‏خطوط لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خطوط لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 22 دسمبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(65)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 65)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
 ڈرائنگ روم" (8)۔"
۔16 ستمبر 1989ء میری بھانجی کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے بیٹے عمیر سے نوازا تو ، میں نےاور جوجی نے لاہور کا پروگرام بنا لیا۔ ہم نے بچوں کو ان کے باپوں کے پاس گھر چھوڑا ، ،، اور لبنیٰ اور یعقوب کے گھر پہنچ گئیں۔ ہم صرف دو ،دن کے لیۓ گئیں تھیں ، پہلے دن پہنچیں ،، مبارک سلامت ہوئی ،، گپ شپ ہوئی ! اور دوسرے دن قریباً دس بجے ،، یعقوب سے فرمائش کی " سُنا ہے اشفاق صاحب تمہارے گھر سے نزدیک ہی رہتے ہیں ، اس نے کہا کہ وہ تو ہمارے سٹریٹ سے صرف دو سڑیٹ پچھلی طرف رہتے ہیں،،،، یہ سن کر میں نے کہا" کیا کچھ دیر کے میں اُن سے مل سکتی ہوں اگر تم چھوڑوا دو " ،، اُس نے کہا میں دفتر کے لیۓ نکل رہا ہوں آپ ساتھ چلیں ! میں تو خوشی سے نہال ہو گئی، جلدی سے تیار ہو کر اس کے ساتھ چل دی ،،، جوجی اور آپا نے کہا " چلو جلدی آ جانا " ۔
121۔C ماڈل ٹاؤن کے اس تاریخی گھر جس کے باہر مشہور اور منفرد تختی لگی ہوئی تھی " داستان سراۓ " تک صرف پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد پہنچے ،، گیٹ پر جو چوکیدار کھڑا تھا ،، پوچھنے پر کہ اشفاق صاحب ہیں ، اس نے سادگی سے ( بغیر نخوت کے ) بتا دیا ، جی وہ گھر پر ہی ہیں ۔ میں نے اسے کہا کہ اندر جا کر بتاؤ ،،، میں واہ سے آئی ہوں ، اور کچھ دیر کے لیۓ آسکتی ہوں ؟؟ ،،، اس نے کہا آپ چلیں ، اور خود آگے چل پڑا ،، میں بر آمدے سے ایک بڑے دروازے کے کھلنے پر نظریں جماۓ کھڑی تھی کہ اشفاق صاحب نمودار ہوۓ ، میں نے سلام کیا ،، اور صرف اتنا کہا " کیا میں صرف تھوڑی دیر کے لیۓ آ سکتی ہوں ! انھوں نے بغیر توقف کے کہا " آپ بالکل بیٹھ سکتی ہیں ،،،! میں اپنی خوشی کا بیان نہیں کر سکتی ،،، یہ سن کر نہ ہی پوچھیں کیا محسوس کر تھی سواۓ اس کے کہ میں ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی ،،، ! میں جھٹ سے یعقوب کی طرف مُڑی اور اسے جانے کا کہا ، وہ حیران بھی ہوا ہوگا کہ " خالہ نے کچھ بتایا نہیں کہ کتنی دیر سے لینے آؤں " جب میں اس ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ، تو اندر کم ازکم 25 ،22 خواتین و حضرات بیٹھے ہوۓ تھے ، میں داخلی دروازے کے فوراًبعد دائیں جانب دو تین کرسیاں پڑی تھیں ، اُن پر بیٹھ گئ ،، انھوں نے نہایت   شفقت ، سے کہا کچھ دیر آپ بیٹھیں ، بس کچھ ڈسکشن رہ گئی ہے ، پھر آپ سے بھی باتیں ہوں گئ ۔ سچی بات یہ ہے کہ میں خوشی کی اس لہر میں تھی ، جیسے کوئی " وکٹری سٹینڈ " پر کھڑا ہو تو اسے باقی ہر چیز پس منظر میں لگتی ہے ، اور میں صرف خود کو اور اشفاق صاحب کو پیشِ منظر میں دیکھ رہی تھی ۔ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کہہ کیا رہے ہیں !!۔
میں چند منٹ بعد حواسوں میں آئی تو ذرا ڈرائنگ روم پر نظر ڈالی۔ ایک اچھا بلکہ کافی وسیع کمرہ ،، جس کے تین کونوں پر تین ہی مکمل صوفہ سیٹس رکھے تھے ایک سنتھیٹک کارپٹ پر بہت بڑا قالین بچھا تھا ، کہیں کہیں میز بھی دھرے تھے ، سبھی خواتین حضرات چاۓ پی اور کچھ کھابھی رہے تھے ، کسی نے منہ موڑ موڑ کر نہیں دیکھا کہ کون آیا ہے ۔ بلکہ میرے بیٹھتے ہی ، لمحہ بھر میں جو ڈسکشن ہو رہی تھی اسی انداز سے شروع ہو گئی ،،، میں اتنی بے وقوف سی تھی کہ غور ہی نہیں کیا کہ سامنے بیٹھے لوگوں میں شاید کوئی مشہور شخصیات ہو سکتی تھیں ،، ان دنوں میں تو عام گھریلو عورت تھی ، جسے اِن معروف ادیبوں کو پڑھنے کے علاوہ ، ایسا کوئی خواب میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی کہ اب کسی اپنے پسندیدہ ادیب یا شاعر سے ملاقات ہو پاۓ گی ،،، اور آج حیران کن انداز سے میں اشفاق صاحب اور بانو قُدسیہ آپا کے ڈرائنگ روم میں موجود تھی ،، اتنے بڑے لوگ ،، اتنا بڑا ڈرائنگ روم ،،، اور اتنا سادہ ،جتنا سوچا جا سکتا ہے ،،،، اتنے میں بانو صاحبہ دوپٹہ ٹھیک کرتی ، بے حد سادہ کپڑوں میں گھر کے اندرونی دروازے سے اندر داخل ہوئیں ، میں سامنے ہی تھی ، انھوں نے مجھے دیکھتے ہی ، بے حد شفقت سے سلام کا جواب دیا اور کہا ، ارے تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو ،، چلو وہاں ان لوگوں کے قریب چلو ! میں نے کہا "نہیں میں تو صرف آپ کو دیکھنے آئی ہوں ، میں یہاں ٹھیک ہوں ،تب انھوں نے کہا "تو میں آپ کے پاس بیٹھ جاتی ہوں "،،، میری سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہوں کہ میں تو محض " گُھس بیٹھۓ " کے طور آ بیٹھی تھی ،، اور یہاں وہ عزت کہ شرمندگی ہو رہی تھی ،، وہ سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گئیں ، اور ساتھ ہی اندر آۓ ملازم سے ہلکی آواز میں کچھ کہا ، انھوں نے پو چھا " کہاں سے آئی ہو ، کیا کرتی ہو وغیرہ ، گویا تعارفی جملوں کا آغاز ہوا ، اور یہ اتنے نارمل ،اور عام سے انداز سے بات چیت ہونے لگی کہ میں ریلیکس ہو گئ، ، ، اور تب میں نے انھیں بتایا کہ" میں نے آپ کے کینسر سے متعلق اخبار سے پڑھا ، اور پھر معلوم ہوا آپ کا علاج مکمل ہو چکا ہے ،،، اس وقت میں نے آپ کو خط لکھا تھا کہ ، یہاں میرے گھر کے آس پاس بہت سبزہ ، اور خوبصورتی ہے ، گھر بھی بڑا اور آرام دہ ہے ، ، ہو سکتا ہے آپ کی مرضی جیسا نہ ہو ،،، لیکن اگر آپ تبدیلیء ماحول ، اور سکون کے لیۓ آئیں گی ، اور کچھ دن ریہیں گی تومیرے لیۓ اعزاز ہو گا ،،، " تو آپ نے مجھے جواب بھی دیا تھا ،، جو میں نے ہر آنے ، جانے والے کو دکھایا ! کیوں کہ میرے لیۓ تو یہ بھی اعزاز ہے کہ اتنے بےشمار لوگوں میں سے آپ نے مجھے میرے خط کا جواب دیا۔" ،،، انھوں نے دلچسپی سے ساری بات سنی ،، اور بہت شکریہ کہتی رہیں ،،، اور اس دوران ڈرائنگ روم میں بیٹھے افراد میں ملازمین ٹرے رکھتے گۓ۔اور ایک ٹرے میرے اور بانو آپا کے درمیان رکھے میز پر رکھی گئی، اور بہت پیاری " کراکری " میں دو ڈونگوں میں سالن اور ساتھ دستر خوان میں روٹیاں لپٹی تھیں،، انہوں نے محبت سے مجھے شروع کرنے کا کہا ، میں تو میکانکی انداز سے تھوڑا سا سالن ڈال کر ایک روٹی ایک پلیٹ میں رکھ لی۔ انھوں نے بھی کھانا شروع کیا ،، وہ بچوں کے بارے میں پوچھتی رہیں اور یہ بھی کہ آپ کہاں ٹھہری ہوئی ہیں وغیرہ ، مجھے تو یوں لگا کہ بانو آپا " ہر نئے آنے والے کو ریلیکس کرنے کا کام نہایت خوبی سے انجام دیتی تھیں "،،،،۔ 
جوں ہی کھانا ختم کیا ، اور ملازم ٹرے اُٹھا لے گیا ،، اور اس دوران کافی لوگ خدا حافظ کر کے جانے لگے ، پھر بھی 10،12 لوگ موجود تھے ، کہ دروازہ پھر بجا ، اس وقت تک مجھے یہاں بیٹھے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چلا تھا ،،، اشفاق صاحب نے ہی دروازہ کھولا تو سامنے آپا اور جوجی کھڑی تھیں ، سلام کے بعد آپا نے میری طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا " ہم جی اِس کی بہنیں ہیں اور اتنی دیر سے یہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے اور ہم جیلس ہو کر آگئیں ہیں ، اب آپ کو ہمیں بھی تھوڑی دیر بیٹھنے کی اجازت دینی ہو گی " اور ان " گریٹ لوگوں نے" بہت خوش دلی سے آنے کا کہا ،،،، میں تو اورنہال ہو گئی کہ اب مزید بیٹھنے کا موقع مل گیا ہے ۔ 
اب سوچتی ہوں ،،، جب خود بھی بڑھاپے میں قدم رکھ لیا ہے ،،، کہ مسلسل ، صبح سے مصروفیت ،، کچھ پرانے کچھ نۓ اجنبی لوگوں سے ملتے رہنا ،،، ان سے باتیں کرنا ،،، کسی کو اپنی بیماری کی نہ تو تفصیل بتانا ،، نہ ہی بیماری کا بہانہ کر کے ملنے سے گریز کرتے رہنا ،، نہ ہی سلسلہء لنگر خانہ کم ہو نا ،،،، اور ماتھے پر بل نہیں ،، نہ ہی اپنےاصل کام ( لکھنا ، پڑھنا)کے لیۓ وقت کے زیاں کا احساس ،،،میں اتنی متاثر ہوں ، یہ احساسِ عقیدت بیان نہیں کر سکتی ،،، اور ان کے ڈرائنگ روم میں ہوئی دوسری ملاقات کی تفصیل اب اسی سلسلے کی کڑی ہو گی ،،، میری زندگی کے نہایت خو بصورت ، اور قیمتی دنوں میں سے ایسے ہی دن ہیں جن میں مجھے ان " اپنی ذات میں اداروں " جیسی شخصیات سے سے ملنے کے مواقع ملے ۔ ابھی تو آپا اور جوجی کے آنے کے بعد مزید جو باتیں ہوئیں ،،، میں نے اپنی عادت کے مطابق انھیں " ایک ملاقات " کے عنوان سے لکھ لیا تھا ، اس کے بعد مجھے اشفاق صاحب کے ان اقوال کو سکول چلانے کے دوران جب کسی بڑے ، یا چھوٹے فنگشن میں تقریر کا موقع ملتا تو والدین کے سامنے انہی کے اقوال دہراتی اور اپنا " امیج " بلند کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ میں جب یہ جملہ کہہ بھی دیتی ہوں،، " جب ایک دفعہ اشفاق صاحب اور بانو قُدسیہ سے ملنے گئی تو،،،،،،،" میں تو جیسے اپنی نظر میں خود ہی اہم ہو جاتی ،،،،،،!!!!نیچے بانو آپا کا محبت نامہ شیئر کر رہی ہوں ! جو 1984 ء سے سنبھال کر رکھا ، اور آج اصل جگہ پہنچ گیا !۔

( منیرہ قریشی ، 22 دسمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعہ، 3 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں (38)۔

 یادوں کی تتلیاں " (38)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
آج یادوں کی تتلیاں اُس باغ کی طرف رواں دواں ہیں جہاں کچھ پرانی تحریریں اور کچھ تصویریں موجود ہیں ۔ کچھ سال قبل ایک دن ایسی ہی تصویریں دیکھیں تو یہ نظم کہہ ڈالی تھی! جو " خانہ بدوش " کے گروپ میں محفوظ ہے لیکن آج کے موضوع کے مدنظر اسے ایک مرتبہ پھر پڑھ لیں ۔ " پرانی لکیریں پرانی تصویریں "۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
آہ !یادیں رہ جاتی ہیں 
جب کچھ پرانی تصویروں سے 
جب کچھ پرانی تحریروں سے
آنکھوں سے چھینٹا دے کر
گرد ہٹائی جاتی ہے ،،،،،،،،،
تب آنکھیں پھول چڑھاتی ہیں 
بس ، یادیں ہی تو رہ جاتی ہیں !۔
( منیرہ قریشی 13 1کتوبر 2013ء)
آج دل چاہا کہ یادوں کی تتلیوں کا پیچھا کروں ، وہ جہاں بھی اپنی مرضی سے جا بیٹھیں ۔ یادوں کی تتلیاں، اماں جی کے 19 ،18سالہ عمر کے دور میں داخل ہوئیں ،،، تب شوہر اتنی کم عمر بیوی اور چند ماہ کی بیٹی کو چار سال کے لیۓ دوسری جنگِ عظیم ( 1941 تا45ء)کےمڈل ایسٹ کے محاذ پر جا چکا ہے ،،(مصر ،شام ، لیبیا ،اور سوڈان، ) ابھی ڈھائی ، تین سالہ شادی شدہ زندگی گزری تھی ۔ اب خط ہی آپس کی باتوں اور یادوں کا مضبوط آسرا تھا ۔ جس میں کڑوی اور میٹھی سبھی حکایتیں ہوتیں۔ مجھے ان خطوں کو یہاں لکھنا چاہیے ،یا نہیں ،،، لیکن یہ دنیا سے چلے گئے دو کرداروں کی محبت اور شکوؤں کا تحریری ریکارڈ رہ گیا، کچھ خطوط میں بہت سے دوسرے کردار ہیں جن کو نظرانداز کر دیا ہے کہ اب سبھی اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں !۔
یہ خط نقل کررہی ہوں کہ کاغذبوسیدہ ہونے کے باعث بہت سے الفاظ مدھم ہو چکے ہیں ! ورنہ کاپی پیسٹ کر دیتی!( 76 سال پرانے چند خط) یہ سب خط اماں جی نے 18،19 سال کی عمر میں شدید گھریلو ذمہ داریوں کے درمیان لکھے۔
از ٹیکسلا
ـــــــــ
۔1941۔12۔۔17۔
پیارے سرتاج ، سلامِ شوق
آپ کا محبت نامہ بڑے انتظار کے بعد ملا۔ پڑھ کر حالات سے آگاہی ہوئی۔ یہ پہلا خط ہے جو گِلوں شکوؤں کے بغیر ملا ہے۔اس کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔میری چند باتوں پر آپ نے تبصرہ فرمایا ہے۔اس داد سے دلداری کا شکریہ ۔آپ نے لکھا ہے۔میں ہمیشہ تمہاری خامیاں نظر انداز کرتا رہتا ہوں ، بہت سی ایسی باتیں ہیں جو تم میں بہ حیثیت " بابو کی بیوی کے نہیں پائی جاتیں (( بابو عام طور پر ہمارے علاقے میں سب سے بڑے بھائی کو کہا جاتا ہے ، جو باپ جیسی ذمہ داری اُٹھاتا ہے، اور اس کی بیوی بھی ،بڑی بھابی ہونے کے ناطے گھر کی بڑی کا رول نبھانا اس کا فرض سمجھا جاتا ہے ، یہ دیکھے بغیر کہ اس بھابی کی عمر اپنی نندوں سے چھوٹی یاہم عمر ہے!)) ،،، کیا میں نے کبھی میلا کالر آپ کو پہننے دیا ، کیا میں نے آپ کے بوٹ پالش نہیں کیے۔ کیا میں نے آپ کی پسندیدہ چیز پکا کر آپ کا دل جیتنے کی کوشش نہیں کی تھی ، کیا میں نے گھر آمد پر یا رخصت کرتے وقت آپ کے چہرے پر نظریں ڈالیں اور بلائیں نہیں لیں ؟ ذرا سر سے پگڑی اتار کر اور ٹھنڈا پانی پی کر یاد کریں وہ وقت جب دفتر سے واپسی پر آپ کے ماتھے پر بل ہوتے ، اور طیوری چڑھی ہوتی ۔ لیکن میں ہزار جان سے دھڑکتا دل لیۓ خاموشی سے آپ کی طرف دیکھتی رہتی ۔آپ کی گفتگو سننے کو بےقرار رہتی لیکن ،،،
زندگی کا راز کیا ہےنبضِ ہمت کی دھمک
گو کلیجہ شق ہو،لب پر ہو تبسم کی جھلک
آپ بتائیے کیا مرد ، عورت کو نکاح میں لانے کے بعد احسان کرتے ہیں اور اسکے بعد تمام پابندیاں لگانا فرض سمجھتے ہیں ۔ کیا وہ ہر وقت ایک پاؤں پر کھڑی رہے ، چوں نہ کرے، تمام گھر کے لوگوں کی بھی خدمت کرے ،اورہر کام وقتِ مقررہ پر کرے کہ اسی طرح عورت جنت کی حقدار ہو سکتی ہے ، کیا عورت کا مرد پر کوئی حق نہیں ۔ سارے حقوق مردوں کے ہیں۔ یہ کسی مولوی نے کہا ہوگا ۔خدا نے تومرد کا رتبہ عورت سے بلند کیا ہے لیکن حقوق میں دونوں کو برابر رکھا ہے ۔خدا نے عورت کو دنیا میں محبت دینے اور اس سے محبت کیے جانے کے لیۓ بھی پیدا کیا ہے ۔ باقی یہاں سب خیریت ہے ۔ موسم کافی تبدیل ہو چکا ہے ، سردیوں کی کالی لمبی وہ راتیں جو کسی کی یاد میں تڑپ کر گزارتی رہی ختم ہو گئی ہیں ۔موسمِ بہار کی آمد آمد ہے لیکن میں اس بہار کو خزاں سے بدتر سمجھتی ہوں کہ میری قسمت سے ابھی تک خزاں کا دور نہیں ہٹا، لیکن خیر۔ہمیشہ خزاں تو نہیں رہے گی ۔ باقی گھر میں خیریت ہے ، رقیہ ، ضیاء اور معروف آپ کو آداب کہتے ہیں ،نسیم بھی اب کھڑے ہونے لگی ہے ، اس کی صحت بھی اچھی ہے۔
ذیادہ حدِ محبت 
آپ کی بدنصیب بیگم ۔ 
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جان عزیزہ ،بندگئ شوق ،،،1942،1،17ء از گانگو جمعہ(ٹیکسلا)۔
محبت نامہ موصول ہوا۔ حالات سے آگاہی ہوئی۔ہزارجان سے ایک ایک فقرے پر نثار ہو جاؤں۔نہ جانے میری تسلی کب ہوگی ۔ہر وقت دل میں ایک خلش ہوتی ہے معلوم ہوتا ہے ۔کہ فرشتے نے میرے نامۂ تقدیر میں تڑپ ،خلش،ہجر وفراق کے سوااور کچھ لکھنے سے قسم کھائی ہوگی ۔کبھی قسمت کو روتی ہوں کبھی خود کو کوستی ہوں ، دنیا کے دھندوں کے سوا گزارہ مشکل ہے ورنہ جی چاہتا ہےکوئی ایسی جگہ ہوجہاں کوئی واقف آشنا نہ ہودنیا کے بکھیڑے نہ ہوں ،کوئی بولنے اور پوچھنے والا نہ ہو،
صرف ایک میں ہوں اور آپ کا تصور ہو مگر میرے نصیب میں اتنی فرصت کہاں ۔ پرسوں بیگم ڈاکٹر رحیم اور ان کی ڈاکٹر بہن  آئیں ،، وہ بغیر اطلاع کے آئیں جس سے میں ان کی ویسی خدمت نہ کر سکی جو ہونی چاہیے تھی اور پھر آپ کی والدہ بھی بدمزاج ہو گئیں ، اور انھوں نے انھیں اہمیت دینے سے انکار کر دیا لیکن وہ پھر بھی اچھے طریقے سے میرے ساتھ ہمدردی کرتی رہیں کہ اپنی صحت کا خیال رکھا کرو ،بہت کمزور لگ رہی ہو ۔ خاموشی سے سنتی رہی۔ اس خط سے پہلے کے خط میں عید مبارک نہیں لکھا،کیوں کہ مجھے تو آپ کی دید ہو جاتی تو میری عید ہو جاتی ۔ نسیم نے اب کچھ باتیں شروع کردیں ہیں ، مجھے کبھی بھابی اور کبھی بادی کہتی ہے ! مجھے دیکھ کر نماز پڑھنے کی نقل کرتی اور پھر دعا کے لیۓ ہاتھ کر کے اللہ اللہ ابا ابا کہتی ہے ، رقیہ ، معروف اور ضیاء سلام کہتے ہیں۔
ذیادہ حدِ محبت ،،، آپ کی منتظرِ دید ،،، عزیزہ بیگم ۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اماں جی کے خط " اپنے شوہر کی محبت میں غرق " ایک ایسی لڑکی کے خط ہیں جو اس شوہر کی جدائی میں آخرکار بیمار ہو گئیں ایسی بےلوث ، سچی محبت ،شاید ہی نظر آتی ہو گی ،،، تقریبا" تمام خط انہی کی محبت کا دم بھرتے نظر آتے ہیں اور تھوڑا بہت خاندانی خبریں ہوتیں ، جس میں واضح لکھاہوتا کہ میں چھوٹی نند کے لیے جہیز میں کیا کچھ بنا چکی ہوں اور مزید بھی کچھ بنانا ہے ، جبکہ اپنے لیۓ سوتی کپڑے بناۓ ، ( یہاں والدہ کا ذکر ہے جو ہمارے داداجان کی چوتھی بیوی تھیں ) ۔ان کے خطوں میں مختلف اشعار ہوتے جو انھیں یاد تھے ،چند اشعار لکھ کر اُن کے موضوع کو آگے نہیں بڑھاؤں گی اوراگر اباجی کے خط مل گے تو وہ شامل کروں گی فی الحال اماں جی کے خطوں میں لکھے گئے  اشعار پڑھیۓ! میں سمجھتی ہوں گھریلوطور پر 6 یا7 جماعت پڑھی ایک نوجوان لڑکی کا ذوق بہترین تھا !۔
؎ وہاں ہے لطف ملنے کا جہاں دل دل سے ملتا ہے
وگرنہ یوں تو دریا بھی لبِ ساحل سے ملتا ہے !
؎ حُسن آئینہء حق اور دلِ آئینہء حُسن
دلِ انساں کو تِرا حُسنِ کلام آئینہ !
؎ ناصبور ہے زندگی دل کی
آہ ! وہ دل کہ ناصبور نہ ہو
؎ اے دل کہاں لے جاؤں اب کیسا ٹھکانہ ہے
اپنے بھی نہ ہوۓ اپنے یہ کیسا زمانہ ہے !
بجلی میں ہے پو شیدہ طوفان قیامت کا !
ہنسنا بھی تو دنیا میں رونے کا بہانہ ہے !
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ابھی مجھے اباجی کے اُس دور کے خطوط نہیں مل پا رہے ، لیکن ان کے طرزِتحریر کے لیے  ایک خط ملا ہے، لکھ رہی ہوں ، یہ پاکستان بننے کے بعد کااس وقت کا خط ہے جب اباجی کی تیسری اولاد خالدہ ،بہ عمر ڈھائی سال کے وفات پا گئی تھی ، ( میں اس کے بعد دنیا میں آئی) یہ بچی کچھ ایسی پیاری اور دلکش تھی کہ وہ صرف ماں باپ کے لیۓ ہی نہیں باقی بہت سے خاندان کے ممبرز بھی اُس سے بہت محبت کرتے تھے اور اس کی تین دن کی بیماری اور وفات نے ان سب کو بھی سخت غمزدہ کردیا، اباجی نے میرے ماموں جی کے افسوس کے خط کے جواب میں یہ خط لکھا ہے !۔
1949ء 29 مارچ، راولپنڈی ۔
برادرم یوسف ! السلامُ علیکم ،
پچھلی دفعہ جب تم تشریف لاۓتھے،اور ہم روٹی کھانے بیٹھے،میری چھوٹی بچی خالدہ میری گود میں تھی ،جب تم پانی پینے لگے تو خالدہ نے جھپٹ کر تمہارے منہ سے گلاس چھین لیا تھا۔ تمہیں اس کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ اور ہم دونوں ہنس پڑے۔تم کہنے لگے"سیلف ہیلپ(اپنی مدد آپ)" کا یہ فطرتی طریقہ کتنا بھلا تھا۔تم خالدہ کو اس سے ذیادہ نہیں جانتے ، اس کی طفلانہ معصومیت کی شعریت دیکھ ہی نہیں سکےتھے۔ مگر اب تم واپس آؤ گےتو میری ننھی خالدہ تمہارے ہاتھوں سے پانی کا گلاس چھیننے کے لیۓ موجود نہیں ہو گی ۔اجل کے بےرحم ہاتھ اسے اُٹھا کر دور کہیں حوروں کی محفل میں چھوڑ آۓہیں ۔تمہاری ہمشیرہ روتے روتے پاگل ہوئی جاتی ہے ، میں تو جذبات و محسوسات کی دنیا سے بھاگنے کے لیے احباب کی محفلوں کی پناہ ڈھونڈ لیتا ہوں۔ مگر اسے سمجھانہیں سکتا۔ تازہ زخم کا ذکر بھی نمک پاشی کے برابر ہے ۔دعا کرو کہ ہم اِس حادثے کو فراموش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ 
مگر ایک سرخ داغ ، جس کی تپش ہمیشہ زندہ رہے گی انمٹ ہو چکا ہے،،،،اُمید ہے تمہارا کورس ختم ہو رہا ہو گا ۔واپسی پر کہاں پوسٹ ہوگے ؟
السلام ،، احقر ظفرالحق قریشی ،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
(منیرہ قریشی ،3 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری)