیادت کو آنے والے ناگوار تائثر لے کر جاتے ہیں ۔ ،،،،،،،
؛۔ اپنے مریض کواول تو محبت سے سنبھالیں ،،، کہ وہ چند دن ، چند سال کی محبت سے کی گئی خدمت ،، دراصل اللہ کی رضا کا باعث بن رہی ہوتی ہے ،،، ورنہ آپ نے صرف فرض سمجھ کر یہ عرصہ گزارا ،، تو اپ کا ضمیر آپ کو بےچین رکھے گا۔
؛۔ مریض کے کھانے میں اس کی خوشنودی کا ضرور خیال رکھیں ،،،،،،۔
؛،۔مریض کے پاس عیادت کے لیۓ آنے والے،اس کے رشتہ دار یا دوستوں کو اخلاق سے پیش آئیں کیوں کہ وہ سمجھ سب رہا ہوتا  ہےلیکن ،،بےبس ہوتا ہے ،،،اور یہ انتہائی سنگین بد اخلاقی ہوگی،کیا پتہ مریض کے دل سے کیسی دعائیں یا   بددعائیں نکل رہیں ہیں ، اسی کے مطابق آپ نے " مال " سمیٹنا ہے !!!۔
؛۔ اگر کسی کے گھر والدین میں سے ایک یا دونوں زندہ ہیں ،،،تو آج ، اورابھی سے قدر کر لیں ،، گلے شکوے اگر آپ کو ہیں تو انھیں بھی ہوں گے ۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں ، والدین کی خدمت آپ کا فرض ہے ، لڑکے کی بیوی کا نہیں ، اگر وہ کرے گی تو اخلاقی فرض نبھاۓ گی ! ! اسی طرح بیٹی کو بھی ماں نے اتنا ہی درد سہہ کر پیدا کیا ہے جتنا لڑکے کو ! اس لیۓ اگر وہ اپنے والدین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تو خود آ کر ان کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے ،،، اور اس سلسلے میں داماد کو چاہیۓ کہ اپنی بیوی کو لازماًاکثر بھیجے ،،،،،،،،،،۔ 
حدیثِ مبارکہﷺ ہے " خاک آلود ہوا اس کا چہرہ ،،، پھر فرمایاؑ " خاک آلود ہوا اُس کا چہرہ ،،، اور پھر تیسری مرتبہ فرمایا ؑ " خاک آلود ہوا اس کا چہرہ ،،،! صحابہء کرام نے بےچین ہو کر پوچھا " یا رسول اللہ ﷺکس کا ؟؟؟ 
فرمایاؑ "جس نے والدین یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت نہ کی " ۔
( منیرہ قریشی 7 جنوری 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

ہفتہ، 6 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(75)۔

یادوں کی تتلیاں "(75)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کا مکمل چیک اَپ واہ کینٹ کے پی او ایف ہاسپٹل میں بھی ہوتا تھا ، اور جب ضرورت پڑتی فوجیوں کے سی ایم ایچ سے بھی ! لیکن اس زمانے میں واہ کے ہسپتال کا حال ، احوال بہت بہتر تھا ،، اباجی اسی ہسپتال کو ترجیح دیتے تھے ، اُن کی یاداشت کے متاثر ہونے پر مکمل چیک اِپ کیا گیا تو ڈاکٹر شاہد سلیم جو کارڈیالوجسٹ بھی تھے ،،نے واضع کیا کہ یہ "پارکنسن" کے شکار ہوتے جا رہے ہیں ،، تب میں نے اس بیماری کی تفصیل پہلی مرتبہ سنی ۔ انھوں نے واضع کیا کہ مریض کی یاداشت بھی 
متاثر ہوتی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ ، چلنا پھرنا ، یا کھانا چبانا بھی بھولنے لگتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے اس طرح کہنے پر مجھے تو بالکل یقین نہیں آیا تھا ،، بےشک وہ 81 کے سال میں آ چکے تھے لیکن ،، باقی گھر کے اندر ان کا چلنا پھرنا ،، یا مہمانوں کو وقت دینا ، اخبار پڑھنا ، یہ تسلسل ٹوٹا نہیں تھا ،،، لیکن اباجی کی خاموشی بتدریج بڑھتی جا رہی تھی ،،، !۔
ذاتی ، ادارہ چلانا اچھا خاصا توجہ چاہتا ہے۔ چُھٹی ، بلکہ چُھٹیوں کا سوچنا بھی نا ممکن نظر آرہا تھا ، والدین کے بوڑھے ہونے پر صرف اولاد کی ہی آزمائش شروع نہیں ہوتی ، بلکہ خود بزرگوں کی آزمائش بھی شروع ہو جاتی ہے ،،، یہ آزمائشیں ،،،، ہوتیں چند سالوں کے لیۓ ،،، لیکن ہمارے حوصلے مہینوں اور کبھی کبھی "دِنوں " میں جواب دے جاتے ہیں ۔ اور ایسے ہی موقع پرکبھی تو اُس مہربان مالک الملک ، رحیم و کریم کی حیران کر دینے والا " کرم کا نظارہ " نظر آتا ہے اور کبھی ، "افسردہ "کر دینے والا نظارہ سامنے آجاتا ہے ۔ 
ہماری اماں جی تو " ڈھلتی عمر کی ابتدا " ہی میں چل بسیں ،، اور جیسا میں نے پہلے لکھا تھا کہ اباجی ، گھر میں کسی کی بیماری کو نارمل نہیں لیتے تھے ۔ حتیٰ کہ کسی بڑے ، یا بچے کو، گھر کے فرد کو یا ملازم کو ،،، کھانسی بھی لگتی تو ،،، دو تین قسم کی دوائیاں آجاتیں ، اور اپنے سامنے کھلائی جاتیں ،،، وہ کسی کی بھی بیماری سے نہیں ،،،،،، " دراصل جدائی سے خوفزدہ " تھے ! کیوں کہ ان کی ماں ان کی 6 برس کی عمر میں چل بسی، اور ایک پیاری ڈھائی سالہ بیٹی بھی نمونیا میں مبتلا ہو کر جُدا ہو گئی۔ پھر بیوی اور میرے ایک بچے نے انھیں " بیماری سے متعلق " حساس " بنا دیا تھا ، ، ، اماں جی کے ہوتے ہوۓ بھی وہ ان کی بیماری میں پریشانی کی انتہا پر ہوتے۔
اب جب وہ خود بیماری ،،، یا ،، لاچاری کی طرف جا رہے تھے تو ،، ابتدا میں ، سچی بات ہے اسے اتنا سیریس نہیں لیا ،، لیکن دو چار ہفتوں میں احساس ہوگیا ، کہ معاملہ ذیادہ توجہ چاہتا ہے ،،، کیوں کہ ایک رات کو وہ کمرے سے نکل ، ہاتھ میں چھڑی پکڑے بیرونی ، داخلی دروازہ کھول رہے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی ،،، میرا کمرہ اُن کے کمرے کے ساتھ ہی تھا ،، میں فوراً کاریڈور میں آئی تو اباجی باہر جانے والے تھے ، پوچھا " خیریت "؟ کہنے لگے " صبح ہو چکی ہے ، گیٹ کھولنے جا رہا ہوں ، میں نے انھیں کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دکھایا ، دیکھیں ابھی تو اندھیرا ہے " ، تب انھیں تسلی ہوئی اور جا کر لیٹ گئے ،،،، یہ الارمنگ حرکات تھیں ، اس دن کے بعد میں انہی کے کمرے میں سونے لگی ،،،، !۔
تب وہی دن تھے جب آپا ،،احسان بھائی جان ، اور میں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ کسی " میل " ہیلپر کو رکھا جاۓ ، دن تو سب کی موجودگی میں گزر جاتا ہے ، رات کو میں خود ان کے کمرے میں ہوتی ہوں لیکن باتھ روم لے جانا ، نہلانا ، ان کی مالش کرنا ، اور ایک خاص وقت کے لیۓ باہر بٹھانا ، واپس کمرے میں لانا ، یہ کام وہی کرواۓ ۔ فوری طور پر ایک ریٹائیرڈ حوالدار مل گیا ، جو کام کی تلاش میں بھی تھا ۔ وہ اونچا لمبا ، صحت مند بندہ تھا ، سارا وقت وہ باہر بر آمدے میں بیٹھا رہتا ، جب کسی وقت اس کی ضرورت ہوتی ، تو بُلا لیتے ،،، لیکن وہ صرف ایک ہفتہ رُکا ،،، کیوں کہ اسے جب کہا جاتا ،، یہ اب باتھ روم جانا چاہتے ہیں تو کہتا " جی یہ میرا کام نہیں ،، یا مجھے اس کی پریکٹس نہیں " ،،، اور اگر کہتے کہ اس وقت کوئی مہمان نہیں ،، چلو تم ان کی مالش کردو ،، تو بہت بےدلی سے آتا ، اور بےدلی سے بس تھوڑی دیر مالش کرتا ، اور واپس برآمدے میں جا کر بیٹھ جاتا ،،، بلکہ فوراً چاۓ کا آرڈر دیتا ،، اسی لیۓ ایک ھفتے بعد ہی اس کی چُھٹی کر دی ،،، اب یہ صورتِ حال ، آپا نے اور میں نے خود سنبھالی ،،طے یہ ہوا کہ ٹائمنگ سیٹ کر لی جائیں، تو ہم اپنے والد کی خدمت خود کریں گی۔صبح سویرے "شہناز ( ہماری بہت پرانی اور وفادار ملازمہ ) تو پہنچ ہی جاتی ہے، صبح 8 ، 9 کے درمیان آپا پہنچ جایا کریں ،،، اور اباجی کی دوا ، یا دوسری ضروریات کی نگرانی کریں ، اورمیں سکول چلی جایا کروں ، اور میرے سکول سے واپسی پر آپا واپس گھر چلی جایا کریں ، اور پھر میں جانوں ، اور میرا کام ،،! ہمارےبھائی جان اسلام آباد رہتے تھے ( اور ہیں) اور وہ فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر کینیڈین ایمبیسی میں بہت اچھی پوسٹ پر تھے ، ، اور وہ صبح 8 سے شام 5 کے پابند ِ جاب تھے ۔ وہ ویسے شام کو ایک چکر واہ کا لازماً  لگاتے لیکن اکثر انھیں بیرونِ ملک بھی جانا پڑتا ،،اور جوجی اگرچہ قریب ہی رہتی تھی لیکن اس کی جڑواں بیٹیاں ابھی بہت چھوٹی تھیں ، اس لیۓ ،، ہم نے اسے شامل ہی نہیں کیا !!! ۔
ہماری اس " خوشدل خدمت پارٹی" میں اباجی کی سب سے چھوٹی بہن ، یعنی ہماری رقیہ پھوپھی جی بھی بہ خوشی شامل ہو گئیں ، وہ اپنے بھائی کی محبت میں سر شار تھیں ،،ان کا گھر نزدیک تھا ، آرام سے پیدل یا عزیزالرحمٰن چاچا جی کے ساتھ ویسپا میں آجاتیں ،،،سبھی بچے شادی شدہ تھے ،، ایک بیٹی رابعہ مانو نے گھر اچھے سے سنبھالا ہوا تھا ، اس لیۓ وہ بےفکر ہو کر وقت دے سکتی تھیں۔پھوپھی جی کے آنے سے آپا کو بھی مزید مدد مل گئی اور گپ شپ کا ماحول بھی بن گیا ،،،، اس دوران ، مہمانوں کا سلسلہ ، تواتر سے چلتا رہتا ، اور کچن سے شہناز ، کی طرف سے کسی کو شکایت نہ ہوتی !!۔
ایک مرتبہ اباجی کی طبیعت ذیادہ بگڑ گئی ، ڈاکٹر شاہد سلیم ، کا ذکرِخیر کررہی ہوں ، کہ انتہائی مصروف ہونے کے باوجود ، جب میرا فون جاتا ، وہ لازماً آتے ، اچھی طرح معائنہ ہوتا ،،، وہ بہت شریف النفس ، اور ادب و احترام کے اوصاف سے مالا مال ہیں ،،، انھیں فون کیا ، وہ آۓ تو دیکھ کر کچھ ٹسٹ کرانے کا کہا ،، ٹسٹ رپورٹ اگلے دن آگئی ،، وہ خود ہی آۓ ، اور بتایا ،، ان کے گُردے فیل ہو رہے ہیں ،، اور عمر بھی 81، 82 ہو رہی ہے ،،، صورتِ حال ذیادہ خراب ہو سکتی ہے ،،، لیکن جو علاج ہاسپٹل میں ہو گا ، میں سبھی کچھ یہیں گھر میں لے آتا ہوں ، بس آپ لوگ دعا کریں ،،، میں نے پوچھا ، ہم اباجی کے لیۓ ایسا کیا کریں کہ کوئی بہتری ہو جاۓ ،، کہنے لگے ،، جتنا ہو سکے ابال کے ٹھنڈا کیا پانی پلاتے رہیں (اُن دنوں موسم ِبہار چل رہا تھا ) ،، انھوں نے دوائیں منگوا دیں ۔ اور اس دن میں نے خود ، ، میرے تینوں بچوں نے شہناز سمیت ، ڈیوٹی سنبھال لی کہ ، ایک نیم بےہوش مریض کو چمچ سے منہ میں پانی پلاتے رہیں ،،، یہ عمل اتنے تواتر سے انجام دیا گیا کہ دن رات میں کم ہی وقفہ ہوا ہو کہ پانی نہ پلایا جا رہا ہو ۔،تیسرے دن اباجی کے یورین کا رنگ نارمل ہونے لگا جو بالکل دہی کی طرح سفید ہو چکا تھا ،،، ڈاکٹر شاہد سلیم قریباً روزانہ چکر لگاتے تھے، انھوں نے یورین کے رنگ اور مزید ٹسٹ کے بعد کہا ،،،،، " اتنی اچھی نر سنگ " بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے ،،، یہ ہم خود ہی اپنے والدین کے لیۓ کر سکتے ہیں ، کوئی ہاسپٹل ،کوئی غیرایسی کیئر نہیں کر سکتا ،، پاکستان میں ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ اور( اگرچہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے) لیکن اس نے ہمیں شاباش بولا  دراصل وہ خود بھی ایک بہترین بیٹا ، شوہر اور باپ ہے ،، اور بہت اچھا ڈاکٹر بھی !!۔
اباجی بتدریج ٹھیک ہو گئے ،، کھانا پینا، اور چلنا پھرنا بھی نارمل ہو گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ان کی یاداشت کمزور ہونے لگی ۔ وہ نام بھول جاتے ، خاموشی ان کی طبعیت کا حصہ بننے لگی ،،، اور حیرت مجھے اس بات پر ہے کہ ، رات کو اکثر نارمل باتیں کرتے یا ذیادہ باتیں کرتے تھے ۔ چلنے کی عادت بھی بھولنے لگے ، جبکہ میں اور میرا بیٹا کامل علی ، اور پھوپھی جی روزانہ ان کے ٹانگوں کی مالش ایک خاص تیل سے کرتے ، اور آخر کار ، دو تین ماہ بعدایک شام اچانک اباجی اُٹھ کھڑے ہوۓ ، اس وقت اتفاق سے میں اور تینوں بچے کمرے میں موجود تھے،وہ کھڑے ہوۓ اور باتھ روم کی طرف خود ہی چلنے لگے ،،، یہ منظر ہم سب کے لیۓ اتنی خوشی اور ہیجانی کیفیت کا تھا کہ ہم سب بےاختیار تالیاں بجانے لگے ،،، میری تو آنکھوں میں آنسو آگئے ،، بیٹی نِشل نے اپنی دونوں خالاؤں کو فون کرنا شروع کر دیا اور اباجی مسکرا کر کہنے لگے ،،،" کیوں بھئ ، میں چل نہیں سکتا ،، ! ؟"۔
اباجی کی خرابیء صحت کی اونچ نیچ سات آٹھ مہینے رہی ،،، پھر جب چلنا شروع کیا تو مسلسل چار ، پانچ ماہ خوب صحیح رہے ،، مالش اب دوسرے ، تیسرے دن ہوتی ،،، لیکن جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو دوا میں شفا آ جاتی ہے ورنہ وہی دوا بےاثر ہونے لگتی ہے ،،، اور پانچ ماہ بعد پھر ، چلنا بند اور یاداشت ختم ہونے کی کیفیت میں آنے لگے ،،، میرے دونوں چھوٹے بچے فسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر میں تھے ، جبکہ علی ایم بی اے کے آخری سال میں تھا ،، چھوٹے دونوں کالج سے آکر کچھ دیر تک ضرور اباجی کے پاس بیٹھتے ،، ان دنوں جب اباجی چل نہ سکتے تھے تو پلنگ پر صرف ایک طرف منہ کر کےبیٹھتے تھے ،، اور چونکہ کمرے کا رنگ آف وائٹ تھا اور الماریاں ، بالکل سفید پینٹ میں تھیں ،،، تو اباجی ، چند دن سے اکثر کہتے ، " ہم ہسپتال میں ہیں ؟ " ،،، میں یا بچے بتاتے ،" یہ آپ کا کمرہ ہے " !۔
لیکن چند دن بعد ہی نشل کو احساس ہو گیا کہ کمرے کی بےرنگی انھیں ہسپتال کا احساس دلارہی ہے ،، اس نے اپنے کمرے سے رنگارنگ ربن لا کر ان کی الماریوں کے ہینڈل سے لٹکا دیۓ ، شاید یہ ہی رنگینی ان کو خوش گوار احساس دے ،،، یہ دونوں چھوٹے ، کالج سے آکر انھیں اخبار پڑھ کر سناتے ،، اور اباجی کو خاموشی کی دنیا سے آوازوں اور اہم خبروں سے " اِن ٹچ " رکھتے ،،، سردیوں میں اباجی کو باہر دھوپ میں میں لانا ، واپس کمرے میں پہنچانا ، ، انہی کی ذمہ داری تھی ۔نِشل اکثر ان کے ہاتھ میں تسبیح پکڑا دیتی اور ، اللہ کے نام ،، یا آیت کریمہ کا ورد ، دہراتی ، تاکہ انھیں یاد آجاۓ ۔ 
لیکن علی جو عادتاً تیزیوں میں رہتا ، ، جوانی کی ترنگ میں، اپنی مرضی سے وقت گزارنا پسند کرتا تھا،،، لیکن اباجی ، جو بہت بزرگ اور مریض تھے ، یکدم ،، اللہ نے اُس کے دل میں ان کے لیۓ محبت اور کیئر ڈال دی ،، اور ایسی ڈالی کہ جیسے اُس کے نانا اسی کی ذمہ داری ہوں ،،، وہی انھیں رات کا کھانا خودکھلاتا ، اُن کی شیو کرنا ، سَر کے بالوں کی کٹنگ ، انھیں نہلانا ، ، تمام جسمانی صفائی سُتھرائی کا خیال کرنا ،،، اور اگر وہ دوا کھانے سے انکار کرتے تو ، وہی انھیں لاڈ پیار کر کر کے دوا کھلاتا ، ، ، یہ سب میں دیکھتی ،،، اور رات کو اُنہی کے کمرے میں سوتے وقت انھیں دیکھتی تو سوچتی ، اباجی کتنے خوش قسمت ہیں ، زندگی بھی عزت سے گزاری، اور اب بڑھاپے میں بھی اپنی اولادوں کے جھرمٹ میں ، "ہتھیلی کا چھالا " بنے زندگی کے آخری دور کو گزار رہے ہیں۔
سردیاں چل رہیں تھیں ،، اس دوران ، علی کے ایک جگری دوست کی شادی آگئی ،،، دونوں بھائی اس شادی کے ہنگاموں کو انجواۓ کرنے جاتے لیکن رات کو واپس آجاتے ، لیکن ایک رات بارات کی وجہ سے وہ وہیں رُک گیا ،، اور اباجی کی دوا کا وقت ہوا تو انھوں نے دوا لینے سے انکار کیا اور کہنے لگے " وہ کہاں ہے ،، میں بار بار پوچھتی ،،کون ؟ لیکن وہ بار بار پوچھنے پر یہ ہی کہتے وہ کہاں ہے جو مجھے گال پر پیار کرتا ہے " ،،، میں سمجھ گئی کہ علی کو یاد کیا جارہا ہے وہ جب اباجی کو مناتا تو وہ ان کے گال پر پیار کرتا ،، تب اباجی ، ہنس پڑتے ،،، جیسے اندر سے وہ یہ لاڈ پیار چاہتے تھے۔ 
اسی بیماری کے دوران ، ایک دفعہ رات دو ڈھائی بجے اباجی اُٹھ جاتے ، اور پوچھتے صبح ہوگئی ہے " ؟؟ میں بتا دیتی ، نہیں ابھی تو آدھی رات ہے !!!۔
وہ مزید دو تین بار پوچھتے ،،، اگلی رات بھی یہی وقت ہوا تو اباجی یہ ہی پوچھتے ،،، لیکن بتا نہ پاتے کہ صبح کاکیوں پوچھ رہے ہیں ،،، جب تیسری رات بھی قریباً اُسی وقت جاگ گئے اور یہ ہی سوال پوچھا تو یکدم ،،، مجھے خیال آیا ،،، کہ انھیں بھوک لگی ہو گی ، تو وہ سوچ رہے ہوں گے ، صبح ہو تو کچن سے کچھ لا سکے گی ،،،، میں فورا" کچن گئی اور ان کی پسندیدہ چیز گرم کر کے لے آئی ،،، یعنی شہد ملا دودھ ، اور رَس ،،، انھوں نے کھایا اور پُرسکون ہو کر سو گۓ ،،، مجھے اپنے اوپر سخت غصہ اور افسوس ہوا کہ ان کی کچھ مطالبہ نہ کر سکنے کی حالت میں ،،، مجھے اس بات کی طرف خیال کیوں نہ آیا ،،،،، اور اس دن کے بعد ان کی ہر بات کا ہر پہلو سے اندازہ کیا جاتا ،، کہ یہ کیوں با ر بار ایک بات کو دہرا رہے ہیں۔ 
اباجی ، صرف اولاد کے ہی لاڈلے نہ تھے ، بلکہ اپنے تمام کزنز ، اپنی دو بہنوں اور بہنویوں ، اپنے بہت سے رشتہ داروں میں ہر دل عزیز تھے ، اس لیۓ خاندان کا شاید ہی کوئی بندہ ہو گا جس نے دو، چار دفعہ وزٹ نہ کیا ہو ، اور اس طرح یہ آخری دو ، سال ، کی بیماری میں جیسے ہمارے گھر مہمانوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا ،،، یہ ان سے محبت کا اور ان کی ذات سے پہنچنے والی آسانیوں کا انداز بھی تھا۔ 
( منیرہ قریشی ، 6 دسمبر 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعہ، 5 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(74)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 74)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی طبیعت 1996ء سے خراب رہنے لگی انھیں نہ بلڈ پریشر تھا اور نہ شوگر ،، البتہ یورک ایسڈ کا مسئلہ رہتا تھا ،، باقی وہ نہ تو کھانے پینے کے شوقین تھے،، نہ سُست تھے، وہ بڑھاپے میں بھی ایک خوبصورت انسان رہے ،، موٹاپا ان پر کبھی نہ آیا۔ جوں ہی وہ 80 سال کے ہوۓ ، وہ کچھ سُست ہو گئے تھے ،، چلتے وقت کچھ لڑکھڑا جاتے ، چھڑی پکڑنے پر آمادہ نہ ہوتے ،،، لیکن بھائی جان کے کہنے پر لیۓ رہتے ،،، انھوں نے زندگی میں ایک بدپرہیزی کی ،،، وہ تھی سگریٹ !! اور جب 75سال کے ہوۓ تو ایک دفعہ انھیں سانس کا سخت اٹیک ہوا ،،، ڈاکٹرز اکثر میل ملاقات والے ،،، یا اباجی کے عقیدت مند ہوتے ، جو گھر آکر بھی چیک کرتے ،،، دو میڈیکل سپیشلسٹ نے یہی کہا " اب نہیں تو کب ؟ بس اب سگریٹ چھوڑنا ہو گا " ،،، تب اباجی نے بات مان لی اور سگریٹ یکدم چھوڑ دیا ،، ! اور اس سے یہ ہوا کہ ان کی کھانسی کافی کم ہو گئی ۔ اباجی کی زندگی میں ، چند اچھی عادات ایسی تھیں ، جس کی عادت ہم سب بہن بھائی ، اور ہمارے بچوں میں بھی ہیں ،، وہ تھی سلاد وافر کھانے کی عادت،اباجی سلاد کے بغیر دوپہر کے کھانے کا تصور نہیں کرتے تھے ،، دوسرے ان کا آرڈر ہوتا کہ مٹن جب بھی پکے گا سبزی کے اندر ، اور شوربہ والا پکے ،، بھلے ساتھ دوسرا سالن جو مرضی بنے ! الحمدُ للہ ،، ہمارے والدین کے گھر کے افراد کم اور ملازمین ، یا مہمان اتنے ہوتے کہ روزانہ کا یہ ہی معمول تھا ،۔،، سلاد کھانے کے شوق کے علاوہ ، چاۓ کی آفر پر کبھی انکار نہ کرتے ، ، ، واہ فیکٹری سے ریٹائر منٹ کے بعد ان کے معمولات یہ تھے ،، صبح کی چاۓ خود بنانی ، اور دونوں میاں بیوی چاۓ بھی پیتے اور باتوں کے ساتھ ساتھ اباجی بیرونی گیٹ اور دروازے کھولنے چلے جاتے ،،، اماں جی کا ایک پھیرا پچھلے لان کا ہوتا ، جو جانوروں کی دنیا کا احوال جاننے کے لیۓ ہوتا ،، یعنی ہماری بھوری بھینس ، اور اسکے بچھڑے کا حال دیکھنا ،، انھیں پیار سے منہ پر ہاتھ پھیرنا ،، چند مرغیوں ، اور چند بطخوں کو کھانا ڈالنا ،، اور اگر بھینس کا رکھوالا پہنچ چکا ہوتا تو اس سے بات چیت کر کے اندر آجانا ،، لیکن اماں جی کا یہ معمول اُن کی صحت پر مبنی ہوتا ، جب کہ اباجی کا گرمی سردی یہی معمول ہوتا ،،، گیٹ کھولنے تک " دو تین اخبار آچکے ہوتے اور اب وہ دو گھنٹے کے لیۓ مصروف ہو جاتے ، ہم نے اباجی کی صبح ایسی ہی دیکھیں ۔ دوپہر سے پہلے پہلے میرے پھوپھا جی جو ہمارے گھر سے قریب رہتے تھے ( اور وہ اباجی کے چچا ذاد بھی تھے ) آجاتے دونوں اپنی مرضی کا پروگرام بناتے ، وہ اپنے ویسپا پر آتے ، اباجی پیچھے بیٹھتے اور دونوں حضرات ، نہ صرف گھر کی سلاد ، سبزی ، گوشت وغیرہ لے آتے ،، بلکہ واپسی پر میری اپنی پھوپھی جی کے گھر پہنچ کر چاۓ پی جاتی ، ،،اور پھر گھر آجاتے ،، دوپہر کا ہلکا پھلکا کھانا کھاتے ، اور قیلولہ ضرور کر لیتے ،، اباجی کی دوچچا ذاد بہنیں معہ اپنے "گروئینگ " ہوتے بچوں کے ساتھ رہتیں تھیں ،، وہ دونوں بیوہ ہوچکی تھیں ،، ہر دوسرے ، تیسرے دن اِن دونوں کزنز کا پھیرا ، اُن کے گھر لگتا ،،، اول تو وہ اپنے سب کام خود نبٹاتیں تھیں ،، لیکن اگر اباجی، اورچاچاجی ( اپنے پھوپھا جی کو ہم چاچاجی کہتی تھیں ) اُن کے گھر جاتے اور کسی کام کا مسئلہ ہو تو پوچھتے۔تو وہ بہت ہی خوش ہوتیں ،،، بعد میں عرصہ بعد وہ دونوں ایک محفل میں ملیں تو انھوں نے کھلے دل سے اپنے ان دونوں بزرگ کزن بھائیوں کا ذکر بہت دعاؤں سے کیا کہ " اِن کے آنے جانے سے ہمیں بہت حوصلہ ہوتا کہ اس گھر میں مردوں کے آمد ہے ، اس طرح ہمارا بھی آس پاس رعب پڑا رہتا ہے کہ یہ گھر صرف عورتوں ، یا بچوں والا ہی نہیں ۔
اباجی ،کو گھر کے سودا سلف لانے کی عادت بالکل نہیں تھی ، ظاہر ہے ایک از حد مصروف فوجی زندگی نے انھیں ایسی مصروفیات سے دور رکھا ، دوسرے اماں جی جو اپنے شوہر کی عاشق تھیں ، انھوں نے گھر کے ہر طرح کے محاذ سے اباجی کو بے فکر رکھا، یہ ہی وجہ تھی کہ جب ، مکمل ریٹائرڈ زندگی شروع ہوئی تو وہ چاچاجی عزیزالرحمٰن کےساتھ اس طرح پھرنا پسند کرتے ،، اُن کی صبح کی مصروفیت بھی ہو جاتی ، اوراسطرح خریداری کے انداز بھی سیکھتے رہے ،، دکانداروں سے واقفیت بھی ہونے لگی ، ، ، بنیادی طور پر اباجی ، چالاک نہیں تھے ( یہ حقیقت ہے ، میں صرف اپنے والد ہونے کی وجہ سے نہیں لکھ رہی ) ،، انھیں کوئی بھی بے چارہ بن کر ٹھگ لیتا تھا ،، اور اپنی بےکار چیز بِکوا لیتا ۔ لیکن انھیں اس پر کبھی غصہ نہ آتا ۔ خیر اُن کے لیۓ نہایت احترام کا جذبہ رکھنے والے ، اُن کے مختلف کزنز ، آتے ، محفلیں جمتیں ،،، چاۓ ، یا کھانے کے اوقات کے مطابق میزیں سجتیں ،، میں ان محافل میں دو قدم پیچھے رہ کر سب دیکھتی ، کوئی نا کوئی نئ ڈش بنا کر ساتھ رکھتی ، تو اباجی مزید نہال ہو جاتے ، لیکن میں ان محفلوں سے ،، غیرمحسوس طور سے بہت کچھ سیکھتی رہی ! ۔
۔( میں یہ لکھ رہی ہوں اور میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں کہ آج میں یہ ہی سب کچھ چاہتی ہوں ، اوریہ ہی کر رہی ہوں ) اباجی کے پاس معلومات کا خزانہ تھا ، وہ ذیادہ تر خاموش رہتے ، بہت باتونی نہیں تھے ، لیکن جب کوئی آجاتا ،، تو وہ اس آنے والے کے" کیلیبر " کے مطابق اس سے باتیں کر لیتے، خاص طور پر جب ان کے عقیدت مند کزنز آتے تو اباجی خوب خوش ہوتے ۔ ان کے ایک چچا ذاد بھائی حمید چاچا تھے ،، وہ ذہنی طور پر کچھ بہت مضبوط نہ تھے ، انتہائی سادہ ،، کہ ہر کوئی ان کو ہلکا لیتا ،، وہ جیسے تیسے ، ایک فیکٹری میں کلرک کی پکی نوکری پر لگے ہوۓ تھے ، جب ہمارے ملک میں اتوار کی چُھٹی ہوتی تو پکی  بات تھی کہ حمید چاچا جی ، عین گیارہ بجے آئیں گے،،، اوراگر جمعہ کی چُھٹی کا آرڈر چل رہا ہوتا تو عین 11 بجے دوپہر کو چاچا جی بغیر دروازہ کھٹکھٹاۓ ہمارے گھر آتے ،،اور کاریڈور سے سیدھے پچھلے بر آمدے میں آپہنچتے ،، آتے ہی جو سامنے ہوتا ، پوچھتے ،،" بیٹا ، بھائی جان کہاں ہیں ؟؟ ۔ اور اگر اباجی سامنے بیٹھے مل جاتے ، تو سلام کے بعد کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ جاتے ، وہ ایسا مؤدب انداز اختیار کیۓ رہتے جیسے کوئی اپنے مُرشد کے آگے بیٹھا ہے ، اُن کے پاس کسی بھی قسم کی باتوں کا موضوع نہ ہوتا ،،، جو اباجی پوچھتے ، بس وہ اُسی بات کا جواب دیتے ،، اباجی چاۓ کا پوچھتے ، وہ انکار کر دیتے ،، لیکن کبھی کبھار اباجی زبردستی پلاتے ،، پیالی پکڑتے ، تو اُن کے ہاتھ مسلسل کانپتے رہتے ! اباجی ، ان کے ساتھ بہت نرم طریقے سے بولتے ،، کچھ سمجھاتے بھی رہتے ، کیوں کہ اپنے گھر اور نوکری پر توجہ دیا کرو وغیرہ ،،، وہ جی اچھا ،، جی بھائی جان ،، کہتے جاتے ،، دونوں کزنز کبھی کسی واقع کو یاد کرتے تو ان کی ہنسئ بھی کچھ عجیب سی نکلتی ،، اور کچھ دیر اور بیٹھ کر وہ ٹھیک 12 یا ساڑھے بارہ اُٹھ جاتے ،،اُنھیں کتنا بھی روکا جاتا ،، وہ کبھی بھی کھانے پر نہ رُکتے ،،، یہ معمول اتنا رٹا رٹایا چلتا کہ کسی چُٹھی کو وہ نہ آسکتے تو سب ہی ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ،،، گویا اس ایک گھنٹے والی " ایپیسوڈ " کے بچے، بڑے سب عادی ہو چکے تھے ،،، ایک دن حمید چاچا بہت اہمیت والی شکل کے ساتھ سیدھے پچھلے برآمدے میں پہنچے تب ، انھوں نے محض عادتاًملازمہ سے پوچھا " بھائی جان کدھر ہیں ؟ " حالانکہ اباجی سامنے ہی دھوپ سینک رہے تھے ، انھوں نے اس دن سلام بھی نہ کیا اور کہا " مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے "! اباجی نے کہا " ہاں بتاؤ کیا کام ہے " کہنے لگے نہیں یہاں نہیں ، آپ اپنے کمرے میں چلیں ! اباجی نے کہا ٹھیک ہے ذرا میں اپنا سلاد ختم کر لوں ،،، تب تک وہ نہایت صبر سے بیٹھے رہے۔ جب اباجی انھیں لے کر کمرے میں آۓ تو انھوں نے نہایت رازدارانہ انداز سے کہا " بھائ جان ، مجھے محسوس ہوا ہے کہ آپ کا گزارا بہت مشکل سے ہو رہا ، میں نے بیوی سے چُھپ کر کمیٹی ڈال رکھی تھی ، اب یہ کمیٹی نکل آئی ہے میں 8 ہزار روپے آپ کے لیۓ لایا ہوں ،، آپ لیں گے تو مجھے بہٹ خوشی ہو گی ۔ بلکہ آپ کو لینا پڑیں گے !!!۔
اباجی ،،، نے کچھ دیر سوچا ، اور کہا ٹھیک ہے حمید ، رکھ جاؤ " ،،، اُن کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ باہر صحن میں آکر بھی پھیلی رہی ۔ وہ کچھ دیر ہی بیٹھے ، اور چلے گئے،،، اُن کے جانے کے بعد اباجی نے سارا واقع سنایا ، تو اُن کی آنکھیں نم ہو گئیں ،، کہنے لگے ،،، اپنے سارے خاندان میں انھیں کوئی اہمیت نہیں دیتا ،،، اسے محض میری توجہ ، نے یہ سُجھایا کہ شاید بھائ جان ریٹائر ہوچکے ہیں تو انھیں پیسے کی ضرورت نہ ہو ! تو یہ اُس نے اپنی سمجھ کے مطابق میرا" خیال " کیا ہے " ،،، چاچا جی اگلے دو ہفتےمزید آۓ ،، اباجی کا کہنا تھا کہ وہ جذباتی لمحوں سے نکلے گا تب امانت واپس کروں گا تو اسے بُرا نہیں لگے گا " وہی ہوا تیسرے اتوار کو چاچا جی آۓ تو اباجی نے انھیں کہا " حمید ، میرا ایک ضروری کام ہے ، ذرا میرے کمرے میں آؤ ،،، وہ تابعداری کے انداز میں پیچھے چلتے ہوۓ گئے" تب اباجی اسی رازدارانہ طریقے سے کہا ، " مجھے پیسے جس کام کے لیۓ چاہیۓ تھے ، وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے " سوچا جب مسئلہ ہی نہیں رہا ، تو حمید کو اپنے بچوں کے لیۓ ضرورت ہوگی ، یہ اپنی امانت لو ، اور سیدھے لے جا کر بیوی کو جا کر دو " ،، انھوں نے مسکراکر ، کہا ، جی اچھا ! اباجی ، دراصل اپنی طرف سے"جس کا جس وقت بھی ، جس حد تک جائز کام ہوتا" ،،، اپنے رشتہ دار ،یا ملنے والے کو اپنی وسائل سے فائدہ پہنچاتے رہے تھے ،،، لیکن " اِن کو ایکنالج " کوئی کوئی کرتا  ،،، !جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا ،، اباجی کی یادداشت متاثر ہوتی جا رہی تھی ، اور اسی بنیاد پر اُن کا علاج ہو رہا تھا ،،، !۔
( منیرہ قریشی ، 5 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعرات، 16 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(45)۔

 یادوں کی تتلیاں" ( 45)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی فیکٹری سے بطور چیف سیکیورٹی آفیسر ریٹائرمنٹ 1973ء میں ہوئی۔ وہ اس فیکٹری میں لگاتار 9 سال رہنے والے اب تک کے واحد چیف سیکیورٹی آفیسرتھے ، ورنہ اس پوسٹ پر ذیادہ سے ذیادہ تین سال تعیناتی ہوتی ، اور ایسا اب بھی چل رہا ہے۔ الحمدُ للہ اباجی نے اپنے دور میں قریباًً چار میجر جنرلز کے انڈر کام کیا اور عزت سے ریٹائر ہوۓ ، اس دوران فیکٹری کے گرد بےشمار زمین ویران پڑی تھی وہاں دن کو بھی گیدڑ پھرتے اور لوگ سرِشام وہاں سے نہ گزر سکتے تھے ،،، اب فیکٹری ورکرز کے لیۓ مزید رہائش کی ضرورت پڑی تو اسی زمین پر سرکاری کواٹرز بناۓ گۓ ،،،، کچھ مجبوراً شفٹ ہو گۓ ہمارے رشتہ کے چچا کی شادی ہوئ ، انھیں وہیں  کوارٹر ملا !ایک دن انھوں نے ہماری دعوت کی اس وقت تک اباجی نے کارنہیں خریدی تھی ( 1965ء کے شروع کے دن تھے )، اباجی نے اس 4 میل کے فاصلے کے لیۓ آنے اور جانے کے لیۓ تانگہ " بُک" کرایا ،اور اہلِ خانہ سے کہا کہ شام کا کھانا سات بجے تک دے دیں ، اور جب ہم اُن کے گھر سے چلے تو یہ ایک ڈرانے والے 4 میل تھے ، آس پاس کوئی جاندار اگر راستے میں تھے تو صرف گیدڑ !! جو غول کی صورت پھر رہے تھے ، ان گیدڑوں نے فیکٹری کے اندر جہاں فیکٹری شاپس تھیں نہایت گھنے جنگل تھے انہی میں ان کے ٹھکانے تھے ، وہ آبادیوں میں آکر مرغیوں اور گھر کے پرندوں یا کبوتروں کا شکار کرتے ،،، سردیوں میں ان کی کورس میں آوازیں آتیں تو مجھے اور جوجی کو وہ کہانی یاد آجاتی ،جس میں ایک مالک نوکر سے پوچھتا ہے یہ کیوں چِلا رہے ہیں تو چالاک نوکر کہتا ہے "' انھیں سردی لگ رہی ہے یہ کمبل مانگ رہے ہیں " اور یوں مالک کی بیوقوفی ، نوکر کی چالاکی کو کامیاب کر دیتی !!! ہمیں بھی یوں لگتا جیسے یہ گیڈر کمبل مانگ رہے ہوں ، ہمارے گھر دو رشین کتے تھے ،،، اور ہمارے گھر کے سامنے والوں نے جرمن شیفرڈ پالا ہواتھا ان کے بھونکنےسے گیدڑ اس جانب کم رخ کرتے ،،،،، خیر، جنرل اُمراؤ خان نے اُس ویران جگہ کو استعمال کا سوچا اور انھوں نے نہایت نارمل قیمت پر پلاٹس کی بکنگ شروع کی ، پانچ مرلے سے سے 4 کنال تک کے گھروں کا آیئڈیا ،،، گھر بنا کر دینے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اس نئی بستی کا نقشہ بھی بہت ہی اچھا تیار ہو کر بننا شروع ہو گیا ،،، جو" ورکر" فیکٹری سے ریٹائر ہوتا اس کے پیسوں سے جوں جوں گھر تیار ہوتے گئے وہ یہاں شفٹ ہوتے  چلے گئے ،، اور یہ بستی جسے " بستی کاریگر " کا نام دیا گیا ،،، آباد ہوتی چلی  گئی ، ،، اسی میں اباجی نے دو کنال والا گھر بک کرایا ہوا تھا ، ریٹائرمنٹ کے بعد اسی میں شفٹ ہوۓ، اس کے لان کو اماں جی نے بہت سی کیاریوں اور چند درختوں سے سجایا ، انھوں نے اس ذاتی گھر میں صرف تین سال گزارے ! اسی میں وہ میرے فرض سے فارغ ہوئیں ، اسی میں اُن کا انتقال ہوا ، یہیں میرا بیٹا عمررؤف بھی اپنے جنت کے گھر سدھارا اور باقی تینوں بہن بھائی اسی گھر میں اپنا بچپن گزارتے رہے ۔ یہیں جوجی اور بھائی جان کی شادی ہوئی ، اور ،،،، اسی گھر میں میرے تینوں بچے پڑھ لکھ کر فارغ ہوۓ ! ان میں سے لڑکوں نے ایم بی اے کیۓ اور بیٹی نے بی اے کے بعد فائن آرٹس میں ڈپلوما کیا ، اسی گھر میں بڑے بیٹے کامل علی اور چھوٹی بیٹی نشل کی شادیوں سے فارغ ہوئی ،،،اسی گھر میں ، میں پہلے دادی اور پھر نانی بنی ۔اسی گھر میں ہم نے اماں جی کے بعد اباجی کے زیرِسایہ بہت سی خوشیاں دیکھیں اور بہت کم پریشانیوں سے واسطہ پڑا، ،،،، جب اباجی بہت بزرگ ہوتے چلے گۓ ، تو انھیں کوئی جسمانی تکلیف نہ تھی ،،، وہ بہت اچھی صحت کو اپنے رشتہ داروں کے پاس آنے جانے کو تا دیر انجواۓ کرتے رہے ۔ قریباً 70 برس کی عمر تک کار چلاتے رہے ! ان کی بہنیں اکثر ان کے پاس وزٹ کرتیں ۔ ان کے چھوٹے دونوں بھائی 70 ، 72 سال کی عمر تک انتقال کر گئے لیکن دونوں بہنیں اور اباجی 82 ، 84 سال تک کی عمر دیکھ کر گئے ۔ یہ سب بہن بھائی خوش قسمت رہے کہ محتاجی والے بڑھاپے کا دورانیہ بہت ہی کم رہا ۔ اباجی نے صرف ڈیڑھ سال ایسا گزارا کہ انھیں چلنے پھرنے میں مشکل پیش آئی ،،، اصل بیماری اسی دوران " ڈمنشیا " کی تھی ،، اس میں بھی ان پر فیز آتے تھے! کبھی وہ بالکل ٹھیک ہو جاتے لیکن 24 گھنٹے بعد وہ اسی بلینک فیز میں چلے جاتے ۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ اباجی انتہائی تحمل اور صبر سے وقت گزارنے والے مریض تھے ، وہ کم آمیز تو تھے لیکن اس بڑھاپے میں مزید کم آمیز ہو گئے تھے ،،،،،،، انھیں کبھی بہت اچھے اچھے مرغن کھانوں کے شوق نہیں تھے ، ،، ہماری بھی اُن کی ان عادات کو فالو کرانے کا سہرا اماں جی کے سر جاتا ہے کہ وہ ہی پکتا جو اباجی کو پسند ہے ،،، اباجی سلاد پسندکرتے تھے ، اورایک عجیب عادت تھی کہ دوپہر 11 بجے والی چاۓ کے ساتھ ایک گاجر اورتھوڑی سی تازہ مولی ضرور کھاتے ، یا ایک کھیرا ہوتا ۔ کبھی بھی اباجی موٹے نہ ہوۓ ! خیر اس میں وراثتی جینز کاعمل دخل بھی تھا کہ یہ سب بہن بھائی نہ جوانی میں نہ بڑھاپےمیں " اوور ویٹ " نہیں ہوۓ ! اب جب اباجی بیمار ہوۓ ، اور انھیں سنبھال کر کرسی پر بٹھانا پڑتا ، یا نہلانے کے لیۓ واش روم لے جانا پڑتا تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی ،! اللہ کا لاکھ شکر ، ہم اولادوں نے تو جو خدمت کی تھی وہ ہمارا فرض تھا ، لیکن اباجی کو انھیں اگلی نسل یعنی میرے بچوں نے انھیں سنبھالنے میں وہ حصہ لیا جو ان بچوں کی خوش قسمتی کا باعث بنے گا آمین ! اس وقت علی ، ایم بی اے میں تھا اور باقی دونوں کالج میں تھے ، علی نے اپنے نانا کو ایک بےبی کی طرح سمجھ لیا تھا ،،، کھانا نہ کھاتے یا دوائ نہ لیتے وہ جس پیار ، سے منہ پر بوسہ دے  دے کر  کے انھیں کھلاتا ،،،، وہ منظر میں نے ابھی تک تو نہیں دیکھا ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ علی کو اپنے ایک دوست کی مہندی پر دوستوں نے زبردستی روک لیا ،،، تو اباجی نے مجھ سے بار بار پوچھا ،،،، وہ کہاں ہے ؟ میں پوچھتی ،،اباجی کون ؟ اس وقت وہ اس کا نام بھول گئے تھے ۔ آخر کہنے لگے ،،، وہ جو مجھے پیار کرتا ہے !!!!!!! تب میرے لیۓ یہ بات باعث ِسکون ہوئی کہ ہم نے اباجی کو محبتوں کے حصار میں رکھا ،، اور اس پارکنسن کی بیماری میں بھی انھیں احساس ہے کہ مجھے پیار کیا جاتا ہے !!اباجی کو نہلانے ، ان کی شیو کرنے ، انھیں سردیوں میں باہر دھوپ میں بٹھانے ، اور ان کے ساتھ گپ شپ کرنے میں علی پیش پیش رہا ، لیکن اباجی کو اخبار پڑھ کر سنانا ، اور انھیں لباس بدلانے میں ، کھانا کھلانے میں باقی دونوں بچے مجھے پوری مدد دیتے۔ ،،، اباجی کی تیمار داری میں آپا اور ہماری چھوٹی پھوپھی جی نے اپنی اپنی ، خدمت کی مثال قائم کی ، ،،،،،، اباجی کے اس گھر کو جو انھوں نے کراۓ پر چڑھایا ہوا تھا ، ،، جب ایک دفعہ خالی ہوا تو ہم دونوں بہنوں نے ان سے یہ اُتنے ہی کراۓ پر لے لیا ،،، جتنا کرایہ دار نے اس وقت چھوڑا تھا ،،، کیوں کہ جوجی ، کالج کی لیکچرر شپ سے فارغ ہوچکی تھی اور میں ان دنوں کانوونٹ سکول میں پڑھا رہی تھی ! جیسا میں پہلے ذکر کر چکی ہوں کہ ہماری بہت مخلص سہیلی شاہدہ نعیم نے ہمیں بزور یہ سکول (1991ء) میں کھلوانے کے خیال کو عملی جامہ پہنایا ! تو ہم نے بھی بہ مشکل رضا مندی ظاہر کر کے ، یہ سوچ کر اسی گھر میں سکول کھولا کہ ۔۔۔ چل گیا تو ٹھیک ، ورنہ بند کر لیں گے ! ،،،، اپنے قریباً سال کانووینٹ سکول میں پڑھانے کے تجربے نے بہت فائدہ دیا ۔ اور اباجی کی زندگی میں ہم نے اپنے سکول کا پہلا "پیرنٹ ڈے"(ء 1992) میں بھی منایا ،، ۔اس میں چیف گیسٹ " شاہدہ نعیم " کو بنایا ! اگرچہ ہماری صفِ اول ٹیم اباجی اور بڑے بھائی جان تھے جنھوں نے قدم قدم پر اپنی ، ہر قسم کی وہ سپورٹ ساتھ ساتھ رکھی جو اگر نہ ملتی تو ہم کبھی یہ ادارہ چلانے ،کی ہمت نہ کر پاتیں ۔ کیوں کہ ہمارا مختلف دفتری کاموں کا کوئی تجربہ نہ تھا ،،،، اور جب اباجی بیماری کے ہاتھوں بستر کے ہو کر رہ گۓ ، تو میں نے اور آپا نے فیصلہ کیا کہ صبح وہ آجایا کریں گی اور جب میں دو بجے سکول کی چھٹی کے بعد گھر آ جاؤں تو وہ واپس گھر چلی جایا کریں ،،، آپا بھی 20 منٹ کی واک پر رہتی تھیں اورچھوٹی پھوپھی جی ، تو 10 ، 15 منٹ کی واک پر رہتی تھیں ،، وہ تو اپنے بھائی کی محبت میں خود ہی " آن ڈیوٹی " ہو گئیں ! اس طرح یہ دونوں پھوپھی ، بھتیجی صبح آ جاتیں ، اور میں تسلی سے سکول چلی جاتی ، پھر بعد کا دن رات ،مَیں اور بچے مل کر سب کچھ سنبھال لیتے۔ ان دنوں جوجی کی ٹونز بیٹیاں بہت چھوٹی تھیں اس لیۓ اسے ان ذمہ داریوں سے فارغ رکھا ۔ ابا جی کی بیماری کا یہ دورانیہ ڈیڑھ ، پونے دو سال کا رہا ،،،، لیکن اللہ کا شکر کہ اباجی کو کبھی کسی بے زاری کا سامنا نہیں کرنا پڑا ،،،! ( یہ سچ صرف لکھ نہیں رہی بلکہ اللہ کا مزید شکر ادا کرتے ہوۓ بتا رہی ہوں ) جیسا اکثر بیماربوڑھے لوگوں سے اظہارِ تھکاوٹ ، یا اظہارِ بوریت دیکھنے میں نظر آجاتا ہے ،،، جو ہم سب کے لیۓ وہ امتحان ہے جس کا رزلٹ آنے والے وقت میں ہم نے کھول کر دیکھنا ہوگا۔
( منیرہ قریشی 17 نومبر 2017ءواہ کینٹ ) ( جاری )

پیر، 13 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (43)۔

یادوں کی تتلیاں" (43)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ، اس کا کام گزرتے چلے جانا ہے ،،، اور اِسی بات کا اسے حکم ہے ۔ تو وقت آگے بڑھا ، میرے ٹونز اور ان کی پیاری پیاری باتوں سے گھر میں رونق رہتی اور خاص طور پر اباجی نے خود کو اِن میں خوب مصروف کر لیا تھا ، قریبا" ڈھائی تین سال کی عمر میں دونوں اباجی کے ساتھ ضرور گاڑی میں بازار کا ایک چکر لگاتے ! دونوں بولنے میں تیز تھے لیکن اِبھی بہت صاف زبان کے نہیں تھے ۔ اباجی کو دیکھتے ہی ان میں سے ایک گاڑی کی چابی پکڑ کر لے آتا اور " بلےکپ چی " کا لفظ بولتے ! غور کرنے پر پتہ چلا " بڑے اباجی کی چابی " کو انتہائی تیزی سے اپنی زبان میں ادا کرنے پر یہ الفاظ ادا ہوتے ،، اسی طرح جب کار میں بیٹھتے تو خوشی ان کے انگ انگ میں بھر جاتی ، اور وہ کبھی کبھی " بلے کار " ( بڑے اباجی کی کار)کے الفاظ کو کورس میں گاتے ۔ دونوں کی آوازوں میں بہت ردھم تھا اور جب گاتے تو سمجھ نہ آتا کون گا رہا ہے ،یعنی ایک جیسی آوازیں نکل رہی ہوتیں ! ان کا یہ ہنر انھیں مزید پاپولر کرتا گیا،جوں ہی وہ ساڑھے تین سال کے ہوۓ ،قریبی سکول میں پلے گروپ میں داخل کرایا ، ٹیچر اور پرنسپل کے سکول کے یہ پہلے  جڑواں  بچے تھے اس لیے ذرا توجہ بھی ملنے لگی۔ یہ سکول چند ماہ کے بعد ہمارے گھر کے سامنے والے شفٹ ہو گیا ، اب مزید آرام ہو گیا،دونوں بہت دلچسپی سے سکول جاتے، ہنس مکھ طبیعت کی وجہ سے کلاس کے کافی بچے دوست بن گئے، چند ایک اکثر ہمارے گھر آنے لگے ، ایک دو بچے ایسے تھےجو ابھی اپنے گھر کے اکلوتے تھے وہ خاص طور پر آ جاتے کہ ان سے کھیلنا ہے۔ دراصل ان بچوں کی طبیعت میں لڑاکا پن نہ تھا !! بتدریج آگے بڑھتے رہے ! نرسری اور پھر پریپ میں پہنچ گئے ، اس دوران ہماری زندگیوں میں بھی اُتارچڑھاؤ چلتا رہا ! جوجی کی بھی شادی کا وقت 1979ء میں آگیا ، وہ مقامی ہاسپٹل میں ڈاکٹر تھے ! شادی کے شروع کے دو تین ماہ جوجی اور اس کے میاں ہمارے گھر رہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ملنے والے گھر میں کچھ مرمتوں کا کام تھا ، ،،، کہ ایک دن عمر کو رات کے وقت شدت سے کھانسی آئی کہ اس کا رنگ سرخ اور ہونٹ نیلے ہو گئے ! میں نے گھبرا کر جوجی اور ڈاکٹر صاحب کو جگایا ،،، اس دوران اس کا سانس بھی مشکل سے آرہا تھا ! ڈاکٹر صاھب نے دیکھا اور ہسپتال کا مشورہ دیا ، ہم لے جانے کی تیاری میں تھے کہ وہ نارمل ہوگیا !! تو ہم نے شکر کیا ! بچہ نڈھال ہو چکا تھا ! اور سونا چاہتا تھا ،،، اور شاید یہ ہی ہماری غلطی تھی کہ صبح وہ بھی اتنا نارمل تھا کہ کسی اور ڈاکٹر کو دکھانے کا خیال نہ کیا ،،،، مجھے سیالکوٹ میں آپا کے پاس گزارا وقت بعد میں یاد آیا کہ اس دو ، ڈھائی ماہ کے دوران بچے جب بیمار ہوۓ تو آپا وہاں کے ایک بہت نرم طبیعت چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لے جاتیں ، اس دور میں یہ بہت روتے تھے ، اور سواۓ پیٹ درد کے اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی تو اس ڈاکٹر سے دوسری مرتبہ جب ملاقات ہوئی۔ تو ان کے الفاظ مجھے یاد ہیں کہ انھوں نے کہا تھا۔ ان بچوں کو ڈاکٹر کو " انکیوبیٹر" میں رکھنا چاہیے تھا ! اور یہ حقیقت ہے کہ انھیں نہیں رکھا گیا تھا ، ، ،بہر حال مزید 5سال اور گزر گئے اور 27 فروری 1980ِ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا عطا کیا ، وہ بہت پیارا اور خوب صورت تھا ، اس کا نام "قاسم" رکھا گیا ،( اُن دنوں ہمارے بہنوئی کو " پورٹ قاسم " میں بہت اچھی پوسٹ ملی تھی تو بھائی جان نے تجویز کی کہ اس یادگار موقع پر بچہ آیا ہے تو نام بھی اس طرح یادگار ہو جانا چاہیے ) عمر اور علی نے اپنے بھائی کو بہت پیار اور خوش دلی سے قبول کیا ۔وہ چار ماہ کا تھا جب ہمارے اکلوتے بھائی کی شادی 10 جولائی 1980ء میں ہوئی ۔ اور اُن کے ولیمے پر11 جولائی کو ان ٹونز کی پانچویں سالگرہ منائی گئی ، ،،، بعد میں بھائی ، بھابھی کراچی اپنی ڈیوٹیز پر چلے گئے، تین ماہ بعد بھائی جان کی فرمائش ہوئی ،،، کہ بچوں کو کچھ دن کے لیۓ کراچی بھیج دو ! اُن دنوں اُن کی طبیعت خراب تھی ، تو آپا نے بھی فون پر کہا اگربچے آگئے تو احسان کا دل بہل جاۓ گا ، تو ہم نے انھیں ان کی مامی کے ساتھ بائی ایئر بھیج دیا ، بچے 15 یا 18دن گزار کر آۓ تو بہت ہی خوش تھے ، بہت سےتحائف بھی ساتھ تھے ! مزید چار پانچ ماہ گزر گۓ ،،، بھائی جان کا کسی کام سے پنڈی آنا  ہوا ، اپنے کام کی وجہ سے کراچی واپس بائی روڈ جانا پڑا ،،، اور انہی دِنوں 30 ایپریل 81ء کو بچے سکول سے واپس آۓ تو بخار میں پُھنک رہے تھے،دو دن تک معلوم ہو گیا کہ خسرہ میں مبتلا ہیں ، جو اس دوران دوا اور احتیاطیں ہونی چاہیے تھیں وہ کرتے رہے ، لیکن 7 مئی دوپہردو ، تین کے درمیان دونوں بچوں پر نیم بے ہوشی سی طاری تھی ، عمر نے مجھے اسی بےبسی کی حالت میں کہا " اماں پلنگ ٹیڑھا کیوں ہو گیا ہے ،،، ایک دم میرے دل کو دھکا لگا تو میں اسے اُٹھا کر دوسرے کمرے میں لے آئی اور نارمل طریقے سے لٹا دیا ، لیکن کچھ دیر کے بعد اس نے مجھے اجنبی سی نظروں سے دیکھا ،،، اور پھر کہا اماں یہ پلنگ بھی ٹیڑھا ہو گیا ہے ! تب میں نے ان کے باپ کو بلایا ، اور ہم فوراً اسے لے کر ہسپتال روانہ ہو گئے ، راستے بھر وہ میری گود میں لیٹا رہا ، جب جوجی کا گھر جو ہاسپٹل کے پاس تھا کے قریب سے گزرے تو اس نے نیم باز آنکھوں سے کہا " اماں جوجی خالہ کا گھر آگیا ہے " تو میں نے کہا ہاں بیٹا ،، جوجی خالہ ہاسپٹل پہنچ جاۓ گی ۔ ہم اُسے  میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر عمر کے کمرے میں لے گئے ، جوجی کے میاں کو پہلے ہی فون کر دیا تھا وہ بھی پہنچ گئے۔ڈاکٹرز فوراً اس کی نبض ڈھونڈنے لگے تاکہ ڈرپ لگائی جاسکے ، اس دوران اس نے کہا "پانی" کمرے میں موجود سنک سے ہاتھ میں پانی لے کر اس کے منہ میں ٹپکایا ،،، ساتھ ہی ڈاکٹرز نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا انھوں نے اب اس کی ٹانگ کی رگ ڈھونڈنے کی کوشش کی ،،، لیکن میں باہر ہی کھڑی تھی کہ اتنے میں جوجی کے میاں بہت اداس ہو کر باہر آۓ تو ،،،، جو خبر سنائی وہ ، دنیا کی کوئی ماں سننا نہیں چاہتی ! میں  یکدم  اندر گئی تو اس کا حسین چہرہ باہر کھلنے والی کھڑکی کی طرف تھا اور اس کے حسین بال اس سے آنے والی ہوا سے بہت ہل رہے تھے ،،، جیسے وہ خود ہوا میں اُڑ رہا ہو ! مجھے سارا ہسپتال اس طرح ڈولتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جیسے کشتی مسلسل ہل رہی ہو ،،،، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی ، یہ چند لمحوں میں کیا ، کیسے ، اور کیوں ہو گیا ۔،،،جلدی سے دوسرے بچے کو جوجی اور اس کے میاں ہسپتال لے آۓ اور داخل کرا دیا ،،،اس دوران علی کے پاس گھر کی میڈ رہی جب عمر کے چاند چہرے کو ہم اپنے گاؤں کے سر سبز قبرستان کے حوالے کر آۓ تو میں واپسی پر ہاسپٹل میں اُتر گئی ، علی ، بھی نیم بےہوش تھا ، مسلسل ڈرپ لگی رہی ، اس سے بولا بھی نہٰیں جارہا تھا، دن کے وقت آپا اس کے پاس  ہوتیں، اوررات کو میں رہتی۔
جس دن عمر نے ہسپتال میں ہمیں الوداع کہا ،، اس دن اباجی پنڈی گئے ہوۓ تھے ،،، ا نھیں فون پر اطلاع دی گئی !وہ فون کا ہی دور تھا۔لیکن بھائی جان،،جو ان بچوں کے وہ ماموں تھے جن پر اِن دونوں نے خود ہی ایک شعر بنا لیا تھا "ماموں جان ،،، تیری اُونچی شان " ! یہ اُن بچوں کے پیار کا اظہار اس لیے بھی تھا کہ بھائی جان نے بھی انھیں بہت پیار دیا تھا !۔
جیسا ابھی لکھا تھا کہ وہ کراچی کی طرف عازمِ سفر تھے اور وہ راستے میں کہاں پہنچے تھا ابھی کسی کو معلوم نہیں تھا دراصل وہ اس وقت رحیم یار خان کے قریب تھے ،،، بقول اُن کے جب رحیم یار خان سے پہلے کی رات میں ایک بزرگ کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے گیا جہاں قوالی ہو رہی تھی ،ان قوالوں میں ایک بچہ بھی تھا جو اپنی پتلی سی آواز کے ساتھ پورا زور لگا رہا تھا، مجھے وہ عمر جیسا لگا ،، میں نے کچھ دیر قوالی سن کر اس بچے کو خصوصاً کچھ پیسے دیۓ ، اور اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر اپنے ہوٹل آگیا ، ،،، جب بھائی جان کو یہ غم انگیز خبر ملی تو انھوں نے کار وہیں ، کہیں کھڑی کروا ئی اور بائی ایئر واپس گھر آگئے ،،،،،، آپا اور ہماری بھابھی ، کراچی سے آگئیں ! ان سب کا ذکر،،، کہ اِن بچوں کے حصے میں اپنے ننھیال کی طرف سے اتنا پیا ر ملا تھا ،جو بہت کم بچوں کو ملا ہو گا ۔۔۔۔۔۔
جب جب عمر کے نئے گھر جانے کا وقت قریب آرہا تھا اس کی آنکھیں جو ادھ کھلی تھیں ، بالکل سفید ہو گئی تھیں ۔ دوسری طرف میں جب رات کو علی کے پاس ہسپتال رہتی تو اسے یہ ہی کہتی " عمر کی طبیعت ذیادہ خراب ہے اس لیۓ اسے دوسرے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے ،،پانچویں دن جب علی کچھ بولنے قابل ہوا تو اس نے مجھے بتایا " اماں ! میں نے خواب میں عمر کو دیکھا ہے اس نے سفید عربی کپڑے پہنے ہوۓ ہیں اور اس کی آنکھیں بالکل سفید ہو گئی ہیں اور وہ منہ آسمان کی طرف کر کے اللہ میاں سے ہنس ہنس کرباتیں کر رہا ہے " ! میں اس کی چھٹی حس اور جُڑواں ہونے کی اس کیفیت کو سن کر حیران رہ گئ کہ اس کو کسی نے عمر کے انتقال کا نہیں بتایا تھا لیکن اس کی روح نے اس جدائی کی جھلک کتنی صحیح سے دکھا دی۔ جس وقت ان دونوں بچوں کی جدائی ہوئی ،،، اس کے ٹھیک دو ماہ بعد ان کی چھٹی ( 6 ویں ) سالگرہ تھی !۔
جب علی بھی بہتر ہو کر گھر آگیا تو اسے یہ غم و الم کی خبر سنانے کو کوئی تیار نہ تھا ! اگر وہ عمر کاپوچھتا بھی ، تو یہ ہی کہا جاتا اس کی طبعیت خراب ہے ۔ ہسپتال والے اسے چھٹی نہیں دے رہے ! ابھی تک وہ اسی خیال سے بہل رہا تھا، ورنہ اِن چھے سالوں میں وہ ایک دن کے لیۓ بھی جُدا نہیں ہوۓ تھے ، اس لیۓ اس کی طبیعت میں کافی بےچینی ہو رہی تھی ،، قریباًتین ہفتوں کے بعد آپا علی کو ساتھ کراچی لے گئیں ، تاکہ وہاں موقع دیکھ کر اسے اس خبر کو سنایا جاسکے ، علی کو وہاں دو ماہ رکھا گیا ، واپس آیا تو اس کی صحت بہت اچھی ہوئی تھی ،،، لیکن آپا اور بھائی نے فون پر بتایا ہماری ہمت نہیں ہو سکی کہ ہم اسے کچھ بتا سکیں ! ہم اسے یہاں کا وزٹ خوشیوں بھرا دینا چاہتے تھے ،،،،، علی کے ابا نے بھی اس بارے بتانا مشکل تصور کیا ،،، اور وہ بار بار پوچھتا تھا کہ ہاسپٹل والے عمر کو کیوں نہیں آنے دے رہے ! کراچی آنے کے ایک ہفتے بعد ایک رات جب ہم دونوں ہی تھے ، میں اِن کے بچپن اور موجودہ فوٹوز کی البم لے کر بیٹھی اور ہم دونوں مختلف باتیں کرتے رہیں ،،، کہ میں نے اس دوران اسے کہا " بیٹا ،،، عمر کو اللہ تعالیٰ نے پسند کر لیا ہے ، اور اسے جنت کے سکول میں داخل کر لیا ہے ! اس لیۓ اب وہ ہمیں ملنے نہیں آ سکتا " علی کے چہرے پر حیرت ٹھہر سی  گئی ،،، اور اس نے پوچھا ،،،" کیا مجھے بتانے بھی نہیں آسکتا ، کچھ دیر کے لیے بھی نہیں "" میں نے ضبط سے کہا " فرشتے تو چاہتے تھے کہ یہ کچھ دیر کے لیۓ تم سے مل آۓ لیکن اسے نیا سکول اتنا اچھا مل گیا ہے اور دوست ایسے مل گئے ہیں کہ وہ ایک منٹ کے لیۓ بھی آنا پسند نہیں کر رہا "" اسے یہ سن کر حیرت اور افسوس سا ہوا ،،، اب اس کے جذبات کا اُبال شروع ہونا تھا اور میرا امتحان !!! اس نے دوبارہ سارا البم دیکھنا شروع کر دیا اور پھر ،،،ایک دو منٹ کے بعد خوب رویا ،،، میں اسے بلینک ہو کر دیکھتی رہی تاکہ اس کا غم، آنسوؤں میں بہہ جاۓ ! لیکن جب میں نے کہا " اس نے تمہارے لیۓکہلوایا ہے کہ تم یہاں پڑھو ، میں وہاں پڑھوں گا ، دیکھتے ہیں کون اچھا پڑھے گا ! " ،،، تاکہ بعد میں ہم سب کے لیۓ وہ وہاں فرشتوں سے گھر بنوا لے "۔ 
یہ ایک چھے سالہ ذہین بچے کے جسم و جان کے حصے کی جدائی کی اسی کے لیول کے مطابق مرہم رکھی جا رہی تھی ! ،،، بس یہ ایک کوشش تھی ! ورنہ وقت ہی سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے ،،، علی جب اُداسی اور غم کے شکنجے میں آجاتا تو اکثر ڈرائنگ روم کے دروازے کے پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر خوب رو لیتا ! اسی پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر اِنھوں نے عالمگیر کے گانوں کو بہت ہی دلنواز انداز سے گایا تھا ،،،، جن میں ایک گانا " دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا ہے ،، خوشبو کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے !!! بھائی جان نے اس کی قبر کے کتبے پر اس کے نام کے نیچے " خوشبو کا جھونکا" ہی لکھوایا ،،،،،،،،،،، ! رہ جانے 
والا صرف اللہ کا نام ہے !۔

عمر کی تصویر اُسی بیماری کے دوران کی ہے ، تصویر میں لفٹ سائڈ پر عمر ہے ! اور یہ واہ گارڈن اپنے ماموں اور مامی کے ساتھ چلے گۓ تھے ! اسی تصویر کو دیکھ کر میں نے چند نظمیہ جملے لکھے تھے !!!۔
مارچ 1983ء
" عمر کی واہ گارڈن کی آخری تصویر دیکھ کر "
کچھ ایسے ہی نظارے ہوں گے 
کچھ عجب مست ہوائیں ہوں گی 
اور پُر کیف فضائیں ہوں گی
!اُنہی حقیقی نظاروں نے تجھے مسحور کیا اتنا
!!کہ مُڑ کے پھر آنا مشکل ہوا

( منیرہ قریشی،، 13 نومبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

ہفتہ، 11 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(42)

 یادوں کی تتلیاں " (42)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اماں جی کی جدائی کو اُن سے وابستہ مختلف افراد نے مختلف انداز سے لیا ،، لیکن میں نے محسوس کیا اباجی خاموش سے رہنے لگے ، شاید ایک بیٹی اور ایک اکلوتے بیٹے کی ذمہ داریوں سے ابھی سبکدوش ہونا تھا ، اور خاص طور پر بیٹی کے لیۓ فیصلے کو انھوں نے ذہن پر ذیادہ سوار کر لیا تھا ! یا زندگی اب اکیلے کیسے بسر کرنا ہے یہ سوچ بھی ذہن پر حاوی ہوتی ہوگی ،،،، اماں جی جب بھی اپنی " واپسی کے سفر " کا ذکر کرتیں تو یہی کہتیں ! میرے بعد تم اپنے اباجی کے ساتھ رہنا ۔ یہ تمہاری بات سنتے ہیں ،، اور تم بھی اں کے مزاج کی واقف ہو!! وغیرہ ،، میں ہمیشہ ان کی یہ بات ہنسی میں اُڑا دیتی ۔ لیکن جس دن وہ آخری رات جب انھوں نے گھر سے رخصتی لی اور ہسپتال کے لیۓ روانہ ہوئیں ، اس دن بھی میں ان کی طبیعت کی خرابی کے پیشِ نظر ابھی ان کے کمرے میں تھی کہ اب کی بار پھر انھوں نے کہا ،،،" دیکھو اس دفعہ میں بچنے والی نہیں ، بس تم اپنے باپ کو نہ چھوڑنا " میں نے انھیں تسلی کے لیے کہہ دیا " تو میں نے کہاں جانا ہے ، بس آپ یہ ما یوسی کی باتیں چھوڑیں " ، کہنے لگیں " نہیں میری ماں میرا انتظار کر رہی ہے! بس اب چلنا ہی ہو گا "،،، میں نے تب بھی نارمل لیا ! کیوں کہ اماں جی ایسی سخت بیماری سے کئی دفعہ  "سروائیو"کر گئی تھیں ، لیکن آخر کب تک اتنی بیماریوں کو شکست دیتیں ،،،، جب 7 فروری کو اُن کی زندگی کے آخری گھنٹوں کا " کاؤنٹ ڈاؤن " شروع ہوا تو اس دن میری خالہ ذاد ہسپتال سے انھیں دیکھتی ہوئی سیدھی ہمارے گھر آئیں ! اس وقت صبح کے 11 بجے تھے ، انھوں نے روتے ہوۓ کہا تم دونوں جلدی ہاسپٹل چلی جاؤ ،، ان کی حالت اچھی نہیں ، آنکھیں تو کھل ہی  نہیں رہیں ، بس منیرہ کا نام بار بار لے رہی ہیں !! ہم دونوں بہنیں جلدی سے چھوٹے بچوں کو اُنہی کے حولے کر کے ہسپتال پہنچیں ، اباجی اور بھائی جان ان کے آس پاس تھے ! میں نے اماں جی کو آواز دی ، " آنکھیں کھولیں ، دیکھیں میں آگئی ہوں " انھوں نے اسی حالت میں بہت ہی مشکل سے کہا " تم ، ادھر ہی ! تم نا ادھر ہی " میں سمجھ گئی ! وہ کیا یاد دلانا چاہ رہی ہیں ۔ میں نے کہا " ہاں ہاں میں ادھر ہی اباجی کے پاس رہوں گی " جواباً انھوں نے اطمینان بھری لمبی سی " ہاں " کی !!!!! اور یہ ہی ان کی آخری دنیاوی بات تھی ! آنکھیں بدستور بند تھیں ، اور پھر شام 4 بجے تک وہی سبحان اللہ اور صدقے یا رسول اللہ ؐ ! کا ورد ان کے لبوں پر رہا ،، جیسا کہ میں پچھلی قسط میں ذکر کر چکی ہوں ،،،،، 
اماں جی کے مہمان آہستہ آہستہ جانے لگے ! آپا کے جانےکا وقت آیا ، تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہ دو بچوں کوکیسے دیکھے گی ،،، فی الحال ایک کو میں ساتھ لے جاتی ہوں ! جوجی بھی انہی دنوں  ایم ایس سی کے امتحان سے فارغ ہو کر آچکی تھی ۔ آپا نے اسے بھی ساتھ لے کر جانا تھا کہ اماں جی کی جدائی کےغم میں اس کا مزید وزن کم ہو چکا تھا ! چنا چہ ،،، میں نے عمر کو ان کے حوالے کیا کہ " یہ کچھ بہتر صحت والا ہے " کمزور بچے کو میں خود دیکھ لوں گی !!! آپا تین ماہ کے بعد عمر اور جوجی کو واپس چھوڑنے آئیں ،،، تو اس دفعہ علی کو ساتھ لے گئیں ، ، پھر 3 ماہ بعد آکر عمر کو دوسری دفعہ لے گئیں ، تب جوجی نے مجھے بتایا " سیالکوٹ میں ابھی تک گیس نہیں پہنچی ! اس لیۓ جب آدھی رات کو منے کو دودھ پلانا ہوتا ہے تو آپا پہلے " تیل والا چولہا " جلاتی ہیں ! دودھ گرم ہوتا ہے پھر منے کو پلایا جاتا ہے ۔اب جب آپا عمر کو چھوڑنے 3 ماہ بعد آئیں تو میں نے انھیں کہا اب میں کافی ماہر ہوگئی ہوں ،،، اور بچے بھی باقاعدہ کھانے پینے لگے ہیں ، اور ان کی عمریں 9،10 ماہ کی ہو چکی ہیں اب میں انھیں سنبھال لوں گی !! اگر میں نہ کہتی تو آپا یہ سلسلہ پتہ نہیں کتنا عرصہ چلاتیں ! آپا کی سب سے چھوٹی اولاد نشمیہ اس وقت 7، 8 سال کی تھی ،،، لیکن آپا میری مشکل کو محسوس کرتے ہوۓ خود نئے سرے سے ایک "منے کی ماں" بن گئیں، حالانکہ دوبارہ ایسی ڈیؤٹی کے لیے اپنے مزاج کو آمادہ کرنا پڑتا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر ہمارے بہنوئی کا تعاون نہ ہوتا تو آپا بھی یہ ذمہ داری نہ اُٹھا پاتیں ، میں ان کے اس احسان کو کبھی نہ بھلا سکوں گی ! بہن بھائیوں کے درمیان دراصل اصلی محبتیں یہ ہی ہوتی ہیں کہ مشکل گھڑی میں ہم ہاتھ آگے بڑھائیں ! اور مجھے لگتا ہے ہم بہنوں اور بھائی کا تعلق کچھ ذیادہ گہرا اور میٹھا رہا ،،،، اب ہماری آپا اور بڑے بھائی جان ، اللہ کی سچی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں ،، اللہ ان کی نیکیوں کا انھیں بہترین اجر عطا کرے آمین !۔
دراصل ،، ہمارے مشرقی گھرانوں میں جب لڑکی کسی غیر گھر میں بیاہ کرجاۓ یا اپنوں کے !!! اسے لڑکی نہیں بلکہ "" پا ٹھی "" عورت جان لیا جاتا ہے ! آخر وہ بیوی بنی ہے تو اس کے لیۓ اسے بہت نوجوانی میں ذہنی طور پر تیار کیا جاتا رہتا ہے ،،، لیکن بطورِ بہو ، بطورِ بھابھی ، وہ پہلی دفعہ بن رہی ہوتی ہے ! ابھی وہ انہی رشتوں کی گھمن گھیریوں میں چکرا رہی ہوتی ہے ،،، کہ ماں بننے کا کٹھن مرحلہ آپہنچتا ہے ،،، اب اگر وہ لڑکی سسرال میں ہے یا خود اپنے گھر میں زچگی کا وقت گزار رہی ہے تو ،،، اس نوجوان ماں کو مکمل ریسٹ ،،، اور بہت ذیادہ مددگاری ،،، اور جذباتی سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے ! کیوں کہ وہ اپنی زندگی میں بہت کٹھن اور بالکل نئےتجربے سے گزری ہوتی ہے ! اس لیے وہ لڑکیاں جو پہلی مرتبہ ماں بن رہی ہوں اگر والدین آسانی سے انھیں رکھنے کی پوزیشن میں ہوں تو وہ اپنا یہ دور ان کے پاس گزاریں ،،، جو آرام اور سکون والدین دے سکتے ہیں،،،کوئی نہیں دے سکتا !!! (یہ میری ذاتی راۓ ہی نہیں بلکہ اس عمر تک میرا عمومی تجربہ بھی ہے ) ،،،،،میں بہرحال اپنے والدین کے پاس ہی رہی ، اور بہت اچھے سے رہی ۔ اس لیۓ میں اپنی سہیلیوں ،اور رشتہ دار ہم عمروں کو دیکھ کر ہی  یہ تجزیہ کر رہی ہوں !۔ 
مجھے اباجی نے گھر کا مکمل اختیار دیا ہوا تھا مجھے وہ لمحہ آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے کہ جب اماں جی کے بعد کافی دنوں تک رہنے والے مہمانوں کے جانے کے بعد گھر کی فضا کچھ نارمل ہوئی تو کھانے کی میز پرکھانا لگایا گیا میں بچوں کے کسی کام میں مصروف تھی ،،، آپا ، جوجی اور پھر اباجی کی آوازیں مجھے کھانے پر آنے کے لیۓ بلا رہی تھیں ،،، جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو سب کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے ،، اور میرے لیۓ اکیلی ، الگ کرسی خالی تھی ! جو گھر کے سربراہ کی ہوتی ہے ،،، کچھ لمحے کے لیۓ میرا ذہن ماؤف سا ہو گیا ! لیکن جلد ہی خود کو نارمل کر لیا ! اس کے بعد کے سال اباجی کے ساتھ کیسے گزرے یہ تو اباجی ہوتے تو معلوم کرتی ،،، لیکن اتنا پتہ ہے کہ ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ! الحمدُللہ !۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ،،، اباجی کے دوست ، رشتہ دار جب جب آتے ان کی اسی طرح مدارت ہوتی جیسے اماں جی کے دور میں رہی ،،، اباجی ، مالی اور جسمانی لحاظ سے کسی کے محتاج نہیں تھے ،،، بلکہ میں ان کے زیرِ سایہ رہ کر بہت سے فائدے اُٹھارہی تھی ،،، ! 
حالات کچھ اس نہج پر رہے کہ ہم اپنے بچوں سمیت اباجی کے پاس ہی رہے ، کہ اس دوران جوجی کی شادی ہوئی تو اب اباجی مزید اکیلے ہو گۓ تو یہ ہی قدرت کی طرف سے فیصلہ ہوتا چلا گیا ،،،،،،،،،، لیکن یہاں میں ایک "" دعا """ کا ذکر بھی کرنا چاہوں گی ! جیسا کہ میں نے پہلے شروع کی اقساط میں سے ایک جگہ ذکر کیا تھا کہ اباجی کی والدہ ( ہماری دادی ) خیبر پختون خواہ کے ایک شہر چارسدہ کے گاؤں عمر زئی میں دفن ہیں ! اباجی کا دل چاہا کہ اپنی والدہ کی قبر پر ہو آئیں تو وہ آپا ، بھائی جان اور مجھے ساتھ لے کر عمر زئی کے اپنی پیدائش والے گھرکے پڑوس میں پہنچے ! اور مجھے انھوں نے پہلے اندر بھجوایا ، تاکہ اگر خواتین ہیں تو ان سے پہلے سامنا ہو جاۓ ! جب میں اندر گئی تو اباجی کی والدہ کی سہیلی قریبا" " نوے سال سے اوپر" کی بزرگ خاتون نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اور محبتوں کے ساتھ ہماری خاطر تواضع شروع ہو گئی اس دوران انھوں نےہمیں جس " ڈرائنگ روم ٹائپ کمرے میں بٹھایا ، اس میں ایک بڑی سی الماری تھی ، جس میں صرف مہمانوں کے لیۓ استعمال ہونے والے برتن تھے ! سب ہی برتن " نوادرات " لگ رہے تھے ، اتنے میں ایک بوڑھا سا ملازم آیا اور اس نے اباجی سے پشتو میں کہا میں نے یہاں سے برتن نکالنے ہیں ، آپ ایک سائڈ پر ہو جائیں ، اس صوفے پر میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ میں اُٹھی اور "بابا جی سے اس خیال سے ٹرے لے لی کہ میں ہی انھیں یہ برتن نکال دیتی ہوں ایسا نہ ہو ان سے نہ سنبھل سکیں !! دیکھاتو الماری میں دھول کی موٹی تہہ پڑی ہوئی تھی ،، ساری الماری اَٹی ہوئی تھی ، باباجی برتن لے کر چلے گے تو میں نے الماری بند کرتے ہوۓ کہا """ میں تو اپنے ماں باپ کو کبھی اکیلےنہیں چھوڑوں گی ، ان کا بڑھاپے میں کون خیال کرے گا ، کیا ان کا گھر ایسا دھول میں اٹا ہو """میری جذباتی بات کا میرے بھائی، آپا، یا ، اباجی نے کیا جواب دینا تھا،سب  نے نظراانداز ہی کیا ،،، لیکن وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی ، جب کاتبِ تقدیر نے لکھ بھی دیا ، ،،، اور پھر میں والدین کی محبتوں تلے ہی رہی ،،، اور مجھے آج ،،، 66 سال کی عمر میں یہ لکھنے میں کوئی باق نہیں کہ مجھے اس بات کا لمحہ بھر کا ملال نہیں کہ ایسا کیوں اور ویسا کیوں ہوا ،،،،،! میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے " اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو " خدمت " کے لیۓ خود چُن لیتا ہے ،، اس میں اپنی کوشش یا پلاننگ نہیں چلتی ، اور یہ بھی طے ہے کہ "ماں " بیٹے یا بیٹی کو ایک جسے " درد " سہہ کر جنم دیتی ہے ، تو پھر خدمت کرنے  کے وقت یہ تخصیص کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی ، 11 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 9 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(41)۔

 یادوں کا تتلیاں " ( 41 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اماں جی کی کمزوری ، بڑھتی جا رہی تھی ، وہ 26دسمبر 1975ء کا دن تھا جب اُن کو سانس لینے میں ذیادہ دقت ہونے لگی اور رات ہی کو انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا ، ، ، جب وہ گھر سے کار میں بیٹھیں تو انھوں نے ایک ایسی نظر گھر پر ڈالی ، جوصحیح معنوں میں " آخری نظر '' تھی ۔ پوراجنوری ان کا علاج جاری رہا لیکن ڈاکٹر ز نے واضع کر دیا تھا کہ ان کا دل صرف 25 ٪ تک کام کررہا ہے ، یہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہیں ، اباجی کا ذیادہ وقت اُنہی کے پاس گزرنے لگا ، آپا کافی ہفتوں سے رہ رہی تھیں ، کچھ دن کے لیۓ سیا لکوٹ چلی گئیں کہ بچوں کو لے آؤں ۔ اور 7 فروری 1976ء کا دن طلوع ہوا ،،،،،،،،،،،! اباجی جب سے اس نئے محلے کے ذاتی گھر میں منتقل ہوۓ تھے ،، اس گھر کا فون نہیں لگ سکا تھا ، اسی لیۓ ہمارے سامنے رہنے والی فیملی ( جن کے گھر فون کی سہولت موجود تھی)سے ریکوئیسٹ کی گئی کہ اگر کوئی ہمارے متعلق فون آپ تک پہنچ جاۓ تو پلیز ہمیں بلا لیں ،،، یا پیغام دے دیں ،، یہ فیملی والد ، 4 بہنوں اور 4 بھائیوں پر مشتمل تھی، ان کی والدہ 7، 8 سال پہلے فوت ہو چکی تھیں ، سب سے بڑی بہن نصرت میری ہی عمر کی تھی،،، اور ابھی کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی ، میری ان سے کوئی دوستی نہیں تھی ، میں اپنے ٹونز کے ساتھ سخت مصروف رہتی ۔ پتہ نہیں کب ، کس وقت ،ان میں سے دوسری بہن ہمارے گھر آتی کچھ دیر اماں جی سے گپ شپ کرتی اور چلی جاتی ،مسرت ، شاید اپنی ماں کو بہت "مِس " کرتی تھی کہ اسے اماں جی کی صحبت میں بیٹھنا اچھا لگتا تھا ،،، وہ اپنا محبت بھرا رابطہ نہ جانے کب اُستوار کرتی رہی ،،، کہ جب اماں جی بیمار ہوئیں تو وہ انھیں دیکھنے اسی 7 فروری کی صبح آئی ،تو اماں جی قریباً بےہوشی میں تھیں ، وہ کچھ دیر اُن کا ہاتھ پکڑے کھڑی رہی ، اور رونے لگی ، نصرت اُسے کمرے سے باہر لے گئی اور وہ وہیں گر کر بے ہوش ہو گئی۔ نرسز نے فوراً اُٹھایا اور اس کی حالت کے پیشِ نظر داخل کر لیا ،،،،، اس دوران ہم دونوں بہنیں ، اباجی اور ہمارے بھائی جان ،، اماں جی کے پاس تھے ، دوپہر 11 بجے جب ہم دونوں ان کے پاس پہنچیں اور کسی طرح انھیں غنودگی سے نکالنے کے لیۓ آہستہ سے آواز دیتیں، لیکن اماں جی اب کسی اور دنیا کے نظاروں میں محو ہو چکی تھیں ، کیوں کہ دل کی طاقت ختم ہو چکی تھی ،، صرف سر کبھی دائیں،کبھی بائیں پھیرتیں ، ،، دائیں طرف سر کرتیں تو کہتیں "سبحان اللہ" ،،،، بائیں طرف سر کرتیں تو کہہ اُٹھتیں "صدقے یا رسولؐ اللہ"،،،، لیکن آنکھیں مسلسل بند تھیں ! ہم سب بےبسی سے ان کے قریب کھڑے کلمہ پڑھ رہے تھے ، ہماری ایک رشتے کی خالہ بھی کمرے میں تھیں جو سورۃ یٰسین پڑھ رہی تھیں اور آخرکار ٹھیک 4 بجےکے قریب شام کو اُن کی روح مالکِ حقیقی کے حکم پر اس اصل جہان کو روانہ ہو گئی ،،،،،،،،،،!۔
صرف دودن بعد ہی میں نے خواب دیکھا " کہ اماں جی کافی کم عمر لگ رہی ہیں ،، اور بہت مسکراتے ہوۓ ، خوشگوار موڈ میں ہیں ، میں اُن سے پوچھتی ہوں آپ کہاں سے آ گئیں ؟ تو وہ کہتی ہیں" جب میں ہسپتال سے باہر نکلی ، تو نیلے رنگ کا ویسپا کھڑا تھا میں اس پر بیٹھی تو اس نے اُڑنا شروع کر دیا ۔ آسمان پر چودھویں کا چاند بھی تھا لیکن آسمان نیلا تھا " !۔ 
مسرت کافی دنوں کے بعد اماں جی کی دعا کے لیۓ آئی تب اس نے بھی بتایا ،،، جب میں آپ کی امی کو ہاسپٹل دیکھنے گئی تو مجھے ایک دن پہلے کا دیکھا خواب یاد آ گیا ، اور میں نے اُن کا ہاتھ تھام لیا ،،، کیوں کہ میں نے ایسا ہی منظر خواب میں دیکھ لیا تھا ! بالکل اسی طرح ہسپتال کا کمرہ ہے ، آپ کی امی بستر پر آنکھیں بند کیۓ لیٹی ہیں اور میں دیکھتی ہوں کہ ان کے دونوں ہاتھ بستر سے ذرا لٹک گئے ہیں میں انھیں پکڑ کر ان کے سینے پر رکھتی ہوں تو ان کے ایک ہاتھ پر مہندی سے کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور دوسرے ہاتھ پر خانہ کعبہ بنا ہوا ہے ، میں دونوں ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی ہوں ،، اور کمرے سے نکل جاتی ہوں " ،، یہ ہی وجہ تھی کہ میں شدید جذباتی ہو گئی ،کمرے سے باہر آتے ہی بےہوش ہوگئی ،، مجھے اپنی امی بھی یاد آ گئیں!!۔
جس وقت اماں جی فوت ہوئیں آپا ، معہ بچوں کے واہ میں داخل ہو رہی تھیں ، ،،، اُن کو اس بات کا زندگی بھر ملال رہا کہ وہ مسلسل رہتے ہوۓ ، اماں جی کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود نہیں تھیں ! لیکن یہ ہی زندگی ہے کہ جو ہم سوچتے ہیں وہ ہوتا نہیں اور جو سوچا بھی نہیں ہوتا وہ پیش آجاتا ہے۔
( منیرہ قریشی ، 9 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری 

جمعرات، 7 ستمبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں " (8) ۔

یادوں کی تتلیاں " (8) ۔"

اپنے بچپن کی یادوں کو اچھے معنی میں یاد کرنا ، یا ، اس کو سبق کے طور پر لینا ، ذرا حوصلے کا کام ہے ،اس میں ہمیں اپنوں سے گلے شکوے کرنے کو دل چاہتا ہے اور بچپن کی نفرتوں کو پالنے پر بھی شیطان زور ڈالتا ہے !!لیکن حقیقت یہ ہے (میرے خیال میں ) کہ اگر بچپن ، بُرے حالات میں گزرا ، تو مزاج میں ساری عمر تلخی کا عنصر رہتا ہے اور اگر جوڑ توڑ کی خاندانی سیاست کو دیکھتے ، جھیلتے گزرا تب بھی بڑے ہونے پر ہم اپنی بنیادی نفرتوں کو کبھی نا کبھی اپنی ذات پر چسپاں کر ہی لیتے ہیں اور اگر کسی کا بچپنے کا دور کچھ رشتوں سے محرومی کا گزرا ہے تو وہ اکثر یا تو " سخت دل " ہو جاۓ گا یا بہت " نرم دل " ،،،،،یہ محض ایک بندے کا تجزیہ ہے ورنہ تو دنیا میں جتنے انسان ہیں اتنی " فطرتوں " کے رنگ ہیں ،،، اور بندہ ہر دفعہ اللہ کی اس بوقلمونی پر حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے ! !۔

میں نے یہ سب کچھ برسبیلِ محض ذہن میں آگیا تو لکھ دیا ۔
ورنہ تو اپنے بچپن کی یادوں کو ذرا " آواز" دینے کے لۓ یہ سلسلہ شروع کیا جو ارادہ تھا کہ صرف ایک دو اقساط میں ختم کر دوں گی لیکن ،مجھے اتنا " بک اپ " کیا گیا کہ مجھے لگا کچھ اور لکھ لینے میں کوئی حرج نہیں !۔

اور میری کہانی میں تھوڑے کردار ہیں جنھیں سامنے لاتی رہوں گی کیوں بچپن کے تاثرات ناپختہ ہوتے ہیں اور اب اگر میں اپنی پختہ راۓ شامل کروں گی تو مناسب نہیں ہو گا ۔،،، 
اماں جی 6 بہنیں اور 2 بھائی تھیں ، ان سے بڑی ایک بہن شفیہ بیگم اور ان سے چھوٹا ایک بھائی ، میرے نانا سکول ٹیچر تھے آخر میں اسی گورئمنٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر بنے اور ریٹائر ہوۓ ! نانا جی کا کافی عرصہ مردان میں گزرا ،، جب اپنے پنجاب میں رہنے لگے تو گھر میں ایک تو مذہبی گھرانہ ہونے کی وجہ سے "صرف سخت نہیں بلکہ سخت ترین " پردہ تھا اور دوسرے وہ خود بھی حد درجہ رعب داب والی شخصیت رہے ، اسی وجہ سے اماں جی اور ان کی بہن کے لۓ سکول جانے کا تصور ہی نہیں تھا البتہ نانا جی کے سکول سے وابستگی اور پڑھے لکھے ہونے کی بنا پر دونوں بہنیں ، کچھ نا کچھ اپنے والد سے پڑھتی رییں ، اردو ، عربی اور کچھ تھوڑی فارسی ! بیٹے کو انھوں نے اپنے سکول میں داخل کروایا اور ہمارے یہ ماموں بہت ذہیین اور لائق نکلے ، بعد میں انھوں نے آٹھویں میں اپنے علاقے میں ٹاپ کیا اور دسویں میں ضلع کے تمام سکولوں میں پہلی پوزیشن لی ، حتیٰ کہ کئ بہترین کالجوں کے پرنسپل صاحبان نے انھیں اپنے کالج میں مکمل سکالر شپ پر داخلے کی کوششیں کیں ، لیکن ناناجی کی سادگی یا مالی آسودگی کی جلد کوشش کہ سب کو انکار کر دیا اور انھیں فوج میں بھرتی کروا دیا ،،، جس کا ماموں جان کو افسوس رہا ، بعد میں آرمی میں رہ کرانھوں نے جلد ہی ایف۔ اے پھر بی۔اے اور ایم۔اے کیا اور شاندار کیرئر سے ریٹائر ہوۓ ۔ ،، یہ سب لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ گھر سے ایک لڑکا سکول جاتا اور اماں جی انتہائ شوق سے اپنے بھائ کا یونیفام لٹکاتیں ، اس کی کاپیوں ، کتابوں کو سیٹ کرتیں ، اور پھر جب وہ پوچھتیں کہ آج کیا کچھ پڑھا تھا ، مجھے وہ پڑھاؤ تو وہ ' ٹپیکل بھائ " بن کر پہلے کوئ کام کرواتے پھر اپنا سبق ان کے سامنے دہراتے ، اماں جی کو انگریزی پڑھنے کا شوق ذیادہ تھا ، ان کی انگریزی سے شُد بُد اتنی ضرور ہو گئ کہ اپنے بچوں کی ابتدائ کلاسز میں وہ خود پڑھاتی رہیں ، باقی رہی اردو ، عربی، وغیرہ تو وہ تو والد کی وجہ سے بہترین ہو گئ تھی ، اور مزید یہ کہ اپنے والد کے کتابی خزانوں سے کوئ نہ کوئ کتاب زیرِ مطالعہ رہتی ۔ کتاب کسی بھی موضوع پر ہوتی ہو پڑھنےکی " چُٹک " پوری کر لیتیں ، یہ ہی وجہ تھی کہ اماں جی کی ' نالج "اور " ذوق" اپنے خاندان بھر کی خواتین سے نمبر ون ، بلکہ چند ایک مردوں کو چھوڑ کر مردوں سے بھی بڑھ کر تھا ۔ دراصل وہ بہت ذہین عورت تھیں جن کی سوچ اپنے زمانے سے اگر 50 سال آگے نہیں تو 25 سال ضرور آگے تھی ، اپنی جوانی میں ہی ان کی پسند منفرد ہوتی ،، اور جب ان کی شادی ہو گئ تو سلامی کے پیسوں سے انھوں نے شوہر سے ہاتھ کے بنے تین مناسب سائز کے قالین منگواۓ ، اور اس دور کی اپنے سسر کی " بیٹھک " کو نیا اور اعلیٰ انداز دیا ،، چاۓ کے ان کے اپنے جہیز

کےبرتنوں میں چاۓ دانی اور دودھ دان تھے لیکن گاؤں کے رواج کے مطابق مکس چاۓ بنتی ،اور پیش ہو جاتی، اماں جی نے اپنے شوہر اور سسر کے لئے ٹرے میں دودھ دان میں دودھ ڈالنا،چاۓ دانی میں چاۓ اور چینی الگ سے۔یہ سلیقہ،عقل مندخواتین نے سراہا اور ، کم عقلوں نے یہ کہہ کر تبصرہ کیا ، اپنا رعب ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ، پورے گاؤں میں پہلا ریڈیو دادا جی نے خریدا تو اماں جی نے بھی اسے چلانا سیکھ لیا جب کہ باقی خواتین نے نا صرف سیکھا نہیں بلکہ ان کے خیال میں یہ صرف مَردوں کے کام کی چیز ہے ،،، اماں جی نے اپنے محبوب شوہر سے ایک فرمائش یہ کی کہ مجھے دو رسالے لگوا دیں " حور " اور " زیب النساء"،،،یہ وہ فرمائشیں تھیں جو ہمارے پورےخاندان میں اس وقت تک کسی عورت نے نہیں کی تھیں ، یہ دونوں رسالے اماں جی کی زندگی تک آتے رہے اور بعد میں بند ہوۓ ، جب اباجی دوسری جنگ عظیم میں سوڈان ، مصر وغیرہ کی طرف چلے گئے تو اپنی طرف سے کافی پیسے داداجی کو بھیجتے لیکن اماں جی کے حصے میں صرف 10 روپے آتے ، ان کی گود میں پہلوٹھی کی بیٹی بھی تھی لیکن ان 10 روپے کا مصَرف یہ تھا کہ ہر مہینے 5 روپے ایک ہمدرد بزرگ کو دیۓ جاتے کہ اان پیسوں کا بکرا ذبح کروا کر غُرباء میں تقسیم کردیں ، باقی 5 روپے سے اپنا اور بیٹی کی ضروریات پوری کر لیتیں ، اس وقت اماں جی کی عمر بہ مشکل 20، 21 سال ہوگی ، لیکن اس طرح شوہر کے لۓ صدقے دینا ، اور اپنی ضروریات کو کم 
سے کم کر لینا ، اپنا فالتو وقت کتابوں کے ساتھ گزارنا ، تاکہ خاندانی سیاست میں کم سے کم سننا ، بولنا ملے ،،، یہ ذہانت نہیں تو کیا تھا !،،، اپنے والدین کے گھر میں یہ 4 بہنیں اورایک بھائی ( باقی دو بہنیں اور ایک بھائی بعد میں پیدا ہوۓ ) آپس میں خوب ہنسی مذاق کرتے ۔ ان کا ماحول ہلکا پھلکا اور دوستانہ تھا ، حسِ مزاح خوب تھی ! اسکے برعکس سسرالی ماحول، سخت سنجیدہ ، اور خاندانی سیاست سے بھر پور تھا ، جس میں ضم ہونے کی انھیں کوشش کرنی پڑی ، لیکن ان کا رویہ ہر ایک سے دوستانہ اور احترام کا رہا ، انھوں نے اپنی چھوٹی نندوں کے ساتھ اور اپنے سے چھوٹے دیور کے ساتھ خوب دوستی رکھی اور ہماری بڑی پھوپھو جی کو اہمیت دی یہ سب ان کے خاموش ہی سہی لیکن حمائیتی تھے ! جس کا نتیجہ بعد میں یہ نکلا کہ اباجی کا گھر سب کا " میکہ " بنا رہا ، اور اس میکے کو خوش گواریت دینے میں اماں جی کا ہاتھ تھا ، اور اللہ کا شکر وہ بہترین یادیں چھوڑ کر گئیں! اماں جی کو اپنی دنیاوی زندگی میں کوئی عزیز از جان تھا تو اپنا شوہر، اپنے بچے اور اپنا بھائی ! اس بھائی سے انھیں اتنی محبت تھی کہ کم ہی دیکھنے میں ملا ہے اور ان کا بھی یہ عالم رہا کہ " آپاجی ،آپاجی " کا ورد رہا ،،، حالانکہ ماموں جان ہر بہن سے اتنی محبت کرتے تھے کہ ہر بہن یہ سمجھتی تھی کہ بس میں ہی ان کی چہیتی ہوں ، ،، ہمارے چھوٹے ماموں کے ساتھ اماں جی کا رویہ ماں والا رہا ، کیوں کہ وہ ہماری آپا سے کچھ ہی بڑے تھے اور ان سے چھوٹی بہن تو آپا کی  ہم عمر تھیں ، ایک اور بھائی بھی تھے لیکن وہ 15 سال کی عمر میں دنیا سے چلے گۓ اور آخری میری خالہ تقریبا" مجھ سے ایک آدھ سال بڑی تھیں ، یہ سب آپس میں محبت کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوۓ تھے ، میری چھوٹی خالہ کے پڑھائی کا دور آتے آتے بڑے بہن بھائی کا گھر میں کافی کہا سُنا جانے لگا اور وہ باقاعدہ سکول گئیں اور پھر ہوسٹل میں رہ کر میٹرک کیا ، باقی پڑھائی شادی کے بعد کی ،،، ایسی کہ پہلے ٹیچر اور پھر پرنسپل کے طور پر ریٹائر ہوئیں اور اب ریٹائر زندگی بھر پور طریقے سے گزار رہی ہیں !۔
اماں جی کا زندگی کا آخری ایک ماہ ہسپتال میں گزرا ، اور انکے دل نے جب صرف 25 فیصد کام کرنا شروع کر دیا تو ڈاکٹرنے کہہ دیا یہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہیں ، ماموں جی ان دنوں کراچی تعینات تھے انھیں اطلاع دے دی گئی ، اس دوران اماں جی اتنی بےطاقت ہو چکی تھیں کہ اپنی آنکھیں بھی کھولنے کی ہمت  نہیں رہی تھی انہی دنوں چھوٹے ماموں آۓ تو اباجی نے ویسے ہی ان کادل رکھنے کو کہہ دیا دیکھو " محمد یوسف " آیا ہے ( نانا جی کے گھر مکمل نام لینے کا رواج یا حکم سختی سےتھا ،) ماموں جی نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ،،، اماں جی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس ہاتھ کو ٹٹولا اور کہنے لگیں ،، نہیں یہ محمد یوسف تو نہیں ! سب کی آنکھوں میں آنسو آ گے ، کہ آنکھیں نہیں کھولی جا رہیں لیکن بھائی کی محبت، کی خوش بو کی پہچان ہو رہی ہے چھوٹے ماموں نے کہا تو میں بھی تو آپ کا بھائی ہوں تو کہنے لگیں تم تو بیٹے ہو ! یہ سن کو ماموں بہت خوش ہوۓ ! اگلے دن بڑے ماموں جی کو حالت کی خرابی کا فون گیا تو ان کا اپنا کہنا تھا کہ میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلۓ اور جب جوتے پہننے لگا تو یکدم بستر پر دھم سے بیٹھ گیا ،،، اور آنکھوں میں آنسو آگۓ ، بیوی نے پوچھا کیا بات ہے تو میں نے کہا " آپاجی نہیں رہیں " اس نے کہا آپ کو کیسے پتا ، کہنے لگے مجھے معلوم ہو گیا ہے اور صرف 10 ، 15 منٹ کے بعد فوتگی کا فون آگیا ،،،! بہن بھائی کی شدتِ محبت بے لوث ہو تب ہی ایسے جذبے جگہ پاتے ہیں ،،، ماموں جی اب بھی زندہ ہیں بہت  بزرگ ہو چکے ہیں لیکن یہ 40 سال قبل کا واقعہ جب بھی سناتے ہیں ، ہر دفعہ آبدیدہ ہو جاتے ہیں !۔
( منیرہ قریشی 7 ستمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )