‏بچپن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بچپن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 6 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(39)

یادوں کی تتلیاں " ( 39 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اور آج کچھ تصویریں ہیں جن پر یہ تتلیاں اپنے خوب صورت پَر کھول اور بند کر رہی ہیں ،۔۔۔
٭ ہمارے اباجی خوب صورت شخصیت کے مالک تھے ، اور صاحبِ ذوق ، صاحبِ سُخن بھی تھے ، الحمدُللہ اپنی ذات سے فیض پہنچانے والے بھی تھے۔
،
٭پیاری اماں جی ( عزیزہ بیگم )،،،، نازُک ، لیکن جراؑت مند ماں ! 1964ء واہ کینٹ کی تصویر ، اور 7 فروری1976ء کو دنیا کا آخری دن گزارا ! بہ عمر 52 یا53 سال !!!۔
٭اور جب میں 5 سال کی تھی ، 1956 ء ! راولپنڈی

٭" جب ہم چھوٹے تھے "۔
احسان الحق بھائی جان ، میں ، اور درمیان میں جوجی ،، اپنے لاڈلے طوطے کے ساتھ ! جو باتوں کی وجہ سے ہر دل عزیز تھا ،!
( راولپنڈی 1955،56 ء )


، 
٭ہم دونوں بہنیں (جوجی اور میں ) اپنے اباجی کے ساتھ ! پنڈی ۔1957،58

 



٭" یادوں کی تتلیاں " ،،، ہماری عظیم ٹیچرز 
ایف جی انٹر میڈیٹ کالج واہ کینٹ کے چند سٹاف ممبرز ،( بائیں سے)
مسز شاہدہ مرزا ( اردو )، مس خالدہ ( فزکس )، مسز انیس زیدی پرنسپل ، مسز زبیدہ عثمانی ( اردو ، فارسی)۔
؎ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ،،،

٭ایف جی انٹر میڈیٹ گرلز کالج واہ کینٹ ،

ہمیں ان دنوں لازما" فوجی تربیت دی جاتی تھی اور کورس مکمل ہونے پر واہ فیکٹری کے اس وقت کے چیئرمین میجر جنرل فضلِ مقیم کو مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا ( قراقلی ٹوپی میں ) ان کی بیٹی اور بیگم صاحبہ ، ساتھ ہیں اور ساڑھی میں پرنسپل صاحبہ مسز زیدی ! اور آگے ہماری دو کلاس فیلوز دائیں طرف نصرت آراء اور ساتھ آفتاب عابدی !۔
،

٭ایف جی انٹر میڈیٹ کالج کی ایک خوب صورت روایت تھی، کہ جانے والی ایف اے کی جماعت کی طرف سے،روشن موم بتیاں نئی ایف اے کی طالبات کے حوالے کی جاتیں ۔ گویا ؔ ہم تو چلے نئی منزلوں کو ، اب علم کی شمع تم جلاۓ رکھنا ،،،، اس دوران خوب صورت کوئی علمی گیت بھی گایا جا رہا ہوتا تھا ۔۔۔
درمیان میں نمایاں ہماری دو " خوش گلو " ہم جماعت کوکب ( کالی سویٹر) اور ملکہ فرزانہ !۔
اب معلوم نہیں یہ روایت جاری ہے یا نہیں ! ۔ 




٭جب ایف جی انٹر میڈیٹ کالج واہ کینٹ میں ہمیں ایف اے میں الوداعی پارٹی دی گئی تھی ۔ بائیں سے ساڑھی میں شہناز مہدی ، ساتھ میں ( منیرہ )، زبیدہ ، نسرین جمال ، اور سر پر دوپٹہ اوڑھے رفعت صمصام ، اور رخسانہ تسنیم،،، ساتھ دوسری ہم جماعت۔ اپریل 1968ء واہ کینٹ ۔

٭ہم چھے اور ہماری پُر خلوص دوستیاں !۔(دائیں سے ) رخسانہ ، منیرہ ، شہناز مہدی ( مرحومہ )، زبیدہ (مرحومہ)، (بیٹھیں ہوئیں ) رفعت صمصام ، اور نسرین جمال !( انہی میں سے کسی کے گھر میں ، فسٹ ایئر میں 1967ء واہ کینٹ ) ۔
۔۔۔۔ 
٭ہماری ایف اے کی الوداعی پارٹی میں ساری کلاس اور کرسیوں پر بیٹھی ہماری عظیم ، بےمثال ٹیچرز ، بائیں سے مسز شاہدہ مرزا، مس خالدہ ( چہرہ چُھپ سا گیا ہے ) پرنسپل مسز انیس زیدی ، مسز زبیدہ عثمانی ( کالے چشمہ میں ) اور آخر میں مسز اصغری اصغر ،،، دو چوٹیوں میں خاکسار ،،، مجھے یہ لکھتے ہوۓ خوشی ہو رہی ہے کہ ان ہم جماعتوں میں سے بیشتر تعلیمی شعبے سے وابستہ رہیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں ، ورنہ جس شعبہ میں گئیں دنیاوی عزت ہی کمائی ،،، 13 1پریل 1968 ء 
واہ کینٹ ۔


٭"یادوں کی تتلیاں " ،،،، کے دو اور کردار 
رضوانہ سرور ، ڈانسر کے روپ میں اور شہناز ظفر ہیرو کے گیٹ اپ میں ۔ ( فسٹ ایئر میں ) کالج کے اسی مشہور مینا بازار کے دن !!( انٹر میڈیٹ کالج واہ کینٹ 1967 یا 68 ء )۔

٭یادوں کی تتلیاں " کے دو خوب صورت کردار !۔
نسرین جمال ( دُلہن ) اور فوجی دولہا شاہدہ ،،، ایک جذباتی اور، حب الوطنی سے بھرپور ڈرامے میں ،،، (فسٹ ایئر 1967ء ) ایف جی کا لج واہ کینٹ۔


٭،،نسیم اکبر سیمی ، ( مزاح ، ہمت ، اور خدمت کے جذبے سے معمور ! ہماری سہیلی ) انقرہ کے قیام کے دوران ! ( ڈی آئی جی چودھری غلام اکبر کی بیٹی ) !۔(1966)۔

