‏اِک پرِخیال لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اِک پرِخیال لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 12 فروری، 2026

" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات


" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات " کیلنڈر پر فروری میں بارہ کا ہندسہ میرے لئے مِلے جُلے تاثرات کاحامل ہوتا ہے ۔ کیوں کہ یہ میرا جنم دن ہے اور چند لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپے پر ایک طائرانہ نظر دوڑ ہی جاتی ہے۔
کیسا محبتوں بھرا مطمئن بچپن گزراِِ۔لڑکپن بھی تربیت اور تعلیم کے عجب خوبصورت امتزاج سے گزرا ،،، اس میں کوئی بڑی عیاشی نہیں تھی ،،، لیکن بے فکری اور اپنے عمر کے مطابق بہت کچھ ملتا رہا ، سب سے بہترین نعمت با شعور والدین ، محبت ، تحفظ ، سکون اور خوش حالی کے حصار کا ملنا تھا ۔
جوانی تو ہوتی ہی خوابوں کی دنیا ہے ۔ والدین سمجھ دار ہوں تو ہاتھ پکڑ کر اس اتھرے دریا سے یوں گزار دیتے ہیں جیسے وہ بہت بڑے ماہرین نفسیات ہوں یا کوئی ایسے اسکالر جن کی زندگی دینی ادارے میں گزری ہو۔۔۔گویا والدین کا فہم و فراست والا ہونا اصل وصف ہے ، اعلی و ارفع ڈگری یافتہ ہونا نہیں !۔
اور جب ایک" انسان " اس قرن ہا قرن سے چلتی زندگی کا حصہ بنتا ہے تب اسے اس بات کے جھٹکے لگتے چلے جاتے ہیں کہ جن کمزوریوں سے والدین کے گھر صرفِ نظر کیا جاتا رہا ،،، وہی اگلی زندگی کے موڑ پر دوسروں کو پہلے نظر آنے لگیں ،،،،،یعنی زندگی کا نیا مطالبہ دکھایا جاتا ہے کہ ،،،، یہ نہیں ،، وہ اپناؤ !!یہ سب جھٹکے وقتاً فوقتاًسہتے رہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۔۔۔
۔" جس طرح بہترین پھلوں کے رس کا گلاس تیار کیا ، لیکن کچھ دیر تک استعمال نہ کیا جائے تو اس کے ذرّے گلاس کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اُوپر بے ذائقہ پانی آ چکا ہوتا ہے ، ، تب اسے دوبارہ خوش ذائقہ بنانے کے لئے چمچ سے ہلا کر ، نچلا اور اوپر کا پانی ملا دیا جاتا ہے گویا جھٹکا دیا جاتا ہے تو وہ خوش ذائقہ ہو جاتا ہے" ۔ قدرت بھی اسی طرح کٹھے ، میٹھے جھٹکے دیتی رہتی ہے ، تاکہ "انسان " (بھلے وہ عورت ہے یا مرد ) کامیابیوں یا ناکامیوں کے یکساں دور میں ہی نہ پھنس کر رہ جائے ،،، کبھی خوش ذائقہ ، کبھی بد ذائقہ زندگی کے رنگ بندے کو تجربات کی سوئی سے نِت نئے ٹانکے سکھائے چلے جاتے ہیں ،، کسی بھی دورانیے کا تسلسل اُسے متکبر ، یا مایوس بنا سکتا ہے ۔۔۔ !! بہر حال بڑھاپا انہی تجربات کا مُرکب ہوتا ہے۔
اب اس لمحے بڑھاپے کی چوٹی پر "عاجزی اور شکرگزاری "کا اوزار یا ہنر ہر وقت ہمراہ رکھنا چاہیے۔ ویسے تو زندگی کے ہر ہر موڑ پر اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں لیکن عمر کے اس دور میں یہ بہت فائدہ مند ہے ۔ بقایا زندگی اس ٹول سے آسانیوں کے ساتھ گزر سکتی ہے ۔ سال گرہ کا دن خوشی کے لمحات کے ساتھ ہی سہی ، لیکن بہ نظر غائر بچپن ، لڑکپن ، جوانی گزارنے پر ایک خاص اطمینان کا احساس غالب نظر آتا ہے ۔اور اب بڑھاپے کی موجودہ سیڑھی پر ہیں ،،، جو آخری بھی ہو سکتی ہے ، اور چند سٹپس اور بھی منتظر ہو سکتے ہیں ۔ بس جس خالق نے اب تک زندگی کے ذائقوں کو خوش ذائقہ بنائے رکھا ،، اُسی سے آگے بھی بہترین کی امید ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ کارآمد ٹول پر گرفت مضبوطی سے جمی رہے۔ آمین۔
۔( منیرہ قریشی۔12 فروری 2026۔ واہ کینٹ)۔


بدھ، 15 جنوری، 2025

"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں ''

"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں '' نبی پاک ﷺسے پوچھا گیا ، " ربّ ۔ دنیا کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟" آپ ﷺنے فرمایا " ربّ ، کا تخت پانی پر تھا ، اور آس پاس دھواں تھا " گویا دھوئیں کے پردے سے حیران کن ، ناقابل فہم کائنات کی تخلیق سامنے آئی ۔ آنے والے وقت میں کائنات میں دھند ، دھواں ، اور کہرا جیسا ماحول،، انسان کے لیے پراسراریت کا ہیولا بن گیا ۔ کہ وہ آج تک اس کا اسیر ہے ۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک فضائی ماحول بھی میسر ہونے پر انسانی حسّیات کچھ زیادہ ہی محتاط ہو جاتی ہیں ۔ اگر دھند ہے ، یا دھواں لیکن انسان ان میں سے کسی میں پھنس کر خود کو پراسراریت میں محصور سمجھتا ہے ، یہ خیال آتا ہے کہ شاید کچھ نیا نظر آ جائے۔ ایسے ہی حالات میں ، یا تو کہرا ، دھواں ، دھند کے پس منظر سے ، حیران کن تخلیقات ، " تصاویر" کی صورت میں سامنے آتی ہیں یا پھر الفاظ کی شبنم تحاریر کی صورت القا ہوتی ہے ۔ اورکبھی کبھی ایسی دھند یا دھویں کے عقب سے عجب طلسماتی شخصیت سامنے آتی ہے کہ جو قوم یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ تو گویا دھند یا دھواں غیرمتوقع مستقبل کی علامت ہیں۔

پھر ایک دن کبھی ۔۔۔۔۔۔

۔"آسمان سے اٗترتی منفی چالیس ڈگری فضا میں نیلگوں رنگ گھُل جاتا ہے اور زمین کے اندر کی تہہ سے چالیس فارن ہائیٹ کی حدّت کی شدت باہر آنے کے لئے تیار تھی ، یہ حدت اپنے ساتھ گلابی مائل سلیٹی رنگ لا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتی ۔ تب نیلگوں فضا نے بڑھ کر اس گلابی گرمائش کو گلے لگایا ، اس وقت بادلوں نے اطمینان بھرا سانس لیا ، اور اپنے اندر کے بوجھ کو روئی کے گالوں کی صورت کامل خاموشی سے زمین تک پہنچانے کا کام کرنے لگے ۔ زمین کی ہر مخلوق اپنے اپنے طور سے فائدہ اٹھانے لگی ،، کچھ صرف آنکھوں سے سراہتے ہوئے۔۔ کچھ مخلوق گھروں کو بچاتے ہوئے اور کچھ اس موسم کے مطابق دستر خوان سجاتے ہوئے ۔بعض دیکھنے والوں کے لئے یہ معمول کا منظر ہوتا ہے جب برستے گالے اّترے تو ،۔" آج آسمان نے زمین کو موتیے کے پھولوں کے ہار بھیجے تھے ، زمین کے صبر و تحمل کے انعام کے طور پر " ۔ ( منیرہ قریشی ، 15 جنوری 2025ء مانچسٹر)۔

 

اتوار، 21 جولائی، 2024

" اِک پَرخیال. ڈنگ "

" اِک پَر خیال "
" ڈنگ "
'ڈنگ ' کے لفظ سے ذہن میں کبھی بھی اچھا خیال نہیں آتا ۔ کیڑوں مکوڑوں کے ڈنگ تو ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں واضح ہوتے ہیں ۔ کہ سانپ ، بچُھو ، مکوڑے ، بھِڑ ، اُڑتے کیڑوں کے ڈنگ ،،، انسانی اجسام کے لئے کتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ، یا تو جان چلی جاتی ہے ، یا ، کچھ دیر یا تا دیر جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے زہریلے ڈنگ کو علاج اور صبر سے رفع کیا جاتا ہے ۔
البتہ مدت دراز کے بعد انسانی تحقیقی اذہان نے انہی کیڑوں ، کے ڈنگ سے ہی انہی کے کاٹے کا علاج دریافت کر لیا ، اور یوں ، قیمتی جانوں کو بچانا ممکن ہو گیا ۔ دیکھا جائے تو سانپ ، یا بچھُو ، یا بھِڑ یا زہریلی مکڑیوں کے ڈنگ کی کٹیگریز ہیں ۔۔ کچھ کی کم ، کچھ کی زیادہ !
اس کے برعکس مکھی ، کھٹمل ، یا مچھر وغیرہ کے ڈنگ ایسے لیول کے ہوتے ہیں ،، جو کم طاقتور تو ہوتے ہیں لیکن ،، ان کے ڈنگ کے زہر کو حاصل کر کے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج دریافت ہوچکے ہیں ۔ اسی طرح کچھ جانوروں کے تھوک یا لعاب اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ بظاہر ان کے کاٹے کا کوئی نشان نہیں ہوتا مگر جہاں ان کا لعاب گرا ،،، وہی جگہ سُن ہو کر انسان یا جانور کو بے بس کر ڈالتا ہے ۔ اور اس زہریلے تھوک سے اس میں ہلنے جلنے کی سکت نہیں رہتی پھر یہی وقت ہوتا ہے جب ایسے جانور کے لئے متاثرہ جسم تر نوالہ بن جاتا ہے ۔
' ڈنگ ' کی اِس کیٹگریز میں ،،، الفاظ کے ڈنگ بھی اپنی ہی طاقت رکھتے ہیں ۔ کچھ الفاظ کی پوٹینسی کم،، لیکن زیادہ تر ہائی پوٹینسی کے بولے جاتےہیں ۔ ایسے الفاظ کی پھوار زہریلے مادوں سے بھرپور ہوتی ہے ۔۔ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی صداقت پر یقینِ کامل ہو جاتا ہے ، " تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے ، لیکن زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا "
زہریلے الفاظ ، کم یا زیادہ نوعیت کے ہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قدرت نے اس سلسلے میں اپنا قانون سختی سے لاگو کر رکھا ہے ، یہاں کان کے بدلے کان ، آنکھ کے بدلے آنکھ کے قرآنی احکامات نافذ کرنے کا حکم ہے تو ،،،، بے عزتی کے بدلے بے عزتی ،،، دوسرے کو ذلت دے رہے ہیں تو بدلے میں ذلت کا انتظار کریں ۔۔ البتہ اِس میں کچھ ماہ ، کچھ سال ، کچھ عشرے گزر سکتے ہیں ،، لیکن الفاظ کے ڈنگ کا جوابی ڈنگ کا وار ، قدرت کی طرف سے صحیح وقت اور صحیح جگہ کا منتظر ہوتا ہے ۔
آج کے دور کا ایک اور ڈنگ بھی ہے جسے عام طور پر ڈنگ نہیں سمجھا گیا ۔ وہ ہے " پرائیویسی " ( privacy ) کا ڈنگ ۔
میرا کمرہ الگ ہونا چائیے ، آخر کو میں 14 سال کی ہو گئی / ہو گیا ہوں ،،،
میری الماری کو کس نے کھولا ؟ میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دیتا / دیتی ۔۔۔
یہ مہمان آ گئے تو ہماری پرائیویسی نہیں رہے گی ،،،،
میرے موبائل ، میرا پرس ، یہ سب کچھ صرف میرا ہے ، کسی کو اجازت نہیں کہ انھیں میری اجازت کے بغیر ہاتھ لگائے ۔
کچھ معاملات میں تربیت کے تقاضے ہوتے ہیں کہ وہ اہم ، ہمدرد رشتے ان اولادوں کی الماری ، کمرہ ، یا موبائل کا جائزہ لیں ، ہم دیکھیں یہاں کے کونے کھدروں میں کیا چل رہا ہے ؟ ایسا نہ ہو پرائیویسی کے ڈنگ سے ہماری اولاد بہت ہائی پوٹینسی کے زہر نگل چکی ہو ،، کہ تب تک مرض لا علاج ہو چکا ہو !
پرائیویسی کے نکتہء نظر سے مہمان نوازی کے خوبصورت رسم و رواج پر جو کاری ضرب پڑی ہے ، کہ پہلے دُور نہ سہی نزدیکی رشتوں کا جو والہانہ انتظار ہوتا تھا ۔ کہ سب کزنز مل کو چھٹیاں گزارتے ،،، رشتوں کی آپسی مٹھاس کچھ دنوں یا ہفتوں کے لئے 'ریوائز ' ہو جاتی ۔ اور دال ساگ کھا کر بھی بد مزہ نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ اور اگلی محفلوں کو سجانے کے وعدے کر کے جدا ہو جاتے ،،،
کچھ ایسا رویہ بعض اوقات ہمارے خوشحال خاندان کا بھی دیکھنے میں آتا ہے جب ان کے لئے گھریلو چیزیں ، اُن کی ترتیب ،،، اور اپنے دن اور رات کے پروگرام اتنے عزیز ہوتے ہیں کہ اس شب و روز میں کسی " آنے والے " کی چند گھنٹوں کی آمد بھی " زہریلا ڈنگ " بن جاتی ہے ۔۔ آہ انسان کی کم فہمی !!
لیکن پرائیویسی کے ڈنگ نے ایسا ڈسا ہوا ہے کہ اس کے اثرات سے خون سفید ہو گیا ہے ۔ رشتے کڑوے ، اور اپنی ذات کے حصار میں رہنے میں ہی عافیت سمجھا جا رہا ہے ۔ اور یوں آدم و حوا کی اولاد غلطیوں کے پہاڑ پر چڑھتے چڑھتے اترنے کی راہ کھو بیٹھی ہے ! اللہ ہی بہترین جاننے والا ہے ۔

( منیرہ قریشی 21 جولائی 2024ء واہ کینٹ ) 

منگل، 11 جون، 2024

" اِک پَرِ خیال "۔۔۔" کشیدہ کاری "

" اِک پَرِ خیال "
،،، " کشیدہ کاری "
میَں نے ایک ایپ کو جوائن کیا ہوا ہے ۔ جو فلکیاتی دنیا کے نام سے ہے ،، اس میں ایپ چلانے والے سیٹلائٹ اور سپیس شٹلز سے لی گئی آسمانِِ تحیّر کی معلومات اور تصاویر ، ہم جیسوں تک آسان اردو میں پہنچاتے اور دلی دعائیں لیتے رہتے ہیؐں ۔ جب بھی وہاں کی کچھ نئی معلومات اور تصاویر پہنچتی ہیں تو انھیں دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہوں ۔ ،،، دل ساکت سا ہو جانے کا دورانیہ جتنا لمبا ہوتا ہے ،، دل کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ خالق کی محبت میں سر مستی سی آ جاتی ہے ۔ دنیائے آسمان کی یہ حیران کن دنیا مالک سے عشق کو مزید راسخ کر دیتی ہے ۔،،،، اُس خالق نے اپنی کائنات انتہائی محبت ، اور باریک بینی ،، اور کاری گری سے بنائی ہے ۔
انسان بذاتِ خود اس رب ِ مصور کا عجب شہکار ہے ،، اور اُس نے خود اس شہکار کو وہ ہُنر عطا کیا ۔ کہ جب بھی وہ کسی رنگ ، آہنگ سے کوئی تخلیق بناتا ہے تو خود ہی اس پر عاشق بھی ہو جاتا ہے ۔ یا دوسرے اس ہنر کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ،،، کبھی کلام میں ، کبھی طعام میں ، کبھی لباس ، کبھی برتن ، کبھی رسوم کی کاریگری اور کبھی اُس دلربا رقص میں کہ جب پاؤں اٹھیں ،، نہ اٹھیں ،، لیکن جھومنا ہی اُس کی کاری گری دکھا جاتا ہے ۔ ہر دور میں ،، ہر تہذیب میں ایک طبقہ ایسا ودیعت کیا گیا ،، جو دوسروں کو نفاست ، لطافت ، نزاکت کے معنی سے آگاہی عطا کرنے کا فریضہ ادا کرتا رہا ۔ یہ کشیدہ کاری کبھی کمہار کے ہاتھوں میں ،، کبھی مصور کے رنگوں اور برش میں ،، کبھی کپڑے کے تھان پر ،،، اور کبھی سُر و چنگ کے ذریعے یا تحاریر کے باریک نکات کے ساتھ سامنے آتی چلی جاتی ہے ،،، تب سمجھ نہیں آتا ،،، اصل کو دیکھیں ،،یا نقل کو سراہیں !!
دیکھا جائے تو انسان کی بہترین ہنر مندی یہی ہے کہ وہ،،، خالقِ کائنات کی ان تخلیقات کو "پُر سکون ماحول میں احترام اور امن" سے رکھے ،،
انسان انہی جذبوں کی " کشیدہ کاری " سے شیطان کے منصوبے ناکام کر سکتا ہے ۔
کشیدہ کاری سیٹلائٹ سے دنیائے آسمانی کو دیکھنے سے ہی عیاں نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسانی ہاتھوں میں پکڑے بُرش ، اور رنگوں کے سٹروک سے ،،، سُوئی اور رنگین دھاگوں کے امتزاج سے ،، ایک پُر شفقت لہجہ ،، ایک محبت بھرا لمس ! سامنے کے تاریک اور معدوم ہوتے دل کو یکدم جگانے کا باعث بن سکتا ہے ۔ کشیدہ کاری کے اصل ٹانکے کا ہنر پھٹے دل اور دُریدہ روحوں کو سینے سے نظر آئے گا ۔ انھیں نیا سٹروک دے ڈالیں ۔۔ اُن کے سوراخوں کو رنگین دھاگوں سے سی ڈالیں ۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ،، کائنات کی آسمانی کشیدہ کاری اپنا کام مسلسل کر رہی ہے ۔ زمینی کاری گری میں سُستی ناقابل قبول ہو گی ،، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔۔اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔

( منیرہ قریشی 11 جون 2024ء واہ کینٹ ) 

پیر، 3 جون، 2024

" اِک پَرِ خیال ۔۔ اندھیرا ، اندھیرے"

" اِک پَرِ خیال "
" اندھیرا ، اندھیرے"
دیکھا جائۓ ، تو اللہ تبارک تعالیٰ نے سوائے اپنے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا ۔ زندگی اور موت ،،، خوشی اور غم ، بہار اور خزاں اندھیرا اور روشنی ،،، گویا ہر احساس کے ساتھ ساتھ ہر سانس لیتی مخلوق بھی جوڑوں میں زندگی گزار رہی ہوتی ہے ۔ لیکن اندھیرے پر غور کریں تو مکمل ، کامل اندھیرا تو نظر ہی نہیں آتا ۔ حالانکہ اندھیرے کے ساتھ اجالے کا جوڑا سمجھا جاتا ہے ۔
اندھیرا اگر پہاڑوں میں چھایا ہوا ہے تو ، وہ گھَور اندھیرا پھر بھی نہیں ہو گا ۔ بلکہ قدرِ ملگجا اندھیرا چھایا ہو گا ۔ اس لئے کہ پہاڑوں کی بلندی انھیں شفاف فضا مہیا کر رہی ہوتی ہے ۔ کہ جیسے ستاروں کی جگمگاہٹ اندھیرے کی دہشت کم کر رہی ہو۔ یہی شفافیت اور وسعتِ ،،، اندھیرا چھا جانے کے باوجود سارے میں نہایت ہلکی چاندنی کی ملاوٹ گھول رہی ہوتی ہے ۔ جیسے کوئی ہاتھ میں اجالے کی تلوار ،، وقفے وقفے سے لہرا رہا ہو ۔ اور اندھیرا مسکراتا ہوا ،، اندھیرے میں اتر جاتا ہے ۔
دیکھا جائے تو میدانوں کا اندھیرا ، آج کے دور کے لوازمات کے ساتھ زمین سے 30 یا 40 گز کے کہیں بعد شروع ہوتا ہے ۔ "رات " کو دیکھنے کے لئے منہ اُٹھا کر اندھیرے کو گھُورنا پڑتا ہے ۔ تب کچھ چھَب دکھاتا ہے لیکن تاروں کی موجودگی اسے بھی ملگجا بنا دیتی ہے ۔
بِعَینہٖ سمندر کی بظاہر ہیبت اور وسعت کے باوجود سورج اپنی کرنیں 200 میٹر تک پہنچا کر بے دم ہو جاتا ہے ۔ اب یہاں گَھور اندھیرے کا راج شروع ہوجاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا ،،، لیکن یہ کیا !! اِس اندھیرے کی کاٹ کے لئے تو سمندر کی تہہ میں موجود بے شمار تیرتی پھرتی مچھلیاں اور گونگے ، اپنے اجسام سے روشنی چھوڑ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ نا شُکرے انسان کے لئے ، ہر لمحے کی شکر گزاری کے مواقع !!
تو پھر اندھیرا کہاں ہے ۔ ؟؟
اندھیرا تو دراصل ہمارے دلوں میں ہے،،
اندھیرے نے تو ہماری تنگ نظر سوچ پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔۔
اندھیرا ہمارے کردار کی گراوٹ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہوا ہے ،،،،
اب یہی سب اندھیرے مل کر ہماری قبر میں ایک ساتھ اُتریں گے ۔ تو کیا اپنی ذات کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے ،،، ہمارے پاس ابھی وقت نہیں ! تو پھر اِس زندگی کا مقصد کیا ہوا ؟؟ اور قبر کے مستقل اندھیروں کو دور کرنے کے لئے چاندنی کی کون سی لہر محفوظ کر لی جائے ،، کون سے چمکیلے اعمال کی مچھلیوں کو لبھا لیا جائے ؟؟؟ مستقل وِرد ، حُسں اخلاق ،،، حُسنِ طعام ،، حُسنِ کلام !!

( منیرہ قریشی 3 جون 2024ء واہ کینٹ ) 

اتوار، 12 مئی، 2024

"دیباچہ " ۔۔۔ "جنگل کچھ کہتے ہیں "

"دیباچہ "
دیکھا جائے تو کائنات میں دو رنگ حاوی ہیں ,ہلکا نیلا اور سبز !! نیلا آسمان ، نیلا پانی ، نیلی آنکھ اور نیلے رنگ کی دنیا میں جابجا بہاریں الگ ۔جب کہ سبز رنگ سبز درخت ، سبز پہاڑ اور بہت سے سبز دریا اورپھر سبز رنگ کی دنیا میں الگ ہی جہتیں ۔سمجھ نہیں آتا کہ سبز کے اتنے روپ کہ اُن کے منفرد نام لیتے ہوئے کچھ لمحے سوچنا پڑتا ہے ، زمردیں ، کاہی، مونگیا، سمندری سبز ، کاہی سبز ، یا پھر ہلکے پیلے سبز ۔گویا اللہ نے ہر رنگ کو صرف رنگ کے طور پر ہی تخلیق نہیں کیا بلکہ اس میں ہلکے سے لے کر گہرے سے گہرا شیڈ ایسا بنایا کہ رنگوں کی ہوس رکھنے والی آنکھوں کی تسکین ہو سکے۔
درختوں کی اپنی شکل و قامت ، تنّوں کی موٹائی ،رنگوں کے مختلف النوع عکس ، پتّوں کی بناوٹ اور پھر ان میں چھُپے خواص و صفات کی کشش اپنی جگہ لیکن جب یہ احساس جاگ جائے کہ یہ درخت میرا انتظار کرتا ہے ، مجھے بلاتا ہے اور کچھ کہنا بھی چاہتا ہے شاید وہ دُکھی ہے اور نہ جانے کیا دکھ سمیٹے کھڑا ہے۔ تو یہ سب دیکھ کر انسان مسحور نہ ہو تو کیوں کر نہ ہو ۔
والدین فطرت کے شیدائی رہے ۔ جس کے اثرات اولادپر ہونا ہی تھے ، بچپن سے درختوں ، پودوں کی محبت اور صُحبت ہماری فطرت کا حصہ بن گئی ۔ بچپن ایک شہری گھر میں گزرا جس کے صحن میں گملوں کی قطاریں تھیں جیسے کوئی نرسری ہو ۔ صحن کے وسط میں کسی کا تحفتاً دیا سفیدے کا درخت اور اس پہ مستزاد صحن کے دونوں اطراف چنبیلی اور موتیا کی بیلیں ۔ یہ وہ پُر بہار اور سر سبز ماحول تھا جس میں آنکھ کھُلی ، پھر درخت اور سبز رنگ ہمارے ساتھ ساتھ رہے ۔ سفیدے کے اس درخت نے خوب تیز رفتاری سے قد نکالا ، جب شمالی ہوا چلتی تو وہ پورے زور و شور سے جھومتا کہ جیسے ہوائیں اس کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہی ہوں اور وہ دھمال ڈال رہا ہو۔ میرے لئے اس کا یہ رُخ بہت دلچسپی کا باعث رہا ۔
کچھ وقت اور گزرا ،میرے جُڑواں بہت خوش مزاج بچپن گزار رہے تھے ۔ وہ چہکتے پرندوں کی طرح اپنی مَدُھر آوازوں سے ہر وہ گانا گاتے ، جو اِن دنوں ٹی وی پر مقبول ہوتا ، وہ گھر کے پچھلے باغیچے میں لوکاٹ کے درخت کے نیچے زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ۔ خاص طور پر لوکاٹ کی ایک ٹہنی اِن کی پہنچ میں تھی جس پر روزانہ دو تین گھنٹے گزارنا از بس ضروری ہوتا ۔ چھ سال کی عمر آتے ہی ایک جان کو خالق کا بلاوا آ گیا اور دوسرے کی دلچسپی لوکاٹ یا اس کی ٹہنی پر جھولنا یکسر ختم ہو گئی ۔ چند ماہ تک اپنے اندر کی دنیا نارمل کرنے کے بعد پچھلے لان میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ لوکاٹ کا سارا درخت توہرا بھرا تھا لیکن وہی ٹہنی سوکھ رہی تھی جس پر وہ بلا ناغہ بیٹھتے تھے ، مزید چند ہفتے گزرے اور ٹہنی ٹوٹ کر گر گئی۔ درخت کی حساسیت اور کرب و غم کے اس واقعہ نے مجھے درختوں اور اُن کی زبان کے مزید قریب کر دیا ۔ بہت بعد میں علم ہوا کہ درخت صرف سانس لینے والی مخلوق نہیں بلکہ وہ تو باتیں کرتے ہیں ، احساسات کی دنیا بسائے پوری دنیا کے درختوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ۔ انھیں دُکھ اور خوشی کا بھرپور اظہار کرنا آتا ہے اور اِن کی دنیا میں انسانی یا جنگلی مخلوق کے لئے وسعتِ قلب ہے ، اِسی لئے تو جہاں درخت ہوں وہاں ، رنگ ، خوشبُو ، جنگلی حیات اور ہواؤں کے ساتھ رقصِ درویش سے ہی فطرت کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے ۔
درختوں پر لکھی کتاب "جنگل کچھ کہتے ہیں" کو مکمل کر لیا تو انتساب کا سوچا اور سوچ نے لمحہ بھی نہ لگایا کہ
" ببول کا وہ درخت ، جو مقام حدیبیہ میں ایک چھتنار درخت کی طرح موجود تھا اور جس کا ذکر سورہ فتح میں اللہ شان جل جلالہ' نے بہت اہمیت کے ساتھ کیا ہے ۔ جس کے سائے تلے ، ایک خاص وقت میں کائنات کی عظیم ترین ہستیؐﷺنے چند ارفع ساتھیوں کے ساتھ وہ معاہدہ کیا کہ ایسا منظر شاید ہی کسی اور درخت کے سائے تلے دِکھائی دیا ہو "۔ یہ درخت اس اہم واقعہ کے چند سال بعد ہی وہاں سے ایسا ناپید ہوا کہ جیسے وہ سر زمینِ حجاز پر تھا ہی نہیں ۔ شاید اس درخت کو اس پاکیزہ فرض کے بعد دنیا میں اپنا مقصد حیات پورا ہوتا محسوس ہوا اور مالکِ حقیقی نے اسے اوجھل کردیا ۔میں نے "جنگل کچھ کہتے ہیں " کا انتساب اس اہم ڈیوٹی دے کر چلے جانے والے ببول کے درخت کے نام کیا ہے ۔
منیر نیازی کا ایک خوبصورت شعر ہے
؎ ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو
جو شخص سُنتا ہے، وہ بول بھی تو سکتا ہے
مجھے یہ شعر صرف ایک لفظ کی تبدیلی سے اپنی کتاب میں درج خیالات کی عکاسی کرتا محسوس ہوا ،جو شاعر سے معذرت کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔
ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو
جو "درخت " سُنتا ہے،وہ بول بھی تو سکتا ہے
منیرہ قریشی
اردو بلاگر"خانہ بدوش"
munirazafer.blogspot.com
یکم جون  2025
واہ کینٹ

 

بدھ، 13 ستمبر، 2023

'' اِک پرخیال"۔۔۔"عشق"

'' اِک پر خیال"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" اے خالق و مالک مجھے تجھ سے بہت محبت ہے ،،، لیکن ،،، ابھی تک ضمیر کی طرف سے گواہی نہیں آئی ،،، اور میرا دعویٰ ء محبت درِ قبولیت کے باہر کھڑا ہے ، کہ ابھی محبت کو ،،،"عشق" کی سیڑھی پر قدم تو رکھنے دو !!

( منیرہ قریشی 13 ستمبر 2023ء واہ کینٹ ) 

بدھ، 23 اگست، 2023

" اِک پَرِخیال" .." دستک"

" اِک پَرِ خیال"
' دستک '
۔۔۔۔۔۔۔
ناسا سے بھیجی گئی وائیجر 1 ،،،، سیٹلائٹ نے 1977ء سے سفر کی ابتداء کی ، اور 20 جولائی 2023ء تک وہ اپنے بہت سے فرائض انجام دے کر ہمیشہ کے لئے خلا کی لا محدود وسعتوں کو پیاری ہو گئی ،،، لیکن جاتے جاتے ،،، اپنی شاندار کامیابیوں پر نازاں سائنسدانوں کو جہاں اطمینان اور خوشی دی کہ انسانی ہا تھوں اور اذہان سے تراشے اس ہتھیار نے ان پر بے شمار خلائی راز منکشف کیے ،،، وہیں انھوں نے ایک روشن ستارے کی آواز سن لی ،،، یہ وہ لمحات تھے جس نے انھیں گنگ کر دیا ،،، کہ اس روشن ستارے کا ذکر تو کائنات کی آ خری الہامی کتاب میں 1400 سال پہلے سے موجود ہے ،،، اور اس ستارے کو " طارق" کا نام دیا گیا ،،" طارق یعنی طرق"۔۔۔۔۔۔۔۔
طرق ،،، یعنی ٹھک ٹھکا ٹھک کی آواز ،،، یا ،، کسی چیز پر ضرب لگائی جا رہی ہو تو اس کی آواز ،،، یا "دستک" کی آواز دیتا ستارہ !!!
سورہ الطارق ، پارہ 30 ،،، آیت نمبر 1،2،3
" قسم ہے آسمان کی ، اور رات کو آنے والے کی ، اور کیا چیز بتائے تجھ کو ، وہ رات کو آنے والا کیا ہے ، تارہ چمکتا ہوا "
اس تارے کی دستک دیتی آواز نے کائنات کے رازوں میں سے ایک راز کے عیاں ہونے پر مغربی سائنسدان نہ صرف خوش ہیں وہیں وہ حیرت سے ساکت ہو گئے ، اور سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کو حق تعالیٰ نے آخری الہامی کتاب میں پہلے ہی لکھ دیا ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے !!!
دیکھا جائے ،، تو یہ دستک کی آواز،،، انسانی جسم کا حصہ ہے جو اس کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی آچکی ہوتی ہے ،،،، ماں کے پیٹ میں جب چند ہفتوں بعد ہی اس کے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگتی ہے تو اس کی آواز بھی کچھ ایسی ضرب لگتی محسوس ہوتی ہے ،،، آگے چل کر یہ وجود لفظ " زندگی " سے تیار ہو کر اس دنیاۓ رنگ و بُو میں بھیجا جاتا ہے تو اس کے اندر اللہ نے اپنے نام جیسے لفظ کا ایک "عُضو" دل کو رکھ چھوڑا ہوتا ہے ،،، اسی دل سے زندگی کے موجود ہونے تک کی ٹھک ٹھکا ٹھک ،،،، کی دستک دی جاتی رہتی ہے ۔۔۔کہ
اے انسان !! ذرا ادھر توجہ کر ،،،، ذرا اس دستک کا پیغام سن !! اور یہیں آس پاس احساس کا ایک عجب وجود بھی موجود ہوتا ہے ،،، جسے " ضمیر " کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کا کام تو ہے ہی دستک دیتے رہنا ۔

ضمیر ،،،کی یہ دستک ، ہمارے ہر بُرے کام پر ضرب لگاتی ہے ، کبھی یہ آواز آہستہ ،،، اور کبھی بہت تیز دستک سنائی دیتی ہے ،، جتنا بڑا اور بُرا کام ہو گا ،،، ٹھک ٹھکا ٹھک کی آواز اتنی ہی بلند ہو گی ،،، جو ہمارے اندر کی دنیا میں تیز تیز چمک پیدا کر رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔ یعنی "متوجہ ہو ،،، یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔ کیوں سازشیں بُنی جا رہی ہیں ،،، مت بھولو ،، یہ عارضی پڑاؤ ہے ،،، بہت جلد ان سب حرکات کا حساب ہو گا ۔ لیکن ،،، انسان اپنے مال ، آل ، اور اقتدار کے زعم میں فرعون بنا ،،، اندر کے " طارق " کو نظر انداز کرتا چلا جاتا ہے ،،، تب اس تارے کی چمک مدھم ہوتے ہوتے ، معدوم ہو جاتی ہے ،،، اور حلق کا گھنگھرو بج اُٹھتا ہے ۔ گویا اب دوسری موسیقی کا وقت ہو چلا ہوتا ہے ،،، جَسے مدفن کا سُر کہیں گے ۔  

The symphony of death

The song of eternity
The rise of late night star
Signs of the call of Almighty
( Ghazala Siddiqui )
انگریزی کے یہ خوبصورت اشعار جو غزالہ صدیقی کے ذہنِ رسا نے اس کالم کے جواب میں فی البد یہہ کہے ،،، ایسے تھے کہ جیسے اس کا اختتامیہ ہو ،،
اس کی اجازت اور شکرئیے سے شاملِ انشائیہ کر رہی ہوں ، شکریہ غزالہ !
پیاری خوش گمان غزالہ۔۔اس بات کی وضاحت کر دوں کہ جیسے ہی ستارے طارق کی قریبی دھڑکتی ویڈیو اور پھر آواز اور اس کا دستک دینے کا انداز سیٹلائٹ نے بھیجا ۔۔ تو اس وقت مسلم سائنسدانوں کی طرف سے اپنی الہامی کتاب کی سچائی بتانے کا اللہ نے یہ ایک اور موقع دیا ۔۔اور خود ناسا کے سائنسدان بھی قرآن پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔۔یہ ستارہ جس کا ذکر قرآن میں طارق کے نام سے مذکور ہے ۔ دل کی دھڑکن کی طرح سکڑنے اور پھیلنے کی اس کی ویڈیو دیکھی تومجھے اپنے رب نے یہ استعاراتی ۔۔۔ الفاظ عطا کیے جو کالم کی صورت میں لکھ دئیے کہ دستک تو وہ خالق اپنی ہر تخلیق کے ذریعے وا کر رہا ہے بس ہمیں غور کی فرصت نہیں۔
اور میں کہیں سے بھی دانشور کہلائے جانے لائق نہیں۔۔۔تمہاری محبت کا شکریہ۔ اور تمہاری اجازت سے یہ انگلش ہائیکو شامل کر کے خوشی ہو رہی ہے ۔یہ جو تم نے سوال اٹھایا ہے کہ دستک اب کیوں سنائی دی ہے ۔ تو یہ کہہ تو دیا ہے رب کائنات نے کہ ۔۔ یہ موجودات اللہ نے انسان کو مسخر کرنے کے لئے بھی پیدا کئے ہیں۔۔۔۔ اب جس نے محنت کی اسی کو صلہ ملا ۔۔تو اس رب کو غور وفکر تو ویسے بھی پسند ہے۔۔۔وہ انہی کو نتیجہ بھی عطا کر دیتا ہے ۔ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔۔۔۔ والا حساب ہے۔
( منیرہ قریشی 23 اگست 2023ء واہ کینٹ )
"محترمہ غزالہ صدیقی کا "دستک" پر اظہارِ خیال"۔۔۔
بے حد دانشورا نہ ، عالمانہ اور دل پہ دستک دیتی تحریر - طارق کی لفظ طرق سے وضاحت پہلی بار جانی کہ ٹھک ٹھک کرنا یا دستک دینا کو کہتے ہیں - فیس بک پہ اس ستارے کی دھڑکن سنی تھی بالکل دھڑکن ہی ہے - اس میں اللہ کی قدرت کے کتنے اسرار ہونگے جس کی وجہ سے اللہ نے اس ستارے کی قسم کھائی !!! یہ دھڑکن جب اللہ نے چاہا تب انسان کو سنائی لیکن اب کیوں ؟ یہ بھی قابل غور بات ہے -- ہمیں کیا پیغام دیا جا رہا ہے ؟
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی
کیا بساط لپٹنے کو ہے ؟
'مدفن کا سر ' خوب استعمال کیا آپ نے - دوسری موسیقی کا وقت ہوگیا -- واہ
The symphony of death
The song of eternity
The rise of late night star
Signs of the call of Almighty
( Ghazala Siddiqui )


پیر، 26 جون، 2023

" اِک پَرِخیال " "کائنات کی مُہر"

" اِک پَرِ خیال "
"کائنات کی مُہر"
جب سے ماہرینِ اناٹمی اور بہترین علماء جنھوں نے اپنی تحقیق میں الہامی کتب کے الفاظ پر عمیق غور و فِکر کیا اور انھوں نے یہ انکشافات کیۓ کہ ، انسانی ریڑھ کے بالکل آخری مُہرے کو اللہ کی ذات مٹی بُرد ہونے سے بچا لیتی ہے اور اس کے ایک جرثومے سے ہی قیامت کے دن قبر سے انسان کو دوبارہ جسم دے کر اٹھایا جاۓ گا ۔ اور یوں انسان کو دوبارہ زندہ کیا جاۓ گا ، خالق کائنات نے اپنی ہی تخلیق کو خود ہی محفوظ کر لیا ۔۔۔۔۔
اب انسانی زندگی میں چلتے پھرتے میں بھی ایک شناخت رکھ دی اور وہ ہے انسان کے ہاتھوں کے انگوٹھے کے چکر ،،، دنیا میں اگر سات ارب لوگ ہیں تو سبھی کے انگوٹھوں کے چکر مختلف بنا دئیے ۔۔ اور یہ کائنات کا وہ سچ ہے کہ جسے کوئی قوم ، جھٹلا نہیں سکی ۔
صدیوں سے نہ تصویر ، نہ جسمانی نشان ، نہ کوئی معذوری ، نہ ہی انسان کی کوئی ذاتی عادت اس کی شناخت کو حتمی و آخری مانا گیا ہے ۔۔
بلکہ انگوٹھے کا پرنٹ ہی زندہ انسان کی حتمی و آخری شناخت قرار پا چکا ہے ۔۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے دنیا کی آخری الہامی کتاب میں واضح کر دیا " کہ میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ، " ،،، اور اپنے رب کے گھر کا طواف کرو نماز پڑھو اور قربانی کرو " ،،،،، اور ،،،، اس طواف کے عمل میں سفید لبادے کو پسندیدہ سمجھا دیا گیا ۔ مشرق ، مغرب ، شمال ، جنوب ،، سبھی رنگ و نسل نے ایک لبادہ پہنا ، اور حکم کی بجا آوری کر ڈالی ۔ اس منظر کو باطن کی آنکھ سے دیکھا تو یوں لگا ،، " کائنات کا بھی ایک پرنٹ " تھم پرنٹ ،،، جو طواف کرتے حجاج ،،، یا سجدہ ریز حجاج ، مکمل کرتے نظر آتے ہیں ،،
انسانی ہاتھ کے انگوٹھے کے عجیب دائرے اور حج کرتے طواف کے والہانہ پن سے مکمل ہوتے دائرے میں کتنی " مماثلت " ہے ۔ اُف ! عجیب ہیں قدرت کے راز ،،،،، عجیب ہیں اُس کے اشارے ، اور استعارے !!

( منیرہ قریشی ، 26 جون ، 2023ء واہ کینٹ ) 

بدھ، 8 فروری، 2023

" جنگل کچھ کہتے ہیں "( 2)

" جنگل کچھ کہتے ہیں"( 2)

اسی بچپن کے دور میں جب کبھی گرمیوں کی چھٹیوں میں پہاڑی علاقے میں رہنے کا موقع ملتا ،، اتفاق سے اس گھر کے ساتھ چھوٹا سا لان بھی تھا ، جس کے گرد ، اونچے ، لمبے ، گہرے سبز لباس پہنے درختوں کا بے ترتیب سا گھیرا تھا ۔ اور ہم دونوں بہنیں ، چھٹیوں کے بور کام سے فارغ ہوتے ہی اپنے چھوٹے سائز کے کھرپے پکڑ کر اس لان میں چند کونوں میں اس خیال سے گوڈی کرتیں کہ یہاں سے شاید کوئی خزانہ نکل آۓ ، ہم خوب امیر ہو جائیں گے ،،یہ مؑعصومیت کا وہ دور تھا کہ ہر خیال ، سُچا ، اور یقینی لگتا تھا ،، اس لان کے گرد خاموش ، نیم اندھرے میں باوقار پہرے دار بنے کھڑے ہوتے ۔ اور ہمیں ساحرانہ انداز سے اپنے خیال میں پورا یقین ہونے کا یقین دلانے لگتے ۔،، گویا پُراسراریت ، انوکھی سوچ ، اور سچائی کا وہ جذبہ شاید درختوں کی موجودگی کے ساتھ جُڑا ہوا ہوتا ہے ۔ اس دور میں اس لان میں آتے ہی لمبے لمبے سانس لیتیں ، اور اکثر یوں محسوس ہوتا،، ہمارے اس عمل سے درخت ہلکا سے جھوم جاتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں " دیکھا ہم کتنے خوبصورت طریقے سے سبھی جانداروں کی خدمت کر رہے ہیں "۔ لان میں گزرتا وقت ہمیں سحر اور حفاظت کا احساس دیتا ۔ ۔۔ دو ، ڈھائی ماہ بعد شہر واپسی ہوتی ، چند دن اچھے گزرتے ، لیکن درخت ، پہاڑ ، مختلف النوؑع سبزے کے " شیڈز " ،،، یاد آنے لگتے۔ اور گھر کے صحن کے واحد سفیدے کے درخت کے تنے پر آتے جاتے ہاتھ پھیرتی ۔ صحن کے دائیں ،اور بائیں انگور اور چنبیلی کی چھت تک جاتی بیلوں کو پیار سے دیکھتی ۔۔۔ لیکن شہر کی گہما گہمی ، یکسانیت مصروفیت ، اور آکٹوپس جیسی زندگی ،،، اندر ہی اندر بے زار کر دیتی ،، یہ بچپن کا دور کتنا سادہ تھا کہ گھر سے نکل کر چند میل دور کے پارک میں جا کر ہی دل کی دھڑکن تیز رہتی ، اس پارک کے ساتھ بنے ڈیم ، اور اس ڈیم کو مضبوط بنانے کے لیے درختوں کے ایک ذخیرے کو محفوظ کیا گیا تھا ،، اس منظر کے رنگ ،، آج بھی آنکھوں میں بسے ہوۓ ہیں ،،، نیلا پانی ، مٹیالا ، اور گرے تعمیراتی سامان سے بنا ڈیم ،،، سبز درختوں کا جھنڈ ،،، اور بالکل دوسری جانب سرخ چھتوں والی چند دکانیں اور ان کے بنچ ۔ ،،، مختلف رنگوں کی یہ سینری جس میں سبز رنگ نمایاں محسوس ہوتا ہے ۔دل کو عجب شانتی سی مل جاتی ۔ شہر سے دور رہنے والے ، میرے نزدیک خوش نصیب لوگ ہیں ۔ درختوں کی موجودگی مجھے زمین سے تھوڑا اوپر اُڑائے رکھتی۔ مجھے اپنے اصل دوست یہ درخت محسوس ہوتے ، کچھ دیر میں ہی تازہ دم ہو کر اگلے دو تین ماہ کی آکسیجن بھر جاتی اور جیسے نئے حوصلے سے چارج ہوجاتی ۔ درختوں کے جھنڈ خدا حافظ ، خدا حافظ کہتےصاف سنائی دیتے ۔ چھوٹی کیاریوں میں لگے پھول ، بہت نزاکت سے سر گھماتے اور ایک دوسرے سے قدرِ متکبرانہ انداز کا رویہ دکھاتے محسوس ہوتے ، ہُنہ !! ہمیں نظر انداز کرنا کوئی آسان نہیں ، اور واقعی گھر آکر ایک ایک پھول ، ایک ایک پتّا ۔ ایک ایک اینٹ مجھے یاد آتی اور جیسے دماغ میں نقش رہتی ۔ درختوں کے باوقار رویے کا احترام ضرور ہونا چاہیے ۔
زندگی سے بتدریج یہ خفیہ پیغام ملا کہ درخت اکیلا ہے یا ذخیرے کی صورت ،باتیں کرتا ہے۔ کوئی سُننے والا تو ہو ، کوئی ایسا ہو ،جو سراپا کان ہو ، جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم سے کہے ، " میں ہوں نا " !!!

(منیرہ قریشی ، 8فروری 2023ء واہ کینٹ ) 

پیر، 6 فروری، 2023

" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( ا)

" جنگل کچھ کہتےہیں " ( ا)
،، انتساب،،
مقامِ حدیبیہ کے اس درخت کے نام ،، جس کا ذکر سورہ فتح میں قیامت تک کے لیے امَر ہو گیا اور ، جس کے نیچے کائنات کی عظیم ترین ہستی نے اپنے صحابہ کے ساتھ قیام فرمایا ، اور اعلیٰ و ارفعٰ فیصلے کیے "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم اشفاق احمد صاحب رح ،،، اپنے ایک نہایت با ذوق دوست محمد حسین نقش کو تھر سے خط لکھتے ہیں ، " میَں آج کل تھر میں ہوں ، اور یہاں کے مختلف گوشوں کی خاموشیوں کو "ریکارڈ "کر رہا ہوں ۔ سچ پوچھو تو کمرے کے ایک کونے کی خاموشی دوسرے کونے سے مختلف ہوتی ہے اور یہاں تو علاقہ اور قدرتی ماحول ہی فرق ہے "۔اور آج یہاں کی ایک بہت سادہ اور چھوٹی سی مسجد کی خاموشی محسوس کرنے جا رہا ہوں !!!
کیسے کیسے منفرد لوگ اپنے انوکھے اور ارفع خیالات لکھتے رہے اور آنے والی نسلوں کے لئے عجب سنگ میل چھوڑ گئے ۔
کچھ ایسے ہی جنگل یا درختوں کی محبت نہ جانے کب ، کس دور میں دل کے کونے میں ایسی جا گزیں ہوئی ،کہ پتہ بھی نہ چلا اور جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں ۔ جب کبھی سیر کا موقع ملتا تو نظریں درختوں کے جھُنڈ ، درختوں کی چوٹیوں اور ان کے سایوں کو تلاشتیں ۔ اپنے سرسبز گاؤں کبھی جانا ہوتا تو مزاج میں نخرے پن کا احساس غالب رہتا ، بھلے وہ چند گھنٹوں کا قیام ہوتا ، یا دو دن ٹھہرنے کا ،لیکن اس قیام کے دوران نو عمری کی تنقیدی سوچ غالب رہتی لیکن جوں ہی سڑک سے اتر کر گاؤں کے کھیت کھلیان کو دیکھتے تو دل جھوم جھوم جاتا ۔ قیام چند دن کا ہوتا ، تو قریبی پہاڑی کا ایک چکر ضرور لگتا ،اس کے ٹیڑھے میڑھے راستے کی گھنی جھاڑیوں کو محبت سے دیکھتی ، ان جھاڑیوں کی جڑوں میں چھپی ننھی منی مخلوق نظر آتی تو مزید نہال ہو جاتی کہ انہی میں سُرخ مخملیں گاؤن اوڑھے مختلف جسامت کی " بیر بہوٹیا ں ، دل کی دنیا میں پُھلجھڑیاں چھوڑنے لگتیں کہ ساتھ لی ہوئیں ماچس کی خالی ڈبیوں میں انھیں جمع کیا جاتا ، اب وہ ہمارے شہر میں جائیں گی ۔ ( اس بات سے لاعلم کہ یہ کیا کھاتی ہیں ، ان کی خوراک کا انتظام بھی کیا جائے )، نتیجہ یہ کہ گھر واپس پہنچنے تک ایک دو بیر بہؤٹیاں اداس پھر رہی ہوتیں ، دوتین مر چکی ہوتیں ۔ خوشی اس بات کی ہوتی کہ فطرت کے ایک عکس کو شہری شب و روز میں دو چار دن دیکھیں گے اور یہ حسین کیڑے مر جاتے تو اپنے گھر کے صحن کے ستون کی جڑ میں لگی انگور کی بیل ،اور دوسرے ستون کی جڑ میں لگی چنبیلی کی بیل میں سے کسی ایک کو ایک طرف ، دوسری کو دوسری بیل کی مٹی میں دفن کر دیتیں ۔ قدرت اپنی فطرت کبھی نہیں بدلتی ۔ انسان دنیا میں آنکھ کھولنے سے لے کر شہر کی گہما گہمی ، اور کنکریت ، لوہے ا ور جدید ترین طرزِ زندگی کا چاہے کتنا عادی کیوں نہ ہو ، قدرتی نظاروں کے لوازمات سے مزّین دنیا کا جب بھی سامنا ہوا ،اُس مشینی انسان کی آنکھیں شوقِ نظارہ میں ٹھہر سی جاتی ہیں ۔ اور ایک پُر تجسس " آہ ،،، اس کے ہونٹوں سے نکل جاتی ، جیسے دل ،، اس کے دماغ سے پوچھ رہا ہو " پہلے کیوں نہیں دھیان دلایا " ۔یہ اَور بات کہ آج کا مشین زدہ انسان پھر اسی آرام دہ رہن سہن کو یاد کرنے لگتا ہے کیونکہ انسان روح اور بدن کی دو کشتیوں کا سوارہے ۔
بچپن کے اُس سادہ دور میں درختوں تلے پہنچ کر لمبے لمبے سانس ضرور لیے جاتے کہ والدین کا تعلق زمینوں سے بہت گہرا تھا ،اس وقت کے شہری رہن سہن کے باوجود وہ سبزے ، درخت ، اور عام چھوٹے پودوں کی محبت میں غرق تھے ہمیں درختوں کی میٹھی ٹھنڈک کی اہمیت بتا اور سکھادی گئی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ اس شہری صحن والے گھر میں بھی سفیدے کا ایک خوب صورت درخت لگایا گیا تھا ،جگہ کی کمی تھی لیکن سفیدے کی دوستی کے لیۓ چنبیلی اور انگور کی بیلیں ، گھر کی دوسری منزل تک پہنچی ہوئی تھٰیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ،، جیسے تینوں چوٹیوں کی آپس میں سرگوشیوں میں بات چیت رات ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے ، شاید وہ اپنی خفیہ باتیں ، گھر میں موجود ستر ، اسّی گملوں کے پودوں سے چھُپانا چاہ رہی ہوتیں ۔ سخت آندھی کے دن ،سفیدے کے درخت کا بے اختیار ہو کر جھومنا ، ڈرانے لگتا ، ایسے موقع پر اس کے تنے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے شانت ہونے کا کہتی اور اکثر محسوس ہوتا کہ وہ پُر سکون ہو گیا ہے ۔۔۔ یا تو وہ میری بات سمجھ جاتا تھا ، یا ،، میَں اس کی وارفتگی کو جان جاتی تھی ،، لیکن ایک خاموشی کی زبان ہم دونوں کے درمیان تھی ضرور !!

( منیرہ قریشی ، 6 فروری 2023ء واہ کینٹ ) 

بدھ، 1 فروری، 2023

" اِک پَرخیال " " احساسِ تفاخر "

" اِک پَرِ خیال "
" احساسِ تفاخر "
پرانی ملازمہ ، ایک دن ملنے آگئی ،، ہم دونوں گپ شپ میں مصروف تھیں کہ نئی ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی دونوں ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتی تھیں ۔ علیک سلیک کی ۔ پرانی نے پوچھا " سنا ہے مکان مکمل ہو گیا ہے !؟ "
نئی نے جواب دیا " اوو،، بالکل "! 'او 'کی " و " ذرا لمبی تھی ۔ میں یہ منظر دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ،،، پھر سوال ہوا ۔۔۔ " لنٹر ؟؟؟" ۔۔۔۔۔۔۔
اب کی دفعہ جواب میں" و" ذرا زیادہ لمبا آیا " اوووو ، لنٹر " !! اور ساتھ ہی سَر بھی کچھ ٹیڑھا ہوا ۔۔۔جو احساسِ تفاخر سے سرشار تھا ۔
بنک جانا ہوا ، کچھ دیر انتظار کرنا پڑا اتنے میں ایک معززخاتون ، اچھا لباس ، ہاتھوں ، کانوں بانہوں میں مناسب سونے کے زیورات ۔ اسّی کے قریب قریب عمر،، انھوں نےمیچنگ لپ سٹک بھی لگا رکھی تھی ،، کچھ دیر سلام کے بعد چُپ رہیں ،، پھر خود ہی کہنے لگیں" اب میں ریٹائرڈ لائف گزار رہی ہوں ، تیس سال سرکاری سکول میں استانی رہی ہوں ، بال بچوں کو پڑھایا ، بیاھا ، اور اب گرینڈ چلڈرنز کو انجواۓ کرتی ہوں ،،، پھر ان کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ آئی ،، اتنے میں ان کا نام پکارا گیا ،،، مینیجر نے نرم لہجے میں پوچھا
آپ کا ٹوٹل اماؤنٹ ،،،، سوال پورا ہونے سے پہلے ہی انھوں نے پُر اعتماد لہجے میں ذرا بلند آواز میں کہا " ستتتر لاکھ " ،،، یہاں احساسِ تفاخر میں اطمینان جھلک رہا تھا ، یہاں " ت" پر پورا زور تھا اور ساتھ ہی انھوں نے مینیجر کی میز پر بایاں ہاتھ بھی کچھ زور سے تھپتھپایا ،،،، گویا کہنا چاہ رہی ہوں ،،، کیا سمجھے !!
فوتگی کے گھر سے جنازہ جا چکا تھا ، غم زدہ خاتون کے گرد دس بارہ خواتین کا گروپ بیٹھا ، ہلکی آواز میں تعزیتی جملے بول رہا تھا ۔ اسی دوران ایک خوشحال خاتون نے دوسری زیادہ خوشحال خاتون سے حال احوال پوچھا ،،،
زیادہ خوشحال کے پوچھنے پر پہلی نے بتایا ،،، سب سے بڑی بیٹی میڈیکل کے آخری سال میں ہے ، دوسرا بیٹا آرمی سے کمیشن لینے والا ہے ،، اس سے چھوٹا او لیول کے دوسرے سمسٹر میں ہے ،،،، میں سینئر لیکچرار بن چکی ہوں ، اب کام کا بوجھ نہیں رہا ،، میاں کو سعودیہ میں پانچ سال سے نوکری ملی ہوئی ہے ،،، بس جی دو حج کر چکی ہوں ،،، مصروفیت ہی مصروفیت ہے ،،، انھوں نے احساسِ تفاخر سے ذرا نظریں ادھر اُدھر دوڑائیں ،، تاکہ جائزہ لیں کہ کچھ لوگ متوجہ بھی ہیں ،،، یا ،،یہ سب کہا ضائع تو نہیں ہو گیا ۔
دوسری زیادہ خوشحال نے بتایا ،،، میرا بھی سب سے چھوٹا ، اولیول کے آخری سمسٹر میں ہے ،، اس سے بڑے ، جڑواں بیٹا اور بیٹی ابھی کالج سے فارغ ہوۓ ہیں اور انھوں نے تو کہا ہے ،، پاکستان کی یونیورسٹیاں کسی قابل نہیں ، ہم تو یا امریکا جائیں گے یا ،، یو کے ۔ اور سب سے بڑی بیٹی فلاں فیکٹری کے مالک کے بیٹے سے پچھلے سال بیاہ دی ہے ،، اور تمہیں تو پتہ ہی ہے ،، ( احساسِ تفاخُر نے ٹھمکا لگایا ) مجھے تو پاکستان کی آب و ہوا میں اب کافی الرجی رہنے لگی ہے ،، اسی لیۓ آدھا سال کسی غیر ملک میں اور آدھا سال پاکستان میں گزرتا ہے ،،میَں انھیں دیکھتی رہی ،، الرجی والے ملک سے ہی
خوشحالی سمیٹی گئی ہے اور اب ،،،،،
دونوں ہاتھوں میں سبزیوںاور پھلوں کے شاپر پکڑے وہ سَرِ راہ ملیں ،، تو بہت ہی اخلاق سے سب کا احوال پوچھا ، میرا بھی فرض بنتا تھا چنانچہ ، پوتے پوتیوں ، نواسوں ، نواسی کا پوچھا ۔۔ کہنے لگیں " ارے بھئی کیا پوچھتی ہو۔ ،، ایک سے بڑھ کر ایک لائق ، فائق ۔۔۔ میرے سبھی بچے غیر ممالک میں سیٹل ہیں ،ان کی اولادیں بھی وہیں پڑھیں گی ،، لیکن بڑے بیٹے کا بیٹا تو اس قدر قابل ہے کہ اسے اُس یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے جہان کسی کو مل ہی نہیں سکتا ،،، لاکھوں میں اکّا دُکا ہی وہاں داخل ہوسکتے ہیں ،، میں ان کی باتیں غورسے سنتی رہی ،، انھوں نے یہ جملہ دو تین دفعہ دہرایا ،،، ان کے اس زور دار اندازِ تفاخُر ،،، سے کچھ ایسا تصور بندھا ،،، کہ امریکا کی اس اتنی بڑی یونیورسٹی میں صرف ، دس بارہ طالب علم ،،، سہمے سہمے پھر رہے ہوں گے ،، جیسے وہ " ہانٹڈ " عمارت ہو َ ۔ اس تصور سے میرے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ،،، قابل بچے کی دادی نے محسوس کیا کہ مجھے یقین نہیں آرہا ،،، تو انھوں یہ جملے پھر دو دفعہ دہرایا ،، ہم بتا رہے ہیں کہ واقعی وہاں کسی کو داخلہ نہیں ملتا ۔۔تو پھر کس کو داخلہ ملتا ہے ؟ ۔ احساسِ تفاخُر یا احساسِ کمتری ۔
میری تو تینوں بیٹیوں کی شادی ، صحیح وقت پر ہو گئیں ،،، بس جی لوگوں کی تو اکلوتی بیٹھی رہتی ہے ۔۔۔ میری تو پچیس سال سے اوپر ہوئی نہیں کہ
کہ رشتے آۓ ، اور کھٹ سے رخصتی ہوتی گئیں ،،، لوگوں کی تو تیس اور اوپر ہو رہی ہیں ۔۔۔ بس جی نیتوں کا کمال ہے ،،، عقل کُل سے معمُور احساسِ تفاخُر ۔نے سگریٹ سے فاتحانہ راکھ جھاڑی ،،، ( تو پھر تمہارا کمال کیا ہوا )۔۔
ہاتھوں سے محنت کر کے ، یا ، ذہن اور علمی کمائی پر ،،یا ، بچوں کی ڈگریوں ، فیکٹریوں کی ملکیت پر ہر طبقہء سوچ کے لوگ اپنے اپنے " احساسِ تفاخر کے گرد کولہو کے بیل کی طرح گھوم رہے ہیں،،، آنکھوں پر کھوپے تو چڑھے ہیں ، لیکن اپنی مرضیوں سے !!!

( منیرہ قریشی یکم فروری 2023ء واہ کینٹ ) 

اتوار، 25 ستمبر، 2022

اِک پَرِخیال دورانِ سدر زمین وآسمان"

اِک پَرِ خیال "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
' الف'
دورانِ پرواز ، جب جہاز دوشنبہ کو پار کر رہا تھا ،،تو شدید گرج چمک کا نظارہ دم بخود کر رہا تھا ۔بادل ،،اونچی نا قابلِ یقین لہروں کی صورت جمے ہوۓ تھے ۔ لیکن جب بجلی چمکتی تو زرد اور پیلے اونٹوں کا قافلہ بھاگتا محسوس ہوا ۔ دہشت ،، رعبِ الہیٰ ،،اور ہیبت کا مفہوم قدرت کبھی کبھی ایسے ہی فلم چلا کر سمجھاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ب"
جہاز محوِ پرواز تھا ،،، اور زمین دور بہت دور نیچے ہے ،، فضا اور زمین کے درمیان بادل کہیں گھنے ، کہیں چھدرے ، اور کہیں دور دور پھیلے نظر آئے ۔ ایسے محسوس ہوا ، جیسے یہ بادل قدرت کے خفیہ پیغامات پہنچانے کا کام کرہے ہوں ،،،
گھنے بادل ،، جیسے گہری باتیں ، گہرے راز پہنچائے جا رہے ہوں
چھدرے بادل ،،، جیسے سطحی پیام
دور دراز اکا دکا بادل ،،، جیسے پہریدار ، کچھ بھی حکم ملے تو تیز ہر کاروں کی طرح ، گھوڑے دوڑانے کو تیار ۔
پھر زمین یہ پیغامات،،، کہیں امن ، سبزہ ، اور خوشحالی کی صورت ،،،،وصُول کرتی ہے ۔ کہیں بے اطمینانی ، بانجھ پن اور نفس پرستی کی صورت وصُول کرتی ہے ۔۔۔۔ اور ایسے ہی وقت میں اکا دُکا بادلوں کی گرج ، دھڑدھڑاہٹ ، ڈانٹ ڈپٹ کی صورت ، کہ جاگ اے بےخبر! جاگ ، اپنے اس عارضی قیام کا ادراک پہچان ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'' جیم "
فیروزی اور سلیٹی رنگوں کا امتزاج جب آسمان پر چھایا ہو تو اِسے کون سا رنگ کہیں گے ؟؟؟؟ اُسے کسی نام سے نہیں پکار سکتے ! یہ صِرف ایک نظارہ ، اور الفاظ ختم ،،،،
کہیں جذبوں کی مِٹھاس اور کڑواہٹ کے درمیان بھی عجیب سا جذبہ کار فرما ہوتا ہو تو ،،،، اس احساس کا بھی کوئی عنوان نہیں ہوتا ۔
کتنی عجیب بات ہے ، بلا عنوان بھی لا تعداد چیزیں اور جذبے ہیں ۔

( منیرہ قریشی ، 25 ستمبر 2022ء دورانِ سفرِ زمین و آسمان) 

جمعہ، 23 ستمبر، 2022

"اِک پَرِخیال'' 'جیومیٹری'

"اِک پَرِ خیال''
'جیومیٹری'
چکنی مٹی کی تختیاں جن پر نقش کی ہوئی علامات سے جیومیٹری کے میدان میں اہلِ بابل کی تاریخی سبقت ثابت ہوتی ہے ۔یہ زمانہ بادشاہ حمورابی کے دور کا تھا ۔گویا جدید جیومیٹری یونانی تہذیب سے بھی ایک ہزار سال پہلے ایجاد کر لی گئی تھی اور اس دور کے قدیم دریافت شدہ نوادرات سے لائنوں کے استعمال کا پتہ چلا ،،،، گویا اس دور میں تہذیب و تمدن نے اپنا اک جاہ و جلال دکھایا تھا۔
پھر ایک مدت گزری ، صدیوں نے کچھ صفحات پلٹے ،،،ازبکستان سے تعلق رکھنے والے ،، صدی کے ذہین ترین شخص نے جنم لیا ،، جس کا پورا نام محمد ابنِ موسیٰ الخوارزمی تھا ۔ اور جس نے ریاضی کی اس شاخ کی ایجاد میں وہ کمال حاصل کیا ،، کہ آج بھی اس میدان کا شہسوار وہی مانا جاتا ہے ،،،،
جیومیٹری کی لائنوں سے جس طرح مسائل حل کیے جاتے تھے ، اور کیے جاتے ہیں،، یوں محسوس ہوا جیسے ہر مسئلۓ کا حل شاید ریاضی کی اسی شاخ میں موجود ہے ،،انہی ذہین انسانوں نے جسے رب کی ودیعت کی گئی حکمت سے معلوم کیا ۔۔۔کہ کائنات تو حساب کی ہر برانچ کے مطابق ہموار طریقے سے ترتیب دے دی گئی ہے ۔
یقیناً ہر علم ایک خاص حکمت میں لپٹا نازل ہوا ہو گا ،، جو الہامی کیفیت لیے ہوتا ہے ،، تب ہی تو درجہ وجۂ دوام ہو جاتا ہے ،،، یہی الہامی کیفیت بھی اک درجۂ روحانیت بھی ساتھ لیے چلتی ہے ،،،،،
اپنے خالق سے عشق کیسے کروں کہ اس کے شایانِ شان الفاظ بیان ہو جائیں،،، سوچ ابھی اٹھ رہی ہوتی ہے کہ چشمِ نم دیدہ چہرے کی سلیٹ پر لکیریں کھینچ دیتی ہے ،، اؑعترافِ عشق ، نذرِ عاشق کیا جاتا ہے ،،، شکریہ جیومیٹریکل لائنوں کا۔
جیومیٹریکل لائنوں کے بھی کیا بھید ہیں ۔ اور انسان کی ان رازوں کو کھوجنے میں کچھ صدیاں بیت گئیں ، کچھ بِیت رہی ہیں ،،، حیران کن جیومیٹریکل لائنیں ،، شکریہ جیومیٹری !!
خالق و مالک و رازق سے محبت کے سچے گواہان میں شامل ہیں یہی جیومیٹریکل لکیریں ،، شکریہ جیومیٹری !!!
اور اگلے ہی لمحے جب فرما دیا گیا ۔" جو مجھے چاہے تو وہ اسؐے چاہے " ،،،،، اور اس عشق کے مقابلے میں 1500 سال سے لگی لمبی قطاریں ہیں، نہ جانے کن خطہ ہاۓ ارض سے آنے والوں کے ہاتھوں میں درود پاکﷺ، نہایت خوبصورت پیکنگ اور عطریات میں بسے پکڑے ہوۓ ہیں ۔ نہ جانے میری باری کب آۓ !!
اور اگر آ بھی جائے تو کہیں یہ تحفہ ایک طرف نہ رکھ دیا جائۓ !! ابھی خدشات نے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ "جیومیٹریکل لائنوں " نے عرضی مکمل کردی ،،، شکریہ ، تشکر !!
شان والے کے لیے صرف خوبصورت پیکنگ ہی ضروری نہیں اس پر پڑے اخلاص کے قطروں کی بھی کوئی قیمت تو ہو گی ،،، شکریہ جیومیٹری،
دل کے کونے سے اک خواہش نے دبی آواز میں کہا" کاش ! دمِ آخر بھی اسی تحفۂ محبت کی محفل سجا لوں ،،، جیومیٹریکل لائنوں نے فوراًًآمین کہا ،، شکریہ جیومیٹری !!!

( منیرہ قریشی 23 ستمبر 2022ء مانچسٹر) 

جمعہ، 29 جولائی، 2022

" اِ ک پَرِِخیال " ' انگلیوں اور تنے کے دائرے'

" اِ ک پَرِ ِخیال "
' انگلیوں اور تنے کے دائرے'
دو سال پہلے کے کسی برفانی اور طوفانی جھکڑ سے ،، یہ شاندار اورسرسبز ،، لیکن کہنہ درخت زمین بوس ہو چکا تھا ، وہ جڑوں اور تنے کے کچھ حصے کے ساتھ لان کے اندر اور کافی موٹے تنے اور خوب بڑی ٹہنیوں کے ساتھ لان سے باہر کے ایک جنگل میں لیٹا ہوا تھا ، جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کی سبھی ٹہنیاں پتوں سے عاری ہو چکی تھیں ۔ میں لان کے آخر میں اس چھوٹے سے قدرتی جنگل پر عاشق ہو گئی ،، اس لیے جنگل سے روزانہ کی ملاقات کے ساتھ ،،، اس شاندار درخت سے بھی لمحہ بھر کے لیے نظریں ملتیں ،اور لمحے بعد ہی پھر جنگل کا سحر حاوی ہو جاتا ،،، لیکن چند دن کے بعد مجھے محسوس ہوا وہ "درخت ابھی بھی مردہ نہیں ہوا ،"،، یوں لگا جیسے کہہ رہا ہو ،، بے شک میں آس پاس کے سر سبز درختوں ، جھاڑیوں کے درمیان آ لیٹا ہوں،،، بے شک میں ان کی طرح جھوم نہیں سکتا لیکن ذرا غور تو کرو ، میں ابھی بھی دوسروں میں خوشیاں بانٹ رہا ہوں ۔ اور واقعی غور کیا تو گلہریوں کا خوب بڑا خاندان اس کی اونچی نیچی ٹہنیوں پر آ جا رہا تھا ، وہ بے فکری اور خوشی کی اپنی مخصوص آوازیں نکال رہی تھیں، کبھی کچھ فاختائیں ،، کچھ نیلی چڑیاں اور بہت سی انگوٹھے برابر چڑیاں بھی پُھدکتیں یہاں وہاں بیٹھ رہی تھیں ۔ بہت سی مکڑیوں کے مستقل ڈیرے بھی نظر آۓ ۔ سرسراتی ہوائیں ابھی بھی اس کی سہیلی تھیں اور چمکیلی دھوپ بھی اسے گرمائش دے رہی تھی ۔
گویا یہ شاندار درخت مر کر بھی نہیں مرا تھا ۔
اسی خیال نے مجھے چونکا دیا ، تو شاندار لوگ بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ، جو اپنے وقت پر بہترین فرض کی ادائیگی کے بعد بظاہر قبر کی ڈھیری کی صورت تو اختیار کر لیتے ہیں لیکن ان کے نیک اعمال ، افکار ،اور اقوال دنیا سے پردہ پوشی کے بعد بھی فیض پہنچا رہے ہوتے ہیں ،،،،، ان شاندار لوگوں کے لگاۓ نیکی کے درخت مدت گزار کر بھی جھوم جھوم کرمدھم سُروں میں دنیا کو رونق بخش رہے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی نیکیوں کی مضبوط بنیادوں کے ساتھ نہ جانے کتنے ہی نفوس کو پارس ،، بنا رہےہوتے ہیں ۔
درخت بھی آدھا لان کے اندر ہے اور آدھا لان سے باہر ،،، وہ شاندار ہستیاں بھی بظاہر زمین کے اندر ہیں ،، لیکن ان کی موجودگی اب بیرونی دنیاؤں میں نئی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے ۔
ایک وصال کے بعد ، اگلے وصال میں نئی ڈیوٹیاں دے دی جاتی ہیں ۔
درخت ،، نےجیسے مخاطب ہو کر کہا ،،، غور تو کرو ،، مجھ میں اور تم میں یہ مشابہت تو ہے کہ میرے تنے پر پڑے دائرے ،،، تمہاری انگلیوں کے ' پور ' سے کتنے مشابہہ ہیں ۔۔۔ دیکھو تو ہم بھی تن کر کھڑے رہتے ہیں ، ہر گرم سرد سہتے ہیں ،، سایہ اور طروات بانٹتے عمر پوری کر کے حکم ربّی پر زمین بوس ہو جاتے ہیں ،، دائروں کے نشان مٹی بھی ہو جائیں تو بھی کوئی نا کوئی نیکی ،، یاد رکھی جاتی ہے ،،، ہمیں زندہ رکھتی ہے ،، کیا تم انسان بھی یہی مشترکہ ورثہ نہیں سنبھالے بیٹھے ۔ وقت کڑی محنت اور دوسروں کے آرام دینے میں گزارا ،،،،اور وقتِ رخصت آیا تو ' لبیک' کہہ کر آگے بڑھ گئے،،
" کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مَر جاؤں گا
میَں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
( احمد ندیم قاسمی)
پسِ تحریر۔۔۔میں مانچسٹر کے جس گھر میں ہوں اس کے لان کے آخر میں یہ گرا ہوا ہے ،، جس سے میری روز ملاقات ہوتی ہے ،، اور اب وہ میری یادوں کا اہم رکن بن چکا ہے ،،

( منیرہ قریشی ، 29 جولائی 2022ء مانچسٹر ) 

ہفتہ، 16 جولائی، 2022

"اِک پَرِِخیال" ' پنچھی ، پتّے، اور کنکریٹ'

"اِک پَرِ ِخیال"
' پنچھی ، پتّے، اور کنکریٹ'
لندن کے جس فلیٹ میں چند دن رہنے کا موقع ملا وہ " سینٹرل لندن" کہلاتا ہے ،،،اس بلڈنگ کی سات منازل تھیں اور ہم ساتویں منزل میں قیام پذیر تھے ۔ ،،،جب کہ اس کے دائیں ، بائیں اور سامنے ، نیم دائرے میں مزید چھ اتنی ہی اونچی عمارات تھیں ،،، کہ نیچے کھڑے ہو کر دیکھیں تو گردن مکمل پیچھے کرتے چلے جائیں تو دوسرے لمحے نیچے کر لیں ،، کہ چوبیس ،، یا ،، تیس منازل کا یہ حال ہے تو ،،، تو برج الخلیفہ ، یا ، میل بھر اونچی عمارات کا کیا عالم ہو گا ۔
اسی نیم دائرے میں بنی یہ کل سات عمارات جدید ترین طرزِ رہائش کے ساتھ نئے دور کی آسان زندگی کی مظہر تھیں ۔ انہی عمارات کے درمیان چند کنال زمینی ٹکڑے کو سبز درختوں کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا ،، تمام درخت گہرے سبز تھے ، اور ایک مخصوص اونچائی کے بعد چھتنار درختوں کا روپ دھار چکے تھے ۔ اور یوں یہاں کے مکینوں کے لیۓ آکسیجن پہنچانے کا فرض دن رات نبھا رہے تھے ۔ انہی درختوں کے گرد چوڑی سڑک کو یہاں کے مکینوں کے پیدل چلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا ،، اور وہاں ہر قسم کی گاڑی لانے کی ممانعت تھی ۔ شام کو یا چھٹی کے دن اس سبز گھاس کے سادہ حصے پر بچے کھیلتے ،، اور کچھ خواتین و حضرات سیر کرتے دِکھائی دیتے ،،، اور ہم ان کی مشینی اور غیر قدرتی زندگی پر حیرت زدہ تھیں،،،
" بے شک انسان کو مشقت کے لیے پیدا کیا گیا "
( القرآن )
اس فلیٹ کے کھڑکیوں اور دروازوں پر آواز پروف شیشے لگے تھے لیکن ایک آدھ کھڑکی کھلی رہتی ،، خوشگوار ہوا کو آنے دیا جاتا ،ان کئی منزلہ عمارات کے مکین تو کمروں میں زندگی گزار رہے تھے لیکن ان عمارات کی چھتوں پر "سِی گِل " ( see gill) کے بہت سے خاندان آباد تھے ۔ یہ میرے لیے اچنبھے کی بات تھی کہ سمندر کنارے بسنے والا یہ پنچھی یہاں ، کنکریٹ کے جنگل میں ؟
پہلی صبح کی فجر میں کسی "سردار سِی گِل " کی قدرِ کرخت آواز نے متوجہ کیا ،، اور کچھ ہی دیر میں خاندان کے بہت سے اور پرندوں نے باری باری اپنی مخصوص اور نرالی آوازوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا ،،، تو گویا یہ اب اس کنکریٹ کی دنیا کے بانگ دینے والے مرغے تھے ۔ اور یوں قدرت نے کسی حد تک انسانی فطرت کو انسان کے قریب رکھنے کی کوشش کر رکھی تھی ،،، سر سبز چھتنار درخت اور پنکھ پنکھیرو مل کر فطرت کے قدرتی رنگ کو مکمل کرنے کی کوشش میں تھے ۔یہاں کوّے نظر آۓ ، نہ چیلیں ،، گویا" سِی گِل" کو مکمل تحفظ حاصل تھا ۔ نہ کوئی دشمن ، نہ سجن ۔ کھانے میں کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ۔ کنکریٹ کے جنگل میں بھی سمندری آوازیں ،، جیسے انسان کی روح کو اپنا آپ یاد دلا رہی ہوں ۔
انسان جو بھول جانے والا ہے ،،، اسے یہاں بھی خالق یاد دلا رہا ہے ،، مشقت اور مشینی زندگی میں غرق نہ ہو جاؤ ۔ دیکھو تو فطرت کچھ کہہ رہی ہے !،،،،،،،،،
جب جہاز راں مہینوں ،، ہفتوں بے کنار سمندر کو دیکھتے دیکھتے اکتانے ہی لگتے ہیں کہ یکدم انھیں کہیں دور سے " اس سمندری امید کے استعارے کی کرخت آواز" خوشی کا ترانہ لگتی ہے ۔اور جب وہ نظر آتا ہے تومہینوں سمندر کے رحم و کرم پر زندگیوں کو داؤ پر لگا کر تھکے جہاز رانوں کی آنکھیں چمکنے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے ۔
خالق و مصّور نے اسے یقینی " امید" کا استعارہ بنا دیا ہے ،، انسان کو انسان سے ملنے کا اشارہ بنا دیا ہے ۔۔۔ اور یوں محسوس ہوا اس کنکریٹ کے جنگل میں بھی یہ استعارہ کچھ اور معنی اور اشاروں کے ساتھ براجمان ہے ۔

( منیرہ قریشی 16 جولائی 2022ٰء لندن )