‏سفرِتھائی لینڈ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سفرِتھائی لینڈ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 اپریل، 2018

سفرِتھائی لینڈ(7)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
تھائی لینڈ" (7) ( سفرِ تھائی لینڈ کی آخری قسط)۔"
آج ، 2009ء اپریل کی 6 تاریخ تھی ،، اور ہم نے 12 بجے تک ائیر پورٹ پہنچنا تھا ایک ڈیڑھ بجے،کی فلائیٹ سے واپس پاکستان جانا تھا جبکہ شاہدہ نے ابھی واپس ملائیشیا جانا تھا ،، لیکن ہم سب کی فلائیٹ پندرہ ، بیس منٹ کے وقفے سےتھی ، اس لیۓ ائیر پورٹ ہمیں ایک ساتھ ہی جانا تھا ،، اب رضیہ اور خطیر بھائی کو اللہ حافظ کہا ،، انکے کُک اور کپڑے دھونے والی خاتون کا بھی شکریہ ادا کیا ، اور اپنا سامان ، خطیر بھائی کی اسی بڑی گاڑی میں رکھوا یا ، جو ہمیں لینے آئی تھی،، تھائ لینڈ کی گنجان سڑکوں پر آخری نظریں ڈالتے ہوۓ ،،، تھائی لینڈ کے بہت ہی خوبصورت ، صاف ستھرے ، اور جدید ائیر پورٹ کے اندر داخل ہوئیں ،،، یہاں ملائیشیا جاتے ہوۓ آدھ گھنٹہ رکنا ہوا تھا ، لیکن اس وقت صحیح لائن پر پہنچنےاور دوسری کنکٹڈ فلائیٹ کی اتنی فکر تھی کہ ، اتنے جدید ائیر پورٹ کو سرسری نظر سے دیکھا تھا ،، اب چوں کہ گھنٹہ بھر پہلے جا کر بیٹھنا ہوا ، اس لیۓ خوب آرام سے ، جائزہ لیتے ہوۓ ،، دکانوں پر پھر سےنظر ڈالتے جب ذرا ریسٹ کا دل چاہا ،، تو ایک بہت خوبصورت بینچ پر براجمان ہوئیں ،، جیسا میں نے اکثر لکھا ہے کہ شاہدہ ،،، کی شخصیت میں خود اعتمادی کا عنصر نمایاں ، ہمارے ملائیشیا اور اب تھائی لینڈ کی سیر کو ، "یاد گار اور بھر پور" بنانے میں اس کا جو حصہ ہے ،، وہ ناقابلِ فراموش ہے ،،، وہ نہ صرف بولڈ ہے ، بلکہ نئے تجربے کرنے ، اور ان پر فوراًعمل کر بیٹھنا ،، چاہے وہ کچھ بولنا ہے ، کھانا ہے ، کہیں پہنچنا ہے ،، یہ سب اس کی ذات کی وہ کوالٹیز ہیں ، جو ساتھ کی " ہم جیسی " خواتین کو بھی جو ذرا محتاط قدم اُٹھانے کی عادی ہوتی ہیں ،، کو بھی پُر اعتماد کر دیتی ہے ۔ شاہدہ کے ساتھ ہم نے جب بھی سفر کیا ، پُر لطف وقت گزارا ،، چاہے وہ سفر چند گھنٹوں کا ہوا ،یا راتیں گزارنے کا ،وہ اپنی کمپنی سے دوسرے کو خوش رکھنے اور آسانی دینے کی کوشش میں رہتی ہے ،، ہم جب اس کی باتیں گھر میں کرتی ہیں ، تو یہ باتیں سن سن کر میری پوتی ملائکہ اور نواسی حمنہٰ ، نے خواہش ظاہر کی کہ" کاش ہمیں بھی شاہدہ آنٹی کے ساتھ سفر کا موقع ملے " اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے ، کہ ایک نئ نسل بھی شاہدہ جیسے خوشگوار " بزرگوں " کی صحبت چاہتی ہے ( لفظ بزرگوں پر اعتراض کرنا منع ہے )(: 😄😃😎وہ ایک ایسی گائیڈ ہے ، جو سیر کے دوران ، مکمل انجواۓ کراتی ہے ،، کبھی راہ چلتے ، پھیری والوں سے ، کھانے کی چیزیں لینا کبھی ، اجنبی زبانوں کے چند الفاظ سیکھنا ، تاکہ کہیں بولنا ہوا، تو " کچھ پوچھنے میں آسانی رہے،،شاہدہ ، میں جتنی خوبیاں ہیں ،،، یہ اپنے پیچھے والدین کے ہاتھ اور شوہر کے تعاون کی وجہ سے ہوں گی ،،، لیکن ذیادہ خوبیاں ، اس کے اپنے طور پر خود کو پالش کرنے سے آگے بڑھی ہیں ۔ وہ اپنے مسائل چاہے گھریلو ہوں یا باہر کے ،،، سکول کے ہوں یا سفر کے ،،، سبھی کو خود حل کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ، نہ ہو سکیں تب کسی دوسرے کو کہتی ہے ،،اس کی یہ خوبی بھی قابلِ تعریف ہے کہ جو کام کرنا ہے " گھنٹوں کا کام منٹوں میں " کر کے فارغ !!! ہمارے اس غیر ملکی سفر میں ، اللہ نے اسے وسیلہ بنایا ،،، اور ہمارا یادگار سفر ، اسکی دریا دلی ،، مہمان نوازی ، اور اَن تھک طریقے سے ، آۓ ہوۓ مہمان کو پورا وقت دینے کے اوصاف کی وجہ سے ممکن ہوا ، جو بہت کم لوگوں میں ہوتے ہیں ،،اس کی پُرخلوص دوستی پر ہمیں ناز ہے ۔
تھائ لینڈ کے صاف ستھرے ائیر پورٹ پر اس خوب صورت بینچ پر بیٹھے، شاہدہ کی نظر سامنے کی دکان پر پڑی تو وہ فوار" اُٹھی ، اور بیٹھتے ہی ، ہمیں بھی پیش ہوئ ،، جی ہاں ، املی ، اس کی کمزوری ہے ،، املی یہاں " پھلیوں " کی صورت میں ملی تھی ، ایمن ، ثمن نے بھی جھجکتے ہوۓ ، چکھا ،، اتنی مزیدار کہ ہم سب نے ختم بھی کر لی ، اسی چکھنے میں کوشش کے باوجود ، کچھ نا کچھ " پھلی کے ذرے " ، فرش پر گرے ۔ کہ ایک منٹ بعد ہی قریب ہی فرش صآف کرتی ورکر آئ ، اور مسکرا کر صفائ کی ،، ہم نے اسے معذرت بھی کی لیکن ، یہ ایکشن مجھے پسند آیا ۔ 
شاہدہ کی فلائیٹ کا اعلان ہوا ،، بےحد شکریہ کے الفاظ سن کر وہ واپس ہوئی ،، ہمارے ابھی بھی 20 منٹ رہتے تھے ، ظہر ہو چکی تھی ، سوچا نماز پڑھ لیتی ہیں ، ٹونز وں نے بتایا یہ "پریئر روم "چند قدم پر ایک " " نماز کا کمرہ بنا ہوا ہے ۔ ہم گئیں تو صاف ستھری نمازیں بچھی ہوئیں تھیں 10 تک کے نمازیوں کی جگہ تھی۔ اور باقی کمرہ دوسرے مذاہب کے لیۓ تیار کیا ہوا تھا ۔ نماز کے بعد ، پھر تازہ وُضو کے لیے باتھ روم گئیں تو وہ بھی صاف ستھرے ۔ (مجھے یاد ہے ! ہم حج سے واپس اپنے پنڈی کے ائیر پورٹ پر اُتریں ، ، تو میَں واش روم جانا چاہتی تھی ، لیکن میرے بیٹے نے منع کر دیا کہ راستے میں کسی پٹرول سٹیشن میں چلی جایۓ گا ،، یہاں صورتِ حال ابتر ہے ،)ہماری فلائیٹ کا اعلان ہوا ، اور ہم اپنے پیارے وطن کے لیۓ چل پڑیں ، وہ وطن ، جس میں دنیا کے ہر ملک میں موجود اگر کوئ نعمت ہےتو وہ ہر نعمت یہاں موجود ہے ،،، صرف رہنما ، صاف نیت و صاف دل مل جائیں تو زمین پر جنت یہ ہی ہے ، اللہ ہمارے وطن کو تاقیامت قائم دائم رکھے آمین ثم آمین !۔
میری دعا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی ، جو ذرا سا بھی خوشحال ہے ،، وہ سال میں ایک دفعہ اپنے کسی کم خوشحال رشتے دار کو ، یا سہیلی یا دوست کو ، اپنے گھر بلا کر ایک تفریحی ٹرپ کرواۓ ،،یا ، اپنے وسائل ہیں تو کسی دوسرے شہر میں چند دن کے یہ تفریحی دن گزرواۓ ،،، جب دوسرا بندہ خوش ہو گا ، اس کے اعصاب " ریلیکس " یعنی پُرسکون ہوں گے ،، تو وہ زندگی کے پُر آشوب دور سے نۓ سرے سے لڑنے کے قابل ہو جاۓ گا۔ ، اس وقت آپ کو یا اُسے محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی کو سکون کی دولت دے کر کتنی نیکی کما رہے ہوتے ہیں ۔ یہ صرف نیکی نہیں ، اپنے پیاروں کا علاج بھی ہو رہا ہوتا ہے کیوں کہ یکسانیت بیمار بنا دیتی ہے ،، زندگی کے مسائل سے لڑنے کا ،، اور اللہ کی دنیا کی خوب صورتیاں دیکھنے کا ،، یہ موقع دوسروں کو بھی دیں ،،،آپ کو بھی خوشیاں ،ملیں گی ، انشا اللہ !!!۔
( منیرہ قریشی 6 مارچ 2018ء واہ کینٹ )

جمعرات، 5 اپریل، 2018

سفرِتھائی لینڈ(6)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر "
 تھائ لینڈ" (6)۔"
اور اب " بریج آ ن دا ریور کواۓ " ،،، اسی کے تاریخی پُل سے اسی کے دور جیسی ٹرین رائیڈ کے بعد ہم فلوٹنگ بازار کی طرف رواں ہوۓ اور بَوٹ نے یہ فاصلہ جلدی نبٹا دیا ، اور جب ہم بوٹ سے اتریں تو وہ تیرتا بازار لکڑی کی خوب موٹی ، بڑی لمبی اور کچھ چوڑی آپس میں ، جُڑی گیلیوں پر مشتمل ، فرش تھا ، اِن گیلیوں کوآپس میں خوب مضبوطی سے جوڑا گیا تھا ،،، یہ ایک لکڑی کا بجرہ تھا ،،، جو دریا پر "کھڑی حالت میں تیر" رہا تھا ۔ جب اس پر اُتریں تو تھوڑا سا ، ہمارے قدم کا مضبوطی سے جما ہونا ضروری ہے ، یہاں چھوٹی بڑی چھابے ٹائپ دکانیں تھیں ، کچھ ریڑھیوں پر بھی سامان سجا ہوا تھا ،،، یہاں وہاں پھرنا ہوا ،، تو لگا یہ بازار کسی زمانے میں نزدیکی لوگوں کے لیۓ ضرورت رہا ہو گا ،،، لیکن کچھ مدت سے یہ سیاحوں کی کشش کے لیۓ " مینٹین " کیا جاتا رہتا ہے ،، اور سیاحت  میں ایک پڑکشش نام کا اضافہ سمجھیں ،، یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان کی وزارتِ سیاحت بہرحال سرگرم ہے ، تاکہ تھائی لینڈ کی اکانمی کی ایک بڑی آمدن کا گراف اونچا ہوتا رہے ،،، یہاں غربت کے اثرات ضرور ہیں لیکن بھکاری ، ذیادہ نظر نہیں آتے ،،، یہاں بھی درمیانہ طبقہ ، بزنس کر رہا تھا ، کئی ایسی چیزیں تھیں جو ابھی تک کے بازار میں نظر نہ آئیں اور ہم نے منفردسمجھ کر خریدیں ،، مثلا"بچوں کے تھائی کلچر کے مطابق بنے کھلونے ، بہت چھوٹے بچوں کے ایمرائیڈڈ ، فراک ، سلیپنگ سوٹس ، بڑی لڑکیوں کی کڑھائی والی ٹی شرٹس وغیرہ ( ضرور یہ گھر بیٹھی ، بزرگ خواتین کی کاوشیں ہوں گی) اسی دوران بھوک تو لگی لیکن ہمیں کوئی ریسٹورنٹ نظر نہیں آیا ، اب ایک طرف لائن سے سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیاں تھیں ،، باقی سب دکانوں پر ذیادہ تر خواتین دکاندار تھیں ، لیکن پھلوں ، سبزیوں کا کاروبار مرد چلا رہے تھے ۔ یہاں سے کچھ پھل خریدے ، اور ڈیڑھ گھنٹہ گزار کر واپس ہوئیں ، ابھی ہم اس فلوٹنگ بازار سے نکل رہیں تھیں کہ ایک دکان کے باہر کچھ اور چاندی کے برتنوں میں ایک " پان رکھنے کے لوازمات کا کافی بڑا پاندان، جس کےساتھ " سروتا " بھی ،رکھا ہوا تھا ا پنے برِصغیر کی چیز دیکھ کر شاہدہ کی رگِ ذوق پھڑک اُٹھی ،، اور جب ہم بَوٹ کے سفر کے بعد سیدھے وین پر بیٹھیں تو شاہدہ نے اپنے طور پر جِم کو " پان اور اس کے برتن " بارے میں کافی کچھ سمجھایا اور یہ بھی کہ یہ وہ برتن ہے جس پر ، گانے ، بھی بناۓ ہوۓ ہیں ،، لو اب تم یہ گانا سن لو " اور اس نے فورا"اپنے" اہلِ زبان پڑوسی" سے سیکھا ہوا گانا " اچھے نندویا سروتا کہاں بھول آۓ " نہ صرف پورا گایا ،، بلکہ اس کا مکمل ترجمہ انگریزی میں کر، کر کے بتاتی گئی ،، شاہدہ کی بولڈ ، اور تفریحی رگ پھڑک جاۓ تو وہ عمل کرنے میں دیر نہیں لگاتی ، اس طرح ، جِم کومحظوظ کیا ۔ اسے کتنا سمجھ آیا ، اس کا اظہار تو اس نے نہیں کیا ، لیکن شکر ہے ڈرائیور ، کو جسے ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا تھا ، ""پوچھ سکتا تھا ، کہ " مشرقی ممالک میں " نندوئی بےچارہ ایسا رشتہ تو نہیں جس پر تم لوگوں نے گانے بنا لیۓ ،،، """ ۔
"تھائ لینڈ کی " ڈامنین سڈوک فلوٹنگ بازار " پر سیر کا" ٹِک" لگایا ،، واپسی پر ہم سیدھے بنکاک کے مشہور شاپنگ مال ( اس وقت کا ) " رابنسن " میں جا اُتریں ،، کہ اب یہ بھی سیاحوں کی لسٹ پر ہوتا " تھا " ،، ( اب تو مزید مالز بن چکے ہیں )
یہاں( میری یاد کے مطابق )، 6 منزلیں تھیں جن میں سے 3 تو زیرِ زمین اور باقی اوپر ،، ہر طرف جانے کے لیۓ" برقی زینے" تھے ، چند سیکنڈوں میں ہر منزل پہنچ سکتے تھے ،، سامان کی بہتات نے چکرا کر رکھ دیا، خیر سب اپنی اپنی پسند کے فلور پر چلی گئیں ، اور ایک مخصوص جگہ ملنے کا، دو گھنٹے بعد کا وقت مقرر ہوا ،،، اور صرف دیکھنے دکھانے میں وقت گزرنے لگا ،یہاں رضیہ نے آنے کا کہا ہوا تھا ، اس لیۓ وہ ہمارے پھرنے ، پھرانے کے بعد ،پہنچی ہوئی تھی ۔اور ہمیں پرس اور جوتوں کی دکانوں کے بارے میں گائیڈ کرنے لگی ،، کوئی شک نہیں یہاں "جوتوں اور پرسسز" کی بہت ورائٹی تھی اور کم قیمت بھی کہ پاکستانی ایک روپے کے بدلے میں ، دو بھات تھے ،،، اس لیۓ یہاں اپنی تحائف کی لسٹ کو پورا کیا ۔ اور واپس گھر کو آئیں ، اب کل تھائی لینڈ میں ہمارا آخری  روز تھا جو خاصا مصروف دن ہونا تھا ۔ اس لیۓ پیکنگ شروع کر لی کیوں کہ یہاں سے شاہدہ نے واپس ملائیشیا اور ہم نے پاکستان جانا تھا،،، اگلے دن حسبِ معمول " جَم " معہ ڈرائیور اور بہترین وین کے ، صبح سات بجے موجود تھی ،، ہم نے اسے انتظار نہ کرایا ۔ اور جب ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہاتھیوں کے " ڈرامے " یا شوٹنگ کی جگہ پہنچیں تو بہت کم سیاح موجود تھے ،، آس پاس پھرنے میں وقت گزاری بھی کی ، اور تصویر کشی بھی چلتی رہی ،،، یہاں ہاتھیوں کا بہت بڑا " باڑہ" تھا جہاں بڑے اور چھوٹے ہاتھیوں کو الگ الگ رکھا گیا تھا خاص طور پر درمیانے سائز کے ہاتھی بالکل الگ باڑے میں تھے۔ جِم اور شاہدہ کے درمیان  گفتگو میں معلومات تو مل ہی جاتی تھیں، کچھ ذاتی نوعیت کی باتیں بھی ہو جاتیں ،،جَم نے بتایا اس کے چار بچے ہیں جو مختلف عمروں کے ہیں ، شوہر بہت کم کما پاتا ہے ، اور اس کی غیرموجودگی میں بچوں کی نانی یا دادی انھیں سنبھالتی ہے،،، عورت ! دنیا کے کسی خطے ، کی ہے اگر گھر میں معاشی کمزوری ہے ، تو شوہر ، بھائی یا باپ کے ساتھ ، کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو جاتی ہے ، کچھ نا کچھ کرتی ، کماتی اور بچوں ، کے منہ کو دیکھتی انھیں کچھ خوشی دینے میں کوشاں ہوتی ہے ،،، مرد ضرور کماتا ، محنت کرتا چلا جاتا ہے ، اگر ایک دفعہ نکمےپن کا چسکا لگ جاۓ ، تو خود کو بےشرمی ، اور ہڈ حرامی کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے ، اب اسے عورت کے کام کرنے اور اپنے گھر میں ایک بے کار رکن بننے ،،، لیکن منہ کھولنے والا بننے میں کوئی شرم نہیں رہتی ۔،،،،،،، جِم شاہدہ کی نفیس ایمبرائیڈڈ چھوٹی شرٹ کی بار بار تعریف کرتی تھی ، بلکہ اِس دن اس نے فرمائش بھی کر دی کہ اگر ہو سکے تو مجھے ایسی شرٹ ( جو جینز پر پہنی جاتی ہے) پاکستان سے بھجوا دینا ۔ 
اتنے میں سیاحوں کے اکٹھے ہونے اور شو شروع ہونے کی اطلاع کے لیۓ ہاتھ کی گھنٹی بجاتا آدمی ، ادھر اُدھر پھرنے لگا ،، ہم ایک لکڑی کی بنچوں والے چھوٹے سے سٹیڈیم میں داخل ہوۓ ، بیٹھتے ہی ایک اناؤنسمنٹ جو، انگلش اور تھائ زبان میں تھی ،،بتایا گیا کہ ہاتھی ، پہلے زمانے میں کتنے ذیادہ تھے لیکن ، بھاری سامان ڈھونے ،، جنگوں میں ہاتھیوں کے استعمال ، نے اس نسل کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ، ہاتھی کے دانتوں کی دولت کو حاصل کرنے کے لیۓ شکاریوں نے پہنچایا ،،، یہ ایک ذہین ، زیرک ، لیکن تیز ترین یاداشت رکھنے والا ایسا قوی ہیکل جانور ہے جسے انسان نے اپنی عقل ، و ذہانت سےقابو کیا اور اس سے کام لیا ، اب اس سے جنگوں میں جو کام لیا جاتا تھا ایک ہلکا سا اس کا عکس ، ڈرامائی اندازمیں دکھانے کے لیۓ آمنے سامنے کچھ بڑے کچھ درمیانے ہاتھی کھڑے ہو گۓ ، ان پر بیٹھے مہاوت اور مزید آس پاس کے فوجی ،، دو مختلف وردیوں میں ملبوس دشمنوں کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ پہلے تو کچھ تلواروں اور تیروں سے جنگ ہوئ ،ہاتھی پوری ، توجہ اور محنت سے آگے ، پیچھے ،ہو رہے تھے ،،، جیسے انھوں نے خود کو اُسی زمانے میں پہنچا ہوا محسوس کر لیا ہو ،، اور ایک فریق نے جب دوسرے کو پچھاڑ لیا ،،، تو دشمن فوج کے ہاتھیوں کو ،،، جیتنے والے ہاتھیوں نے دھکیل دھکیل کر میدان سے باہر کیا ،، یہ ایک دلچسپ منظر تھا،، دوسرا ، ایکٹ پرا نے دور کی توپ اور گولوں کے اور بارود بھر کر چلائی جانے والی بندوقوں کا دکھایا گیا ۔ اس میں بھی دو فریق بناۓ گۓ تھے ،، جن کی وردیاں فرق تھیں ۔ اب ایک قلعے کی دیوار اور برجیاں بھی نظر آ رہیں تھیں ، اسی کی برجیوں سے بارود بھری بندوقوں کا مظاہرہ کیا گیا کچھ پیدل فوجی ،بھی لمبی نال والی بندوقیں تھامے ، خوب لڑائ کا منظر دکھا رہے تھے ! اتنے میں توپ کے گولوں کی دھائیں دھائیں سے ماحول خاصا گرم ہو گیا ، چند چھوٹے بچوں نے پریشان ہو کر رونا شروع کر دیا ۔لیکن اس سارے شور و غُل میں ،دو حریفوں کے  مابین حملوں میں ہاتھیوں کی " ایکٹنگ "لاجواب تھی ! ۔
دونوں طرف پانچ پانچ ہاتھی تھے ، کچھ بڑے کچھ چھوٹے۔ اور اس طرح ایک مکمل ایکٹ ختم ہوا اور 10 منٹ کے وقفے کے بعد ،،،، آخری آئیٹم تو ہم بڑوں اور چھو ٹوں سبھی کی دلچسپی کا تھا ، یہ تھا " فٹ بال میچ " ،،، اس میں چھوٹے ہاتھیوں کی شمولیت تھی ،، پہلے کی طرح دو ٹیمیں ،، لیکن ریفری صاحب ذرا بڑا ہاتھی تھا۔ اس نے سونڈ کے ذریعے سیٹی بجائ ۔ میچ شروع ہوا ، اور فٹبال کو ڈی میں پھینک کر گول کیا گیا ،اس ایکشن میں جس مہارت اور دلچسپ انداز اپنایا گیا ،،، اس نے ناظرین کو بار بار تالیاں بجانے پر مجبور کر دیا۔ خاص طور پر جب گول کی کامیابی ملتی تو چھوٹا ہاتھی ، خوشی سے " ہپس " ( میرا پشتو بولنے والے پوتے نے بتایا تھا کہ ہپس کو " کُناٹے " کہتے ہیں ، میں نے شاہدہ کو بتایا ہوا تھا ،، وہ اس لفظ کو بے شمار جگہ استعمال کر کر کے انجوۓکرتی رہی ) کے بل بیٹھ جاتا اور اگلی دونوں ٹانگوں اور سونڈ کو ہوا میں لہراتا ، یہ بالکل بچوں جیسی خوشی کا اظہار تھا ، جو حاضرین کی بھی ہنسی ،اور خوشی کا باعث بنتا،،، یہ میچ ختم ہوا تو ابھی دوپہر کا صرف ، ایک بجا تھا۔
اب جِم ہمیں ، قریب ہی چند منٹ کی ڈرائیو پرایک اور شو دکھانے لے گئ ، میں تو ہر جگہ اور ہر شو کو انجواۓ کر رہی تھی،، لیکن اب دیکھاۓ جانے والا شو نے تو مجھےمسحور کردیا ۔ یہاں ایک چھوٹے سے ہال میں بس سو کے قریب لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ بس چھوٹا سا ہال ،،، اور اس میں دبلی سمارٹ لڑکیاں، تھائ رنگا رنگ لباس میں ، خوب صورت میک اَپ میں ، ان کے ساتھ انہی کی طرح کے دبلے لڑکے تھائ لباس میں ،، ان لڑکوں کے ہاتھوں میں لمبے لمبے بانس تھے ،،، انہوں نے پہلے ہلکے ردھم میں بغیر بانسوں کے ڈانس کیا ، پھر ان کا وہ دیہاتی ڈانس شروع ہوا ، جو بہت دلچسپ اور مہارت کا ثبوت تھا ، ( شاید یہ ان کا روایاتی ڈانس بھی تھا ) ایک لڑکا ، دو الگ الگ بانس کے ایک طرف کے سرے پکڑے ہوۓ تھا اور دوسرا لڑکا انہی بانسوںکا دوسرا سرا پکڑے ہوۓ تھا۔ بانسوں کو خاص طریقے اور ردھم سے بجانا شروع کیا ،جب ایک یا دو نازک لڑکیاں ان بانسوں کو فرش پر بیٹھے اور جلدی جلدی بجاتے بانسوں ، سے مہارت سے اپنے پاؤں کو کھلتے ، بند ہوتے خلا میں ڈالتی ، اور نکالتیں ،،، اور اس دوران ان کے باقی جسم میں ناچنے کی کیفیت موجود رہتی ،، لیکن کیا مجال پاؤں ، بانسوں کے بجنے اور آپس میں ٹکرانے کے دوران بیچ میں آجاۓ ،،، اور یہ سب جب بہ یک وقت ، 6 لڑکیاں کرتیں تو ، بجتے بانسوں کے ردھم میں نزاکت ، اور مہارت کا خوب صورت " امتزاج " نظر آتا ۔ یہ چھے تتلیاں ڈولتی ، اُڑتی ، پاؤں کو چابکدستی سے بچاتیں ،،، تو یہ سب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ،،، اسے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ اب تو گھر گھر اور ہاتھ ہاتھ میں  انٹرنیٹ کی سہولتیں ہیں ،، اس میں یہ ڈانس دیکھیں گے تو آپ کو بھی پسند آۓ گا ،،ایک گھنٹے کا شو دیکھ کر باہر لان میں آئیں تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امریکی یا برطانوی ، تین بہت بزرگ خواتین اپنی چھڑیوں کے سہارے ، اور اپنی اپنی مددگار نرسسز کے ساتھ ، ہال سے نکل رہیں تھیں ،، وہ ہم سے ذیادہ لمبے سفر کر کے آئیں تھیں ، اور ان کی عمریں 80 یا 85 کے درمیان ضرور تھیں ۔ لیکن " دنیا دیکھنے " یا" گھر سے نکلنے" کے لیۓ ان کے جذبے کو ہم نے سراہا ۔ علم حاصل کرنے اور سیرِدنیا کی کوئ عمر نہیں ہوتی ،،، اور ہونی بھی نہیں چاہیۓ۔
باہر لان میں چند وہ لوگ کھڑے تھے، جو اسی ادارے کے ملازم ہوں گے ،،، ان میں سے دو تین نے بہت بڑے سانپ اور اژ دہے اپنے گلوں میں ڈالے ہوۓ تھے ،، اور ٹورسٹس کو دعوت دے رہے تھے کہ اژ دہے کو گلے میں لٹکا کر تصویر اتروائیں ،،، کچھ جرات مندوں نے جراؑت کرلی ،،، ہم انھیں دیکھتے ہوۓ اپنی وین کی طرف آگئیں ،،، اب ڈھائی بج چکے تھے جب جِم نے خوشگوار اطلاع دی کہ ہم راستے میں ایک جگہ شاندار لنچ کریں گے ، جو اسی پیکج میں شامل ہے ،،، اور ابھی باتیں ختم ہی ہوئیں تھیں کہ اس ریسٹورنٹ تک پہنچ گئیں ، یہ ایک خوب صورت اور وسیع ہوٹل تھا ، اس کے ایک ہال تک جِم نے رہنمائ کی ،، وہاں دو الگ بہت بڑی میزیں رنگا رنگ کھانوں سے لدی ہوئیں تھیں ،،، اس نے اشارہ کیا ، " اس طرف مسلم حلال فوڈ ، اور میں دوسری طرف جا رہی ہوں ،، یہ کہہ کر وہ چلی گئ ، اور ہم چند مختلف دوسری قومیتوں کے ساتھ اپنی میز کی طرف آئیں اور شاہدہ کی تجویز پر سب سے پہلے مختلف قسم کے سُوپ ، تھوڑے تھوڑے ، چکھے ،،، اور یہ سب بہت اچھے  ذائقے کے تھے ! اب تلی مچھلی اور نوڈلز ، اور نامعلوم عجیب شکلوں والے کھانے کھاۓ ،، لیکن " میٹھے " کا تو جواب ہی نہیں ۔ اور ہم نے اپنا پیٹ ذیادہ اسی سے بھرا۔ اور جب جِم واپس آئی ، تو ، ہم میٹھے یا ڈیزرٹس سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں ،،، ٹونز عمر کے اس دور میں تھیں ، جب کھانے میں بہت مخصوص " پسند ، نا پسند " چلتی ہے ۔
اب جَم اور ڈرائیور اور " آرام دہ وین " سے الودع کا وقت آگیا تھا ، ہوٹل پہنچ کر ان دونوں کو ، اتنی ٹپ ضرور پیش کی ، کہ ان کے چہرے کھِل گۓ ،، اور جم کا چہرہ مزید کھلا جب ، شاہدہ نے اوپر کمرے میں جا کر اپنی شرٹ جو جِم کو بہت پسند آگئی تھی ، بدلا کر استری کر کے لفافے میں اچھے طریقے سے ڈال کر اسے پیش کر دی ،، اور کہا کیا پتہ پاکستان پہنچ کر میں بھول جاؤں ، تو کیوں نا ابھی اپنی پسند کی چیز لے لو ،،، وہ تو خوشی سے اس کے گلے لگ کر شکریہ کہنے لگی ،، اور دعاؤں کے ساتھ اللہ حافظ کہا ۔
( منیرہ قریشی 5 اپریل 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 4 اپریل، 2018

سفرِتھائی لینڈ(5)۔

"سلسلہ ہاۓ سفر"
تھائی لینڈ" (5)۔"
تھائی لینڈ میں ہمارا تیسرا دن ختم ہو چکا تھا اور باقی دو دن رہ گۓ تھے ،،، اور ہم تھائی لینڈ کی چند گلیوں سے متعارف ہوۓ تھے،، والا حساب تھا ،، شیڈول ٹپیکل سیاح والا تھا ،،، یہ اور یہ دیکھنا ہے ،،، دیکھ لیا تو چلو " ٹِک " لگاؤ ،،، آگے بڑھو !!! 
خیر آج نیا دن ، نئے جذبے سے سرشار طلوع ہوا ہے ، صبح سات بجے جِم آ چکی تھی ، لیکن کوشش کے باوجود ساڑھے سات بج ہی جاتے ،،، وین میں بیٹھتے ہی اس نے بتایا ، آج ہم دو اہم ترین جگہوں کا وزٹ کریں گے ،،، ایک مشہور و معروف دریا " کواۓ " ،، جس پر دوسری جنگِ عظیم پر انگریزوں نے پل بنایا ،، لیکن یہ پل انگریزوں نے قیدیوں کی صورت میں بنایا ۔ یعنی جب انگریز تھائی لینڈ پر قابض تھے ،، توکچھ ہی سال میں جاپانی فوج آگئی ، نہایت بہادری اور سمجھ داری سے تھائی لینڈ پر موجود، انگریز فوج کو ناکام کیا ، انھیں قیدی بنایا ، اس دریا پر کوئی  پل ایسا نہ تھا کہ ٹرین گزر سکے ،، جاپانیوں کے پاس اس وقت اس کے انجینئرز نہ تھے ، انھوں نے انگریز ، کمانڈر سے کہا ، پل تو تمہیں بنانا ہی ہوگا ورنہ ،،،،، اس ، ورنہ ،کے نتائج کچھ بھگتے ، کچھ خود بھی " وقت کا تقاضا ہے " کو سمجھا اور ایک مضبوط پُل بن گیا ،،، اس مشہور پل پر ہالی وڈ نے زبردست فلم بنائی " بریج آن دا ریور کواۓ" ،،، ( کسی زمانے میں ہم بہنوں نے یہ فلم اباجی کے ساتھ سینما ہاؤس میں دیکھی تھی ) اور آج اسی " فلمی بریج " کو خود دیکھنے جا رہیں تھیں ۔ بہت آرام دِہ وین ، خوش گوار گائیڈ ، اور نارمل موسم نے لمبا سفر بھی چھوٹا بنا دیا ،،، لمبے سفر سے مراد ایک گھنٹے کی ڈرائیو تھی ،، حالانکہ تھائ لینڈ بہت خوش حال ملک نہیں لیکن سڑکیں بہت اچھی تھیں ( کم ازکم 2009ء میں ) جب ہم " کواۓ دریا " تک پہنچیں ، تو ابھی صبح کے ساڑھے نو یاپھردس بجے تھے ۔ وین سے اتر کر پُل کو بغور دیکھا ،،،یہ ویسا ہی مضبوط پل تھا جیسے ہر ملک میں ہو سکتا ہے ، خوب بھاری پلرز ، لوہے کا خوب استعمال ، اور سادہ ، مگر ناقابلِ شکست ، ، یوں لگا جیسے پل کہہ رہا ہو " مجھے شہرت اس دریا سے اتنی نہیں مل سکتی تھی جتنی اس پر قربان ہونے والوں کی یاد پر مبنی فلم نے دی " " میَں تو ویسا ہی بریج ہوں ، جیسا تمہارے ملک میں " اَٹک َ کا پل " ( انگریز دور کا پل جو اپنی مدت پوری کر چکا ، تو اس کے برابر نیا پُل بنا دیا گیا ہے ، لیکن اُس پرانے پل کو گرایا نہیں گیا ، تا حال موجود اور دیکھ بھال کی جاتی ہے لیکن ٹریفک کے لیۓ بند ہے)،
اِس پل پر جو ٹرین چلتی ہے ، وہ اِنھوں نے پرانی "کُوک چھِک چھِک"
والی رکھی ہے ۔ ایک تو یہ پل اور اس کی ہسٹری کا تقاضا بھی یہی تھا دوسرے 
، سیاح ، " ہالی وُڈ" کی فلم سے اتنے متاثر اور " فیملیئر" تھے کہ یہ ٹرین ہی صحیح تھی ۔ پُل کے آس پاس ریڑھی بازار تھا ،، ماحول ، کچھ مایوسانہ سا تھا ،، کوئی قابلِ ذکر بازار یہ ریسٹورنٹ نہیں تھے ( میں پھر لکھ دوں کہ کم ازکم اُس وقت ) لیکن ہم نے انہی ریڑھی بازار سے بچوں کے لیۓ تھائی لینڈ کے روایاتی کپڑے خرید لیۓ جن پر ہاتھی بنے ہوۓ تھے ،، اور بند گلے ، کی شنگھائی کی شرٹ اور پاجامے ، جو شنگھائی کے مخصوس پرنٹ میں تھے ، اور ہمارے بچوں نے انھیں رات سونے کے لباس کے طور پر پہننا تھا ۔ کہ اسی دوران ٹرین کی آمد ہوئی ، ٹکٹ لیۓ جا چکے تھے اور یہاں وین اور جِم دونوں نے ہمیں ایک اور پوائنٹ پر ملنا تھا ،، اور کچھ اپنے ضروری کام کا کہہ کر وہ چلی گئ ۔ اب ٹرین کے ڈبے میں بیٹھے ، تو دیکھا اس میں جدید کوئی  چیز نہیں لگائی گئی ،، بہت صاف ستھری ، لکڑی کی بنچیں بیٹھنے کے لیۓ ،،، اورفرش پر کوئی کارپٹنگ نہیں ، ،،، ٹرین چلنا شروع ہوئ تو آس پاس کے گزرتے نظارے دیکھ کر دل نہال ہو گیا ، یہ" ٹرین رائیڈ" تھی ۔۔۔ جِم نے بتا دیا تھا کہ بوٹ سے بھی سفر ہو سکتا ہے ، اور ٹرین سے بھی، ٹورسٹ کی اپنی مرضی ،،، ہم نے ٹرین کو ترجیح دی ۔ اور اب گزرتے مناظر دل خوش کر رہے تھے ،، راستے بھر سرسبز ، کھیت ، باغات ، یا میدان تھے ، نیز ہر کچھ منٹ کے بعد سبز باڑ کوکبھی ، رائینو ، کبھی جراف ، کہیں لڑکی ، کہیں ہاتھی ، کہیں دل کی صورت میں تراشا گیا تھا ،، اور اس طرح پورے ایک گھنٹے کی "ٹرین رائیڈ " نے تو جیسے پیسے پورے کر دیۓ بلکہ ہمیں بہت کچھ دے ڈالا !! ٹرین میں چار تو فرانسسی ٹورسٹ تھے ، اور ایک ٹرکش فیملی تھی ،،، ہم سب آپس میں " صرف مسکراہٹ کی زبان " "بول " رہے تھے کہ کسی کو انگریزی نہیں آتی تھی ، اور ہمیں فرنچ یا ٹرکش نہیں آتی تھی ،، لیکن جب کچھ دیر بعد ہی فرنچ گروپ نے اپنا کوئ جوشیلا گیت گانا شروع کیا تو سب نے ان کے ردھم کے ساتھ تالیوں میں ساتھ دیا ۔ اور ایک مدت بعد میَں نے ایک نظم لکھی ( 2017ء میں ) تو شاید وہ پرانا تجربہ بھی ذہن میں رہ گیا ہوگا ۔۔۔
"مسکراہٹ اور موسیقی "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
عالمی طریقہء دوستی ،،،
عالمی زبانِ محبت ،،،
عالمی جذبہء قُربت،،،
عالمی جُبہ و دستار ،،،
عالمی رقصِ گُفتار ،،،
مسکان و موسیقی،،،
لیکن زبانیں !!؟ ،،لکیریں اور فاصلے
عالمی جذبہء نفرت ،
عالمی اجازتِ کدورت ،
( متفق ہونے کی ضرورت نہیں ، یہ میں نے تب لکھی تھی جب اوپر لکھے گۓ تجربے سے ایک مرتبہ پھر سابقہ پڑا تھا )
فرنچ نغمہ ختم ہوا تو ٹرکش جوان العمر لڑکوں نے اپنا نغمہ الاپا ،، وہ اس پر ہلکا ہلکا جھوم بھی رہے تھے لیکن فرنچ خاتون اور ایک مرد نے تو ان کا باقاعدہ ڈانس کر کے ساتھ دیا ،، جو ختم ہونے پر تالیوں سے سراہا گیا ،،، ٹرین رائیڈ ختم ہوئی تو ایک مرتبہ پھر میَں اس منظر پر دل وجان سے عاشق ہو گئی جہاں ہم اتر ے ،،کہ ایک تو نہایت سرسبز ماحول ، آبادی نام کی چیز نہ تھی ، سیاحوں کو اتار کر ایک طرف ایک ریسٹورنت کی طرف لے جایا گیا جہاں صرف چاۓ ، کافی ، قہوہ ، ملنا تھا ،، لیکن اس کا نظارہ ،، تو بس دل موہ لینے والا ،، ایک سرسبز ٹیلے پر چڑھتے ہوۓ یہ بانس کے چھت ، بانس کے فرنیچر ، اور بانس کے پِلرز پر مشتمل ریسٹورنٹ دل کو نہ بھا جاۓ ، تو یہ ممکن ہی نہ تھا ،،اس سادہ اور " اوپن ایئر " قسم کے ،ریسٹورنٹ کا اونچائی پر ہونے کی وجہ سے دور تلک نظارہ کیا جا سکتا تھا ،، جب آرام سے بیٹھیں ، تو بائیں طرف دیکھا تو ذرا نیچے کی جانب بہت بڑا " شترمرغ " کا فارم نظر آیا ، جہاں 50 ۔ 55 کے قریب شترمرغ ، پِھر رہے تھے گویا " نیچر اپنے مکمل حسن کے ساتھ ہمارے سامنے تھی ۔ چاۓ ، یا کافی سے ذیادہ تو دلکش نظارے نہیں خاموش کر دیا تھا ۔ لیکن شاہدہ ، جوجی اور میں نے چاۓ لی ، بچیوں نے بسکٹ سے دل بہلایا ،، یہ قیام بس 20 ، 25 منٹ کا رہا لیکن ،، مجھے آج بھی اس کا متاثر کن ، ماحول یاد آتاہے ۔۔۔ یہاں جِم ، معہ ڈرائیور اور وین کے حاضر تھی ،،، اس نے بتایا بس اب آپ کو ایک بوٹ میں بیٹھنا ہو گا ،، لیکن میں اس بوٹ کے دوسرے سٹاپ پر ملوں گی ،، وہ وین میں ہمیں دریا کے کنارے لے گئی ،،، جہاں سے ٹکٹ لیۓ گۓ ،، بوٹ بہت بڑی نہ تھی اس لیۓ صرف ہم پانچ ہی اس پر بیٹھیں ،،، اور 15، 20 منٹ کے بعد تھائی لینڈ کے " فلوٹنگ " بازار کے کنارے اُتر رہیں تھیں ۔! 
( منیرہ قریشی ، 4 اپریل 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

منگل، 3 اپریل، 2018

سفرِتھائی لینڈ(4)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
 تھائی لینڈ" (4)۔"
آج ہم نے بہت خاص شو دیکھنے جانا تھا ،، جو دنیا میں سب سے منفرد ، اور بہت خاص سمجھا جاتا ہے ، یہا ں یہ اپنی تھائی زبان میں " سیام نرامٹ شو" کہتے ہیں ،، اور تھائی لینڈ پہنچتے ہی خطیر بھائی نے بھی تجویز دی تھی کہ اگر یہ نہ دیکھا تو تمہارا تھائی لینڈ کا سفر ادھورا سمجھا جاۓ گا ،،، یہ ایک ایسا سٹیج شو تھا جو قریباً سہ پہر میں شروع ہونا تھا ،،، اس لیۓ صبح کا وقت ہم نے " جم " کو کہیں اور لے جانے کا کہا تو وہ سیدھی شاپنگ کے لیے،،، ایک ویسے ہی روایتی بازار لے گئی ،،، جیسے ہمارے ہاں " پنڈی کا موتی بازار یا راجہ بازار " ہے ،، یعنی سستی اور وافر ورائٹی ،، لیکن اس بازار میں ہمیں ایسی کوئی خاص چیز نہ ملی جو بہت متوجہ کرتی ، البتہ خوبصورت ، ایمرائڈڈ ( کڑھائی والے) چھوٹے ، بڑے پرس مل رہے تھے ، جو منفرد نظر آۓ ،، انہی میں سے میَں نے اپنی بیٹی کے لیۓ، ایک ذرا بڑے سائز کا ، اور جوجی اور شاہدہ نے چھوٹے پرس خریدے ۔ اور پھر اتنا وقت رہ گیا کہ ، ہم " سیام نرامٹ " شو کی طرف چلے اور ذرا آدھ گھنٹہ پہلے پہنچے ، ایک خوب صورت لان میں  داخل ہوتے ہی ٹکٹ گھر تھا ، جس کے باہر خوب سجی سنوری ، پر کشش ، " جوان خواتین " کھڑی تھیں ،، جن کے ساتھ سیاح تصویریں اتروا رہے تھے !! اور لان کے بعد ایک اور اینٹوں کے پرانے طرز کے فرش والے احاطے میں داخل ہوۓ۔ جہاں درمیان میں ایک فوارہ لگا تھا ۔ آس پاس خوب صورت پیڑ پودے اور پھولوں بھری کیاریاں تھیں ، ہم ہر لمحہ اور ہر منظر شوق سے دیکھنے لگیں ، شاہدہ ،نے جم کے ساتھ جاکر ٹکٹ لیۓ ہم احاطے میں پھیلے ، غیر ملکی سیاحوں ، اور انکے ہر منظر کی مووی بناتے ، اور تصویریں لیتے دیکھ رہیں تھیں کہ چند نازک اندام، خوب صورت میک اَپ اور کاسٹیوم میں ملبوس " لڑکیاں ، اور لڑکے، چھم چھم کرتے تیزی سے اس فوارہ کے گرد آ ن پہنچے۔ ہم سب انھیں دلچسپی سے دیکھنے لگے، ، ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ اس شو کے ایکٹرز ہیں ، جو اپنے سٹیج کی طرف جا رہے ہوں گے لیکن یہ وہیں ایک ڈرامہ سا کرنے لگے کبھی دو تین لڑکیاں کسی پود ے یا جھاڑی کے پیچھے چھپتیں اور ، ایک دو لڑکے انھیں ڈھونڈنے کا ایکٹ کرتے ،، یہ فلمی سین 15 ، بیس منٹ تک چلا ۔ اتنے میں ایک خوب بڑا ہاتھی جھومتا ہوا آیا ، اس کے مہاوت نے اسے سجایا سنوارا ہوا تھا ، جم نے بتایا کہ اگر آپ کو ہاتھی کی سواری سے دلچسپی ہے تو ٹکٹ لیں اور 10 منٹ کا ایک چکر لگا لیں ۔ ہم سب نے تو نہ کر دی ، لیکن کچھ دوسرے سیاح خواتین و حضرات ، نے ٹکٹ لیۓ ، ہاتھی کو ہر چکر پر بٹھایا نہیں جاتا تھا بلکہ ، اس کے ہودے کے ساتھ چھوٹی سی سیڑھی لگائی جاتی اور ٹورسٹ چڑھ جاتے ،، اس منظر کے 20 منٹ بعد ہی اعلان کیا گیا کہ ہال کی لابی میں آجائیں ، اور اپنے کیمرے اور موبائل ایک کاؤنٹر پر جمع کروا دیں ۔ ،، پتہ چلا کہ وہ اپنے اس شو کو مکمل طور پر دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتے ، بس جزوی فلم لینے دیتے ہیں ، لیکن اجازت کے ساتھ ، ہال کافی بڑا تھا ، 500 تک لوگ بیٹھ سکتے ہوں گے ، لیکن آج سو یا ڈیڑھ سو لوگ بیٹھے ہوۓ تھے ۔ چند منٹ بیٹھنے کے بعد تک لائٹ لگی رہی ، اور پھر اندھیرا چھا گیا ،،، سٹیج بہت بڑا تھا ،، پردہ ہٹا اور ،، نہایت خوب صورتی سے تھائی لینڈ کی کہانی ، کرداروں ، ایکشنز اور بدلتے مناظر سے دکھائی جانے لگی ۔ یہ کہانی چند دیہاتی عورتوں ، مردوں کی جدوجہد سے شروع ہوئی،، جو اپنے بھیڑ بکریوں کے ساتھ ، ہجرت کرتے ہوۓ شہر آتے ہیں اور پھر وہ کون سی مزدوریاں کرتے ہوۓ ، مشکلات جھیلتے ہوۓ ، کہاں تک پہنچتے ہیں ،،، مناظر اتنے ترتیب سے اور تیزی سے بدلتے رہے کہ ، لگتا تھا کہ ہم جیسےفلم دیکھ رہے ہوں ،، مناظر کی تبدیلی میں اتنی زبردست " ٹائمنگ "تھی کہ جیسے سامنے جیتے جاگتے لوگوں ،اور جانوروں کو نہیں دیکھ رہے ،، یہ کہانی اچھے انجام تک ختم ہوئی ، اور فوراًدوسری ، س کہانی ایک مانجھی ، اسکی کشتی ، اس کی لَو سٹوری ، اس کی بہادری ، جو وہ موجوں سے ٹکراتا ، اور فتح یاب ہوتا ، دکھایا گیا ،،، یہ سب لکھتے ہوۓ میرا تو ایک جملہ بن رہا ہے لیکن یہ سب منظر اتنے خوبصورتی سے لپیٹے جارہے تھے کہ ہال صرف کبھی کبھی تالیوں سے جاگتا ،، ورنہ " دم بخود " رہ جانے والا معاملہ ہو چکا تھا ۔ اس مانجھی کی لَو سٹوری کے مناظر میں باغ ، کی تتلیوں ، اور شہد کی مکھیوں کا سین نا قابلَ یقین حد تک تھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے قد و قامت کے ایکٹرز ، پتلی اور نظر نہ آنے والی تاروں پر جس طرح " اُڑتے ، پھرتے " نظر آرہے تھے ، اور ان کا پرَوں کو مسلسل ہلانا ، یہ سب سٹیج کے ہدایتکار ، اور سٹیج سجانے والے کے کما لات تھے ،،، اس کے بعد ایک اور سٹوری شروع ہوئی جس میں ایک نیک بادشاہ ، شہزادی اور موت کے بعد بادشاہ کو نیکیوں کی وجہ سے جنت میں جانے ، اور پھر جنت کے منظر ،،، بس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ، جس نے بھی اس کہانی کو تخلیق کیا تھا ، جنت کے انتہائی خوب صورت مناظر کو کافی حد تک امیج میں لانے کی کوشش کی تھی ۔ بادشاہ کے دربار کے منظر اور شہزادی کے ہاتھی پر پہنچنے کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا تھا کہ ہال کے اندر ، خوب ، بڑے بڑے دو ہاتھی داخل ہوۓ ، اور حاظرین و ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ کے درمیان جو جگہ بنی ہوئی تھی وہاں سے گزر کر سٹیج کی طرف گۓ ،،، اور ہال میں اندھیرا ہونے کے باعث قریب سے گزرتے ہاتھیوں کا احساس ذرا بعد میں ہوا ،،، ورنہ کافی " چیخیں " اُبھرتیں ،،، یہ مناظر اتنے " نارمل اور قدرتی " انداز سے وقوع پزیر ہوتے چلے گۓ کہ لطف آگیا ۔ لیکن اگلے مناظر جنت کے تھے ،، جو نیکو کاروں کی جگہ تھی ، اور یہاں فرشتے ، حسین ملبوسات ، حسین شکلوں میں انہی اَن دیکھی تاروں پر اِدھر اُدھر اُڑتے تو انکی تیزی میں بھی آہنگ ، اور ردھم تھا ،،، یہاں پھولوں پر بھنبھناتے بھنورے ، تتلیاں ، اور شہد کی مکھیاں سبھی چھوٹے قامت کے ایکٹرز تھے ، جن کے میک اَپ میں کمال تھا ۔ اور ، جب اس سٹوری کے بعد " دوزخ " کی جھلک دکھائی گئی ،، تو کافی حد تک انہی تصورات کو دہرایا گیا تھا جو ہر مذہب کی بنیاد میں ہیں ،،، خاصے خوفناک ، اور کریہہ مناظر تھے ،اور دوزخیوں کی حالتیں ،، اور یہی آخری مناظر تھے ،، یہ دو گھنٹے پتہ بھی نہ چلا کس وقت ختم ہوۓ ،، اور سٹیج شو ایسے مناظر پر اختتام پذیر ہوا کہ سارا مجمع ، بہت خاموشی ، اور مہذب انداز سے ہال سے نکلا اور لابی میں آکر اپنے کیمرے اور موبائل واپس لیۓ ،، شام ہو چلی تھی۔ جم اور ڈرائیور انتظار میں تھے ،،، واپسی ہوئی ،تو گھر کے قریب اتر گئیں کہ تاکہ کچھ دیر اس بازار کو دیکھ لیں ، وہیں اس مساج کی دکانیں بھی تھیں ،،، جو تھائی لینڈ کی وجہء شہرت رہا ۔ ،،، شاہدہ نے فوراً اس تجربے  کا فیصلہ کیا اور ایک " دکان " میں  داخل ہو گئی ، اب ظاہر ہم دونوں بھی ساتھ آئیں ، اور پوچھا کہ پاؤں کے مساج کا کیا ریٹ ہے ،، تو وہاں نہایت سنجیدہ ، معمر خاتون نے ریٹ تو بتایا لیکن ساتھ یہ بھی کہ" میری ورکر کو کچھ ٹپ الگ دینا ہوگی " ، ہم فوراً کرسیوں پر بیٹھیں۔ تین ،،تیس اور چالیس کے درمیان کی صحت مند تھائی خواتین ، تین تسلے لائیں ، اس میں نیم گرم پانی اور چند قطرے کچھ آئلز کے ڈالے ، اور ہمیں پندرہ ، بیس منٹ پاؤں ڈبوۓ رکھنے کا کہا ،،، تب ہم نے" ٹونزوں "( یہ نام انھیں ہماری فیملی کے بچے نے دیا تھا ، جو اتنا مقبول ہوا کہ انھیں اکثر ٹونزوں ہی کہا جاتا ہے ) کو آرڈر دیا کہ یہ سامنے ہی ہوٹل ہے ، یہ ساری خریداری کے لفافے لے جاؤ ، اور رضیہ کو کہنا آج ہم کھانا کھائیں گے ،،، وہ اس وقت 14 سال کی تھیں ، لیکن بہت ذمہ داری کے ساتھ ہم سب کے لفافے اُٹھا ، وہ چلی گئیں ۔ ہم نے سکون سے 15 منٹ پاؤں ڈبوۓ رکھے ، کرسیاں بھی آرام دہ تھیں ،( آرم چیئرز )، اور پھر مزید 20 منٹ تک ان مساج کی ماہر خواتین نے خوب تیکنیک سے مالش کی کہ ایڑیوں ، اور اسکے پیچھے ، انگوٹھے اور تلوے کے خاص پوائنٹس پر ان کی مالش نے واقعی ، ملائیشیا ، کی تھکاوٹ بھی اتار دی ،، مجھے ان کا ریٹ یاد نہیں ، لیکن فی خاتون کو ہم نے 20 بھات دیۓ ، تو وہ بہت خوش ہوئیں ، یعنی تھائی غربت ابھی چند روپے پر ہی خوش تھی ،،، !۔
گھر پہنچ کر پہلے ، تو نہا دھو کر نماز پڑھی ، رضیہ بھی ہمارے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی ، پھر اس نے ہمارے اُس سٹیج شو سے متعلق تاثرات پوچھے تو ظاہرہے ہم نے زندگی میں پہلی دفعہ ایسا شو دیکھا تھا ہمیں تو بہت پسند آیا تھا ،،، یہ بھی حقیقت ہےکہ ہر وہ چیز یا بات ، اس وقت تک متاثرکن رہتی ہے جب تک اُس سے بہتر چیز یا بات سامنے نہیں آجاتی ،، تب رضیہ نے یہ بتایا کہ ان ایکٹرز میں ذیادہ تر مخنث ہیں ، اسی لیۓ ان کو لڑکا یا لڑکی کا گیٹ اَپ دینا آسان ہوتا ہے ،،، جب ہم فوارے والے احاطے میں تھیں ،، تو چند ایکٹرز ،،، جو دونوں اصناف کے گیٹ اَپ میں تھے ، وہ بھی مخنث تھے ،،، یعنی ہم اتنے قریب سے دیکھنے کے باوجود انھیں پہچان نہ سکے ،،آج ایک نئے تجربے کا دن تھا ،، سٹیج شو کا بھی اور مساج کا بھی !
( منیرہ قریشی ، 3 اپریل 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

ہفتہ، 31 مارچ، 2018

سفرِتھائی لینڈ(3)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
 تھائی لینڈ" (3)۔"
ابھی تو سہ پہر ہی ہوئی تھی ،، اپریل کا شروع تھا اور یہاں ابھی موسم قابلِ برداشت تھا ۔ " جم " نے بتایا ہم ایک سیاحوں کی دلچسپی کے گاؤں رکیں گے ،، جو پرانے تھائی گاؤں کی عکاسی اور آگاہی کے لیۓ بنایا گیا ہے ، آدھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ایک خاموش اور بہت کم آبادی والے علاقے میں پہنچے ۔ ایک جگہ وین رکی ، وہاں کچھ کچا ،، کچھ پکا ، بنا ایک بڑا ہال تھا ،، جس کے ایک طرف کافی بڑی کڑھائی ، ایک تندور ٹائپ چولہے پر دھری تھی۔ بالکل ہمارے ہاں کی طرح ایک بندہ اس کڑھائی میں " کڑچھا " چلاتا جا رہا تھا اور یہاں گنے کے رس سے شکر بنائی جارہی تھی جسے کاغذکی پڑیوں کی صورت گرم گرم حالت میں " چکھایا " جا رہا تھا ،،، اسی ہال کے دوسری سائڈ پر دیسی شکر کے ، اور انکے مطابق " دیسی شہد" کے جار براۓ فروخت رکھے ہوۓ تھے، ہمیں ان سے کوئی دلچسپی نہ ہوئی کہ یہ صرف کمانے کا ذریعہ تھا ،، ورنہ ہماری شکر کی بات ہی الگ ہے ۔ اسی ہال کے پیچھے لے جایا گیا ، یہاں مٹی سے بناۓ گۓ ، گاؤں کے ایک، دو گھر بناۓ گۓ ہیں ، اور کچھ ماضی میں استعمال ہونے والی اشیاء بھی رکھی ہوئی تھیں ، اوپری منزل بھی بنائی گئی تھیں ، البتہ ، یہاں اوپری منزل کے دو کمروں کی چھت کے قریب سوراخ تھے ، پوچھنے پر بتایا گیا کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کی صورت میں انہی سوراخوں سے پہلے پہل تیروں سے ،، اور اب کچھ جدید ہتھیاروں سے مقابلے کے لیۓ بھی ان سوراخوں سے کام لیا جاتا تھا ، یہ بالکل ہمارے قبائلی گھروں کی طرح کی تعمیرتھی ، اوپری منزل کی طرف جانے کے لیۓ ، سیڑھیاں بھی مٹی سے بنائی گئی تھیں ۔ یہ سب ہم جیسے مشرقی ملک سے تعلق رکھنے والوں کو متاثر نہ کر سکا ،،،لیکن یہاں مغربی سیاحوں کے لیۓ دلچسپی کا سامان تھا ، ہم تو آج بھی "چرخہ" کے اوزار کو کسی نا کسی طور استعمال کر ہی رہے ہیں ،،، ہاں البتہ ، اس شاپ کے بر آمدے میں ہاتھی دانت سے بنی بہت سی چیزوں کا سٹال تھا ، جہاں سے ہم نے اپنے اپنے گھروں کے لیۓ" ایک لائن میں بنے ہاتھی" خریدے ، جو سب کو بہت پسند آۓ ، اور ابھی تک میرے ڈرائنگ روم ،میں تھائی لینڈ کی یاد دلاتے ہیں ۔
لیکن ہم نے جم سے کوئی اظہارِ ناراضگی نہیں کیا کہ یہ کیا ہمارے ہی گاؤں جیسا گاؤں دکھا دیا ،، یہ تواس کے " وزٹ کا پروفیشنل پوائنٹ" تھا جو اس کے خیال میں آج کی جدید دنیا سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کے لیۓ دلچسپی کا باعث ہو گا !،، اور اب وہ ہمیں واپسی کے سفر میں ایک اور " لکڑی پر کارونگ " کے شو روم میں لے گئ ،،،، یہ شو روم ، بھی چھوٹے سے جدید ہال پر مبنی تھا ، لیکن ساتھ ہی باہر کی طرف لان کے کچھ ایریا پر مزید چیزیں بھی ڈسپلے کی گئی تھیں ۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں ، کہ اندر رکھے فرنیچر ، اور دیوار پر لگیں ، تصویری کارونگ ( کھدائی کی گئی لکڑی ، جیسے ہمارے ہاں چنیوٹی کام مشہور ہے ) ، بہت ہی لاجواب اور بہترین کام تھا ۔ خاص طور پر دیوار پر لگی لکڑی کی تصویری کہانی ، نے بہت متاثر کیا ، جس میں بادشاہ ، اسکے درباری ، شکار ، جنگل ، ہتھیار ، سبھی کو خوبصورتی ، اور مہارت سے نمایاں کیا گیا تھا ،، ایسا ہی فن ، ایران میں قالین بافی میں اور ہمارے ہاں گرم نمدوں میں ، "آر " کی کڑھائی سے نمایاں کیا جاتا ہے ، اور پوری تصویری کہانی بیان کی جارہی ہوتی ہے ،،، باہر لان میں پرانے تھائی دور کے غلام، کنیز اور ان کے بچوں کے لکڑی کے مجسمے تھے ، جن کے جسموں پر مفلوک الحالی ، اورچہروں پرمظلومیت کا احساس نمایاں تھا ،، باقی جگہ لکڑی " گیلیوں " کی صورت میں پڑی تھی ،، تاکہ وہ موسموں کی شدت سہنے سے مزید مضبوط ہوتی جاۓ ۔ جوجی اور شاہدہ نے کہانی کی صورت میں دیوار پر لگی تصویر کی بہت سی فوٹو کھینچی، کہ یہ ایک خوبصورت یاد گار چیز تھی ۔ 
اب ہم واپسی کے سفر پرچلیں تو جم نے تجویز دی کہ راستے میں ایک اچھا ریسٹورنٹ ہے وہاں رکنا چاہیں گی ، کیوں کہ وہاں کا کھانا آپ کو پسند آۓ گا ،،، ہم نے ہاں کہا اور آدھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد یہاں پہنچیں جہاں اوپن ائر میں ایک ایک کیلے کے درخت کچھ فاصلے پر اُگے تھے یا لگاۓ گئے تھے ،،اور ہر درخت کے گرد چار یا چھ چھوٹے سائز کی کرسیاں لگائی گئی تھیں ۔ جم اور ڈرائیور الگ بیٹھے ، اور ان کے لیۓ ان کا آرڈر دیا ، اپنے لیۓ حلال کا پوچھ کر چاول ، تلی مچھلی اور پرانز کا بھی آرڈر دیا چپس تو ہماری ہر آرڈر میں رہے ، کہ ٹونز کو ہر کھانے سے" بو"آتی تھی ، تو وہ کچھ چاول کچھ چپس کو مکس کر کے پیٹ بھر لیتیں ، یہ کھانا اگرچہ بہت ذائقہ دار نہ تھا لیکن پرانز کی وجہ سے مزیدار لگا کہ وہ گریوی میں پکا ہوا سالن تھا ،،، اور جب ہم تھکے ہارے ہوٹل پہنچیں تو رات کے ساڑھے نو تھے ،، رضیہ گھر ہی تھی ، ہم نے کھانے کا بتایا ،کہ کھا  چکے ہیں ،، البتہ قہوہ مل جاۓ ، تو  خانساماں نے قہوہ دیا اور اب وہ رخصت ہوا ، اور رضیہ نے ہماری دن بھر کی روداد سننی شروع کی ، ساتھ دنیا جہان کی پرانی باتیں ، گیارہ بجے تک اپنے بیڈ رومز میں آگئیں ، کہ پھر صبح سات بجے تیاری کرنا تھی ۔ 
( منیرہ قریشی 31 مارچ 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعہ، 30 مارچ، 2018

سفرِتھائی لینڈ(2)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
 تھائی لینڈ" (2)۔"
اب تک شاہدہ،اور نعیم بھائی کے گھر ملائیشیا میں، ہم کافی حد تک اپنی مرضی سے صبح اُٹھتیں ، یا کم ازکم ہماری صبح کا وزٹ 9 یا 10 بجے شروع ہوتا ، اور یہاں ابھی ساڑھے سات بجے تھے کہ ٹورز کمپنی کی وین معہ گائیڈ آچکی تھی ،، اور ہمارے ناشتے اب شروع ہونا تھے ،، بادلِ نا خواستہ ،، ناشتہ کے طور پر صرف پھل پکڑے اور چل پڑیں ،، لیکن اتنے میں کُک نمودار ہوا اور ایک خوب صورت ٹوکری میں ہمارے لیۓ نہ صرف ناشتہ کا کچھ سامان اورکچھ فالتو کھانے پینے کا سامان ، نفاست سے رکھا ہوا ، ہمیں پکڑا دیا ،، ہم فوراً لفٹ سے نیچے پہنچیں ، تو لاؤنج میں جہاں ایک خوبصورت راکری بنی ہوئی تھی ، کے قریب ایک ٹپیکل تھائی خدو خال والی ، دبلی پتلی ، میانے قد کی پینٹ بشرٹ میں ہماری 40 سالہ گائیڈ کھڑی تھی ،، شاہدہ اس سے کل مل چکی تھی ، دونوں نے علیک سلیک کی ، اور اس نے اپنا ایک لمبا سا نام بتایا ، اور پھر کہا " آپ بے ٓشک مجھے " جِم " کہہ لیا کرنا ۔ ہوٹل سے باہر آۓ تو بہت اچھی 10 سیٹرز وین دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ ڈرائیور نے صرف ہیلو کہا ،، اور اس سے آگے وہ ایک لفظ انگریزی کا نہیں جانتا تھا ، البتہ " جِم " ہمارے مطلب کی حد تک ٹھیک انگریزی جانتی تھی ،،، اس لیۓ گزارہ اچھا ہو جاۓ گا ،، کا تائثر ملا ۔" جِم" نے ہمارا آج کا پروگرام واضح کیا ، کہ ابھی ہم سیدھے " گولڈن بدھا " یا "ایمرلڈ بدھا " محل جائیں گے ، اور پھر وہاں سے مزید آگے ۔، 
جب ہم "گولڈن بدھا " کے محل یا ٹمپل میں پہنچیں تو وہاں گیٹ پر مختلف قومیتوں کے سیاح کا جھمگٹا تھا ،، ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئیں ،، شروع میں ، چھوٹی بڑی عمارات پر کچھ تھائی اور کچھ انگریزی طرزِ تعمیر کی جھلک تھی ، اور یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انگریزی فوج نے اپنے قیام کے بہت اثرات مرتب کیۓ تھےکہ اتنی اہم عمارت پر بھی تبدیلی نظر آئی ،جو تھائی شاہی خاندان کی رہائش بھی تھی اور ایک طرف عبادت گاہ بھی بنائ گئ تھی ، اس کے ایک چھوٹے سے ہال میں جہاں شوخ سرخ ، سنہری ، اور کالے رنگوں کی خوبصورت آرائش کی گئ تھی ،، یہاں ایک ڈائس تھا ، شاید انکے بڑے پروہت کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی اور اسکے پیچھے ایک 10 فٹ اونچے مینار پر ایک ہموار سطح پر جہاں سرخ ریشمی کپڑا بچھا ہوا تھا ، جو نفاست سے نیچے تک پھیلا ہوا تھا ،، اُسی ہموار سطح پر بدھا کا سبز مجسمہ رکھا ہوا تھا ،، کہا جاتا ہے کہ یہ مجسمہ ایمبرلڈ ( زمرد ) کے ایک ہی ٹکڑے سے بنایا گیا ہے ،، اور اتنا بڑا ایک ہی مکمل ٹکڑا دنیا میں میں اور کہیں نہیں پایا جاتا ۔ اور چونکہ یہ شاہی خاندان کے لۓ عبادت گاہ بھی تھی اس لیۓ ، سنہری رنگ کو نمایاں رکھا گیا تھا جو کسی زمانے میں ، خالص سونے سے سجاوٹ کی جاتی تھی ،، لیکن اب صرف سونے کا پانی چڑھے ہوۓ " پتروں " سے ، سجاوٹ کا کام کیا گیا تھا۔ 
مجھے تو بدھا کے بارے میں یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ جہاں جہاں اس کے ماننے والے ہیں ،، وہاں وہاں بسنے والوں نے بدھا کے خدوخال کو اپنے مطابق ڈھال لیا ہے ،، چین ، کوریا ، برما ، یا اب تھائی لینڈ کے بدھا کو دیکھۓ تو وہ کھچی کچھی آنکھوں والا ، ذرا پھولے گالوں والا، اور کچھ بیٹھی ناک کا بدھا بنایاگیا ہے۔
جبکہ ٹیکسلا کے بدھا کے خدوخال ، خوبصورت غزالی آنکھوں اور ترشے ہونٹ ، فراغ ماتھا ، ستواں ناک پر مبنی خطوط پربنے ہوۓ ہیں ، جو مردانہ حسن کا نمونہ نظر آتا ہے ،،، اب ان میں سے کس ملک کے بدھ لوگوں کا تصور کتنا حقیقت کے قریب ہے ، تو یہ اس کے چاہنے والوں پر ہی چھوڑتے ہیں ، لیکن جہاں تک مہاراجہ سدھارت کے علاقے ، اور اس کا اعلیٰ ذات سے تعلق ، اور مہاراجہ کا بیٹا ہونے کا تاریخی پس منظر دیکھا جاۓ تو ٹیکسلا ، کا بدھا ہی حقیقی تصور پیش کرتا ہے ،،، خیر ہم ایمرلڈ بدھا کے گرد براۓ نام ایک سبز ریشمی چادر سی لپٹی دیکھی ،، پوچھنے پر بتایا گیا کہ ، سیزن کے مطابق بدھا کے کپڑے بدلاۓ جاتے ہیں ،،، اور یوں دیکھنے والے کو موسم کی خبر ہو جاتی ہے ۔ اس عبادت گاہ کے باہر کافی بڑے مختلف مجسمے بنے ہوۓ تھے ،، ان میں ذیادہ تر انہی کے روایتی ، ڈریگنز کی تھی ، سارا قلعہ بہت صاف ، اور خوب دیکھ بھال سے سنبھالا ہوا تھا ،، اس میں فوٹو گرافی کی مکمل اجازت تھی ۔ یہاں خوب کونا کھدرا دیکھا ، اور ڈیڑھ گھنٹے میں پھر واپس گیٹ سے باہر آئیں تو اس محل کے بالکل قریب ، کچھ سوینئرز کی دکانیں تھیں ، اور اِن دکانوں سے چھوٹے ، بڑے ہاتھی کی کڑھائی شدہ فریم یا بغیر فریم تصاویر بک رہی تھیں ۔ جو کپڑے پر کی گئی تھی ، یعنی کاغذ پر پینٹنگ الگ کی گئی تھی ، اور ہاتھی اس قوم کا قومی نشان ہے کہ ، " کی چینز " یا لکڑی کے خوبصورت زیورات رکھنے والی ڈبیاں ،، ہر چیز پر ہاتھی کی موجودگی ضرور تھی ،!ابھی اس خریداری کی مصروفیت سے ہٹے ہی تھے کہ سڑک کے دوسری طرف نظر گئی ،، ایک چھوٹی سی باڑ کے پیچھے خاصا بڑا قبرستان نظر آیا ،، جو صفائی اور دیکھ بھال کا مظہر تھا ۔ اب علم ہوا یہ قبرستان ، ان برٹش فوجیوں کا تھا جو ، دوسری جنگِ عظیم میں یہاں قبضہ کرنے کی خاطر ٹھہرے ، اور بعد میں جاپانیوں کے قبضہ کے بعد ، ان کے قیدی بن گۓ ۔ اور اپنے اپنے حصے کے سانس ، لے کر رزق کھا کر ، پرائی زمین کی مٹی میں رَل مل گۓ ، کہ کاتبَ تقدیر نے یہ ہی لکھا ہوا تھا ،،،،، میَں ہمیشہ ایسی قبروں کو دیکھ کر دیر تک انہی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں کہ ، کہاں پیدا ہوۓ کہاں پلے بڑھے ، اور اپنی اپنی قبروں کو ساتھ لے کر اُسی سر زمین پر پہنچ گۓ جہاں ، انھوں نے قیامت تک کے لیۓ مستقل ٹھکانہ پکڑنا تھا ۔،،، ایسے ہی مسلم افواج اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور ، آۓ ، چھاۓ ، اور اپنے حصے کے کام نبٹا کر ،،، اجنبی سر زمین کی مٹی کو اوڑھ کر ، سوۓ کہ اب اپنوں سے قیامت ہی کو ملیں گے ،، یہ دوری ، اور پھر حسرت ناک دوری ،، کتنی اذیت دیتی ہوگی ۔ اب اس برٹش فوجی قبرستان پر قریب ہوکر نظر ڈالی ،، تو ان فوجیوں کی قبروں کے کتبوں پر انکے نام ، عہدے اور عمریں درج تھیں ،، کسی کی عمر 20 سال ، کہیں 30 سال ، کہیں 25 سال کے جسم روپوش تھا معہ خوابوں کے !!!آج اِن قبروں میں سے اِکا دُکا پر پھول بھی رکھے نظر آۓ ،،،،،،،،،،۔
( منیرہ قریشی 30 مارچ واہ کینٹ ) ( جاری

جمعرات، 29 مارچ، 2018

سفرِتھائی لینڈ(1)۔


" سلسلہ ہاۓ سفر " 
" تھائی لینڈ" (1)۔"
۔" ملئیشین ایئر لائن " ہمیں لے کر اپنے نہایت سر سبز کھیتوں ،کھلیانوں کے اوپر اُڑا کر اپنے پڑوسی ملک کی طرف لے کر چلا ،، اور ہم ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تھائی ایئر پورٹ اُتر رہیں تھیں ،،، اور حسبِ سابق پُرجوش کہ ایک نئی سر زمین کو دیکھنا ،، میری خانہ بدوش روح کو بہت ہی پسند ہے۔ 
جیسا میں نے ملائیشیا کی طرف جاتے وقت چند گھنٹے ، تھائی ایئر پورٹ رکنے کا حال لکھا تھا ، کہ انتہائی شاندار ایئر پورٹ ، کہ جیسے تھائی لینڈ ، ایک امیر ملک ہے ،،، اب اس ملک کے اندر داخل ہو رہیں تھیں ،،، یہاں ان دنوں پاکستانی سفیر ایک ریٹائرڈ میجر جنرل خطیرخان تھے ،، یہ شاہدہ اور جوجی کی بچپن کی ہم جماعت اور سہیلی رضیہ کے میاں تھے ،، میری بھی رضیہ سے اچھی گپ شپ تھی کہ کچنار روڈ والے گھر کے قریب اس کا گھر تھا،،، لیکن اس دفعہ یہ ملنا ملانا ، سالوں بعد ہو رہا تھا ،، اور شاہدہ نے یہ ہمت کی کہ ، ٹوٹا رابطہ دوبار جوڑنے کی کوشش کی تھی ۔ رضیہ نے خوش دلی سے اپنے پاس رہنے کی دعوت دی ،، تو شاہدہ نے اسے بتادیاہم فلاں دن ، فلاں فلائیٹ سے پہنچ رہی ہیں ، ایئر پورٹ پر ، خطیر بھائی کا پروٹوکول آفیسر ، معہ گاڑی کے موجود تھا ، ڈاکٹر شاہدہ کا بورڈ پکڑے بندے کو پہچان لیا گیا ۔ اور ہم اسکی بڑی جیپ میں عین دوپہر ، کو بہت مصروف سٹرکوں سے گزرتے ہوۓ ، ایک مزید مصروف سڑک پر تین ، چار منزلہ ہوٹل کے پورچ میں رکیں ،،،ہم لفٹ کے ذریعے تیسری منزل پہنچیں اور کاریڈور کے چند قدم کے بعد رضیہ کے گھر کا دروازہ سامنے تھے یہ ایک ایسا " سویٹ " تھا جو دو سویٹ ملا کر ایک کیۓ گۓ تھے ،، اب اس میں خطیر بھائی اور رضیہ کا قیام تھا اور آج کل ان کی الوداعی دعوتیں چل رہیں تھیں ۔ کہ وہ اب وہ واپس پاکستان جا رہے تھے ، ، ان کے پاس چار بیڈرومز کا یہ گھر بہت سے مہمانوں کی آمد اور عارضی قیام کا باعث بنا رہا ۔رضیہ سے میری آخری دفعہ کی تواتر سے ملاقاتیں تب ہوتی رہی تھیں جب خطیر بھائی کرنل تھے اور چائینا میں کوئی کورس کر رہے تھے ،،اور وہ اپنےسسرال اور والدین کے پاس رہ رہی تھی، درمیان کا زمانہ ، گیپ دے گیا تھا ، خیر رضیہ گھر پر تھی اور دوپہر کے کھانے پر منتظر ،، کھانے پر بیٹھیں تو خطیر بھائی بھی پہنچ گۓ ،، ایک دوسرے کے بچوں  کےبارے میں پوچھتے ، سکول سے متعلق باتیں کرتے ، کھانا ختم ہوا ،، تو شام کا یہ پروگرام بنا کہ رضیہ ہمارے ساتھ جانے کو تیار ہوئی تاکہ اگلے پانچ دن کے لیۓ ہمارا ایک دن ضائع نہ ہو سکے ، اس دوران خطیر بھائی نے کہا " کہ" سیا م نرمیت شو " تو ضرور دیکھنا ،، تیار ہوکر پیدل ہی اس بازار کی طرف رضیہ روحی کی معیت میں چلیں ،، جس طرف گائیڈ اور ٹورزم ایجنسیز دکانیں سجاۓ ہوۓ تھیں ،،یہاں ایک آفس میں شاہدہ اور رضیہ نے اُن سے ، اور کچھ انھوں نے اِن سے انٹرویو لیۓ ،، معاملہ طے پا گیا ،، اور وہ ایک وین ، ڈرائیور اور ایک لیڈی گائیڈ کے ساتھ روزانہ صبح سات ، ساڑھے سات تک آجایا کرے گا ،، اورہر روز دو تین ، اہم قابلِ دید جگہیں دکھائیں گے ،،، چاہے شام کا کوئی بھی وقت ہو جاۓ، انھیں جو  ادائیگی  کی گئی وہ بھی مناسب تھی ۔
فی الحال ہم آس پاس کی مصروف سڑکوں کو دیکھ رہیں تھیں ، جو اپنے ہی پنڈی کے راجہ بازار جیساکسی بہت مصروف بازار کا منظر پیش کر رہی تھیں ،، ہر طرح سے ایک ترقی پذیر ملک جیسا منظر تھا ، یہاں رضیہ نے کچھ شاپنگ مالز کی تفصیل بتائی تاکہ ہم اپنے مطلب کی چیزیں کہاں سے لے سکتے ہیں اور کیا خریدا جانا چاہیۓ ، تاکہ وقت ضائع نہ ہو، وغیرہ ،، جس طرح غریب یا ترقی پزیر ملکوں میں کوئی نا کوئی جانور بےتکلفی سے سڑکوں پر مٹرگشت کر رہے ہوتے ہیں ، چاہے بھینسیں ہوں یا بندر ،،، یہاں ہاتھی ( ذیادہ بڑے سائز کے نہیں ) سڑک پر چل پھر رہے تھے ،لیکن اپنے مالک کے ساتھ ،، مالک کے ہاتھوں میں اور کندھے سے لٹکے تھیلے میں کٹے ہوۓ فٹ لمبے گنے ہوتے ہیں ، وہ ایک فٹ والی گنے کی گڈی ( 6یا5 گنے) ہاتھ میں لیۓ ہوتے ہیں ، جہاں سیاح دیکھتے ہیں، آفر کرتے ،" 20 بھات" میں یہ گڈی لیں ، ہاتھی کو کھلائیں اور اس کے ساتھ تصویر اتروائیں !! ،،،، ( 20 بھات کا ریٹ 2009 کا ہے ، اب کا نہیں معلوم ) ،،، لیکن ہمارا پہلا دن اور چھوٹتے ہی کھلا،ہاتھی ، پیش ہو جاۓ ،، ڈر کا حال یہ کہ ہم آگے آگے ، اور ہاتھی والا چند لفظی انگریزی کے ساتھ پیچھے پیچھے، ، جوجی اور شاہدہ نے ہمت کی اور ایک گڈی خرید کر اسے کھلائ اور فورا" رضیہ نے تصویر لے لی ۔ اور سند رہی کہ انھوں نے ہاتھی کے خوف کو بھگا دیا تھا ۔ اب یہاں وہاں کی پیدل سیر ہوتی رہی ، کیوں کہ سبھی قابلِ ذکر مارکیٹ نزدیک ہی تھیں ۔ اس طرح تھائ لینڈ کی پہلی شام آئ ، اور خوب روشنیوں سے نہائی سڑکیں نظر آئیں ،، یہاں کی ٹیکسیاں ، مختلف پرائیویٹ ایجینسیز کی ملکیت ہونےکی نشانی کے طور پر ، اپنے الگ رنگوں سے نمایاں کی گئی تھیں ،، لیکن یہ سب رنگ بہت ہی تیز تھے ،، آتشی گلابی ، تیز زرد رنگ ، تیز پیلا ، یا کسی کا خوبصورت گرے رنگ بھی تھا ۔ شہر کے اندر کی سڑکیں بہت چوڑی نہیں ، اس لیۓ ٹریفک اکثر آہستہ اور جام ہوتی ہے ،، البتہ جو چیز نئی نظر آئی ،، وہ تھی " ٹُک ٹُک " کی سواری ، یہ ہمارے ہاں کے " چنجی" کو سواریوں کے بیٹھنے کی جگہ کو ذیادہ لمبا کر دیں ، جدید ریڑھا سمجھ لیں  ،، ایک وقت میں 6 تا 8 لوگ بیٹھ سکتے ہیں ،،، اور ایک دن بعد ہم نے یہ تجربہ بھی کر لیا ،، دوسری نئی ، اختراح یہ نظر آئی کہ اگرسنگل سواری ہے ، چاہے وہ عورت ہے یا    مرد،
توایک جگہ بہت سے " سکوٹر " کھڑے تھے ، سنگل سواری کراۓ پراس میں جا سکتی ہے ، اور سکوٹر والا ، فاصلے کے حساب سے کرایا لیتا ہے ۔ 
پھرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ گھر کی ڈائرکشن ، جوجی اور شاہدہ کو اچھی طرح سمجھ آگئی ۔ اس سینس سے میَں تو آج تک نا بلد ہوں ۔ اور ایمن ثمن تو ابھی تھیں ہی چھوٹی ۔ 
چلنے پھرنے کے دوران رضیہ اپنے ہوٹل کی طرف کی سڑک پر مڑی ، تو اس روڈ پر بہت سی دکانیں ، تھائی مساج کی تھیں ،، جو دیکھنے میں چھوٹی ، لیکن دو منزلہ تھیں ، رضیہ نے بتایا کہ یہاں کی مساج خواتین اپنے کام کی ماہر ہیں اگر ایک مرتبہ پاؤں کی کروا لینا ، سکون ملے گا ۔ 
اب واپس ہوٹل آئیں کچھ دیر ٹی وی دیکھا ، اس دوران ، کُک نے چاۓ سرو کی ،، رضیہ اور خطیر بھائی تیار ہوۓ ، کہ آج کل ان کی الوداعی دعوتیں چل رہی تھیں ، اور ہمارے ساتھ رات کے کھانے میں شامل نہ ہونے پر معذرت کر لی ۔ ہم نے اپنے کمروں میں آکر اگلے دن کی تیاری کر لی کہ صبح جلدی نکلنا تھا ، ،۔ 
( منیرہ قریشی 29 مارچ 2018ء واہ کینٹ) ( جاری )