اتوار، 29 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(37)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 37)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جب بھی آج ،کسی کی زبان سے، کسی پرنٹ میڈیا میں ، کسی کتاب ، کسی فلم میں ، کبھی کسی قسم کا تعصب دیکھتی ہوں ، سنتی ہوں ۔ وہ تعصب چاہے لسانی ہو، یا مقام کے لحاظ سے ہو، تو دلی دکھ ہوتا ہے ! اللہ کا شکر کہ اس قسم کا منفی تعصب کا رواج ہمارے گھر نہ تھا،بلکہ ہم نے اماں جی کے منہ سے ہمیشہ یہ جملے سنے،"ہمیں ہندوستان سے آنے والوں کا مشکور ہونا چاہیے، جن کی قربانیوں سے یہ آزاد ملک ملا ، اپنے وطن ، مال ، رشتے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا "،،، ہمارے محلے میں جو بھی "مہاجر" سیٹل ہوۓ اماں جی نےہمیشہ ان کے دکھ سُکھ میں شریک ہونا ،،،اور ان کے لیۓ دل و زبان سے احترام کا انداز رکھنا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم بہن بھائی میں بھی کسی علاقے ، یا زبان کے لحاظ سے متعصبانہ سوچ نہ آئی ! اور آج بھی یہ سوچ ہے کہ اچھے برے ہر ، ذات میں ،ہر علاقے میں ، ہر طبقے میں ہوتے ہیں ،اس اچھائی کا ،،یا ،، برائی کا تعلق کسی مخصوص جگہ ، زبان یا ذات سےکسی صورت نہیں ہوتا ،،،!۔
اسی پنڈی کے محلے میں جس بھوپال کی فیملی کا ذکربھی کر چکی ہوں ،، اماں جی کی اُن سے محبت اور شفقت کی ایک وجہ اُن کا " مہاجر"ہونا بھی تھا ! میں یہ لفظ لکھتے ہوۓ بھی کچھ اتنا پسند نہیں کر رہی کہ کچھ منفی سوچ کے لوگوں نے اسی لفظ "مہاجر" کو اپنے مذموم مقاصد کے لیۓ سیاسی طور پر استعمال کیا اور " انصار اور مہاجر" کے درمیان بےجا نفرتوں کا بیج بویا !!!! ایسا کرنے والوں نے دراصل "ہمارے جیسوں کی خالص محبت" اور "ہمارے خلوص بھرے جذبات " کا مذاق اُڑایا ہے۔ !
ہوا یہ کہ چند دن پہلے میرے پوتے کوسکول میں ایک پراجیکٹ کے لیۓ جو موضوع ملا وہ تھا " ہجرت " !!اور میری یادوں کی تتلیاں مجھے کشاں کشاں اپنی اماں جی کی بتائی باتوں کی طرف لے گئیں اور میں ذہنی طور پر ان کے سامنے بیٹھ کر وہی باتیں سنتی رہی! اور اپنے پوتے سے یہ معلومات شیئر کرتی رہی ،،،ایک مرتبہ ہم پنڈی صدر میں موجود اباجی کے دلی دوست "الطاف شاہ " چاچا جی ( جو حضرت پیر مہر علی کے بھتیجے تھے) کی دکان سے " رشین کراکری" کی ایک دو چیزیں خرید کر لاۓ ، ہم نے نیلے رنگ کی چینک اور اس کے ساتھ کی چار عدد نیلی قہوہ پینے والی پیالیاں لیں ، اماں جی نے دیکھ کر بہت پسند کیں ۔ اماں جی کی چند عادات میں سے میں اب تک ایک آدھ عادت چلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ایک یہ کہ جب نئی کراکری خریدی جاتی اسے دھو کر ایک دفعہ سب گھروالوں کےلیۓ استعمال کی جاتی ،،،، اُن کا خیال تھا کہ اب یہ برتن مہمانوں کی آمد کا باعث رہے گا ، دوسرے جب کوئی زیور بن کر گھر آتا ، اگرچہ وہ ایک دو تولےکا ہے یا چند گرام کا ،، بس اتنے کلو چینی ، کا صدقہ فورا" نکالا جاتا ۔ ،،، اب یہ رشین نیلی کراکری آئی جو استعمال شدہ تھی ، اور کسی رشین سے خریدی گئی ہو گی ، لیکن اسی وقت دھو دھلا کر شام کو قہوے کی صورت استعمال کی گئی ، اس دن اماں جی نے بتایا کہ جب وہ بارہ ، تیرہ سال کی تھیں تو انکے گاؤں سے ایک مرتبہ ایک مختصر سا قافلہ گزرا جنھوں نے چند ہفتے اس گاؤں میں گزارے ،وہ یقیناً مسلمان تھے کیوں کہ لینن کی تحریک کی کامیابی نے اس وسطی ایشیائی ریاستوں کے باشندوں کے قدم اپنے اپنے علاقوں سے
اُکھاڑ ڈالے تھے ، لاتعداد لوگ اپنے مذہب ، معاشرت اور عزت کو سنبھالے دنیا میں بکھر گئے ، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ اپنی تہذیب ، زبان ، عقائد اور جدا ہوۓ وطن کی یادوں کو دلوں میں لیۓ تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئے۔ اماں جی نے بتایا ، انہی دنوں ان کے والد اور گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگوں کو گاؤں کے نمبردار نے کہلا بھیجا کہ گھروں کی خواتین اپنے جو کپڑے اور بستر ، پلنگ کی چادریں دینا چاہیں، نکال کو نمبردار کے گھر پہنچا دیں ، پھر وہ اس قافلے کے بڑے کو دے دی گئیں ، اگر کبھی انھیں کسی  چیز  کی ضرورت ہوتی تو وہ اپنے خوبصورت برتن یا کڑھائی کی ہوئی ٹی کوزیاں ،میزپوش وغیرہ بیچتے اور بدلے میں وہ چیز خریدتے ، باوجود اس کے کہ گاؤں والے انھیں خوراک مفت دیتے لیکن وہ غیرت والے تھے کہ چاہتے تھے ،کوئی معاوضہ یہ بھی دیں ، ،،اسی لیۓ میرے نانا کے گھر بھی دو پلیٹیں رشیا کی مخصوص تصویری انداز کی موجود تھیں ، جو کسی گھرانے نے ان کے ہاتھ بیچی تھیں ، اماں جی کی یادوں میں اُن کی گوری چٹی ،سر تا پیر گھیر دار فراک اور مکمل با پردہ بڑی چادروں میں ملفوف خواتین موجود تھیں۔ وہ اُس وقت بھی اُن مہاجرین کے لیۓ افسردہ تھیں کہ ہم نے اُن کی وہ خدمت نہیں کی جو اُن کا حق تھا اور ہمارا فرض !!! ہم نے کیوں یہ رشین کراکری ان سے خریدیں ، ،، لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ایسے عزت دار گھرانے ہوں جو دوسروں کی امداد "ایسےہی" لینا پسند نہ کرتے ہوں اور چاہتے ہوں کہ ان کی مدد ، کاروباری طور سے کی جاۓ ،،،انھوں نے جو مزید بتایا ،، کہ ان میں سے ذیادہ تر لوگ ڈائریا ، سے بچ نہ پاۓ اور فوت بھی ہوۓ ،جن کو وہیں دفنایا گیا ،،،،،،،،،،،،،!۔
اپنے پوتے سلمان کو یہ نالج دیتے ہوۓ ،، تب اماں جی کی حساس طبیعت کے تحت محلے کے اسی صوبیدار کی دوسری بیوی کی یاد آئی جس کی ، اماں جی نے رات کے اندھیرے میں مدد کرتی رہی تھیں ۔ وہ بھی انڈیا کے ہی کسی علاقے سے تعلق رکھتی فیملی تھی ،،،( اور اس کا ذکر پچھلی ایک قسط میں کر چکی ہوں )۔
حضرتِ علامہ اقبالؒ سے محبت اور عقیدت ہمیں " اباجی " کی وجہ سے ملی ، مجھے یاد پڑتا ہے اباجی نے بہت نوجوانی کی عمر میں لاہور جا کر علامہ صاحبؒ کی زیارت کی تھی ،، یہ دورانیہ15 ،16 منٹ کا تھا، شاید انھیں اتنا ہی بیٹھنے کی اجازت ملی تھی یا انہی کے پاس وقت نہ ہوگا،،،لیکن اباجی کی زندگی کے آخری دو سال ایسے گزرے ہیں جب اُن کی یاداشت متاثر ہو چکی تھی، ورنہ ہمارے گھر ہمارےبچپن سے علامہ صاحبؒ کی برسی منائی جاتی رہی ہے،ہر 21 اپریل کے دن کوئی میٹھا بنایا جاتا،(اور اگر گرمیاں ہیں تو شربت بھی ساتھ رکھا جاتا ) اباجی کے سامنے یہ سب رکھا جاتا وہ دعا کرتے اور یہ سب گھر ، باہر کے بچوں میں بانٹ دیا جاتا ۔ اور اُس دن ہر صورت کچھ دیر تک ہم سب بیٹھ جاتے، اباجی انؒ کے کلام کو ترنم سے پڑھتے ، اور اس دوران ایک دفعہ ضرور ان کی آواز بھرا جاتی ، وہ ضرور جذباتی ہوجاتے !! چوں کہ اباجی ان کے اشعار کے سیاق وسباق سےآگاہ تھے ، وہ ان کے فارسی کلام کو بھی سمجھتے تھے ، ، جبکہ علامہؒ کے" اُردو کلام "کوسمجھنا ہی کمال بات تھی کجا فارسی کلام کو سمجھنا ،،،،،، سچی بات ہے کہ پنڈی قیام کے دوران تو ہمیں ،،،،شاعری سے اور خاص طور پر علامہؒ کی شاعری سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی،نظمیں تو بہت سی یاد تھیں لیکن علامہؒ صاحب کی شاعری سے دلچسپی نویں دسویں جماعت میں آ کرہوئی،،، اور انؒ کی نظم یا غزل کی تشریح اباجی سے سمجھی۔ بہت بعد میں جب خود تدریسی شعبے سے وابستہ ہوئی ، تو رات گیارہ بجے سب  کاموں سے فارغ ہو کر اباجی کےپاس نویں دسویں کی اردو کی درسی کتب لے کر بیٹھتی ،کیوں کہ میں اپنے طور پر اگر اردو میں اچھی تھی یا میں نے بےشمار اردو کتابیں پڑھی تھیں تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں "پڑھانے" میں بھی بہت اچھی ہوں گی ،،،یہ ہی غلط فہمی ہم میں سے اکثر کو محدود کر دیتی ہے کہ "" مجھے سب آتا ہے یا میں بہت کچھ جانتی ہوں""" اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں نے ٹیچنگ کے دوران اس زعم کو نہیں پالا ، ، ، 12 ، ساڑھے بارہ بج جاتے ، اور بہ مشکل ایک نظم مکمل ہو پاتی ، کیوں کہ اس وقت مجھے علم ہوا کہ علامہؒ کے ایک ایک شعر کے پیچھے " ہسڑی ، جغرافیہ "ہے اوراس سےبھی آگاہی ضروری ہے ۔ ورنہ اُن کے شعر کی روح کو سمجھنا ،،،یا آپؒ کے کلام کے پیغام کو سمجھنا ناممکن ہے ، میں نے اپنے دورانِ تدریس کوشش کی کہ اباجی کے علامہؒ سے عقیدت کے " جذبے " کو بھی شامل کر کے بچوں کو پڑھاؤں ۔ کس حد تک کامیاب رہی یا نہیں ،،،، اتنا محسوس کرتی ہوں کہ دلی طور پر مطمئن ہوں کہ اپنی ذمہ داریاں اپنی توفیق اور صلاحیتوں  کے مطابق ٹھیک نبھائیں ۔ آگے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
آج کا موضوع غیرارادی تھا یعنی ہجرت کی " ہسٹری " ،، !اور باقی بھی علامہؒ کی ہمارے گھر میں اہمیت ،،، کا موضوع بھی چِھڑ گیا ،، اسی عقیدت ، محبت کے تحت ہمارے ڈرائنگ روم میں صرف ایک شخصیت کی تصویر تھی اور وہ " حضرتِ علامہ اقبالؒ" کی ،!!! اماں جی سے ہمیں " اپنے عظیم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ " کی محبت ملی،،، جی ہاں ہمارا دوسرا کمرہ جو اباجی کا کمرہ کہلاتا تھا اور گھر کے اندر آنے والے مہمانوں کو وہیں بٹھایا جاتا تھا اسی میں قالین بچھا ہوا ، اور صوفے پڑے ہوۓ تھے اور کارنس پر آپا ، بڑے بھائی جان کی شادی کی تصاویر تھیں اور اسی کی اوپری دیوار پرقائدِ اعظم کی تصویر لگائی گئی تھی ، اماں جی ہمیشہ ان کا ذکر "باباجی قائدِ اؑظم" کے نام سے کرتیں ! وہ اُن کے بارے میں ہمیں ذیادہ معلوماتی لیکچر نہیں دیتی تھیں ،،، بس ہمیشہ یہ ہی کہنا " اگر یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی ہندوؤں کے غلام ہوتے ،،،! محب اور عقیدت کے لیۓ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ، یا محبِ وطن ہونے کے لیۓ اپنی مالی حالت کا ارفعٰ ہونا ، شرط نہیں ہے ! یہ اپنے اندر کی اچھائیاں اور مثبت سوچیں ہوتی ہیں جو انسان کو زندگی گزارنے کا سیدھا راستہ سُجھاتی ہیں ،،،،،،! اللہ ہمیں ، ہماری آگے کی نسلوں کی سوچ کو محبِ وطن بناۓ ، اللہ سے دعا ہے کہ شکرگزاری کا جذبہ ہر لمحہ ہمارے ذہنوں پر حاوی رکھے آمین !۔
جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں ،،، ان کی اپنی ہسٹری میں " ہیروز " کے خانے خالی ہوتے ہیں ، آئندہ لکھی جانے والی ہسٹری ( تاریخ ) کی کتابوں میں ان ہیروز کا ذکر ضرور ہوگا ، لیکن ہم نے انھیں بُھلا دیا تو ہم احسان فراموش قوم کے طور پر یاد رکھی جائیں گی ! کاش آج کے والدین کچھ تھوڑی دیر کے لیۓ اس ملک کی ، اس آزادی کی ، اور اپنی شناخت کی قدر کریں ،،، اور اپنے بچوں کو کچھ نہ کچھ اس ملک کے بارے میں ، اس کی آزادی کی مشکلات کے بارے میں بتایا کریں ، اپنے ہیروز کے دن منانے کا اہتمام کیاکریں ،، ورنہ ہم بھی اسی گناہ میں شامل ہوں گے جو ، بچوں کو " بےشناخت " کرنے والے ہوتے ہیں !۔
(منیرہ قریشی ،29 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 26 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں "( 36)۔

یادوں کی تتلیاں "( 36)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
خوب صورتی ، جہاں ہو،جس جگہ ہو ،کسی کی ہو سبھی کے لیۓ متاثر کن ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک ضروری حس رکھ دی ہے، کہ وہ جب آنکھ سے کوئی خوب صورتی دیکھتا ہے تو اُس کا دل دھک سے رہ جاتا ہے ۔بلکہ اس کی دھڑکنیں بےترتیب ہو جاتی ہیں ، اور عجیب بات ہے کہ خوب صورتی کا یہ ایکشن اور ری ایکشن، چند ماہ کے بچے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔خوب صورتی چاہے انسان میں ہو،،، کسی چیز میں ہو،یا ،، کسی منظر میں ! بہرحال متاثر کرتی ہے اور دیر تک اس کے اثرات رہتے ہیں ،،،،،!۔
ہم تو عام انسان ہیں ، ہم اثرات جلدی لیتے ہیں، اور نتیجتاً جلدی خوش اور جلدی اداس ہو جاتے ہیں ،، پنڈی کے جس محلے میں ہم رہتے تھے ، اس میں ایک چھوٹا سا میدان تھا ، میدان سے مراد 4 ساڑھے چار کنال کے "سرکل "کو میدان کہا جاسکتا ہے ۔ کافی سارے گھر اسی  دائرے  کے گرد ا گرد تھے،اسی میدان سے ہر ایک دو گھروں کے بعد ایک گلی تھی ، جو اندر جاتی اور پھر ہر گلی میں بھی بہت سے گھر تھے ،،،، اور ہر گھر میں کہانیاں ہی کہانیاں ،،،،،،۔
جب بھی ہم کسی جھیل میں پتھر زور سے پھینکتے ہیں۔ تو دائرے بنتے چلے جاتے ہیں اور مجھے یوں ہی لگتا ہے کہ ایک گھر کے دروازے کو کھولیں تو وہاں ایک کہانی شروع ہوتی ہے اور پھرانسانوں کی کہانیوں کے دائرے بنتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ازل سے ہوتا چلا آیا ہے اور ابد تک " دائرے بنتے چلے جائیں گے !!!۔
بات خوب صورتی سےچلی ،اور میں حسبِ معمول کہاں سےکہاں پہنچ گئی۔
اس محلے میں سرکل پر بنے گھروں کے لیۓ شام کو اپنے اپنے گھروں کے سامنے کی جگہیں ان گھروں کے "لان" بن جاتے۔ خاص طور پر ہمارے ایک قریبی رشتہ دار کا گھر اسی سرکل کے کنارے تھا جہاں یہ چاچاجی" کیپٹن غلام فرید" بڑے اہتمام سے چھڑکاؤ کرواتے ، کُرسیاں رکھوائی جاتیں ، درمیان میں ایک میز جس پر کڑھائی ہوا میزپوش ہوتا اور اس پر تازہ اخبار پڑا رہتا ، جو آکر بیٹھتا ، اخبار بھی پڑھ لیتا۔ وہ میرے والد کی طرف سے اُن کے چچا لگتے تھے، اور میرے بہنوئی کے بڑے بھائی
تھے، شاندار ، باوقار شخصیت ، ہر بندہ ان کی عزت کرتا ، ان کو سیاست ، میں اتنی دلچسپی تھی جتنی کہ شام کو" لان" میں لازماً   بیٹھنا اور شام کی چاۓ پینا۔خود پڑھےلکھے تھے، اپنے آس پاس بھی کچھ باشعور لوگوں کا حلقہ پسند کرتے تھے۔انہی لوگوں میں ایک " شیخ عمر "تھے جن کا پیشہ ٹھیکیداری تھا لیکن ان میں سیاسی،علمی شعور تھا۔لوگ ان کا پورا نام "عمرٹھیکیدار" کہہ کر پہچان کراتے تھے ۔وہ درمیانی قدوقامت کے گورےچٹے ، نازک نقوش کے مالک موٹے شیشوں  والی نظر کی عینک لگاتے تھے ، ان کی بیوی بھی خوب صورت ، دہرے بدن کی خاتون تھیں۔ یہ دونوں کھلے دل اورذہن کے مالک تھے،اپنی مہمان نواز اور میٹھی  زبان سے مقبول بھی تھے ، ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے، بیٹیوں میں سے چھوٹی بہن آپا کی وہ سہیلی تھی جو کم کم ہی ملتی تھی ، ، بڑی بہن ایک فوجی سے بیاہی ہوئی تھی اور اس کے دو بیٹے تھے ۔ یہ دونوں جب اپنے نانا کی طرف دن گزارنے آتے تو دن کا ذیادہ وقت اسی " قدرتی بنے لان " کے کنارے ، احسان بھائی جان کے ساتھ کھڑے گپ شپ لگاتے گزارتے۔ کیوں کہ وہ سکول کے ساتھی بھی تھے۔ "عمرٹھیکیدار " کے اپنے دو بیٹوں تھے جو شاید بہنوں سے ذرا بڑے تھے ،، اپنی محنت سے دونوں بھائیوں نے الگ الگ کاروبار جمالیۓ تھے ، ۔ ٹھیکیدار صاحب کی ساری فیملی ،،،،حسین و جمیل تھی ، چاہے گھر کے مرد ہوں یا عورت یا بچے ، سبھی ! خاص طور پر ان کی دونوں بیٹیاں مسحورکن حُسن کی مالک تھیں، جب بھی ان میں سے کوئی اپنے والدین کی طرف آتیں ، گلی کی خواتین اپنی اپنی ، نوکرانیوں کو ان کے باہر آنے جانے کی خبررکھنے کی ڈیوٹی دیتیں تاکہ ان کو دیکھ سکیں ۔ حالانکہ وہ سفید چادریں لیتی تھیں ۔اور اِن حسین خواتین کا یہ عالم ہماری بہن یعنی آپا کے لیۓ ہوتا کہ جب نسیم ( شادی کے بعد) آۓ تو ہمیں خبر کرنا ،جب کہ آپا کالا برقعہ لیتی تھیں،، یہ حسین لوگوں    کا عجیب طرح کا آپس میں ایک دوسرے کو تحسین کا طَور تھا ۔ یہ ذرا  ہمارے ناسمجھی کے دور کی باتیں ہیں جب ہم 8 یا نو سال کی ہوئیں ، تو ٹھیکیدار صاحب کے چھوٹے صاحب ذادے کی بیوی 4 بچے چھوڑ کر فوت ہوگئی ، صرف ایک سال کے اندر ہمارے سکول کی ایک میٹرک پاس ، 17، 18 سالہ،حسین لڑکی سے اس کی شادی ہو گئی ، وہ لڑکی شادی کے چند دن بعدہی اپنی گلی سے میدان پار کر کے ہماری گلی سے گزرنے کے لیۓ آتی ،کیوں کہ اسی گلی کے آخر میں سڑک تھی اور پار ہی اس کا گھر ، وہ روزانہ اپنے گھر والوں سے ملنے جاتی !!اور میں ، جوجی اور ہماری دوتین سہیلیاں( جن کا گھر میدان کی طرف تھا ) انہی کے میدان کی طرف کھلتے دروازے کی " چِک " کے ساتھ چپک کر کھڑے ہو جاتٰیں ، تاکہ ذیادہ سےذیادہ دیر تک اسے دیکھا جاسکے، اس کے ساتھ ہمیشہ ایک نوکرانی ہوتی ، وہ کالے برقعے میں ہوتی ، اس کے پرفیوم کی خوشبو 10 ، 11 گز سے آنے لگتی ، ہم اسکے کپڑوں کے صرف پائنچوں سے اسکا رنگ اور گوٹا کنارے دیکھتے ، خوش ہوتے اور پرفیوم کو خاص طور پر سراہتے ،،،،! شاید دو بچے ہی ہوۓ تھے ، کہ کسی ڈاکو سے مُڈبھیڑ کے دوران اس کا شوہر قتل ہو گیا !اس دوران گھر کے بزرگ میاں بیوی انتقال کر چکے تھے ، ہم واہ آگئے،، اُس حسن کا کیا بنا ، اللہ بہتر جانتا ہے۔ 
خاندان میں ایک کشمیری لڑکی بہو بن کر آئی ،وہ بھی حسین اور شوہر بھی حسین اور یوں وہ حسین وجمیل جوڑا تھا، خوب خوشحال گھرانہ ، اور پھر پہننے ، سجنے کا بھی بہترین ڈھنگ آتا تھا ، آتے ہی سب ہی حسن سے مرعوب ہو گئے ، اور وہ جو کہا گیا ہے " خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے " ! اسی مقولے کے تحت وہ بھی کم ہی کسی کو لفٹ کراتیں ، اللہ نے اوپر تلے ، تین بیٹے دیۓ ، چوتھے نمبر پر بیٹی تھی جو والدین کے برعکس تھی ۔ بہت سے ٹوٹکے بھی آزماۓ گئے۔ جوان ہونے پر کسی نا کسی طرح اپنے ہی رشتہ داروں میں رشتہ ہوا ، اس دوران حسین خاتون کا شوہر انتقال کر گیا ، اور حُسن نے بُجھنا شروع کر دیا ، بیٹی کی 10 سالہ شادی ختم ہوگئی۔ بچے نہ تھے، اسی دوران چار چھوٹے بچے چھوڑ کر بیٹا فوت ہو گیا ،،، اور " حُسن " کی تمام تر " لَو " مزید کمتر ہو گئ ، ، ایک وقت آیا کہ غم نے ہوش وخرد سے بیگانہ کر دیا ۔ اور اسی میں انتقال ہو گیا ،،، کیسا حسن ؟ کیسی جوانی اور کون سی پائیداری ،،،،، سب مایا ہے !۔
میں کافی عرصے سے کہانیوں کے درمیان وقت گزار رہی ہوں ،،،، ایک دن اپنے سکول کے آفس میں بیٹھی تھی ، جاب کے لیۓ ایک لڑکی آئی ! وہ آفس میں نہیں آئی " چاند " کا ٹکڑا سامنے آکر بیٹھ گیا ،،، پتہ چلا پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں ، کسی مضمون میں ماسڑ بھی ہوں ، شادی شدہ ، لیکن بچے نہیں ہیں ، ایک ٹیچر جانے والی تھی ، کہا ، کل سے آجائیں ، جب تک فلاں ٹیچر جاۓ آپ اسکے ساتھ وقت گزاریں اور ٹریننگ لیتی رہیۓ ، اس کے بعد ہی باقاعدہ اپائٹمنٹ کا فیصلہ ہو گا ، پندرہ بیس دن لگاتار آئی ، دو دن غائب رہنے کے بعد آئی ، پوچھا ابھی تو آپ کی تعیناتی بھی نہیں ہوئی تو چھٹی کیسے ہوئی ؟ میرے آفس میں بیٹھی تھی ،،، آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے ، کسی نے پانی کا نلکہ کھول دیا ہو ،،، مشکل سے قابو پا کر بتایا ، ، میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں ، پہلی غیرملکی ہے اور یہ بھی اسی کے ساتھ اسی ملک میں رہتا ہے ، میں ایف اے میں تھی جب یہ چھٹی پر ہمارے پڑوس میں آیا ،، میری ماں پر کچھ ایسا ڈر ، لالچ ، اور دھمکی کا دباؤ ڈالا کہ ماں کو مجھے بیاہ کر دینا پڑا ، اب مجھے اس نے یہ گھر لے کر دیا ہوا ہے ، اپنے اعتبار کے نوکر ، نوکرانی رکھوائی گئی ہے ، میں نے پرائیویٹ بی اے اورپھر ماسڑ کر کے فارغ ہوئی ،،، تین چار سال سے منتیں کر کے اب مانا تھا کہ ٹھیک ہے یہاں جاب کر لو ،، لیکن کل اس کا فون آیا کہ میں آرہا ہوں جتنے دن پاکستان میں رہوں ، باہر نہیں نکلنا ،،،، چاند کے ٹکڑے نے بتایا ، اُس کے پہلی بیوی سے چار بچے ہیں ، اس لیۓ مجھ سے بچے نہیں " ہونے چایئیں " ، جب میں نے دس سالہ رفاقت کے بعد کوشش کی کہ اس سے آذاد ہو جاؤں ،، اس نے آ کر دھمکا کر کہا " اول تو تیزاب سے تمہیں اس قابل نہیں رکھوں گا کہ باہر نکل سکو! ورنہ کراۓ کے قاتل سے قتل کروا دوں گا ۔ کیوں کہ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس دن سے ہر خیال ،، خواب کر دیا ہے ، وہ ایک ہفتے کے لیۓ آرہا ہے ، میں اس دوران نکل نہیں سکتی ،اور آنسوؤں کے دوران اس کا یہ جملہ میرے دل کو زخمی کر گیا " آپ دعا کرنا اسی دوران آپ کومیرے مرنے کی خبر ملے" ! " میڈم میں سونے کے پنجرے میں رہتی ہوں "!!! چاند کا ٹکڑا پھر نظر نہ آیا ، مجھے تو اس کا نام بھی یاد نہیں ، لیکن آہ،، اس کا حسن! جو اس کا دشمن بن گیا۔
ہمارے ہاں ایسے ہی حالات کو دیکھ کر بزرگوں کا قول ہے!۔
" رُوپ روۓ ، اور کرم کھاۓ "
( منیرہ قریشی ،26 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

منگل، 24 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (35)۔

 یادوں کی تتلیاں" (35)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہم سب اپنے اپنے بچپن کو یاد کریں ،اور اس کی یادوں میں بسے وہ سفر یاد کریں جو اپنے والدین کے ساتھ کیۓ ، تو جو مناظر اس وقت ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہوتے ہیں ، یاد آنے پر اپنی جُزیات کے ساتھ ایسے سامنے آتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے ہاتھ بڑھائیں گےتوہم انھیں چھو لیں گے ! کبھی کبھی یہ احساس مدھم اور کبھی بہت تیز ہوتا ہے ،،،،،۔
ہم نے کوئی خاص معرکے دار سفر نہیں کیۓ کہ جو قابلِ ذکر ہوں ، اور دیکھا جاۓ تو پوری یادوں کی تتلیاں ہی محض میرے اپنے لیۓ بچپن کی دہرائیاں ہی ہیں ، ،، کچھ میری عمر کے لوگ پڑھ کرمسکراتے ہوں گے کہ یہ سب تو ہم بھی کرتے تھے ، ،، یا ،،، یہ سب تو ہم بھی سوچتے تھے ، یہ سب ہم بھی کھاتے تھے وغیرہ ، یہ تو بس عام سی باتیں  ہیں، ۔
" یہ تو سب عام سی باتیں ہیں "
چُھپن چھُپائی کس نے نہیں کھیلی 
بےاختیار ہنسی کس نے نہیں بکھیری
کس نے نہ کی ہوگی پھل کی چَوری
کس نے نہ کھائی ہو گی مار اُستانی کی
کتنے فکر مند ہوتے تھے ہم !
ہاۓ ، عید کی چوڑیاں نہیں ہیں میچنگ
اس دفعہ کے ربن اتنے نہیں ہیں چَوڑے
سب ہی کزنز کی نئی ہیں بیلٹیں !
اِک ہم نے پرانی پر کیۓ ہیں گزارے
کبھی کبھی یہ اماں ،ابا کنجوس سے لگتےہیں
کبھی کبھی یہ ناما نوس سےلگتے ہیں !
اب یاد آتی ہیں بچپن کی " فکرمندیاں "۔
آرا م سے پا رہوتی تھیں، ، ،
سبھی چڑھائیاں، اُترائیاں!
ان یادوں پر ، ہونٹ مسکا اُٹھتے ہیں ،
کچھ دیر کوموجودہ منظر مہکا اُٹھتے ہیں !!!!۔
بات سفر کی تھی اوراس " نثری نظم " کی ضد نے مجھے یہ الفاظ لکھنے پر مجبور کر دیئے ، چوں کہ اب لفظ" قلم" نہیں لکھ سکتی کہ " قلم پھسلا اور کہیں سے کہیں نکل گیا " ،،،، جدید اُسلوب نے الفاظ کا چلن اور محاورہ بھی بدلا دیا ہے ۔
چُھٹپن میں اپنی جاۓپیدایش راولپنڈی سے اگر کوئی سفرکیا تو اپنے گاؤں ٹیکسلا تک کا کیا ، ( جو بس سے ایک گھنٹے کا ہوتا )وہ بھی کسی کی شادی یا فوتگی کے موقع پر ۔ اماں جی کو کبھی کسی کے گھر راتیں گزارنا یا بچوں کو گزروانا پسند نہیں تھا۔کبھی تو اسی دن واپسی ، ہو جاتی ورنہ ایک رات کا قیام ہو جاتا ۔ البتہ ٹیکسلا سے چند میل ہی آگے سیمنٹ فیکٹری تھی جہاں ہمارے بہت سے نزدیکی رشتہ دار ملازمت کرتے تھے ان میں ہماری چھوٹی پھوپھی جی رقیہ بیگم بھی تھیں جو اباجی کے سگے چچاذاد سے بیاہی گئی تھیں ۔ اباجی کو اپنے بہن بھائیوں سے بہت پیا رتھا ، اس پیار کے اظہار میں ، خاص بات یہ تھی کہ اگر کوئی بیمار ہے تو وہ اس پر فوراًحرکت میں آجاتے ، اسے پاس بلاتے ، اسے اس وقت تک رکھتے جب تک وہ بہن ، بھائی مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتا تھا ۔ یہ مہربانی اگر غیروں کے لیۓ تھی تو سوچیں اپنوں کے لیئے کتنی دو چند ہوتی تھی۔
  ،،پچھلی کسی قسط میں بڑی پھوپھی جی " اقبال بیگم " کا ذکر کر بھی چکی ہوں ، چھوٹی بہن اسی سیمنٹ  فیکٹری میں   اپنے شوہر
 اور بچوں کے ساتھ رہتی تھیں ، اور اباجی اکثر خود ہی یا ، کبھی ہمیں بھی ساتھ لے جا کر چاۓ کی پیالی پینےجتنا وقت گزار کر  آ جاتے ، ہمارے چھوٹے چچا بھی وہیں ملازمت کرتے تھے ، میں ایک بار اُن کے پاس چار پانچ دن رہی تھی کیوں کہ وہ اماں جی سے ناراض ہو گۓ کہ آپ کو ہم اچھے نہیں لگتے اسی لیۓ آپ بچوں کو نہیں آنے دیتیں ۔میری چچی بھی اباجی کی طرف سے رشتہ دار تھیں ،اُن کی سلائی بہت اچھی تھی ، اوراُن کی آواز بھی اچھی تھی وہ اکثر یہ گانا ،،، کام کاج کے دوران گاتی رہتی تھیں ، " ستارو، تم تو سو جاؤ پریشاں رات ساری ہے " ،،،، وہ میرے لیۓ ایک کاٹن کا کپڑا لے کر آئیں  جو ہلکا گلابی تھا اور اس پر گہری گلابی ٹوکریاں بنی ہوئی تھیں ، اور ان ٹوکریوں میں رنگا رنگ چھوٹے چھوٹے پھول تھے ،،، قارئین یہ سوچیں گےکہ مجھے اس 7 یا 8 سال کی عمر کے فراک کی جزیات بھی یاد ہیں ،،شاید اِس وقت جب میں بچپن کی یادوں میں اُتر جاتی ہوں تو مناظر اپنی جُزیات کے ساتھ میرے ذہن کے نہاں خانوں سے نکل نکل کر اپنی جھلکیاں دکھاتے چلے جاتے ہیں اور میری انگلیاں " کی بورڈ " پر ان مناظر کو لفظوں میں ڈھالتی جاتی ہیں ،،،،، وہ فراک چچی نے اسی قسم کے گانے گاتے  سیا اور میرا رخصتی کا تحفہ دیا گیا ، ،،،، بچپن کے ہمارے سفر بس اتنے ہی تھے ، لیکن ایک انہی عمروں کا ہم دونوں کا سفر مردان کا تھا جو ہمارے بہنوئی کی ٹرانسفر کی وجہ سے ہمیں کرنے کا موقع ملا تھا ، میں نے اور جوجی نے اپنے جانے کی تیاری کی، آپا اور بڑے بھائی جان اپنی کا ر میں لینے آۓ تھے ، اس وقت آپا کا ایک ہی بیٹا " یاور " اور بیٹی لبنیٰ گود میں تھی، اور ہمارے لیۓ ایک پیارا کھلونا ۔ ہم نے اپنے " دی بیسٹ " فراک پہنے ،،، جی ہاں یہاں بھی "فراک " میری دلچسپی کی وجہ سے ایسا میرے ذہن میں فکس ہو گیا ہے کہ اس کا ذکر کیۓ بغیر نہیں رہ پا رہی ، یہ وہ دور تھا جب اماں جی سلائی کر لیتی تھیں ، اور ہم دونوں کے ایک جیسے کپڑے سلتے یا خریدے جاتے ، یہ فراک عید کے موقع پر سلے تھے ، " گوبی کریب " نام کا گہرے سبز رنگ اور اوپر چھوٹے چھوٹے پھول اور بکھری باریک ٹہنیاں بنی ہوئی تھیں ،،والا کپڑا تھا ، اس کےگلے گول کالر کے اور آدھے بازو جو خوب چُنٹوں والے، ذرا اُبھرے ہوۓ تھے، ،، مجھے یہ اتنے پسند تھے کہ تا دیر میں نے پہنا اور جب چھوٹا ہو گیا تو میں نے کسی کو دینے سے انکار کر دیا ، بہت بعد میں اس فراک سے کچھ گڑیوں کے فراک بناۓ گئے ( اس فراک نے مجھے اپنی یاد اس دن کرائی جب اپریل2015ء میں میرا بہت سیریس ایکسیڈنٹ ہوا ، یہ الگ ایک قصہ ہے جو اپنے وقت پر لکھوں گی)۔ 
مردان میں ان گرمیوں میں بھی بہت اچھا موسم تھا ، آپا کے پڑوس میں ایک آفیسر اپنی نئی نویلی بیوی ، اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہے تھے ! ان میں چھوٹی دو بہنیں ہماری ہی عمر کی تھیں جن سے فوراً  ہماری دوستی ہو گئی ، میری ہم عمر کا نام فریدہ اور چھوٹی کا پیار کا نام " کُنتی " تھا ، وہاں ہمارا قیام 20، 22 دن کا تھا لیکن کُنتی، فریدہ سے دوستی 4یا 5 سال کی بن گئی کیوں کہ ہم نے خط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ، مدتوں یہ خط بھی اپنے " قیمتی خزانے "میں سنبھال کر رکھے رہے ۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہر چیز بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے ، ،، اور اس کو ضائع کر دینے میں کوئی دکھ نہیں رہتا ،،،،،،،! ۔
جب ہم واہ میں سیٹ ہو گۓ ، تو اس دوران بڑے بھائی جان کی ٹرانسفر " صوبہ سرحد کے شہر "بنوُں " ہوگئی ۔ ان دنوں یہ علاقہ خاصا غیرآباد اور بہت سی سہولتوں سے عاری تھا ! آپا کے بڑے دونوں بچوں کو اپنی سکولنگ کے لیۓ ہمارے پاس واہ میں رہنا پڑا ۔ان کے داخلے کے فوراً بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں تو آپا اور بھائی جان کے اصرار پر ہم دونوں بھی چل پڑیں ، اس دور میں وہاں تک کی سڑکیں بھی بہت چوڑی نہ تھیں اور رات کا سفر بھی محفوظ نہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیۓ صبح سویرے سفر شروع کیا ، سہ پہر کو کوہاٹ کے آرمی کلب سے ہائی ٹی، پی اور قریباً رات کے 8 بجے تک بنوں پہنچ گئے ، اب رات کو کیا نظر آتا ! سفرسے تھکے ہوۓ تھے ، جلد سو گئے،،،، صبح سویرے اُٹھے ، تب گھر دیکھا اور ہم حیران ہو گئیں کہ انگریز کے زمانے کا بنا پرانا اور خوب بڑا گھر تھا جس کی خوب اُونچی چھتیں ،کھلے کمرے ، اونچی فرانسیسی کھڑکیاں ، اور لان اتنا بڑا کہ کہ گھوڑا دوڑایا جا سکتا تھا ۔ اس لان کے کناروں پر لائن سے 7یا 8 سرونٹ کواٹرز بنے ہوۓ تھے جن میں سے صرف دو آباد تھے ، ایک میں اردلی او ایک میں مالی رہتے تھے ۔ آپا کے پاس گھر کے استعمال میں صرف تین کمرے تھے ڈرائنگ روم الگ اور ڈائینگ روم الگ ، اور ایک بیڈ روم ،،،، اب ہمارے آنے سے آپا کے بیڈ روم کے ساتھ جڑا دوسرا بیڈ روم آباد ہوا ،،،، یاور اور لبنیٰ نے ہمارے ہی کمرے میں رہنے کا کہا ، اور اگر وہ نہ بھی کہتے توبھی ہم انھیں اپنے ساتھ سلاتے ، کیوں کہ وہاں شام ہوتے ہی جو ویرانہ چھا جاتا ۔ تو دل بری طرح خفقان کا شکار ہو جاتا ، پہلے تین ، چار دن تو ہمارا رونے کو دل چاہا ،،، حالانکہ میں ابھی میٹرک کر چکی تھی ، جوجی میٹرک میں تھی ، ہم کوئی بچیاں نہ تھیں لیکن اس ویرانے میں ہمیں خود اپنے ، آنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہونے لگا ۔ آپا اور بھائی جان سمجھ گۓ ، یہ تو دودن میں اداس ہو گئی  ہیں ،انھوں نے بتایا،یہاں کلب میں روزانہ ایک فلم دکھائی جاتی ہے ہم روز تمہیں لے کر جائیں گے،( ذرا حوصلہ دینے کے لیۓ ) اور جب  جب "اجازت" ملی بازار بھی لے جاؤں گی ۔۔۔ اجازت سے مراد بھائی جان کی اجازت نہیں ،،، بلکہ بڑے حکام جب بتاتے جی حالات ٹھیک ہیں ، بازار ہو آئیں " تب 12 پنجاب کی طرف سے ایک فوجی ٹرک ملتا جس میں وہ خواتین بیٹھ جاتیں جن کے پاس کارکی سہولت نہ ہوتی۔ان کے ساتھ مسلح دو تین فوجی ہوتے اس ٹرک کے پیچھے وہ لوگ جن کے پاس کاریں تھیں ، ڈرائیورز کے ساتھ چلتیں ،یوں ایک چھوٹا سا قافلہ کچھ اور گارد کی نگرانی میں بازار کا رُخ کیا جاتا ، بازار کیا تھا چند دکانیں ، کپڑوں کی ، چند دوسرے سامانِ ضرورت کی ،اور ذیادہ فروٹ کی !یہ صورتِ حال کچھ ایسی نہ تھی کہ ہم دوبارہ وہاں جانے کی خواہش کرتیں ! چناچہ اگلی دفعہ بازار جانے کا اجازت نامہ ملا تو ہم نے آپا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور بچوں کے ساتھ گھر ہی رہیں ۔ 
وہاں کا موسم خشک تھا ،اس گرمی میں اس لیۓ ہلکی سی ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی کہ وہاں سبزہ بےتحاشا تھا۔اسی لیۓ لان کی گھاس کا یہ عالم تھا کہ بےچارہ مالی لان کا ایک کنال کی گھاس کاٹ لیتا اور دوسرے کنال کی گھاس کاٹنے تک پہلی پھر اُگ چکی ہوتی ، ، تیسرے اور چوتھے کنال کی باری تو تب آتی جب اس کے ساتھ کوئی اور مالی لگتا ، کیوں کہ سانپوں کا بھی ڈر رہتا تھا تو اس کے لیۓ الگ دوائیاں جلائی جاتیں ، گھر کے بیشتر کمروں میں صرف ہم نے ایک جھانکی لگائی اور بس ! باقی تین چار کمرے خالی ہی رہے،،، ان میں دن کو بھی جاتے ہوۓ خوف آتا تھا۔
ہم دونوں اپنے اماں جی ، اباجی کو بقاعدگی سے خط لکھ کر تفصیل سے یہاں کے روزانہ کی مصروفیت بتاتے ، اور ان کے کا خط سلسلہ بھی تواتر سے رہا ، جب ان میں سے کسی کا خط آتا ، ہم دونوں کو ان کی یاد کا دورہ پڑ جاتا اور ہمارا وہ دن کچھ نا کچھ آنسو بہا کر گزرتا۔
ایک دن میری آنکھ صبح نماز کے وقت کھل گئی، مجھے ایسی آوازیں آئیں جیسے کچھ گھُڑ سوار تیزی سے چلے آرہے ہیں پھر تیز سانسوں کی آوازیں آئیں ،، پھر ٹھک ٹھک اور پھر خاموشی !! ڈر کے مارے برا حال ہو گیایہ صورتِ حال "بنوں" پہنچنے کے آٹھویں دن کی تھی ۔ آپا کو صبح بتایا تو انھوں نے ہنس کر بتایا بھئ صبح سویرے دودھ والا اپنی " خچر گاڑی " میں دودھ دے کر جاتا ہے ، یہ ساری اسی کی آوازیں ہیں ،،، اور پیارے قارئین ،،، یہ سنتے ہی میں اس " دودھ والے پر اس کی گاڑی سمیت " عاشق " ہوگئ ،، اب پلیز اس لفظ عاشق کےکوئی اورمعنی نہ لیۓ جائیں ۔ کیوں کہ ابھی میں نے نہ خچر گاڑی دیکھی تھی  نہ دودھ والا دیکھا تھا ، بس مجھے بےشمار پڑھی ہوئی کہانیوں کا ایک جیتا جاگتا کردار ملنے کی توقع ہو گئی۔ 
وہی کہانیاں کا ماحول جو آلیور ٹوسٹ نے لکھی تھیں ،، اور اس کے بعد ہر روز میں نے خصوصا" صبح سویرے اُٹھ بیٹھنا اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے گیٹ پر نظریں گاڑ دینی اور بنوں کی " دھند میں ڈوبی " سویر میں سے گیٹ پر کبھی ایک اور کبھی کبھی دو خچروں والی گاڑی نمودار ہوتی جس کا دودھ والا بڑی سی چادر لپیٹے اور سر پر ادھورا سا پگڑ لپیٹے اُترتا ، خچر گاڑی اندر تک کچن کے قریب آ چکتی اس کے خوب تواناخچروں کے منہ سے سانس لینے کی آوازیں آتیں اور مجھے ان کی ناک سی بھاپ نکلتی آج بھی یاد ہے ( شاید وہ بہت فاصلہ طے کر کے آرہے ہوتے تھے )تو اردلی برتن لیۓ کھڑا ہوتا ، دودھ لیا جاتااور اسی دھند میں دھندلی شبیہیں ، عجیب پراسرا انداز سے بغیر کچھ بولے واپسی ہو جاتیں ۔ کاش میں اس وقت کچھ میچور ہوتی تو اس سارے ماحول کو سامنے رکھ کر کہانیاں لکھ لیتی ، یا کردار تخلیق کر لیتی یا تصویریں بناتی ۔لیکن اس دھندلے ماحول نے میری یادوں کو نہیں دھندلایا ، میں نے آج بھی دھند کو ہمیشہ پر اسرار جانا ۔ اور 70ء میں جب اپنی ٹوٹی پھوٹی نظمیں لکھیں تو اس بھی اکثر لفظ " دھندلایا " یا لفظ مِسٹی لکھا کہ دھندلایا منظر بندے کے اندر اگلی ، اَن دیکھی دنیا کے بہت سے راز کہنے آتا ہے ( آہ میں ! اور میرے عجیب خیالات ) ،،،، بنوں کے قیام کے دوران ہم نے روز ایک فلم دیکھی اسی کے انتظار میں دن گزر جاتا ، اس دوران دو اہم باتیں ہوئیں ایک جوجی کا میٹرک کا رزلٹ نکلا ، عزت سے ہائی فسٹ ڈویژن آگئی اور دوسرے "محترمہ فاطمہ جناحؒ " کی وفات کی خبر ملی یہ 1967ء کی بات ہے !۔
اس دوران ایک دو وزٹ آپا ،بھائی جان کے ملنے جلنے والوں کے ہوۓ ، کچھ کے گھر ہم گئے ، ایک شام کلب  گئے تو بھائی جان کو ان کے ینگ آفیسرز نے گھیر لیا وہ بھائی جان کو " کامریڈ " کے نام سے بلاتےتھے ۔ انہی میں سےایک کے بارے میں آپا نے بتایا کہ وہ اباجی کے سیکورٹی کے عملے میں شامل میجر سعید خان کے رشتہ دار ہیں ۔ انہی دنوں اس کی شادی ہوئی تھی,وہ بہت سمارٹ ،لمبے قد کا چمکتی آنکھوں والا بولڈ ، کیپٹن تھا. بعد میں 1971ء کی جنگ کے پہلے دن ہی اس کی شہادت ہوگئ ، اور آج بھی شہیدوں کی تصاویر دیکھوں تو بہت سی مسکراتی چمکتی آنکھیں یوں جگمگا رہی ہوتی ہیں جیسے اندھیری راتوں میں جگنو ، ٹمٹما رہے ہوں ، جو نہ صرف اندھیری رات کو سجا رہے ہوں بلکہ اندھیرے کو بھگا بھی رہے ہوں !!!! ۔
۔(منیرہ قریشی 24 اکتوبر2017،واہ کینٹ) (جاری)۔

پیر، 23 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (34)۔۔

یادوں کی تتلیاں "(34)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہر انسان بہت سے رشتوں کی ریشم ڈوریوں کے جال میں جکڑا ہوتا  ہےاور یہ جال زندگی میں تو کیا مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ،،، میری تحریر بالکل عام ، روزمرہ واقعات سے مزین ہے، لیکن کچھ کردار جو ان یادوں کا حصہ بھی ہیں وہ خصوصی طور پر لطف لے رہے ہیں ، لیکن دیگر اور قارئین نے بھی جس طرح حوصلہ افزائی کی ۔یہ ہی وجہ ہے کہ لکھتی چلی جارہی ہوں اور واقعات فلم کی سکرین پر خود بخود آتے چلے جاتے ہیں ، ایسا میرے ساتھ نہیں ہو رہا ،جو بھی " عمرِ رفتہ کو آواز" دیتا ہے اسے ایسی ہی صورتِ حال کاسامنا ہوتا ہے ، اور یہ ایک قدرتی عمل ہے !۔
۔1970ء میں ہمارے پڑوسی انکل اور آنٹی رشید کی سب سے بڑی بیٹی تسنیم کا رشتہ طے ہوا ،اور ہم دونوں بہنیں اور تسنیم کی تینوں بہنیں ، جوش و خروش سے تیاریوں میں مصروف ہو گئیں ، یہ ہمارے لیے" بگ ایونٹ " تھا ، شاہدہ ، جوجی اور میں نے ایک دن کے فنگشن کے لیے غرارے سلواۓ، تسنیم رخصت ہو کر پشاور چلی گئی ، شادی کے ہنگاموں سے فرصت ملی، تو لگا ہمیں کوئی کام ہی نہیں رہا ۔ ایک دن شادی کے کپڑوں میں سےغراروں کو دیکھ کر خیال آیا ،،، چلو ان کو پہن کر ایک یادگار تصویر کھچوائی جاۓ ، ان دنوں کیمرے یوں گھر گھر نہیں ہوتے تھے ، بلکہ ایک ٹوٹا پھوٹا کیمرہ بھائی جان کا تھا جو اب ہمارے پاس ہوتا تھا، وہ بھی کوئی اچھی سروس نہیں دے پا رہا تھا تو فیصلہ ہوا ، فلاں مارکیٹ میں ، ایک فوٹو گرافر کا سٹوڈیو ہے وہیں سے کھنچواتی ہیں ، غرارے پہنے گئے ، ہلکی سی لپ سٹک لگائی گئی ، کنگھیاں کیں اور صوفی جی کو بُلا کر اپنی ووکس ویگن میں عین دوپہر کو فوٹو گرافر کی دکان میں پہنچ گئیں ، ( کہ یہ وقت رش والا نہیں ہے اس لیے ابھی چلتے ہیں ) اس کے فضول سے سٹوڈیو میں گُھستے ہی ہم کچھ بوکھلا گئیں کہ ایک تو وہ بہت  "چیپ"سے اندازمیں سجا ہوا تھا ایک ،دو لوگوں کے بیٹھنے کی چھوٹی سی" تھی ، جس کے گرد کاغذی پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں جن پر گرد بھی تھی ، اب ہوا یہ کہ فوٹوگرافر بھائی صاحب اندر داخل ہوۓ تو ، ہم تینوں نے پہلے اسے پھر آپس میں دیکھا ، اور مارے ہنسی کے ہم فوری طور پر سٹوڈیو سے باہر نکل، کا رمیں آبیٹھیں اور اتنی کھل کر ہنسیں کہ صوفی جی پریشان ہو گئے کہ کیا ہوا ہے ؟ ہم نے انھیں تسلی دی ! اور جب ہماری ہنسی کنٹرول ہو گئی تو دوبارہ سٹوڈیو میں داخل ہوئیں اور کوشش سے سنجیدگی طاری کر کے اسے فوٹو کھچوانے کا کہا ، اصل میں اُن دنوں وحید مراد سٹائل بہت مقبول تھا ۔فوٹو گرافر کا قد چھوٹا ، سانولا رنگ ، خوب سُرمہ آنکھوں میں ، اور وحید مراد سٹائل کے بال ، اور زیادہ سے زیادہ وہ ہم سے تین ، چار سال بڑا ہو گا ، اس لیے  ہم اسے سیرئیس نہیں لے رہی تھیں ، اب جوں ہی اس نے ہمیں اس کارنر میں کھڑا کیا جو سجاوٹ ذدہ نہ تھا ، جوں ہی وہ کہتا' " اسمائل پلیز " (سمائل نہیں) ،،،،اور ہم تینوں قہقہے لگا کر کر دہری ہو جاتیں ،، ایسا بلا مبالغہ چھے ، سات مرتبہ ہوا ( آپ اس سچویشن کو ذہن میں لائیں اور تین بےوقوفی کی عمر والیاں ہوں ، جس میں ہنسنے کی بات ہو نا ہو ہنسی ہوتی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی ، اب اس وقت جب میں لکھ رہی ہوں تو بھی میرے لیے کچھ دیر ہنسی نہیں رُکی ) آخر کار بہ مشکل دو تصویریں اُتریں ،،، اور ہم بھاگیں ، اسے بتا دیا یہ ہی صوفی جی ( اباجی کے ڈرائیور ) آئیں گے انھیں فوٹو دے دینا ، اپنا بل بھی بھجوا دینا ! ! !۔
اگر ہمارا بچپن ایسے والدین کے کے زیرِ سایہ گزرے جو گھر کے ماحول کو بہتر رکھنے کے لیے  اپنے اختلافات کے باوجود، محض بچوں کی خاطرآپس میں خوشی سے رہیں ، گلے شکوے اور شکایتوں کے ڈھول نہ پیٹیں ، انھیں سہیلیوں کو بلانے ، ویلکم کرنے کا ماحول دیں گے تو ،،،، بیٹیوں کے ہونٹوں پر بےاختیار ہنسی آتی رہے گی ،،، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں مزاح کا رنگ ، انگ نکال ہی لیں گی ، اور اس طرح جب وہ لڑکیاں عملی زندگی کی اُلجھنوں ، اور نشیب وفراز سے تھک جاتیں ہیں اور کبھی اکٹھی ہو جائیں تب ان کے پاس ہنسی کی پٹاری کُھلتی ہے ،، وہ تادیر معمولی معمولی باتوں کو یاد کر کے ہنستی ہیں اور خون میں ملٹی وٹامن لے کر پھر گھروں کے کاموں میں کولہو کا بیل بن جاتی ہیں۔لیکن پرانی سہلیوں کی ملاقات سے  "چارج " ہو جانے سے روزانہ کی روٹین میں جلترنگ بجا دیتا ہے ! ہمیں اپنی بیٹیوں کواتنا خوش گوار ماحول ضرور دینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو ہنسنے کی عادت ہو ، یہ ہی ان کے لیے مینٹل تھیرپی ہوتی ہے ، کیا پتہ آگے چل کر زندگی اُن کو کتنے کڑوے گھونٹ پلاۓ ،، کیا پتہ وہ کتنے ہی ناقابلِ حل مسئلوں کے گھن چکر میں پستی رہے ،،، اور وقت سے پہلے " بڑی " ہو جائیں ۔ یہ ہی ماں باپ کے گھر کا بےفکری کا ماحول ، بےفکری کی ہنسی ، بےفکری کے دن رات بہترین اور پیاری یادیں بن جاتی ہیں اس خزانے کا بکس جب بھی کھولنے کا موقع ملتا ہے تو اپنے والدین کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنھوں نے ہمیں پُرسکون بچپن دیا تھا جو ہو سکا لاڈ اُٹھاۓ ۔( یہ مشہور تصویر جوں ہی ملی شامل کر وں گی )۔
بےاختیار ہنسی آجانا ، یا کسی بھی سچویشن میں جب ہماری نظریں ملتی ہیں تو ہنسی پر قابو نہ رہ سکنے کی عادت آج بھی موجود ہے ، ، اب جب کہ ہم " بوڑھی اور ذرا معزز " ہو گئیں  ہیں ، تو کبھی کبھی کوئی نہایت معمولی بات کچھ ایسی ہی صورتِ حال بنا دیتی ہے ،،، ایک دن ہمارے آفس میں دو پراپرٹی ڈیلر آۓ ۔ ایک پرانا واقف تھا جو دوسرے کو ساتھ لے کر آیا ۔ وقت کم تھا ہم نے اسے کہا آپ اپنا موبائل نمبر لکھادیں ، ہم آپ  کو خود بلا لیں گے اس نے اپنا نام ۔۔۔چیمہ لکھوایا، میں جلدی میں تھی متوجہ ہوۓ بغیر ڈائریکٹری میں اس کا نام " شفقت چیمہ " لکھ دیا( جو پاکستانی فلموں کا مشہور ولن ہے) کچھ ہفتے گزر گئے ، ہمارے نہ بلانے پر وہ  خود دوبارہ آگیا ، اس وقت "جوجی" بھی بیٹھی ہوئی تھی ، اس نے کہا میں نے آپ کو اپنا نام بھی لکھوا دیا تھا آپ نے مجھے یاد نہیں فرمایا میں خود ہی حاضر ہو گیا ہوں ! میں نے اسے دکھانے کے لیے اپنی ڈائریکٹری کھولی اور کہا " یہ دیکھیں آپ کانام لکھا ہوا ہے " شفقت چیمہ " !! اس نے حیران ہو کر کہا نہیں جی میرا نام ،،،،،، چیمہ ہے ،اب میں نے جوجی کی طرف اور اس نےمجھے ایسی مسکراہٹ سے دیکھا کہ ہم نے بمشکل ہنسی روکی اور میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا " جی جی شفقت چیمہ صاحب میں نے آپ کا نام لکھ لیا ہے یہ جملے دوبارہ اسی غلطی کے ساتھ میں نے اتنا بےاختیار کہا کہ اب ہم دونوں نے ہنسی روکنے کی کوشش میں ، منہ لال اور آنکھوں سے آنسو نکال لیے۔ ،،، وہ بھی سمجھ گیا ہوگا "آج اِن بوڑھی خواتین کا سنجیدہ رہنے کا موڈ نہیں لگ رہا " وہ رخصت ہو گیا۔
ایسے ہی تو نہیں کہا گیا " ہنسی علاجِ غم ہے یا ۔۔۔
"laughter is a best medicine"
( منیرہ قریشی 23 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

منگل، 17 اکتوبر، 2017

یادوں کی تتلیاں ( 31)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 31)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کے دوستوں میں ایک نمایاں نام " چودھری غلام اکبر" ہے ۔ 1951ءمیں وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے روز جس پولیس عملےکی اس جلسہ گاہ میں ڈیوٹی تھی ، ان تمام کو  تحقیقاتی ٹیم کے سامنےمہینوں گزرنا پڑا ، اس ٹیم کےممبرز میں اباجی بھی شامل تھے ، اس دوران یہ ساری  پولیس ٹیم معطل تھی ،چودھری غلام اکبر کے بیانات میں ایسی کلیئرنس تھی کہ ، وہ سال بھر کے بعد چند اور پولیس افسران کے ساتھ بحال ہو گئے ، لیکن یہاں دوستی کا بھی ایک دروازہ اور کھل گیا ۔ اور جب جب یہ دوستی آگے بڑھی ، دوستی کی وہی بےمثال ، روایت ڈلی جس کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ ان کی فیملی میں اس وقت 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ، انکی رہائش ہمارے گھر سے دو تین گلیاں چھوڑ کر تھی ،ہمارے گھر  خالہ جی کا ایک چکر دن بھر میں  لازماً لگتا ، اور کوئی نا کوئی مشورہ یا دل کی بات کہتیں اور چلی جاتیں ۔چودھری صاحب اب ہمارے لیے چاچا جی تھے ، ان کے گھر آنا جانا ہوا تو معلوم ہوا وہ پیچھے سے اچھے خوشحال زمیندار تھے لیکن ابھی سب کچھ مشترکہ حساب چل رہا تھا ، اس لیے فصل کے علاوہ پیسے کی کوئی " آمدن " نہ تھی اور ان کے گھر سے بہت واضح تھا کہ یہاں واقعی " رزقِ حلال " آرہا ہے اور گھر کے اخراجات بہ مشکل چل رہے ہیں ۔ ان کے ایک بیٹی شمیم سب سے بڑی اس کے بعد بیٹا غلام ربانی اور ان کے بعد ہم دونوں بہنوں کی طرح اوپر تلے کی دو بیٹیاں ، نسیم اورکلثوم تھیں یہ ہی دونوں ہماری بھی ایسی سہیلیاں بنیں ،کہ اب ہم مر کے ہی بےتعلق ہو سکتے ہیں!۔
۔" چودھری چاچا جی " گوجر خان سے آگے ایک گاؤں کے تھے،ان کا قد 6 فٹ سے اونچا،صاف رنگ اور بارعب ، پُرکشش نقوش کے حامل تھے، وہ صحیح معنوں میں، فوج یا پولیس کے لیے ہی فِٹ تھے کہ وردی میں ان کی شخصیت کا رعب بڑھ جاتا اور بندہ متاثر ہوۓ بغیر نہ رہ سکتا ۔،، جبکہ خالہ جی ان کے مقابلے میں اتنی لمبی اور گوری بھی نہ تھیں ،،، لیکن گھر کو جس طرح وہ چلا رہی تھیں یا بچوں کی تربیت بہ احسن کر رہی تھیں ان خوبیوں نے چاچاجی کو گھر سے مکمل بےفکر کر رکھا تھا۔ چاچاجی کی والدہ،ان کے گھر جب گاؤں سے آتیں تو ہمارے گھر کے چکر ضروری ہوتے ، میں انھیں بہت غور سے دیکھتی اور بہانے بہانے دیر تک ان کے پاس بیٹھی رہتی ، وہ اچھے قد کی، صاف رنگت ، بالکل سفید گھنے بالوں والی اور سفید ہی کپڑے پہننے والی ایسی خاتون تھیں ، جو دیہات کی کہانیوں کا ایک دبنگ کردار ہو ، مجھے ان کی بہت تفصیل کا علم نہیں ، لیکن اتنا معلوم ہے کہ بےشمار زمینوں کی دیکھ بھال ، میں انہی کا دبدبہ چلتا تھا ، وہ اماں جی سے ملنے آتیں ،دیر تک بیٹھتیں ۔ چاچاجی کی اباجی سے محبت کا حال ہی تھا کہ گھر کا کوئی بھی معاملہ ہوتا ، میجر صاحب سے مشورہ لینا ہے یا کوئی بڑی خریداری کرنا ہے وغیرہ،،، وقت گزرتا گیا اور چاچا جی کی اپنی ترقی بھی ہوتی گئی ، جب وہ ایس،پی بنے تو تین سال کی ڈیپوٹیشن پر انھیں فیملی سمیت "تُرکی " رہنے کا چانس ملا، تین سال بعد پاکستان واپس آۓ ،تو مجھے باقی افرادِخانہ کایا دنہیں ،لیکن میرے لیے ایک خوب صورت ، سنہری جلد والا البم اور کمرے میں لٹکائی جانے والی تین رنگین پینٹنگ والی سٹیل کی گول پلیٹس لاۓ ، اور سب سے زیادہ اہم " ٹرکش ڈیلائیٹ " کا ایک بڑا ڈبہ ،،، اور یہ ترکی مٹھائی ہم نے پہلی دفعہ دیکھی اور کھائی ! جس کا ذائقہ مدتوں یاد رہا ،،،، اتنی تفصیل سے ان تحائف کا ذکر اس لیے کر رہی ہوں کہ ایک تو وہ دلی محبتوں کے ساتھ غیر ملک سے لاۓ گئے تھے ، دوسرے اس دور میں جب میں شاید میٹرک میں تھی ،اور بہت سے غیر ملک سے رہنے والے رشتہ داروں کی طرف سے بھی ایسی نوازش دیکھنے کو نہیں ملی تھی ، یہ تحائف تو صرف میرے تھے ، اماں جی اباجی کے لیے الگ پیکٹ دیئے گئے ،آنے کے کچھ عرصہ بعد چاچاجی کی مزید ترقی ہوئی اور وہ ڈی آئی جی بن گئے ، چوں کہ ہم واہ میں اور وہ پنڈی میں رہائش پذیر تھے ، اور دونوں دوستوں کی اپنی پیشہ وارانہ مصروفیتیں بھی سخت تھیں ، اس لیے ملنا ملانا کم ہو گیا ، تُرکی سے آتے ہی میری سہیلی جو نسیم سے چھوٹی تھی ،، کی شادی اپنے دور کے رشتہ دار سے کردی گئی جب کہ وہ ابھی میٹرک سے فارغ  ہوئی تھی ! جس کا ہمیں افسوس سا ہوا ،،، کہ ایسی بھی کیا جلدی تھی ، یہ دونوں بہنیں آپس میں جُڑواں بہنوں کی طرح ہم مزاج تھیں ، دونوں حددرجہ " حسِ مزاح " رکھنے والیاں ، اور زندہ دل تھیں ،،، کلثوم کی شادی چونکہ جلدی میں اور اپنے گاؤں میں کی گئی تھی جس میں ہم شرکت نہ کر سکے ، بعد میں کسی موقع پر اس کے شوہر کو دیکھا تو ہمیں یہ فیصلہ کچھ اچھا نہیں لگا کہ وہ اس نئی نئی میٹرک پاس لڑکی سے 17،، 18 سال بڑا تھا ، وہ انگلینڈ کا رہائشی تھا ، کلثوم کے کاغذات مکمل ہوۓ اور چند ماہ بعد وہ بھی سدھار گئی ،، پھر نسیم کی شادی ایئر فورس آفیسر سے ہو گئی ، ربانی بھائی نے اپنی پسند کی شادی کر لی ،،، باقی ایک بیٹا اور بیٹی جو لیٹ ایج میں ہوۓ تھے ، وہ بھی جوان ہو گئے، خالہ جی کی زندگی میں وہ ان دونوں کے فرائض سے بھی فارغ ہو گئیں اورجیسے ہی انھوں نے یہ فرائض پورے کیے ، وہ معمولی بیماری کے بعد ، اپنے خالقِ حقیقی کے پاس اپنی تھکن اُتارے چلی گئیں ! ! یہ مائیں بھی ایسے موقع پر اپنی سیٹ خالی کر دیتی ہیں ، جب ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ سب اس رب کا لکھا ہے ،جس کے سامنے کسی کا زور نہیں !۔
چاچاجی نے پنڈی میں ایک دو منزلہ گھر بنوا لیا تھا ، ریٹائر ہونے کے بعد اسی میں شفٹ ہو گۓ اور آخری دونوں بچوں کی شادیاں اسی گھر میں کیں ۔ان کا سب سے چھوٹا بیٹا بہت حسین تھا ، اتفاق سے اسے بھی پولیس کی نوکری مل گئ ، باپ کی طرح اُونچا لمبا ،،اکثر ماں باپ کو سب سے چھوٹی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے۔ وہ بھی آنکھوں کا تارہ تھا ، بڑا بیٹا اپنی دنیا میں مگن کراچی شہر میں ۔۔ خالہ جی کی وفات کے بعد چاچاجی نے کچھ سال اکیلے گزارے ،لیکن جلد ہی ہمت ہاری اور کسی کے توسط سے ایک 35،40 سال کی خاتون سے شادی کر لی ، اب چوں کہ ریٹائرڈ زندگی تھی ، فراغت بھی تھی ، وہ اپنی گاڑی میں نئی بیوی کے ساتھ اکثر ہمارے گھر آتے اور دو ، تین دن رہ کر چلے جاتے، چاچاجی ایک مرتبہ باتھ روم میں گرنے کی وجہ سے ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے، اور اب اس ٹانگ میں راڈ ڈلا ہوا تھا اور وہ ہا تھ میں چھڑی پکڑے رکھتے ،لیکن اس بڑھاپے میں بھی وہ بہت بارعب اور خوب صورت لگتے بلکہ ایک مرتبہ میں نے انھیں کہا " چاچاجی ، کچھ لوگوں پر ٹوٹ کر جوانی آتی ہے آپ پر تو ٹوٹ کر بڑھاپا آیا ہے " اس کمنٹ پر بہت ہنستے رہے ، لیکن خوشیوں اور اطمینان کے دن سدا نہیں رہتے،،،،یہ شادی شاید 6،7 سال چلی اور یکدم سننے میں آیا کہ ختم کردی گئی ،،، اب اُن کے اکیلے رہنے کے دن نہیں تھے ، ان کا ایک وفادار ملازم بہت عرصہ ان کا ساتھ دیتا رہا لیکن آخرکار وہ بھی اپنے گاؤں چلا گیا اور چاچاجی بہ حالت مجبوری چھوٹے، لیکن نہایت لاڈلے بیٹے کے پاس آگئے ، واحد گھر جو اپنی کمائی سے بنایا تھا دوسری شادی کے بعد بک چکا تھا ، اور اس بات کا بیٹے کو بہت دکھ تھا، شاید یہ ہی مال کا فتنہ درمیان میں آ گیا اور بدسلوکی اور ناگواری کا تکلیف دہ دور گزرنے لگا ،،،،،، پولیس کا ڈی آئی جی جو اپنی بہترین پینشن پر گزارا کر سکتا تھا ،، محض بچوں کی قُربت کے نکتۂ نظر سے ان کے پاس آگیا تھا ، اور یہاں اچھوت ہو کررہ گیا ،، !!۔
اس اکلاپے کے دور میں بھی وہ آتے تو اباجی انھیں ایک ایک ہفتے کے لیے روک لیتے ۔ یہاں بھی اماں جی کو فوت ہوۓ مدتیں گزر چکی تھیں ،اس لیے بھی وہ بےفکر ہو کر کچھ دن پرانی یادوں کو دہراتے اورمیں ہی ایک ایسی خدمت گار تھی جو خاموشی سے اکثر انھیں باتیں کرتے دیکھتی اور غور بھی کرتی کہ " زندگی آخر کس چیز کا نام ہے "؟ لیکن میں اباجی کے سب بوڑھے دوستوں کی کمپنی سے کبھی بور نہ ہوتی ، ، ، ( میری زندگی دراصل بچپن سے ڈائرکٹ بڑھاپے کو کوچ کر گئی تھی اور میری سوچ میں، میری پسند میں ، میرے ارادوں میں بڑھاپے کے نمایاں اثرات آنے لگے تھےِ۔اماں جی کی وفات نے مجھے گھر کی بڑی بنا دیا تھا اور میں نے یہ عہدہ بہ خوشی قبول بھی کر لیا تھا !) اب چاچاجی آتے تو میں ان سے گپ شپ لگاتی۔جو کچھ سیاسی کچھ مذہبی ، مو ضوعات پر ہوتیں ! اگر اُن کی عینک کے شیشے مجھے گندے محسوس ہوتے تو خاموشی سے اتارتی اور انھیں دھو کر خوب چمکا کر پہناتی ، تو وہ صرف اتنا کہتے ، "دیکھا یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو اتنا باریکی سے ہمارا مسئلہ دیکھ لیتی ہیں " یہ کہتے ہوۓ ان کی آنکھوں کی نمی میں دیکھ لیتی اور جلدی سے موضوع بدلا لیتی !!!!!۔
چاچاجی کی بیٹی نسیم اگرچہ تیسرے نمبر پر تھی لیکن اپنی ذہانت ، کچھ کر گزرنے کی صلاحیت کی بنا پر نمبر ون بن گئی ، نہ بڑی بہن ، نہ بڑے بھائی میں وہ " گٹس"تھے، جو ایک باپ کو سنبھالنے کی سعادت حاصل کرتے ! اور چاچاجی کو نسیم اپنے آرام دہ گھر میں زبردستی لے آئی۔اس معاملے میں سلام اس کے میاں کو جس نے یہ اعلیٰ جملہ کہا " اپنے والد کو اپنے پاس رکھو ،، ماں باپ ،، صرف ماں باپ ہوتے ہیں ،چاہے وہ بیوی کے ہوں یا شوہر کے،،،" کاش یہ سوچ ہر داماد کی ہو تو بےشمار والدین اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے بچ جائیں۔
چاچاجی کی اپنی پنشن اتنی تھی کہ نسیم نے دو نوکر رکھے جن میں سے ایک دن کے لیے اور ایک رات کے لیےتھا ، چاچاجی اتنے بیمار شاید نہ تھے جتنا اس احساس نے انھیں ڈیپریشن میں ڈالے رکھا کہ میرے لیے بیٹوں کے پاس محبت کے دو بول بھی گم ہو گئے  ہیں !،،،،،لیکن بیٹی کی محبت ، اورخدمت نے ان کے آخری 10 ، 12 سال آرام دہ اور پُرسکون بناۓ ، رکھے آخر کا ر اس شاندار انسان کی کہانی ختم ہوئی ، ،،، اُس بیٹی کواللہ نے اس خدمت کا صلہ ایسا دیا کہ دولت ، عزت ، محبت ، سبھی نعمتوں سے نوازی گئی ۔ اس کی ساری اولاد کامیاب ہوئی ، اصل چیز دل کا اطمینان اور نرم دلی ہے ! جو ان دونوں میاں بیوی کے حصے میں آگئی ہے۔ 
( منیرہ قریشی 17 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعہ، 13 اکتوبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں" (29)

 یادوں کی تتلیاں" (29).۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
میں ذرا پلٹ کر واپس ان سہیلیوں کے جھرمٹ میں جاتی ہوں ، جن کے ساتھ میرے،بہترین دن گزرے ،،، اور مجھے ان سب سےبہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ، یہ اپنے طور پر خوشحال گھرانے تھے ، لیکن محنت کے دور سے گزر رہے تھے! خاص طور پر رخسانہ تسنیم وغیرہ ، جو ماشا اللہ آٹھ بہن بھائی تھے۔دو ماں باپ ، اور ایک نانی اماں ،، یہ سب دو ،ڈھائی بیڈ رومز پر مشتمل گھر میں رہتے تھے ، مجھے جب اس کے گھر آنے جانے کا موقع ملا۔ تو اس کی امی جو دبلی پتلی خاتون تھیں ہر وقت کچن کے کاموں میں مصروف رہتیں ، ان کی کوشش ہوتی،وہ سب کے لیے مقوی ، ستھری ، اور زیادہ مقدار میں غذائیں تیار کرتی رہیں۔کچھ ہی مہینے میں آنے جانے کے بعد اندازہ ہوا اس گھر کے والدین کے پاس کتنا بڑا دل تھاہر آئے گئے کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں  اور سبھی کوکھاۓ پلاۓ بغیر جانے نہٰیں دیتے تھے ، اس کے ابا سے مل کر مجھے یوں لگا جیسے وہ بہت گھلنے ملنے والے نہیں ، لیکن یہ خیال بعد میں غلط ثابت ہوا ،،، اتفاق سے مجھے اس کے گھر اس طالب علمی کے دور میں جانا ہوا اور میرا گھر حالانکہ نزدیک تھا، لیکن اس کی امی نے بہ اصرار دوپہر کے کھانے پر روکا ۔اور وہاں اس دن مچھلی پکی تھی ، مجھے کبھی مچھلی کھانا پسند نہیں تھی ،لیکن اس دن کھانا پڑی ،اور وہی دن تھا کہ مچھلی میری پسندیدہ ہو گئی۔ اتنا مزیدار سالن تھا کہ ہاتھ رُک ہی نہیں رہا تھا۔اور اس کی وجہ اس خوش ذائقہ ہاتھ والی ماں تھی ، اس کے بعد بھی دو تین دفعہ کچھ بھی کھانے کا موقع ملا،تو ایسا ذائقہ شاید کم ہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا۔قریباً   ہر ہفتہ اتوار ان کے گھر رہنے والے مہمان آئے   ہوتے ، اور ان کے گھر سے واپسی پر اکثر سوچتی یہ کیسے سیٹنگ کرتے ہوں گے، کہ مہمان بھی پورے آجائیں اور گھر کے افراد بھی ِ،،، یہ صرف ان کی اعلیٰ ظرفی اور مہمان نوازی کی وجہ سے ممکن ہوتا تھا ،،، ماں باپ کی اس کھلے ماتھے کی عادت نے ، ان کے بچوں کے راستے آسان کردیئے ۔ سبھی لائق ، اور سب ہی خوشحال ہوۓ ۔ ماں باپ گلاب بوتے ہیں ، انھیں سینچتے ہیں ، اور اس کا فائدہ ان کی اولادیں بلکہ اگلی نسلیں بھی اُٹھاتی ہیں ، اللہ کسی کا کوئی اجر ضائع نہیں کرتا ،،،، رخسانہ ، چار بہنیں اور چار ہی بھائی تھے ،ہر بچے کی شادی پر ان کے ابا شادی کا کھانا آتا تو سب سےپہلے ایک دیگ یتیم خانے بھجوا دی جاتی ، اس کے بعد کبھی کھانا کم نہ ہوتا ۔ بالکل اسی طرح ہمارے رشتے کے چچا چچی تھے ان کے بھی آٹھ بچے تھے ، سرکاری کوارٹر ملا ہوا تھا چھوٹا سا ، اس کے پچھلے نہایت چھوٹے صحن میں ایک کمرہ بنوا لیا گیا تھا، اور ان کے گھر بھی کوئی دن ایسا نہ ہوتا کہ رہنے والے نہ آۓ ہوتے بلکہ کئی مہمان ایک ہفتے ، یا پندرہ دن رہ کر جاتے ۔ دونوں میاں بیوی نے بچوں کو بھی اسی عادت پر سیٹ کر دیا تھا ، جب دو بیٹیوں کو کچن میں 40 یا 50 روٹیاں پکانی پڑتیں اور وہ بھی گرمی میں ،تو ، ہم ان کی ہمت پر آفرین کرتیں۔ چاچا جی خود مہمان نوازی ، اور بڑھ چڑھ کر سبھی کے بگڑے یا رُکے کام کراتے رہتے اور تھکتے رہتے،لیکن کیا مجال کوئی احسان کرتے ، ہم نے خود بھی دیکھا ان کے گھر پر شام کو ایک "پینجا " ( روئ دھننے والا) اپنا " روئی کا لمبا سا پینجا پچھلے صحن میں رکھتا اور ایک سبزی بیچنے والا اپنی ریڑھی رکھواتا ، کیوں کہ اُن کے گھر دُور تھے، اور وہ اس اعتباری گھر میں اپنے "رزق کے ہتھیار" رکھواتے ، صبح آکر لے جاتے (کیا ہم آج بڑے گھروں کے باوجود ایسا بڑا دل "کر " سکتے ہیں؟) دونوں اگر شام کے اس وقت آجاتے جب کھانے کا وقت ہوا چاہتا، تو چاچی جی ، فوراً بڑی بیٹیوں کو کہتیں " چلو ان کے لیے دو دو روٹیاں توے پر پھینکو ! خدائی مہمان آۓ ہیں "یہ یونیک جملہ میں کبھی نہیں بھولوں گی !!!! اور آج ان کے بھی سبھی بچے اپنی بہترین خوش حالی کو انجواۓ کر رہے ہیں ، ماں باپ نے کم وسائل کے باوجود جب بھی مہمان نوازی کی ان کی اگلی نسلیں ،حیرت انگیز طور پر خوش حال ہوئیں "" کہ اللہ کسی کا احسان نہیں رکھتا ""، وہ ضرور نوازتا ہے ، کاش ہم اس نکتۂ لین دین کو جلد جان جائیں اور فقر سےبےفکر ہو جائیں ۔ مجھے اپنے پیارے نبیﷺ کی سبھی احادیث سے پیار ہے لیکن مہمان کی توقیر ،کھانا کھلانے کی فضیلت پر مبنی احادیث تو جیسے ہمارے لیۓ مفت کی جنت کا سودا ہے ، ایک حدیثِ مبارکہؐ ہے "میں اللہ سے خودغرض ہونے اور بخیل ہونے سے پناہ چاہتا ہوں"گویا وہ ان دو کمزوریوں کو ناپسند فرماتے تھے۔
( منیرہ قریشی ، 12 اکتوبر 2017ءواہ کینٹ) ( جاری )

پیر، 2 اکتوبر، 2017

" یادوں کی تتلیاں"(23)

یادوں کی تتلیاں "(23)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہم میں سے جس نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دن شعوری دور میں گزارے ہیں ۔ ان کی آنکھوں اور دلوں کوعجیب تجربہ ہوا ، جو حقیقتاً  زندہ قوموں کا ہوتا ہو گا۔ 6 ستمبر کو صدر جنرل محمد ایوب کی تقریر نے بہرحال ، ساری پاکستانی قوم  کو اس طرح بیدار کر دیا ، جیسے اس سے پہلے وہ ، کسی نشے میں تھے کہ لمحہ بھر میں ان کی غیرت جاگ اُٹھی ، اور وہ نہ صرف ایک مُٹھی بن گئے بلکہ اپنے آپ کو تن ،من ،دھن سے پیش کر دیا کہ جس کی جو حیثیت ، جو مقدور تھا اس نے کر دکھایا ، شاید کچھ قوموں کوجگانے کےلیے اس طرح کے نشتر کی ضرورت پڑ جاتی ہے ، اور ٹھنڈے خون کو گرمانے کے لیے قدرت ، معجزہ دکھاتی ہے کہ خود کو سمجھو ، دشمن کو جانو ،،،،، اور بار بار دھوکے نہ کھاؤ !۔
صدر کی تقریر کے بعد پوری قوم نے ایک ایک حکم پر عمل شروع کر دیا ،اس وقت تک ریڈیو اور اخبارات ہی اصل ذریعۂ معلومات تھا، اسی سال ہمارے گھر ٹی، وی آچکا تھا اور وہ دو گھنٹے ٹی وی کے آگے گزرتے توصرف پل پل کی خبروں کے انتظار میں ! ہمارے گھر سے میرے بہنوئی ، چھمب جوڑیاں کے محاذ پر تھے ، میرے ماموں جان ایک اور محاذ پر اور ہمارے اکلوتے بھائی جان ، اس وقت کاکول اکیڈمی میں دوسال پورے کر چکے تھے اور ابھی پاس آؤٹ ہونے میں 6 ماہ رہتے تھے لیکن ایمرجنسی   میں ان کو پاس آؤٹ کر دیا گیا اور ان نوجوان افسران کو ڈائرکٹ محاذوں پر بھیج دیا گیا،بھائی جان کو "پسرور" کی طرف بھیجا گیا ، اور اس دوران پہلےبارہ دن ان کی کوئی خبر نہ تھی ، یہاں اماں جی آدھی جان کے ساتھ اللہ کے آگے ہر وقت دعاگو رہتیں اور اباجی تو جیسے گھر سے غائب ہو گئے، وہ صرف ایک آدھ وقت کا کھانا کھانے ،یا کپڑے بدلنے کسی وقت آتے ہوں گے،ورنہ وہ تھے ان کی جیپ ، ڈرائیورصوفی جی،ایک کیپٹن صاحب ،،، ساری رات واہ کینٹ کی فیکٹری کی دیواروں کے ساتھ اس کے چپے چپے کو اپنی نگرانی میں لۓ ہوۓ تھے ، ( یہ بات ان کے عملے کے حوالدار اور صوبیدار صاحبان نے بتائیں ، اور کہا نہ یہ خود آرام کرتے ہیں نہ کرنے دیتے ہیں ) ، کیوں کہ ان دنوں بھارتی جاسوس وغیرہ کا بھی خطرہ تھا۔
پوری واہ فیکٹری کے ورکرز ، کام کی مشینیں بن چکے تھے ، ہمارے سکول کالج بند ہو چکے تھے۔اور طلباء میں اعلان کر دیا گیا کہ ویلفیئر مراکز میں آکر فوجیوں کے لیے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنانے میں مدد دیں ، ہم دونوں بہنیں اپنی سہلیوں شاہدہ وغیرہ کے ساتھ اور چند کلاس فیلوز کے ساتھ جاتیں اور وہاں ایک ایک پیکٹ میں ایک سویٹر ، ایک کنگھی ، ایک پیکٹ بھنے چنے اور کشمش کاایک جوڑا جراب ، اور انھیں خوب اچھی طرح پیک کیا جاتا۔یہ ڈھیروں پیکٹ روزانہ مختلف محاذوں کی طرف   روانہ کیےجاتے،فیکٹری کی طرف سے لوگ آۓ اور ہر گھر میں محفوظ مقام پر " خندقیں" کھودیں گئیں، جیسے ہی پہلے دن دشمن کے جہازوں کی آمد پر سائرن بجا،اس وقت آدھی رات تھی،ہم بہنیں (آپا بھی بچوں کے ساتھ آچکی تھیں) بچوں سمیت جا کر ان خندقوں میں چلی گئیں ، ہمارے ملازم بھی ساتھ تھے لیکن اماں جی غائب !!! جلدی سے آپا گئیں اور انھیں باہر لائیں لیکن وہ بہت چُپ تھیں ، باہر آکر بھی وہ خندق میں نہ آئیں ، جب خطرہ ٹلنے کا سائرن ہوا تو بھی اماں جی چُپ چاپ سی تھیں ، ان کے چہرے سے جیسے رہی سہی شادابی ختم ہو گئی اور آنکھوں میں وہ اداسی تھی کہ ان کی طرف دیکھا نہیں جا تا تھا ، یہ کیفیت صرف دو دن میں ہو گئی تھی ، اس دوران ہمارے پڑوسی بھی سائرن پر اپنے گھر کی خندقوں میں آجاتے ، کلیئر کا سائرن بجتا تو کچھ دیر اپنی اپنی معلومات کا تبادلہ ہوتا ، ،، ایسی عمر سے گزر ہورہا تھا کہ خوف نام کی چیز تو تھی ہی نہیں ، بلکہ کسی قسم کا برا گُمان بھی دور دور تک نہ تھا ،کہ کسی بھی محاذ سے کوئی بھی خبر آسکتی ہے ، آپا اپنے آنسو اگر بہاتی بھی ہوں گی تو چُھپ کر ، اور اماں جی نے صرف عبادت کو ہی وقت دیا ہوا تھا ،،، تین دن تو ہم سب سائرن کی آوازوں کے مطابق عمل پیرا رہے لیکن چوتھی رات کو سائرن مسلسل بجا ، بستروں سے باہر آۓ ہی تھے کہ فائرنگ کی آوازیں،اور ہلکی توپوں کی بھی آوازیں سنائی دیں آسمان کی طرف دیکھا تو دور کچھ جہاز تیزی سے جاتےنظر آۓ ، شاید دشمن کے جہازوں کو دیکھ لیا گیا تھا اور پاک فضائیہ ، اور نیچے سے آرٹلری ایکشن میں آگئے ،،،، اور ہم سب کے دل جوش سے پھٹ رہے تھے ، اپنے بھانجے بھانجیوں کو آسمان کی طرف انگلیاں کر کر کے بتا رہی تھیں ، دیکھو وہ ہمارے جہاز آ گئے، ، اباجی ایسے مواقع پر کبھی گھر ہوتے کبھی نہ ہوتے ، لیکن وہ کسی وقت بھی مایوسی کی کوئی بات نہ کرتے، ورنہ بعد میں یہ سوچیں آئیں کہ ایک ہی گھر سے کیسے قیمتی افراد ، کہاں تھے ، یہ سوچ ایک ماں ، ایک بیوی ہی محسوس کر سکتی تھی ، لیکن کیا مجال کسی قسم کی ڈیپریشن کا ماحول بنا ہو ، ،،، اس دن کی فائرنگ کے بعد ہم میں سے کوئی خندقوں میں نہ گیا ، بس اتنا ہوتا کہ سائرن پر لان میں نکل آتے، اور اماں جی کو باہر نہ لاتے ، ان دنوں راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو چکی تھیں اور انھیں سردی لگنے کا بھی ڈر تھا،، فائرنگ کا ایک اور دن بھی ایکشن لیا گیا ، لیکن الحمدُ للہ کہ دشمن کوئی بم گراۓ بغیر نکل بھاگا، اس دوران خبروں سے پاک فضائیہ کے جہازوں کی کارکردگی سن سن کرساری کاروائیاں ' افسانوی" لگتیں، دشمن کےجہاز یوں کٹ رہے تھے ، جیسے اچھےپتنگ باز، "بوکاٹا " کرتے چلے جا رہے ہوں ، اور پھر جنگ ختم ہوئی تو اس سترہ  روزہ جنگ نے اسلام کی تاریخ کو  نئے باب رقم کروا دیۓ ۔ انفرادی اور اجتماعی کارناموں کا ایسا شاندارتاریخی مظاہرہ ہوا، جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا ،،،، بےشمار ملکی اور غیر ملکی تجزیہ نگار کیا لکھتے کیا کہتے ہیں ، مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ، مجھے اتنا پتہ ہے کہ ہمارے گھر کے سب مرد محاذ پر تھے ، لیکن اس پر ہمیں " فخر " تھا ، اور بہت فخر ہے ! ۔
میں نے ایک قسط میں کچنار روڈ کے گھر کا نقشہ لکھا ہے کہ اس کے کچن کے باہر بھی ایک سٹور تھا ، جسے کچن کے ایندھن کے لیے بنایا گیا ہو گا،اماں جی نے اسے کچھ عرصہ بعد ہی بہت صفائی ستھرائی کروا کر ایک چھوٹا سا شیلف بنا دیا،جس پر سپارے اور ایک آدھ قرآن رکھا رہتا اور ایک دری کے اوپر جاۓنماز بچھی رہتی کہ ، جو اکیلے میں نماز پڑھنا چاہے یہاں آ کر پڑھ لے ، اور یہ خاموش کونا ، اماں جی کی دیرینہ خواہش کا ایک عکس تھا ، جس کا وہ ذکر کرتی رہتیں تھیں !! اب وہ اکثر دن کی نمازیں یہیں پڑھتیں،،،شاید یہاں اللہ تعالیٰ سے دل کی باتیں کُھل کر ہوتی ہوں گی۔جب جنگ کے بعد سب سے پہلے بھائی جان گھر آۓ اس وقت تک ستمبر کی 29 ، یا 30 تاریخ تھی ، لیکن اماں جی نے سواۓ صدقے خیرات دینے کوئی ایسی خوشی نہیں دکھائی جو اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر ظاہر کی جا سکتی ہے ، دراصل وہ بیٹے کے معاملے میں ایسی تھیں کہ اسے نظر بھر کر بھی نہ دیکھتیں کہ کہیں نظر نہ لگ جاۓ ۔البتہ بڑے بھائی جان کے آنے پر اماں جی کے چہرے پر شکرگزاری کا تاثر گہرا تھا ، ، اور پھران کی دبی بیماری عُود کر آئی اور کچھ دن کے لۓ ہسپتال داخل رہیں ! جیسے وہ سب کی توجہ اپنے سے ہٹاۓ ہوۓ تھیں لیکن اب برداشت ختم ہو گئی تھی !۔
جنگِ ستمبر گزر گئی قریباً مہینہ گزر گیا ، تو " نواۓ وقت " اخبار میں کسی ماہر سائیکالوجسٹ کی طرف سے ایک پیغام چھپا کہ جنگ سے متعلق جس کسی کو جو خواب آۓ ہوں یا کسی قسم کی چھٹی حِس نے کچھ احساس دلایا ہو تو ہمیں لکھیں ، اور میں نے تو اس خواب کا ذکر بھی کسی سے نہیں کیا تھا ، کجا وہاں لکھ بھیجتی ، جب کہ عمر کا وہ دور ، 14 ،15 سال کا ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہر بات میں جھجک محسوس ہوتی رہتی ہے ! جب اس اشتہار کو پڑھا تب اماں جی کو بتایا ، تو انھوں نے اِن کریج بھی کیا کہ لکھ کر بھیج دو ، لیکن ،،،، نہ بھیج سکی۔
جنگِ ستمبر میں لاہور ، دشمن کا اصل ٹارگٹ تھا اور اس کے جنرلز نے یہاں کے " جم خانہ کلب " میں جامِ کامیابی پینے تھے ! اسی لۓ وہاں کے شہریوں نے جنگ کے دوران چلنے والے توپوں کی خوب گھن گرج سہی تھی ، بہت سے لاہوری خاندان اپنے اپنے طور پر دوسرے شہروں میں چلے گۓ تھے ، انکل اور آنٹی رشید کے گھر ان کی بہن اپنے چھ بچوں سمیت ، اور انکل کے رشتہ دار آگئے یہ قریبا" 17 ، 18 دن رہے ، آنٹی نے جس طرح ان سب کو سرآنکھوں پر بٹھاۓ رکھا ، وہ بےمثال ، مثال تھی ، آنٹی نے ایک چکر سکول کا بھی لگانا اور پھر ان ڈھیر مہمانوں کے لۓ سالن وغیرہ خود آکر بنانا ،،، ان کی مہمان نوازی نے ہم سب کو بہت متاثر کیا ، کاش آج کے ہم لوگ اتنے ہی ظرف والے بن جائیں ، کیوں کہ یاد رکھیں "مہمان" کہتے ہی اسے ہیں جو ایک نا ایک دن چلے جانے والا ہوتا ہے ۔ لیکن اسے اس گھر سے ملنے والا برتاؤ کبھی نہیں بھولنے والا ہوتا،کہ اچھا تھا یا برا ، تحفظ ملا یا بےزاری ملی ۔ یہ رویہ ہماری ذات کی تربیت ، ہماری فطرت کی عکاسی کرتا ہے ، کرتا رہے گا ،،، آپ کتنا بھی یہ کہتے رہیں ، مجھے کسی  کی پرواہ نہیں ، مجھے کسی شخص سے میڈل نہیں لینا ،،، نہ لیں میڈل !! لیکن آپ کا ضمیر آپ کو کچوکے لگاتا رہتا ہے ۔ ایک عجیب سی سختی ہمارے خدوخال میں ٹھہر جاتی ہے ، اور سب سے بڑھ کر کیا اللہ نے ہم سے کبھی کوئی سوال جواب نہیں کرنے !!!!۔
( منیرہ قریشی 2 اکتوبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )