جمعرات، 12 فروری، 2026
" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات
بدھ، 15 جنوری، 2025
"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں ''
"۔اک پرِِِِِِِِخیال" " دھند ، کہرا ، دھواں '' نبی پاک ﷺسے پوچھا گیا ، " ربّ ۔ دنیا کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟" آپ ﷺنے فرمایا " ربّ ، کا تخت پانی پر تھا ، اور آس پاس دھواں تھا " گویا دھوئیں کے پردے سے حیران کن ، ناقابل فہم کائنات کی تخلیق سامنے آئی ۔ آنے والے وقت میں کائنات میں دھند ، دھواں ، اور کہرا جیسا ماحول،، انسان کے لیے پراسراریت کا ہیولا بن گیا ۔ کہ وہ آج تک اس کا اسیر ہے ۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک فضائی ماحول بھی میسر ہونے پر انسانی حسّیات کچھ زیادہ ہی محتاط ہو جاتی ہیں ۔ اگر دھند ہے ، یا دھواں لیکن انسان ان میں سے کسی میں پھنس کر خود کو پراسراریت میں محصور سمجھتا ہے ، یہ خیال آتا ہے کہ شاید کچھ نیا نظر آ جائے۔ ایسے ہی حالات میں ، یا تو کہرا ، دھواں ، دھند کے پس منظر سے ، حیران کن تخلیقات ، " تصاویر" کی صورت میں سامنے آتی ہیں یا پھر الفاظ کی شبنم تحاریر کی صورت القا ہوتی ہے ۔ اورکبھی کبھی ایسی دھند یا دھویں کے عقب سے عجب طلسماتی شخصیت سامنے آتی ہے کہ جو قوم یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ تو گویا دھند یا دھواں غیرمتوقع مستقبل کی علامت ہیں۔
پھر ایک دن کبھی ۔۔۔۔۔۔
۔"آسمان سے اٗترتی منفی چالیس ڈگری فضا میں نیلگوں رنگ گھُل جاتا ہے اور زمین کے اندر کی تہہ سے چالیس فارن ہائیٹ کی حدّت کی شدت باہر آنے کے لئے تیار تھی ، یہ حدت اپنے ساتھ گلابی مائل سلیٹی رنگ لا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتی ۔ تب نیلگوں فضا نے بڑھ کر اس گلابی گرمائش کو گلے لگایا ، اس وقت بادلوں نے اطمینان بھرا سانس لیا ، اور اپنے اندر کے بوجھ کو روئی کے گالوں کی صورت کامل خاموشی سے زمین تک پہنچانے کا کام کرنے لگے ۔ زمین کی ہر مخلوق اپنے اپنے طور سے فائدہ اٹھانے لگی ،، کچھ صرف آنکھوں سے سراہتے ہوئے۔۔ کچھ مخلوق گھروں کو بچاتے ہوئے اور کچھ اس موسم کے مطابق دستر خوان سجاتے ہوئے ۔بعض دیکھنے والوں کے لئے یہ معمول کا منظر ہوتا ہے جب برستے گالے اّترے تو ،۔" آج آسمان نے زمین کو موتیے کے پھولوں کے ہار بھیجے تھے ، زمین کے صبر و تحمل کے انعام کے طور پر " ۔ ( منیرہ قریشی ، 15 جنوری 2025ء مانچسٹر)۔
اتوار، 21 جولائی، 2024
" اِک پَرخیال. ڈنگ "
( منیرہ قریشی 21 جولائی 2024ء واہ کینٹ )
منگل، 11 جون، 2024
" اِک پَرِ خیال "۔۔۔" کشیدہ کاری "
( منیرہ قریشی 11 جون 2024ء واہ کینٹ )
پیر، 3 جون، 2024
" اِک پَرِ خیال ۔۔ اندھیرا ، اندھیرے"
( منیرہ قریشی 3 جون 2024ء واہ کینٹ )
اتوار، 12 مئی، 2024
"دیباچہ " ۔۔۔ "جنگل کچھ کہتے ہیں "
بدھ، 13 ستمبر، 2023
'' اِک پرخیال"۔۔۔"عشق"
( منیرہ قریشی 13 ستمبر 2023ء واہ کینٹ )
بدھ، 23 اگست، 2023
" اِک پَرِخیال" .." دستک"
ضمیر ،،،کی یہ دستک ، ہمارے ہر بُرے کام پر ضرب لگاتی ہے ، کبھی یہ آواز آہستہ ،،، اور کبھی بہت تیز دستک سنائی دیتی ہے ،، جتنا بڑا اور بُرا کام ہو گا ،،، ٹھک ٹھکا ٹھک کی آواز اتنی ہی بلند ہو گی ،،، جو ہمارے اندر کی دنیا میں تیز تیز چمک پیدا کر رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔ یعنی "متوجہ ہو ،،، یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔ کیوں سازشیں بُنی جا رہی ہیں ،،، مت بھولو ،، یہ عارضی پڑاؤ ہے ،،، بہت جلد ان سب حرکات کا حساب ہو گا ۔ لیکن ،،، انسان اپنے مال ، آل ، اور اقتدار کے زعم میں فرعون بنا ،،، اندر کے " طارق " کو نظر انداز کرتا چلا جاتا ہے ،،، تب اس تارے کی چمک مدھم ہوتے ہوتے ، معدوم ہو جاتی ہے ،،، اور حلق کا گھنگھرو بج اُٹھتا ہے ۔ گویا اب دوسری موسیقی کا وقت ہو چلا ہوتا ہے ،،، جَسے مدفن کا سُر کہیں گے ۔
The symphony of death
پیر، 26 جون، 2023
" اِک پَرِخیال " "کائنات کی مُہر"
( منیرہ قریشی ، 26 جون ، 2023ء واہ کینٹ )
بدھ، 8 فروری، 2023
" جنگل کچھ کہتے ہیں "( 2)
" جنگل کچھ کہتے ہیں"( 2)
(منیرہ قریشی ، 8فروری 2023ء واہ کینٹ )
پیر، 6 فروری، 2023
" جنگل کچھ کہتے ہیں " ( ا)
( منیرہ قریشی ، 6 فروری 2023ء واہ کینٹ )
بدھ، 1 فروری، 2023
" اِک پَرخیال " " احساسِ تفاخر "
( منیرہ قریشی یکم فروری 2023ء واہ کینٹ )
اتوار، 25 ستمبر، 2022
اِک پَرِخیال دورانِ سدر زمین وآسمان"
( منیرہ قریشی ، 25 ستمبر 2022ء دورانِ سفرِ زمین و آسمان)
جمعہ، 23 ستمبر، 2022
"اِک پَرِخیال'' 'جیومیٹری'
( منیرہ قریشی 23 ستمبر 2022ء مانچسٹر)
جمعہ، 29 جولائی، 2022
" اِ ک پَرِِخیال " ' انگلیوں اور تنے کے دائرے'
( منیرہ قریشی ، 29 جولائی 2022ء مانچسٹر )
ہفتہ، 16 جولائی، 2022
"اِک پَرِِخیال" ' پنچھی ، پتّے، اور کنکریٹ'
( منیرہ قریشی 16 جولائی 2022ٰء لندن )


