‏گھر کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏گھر کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 22 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(84)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 84)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
الحمدُ للہ، کہ گھر بنتا رہا ،، روپے بنک سے ایشو ہوتے رہے ،،، اور جیسا میں نے پہلے بھی لکھا کہ آخری بِل ادا ہوا ، اور بنک میں صرف 5 ہزار باقی رہ گۓ تھے ،،، جب گھر بنانے کے خرچے کے جمع ، تفریق کیا ،، تو معلوم ہوا 33 لاکھ روپے لگے ہیں ،،، حیرت سے منہ کھل گۓ کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ، ہمارے پاس تو گھر کے لیۓ ٹوٹل 15 لاکھ تھے ،،، تب میڈم شیما ، جن کو بنک کے معاملات میں اتھارٹی دی ہوئی تھی ، نے بتایا " آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ،، ایک سال مسلسل داخلے ہوتے رہے اور گھر شروع ہوا تو ہمارے سکول میں 622 طلباء تھے ،، اور اس دوران داخلے ہوتے چلے گۓ ، میں نے ہر اچھے اینٹری ٹسٹ والے کو اس امید کے ساتھ داخلہ دیا کہ ہمارے کمرے تو بن ہی رہے ہیں ، بس چند دنوں میں ان کو بٹھا نا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا ، اور مکمل ہونےتک 850 طلباء ہو چکے تھے ،،،، نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی بِل ادائیگی سے رُکا نہیں ،، " بس میں کیا ہی بتاؤں ،،،اُس رب کی حیران کر دینے والی قدرت پر حیران ہی ہوتی رہی ، ،، اور اس نے میرے روزانہ کے دو نفل حاجت کوقبول فرمایا ،، اور وہی پردہ پوشی فرمانے والا بہترین ہے !۔ 
میں شاید پہلے لکھ چکی ہوں کہ گھر ٹھیک ایک سال اور تین ماہ میں ، مکمل ہوا تو 23 ستمبر 2005ء میں ، اپنے بچوں کے ساتھ اس رب کے حکم سے شفٹ ہوگئی ،،،، جیسا میں نے لکھاتھا کہ دو دن مجھے نیند نہیں آئی کہ میں کیسے اپنے رب کی حمدوثنا کروں ، کہ " میرا دل مطمئن ہو جاۓ ، کیوں کہ اُس خالق و مالک کا حق تو کوئی ادا کر ہی نہیں سکتا " میرے شفٹ ہونے کے ایک ہفتے کے بعد ہی مبارک باد کہنے والوں کا تانتا بندھ گیا ، اللہ تعالیٰ اُن سب احباب کو بہت نوازے جو میری خوشی میں شامل ہوۓ ، ، ، میں اور دونوں بیٹے ، کامل اور ہاشم ، بڑی بہو صائمہ اور میری پوتی ،،، اپنے اپنے طور پر اپنے کمروں کو سنوارتے رہے ، ، ،۔
میں اور دونوں بیٹے ، پہلےصلاح الدین صاحب کے گھر معہ تحائف گۓ ،، کہ جس طرح دل سے ، خلوص سے اور دیانت داری سے انھوں نے یہ گھر بنایا ،، ٹھیکیداری میں اس کی مثال شاید ہی کسی کی ہو ،،، میں نےان کے لیۓ تو کچھ لے جانا تھا لے گئی ، لیکن ان کی بیگم اور والدہ کے لیۓ بھی تحفے لے گئی تو اس بات پر وہ بہت خوش ہوۓ ۔ ساتھ ہی انھوں نے ہاشم کی بہت تعریف کی کہ " اتنا مؤدب، اور  جس تحمل سے میرے ساتھ کام کیا ہے کہ میری دعا ہے " کہ اگر میرا بیٹا ہوتا تو ایسا ہوتا " !!! صلاح الدین بھائی ،نے اس ملاقات کے بعد ہمارے اگلے پروجیکٹ کے لیۓ بھی حامی بھری ، یعنی آدھا میرا حصہء زمین پر ایک گھر اور بقیہ حصہ لان بنا دیا گیا یہ لان13،یا 14 مرلے پر مشتمل تھا، اور جوجی کے ایک حصہء زمین پر پہلے لائن سے سکول کی طرز پر8 کمرے ( اوپر نیچے ) اور پھر اسی کے آدھے حصے پر میری طرز کا مکان بننے کا فیصلہ ہوا ،، ہمارے مکان سے بہت میٹریل بچ گیا تھا ، انھوں نے تیزی سے اگلا پروجیکٹ شروع کر دیا ، پہلے لائن سے نچلی منزل کے 4 کمرے ، چار باتھ ، اور ایک کچن بنایا گیا ، پھر سیڑھیاں بنیں اور اوپری منزل کے 4 کمروں اور دو باتھ رومز کی دیواریں کھڑی ہو گئیں ،، میں جب فارغ ہوتی تویہ سب اپنے نئے گھر کی اوپر کی منزل سے کھڑکی سے دیکھتی رہتی۔ اُس دن بھی صلاح الدین بھائی، اوپر بناۓ گۓ چوڑے برآمدے میں کرسی بچھاۓ ، سگریٹ پیتے نظر آۓ ،،، اور تھوڑی دیر کے بعد مزدوروں کا کام ختم ہوا ،، سب چلے گۓ ،، اگلے دن صلاح الدین بھائی نظر نہ آۓ ، شام کو سکول سے آئی تو پتہ چلا ، وہ بیمار ہو گۓ ہیں اور ہاسپٹل میں داخل کروا دیۓ گۓ ہیں ،، اگلے دن ان کو دیکھنے جانا تھا ، ہاشم خود ہی جا کر پہلے مل آیا ، جب کہ ہمیں آکر بتایا ، ان کے  گردے فیل ہو گۓ ہیں ، اور وہ آئی سی یو ، میں داخل ہیں ، اور اس سے اگلے دن اُن کے انتقال کی خبر آگئی ،، یقیناً  گھر والوں کے لیۓیہ انتہائی گہرا صدمہ تھا ، جس پر اللہ ہی انھیں صبر و ہمت دے سکتا تھا ۔ لیکن کتنے دن تک ہم سب کو یوں لگا جیسے ہمارے گھر کا کوئی فرد چلا گیا ہے ،،، ہماری سہیلی خورشید بہت ہمت سے اپنے غم کو قابو کرنے میں لگ گئی، اور والدہ کے دل کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، لیکن مجھے ان کے دنیا سے جانے کے بعد پتہ چلا وہ "جگت پھوپھا" تھے ، ماشا اللہ خورشید کے تینوں بھائیوں کی اولادوں اور آگے ان کے زندگی کے ساتھیوں ، سب میں وہ مقبول ،تھے ،۔ سب کے ساتھ انتہائی دوستانہ ، محبت بھرا رویہ تھا ، ، ہمارے آرکیٹیکٹ ناصرسعید بھی خورشید کی بھتیجی کے شوہر ہیں ، جو صلاح الدین بھائی کی رشتہ داری سے ذیادہ ان کی صلاحیتوں کامعترف تھے ،،،، میں جب اِس گھر کو دیکھتی ہوں تو " میرے دل سے ان کے لیۓ دعا نکلتی ہے " صلاح الدین بھائی اللہ آپ کو جنت الفردوس میں بیترین گھر عطا کرے ، آمین ثم آمین ،، !۔
اس  نئے گھر میں اوپر کی منزل ہمارے رہنے کے لیۓ تیار کی گئی تھی ۔ میرے کمرے کی بڑی سی کھڑکی ، مشرق کی جانب کھلتی ہے ، میں صبح سویرے ، نماز سے کچھ پہلے اُٹھ جاتی ، اگر تہجد کا وقت ہوتا ، تو ٹھیک ، ورنہ نماز پڑھی ، ادوار کے ساتھ ساتھ کھڑکی کاپردہ ہٹا کر سورج کے نکلنے کے منظر سے بھی محظوظ ہوتی ،، اور میرا دل اس رب کی شکرگزاری سے لبریز ہو جاتا ، کہ مجھے اوپر کی منزل سے یہ نظارہ اور بھی واضح  نظر آتا ،(نیچے کی منزل میں سکول کی چند کلاسز بٹھائی گئی تھیں ، کیوں کہ یہ ہماری مجبوری تھی)،،، خیر،،، مجھے صبح سویرے کایہ تجربہ بھی اسی کھڑکی کے پاس سے حاصل ہوا۔ کہ اذانِ فجر سے پہلے ، اِکا دکا،، کبھی کسی فاختہ کی آواز آ جاتی ، کبھی کسی چڑیا کی ،،، آذان کے فورا" بعد کچھ اور چڑیوں کی چہکار شامل ہو جاتی ، اور اکا دکا کوؤں کی ،،، گویا ان جانداروں کی عبادت کا وقت بھی ہے اور یہ سارا مدھم " ردھم " اس بات کابھی اعلان ہو رہا ہے کہ کہ نماز کا یہ ہی وقت ہے ،، ردھم بہت ہی آہستگی سے اونچا ہو رہا ہے کہ ابھی بھی نماز کا وقت ہے ،،، اور جیسے ہی نماز کا وقت ختم ہونے ہی والا ہوتا ،، ایک ہنگامہ خیز سا شور اُٹھتا ،،، بالکل ایسے ہی جیسے میوزیشن ، اپنے آخری حصہء موسیقی کا بلند شور سے اختتامیہ کر گزرتا ہے !،،، کہ لوگو! اب تو اُٹھ بیٹھو !!! اورعین اس وقت سورج قریبا" آدھا یا ذرا کم بلند ہو کر دنیا پر شاہانہ نظریں ڈال رہا ہوتا ہے ،،، پرندوں کا شور چند منٹوں کے لیۓ اب براۓ نام ہو چکا ہوتا ہے ،،، فضا میں خاموشی کی عجیب سی لہر چھا چکی ہوتی ہے ،،، اور اب موسیقی کا نیا انداز پیش کیا جاتا ہے جیسے ہی " اشراق " کا وقت شروع ہوا کہ ایک بلند آہنگ موسیقی شروع ہو جاتی ، اس موسیقی کے شور میں ہر پرندے کی آواز کا حصہ ہے ،،، چڑیاں ، کوے ، فاختہ ، مینا ، اور طوطے بھی ۔ کہ وہ بندوں کو اللہ کی محبت کی طرف بلانے کی آخری کوشش کر رہے ہوتے ہوں !! اور جیسے ہی سورج مکمل ، طور پر مشرق کی سمت اُٹھ چکا ،،، تو بس پرندوں کی ڈیوٹی ختم ،،، سب پُھر سے اُڑ جاتے ،، کہ ہم نے اپنی ثنا خوانی بھی کی اور دنیا کے لوگوں کو جگانے کی ڈیوٹی بھی دی ،، آگے تمہاری مرضی لوگو !!!!۔
لیکن بے شمار ایسے بندے جنھوں نے اپنی دنیاوی ڈیوٹیوں پر جانا بھی ہوتا ہے تو بے زار شکل کے ساتھ تیار ہوتے ہیں ،، گھر والوں پر " ایسی نظر ڈالتے ہیں جیسے صرف یہ ہی کمانے نکل رہے ہیں ،،، اس لیۓ اپنے اپنے غصے کی چھاؤں میں خود کو خود رخصت کرتے ہیں ،،، اور ایسے میں یہ نظارے ،،یہ قدرت کے انوکھے رنگ ،،، ان کی نظروں سے جیسے یکسر اوجھل ہوجاتے ہیں ، کہ اللہ نے ان پر " غور وفکر " کے دروازے شاید بند کر دیۓ ہوتے ہیں ،،، آہ انسان بھی کتنا بدنصیب ، ناشکرا، اور محرومِِ نظارہ بن جاتا ہے ،،، کیا پتہ ، یہ نظارے ، یہ خوب صورت پرندوں کی ، انتہائی دل کش آوازیں ، موسیقانہ ردھم ،، دوبارہ نصیب نہ ہو ،،،کیا پتہ اِن پر غور کرنے سے ہمیں اس خالق کی محبت کی حلاوت نصیب ہو جاۓ ،،، کیا پتہ ، کیا کچھ مل جاۓ کہ، پھر دنیا کی یہ ساری ڈیوٹیاں ہمارے لیۓ نارمل بن جائیں اور وہ رازقِ حقیقی ، کانوں کے رزق، آنکھوں کے رزق، اور شکر گزاری والی دھڑکنوں کے رزق سے جب نواز دے ،، تو پھر اِس سے بڑا غنی کون ہو گا ۔
صبح کے یہ خوب صورت لمحے کچھ ایسی کیفت کے حامل ہو جاتے ہیں ِ ، جو مجھے یوں لگے ،،، !۔
" میرا اللہ "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" الہام و کشف کچھ نہیں ،،،
بس تُو ۔۔۔۔۔
فِکر و ادراک کچھ نہیں ،
بس تُو 
ذِکر و جذب کب تک ۔ 
ذِکر و جذب تو بس تو ۔۔۔۔۔۔
وصال و وبال کچھ نہیں ،
بس تُو 
عذاب و ثواب ، کیا ہیں 
میرے لیۓ ،، بس تُو ،،، !!!
( منیرہ قریشی 22 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 14 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(80)۔

 یادوں کی تتلیاں " ( 80 )۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اللہ رحمت العالمین ہے ، جس کے قبضۂ  قدرت میں ہماری جان ہے، اور اسی کو یہ جان لوٹانی ہے ،،، ہر ذی روح کےلیۓ لکھ دیا گیا ہے کب ، کہاں ، کس کے گھر پیدا ہو گا ، کیا کھاۓ گا ، کہاں کہاں قدم رکھے گا ، کیسی زندگی گزارے گا ، کن کامیابیوں ، یا نا کامیوں سے دوچار ہونا ہے، ۔
جب میں ایک سال اور تین ماہ کے لیے جس گھر میں رہی اس دوران چند، اہم تجربے ہوۓ جو ضرور شیئر کرنا چاہوں گی۔ شاید اس گھر میں رہنا ہمارے لیۓ  اس رب کی مصلحت تھی۔
جس گھر کو ہم نے لیا ، اس کے بالکل پیچھے کا گھر جو جُڑا ہوا تھا ، ایک عرصہ سے مقدمہ بازی کے چکر میں ویران پڑا تھا ، ہمارے گھر کے ، کار پورچ سے ایک دروازہ نظر آتا رہا،، لیکن اسے قریباً پندرہ بیس دن بعد کھولنے کا وقت ملا ، تب انکشاف ہوا کہ یہ دروازہ ویران گھر کے پچھلے لان میں کھلتا ہے ،،،، اُس لان کا برا حال تھا ،،، جھاڑ جھنکار سے اٹا ہوا ،،، ہمارا سرونٹ کواٹر , اسی پورچ کے اوپر تھا ،، اور جو ملازمہ اس میں رہتی تھی اس کے تین بچے بھی اس کے ساتھ تھے،،، اس نے دیکھا کہ اس لان میں ایک سرکاری پانی کا نلکہ لگا ہوا ہے تو وہ کبھی کبھی اپنے کپڑے وہیں دھو لیتی ، لیکن اس دوران اس کو سانپ کا تجربہ ہوا ، کہ ادھر اُدھرنظر آۓ ،،، منع کرنے کےباوجود وہ جاتی رہی،،، اب جب برسات آئی تو ہمارے دو باتھ رومز میں سانپ کے بچے نکلنے لگے ،،، یہ اچھی خاصی پریشانی تھی ، سانپ کو بھگانے والے اپنے طریقے کیے ،،، اس میں تین جڑی بوٹیاں سفوف کی صورت میں ہوتی ہیں ، جو دہکتے کوئلوں پر دو تین مُٹھی ڈال کر دہکاتے ہیں اس کے دھوئیں سے ، سانپ ، بچھو بھاگ جاتے ہیں ، وہ تین بوٹیاں یہ ہیں ،، ہرمل ۔ گگل ۔ نییر ،،، تینوں برابر وزن لے کر اسی ملازمہ کو دیں کہ پیچھے بھی اسی لان میں دھونی دو ،، ہمارے اگلے لان میں اور ڈرائیو ، وے پر بھی ایسے برتن رکھواۓ گئے  اور شکر کہ کچھ عرصہ ایسا کرنے سے انھیں سانپوں کا شبہ نہ رہا ۔
کچھ عرصہ گزرا، میری بیٹی میرے پاس آئی ہوئی تھی ، رات دیر تک ہم باتوں میں مصروف تھیں ،اُس کی بچی کے سونے کے خیال سے زیرو کا بلب روشن تھا کہ اچانک کمرے میں پِھرتی چھپکلی ، بہت تیزی سے فرش کی طرف آئی ، ہم دونوں کی توجہ اس کی طرف ہوئی ، اور میں نے اُٹھ کر بلب روشن کیا تو دیکھا چھپکلی رُک گئی اور وہ ایک فٹ لمبے کالے سانپ کے بچے کو دیکھ رہی تھی جو تیزی سے گزر رہا تھا ، میں نے فوراً   اسے مار ڈالا،،لیکن اس دن احساس ہوا ،،، اللہ پاک  نے کسی چیز  کو بےکار پیدا نہیں کیا،اگر چھپکلی کی سانپ دشمنی نہ ہوتی تو ہم اس سانپ کو نہ دیکھ پاتے بھلے وہ چھوٹا سا ہی تھا۔
اِس گھر میں ایک دفعہ پانی کا ایسا مسئلہ پیش آگیا کہ ہمیں ٹینکر منگوانا پڑا ، لیکن وہ ٹینکر ساتھ کی زمین پر اس طرح پھنسا کہ ایک انچ آگے پیچھے نہ ہو پایا ،، اور ہمارے گھر تک اس کے پائپ بھی نہ پہنچ پا رہے تھے تب علی نے سامنے والے گھر کے لڑکوں سے جن سے اس کی علیک سلیک ہو چکی تھی ،، ان سے نیچے کی پانی ٹینکی بھرنے کی درخواست کی ،، انھوں نے نہایت خوش دلی سے اس کام کو کیا ،،، ان کے گھر سے پانی ، گارڈن ٹیوب سے ہمارے گھر تک کنکشن دیا گیا ،، اس دوران اپنے پانی کے مسئلے کو جس ممکن حد تک کروا سکتے تھے ، کوشش کر کے ٹھیک کروایا،، لیکن اس میں پانچ دن لگ گئے، لیکن کیا مجال کہ پانی دینے میں کوئی کوتاہی ، کی ہو ، جب کہ میں اس گھر کی خواتین سے اس وقت تک مل بھی نہ پائی تھی ، صبح ، شام ان کی موٹر چلتی ، اور ہماری ٹینکی بھری جاتی ،،، میں ان کے اس احسان کو کبھی نہیں بھلا پاؤں گی ،، بعد میں ،مَیں اپنی بہو صائمہ کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کرنے گئی ۔ نہایت شریف لوگ تھے ،،  وہاں قیام کے دوران میں ان کے گھر تین  بارگئی، لیکن ان کی بہو اور بیٹی نے چکر لگایا ،، معلوم ہوا ، والدہ بیمار سی رہتی ہیں ، ادھر اُدھر جانے کی ذمہ داری ، بہو ہی نبٹاتی ہے ،،، ہم اپنے گھرشفٹ ہونے سے پہلے ان کے گھر گئیں ،، اور چار پانچ ماہ بعد جب میں حج سے واپس آئی تو ان کے لیۓ کچھ وہاں کی سوغاتیں ، اور زم زم ۔ کھجوریں لے کر گئی ،تو پتہ چلا مسز چوہان کو فوت ہوۓ، دو ماہ ہو چلے ہیں ، اب اس گھر میں دو بیٹے اور بڑے کی بیوی تھے ، جو اس دن گھر میں موجود نہیں تھے ، چیزیں چھوٹے بیٹے کو دے کر آگئی ،۔ لیکن میں اب بھی اس گھرانے کو ، بہت دعاؤں ، اور  تشکر کے جذبات سے یاد کرتی ہوں ،، اللہ رحیم و کریم انھیں جنت کے بلند درجات عطا کرے ، کہ پڑوس کو پانی کی سہولت   دینا ،بہت ہی بڑی نیکی ہے ۔ دراصل ہم پڑوسی کو کچھ بہت لفٹ نہیں کراتے ،، خاص طورپر اس وقت جب وہ کسی پیچیدہ مسئلے کا سامنا کر رہے ہوں ،،، نہ ہم حوصلے کا اور نہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کر پاتے ہیں ،،، اور یہ خیال کرلیتے ہیں کہ شایدیہ ہم سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ خاص طور پر جب بات ذیادہ بِلز آنے کی ہو ،،، علی نے صاف کہا بھی کہ ہم اس ماہ بجلی کے بِل میں شیئر کریں گے ،،، دونوں بھائیوں نے کہا"سوال ہی پیدا نہیں ہوتا "! اللہ کرے ہم بھی اعلیٰ ظرف پڑوسی بنیں ،، اور ہم دنیا سے جائیں تو ان کی دعاؤں میں بھی رہیں آمین ! ثم آمین !!!۔
( منیرہ قریشی ، 15 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری

یادوں کی تتلیاں(79)۔

 یادوں کی تتلیاں " (79)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کے گھر سے کراۓ کے جس گھر میں شفٹ ہوۓ ، حسنِ اتفاق سے وہ بھی اتنا اچھا گھر ، مناسب کراۓ پر ملا ،، کہ اللہ کی طرف سے یہ بھی غیبی مدد ہوئی ،،، اللہ پاک کی طرف سے2004ء کا سال بہت سےخاص اقدامات کے ساتھ آیا ، 2004ء جون میں ہونے والی چُھٹیاں ، اپنے وقت پر10 جون سے شروع ہوئیں ،،، اس سے اگلے ہی دن، اسکول کے ایریا کا وہ حصہ ، جو پرانے تعمیر شدہ گھر پر مشتمل تھا، فوراً اکھاڑنا شروع کر دیا گیا۔
تاکہ مکمل دو حصوں میں برابر الگ الگ تعمیرات ہو سکیں ، اس سلسلے میں ہمیں نگرانی کے لیۓ ہر وقت ایک ایسا بندہ چائیے تھا جو ایمان داری سے اپنی ڈیوٹی دے، اور وہیں  رہے ۔ کیوں کہ ہمارا گھر کچھ فاصلے پر تھا ۔،، بڑے بھائی جان کے ہاسپٹل میں داخلے پر ایک اٹینڈنٹ ، ہائرکیا گیا تھاجو خود ڈرائیور بھی تھا ، اور جاب لیس بھی ! وہ ہاسپٹل کی ڈیوٹی کے لیۓ راضی ہوا ،، جو رات وہاں گزارتا ، اور دن کو واپس اپنے گھر آجاتا ۔ چند دنوں میں ہی اس نے اپنے کام کو سمجھ لیا ، اس کانام " قمر زمان " تھا ، ،، بڑے بھائی جان کی ڈیتھ کے بعد ، آپا نے اسے اپنے ڈرائیور کے طور پر رکھ لیا ، وہ بھی خوش تھا کہ گھر کے قریب ہی نوکری مل گئی ، اب آپا اپنی عدت گزارنے اپنی بیٹی کے پاس جانا چاہتی تھیں ، ڈاکٹر اسرار صاحب کی بیگم سے پوچھا گیا ، ان کے کہنے پر آپا ، لاہور جانے کی تیاری کرنے لگیں ،،، اس دوران آپا نے کہہ دیا کہ اگر تم لوگ سکول کے کاموں کے
لیۓ اسے رکھ لو گی تو ، یہ کہیں اور نہیں جاۓ گا ، ہم لوگ اس کی دیانت دارانہ ، ڈیوٹی کو دیکھ چکے تھے ، اسی کو کہا گیا " جب تک گھر بنے گا تم ہی چوکیدار ہو گے ،، مناسب تنخواہ دیکھ کر وہ بھی خوشی سے راضی ہو گیا ۔ گھر کے اکھاڑنے ،، تک اس کی نگرانی کا انداز دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ مزاج کا تو سخت ہے لیکن ، کام کا بھی سخت ہے ۔ البتہ اس پروجیکٹ کی نگرانی چھوٹے بیٹے " ہاشم " کے سپرد کی گئی کہ انہی دنوں وہ ایم بی اے کر کے فارغ ہی ہوا تھا ، آرکیٹکٹ ناصر نے جن صاحب کا نام بطورِ ٹھیکیدار تجویز کیا ،،، اتفاق سے وہ میری میٹرک تک کی کلاس فیلو اور اسی دور کی پڑوسی ، " خورشید" کے شوہر نکلے۔
ہم سب کی  ملاقاتیں ہوئیں ، اور باہمی مشاورت سے ، لین دین ، کے کاغذات فارم وغیرہ " پُر " کیۓ گۓ۔ اس دوران کینٹ بورڈ میں نقشہ پاس ہونے کے لیۓ دے چکی تھی ، وہاں سے اپرول کی بہت دیر ہوتی ہے لیکن اگر این او سی مل جاۓ تو اس دوران گھر شروع کروایا جا سکتا ہے ! ہمیں یہ سرٹیفکیٹ مل گیا ، پہلے 10 ، دن میں پرانا گھر اکھڑا ،، اور جس دن ٹھیکیدار ، صلاح الدین صاحب ، اپنی نگرانی میں زمین پر بنیادیں کھودنے کے نشانات لگوا رہے تھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔
میں ، اپنے بھائی جان اور آپا کو دعا کے لیۓ زمین پر لے آئی ،،، ہم دونوں بہنیں ، آپا اور بھائی جان اور میرے بچوں نے دعائیں کیں ،، آس پاس کے تمام افراد میں مٹھائی ، تقسیم ہوئی ،، بھائی جان نے کہا ،، تم نے " بیسمنٹ " کا پلان کیوں نہیں بنایا ؟ ،، زمین بہت قیمتی ہوتی جا رہی ہے ، ہمیں چاہیے اس کے نیچے کابھی ، فائدہ اٹھائیں ،،، صلاح الدین صاحب بھی پاس کھڑے تھے ،، کہنے لگے کوئی مسئلہ نہیں ، ابھی سکول کی لمبی چھٹیاں ہیں ،، اس دوران " نقشے کی تبدیلی کروا کر دوبارہ پاس ہونے کے لیۓ دے دیں گے " ،،، تب ناصر کو نقشے کی " عین اسی دن " کی تبدیلی سے آگاہ کیا ،،، اور بغیر ، بُرا مناۓ اس نے بات سن لی ،اور جلد دوسرا نقشہ تیار کر کےلانے کا وعدہ کیا،،،، گویا ،،،15 لاکھ میں سے اب 6،یا 7 لاکھ صرف بیسمنٹ کے ایک خاصے بڑے کمرے کے خرچ ہونے تھے ، پیچھے بمشکل اوپر دیواریں اور پہلی چھت پڑنے کا امکان تھا۔ اور میں نے یہ قدم اپنے وسائل سے بڑھ کر اُٹھا لیا تھا ، دوسرے دن ناصر سعید کی تجویزپر ، نئے نشانات لگاۓ گۓ ، سکول کی باؤنڈری وال کے ساتھ ساتھ ، قناتیں لگا دی گئیں ،، اور کھدائی شروع ہو گئی ، ، یہ کام پہلے مشینری سے ، اور پھر " گدھے والوں کے ذریعہ" انجام دیا جانے لگا ،، ہاشم اور قمر ایک ایک روپے کا حساب اپنے اپنے رجسٹر پر لکھتے جاتے ،، ،،، اس دوران آفس پھر بھی کھلا رہا ،، یعنی کچھ وہ کمرے جو گرانے ضروری نہیں تھے ، انھیں موجود رہنے دیا گیا ،،، اس دوران ایک دو لطیفے بھی ہوۓ کہ ایک دن جب " اِکا دُکا " گدھے والے کام کر رہے تھے ،، ایک بچہ اپنے والدین کے ساتھ داخلے کے لیۓ آیا ،، اور اس نے والدین سے پُرزور انداز سے کہا " میں اس سکول میں ضرور پڑھنا چاہتا ہوں کہ یہاں گدھے بھی پڑھتے ہیں "یہ ایک 3 سالہ بچے کا بہت دلچسپ اور گہرا جملہ تھا۔
جون میں کام بہت تیزی سے شروع ہوا ، صدقات کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلا ،، اللہ سے اس کا کرم مانگتے رہنے کا ایک بہترین طریقہ ، بہت ذیادہ صدقہ و خیرات کا ہے ، جو ہم نے اپنے والدین سے سیکھا ،، اور دعا کرتی ہوں کہ یہ چلن میرے ، بچے اور آگے ان کی اولادیں ہمیشہ ہمیشہ اپناۓ رکھیں ، آمین ،،کہ اُس رب کا کرم دو چند ہو جاتا ہے ،،،،،،،،،،،۔
اس کے ساتھ ساتھ مکان کی شروعات کے پہلے دن جب پرانا گھر اکھڑنا شروع ہوا ،، ہر رات ، دو نفل حاجت پڑھ کر سوتی تھی ،، اور یہ ہی دعا کرتی رہی " تیری توفیق ، اور کرم سے یہ ٹھکانہ بن رہا ہے ،، بس اپنی جناب سے برکت ڈالنا ،، مجھے کسی سے کوئی پیسہ نہ مانگنا پڑے ، اور اسی پیسے کے اندر ہمارا کام مکمل ہو جاۓ "،،،،،،،،،،، میں چاہوں گی کہ میرے پڑھنے والے میری اس دعا اور نفل حاجت کے عمل کو ذہن میں رکھیں ،،،،، کیوں کہ میں نے پچھلی قسط میں لکھا تھا کہ میرے اللہ نے غیب سے معاملات کو سیدھا کیۓ رکھا !!!۔
۔2004ء ، جولائی کی  سات تاریخ تھی ،،، جب انگلینڈ کے " ٹیوب سٹیشن میں بم بلاسٹ ہوا " ، اور جوجی کے بیٹے نے انھیں انگلینڈ آنے سے منع کر دیا کہ " کچھ عرصہ پاکستانیوں کے لیۓ پریشانی کا باعث رہے گا ، لہذٰا ابھی نہ آئیں " چناچہ جوجی نے انگلینڈ کا پرو گرام ، کینسل کر دیا ۔ اور کہا ، اب اگر وہ الگ کیۓ گۓ 3 لاکھ ضرورت ہوۓ تو نکلوا لیں گے ۔
ساری بیسمنٹ بن گئی ،، پہلی منزل بن گئی ،، تین بیڈ رومز اور ڈرائنگ ، ڈائیننگ ،کچن ، لاؤنج ،،، سیڑھیاں اوپر چلی گئیں ،،، دوسری منزل شروع ہو گئ ،، اس دوران میں نے اپنی آنکھیں " اس کبوتر کی طرح بند کی ہوئی تھیں ، جس کے سامنے بلی بیٹھی ہو "،،،، ۔
جیسا میں نے ذکر کیا ، اللہ کا شکر کہ ہمیں اس ادارے کے چلانے میں ایسے دیانت دار لوگوں کا ساتھ مل گیا ، جنھوں نے ہمارا کام آسان کر دیا ۔اور ان بہترین مدد گاروں میں سے " مسز شیما زاہد " تھیں ، جس پر ہم گھر کے فرد کی طرح اعتبار کر سکتی تھیں ، اور الحمدُ للہ آج بھی کرتی ہیں ،،۔
جب جوجی کے انگلینڈ جانے کی تیاریاں تھیں ، تو سکول کے اکاؤنٹ کو دو یاتین بندوں کےسائن سے ، چلانے کی پابندی ہوتی ہے ، اب جوجی کی غیر موجودگی ہوتی تو دوسرا کون ہونا چائیے ، ، ہم دونوں کے مشورہ سے تیسرا نام شیما ، کا شامل کر لیا ، اس طرح ایک بنک سے چیک نکلوایا جاتا تو صرف میرے نہیں ، شیما کے سائن بھی ضروری ہو گئے ،،، گھر بنتا گیا ،، ( میں، چونکہ دوسری برانچ جسے " سینئر برانچ کہا جاتا تھا ، کو چلاتی تھی جو اس جونیئر برانچ سے 5 ،6 منٹ کی ڈرائیو پر تھی ،) اس لیۓ جب میرا بیٹا ہاشم آکر کسی بِل کو کلیئر کرنے کا کہتا تو میں ، یا جوجی ،،، شیما سے کہتیں " شیما ، پیسے ہو جائیں ؟ تو وہ پُر یقین انداز سے کہتی " جی بالکل ہیں " ،،، اور چیک سائن ہو کر میرے یا جوجی کے پاس جاتا ، اور کیش کروایا جاتا ،،، پے منٹ ہوتی چلی جاتی ، اور دوسری منزل بن گئی ،، اور اندر کا کام شروع ہو گیا ،،، بیٹا ہاشم ، صلاح الدین صاحب کا بہت پسندیدہ بچہ بن گیا ،،، ان کے اپنے بچے نہیں تھے ، ہاشم کا مؤدبانہ رویہ ، انھیں بہت اچھا لگتا ،، اکثر اس کی تعریف کرتے ،، مجھے اُن کے بارے میں ناصر اور میری دوسری سہیلی نے آگاہ کر دیا تھا کہ یہ مزاج کے غصے والے ہیں ، اس لیۓ ان کے کاموں میں ذیادہ دخل نہ دینا ،،، لیکن وہ اپنے کام کے ایمان دار اور " پرفیکشنسٹ " تھے ،، مجھے ہاشم ، ان کی باتیں بتاتا رہتا کہ ان کی مرضی کا پلستر نہیں ہوا تو مستری کو نہ صرف جھاڑ پلاتے ، بلکہ کام اکھاڑ کر دوبارہ کام کرواتے ،،، میں کبھی جاتی بھی تو سرسری سا جھانک کر آجاتی ، ایک دن انھوں نے خود ہی کہہ دیا " توں آندی کیوں نئیں " ،، میں نے کہا " جی جس کام کی مجھے سمجھ ہی نہیں ، میں نے آکر کیا کرنا ہے " کہنے لگے " عورتیں تو سر کھا جاتی ہیں ، اپنے گھروں میں آ آ کر ۔۔ ضرور آؤ ، جہاں الماریاں بنوانی ہیں ، جس جگہ کچن کی ضروری چیزیں لگوانا ہیں ، یہ سب تو تم خود بتانا "،،،، جب وہ وقت آیا تو ،، جیسا میں نے تجویز دی انھوں نے مانا ،،، صلاح الدین صاحب ،،، اپنی ذات میں فقیر ٹائپ بندے تھے ،، اپنے گزارے لائق " چارجز " کو لے کر خوش تھے ،، ورنہ ذیادہ ترٹھیکدار تو جس گھر کو بنا رہے ہوتے ہیں ، ساتھ ساتھ اپنا بھی ایک آدھ گھر بن رہا ہوتا ہے ۔ ان کا یہ حال تھا کہ 6 مرلے کے گھر میں یہ میاں بیوی، اپنی والدہ ، اپنے دو شادی شدہ بھائی ،اور دو غیر شادی شدہ بھائی، ایک ساتھ رہ رہے تھے ، یہ دو منزلہ گھر لوگوں اور محبتوں سے بھرا ہوتا ۔ میرے گھر کو بنوا رہے تھے ۔ لیکن کہتے تھے " سمجھو یہ میں اپنا گھر بنا رہا ہوں ، اتنے دل سے بنا رہا ہوں کہ تم یاد کرو گی "،،،اور گھر اندر سے بھی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کرتا گیا ،، ہر بِل پر دھڑکتے دل سے شیما سے پوچھتی " شیما پیسے ہوں گے ، اتنے کا بِل آگیا ہے " ،، وہ اُسی پُریقین انداز سے جواب دیتی " جی بالکل ہیں " ،،،، ا
اندرونی ، آرائش کا وقت آیا ، تو اپنے بیٹے ہاشم کو میں اکثر کہتی تھی ، تمہیں اللہ تعالیٰ کسی نواب کے گھر پیدا کرتا تو اچھا رہتا کہ تمہاری چوائس ، کچھ ذیادہ ہی خاص ہوتی ہے ،،، اب یہاں اس کے ساتھ بڑی بہو بھی مل گئی اور " دیکھیں نا ، گھر تو روز روز نہیں بنتے " یہ کہہ کر دونوں نے بہت اچھے فرش ، لکڑی کا کام ، وغیرہ وغیرہ سب کروا دیا ،،، سبھی نوک پلک ، درست کر لی گئی ،،،،اور آخری بِل کے لیۓ ہاشم مجھ سے سائن کروا کر ، شیما سے سائن کروانے گیا ، تو شیما نے اطلاع دی " بس اب اور چیک نہ بھجوایۓ گا ، آخری 5 ہزار رہ گیا ہے " ،،، اور آخری بِل بھی ادا ہو گیا ، ۔
۔23 ستمبر بروز جمعہ 2005ء میں نے جتنا سامان ہو سکتا تھا اُٹھوایا ،، جمعہ کی نماز اِسی "نئے گھر" آکر پڑھی ،، لڑکے بھی جمعہ پڑھ کر آگئے ،، اور بقایا سامان لینے چلے گئے ،،، اور میں، ،،جس نے صرف خواب دیکھا تھا کہ کبھی نا کبھی ،،، اور صرف سوچا تھا ،،شاید کبھی نا کبھی میں اپنا ذاتی گھر بنوا لوں گی ۔ اور اس خالق و مالک ، و ولیُ و والی نے مجھے صرف 15 مہینوں میں ، بغیر کسی سے پیسے مانگے ، اپنی رحمت کے ساتھ اپنی مدد کے ساتھ گھر عطا کر دیا ، الحمدُللہ ، الحمدُ للہ ، الحمدللہ!۔
دو دن اور دو راتیں میں بالکل سو نہیں سکی ،،، اس رب سے باتیں کرتے راتیں گزریں ، کہ مجھے شکریۓ کے الفاظ عطا کر ، کہ میرا دل مطمئن ہو اور تیری محبت کا " کچھ حق " ادا ہو سکے ِِ،،، ! کہ تو نے میرا پردہ رکھا ، مان رکھا ، اور مجھے صرف اپنے در سے نوازا ۔ اب خیر و عافیت سے اس گھر میں رہنا ہو آمین !۔
( منیرہ قریشی ، 14 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

ہفتہ، 13 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(78)۔

 یادوں کی تتلیاں " (78)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ذاتی گھر کا ہونا ، اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ،، میں نے ایک لمبا عرصہ اباجی کے ساتھ ، اماں جی کی وصیت کی وجہ سے بھی گزارا ،، کچھ اپنے حالات کے اتار چڑھاؤ ، کی وجہ سے ،، اور کچھ اس لیۓ بھی کہ اباجی میرے اور میں اُن کی عادی اور ہم ایک دوسرے کے مزاج کو بہتر جانتے تھے ،، اللہ کا شکر کہ یہ دور بہترین گزر گیا ،،، اباجی کی فوتگی کے بعد میں مزید اس گھر میں اتنی دیر رہی کہ میرے دو بچوں کی شادیاں بھی ہوئیں اور ان دونوں کے گھر ایک ایک پری آچکی تھیں ۔ اب وقت آچکا تھا کہ سکول سے جمع شدہ کچھ رقم کا استعمال میں اپنے گھر کے بنانے کےلیۓ لوں ، ، ، چناچہ جوجی اور میں نے اپنے واقف آرکیٹیک ناصرسعید سے رابطہ کیا ، ناصر نے بہت سنجیدگی سے میرے لیۓ یکے بعد دیگرے ، کئی نقشے بناۓ ،، کبھی میرے ذہن کچھ آتا ، تو میں وہ تجویز کر دیتی ، وہ برخوردار ہفتے بعد نقشے میں تبدیلی کر کے لے آتا ، آخر دس یا بارہ نقشوں کے بعد اس نے کہا " کبھی بھی کوئی اپنے گھر کے نقشے سے مطمئن نہیں ہوتا چاہے وہ محل ہو ،یا ، جھونپڑی !! میں نے ایک نقشے پر انگلی رکھ دی،تووہ اس کی ڈیٹیلز بنانےکا کہہ کر چلا گیا ۔ " اور اس دوران ہم قریبا'ً ڈیڑھ سال کے لیۓ قریب ہی ایک کراۓ کے گھر میں اُٹھ آۓ ،، ،،،۔
جب میں کراۓ کے گھر آگئی ، تو اس وقت میری پوتی ، دو ، ڈھائی سال کی تھی ۔اس گھر میں پہلی شام ہوئی تو وہ ایک صوفے پراداس سی بیٹھی تھی ، میں نے پوچھا " میری مِٹھی کیوں چُپ ہے "؟ ،، تو اس نے کہا" اماں چلیں واپس واہ کینٹ والے گھر میں "،،، اتنی سی بچی کو بھی " گھر " کی یاد آرہی تھی ، تو میرے تینوں بچوں کا کیا حال ہوا ہو گا ، جو یہیں پیدا ہوۓ، یہیں جوان ہوۓ ، اور دو کی شادیاں ہوئیں ،،، اور دو نوں ماں ،باپ بنے ،، اِس گھر کے آخری ایک ہفتہ میری بیٹی ، سامان کی پیکنگ کے لیۓ آگئی تھی ، اس کے آنسو تو رکتے ہی نہ تھے۔ ان سب کو اس گھر سے " دلی ، اور روحانی" پیار تھا ۔ اباجی کے گھر کے سرونٹ کوارٹر میں جو فیملی رہ رہی تھی ، اس گھر کو جو بھائی جان کے حصے میں آیا تھا ،،، نے ،، جن کو بیچا تھا ، میں نے ان سے درخواست کی کہ ابھی ان لوگوں کو، کوارٹر میں رہنے دیں۔ دونوں لڑکے ایک ہی وقت میں اسلام آباد سے 6 بجے شام پہنچ جاتے تھے ،،، تو سیدھے اِسی گھر  اے 65،مدنی سٹریٹ میں آجاتے ، جنوری یا فروری تھا۔ دونوں کے ساتھ دو چار دوست ہوتے ، ہیٹر لگتا اور بچے رات 9 تا 10 بجے اپنے نئے گھر آتے اور چہرے پر اداسی کی چھاپ ہوتی ، ایک دو دن کے بعد میں نے ملازمہ نگینہ کو دودھ کا کارٹن، چینی ، چاۓ کا سامان پہنچایا ، کیوں کہ یہ" اداس ٹولہ " ابھی اس فیز سے نکل ہی نہیں رہا تھا ، میں نے سوچا نگینہ پر ان کی میزبانی کا بوجھ کیوں پڑے، ، ان کی حسرت تھی کہ " کاش " ہم یہ گھر کسی کو خریدنے نہ دے سکتے !!! گھر کی چابی ابھی انہی کے پاس تھی ،،!! اور جب چابی لینے کے لیۓ اصلی مالک آگۓ۔ تب دو ماہ کے بعد دونوں لڑکے نارمل روٹین میں آۓ ،،،،۔ 
گھر بنانے کے لیۓ ہمیں والد نے اِسی سکول کی زمین وراثت میں دے دی تھی ،، اس لیۓ زمین کی فکر نہ تھی۔اس دوران موجود سرماۓ کا جائزہ لیا ، ہمارے گھر کے بنانے کے لحاظ سے اتنے روپے تھے کہ " گراؤنڈ فلور ، چھت تک بن جاتا ، اور اوپر کی منزل نا ممکن تھی ،اور اندر کی فنشنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔،، اور ناصر کے خیال میں مجھے اتنی ڈبل رقم مل جاۓ تب کام آگے بڑھے گا ۔ اور جو کل رقم ہمارے پاس تھی وہ 18 لاکھ تھی ، اور اس میں سے تین لاکھ ، جوجی کو الگ کرنے پڑے ، کیوں کہ اسی سال اسے اپنی دونوں ٹونز کو انگلینڈ کی " اِنٹری کروانی " تھی ،، جوجی کے بچوں کی اپنے والد کی وجہ سے انگلینڈ کی نیشنلٹی تھی ، بڑا بیٹا اور بیٹی ڈاکٹر مائرہ وہیں انگلینڈ میں تھے ، اور اب  جڑواں بیٹیوں  کا نیشنیلٹی پروسس شروع ہونا ضروری تھا ، ٹونز ان دنوں " اے لیول " میں داخلہ لینے جا رہی تھیں ۔ اب پیچھے 15 لاکھ رہ گئے تھے۔ ،،، اور ہم سوچ بچار سے قدم اٹھانا چاہتیں تھیں ۔
اسی دوران دسمبر 2002ء میں آپا کی نواسی مہرین کی شادی ہوئی ، جس میں شرکت کے لیۓ ہم سب فیملی ممبرز لاہور گئے ۔ آپا کی بڑی بیٹی کے چچا سُسر مشہور و معروف دینی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد نے نکاح پڑھانا تھا ،انھوں نے جو مسجد لاہور ماڈل ٹاؤن میں بنائی تھی ،، نکاح اسی مسجد میں ہونا تھا ،،، ان میں باقاعدہ بارات کا کوئی تصور نہیں،، نہ ہی کسی مہندی کی تقریب کا رواج ہے ۔ نہایت سادگی سے گھر کے لوگ مسجد گئے ، ان میں ہم سب اس لیۓ شامل تھے کہ ہم دوسرے شہر سے آۓ مہمان تھے ، ورنہ گھر کی کچھ خواتین اور چند مرد حضرات دولہے کے ساتھ مسجد میں نکاح کروا کر دُلہن لے آتے ہیں ،، کوئی کھانا نہیں ہوتا۔صرف "بِد" تقسیم کر دی گئی اور لڑکی والوں نے شدید ٹھنڈ کی وجہ سے "سُوپ" پیش کر دیا ،،،، آپا اور بڑے بھائی جان کے " گرینڈ چلڈرن " میں سے یہ پہلی بچی بیاہی جا رہی تھی ، اور نانا نانی اپنی دوسری نسل کو شادی کے بندھن میں دیکھ رہے تھے ! ، یہ ہی دن تھے جب بڑے بھائی جان کی مسلسل کھانسی نے سب کو متوجہ کیا ہوا تھا،، وہ شادی کے ہر دن کو انجواۓ کر رہے تھے ،،، میں نے نکاح اس طرح مائک پر ، پہلی مرتبہ سُنا تھا ،،، اور خود ڈاکٹر صاحب نے پڑھایا،پہلے چند آیات اور ترجمہ اور پھر چھوٹا سا خُطبہ دیا ، پھر لڑکے کے ایجاب وقبول اور سائن سے پہلے اعلان کیا کہ" حقِ مہر ، لڑکے کی طرف سے جتنا زیور دُلہن کو چڑھایا گیا ہے ، اسی صورت میں ادا ہو گیا " ،،، یہ اتنی اچھی بات تھی کہ واپس آکر میں نے اپنی بیٹی کے ہونے والے نندوئی ونگ کمانڈر محبوب صدیقی صاحب سے رابطہ کیا کہ میں بھی حق مہر کی مد میں یہ ہی لکھوانا چاہتی ہوں ( دراصل ، اس گھر کے بڑوں یا بزرگوں میں اُن کا شمار ہوتا ہے ،،) انھوں نے میری بات سُن کر کہا " کوئی مسئلہ  ہی نہیں !" اور نکاح کے کاغذات میں ایسا لکھا گیا !۔
یہی دن تھے جب بڑے بھائی جان اپنی نواسی کی شادی کے ایک ہفتے بعد ، نشنل کی شادی میں سبھی معاملات میں پیش پیش ضرور تھے لیکن تھکے تھکے سے !اور ٹھیک ایک ماہ بعد کھانسی نے شدت اختیا کر لی تو بڑا بیٹا یاور اپنے گھر پنڈی لے گیا ، ٹسٹ کرواۓ ، تو پتہ چلا" لنگز کینسر" کی آخری سٹیج ہے ،فوراً ہاسپٹل داخل کروا دیا گیا ،، اور مزید مہینہ ، ڈیڑھ گزر گیا ، نو محرم
۔2003ء ،،، ہم دونوں بہنیں انھیں دیکھنے گئیں ،، تو ان کا اٹینڈنٹ باہر ہی کھڑا تھا ،، اس نے ہمیں دیکھتے ہی  کہا " اچھا ہوا جی ،، آپ آ گئیں ، صاب بہت یاد کر رہے تھے ،، دراصل ہم ایک دن چھوڑ کر جاتی تھیں ۔۔ اندر کمرے میں ان کی بڑی بیٹی ، آپا ، اور دونوں بیٹے موجود تھے ، ڈاکٹر نے رش کم کرنے کا کہا ،، بہو اور بیٹا مسلسل ان کی ٹانگیں دبا رہے تھے ! وہ اس ساری بیماری میں چلنے سے رہ  گئے تھے ،،، ہمیں دیکھ کر اتنا ہی کہا " اچھا کیا جو تم دونوں پہنچ گئیں " ،،، کہ آدھ گھنٹے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئ دو تین ڈاکٹرز آگئے ، چھوٹا بیٹا پاس ہی رہا اور باقی کمرے کے باہر ، آگئے،، بمشکل 15 ، 20 منٹ اور گزرے کہ ڈاکٹرز بھی باہر آگۓ اور ان کے چہرے کچھ لفظ کہے بغیر ہی کچھ کہہ گۓ ، چھوٹا بیٹا ، دل گرفتہ ان کے پاس کھڑا رو رہا تھا ،،، اور اگلے دن 10 محرم 2003ء ،،، بڑے بھائی جان ، نے ہمارے خوب صورت گاؤں میں مٹی کی چادر اوڑھ لی ،، اور یوں ایک شاندار شخص کا شاندار دور ختم ہو گیا ! ! ۔
( منیرہ قریشی ، 13 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 11 جنوری، 2018

یادوں کی تتلیاں(77)۔

یادوں کی تتلیاں " (77)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اباجی کی رحلت ہم بہنوں ، اور بھائی کے لیۓ  شدید اداسی کا باعث تھی کیوں کہ اماں جی کے بعد ،، " ایک گھر،ایک مرکز" ختم ہو گیا تھا ، ، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ گھر جس کے دروازے ، " ہر ایک کے لیۓ ، ہر وقت " کُھلے رہتے ہیں ، اماں جی کے بعد اباجی نے 22 سال یہ سلسلہ بخوبی نبھایا۔ ہم دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے ماں باپ کی توجہ کی وجہ سے اور اپنی بڑی بہن اور بھائی کی شفقت کی وجہ سے بھی،ایک کندھا لینے کی عادت سی پڑ ی تھی۔ہم دونوں بہنیں تو کچھ ذیادہ ہی "اَپ سٹ" تھیں ،،،لیکن میرے بچوں کا وقت اپنے " نانا " کے ساتھ سب سے ذیادہ گزرا ،، لہٰذا ان بچوں کی اُنسیت سب سے سَوا تھی ،، شروع کے دو ، تین ماہ سردیوں کے گزر رہے تھے، میں اور بچے رات کو کافی دیر تک ہیٹر کے گرد بیٹھے رہتے ، اباجی کی باتیں ، کچھ وہ کرتے، کچھ میں ،،،! اور یوں ایک دوسرے کے غم کو شیئر کرتے ، وقت گزر گیا ،،۔
،زندگی پہلے کب کسی کے جانے سے رکی ہے کہ آئندہ رُکے گی ، علی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا ، باقی دونوں بھی کالج میں مصروف ہو گئے،، میں بھی 8 ، 10دن بعد ہی سکول جانے لگی ۔ اور آہستہ آہستہ ، ہمارے جذبات ، اور مصروفیات ہمارے قابو آنے لگیں ۔ 1999ء کے سال کا درمیان میرے لیۓ مزید مصروفیت لے کر آیا ،،، بڑے بیٹے علی کی منگنی طے پا گئی ،، وہ ایک معزز پٹھان فیملی تھی ، جو ہماری ہی سٹریٹ کے ایک گھر میں رہ رہے تھے ،،، تھوڑی سی علیک سلیک ہوئی ، اور آپس کی کیمسٹری نے کام کر دکھایا،،، بلکہ اللہ کی طرف سے جو لکھا تھا وہ ہو کر رہتا ہے ،، اور بہت اچھے طریقے سے منگنی ہوئی ،،، اور پھر سال یکم جنوری 2000ء ہمارے گھر نئے افراد کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہوا ،، صائمہ ،، زیارت گُل خٹک صاحب کی بیٹی ، اپنے گھر میں سب سے چھوٹی ہےاور ہمارے گھر کی بڑی بہو بن گئی،، ! زیارت گُل خٹک صاحب اور اُن کی بیگم ،،، جنھیں ہم باجی گُل کہتے ہیں ،،، بہت وضع دار ،، اور رشتے نبھانے والے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ،، خود بخود عزت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ، وہ جب ملتے ، مجھے لگتا ، اپنے بڑے بھائی سے مل رہی ہوں ، ٹھیک گیارہ ماہ بعد اللہ پاک نے اس گھر میں ، ایک بہت پیاری بچی بھیجی ، جس کا نام اِن دونوں نے ملائکہ علی رکھا ، ! ! تو گویا اب میری یہ پوتی 17ویں سال میں لگ چُکی ہے ، اس کے 5 سال بعد اللہ کی مہر بانی سے ایک پوتا عطا ہوا محمد عمر علی ،، جو اب  سکستھ کلاس میں ہے !۔
اس دوران میری فیملی ، اباجی والے گھر میں ہی رہی ،، ! کیوں کہ ابھی میں اپنا گھر نہ بنا پائی تھی ،،، اور بھائی جان نے کہہ رکھا تھا کہ جب تک تم بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتیں ،، تب تک تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔۔ اور اُن کی یہ محبت ، یہ شفقت میرے لیۓ ناقابلِ فراموش ہے ،،،، ایسے بھائی بہت ہی کم ہوں گے ، جو اپنی بہنوں کے لیۓ ڈھال ، اور سنبھال بن جاتے ہوں ،، اور بھائی جان ایسے ہی بھائی ہیں ! اللہ  کے کرم سے صرف  ہم بہنوں کے لیۓ ہی نہیں ، بلکہ ہمارے بچوں کے لیۓ ،، اور اباجی کے بعد سارے خاندان کے لیۓ "سربراہ " بن گئے ہیں ،،، اگر ہم قبائلی انداز میں رہ رہے ہوتے ،تو یقیناً ، اباجی کے بعد بھائی جان کے سر پر خاندان کے سربراہ کی علامت "پگڑی "پہنائی جاتی ،،،،اس لیۓ کہ قریباً سارے خاندان میں کوئی دور کا رشتہ دار ہے ، یا نزدیک کا ، کوئی غریب ہے یا امیر ، یہ اُن کی خوشی غمی میں ضرور پہنچتے ہیں ،،، اباجی کی زندگی میں وہ اس طرح کی ذمہ داریوں کو کبھی کبھی نبھاتے تھے ، لیکن اُن کے بعد ان کے اندر کا " احساسِ ذمہ داری " ایسا جاگا ، کہ خاندان میں اُن سے بڑے کزنز موجود ہیں ، پھر بھی بہت سے خاندان اپنے گھر کے بگڑے فیصلوں کے لیۓ انھیں ہی بُلاتے ، انہی کی بات کو مانتے ہیں ، اور یوں بہت سے گھر اُجڑنے سے بھی بچے ہیں ،،، لیکن وہ ایک حد تک یہ میٹنگز کرتے اور کوشش کرتے ہیں ،، اب بھی اگر کوئی نہ مانے ، تو وہ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ کہ اب آپ کی اپنی سوچ اور فیصلہ ہو!! اپنی طرف سے وہ خاموشی سے جس کی مدد کرنی ہوتی ، بتاۓ بغیر کرتے ہیں ۔ اُن کی نیک فطرت بتدریج انھیں عزت دلا رہی ہے ، الحمدُللہ ، جب  کوئی اُن کی تعریف کرتا ہے تو میں سوچتی ہوں ، ایسی ہی  اولاد والدین کے لیۓ صدقۂ جاریہ ہوتی ہوں گی ،،، !!! ان شا اللہ ،، ہم بہنیں دل کی گہرائیوں سے ان کے لیۓ دعاگو  ہیں ،۔ کہ اللہ انھیں دنیا و آخرت میں سُرخرو کرے آمین ۔
اللہ پاک نے مجھے دو بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا ،،، بیٹی دونوں بیٹوں کامل علی ،، اور ہاشم سے چھوٹی ہے ،،، میں نے پہلے بھی ایک صفحے پر لکھا تھا کہ یہ میرے گھر اُس دکھ اور کرب کے دور میں آئی ، جب مجھے اس کی اُس وقت اہمیت کا احساس نہیں تھا ،، میں تو بس حیران تھی ، ایک نیا وجود دینے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے ! اور آہستہ آہستہ ، احساس ہوا کہ یہ میرے زخم پر مرہم بنا کر بھیجی گئی تھی ، اور جوں جوں وہ بڑی ہوئی ، وہ قدم قدم پر میرے لیۓ ایک" کُشن "بنی رہی ،، کیوں کہ میں کافی مزاج دار ہو چکی تھی ،، اورکبھی کبھی ذیارتی کی حد تک سخت ماں بن جاتی تھی ( اور ہوں ) ،،، !لیکن اس نے تعلیم کے میدان میں ، اخلاق کے لحاظ سے ، دین پر عمل کے لحاظ سے ،، مجھے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔ اور  اپنے پسندیدہ مضمون میں بی ایف اے کرلیا تو، ، الحمدُ للہ ،،، میٹرک سے ہی اس کے رشتے آنے لگے تھے ،، میں  اللہ تعالیٰ سے بار بار  صرف ایک دعا مانگتی تھی کہ " اس کی زندگی کا ساتھی نماز ، روزے کا پابند اور رزقِ حلال پر قناعت کرنے والا ہو " ، بس،، ! اور ایک غیرخاندان ، ایک معلوم فیملی کےتوسط سے آۓ تو ،،، ہم انھیں اور وہ ہمیں پسند آگئے، چند ملاقاتوں ،، استخارہ کے بعد میں نے، اپنے تمام فیملی ممبران سے مشورے کے بعد ہاں کردی ، میرا داماد کامران شریف، پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہے، جب مجھے علم ہوا کہ وہ نماز اور روزہ کا بہت پابند ہے ، تو مجھے بہت خوشی ہوئی ،، اور جب میں نے رشتہ قبول کرنے سے پہلے ، اس کے آفس سے بھی معلومات لیں کہ وہاں اس کا مزاج کیسا ہے ۔ جن صاحب سے پوچھا ، وہ کامران کے سینئر تھے " انھوں نے بتایا یہ چند ایمان دار ، افسران میں سے ایک ہے ، اگر میرے گھر آتے تو میں فوراً ہاں کرتا ! تب دونوں جانب سے تیاریاں ہوئیں،اور 4 جنوری 2003ء کو میری بیٹی بیاہ کر"اٹک"چلی گئی،۔
میری بیٹی ، نے اپنا شادی کا جوڑا ، سُرخ شلوار قمیض بنوایا ، اور وہ ناقابلِ یقین حد تک ، کم قیمت تھا ،، ( دراصل اس کے خیال میں ہر دُلہن شرارے وغیرہ کے بھاری جوڑوں میں نظر آتی ہے ، میں منفرد کیوں نا نظر آؤں ،، اور اتنے بھاری قیمتی جوڑاے اورصرف چند گھنٹوں کے لیۓ کیوں فضول خرچی کروں ) ،، اس کی پریکٹیکل سوچ کی مزید انتہا کہ کسی قسم کے " کام دھام والے جوڑے " نہیں بنواۓ ،، جو جوڑے کبھی کسی شادی ، کبھی عید پر بنے ،، وہ ہی اپنے ساتھ لے گئی ،، اس کے لیۓ کچھ زیور بنا ہوا تھا ، جو تھا، اس سے ذیادہ ایک انگوٹھی کی بھی "اور " فرمائش نہیں کی ! اللہ نے اسے بھرا ظرف عطا کیا ہے ،،، وہ آج بھی " بریینڈڈ کومپلیکس " کا شکار نہیں ، نہ اس میں وہ کسی قسم کے مقابلے میں رہتی ہے !! وہ جس خاندان میں گئی ہے وہ آپس میں خوب مضبوطی سے جُڑے ہوۓ ہیں ، اور پہلے سے ایک جیٹھ ، جیٹھانی ، اور ساس موجود تھیں ، دو شادی شدہ نندیں بھی اپنے گھروں میں شاد و آباد تھیں ،،، "کامران"دونوں بہنوں اور بھائی سے کافی چھوٹا تھا ۔ تب بعد کی ایک ملاقات میں کامران کی خوب صورت والدہ نے بتایا کہ جب اُن کے شوہر کی اچانک وفات ہوئی تو سب سے بڑی بیٹی 8ویں میں اور کامران ڈیڑھ سال کا تھا ،،، والد کا کنسٹرکشن کا کام تھا ، ایک گھر انہی دنوں بیچنے کے نکتۂ نظر سے بنوا رہے تھے کہ ہارٹ اٹیک سے ختم ہو گئے۔ پیسے کی کمی نہ تھی ، بچے بہت اچھے پڑھاۓ ،، اور بڑا بیٹا ڈاکٹر بنا ، اور کامران " کیڈٹ کالج حسن ابدال " سے پڑھ کر یو ۔ ای ۔ ٹی لاہور سے پڑھ کر جاب پر لگ گیا ،، اِن خوبصورت خاتون کو بھی گھر والے " گُل آپا " کہتے ہیں ! میری بیٹی انھیں بھا،، گئی ،،یا اپنی فراست سے انھوں نے اسے جانچ لیا ،،اوروہ نشل پر مکمل  اعتماد کرنے لگیں ، میں نے بھی اپنی بیٹی سے کہہ دیا " اپنے اس" اعتبار و اعتماد " کو کبھی ٹھیس نہ پہنچنے دینا ،،، دوسرے وہاں گھر میں سب ہی افراد تم سے کافی بڑے ہیں ،، ان کے آگے کبھی پلٹ کر جواب نہ دینا ، کہ چُپ کا روزہ نہ ہی ٹوٹے ، تو عزت ہے ! الحمدُ للہ ، آج اس کی شادی کو 15 سال ہو گۓ ہیں ، گُل آپا ، نشل کے گھر خوشی سے آتیں ، رہتیں ، اور خوشی سے جاتیں ہیں ،،، ان میں پرانی قدروں ، اور رسوم کو نبھانے کا حوصلہ بہ احسن ہے ! ۔
اللہ رحیم و کریم نے پہلے میری بیٹی کو ایک بچی حمنہٰ سے نوازا ، اور پھر پانچ سال بعد بیٹا محمد موسیٰ کامران عطا کیا ،،، اب میری نواسی بھی 14 سال کی ہوچُکی ہے ،، اللہ تعالیٰ نے اپنی کرم نوازیوں کا سلسلہ کہاں تک نہیں کیا ، میرے پاس الفاظ نہیں ،،،،،،،،!۔
اپنے دوسرے بیٹے ہاشم ( جو علی سے 5 سال چھوٹا اور نشل سے دو سال بڑا ہے ) کے ایم بی اے کرنے اور جاب کرنے کی ابتدا ہی تھی ، کہ میرے پاس اتنا سر مایہ جمع ہو گیا کہ گھر بنانے کا نہایت مشکل قدم اُٹھالیا۔ اور اس کی نگرانی اِسی کے سپرد کر دی۔
(منیرہ قریشی ، 11 جنوری 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 15 نومبر، 2017

یادوں کی تتلیاں(44)۔

یادوں کی تتلیاں "(44)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اور وقت نے مرہم رکھا،،،، ٹھیک سات ماہ بعد اللہ نے مجھے پیاری سی بیٹی عطا کی اور اس کی آمد نے، سبھی گھر کے افراد نے نئے مہمان میں دل لگا لیا ، اپنے لیۓ مجھے بیٹی کی بہت خواہش تھی ! کہ بیٹیاں ، ماں کی ذیادہ ہمراز ہوتی ہیں ، اور سب سے ذیادہ یہ کہ ماں کے مرنے پر اس کی پلنگ کی پٹی سے وہی رات بھر لگی روتی ہیں !،،، اور بس !۔
میں نے اس کی آمد کو اللہ کی طرف سے مرہم تو سمجھا ہی تھا ، اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی " عمر نے علی کو خواب میں بتا دیا تھا،علی میں تمہارے لیۓ منی بہن لے کر آیا ہوں" ،،،، کوئی الٹرا ساؤنڈ نہیں ، کوئی توجہ،کوئی سوچ نہیں تھی، حتیٰ کہ کوئی وٹامنز بھی نہیں لیۓ !جب یہ پیدا ہو گئی تو جب اکیلی ہوتی تو کبھی میں اس کی آنکھیں چیک کرتی،کبھی اس کی  سماعت 
 چیک کرتی کہ جس کرب سے گزری ہوں کہیں اس کے اثرات سے اس میں کوئی ابنارملٹی تو نہیں آگئی ،،، اللہ کریم اور رحیم کا کن الفاظ میں شکر ادا کروں کہ وہ نہ صرف نارمل تھی بلکہ باقی دونوں بچوں کی نسبت  صحت مند بھی تھی۔وہ میرے لیۓ نورالعین بن گئی ! ۔
الحمدُللہ ! الحمدُللہ !۔
بچے اپنے اپنے ٹریک پر چلتے گۓ ، ،، جوجی کے گھر بھی اللہ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی دیۓ ! خاص طور پر اس کی بیٹی مائرہ اور میری بیٹی ساتھ ساتھ دنیا میں آئیں ،،، اور اس طرح دونوں نہ صرف کزنز تھیں بلکہ سہیلیوں کی کمی بھی پوری ہو گئی ۔ اور سات آٹھ سال کے بعد جب جوجی کے گھر بھی  جڑواں بیٹیاں آئیں تو میرے اور اس کے بچوں میں خوشیوں کی لہریں پھیل گئیں۔
ایمن ، ثمن ،،، !ا پنے گھر میں تو ان کی اہمیت ہونا ہی تھی لیکن میرے اور آپا کے گھر ان دونوں کا انتظار ہوتا ! اور ہماری شامیں ان کے بہت ہی پیارے بچپن کے ساتھ گزرنے لگیں ،،، اُدھر آپا کے دونوں بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیاں بھی بخیر و خوبی ہو گئیں ! ہمارے اباجی وہ خوش قسمت ،باپ بنے جنھوں نے بتدریج اپنے پوتے پوتی انجواۓ کیۓ ! بلکہ آپا کے چاروں بچوں کی شادیاں دیکھیں اور پھر ان کے بچے بھی دیکھے ! وہ پڑنانا بنے اور دیر تک صحت تندرستی کے ساتھ وقت گزارتے رہے ، اباجی نے کبھی اصراف سے کام نہیں لیا ، وہ زندگی میں اتنے ہی اخراجات کے قائل رہے کہ " قرض " کی نوبت نہ آنے پاۓ ۔ وہ ہمیں بھی یہی کہتے رہتے ! اپنے آپ کو آمدن کے اندر رکھو ۔ انھوں نے اپنی زرعی مربعے اور پنڈی والا گھر بیچ کر یہیں واہ میں دو گھر بنا لیۓ جس میں سے ایک میں خود رہتے اور دوسرا کراۓ پر دیا ، ا اور ایک باعزت ریٹائرڈ زندگی گزارنے لگے ، اسی دوران ،،، واہ کے اس ذاتی گھر میں جہاں اباجی اور اماں جی کے چند سال اکھٹے گزرے ۔ وہاں بھی اماں جی نے اپنے ہاتھوں اپنے پسندیدہ پودے لگاۓ،( جن میں سے چند ایک ابھی بھی موجود ہیں 42 سال بعد بھی )، ا ماں جی کے بعد میَں اباجی کے پاس ہی رہی ،،،، اس گھر میں چند سال ہی گزرے تھے کہ اماں جی فوت ہو گئیں ،، ! تب اباجی کی صبح تو اپنے بہنوئی (اور چچا زاد بھی)اور اپنے داماد کے ساتھ گزرتی ، جو انھیں اپنی کار میں لے کر ایک چکر بازار کا لگاتے ، اور اس کے بعد یہ تینوں حضرات آپس میں کسی کے گھر اترتے ، اپنی چاۓ اور سلاد کا چسکا پورا کرتے اور پھر بڑے بھائی جان انھیں اُن کے گھروں میں ڈراپ کرتے ۔ لیکن سردیوں میں سہ پہر کو اور گرمیوں میں قدرے شام کو ان کی عمر کے چار پانچ ہم مذاق دوست ، لمبی واک کرتے ،،،، اور یہ دلچسپ سین ہوتا ,,,, اس سین کو میرا بیٹا علی ( جس کا نیا نام کامل علی رکھ دیا تھا ) بہت جزیات کے ساتھ ، جب بیان کرتا تو سب کے ساتھ اباجی خود بھی انجواۓ کرتے ۔ دراصل یہ پیارے پیارے بوڑھے جب چلتے ، اپنی اپنی چھڑیوں سمیت تو ، صحیح معنوں میں زندگی کے میدان کے باوقار اور پُراعتماد سپاہی لگتے ،،،، اورجب ان میں سے کسی نے اپنی کوئی بات کہنی ہوتی ، تو سارا گروپ رُک جاتا ، متوجہ ہو کر بات سنتا ،،، اور اگر کسی نے جواب دینا ہوتا تو پھر سبھی رُک جاتے متوجہ ہوتے ، اور چل پڑتے ، کیوں کہ سب " ارکان اُونچا سنتے تھے " ،،،، اگر آپس میں کوئی بحث چھڑ جاتی تو سڑک کے کنارے کسی " بَنی " پر بیٹھ کر کچھ دیر بحث کی جاتی ، سانس درست کی جاتیں اور پھر چل پڑتے ! واپسی پر سب سے پہلے ہمارا گھر آتا اس لیۓ ایک لازمی پڑاؤ یہاں کا ہوتا ،، میں گرمیوں میں ان کے لیۓ لیمو پانی کا شربت تیار رکھتی ، میٹھا بہرحال معمولی ڈالتی کہ ان پانچ ، چھ میں سے 4 کو شوگر تھی ،، لیکن شربت پیتے وقت یہ ہی حضرات میٹھا تیز رکھنے کی فرمائش کرتے۔ سردیوں میں ان کی ٹرے پر برتن تیار ہوتے ، ان سے پوچھ کر کہ قہوہ یا چاۓ ! اس کے مطابق پیش ہوتا ، ان میں ایک دوست اظہار زیدی تھے ،، وہ کپڑے کےکاروباری تھے مسلکا" شیعہ ، اور انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے اہلِ زبان تھے ،،، حیرت انگیز طور پر ان کی شکل اباجی سے اتنی ملتی تھی کہ ، لوگ دونوں کو بھائی سمجھتے تھے ۔ ان کو بھی شوگر تھی ، اُن کی فیملی کا رکھ رکھاؤ ، لین دین اتنا باوقار تھا کہ مل کر دل خوش ہوتا ،، اگر ہم ان سے متاثر تھے تو وہ بھی ہمارے پنجابی اور سُنی ہونے کے باوجود اتنے متاثر تھے کہ انھوں نے اپنے ایک بیٹے کے لیۓ جوجی کے لیۓ رشتہ کی خواہش کی ، ، یہ کتنی سچی ، اور خالص دوستی اور محبت تھی کہ کوئی مسلک ، کوئی زبان حائل نہیں تھی ،،، لیکن اباجی نے ہی انھیں کہا " کیوں اپنے بقایا خاندان کو ناراض کر کے اپنی مشکلات میں اضافہ کرنا چاہتے ہو !! لیکن مجھے ایسی فراخ دلی کم ہی نظر آئی ہے ۔ ،،، انہی دوستوں میں ایک خواجہ انور تھے جو ساری عمر اکاؤنٹ کے محکمے میں رہے اور انہی کے گھر کے فون سے ہم اِس نئے گھر شفٹ ہونے پر فائدہ اُٹھاتے رہے۔ اور ایک "عزت علی شاہ " تھے جن کی کوئی اولاد نہ تھی ، وہ اچھی کلیدی پوسٹ پر رہے ، خاصے خوش حال بھی تھے آخری عمر میں ایک فری زچہ بچہ ہسپتال بنایا ، وہ بہت اونچے لمبے تھے لیکن آخر میں ذرا جھک سے گئے تھے ،، اباجی کے واک کےیہ تینوں ساتھی ، آگے پیچھے ، دنیا کے ہنگاموں کو چھوڑ گئے،،،،۔
تب اباجی کی شام کی سیر بھی ختم ہوگئی کیوں کہ باقی دو ، کبھی کبھی والے تھے ، ،،، اور مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ سارے بوڑھے جنت کی فضاؤں میں اپنے اپنے گھروں سے نکل کر جانے کہاں کہاں کے ستاروں پر واک کرتے ہوں گے ،،، ( آمین)۔ 
( منیرہ قریشی ، 15 نومبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )

ہفتہ، 30 ستمبر، 2017

" یادوں کی تتلیاں " (22).

 یادوں کی تتلیاں " (22)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اماں جی کو اگر باقاعدہ تعلیمی ماحول ملتا، صحت ملتی اور وہ کسی کالج تک پہنچتیں تو، تو وہ بیک وقت سوشل ورکر، سائیکیٹریسٹ ، بیالوجی کی ماہر ، بہترین باورچن ،اور پتہ نہیں کیا کچھ ہوتیں ۔ ان کے ساتھ کی ہمارے خاندان کی خواتین سواۓ ایک آدھ کے ، اچھے ، کپڑے ، اچھے زیور ، چمکتے برتن اور فرش یا فرنیچر کو چمکانے کے دائروں میں گھوم رہی تھیں ، جب کہ اماں جی کو جب موقع ملا ، انہوں نےنئی بات یا چیز سیکھی ، چاہے وہ کسی ان پڑھ سے ہی سیکھتیں ، ،،، اب جب مرضی کا لان ملا تو نئے تجربے ہونے لگے ، سائیڈ لان چونکہ کافی بڑا تھا اس میں سے سرونٹ کواٹرز کی طرف کا چار ، پانچ مرلے ،ایریا کو سنتھے کی چھوٹی سی باڑ سے الگ کردیا گیا، اور اس ایریا پر " کپاس" لگائی گئی ، ظاہر ہے ہمارے یہاں سردی کی شدت سے اسے بچانا تھا اس سارے ایریا کو پولی تھین کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے ڈھانپا گیا، اس دوران جب وہ وقت آیا کہ کپاس کے پھول نکل آۓ تو میں بتانہیں سکتی کہ کیا میلہ لگ گیا ،ہر جانا انجانا آرہا ہے جی کپاس کے پودے دیکھنے ہیں ، ابا جی ، اماں جی کا حکم تھا جو آۓ لان میں لے جاؤ اور دکھا دو! میرا ، "بے اعتمادی " کا یہ حال کہ اماں جی نے یہ تجربہ "کیوں "کیا کہ اب طرح طرح کے لوگ وقت بے وقت کپاس دیکھنے آرہے ہیں ، یہ بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہے وغیرہ ! اماں جی کو بہر حال کوئی ڈسٹرب نہ کرتا ! ،،، بہت بعد میں ہمیں کچھ بالکل انجان لوگ ملے ! اورجب انھیں پتہ چلتا کہ یہ اسی گھر میں رہتی تھیں ، تو وہ بہت ہی ستائشی اندازسے " کپاس " کا ذکر کرتے کہ یہ تجربہ واہ میں پہلی دفعہ کیا گیا اور ہم نے پہلی دفعہ یہ پودا دیکھا ۔،،،،، خیر کپاس کے پھول اتارے گئے اور تھیلے میں ڈال کر ایک اور گاؤں میں ، جن کے پاس " چرخہ" تھا ، کاتنے بھیجا گیا ، انھوں نے اطلاع دی " جی دھاگا بن گیا ہے ، اماں جی نے ایک چھوٹا اور ایک بڑا " دُھسہ" بنانے کا کہہ دیا ،،، جب وہ " براؤن رنگ " کے دُھسے آگۓ ،، تو ایک اور ستائشی سلسلہ چلا ، یہ ہم دونوں بہنوں کے لۓ کوئی " خاص " بات نہ تھی ،، جسے خصوصی اہمیت دی جاتی ، لیکن اماں جی ان دنوں اتنی خوش تھیں ، جتنا ایک طالب علم کو اپنے رزلٹ پر غیر معمولی کامیابی پر ہوتا ہے اور آج جب میں یہ واقعہ لکھ رہی ہوں تو سوچ رہی ہوں کہ ہمیں کتنی منفرد " ماں " ملی تھی ،میرے لیے ایک قابلِ فخر ، قابلِ ذکر بات ہے کہ اماں جی نے " ناممکن کو ممکن " کر دکھایا تھا ! وہ دُھسے آج بھی ہیں ، بڑا میرے بھائی جان کے پاس اور چھوٹا میرے بھانجے کے پاس ، ، !۔
۔1 ، کچنار کا گھر ، کارنر پر تھا ، اور آج بھی ہم پر " نوسٹلجیا " کا  فیز آتا ہے تو ذرا ادھر کا چکر لگا لیتی ہیں۔ اب اُس دور کے مکین ، خود ، نانی ، دادی بن چکے ہیں ، پہلے اپنے بچوں کو اوراب گرینڈ چلڈرن کو اس گھر کے باہر سے گزرواتی ہیں کہ ، یہ گھر ہمارے خوب صورت خوابوں سے بھرا ہوا ہے !،، وقت کچھ آگے ہوا اور 1965ء کی پاک ، بھارت جنگ کے دن آگۓ ، میں یہاں ایک دفعہ پھر ذکر کر دوں کہ ہمیں بچپن سے نماز کی پابندی کی عادت تھی ، اور ان دنوں میں جتنا ہو سکتا درودِ پاک ضرور پڑھتی ، 6 ستمبر سے ہفتہ بھر پہلے ۔،،،، " میں نے خواب دیکھا اسی کچنار روڈ کے گھر میں ہوں اور محسوس یہ ہو رہا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ، میں کچن سےباہر " کے برآمدے میں نکلتی ہوں کہ اچانک ایک سفید شلوار قمیض اور جناح کیپ میں ایک درمیانی قامت کی شخصیت ہمارے اندر کی کمروں سے تیزی سے نکلتی ہے اور پچھلے لان میں آکر اتنی اونچی آواز میں کہ جو آسانی سے سنائی دے رہی ہے ، کہتے ہیں " گیٹ کھلا ہوا ہے ، کوئی چوکیدار موجود نہیں ، اور دشمن پہنچا جاتا ہے " ،،، مجھے فورا" احساس ہو جاتا ہے یہ تو " حضورؑﷺ " ہیں ، میں مارے عقیدت کے ہاتھ سینے پر باندھ لیتی ہوں ، اور مسلسل کہتی جاتی ہوں ، " میں قُربان ، میں قُربان یا رسول اللہؑ ! " لیکن وہ مجھے نظرانداز کرتے ہوۓ ، دوسری دفعہ بھی یہ ہی جملہ دہراتے ہیں اور ، اس دوران آپﷺ بے چینی سے کبھی چند قدم ایک طرف کبھی دوسری طرف چلتے ہیں اور پھر یکدم سائیڈ لان کی طرف چلے جاتے ہیں، اور میری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ،،،،،،،،،،،،یہ میری زندگی کا پہلا ایسا خواب ہے جو میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے ، اس کا اندازہ ہر اس بندے کو ہو سکتا ہے جسے پیارے نبی پاکﷺ سے عشق ہے !! اور جب چند دن بعد 6 ستمبر کی پاک بھارت جنگ ہوئی تو کیا یہ ایسی صورتِ حال نہ تھی کہ' میرے نبیؑ ﷺکے الفاظ کے عین مطابق تھی !! 6 ستمبر 1965 کے دنوں کی لمبی تفصیل ہے ،ان شا اللہ !اگلی قسط میں ۔
( منیرہ قریشی، 30 ستمبر 2017ءواہ کینٹ) ( جاری )

جمعرات، 28 ستمبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں"(20)۔

یادوں کی تتلیاں " ( 20)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
واہ کینٹ ہم ستمبر1964ءمیں شفٹ ہوۓ ، اباجی کو (1 )کچنار روڈ ، کا بنگلہ ملا ، واہ اول تو خود بہت خوب صورت علاقہ ہے جو سرسبز درختوں ، چھوٹی چھوٹی پہا ڑیوں اور قدرتی جھرنوں سے سجا ہوا " تھا " ( اب ذرا گندا اور گنجان ہو گیا ہے ) ، اور دوسرے ہمارے لیے موسم یا ماحول نیا نہ تھا کہ ہمارا گاؤں وہاں 20، 25 منٹ کی ڈرائیو پر تھا، اور ہم واہ میں اباجی کے ایک اور "جگری " دوست کرنل محمد افضل سے ملنے کبھی کبھار آتی تھیں ! ستمبر نے ہلکی سردی کی ابتدا کر دی تھی ،اور یہ ہمارا اس نئےگھر اور واہ سے ملنے کا پہلا مہینا اور پہلا دن تھا۔جو " اُداسی" سے شروع ہوا،،،،، ایک تو ہم اپنی سہیلیوں سے دور ہوۓ ، اور دوسرے خوب رونق والی گلیوں کی آباد زندگی نظر نہ آئی ،تو ہم دونوں بہنوں نے کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا جس وقت ہم اس نئے گھر پہنچے تو سہ پہر کا وقت تھا،اور ہم سارے گھر میں بےزاری سے پھر نے لگیں،اس گھر کے صرف دو بیڈرومز، ڈرائنگ روم الگ اور ڈائننگ ( کافی بڑا) روم ، دو اچھے سائز کے سٹور ، کچن اور اسکی پینیٹری ، اور دو غسل خانے تھے، ایک برآمدہ فرنٹ پر اور ایک پہلو کے لان کی طرف تھا، ایک اور سٹور کچن سے باہر تھا جو شاید "ایندھن " سٹور کرنے کے لۓ بنایا گیا ہو گا (کیوں کہ جس دور میں یہ گھر بنے تھے گیس گھروں تک نہیں پہنچی تھی)پچھلا لان خاصا بڑا تھا کم ازکم ڈیڑھ کنال کا اورسائڈ لان دو کنال کا ہو گا، اسی طرح فرنٹ بھی کنال تک کا ،،،،اباجی اور اماں جی بہت خوش تھے، وہ" اپنے " علاقے میں جو آگئے تھے، اور ہمارے لیے اس گھر کے کمروں کی کمی نے بُرا ایمپریشن ڈالا ، پنڈی کا گھر بےشک کم رقبےپر تھا لیکن تین منزلہ اور کمرے بھی زیادہ تھے ۔اور ہمارے گھر آنے والے مہمانوں کو تنگی نہیں ہوتی تھی ،،، خیر یہ تو بعد کی باتیں تھیں اور ویسے بھی ہمارے سوچنے کی نہیں تھیں ، لیکن اس دن کی اُداسی مجھے یاد ہے ، صبح ہوئی جو مزید ڈیپریشن کا باعث بنی کہ دو ،کنال کا پہلو کا لان ،تین تین فٹ لمبی سوکھی گھاس سے بھرا ہواتھا۔ پچھلے لان کی حالت بھی ابتر تھی  ۔ صرف  سامنے کا لان اس طرح کا تھا کہ گھاس یا کیاریاں تو نہیں تھیں بس بجری کی وجہ سے گزرنے کے قابلِ تھا، اور گاڑیاں بھی وہیں کھڑی ہوتیں اس لیے وہاں لمبی گھاس نہیں اُگی تھی۔،،،، یہ سب دیکھ کر ہم دونوں تو حیران پریشان ہی ہو گئیں، تب اباجی نے بتایا ، جس بنگلے میں ہم نے شفٹ ہونا تھا ان صاحب نے عین دو دن پہلےاسے مزید ایک سال تک خالی کرنے سے انکارکر دیا تھا، کیوں کہ ان کی ٹرانسفر جہاں ہو چکی تھی وہاں انھیں رہائش نہیں مل سکی تھی ،اور اگرچہ یہ بنگلہ بھی ابھی دو ماہ پہلے خالی ہوا ہے لیکن اباجی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ " اس وقت کا مشرقی پاکستانی بھائی" اسے اتنی ابتر حالت میں چھوڑ گیا ہو گا ، اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ اماں جی نے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا ! بہت تحمل سے صرف کچن کی سیٹنگ کرواتی رہیں، اور دو دن کے اندرہم دونوں کے داخلے ہوۓ ، اتفاق سے جب میں واہ آئی تو اسی سال یا ایک سال پہلے یہ " انٹر میڈیٹ سکول اور کالج " بن گیا تھا جو نویں جماعت تا ایف۔اے تک تھا اور جوجی واہ کے کینٹ بورڈ کے تحت چلنے والے 12 سکولوں میں سے "ایف ۔جی سکول نمبر 2 میں داخل کرائی گئی ، جو اس وقت پہلی سے آٹھویں جماعت تک تھے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہماری قسمتوں میں لکھا تھا،اس بابِ زندگی کا نیا چیپٹر شروع ہوا،،، ہم دونوں کو اماں جی نے صرف اپنا کمرہ تھوڑا بہت ٹھیک کرنے کا کہا ۔ہمارے کمرے کے ساتھ ایک " اچھے سائز کا بکس روم تھا، لیکن ہمارا سامان کسی صورت اس گھر میں پورا نہیں آرہا تھا، اس گھر کے ساتھ تین سرونٹ کواٹرز تھے۔جن میں سے ایک کو اماں جی نے اپنے لۓ سٹور کے طور پر مختص کرلیا ،تب پنڈی کے گھر سے لایا سامان کچھ وہاں رکھا گیا۔ پنڈی سے آتےوقت ہم کتابوں سے بھری آٹھ کافی بڑی لکڑی کی پیٹیاں جو لاۓ تھے کچھ وہاں رکھوائی گئیں۔
گھر کے خدوخال نکلنے لگے ، اماں جی نے  کام کرنے والوں کی رہنمائی  کی۔ اوران کی خالص" دیہاتی اور فطرت پسند روح" بیدار ہو گئی، سب سے پہلے ٹریکٹرآیا جس نے سارے لان کو ادھیڑا، پھر دو دن بعد "دو بیلوں سمیت ہل " آیا۔ساتھ مزدو ، مٹی کی ٹرالی اور کھاد کی ٹرالیاں آئیں ،، اور یہ کام دو،چار دن جاری رہا ، ہل اس مٹی اور کھاد کے مکسچر کے اوپر چلایا گیا ! اور ایک ہفتے تک کچھ ریت بھی مکس کی گئی ، یہ عمل، آگے ،پیچھے اور سائڈ کے لانز میں کیا گیا ۔ ہم دونوں تو سکول سے آکر تھک کر ایسی سوتیں کہ، جیسے یہ سب ہل وغیرہ بھی ہم نے چلاۓ ہیں ۔ لیکن دوپہر کا ہمارا سونا لازمی تھا کیوں کہ اماں جی بھی سوتی تھیں اورانھوں نے یہ عادت بچپن سے ہی ہمیں ڈال دی تھی ! ابھی تک نہ ہم سکول میں کوئی سہیلی بنا پائیں اور آس پڑوس تو ویسے بھی آرام سے سلسلہ چلتا ہے ۔یہ ہی کافی تھا کہ سارے کمرے سِٹ ہو گئے ، نوکر وغیرہ کا بھی مسئلہ نہ رہا ، اور یوں ایک ماہ گزر گیا، اکتوبر تک مالی بھی اچھا ملا تو اماں جی اور "کِھل" گئیں ! یہ ان کا پسندیدہ شعبہ تھا ، پنڈی سے لاۓ گئے بے شمار گملے سِٹ ہو گئے ، لان میں گھاس کا اہتمام ہوتا رہا،ہمیں ان معاملات سے قطعا" کوئی دلچسپی نہ تھی، ہماری بھینس بھی پہنچ چکی تھی اور اس کے پہنچنے سے پہلے پچھلے لان میں اس کے مناسب سائز کے کچے پکے دو کمرے بنا دیۓ گئے، ایک بھینس کے لیے دوسرا اس کا چارہ اور باقی ضروری اشیاء کے لیے!!!۔
قارئین سوچ رہے ہوں گے یہ کن تفصیلات میں الجھ گئی ہے ، لیکن آپ اس نوجوانی کی عمر کا ہمارا ری ایکشن دیکھتے تو زیادہ انجواۓ کرتے ، کہ ہم دونوں ،( خصوصا" میں" ) بےبس اور شرمندہ شرمندہ سی رہتیں ،،،،،، کیوں کہ ہمارا خیال تھا ، ہمیں یہاں آکر اپنا دیہاتی پس منظر ظاہرنہیں کرنا چاہیے ،،،،" لوگ کیا کہیں گے ! لوگ کیا سوچیں گے "ہماری حددرجہ بےوقوفانہ سوچ ، اور مخالفت کی اماں جی نے رتی برابر پروا نہ کی !۔
اباجی تو تھے ہی حددرجہ مصروف !! اور اندر سےوہ بھی دیہات سے جُڑے !لیکن ایک دن سب سے پہلا " مہمان " ہمارے گھر " آئیں " ،،،، وہ تھیں دو خواتین ، ایک ان میں سے جوجی کے سکول کی پرنسپل تھیں مسز صفیہ رشید اور دوسری انہی کی پڑوسن بھی ،سہیلی بھی مسز شاہ !، پرنسپل صاحبہ ، ہمارے " بیک سٹریٹ " سے پڑوسی بھی تھیں ! اماں جی نے شربت پلایا ، اور وہ بہت تھوڑی دیر بیٹھ کر رخصت ہو گئیں ، اس وقت عصر کا وقت تھا ، اور یہ اس گھر کی پہلی " وزیٹر" تھیں !!!!۔
( منیرہ قریشی ، 29 ستمبر 2017ء) ( جاری )

بدھ، 27 ستمبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں"(19).

یادوں کی تتلیاں "(19)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اپنے والدین کی خوبیاں اور نیکیاں اگر میں لکھ رہی ہوں تو اس کی دو وجوہات ہیں۔
۔1)یہ خوبیاں واقعی ان میں تھیں اور ہم ان کی اولادیں اس بات پر  رب کا ازحد شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں آج اگر  اچھے برُے کا احساس ہے تو ان کی "غیرارادی" تربیت کی وجہ سے ہے، ہماری اگر بری عادتیں ہیں تو ہماری اپنی" ماحولیاتی آلودگی" کی وجہ سے ہیں۔
۔2) اور میں اس لۓ ان کی خوبیاں بیان کر رہی ہوں کہ کیا ہم   والدین اپنی اولاد کے "آئیڈیل " بن رہے ہیں ؟ حالانکہ پہلے کے والدین کی نسبت آج ہم اپنی اولاد کو بہترین سہولتیں دے رہے ہیں۔ اولادیں منہ سے جو نکا لتی ہیں ، پورا کرتے رہتے ہیں ۔ دوستانہ اندازبھی بہت ہے ۔ لیکن بچے اپنے آئیڈیل ، گھرسے باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ تو کیوں ؟ ہمیں اس پر اپنا جائزہ لینا ہو گا ۔
ہمارا تعلق ٹیکسلا کے ایک گاؤں " گانگو جمعہ "سے ہے ۔ ہمارے آباء نے نادر شاہ کے دور میں "دلی" سے ہجرت کر کے یہاں کے سرسبز اورپہاڑی علاقے کو اپنا مسکن بنایا،اور دلی میں قیام سے پہلے حجازِمقدس سے وہ خاندان خصوصی طور پر بُلوایا گیا،جسے "قاضی" کہتے تھے کیوں کہ انھیں فقہ کے ماہرین کی ضرورت تھی۔دلی آنے پر اِن کا قیام جہاں ہوا وہ جگہ "حوض قاضیاں" کہلانے لگی جو آج بھی اسی نام سے ہے ۔ ( اتفاق سے میرے بھائی جان کو سرکاری دورے  پر دہلی جانے کا موقع ملا تو وہ خصوصی طور پر وہاں بھی گۓ ، بتا رہے تھے کہ اب وہ جگہ شہر کے ساتھ مل گئی ہے ، لیکن اُس دور کا "حوض " آج بھی ہے اور اسے حوض قاضیاں ہی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
اب یہاں اس علاقے کی ہجرت جان بچا نے کے لیے کی گئی تھی، یہاں بھی انھیں احترام ملا اور لوگوں نے انھیں امامت ، شرعی فیصلے کے اختیار ،وغیرہ دیۓ لیکن چوں کہ یہ کچھ پڑھےلکھے تھے اس لئے اپنی کمائی پر انحصار کرنا چاہتے تھےان میں سے مردوں نے حکومتی نوکری میں " پٹواریوں" کی  نوکریاں کر لیں، یوں ان کی آمدنی کا بہترین سبب بن گیا ۔اسی آمدن سے انھوں نے اس نئی جگہ اتنی زمین لے لی کہ کھیتی باڑی بھی ساتھ ساتھ چلنے لگی ۔پڑھنے کا رحجان ان دو بھائیوں (جو گانگو میں سیٹل ہوۓ) میں رہا ان بھائیوں کے نام "جمعہ"اور "بہادر" تھے۔اسی لۓ یہ گاؤں آدھا گانگو جمعہ اور آدھا گانگو بہادر کہلاتا ہے ۔،،، گانگو کا لفظی مطلب " گاؤں ' ہے۔
ویسے ہی چلتے چلتے سوچا ہلکی سی جھلک اس خاندان کی بھی دیکھ لی جاۓ ۔ ورنہ " پدرم سللطان بود " کا قصہ مجھے نہیں پسند ! ،،، لیکن ایک مرتبہ سردیوں کے دن تھے ہم بہنیں اپنے والدین کے ساتھ آتش دان کے گرد بیٹھے گپ شپ کر رہی تھیں ، ( میں ان دنوں فسٹ ایرمیں تھی )اور اسی دوران باتوں کا رخ اِسی( اصل میں لفظ ہم ، یا ہمارا خاندان کا استعمال کوئی قابلِ فخرلفظ نہیں ، جتنا اُس خاندان کی مثبت سرگرمیوں پرفخر کرنا بنتا ہے) خاندان کی ہجرت وغیرہ کی طرف مڑ گیا اورمیں نے اپنے بڑبولے پن میں کہہ دیا " مجھے ان کہانیوں پر بالکل یقین نہیں ، کیا پتہ ہم ہندؤں سے ہی مسلمان ہوۓ ہوں اور یہاں اس جگہ ہجرت کے بعدبزرگوں نے خود کو عزت دار ظاہر کرنے کے لۓ اپنے نام کے ساتھ "قریشی" کا لاحقہ لگا لیا ہو اور یہ کہناکہ ہم "حضرت ابو بکرصدیق (ر ض ع) کے نسل سےہیں ، مشہور کر دیا ہو ،،، وغیرہ وغیرہ ! اباجی نے اس وقت کوئی بحث نہیں کی ،، بات آئی گئی ہو گئی ،، ،، شاید تین ، چار ماہ گزر گۓ ، اور یہ بحث بھی دماغ سے محو ہو گئی ، کہ ایک رات خواب دیکھا" میں ، اماں جی ،اباجی ،اور میری بڑی خالہ حج کر رہے ہیں اور ہم سب میدانِ عرفات میں ہیں ( ہم میں سے کسی نے حج نہیں کیا ہوا تھا ، اور نہ مجھے حج سے متعلق کسی قسم کی معلومات تھیں کہ عرفات کب جاتے ہیں وغیرہ) اُن دنوں اباجی نے سرخ ووکس ویگن رکھی ہوئی تھی ، ہم سب اسی میں بیٹھے ہیں، اور ارد گرد لاتعداد حاجی احرام میں ایک جانب جا رہے ہیں ، خوب چوڑی سڑک ہے، فضا میں تلبیہ کی گونج ہے ،لیکن اباجی کی گاڑی ایک درخت سے ٹکرا جاتی ہے ، جب مجھے ہوش سا آتا ہے تو، معلوم ہوتاہے، کہ سب افرادِخانہ فوت ہو چکے ہیں ،، میں فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر لوگوں سے مدد کا کہتی ہوں لیکن کوئی توجہ نہیں دیتا ، ایک سارجنٹ بھی آتا ہے اور اتنی مدد کرتا ہے کہ گاڑی میں سے ان تینوں کی لاشیں نکال کر فٹ پاتھ پر رکھ دیتا ہے ، اور یہ کہہ کر چلا جاتا ہے کہ قبرستان میں کوئی جگہ نہیں کہ انھیں دفنایا جا سکے ، میں سخت پریشانی میں ہوں کہ انھیں کیسے اس طرح چھوڑ کر چلی جاؤں ،، کہ اچانک زلزلہ آجاتا لوگ تلبیہ کی بجاۓ کلمہ پڑھنے لگتے ہیں ،اور چند لمحوں کے بعد زلزلہ ختم ہو جاتا ہے ،وہی پولیس سارجنٹ بھاگا آتا ہے ، کہ ہم انھیں لے جا رہے ہیں ، زلزلے کی وجہ سے قبریں ادھر اُدھر ہو گئیں  ہیں اس طرح جگہ بن گئی ہے ۔ میں بےفکر ہو جاتی ہوں اگلے لمحے یہ سوچتے ہوۓ قبرستان جاتی ہوں کہ پتہ تو چلے میرے پیارے کہاں دفن ہیں ! تو بہت سی قبروں کے درمیان ایک بہت نمایاں اور اونچی قبر ہے ۔میں قریب جاتی ہوں کہ معلوم کروں یہ کس کی قبر ہے تو تختی پر " حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہُ " لکھا ہوتا ہے ،،،، میں حیران رہ جاتی ہوں کہ میرے والدین اور خالہ کو اتنی اچھی جگہ ملی ہے ،،کہ آنکھ کھل گئی ،،،،،،،،،،مجھے یوں لگا کہ میرے بڑبولے پن اور شکی سوچ کا جواب ،مجھے ملا ۔میں مکمل سچائی سےلکھ رہی ہوں، کہ میں نے واقعی یہ سوچا تھا کہ " ذاتیں لوگ خود بناتے ، بدلتے رہتے ہیں ،،،،آج کی قسط مجھےایسی لکھنا چاہیے یا نہیں لیکن بس آج یہاں سوئی اٹک گئی ہےتو سوچا ایسے تو ایسے ہی سہی !۔
میں نے پہلے بھی ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ اماں جی میں خواب کی تعبیر بتانے کی بہت الہامی صلاحیت تھی ، انھیں میں نے صبح یہ خواب سنایا تو انھوں نے کہا ، کبھی مکمل شہادت کے بغیر منہ سے کوئی تبصرہ نہ کرو۔ ۔ یہ بیوقوفیاں تو ہم روز اور اکثر کرتے ہیں اوریہ ہی الفاظ باعثِ شرمندگی بھی بنتے ہیں لیکن ہم باز نہیں آتے۔
( منیرہ قریشی 27 ستمبر ،2017ء واہ کینٹ) ( جاری )

منگل، 19 ستمبر، 2017

"یادوں کی تتلیاں*(14)

یادوں کی تتلیاں" (14)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ابھی میں کچھ پھرپیچھے جاؤں گی ، ہمارا پنڈی کا گھر ، جو ایک قدرے کھلی گلی میں ، شہر کے عین درمیان  واقع تھا ۔اس کا نقشہ بہت خوب صورت تھا حالانکہ وہ بہت کم رقبے پر بنا ہوا تھا ، شاید 7 ، یا 8 مرلے پر ! داخلے کے لۓ ڈیوڑھی  اور فوراً صحن، ڈیوڑھی میں داخلے کے بعد دائیں جانب اُوپری منزل  کو جاتی سیڑھیاں ،جب کہ صحن کے بائیں جانب ڈائینگ روم اور اسی کے اندر ایک دروازہ ڈرائینگ روم ( جو بہت چھوٹا ساتھا) اور اس کا ایک دروازہ باہر گلی میں بھی کھلتا تھا جیسا اس زمانے اور آج بھی رواج ہے۔صحن کے دو " سٹپ " تھے پہلے سٹپ پر یہ ہی سب اور باورچی خانہ اور اسی باورچی خانے کے باہر ایک چو لہا اور بھی دبا ہوا تھا جو اگر آج کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو " ڈرٹی کچن "تھا ، ،،، جب اماں جی نے بڑے پیمانے پر کوئی سالن ، یا حلوہ بنوانا ہوتا تو اسی پر پکتا ، باقی دنوں میں روزانہ کے استعمال کے لۓ گرم پانی کا برتن چڑھا رہتا ۔ نیچے ہلکی آگ جلتی رہتی ،،،،،ایک سٹپ اوپر کا صحن اتنا بڑا، ضرور تھا کہ 6 ،7 چارپائیاں بچھ سکتی تھیں ، اور اس میں ایک "سفیدے" کا درخت لگا ہوا تھا ۔اور اس صحن کے دائیں طرف کےکونے میں چمبیلی کی بیل لگی تھی جواوپر چھت تک گئی ہوئی تھی ، اور بائیں طرف انگور کی بیل لگی ہوئی تھی، اور وہ بھی اوپر چھت تک جا پہنچی تھی ،،،،، صحن کے اس حصے میں تین ، اچھے کشادہ بیڈ رومز ، ایک غسل خانہ اور ایک مناسب سائز کا سٹور بنا ہوا تھا ۔ چھت پر جائیں تو کشادہ کوٹھے سے پہلے ایک سٹور اور بھی تھا ۔اور اسی کوٹھے پر دو لیٹرین بھی تھے اور پھر چند سیڑھیاں اور چڑھیں تو ایک اور مناسب کھلا کوٹھا بنا ہوا تھا جس پر ڈیڑھ کمرہ تھا ،،،، جس میں سے ایک کمرے میں بستروں کی پیٹی ،اور فالتو چارپائیاں   رکھی ہوئی تھیں ( گرمیوں کے لۓ ) جبکہ چھوٹے کمرے میں ایندھن سٹور کیا ہوتا تھا ،،،یہ سب میں نے ایک تو اپنے بچپن کے گھر کو ذہن میں تازہ کرنا تھا جس میں ، ہمارے بھائی جان ، میں اور چھوٹی بہن پیدا ہوۓ ۔لیکن دوسری وجہ یہ بتانا مقصود تھا کہ اس گھر میں ابا جی اور اماں جی کی دریادلی اور اعلیٰ ظرفی کی وجہ سے ہمارے خاندان کے پریشان حال خاندان تین چار سال کے لۓ رکے رہے،اور ایک خاندان کے چھے افراد رہے اور دوسرا خاندان  چار افراد پر مشتمل تھا ،،، دونوں خاندانوں کے سربراہ  بیروزگار تھے اس لۓ اس بابرکت گھر سے انھیں پیٹ بھر کھانا اور دوسری مالی معاونت بھی ملتی رہی اور بعد میں ان کے سربراہان کو ان کی اہلیت کے مطابق نوکریاں دلوائی گئیں  ،،،،،،آج بڑے بڑے گھروں والے اتنے فیملی ممبرز کو 3 یا 4 "ماہ " یا ہفتے ٹھہرائیں اور سب خرچے بھی اُٹھائیں ، تو احسانات کا پہاڑ ان پر " بول ،بول کر " لادا جاتا ہے ،،،،،اللہ ہمارے والدین کی ان نیکیوں کو قبول فرماۓ آمین۔
اماں جی اور اباجی پودوں کے شوقین تھے۔ خاص طور سے اماں جی ! اس شہری گھر میں ہمارے گھر میں سدا بہار پودے یا پھولوں والے 40 تا 50 گملے تھے ، محلے میں شاید یہ ہی گھر  ایسا تھا جہاں پودوں کی جی جان سے دیکھ بھال کی جاتی ،، اماں جی ہمارا کسی کے گھر جا کر کھیلنا پسند نہیں کرتی تھیں ،اس لیے  ہماری سب سہیلیاں ہمارے گھر آجاتیں اور کافی وقت گزارتیں کہ ایک تو کوٹھے کشادہ تھے اور دوسرے ہمارے ہاں ہمارا ایک بھائی اور وہ بھی ہاسٹل میں ہوتا ، ہماری ان سہیلیوں میں ان کے ننھے منے بھانجے ، بھتیجے بھی کبھی کبھار آجاتے تو اماں جی کچھ دیر کے لیے بڑی چھوٹی سب " مخلوق " کو یہ جملے ضرور بولتیں ،، کوئی بچہ نہ پتے توڑے گا نہ ہی کسی گملے کو ہاتھ لگاۓ گا ! ورنہ اس پر جرمانہ ہو گا ! ان کا اتنا کہنا ہی کافی ہوتا ، اور اس !دوران ہمارے گھر  اماں جی کی  کوئی سہیلی آجاتیں تو انھوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا شور نہ کرو!!!۔  
اب یہاں میں یہ بھی لکھنا چاہوں گی کہ اماں جی کی دانائی ،اور اچھے مشاورت کی عادت نے انھیں خاندان اور خاندان سے باہر مقبول بنا رکھا تھا ۔ ایک گھر کی والدہ بہت بزرگ تھیں وہ جب آتیں اکیلی آتیں ، دل کے دکھڑے شیئر کرتیں اور چلی جاتیں ،، کچھ دن بعد اس گھر کی ذرا  بڑی عمر کی  بیٹی آتی اور بہت دیر تک بیٹھ کر اپنے دل کا حال ، اور مشورے لیتی ،، اور کبھی اسی گھر کی بہو آکر اپنے دکھڑے سنا کر جاتی ،،،لیکن کیا مجال اماں جی اس کو یہ بھی نہ بتاتیں کہ تمہاری ساس آئی تھیں، یا تمہاری امی آئیں تھی ، وہ کہتیں تھیں ،،، مجھے ان کے دلوں کی بھڑاس سن لینے سے کیا فرق پڑتا ہےلیکن انھیں بہت فرق پڑجاتا ہے ،،، الحمدُللہ انھوں نےاس طرح کی مختلف رشتوں والی دوستیوں کا ذکر کسی اور سے بھی نہیں کیا۔
میں نے اماں جی کی اس خوبی کا ذکر شاید پہلے بھی کیا تھا کہ وہ ہر طرح کے لوگوں سے گفتگو کی اہلیت رکھتی تھیں ، وہ خود کسی سکول کی بلڈنگ کے اندر تو نہیں جاسکیں لیکن ان میں علمی قابلیت ،، سکول جانے والوں سے ذیادہ تھی ،،، ہمارے محلے میں بھوپال سے ہجرت کر کے ایک فیملی آئی جو ایک گھر کے نچلے حصے میں کرایہ دار ہوۓ ۔ اس میں میاں بیوی ، انکی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ، خاتونِ خانہ انہی دنوں شدید بیمار تھیں ، ہمارے اس محلے میں ہمارے رشتے داروں کے کافی گھر تھے اور قدرِخوشحال بھی تھے ۔ اس دور میں ہجرت کر کے آنے والوں کے لۓ جذبۂ ہمدردی وافر تھا چناچہ ،، سب نے انھیں اپنی مدد کی آفر کی ،، بے یارو مددگاری کےاس دور میں ہلکی سی مدد بھی بہت لگتی ہے خاص طور پر جب خاتونِ خانہ کو ہسپتال داخل کرنے کا وقت آیا تو ،،، اور اسے خون دینے کا وقت آیا تو سب ہمسائیوں نے اور ہمارے رشتہ داروں نے پُرخلوص کوششیں کیں ۔ لیکن وہ جنت مکانی بچ نہ سکیں ۔ اس سانحہ کے کچھ ماہ بعد اس گھر کے بزرگ کو نوکری ملی اور ان کی آنکھوں سے آنسو کم ہوۓ تو ! ان کی بڑی بیٹی کو ٹیلی فون آپریٹر کی جاب مل گئی ،جو اس وقت میٹرک پاس تھیں اور ( بعد  میں انھوں نے ایف ۔اے پاس کر لیا ) ہماری بڑی بہن کی ہم عمر تھیں ان کے بعد کا بھائی کچھ ، چھوٹا اور اس سے چھوٹی دونوں بہنیں منی اور نسرین ہماری ہم عمر تھیں جو ہماری پکی سہیلیاں بن گئیں۔ اب ہوا یہ کہ بڑی بہن نے مدت تک کسی بھی گھر آنا جانا نہ رکھا ۔ قریبی گھروں کی خواتین نے ان کے ہاں چکر لگا ۓ لیکن یہ انتہائی وضع دار اور خاندانی گھرانہ تھا جو خواہ مخواہ ، ادھر اُدھر پھرنے کا قائل نہ تھا ، اور دوسری طرف ہماری اماں جی بھی ایسی کہ جب تک کوئی اشد ضرورت نہیں تو نہ نکلتیں۔لیکن اس گھر کے بزرگ ایک آدھ دفعہ اباجی سے ملے۔تو شاید اچھا  تاثر لیا کہ ایک دن مکمل برقعے میں عارفہ آپا ہمارے گھر آئیں اور پھر تو ماں بیٹی والی تعلق فوراً  قائم ہو گیا ، کہ حیرت ہوتی،،، شاید کچھ لوگوں کی کیمسٹری اتنی ملتی ہے کہ ان کی آپس کی محبت کا تعلق مضبوط ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔اور یہ ایسی شخصیت تھیں ۔ وہ تو اماں جی کی عاشق ہو گئیں، دوسری طرف ان کے والد کی طرف سے باقی دونوں بہنوں کو بھی صرف ہمارے گھر آنے کی اجازت ملی ،،، اور یوں ایک اہلِ زبان ، اورپڑھے لکھے باشعور خاندان نے ہماری اردو کو سیقل کرنے میں بھی بہت حصہ لیا ،،،،، اور کچھ اقدار کو سیکھنے کا بھی موقع ملا۔
( منیرہ قریشی ، 19 ستمبر 2017ء واہ کینٹ ) ( جاری )