جمعرات، 31 مئی، 2018

سفرِانگلستان(18)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر "
سفرِِ ولایت یو کے " ( 18)۔"
اور اکتوبر کا پہلا ہفتہ بھی گزر گیا ، اب ہم نے ایمن ثمن کے ساتھ لندن روانہ ہونا تھا ،، ایک تو ان کی یونیورسٹیز کھلنے والی تھیں ، دوسرے ہم نے لندن کی سیر تو کرنا ہی تھی ،، اور تیسرے 2 نومبر 2014ء کی رات کا واپسی ٹکٹ مانچسٹر ہی سے تھا ،، لندن سیر کے بعد ہمیں دوبارہ بےکپ آنا تھا ،، اس لیۓ انہی تین ہفتوں میں مزید سیر ہو سکتی تھی ۔
اب یہ ڈیوٹی پھر مائرہ کے سپرد ہوئی، اسے اپنی پجارو لانا پڑی ، کیوں کہ ہم چار لوگوں کے بیگز ، اور ایمن ثمن کے لیۓ جوجی پاکستان سے فولڈنگ فوم کے گدے لے کر آئی تھی ، تاکہ لندن ، ان کے پاس جب فالتو مہمان آئیں تو وہ ان میٹریسسز کو بہ آسانی چھوٹی جگہ پر رکھ بھی سکتی ہیں ، وہ آرڈر پر بنواۓ گئےتھے ،اور بہت رول ہو کر ایک "گاؤ تکیۓ " جتنے ہو جاتے تھے ، انھیں بھی لندن اسی گاڑی میں لے کر جانا تھا ۔ کچھ مزید گھریلو اشیاء بھی تھیں ،، جن کے رکھنے کے بعد ہم نےخود کو ان سیٹس پر فکس کیا اور ، مانچسٹر سے لندن کا چار ساڑھے چار گھنٹے کا سفر، صبح 10 بجے سفر کی دعا پڑھتے ہوۓ شروع کیا ، ماشا اللہ مائرہ چار پانچ سالوں سے اپنی کار تو چلا ہی رہی تھی لیکن اب میاں کی پجارو پر بھی ہاتھ صاف تھا ، اس کی سموتھ ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ ، ہم ہائی وے پر آۓ ، اس شاہراہ کا مقابلہ ، ہماری موٹروے سے کیا جا سکتا ہے ! اور جوں ہی 12 بجے ، ہمیں چاۓ کی یاد نے ستایا ۔ اور مائرہ نے گاڑی راستے کے ایک معروف چین کے ریستورنٹ میں جا کھڑی کی ،، فریش ہو کر انکے لان میں میں لگے میز کرسیوں پر جا بیٹھیں ،، چاۓ کے ساتھ کچھ سینڈوچ اور بچیوں نے اپنے لیۓ نوڈلز ،یا پاستہ اور بعد میں آئسکریم لی ، ہمیں یہاں بھی بیٹھنے کا مزا اس لیۓ آیا کہ یہ ایک اور دنیا تھی جہاں ، چند منٹوں کے بعد منظر مسلسل بدلتا جا رہا تھا ۔ کبھی کوئی کار کبھی کوئی بس رنگا رنگ مسافروں سے بھری آتی ، اور ایک ایسے ہی ملٹی نیشنل خدو خال والے لوگوں سے بھری بس ، روانہ ہو رہی ہوتی۔ ہم دونوں جب بھی لوگوں کو دلچسپی سے دیکھتیں ،،، تو مائرہ سے ذیادہ ایمن ثمن ،کانشس ہو کر کہتیں ،، " اماں ، خالہ ، انھیں اتنا غور سے نہ دیکھیں ، یہ اچھانہیں سمجھتے " ،،، لیکن ہم اپنی مرضی کرتیں ،، اس لیۓ نہیں کی لوگ کبھی نہیں دیکھے یا غیر ملکی لوگ نہیں دیکھے ،، ہم تو نیرنگئ قدرت کا مشاہدہ کرنے لگتیں،، ورنہ لوگوں کی جتنی اقسام ،، حج کے موقع پر نظر آتیں ہیں ،، اس کا کہیں بھی مقابلہ نہیں ۔ اور ہمیں وہاں بھی انھیں اگر بہت غورسے دیکھنے کا موقع نہیں بھی ملا ، تب بھی ہمیں بہت تجربات حاصل ہوۓ ،، یہ میں نے اپنے سفرِ حج میں ذکر کیا ہے کہ " اکثر سننے میں آتا رہا کہ نیگرو ، بہت اکھڑ اور دھکے دے کر آگے بڑھ جانے والے ہوتے ہیں ، ان سے بچ کر رہنا وغیرہ ،، جب کہ ہمیں دونوں شہروں میں جب کہیں نیگرو نظر آۓ ، یا ان سے کوئ رابطہ ہوا ،نہایت مہذب ، اور نرمی سے بولنے والے تھے "،، گویا واسطہ کس کا کس قوم سے کس انداز سے پڑتا ہے یہ ، زندگی کے تجربات ہوتے ہیں ، تب ہم کسی قوم کا بہ نظرِ غائر ، تصور بنا سکتے ہیں ، ، اور بنا لیتے ہیں ۔ 
لندن تک کا ساراراستہ ، کچھ سوتے ، جاگتے ، اور باتیں کرتے گزرا ،، لندن کے اندر کس جانب سے داخل ہوۓ ، یہ تو یاد نہیں لیکن ہم اس مشہور پُل سے گزرے جس کو دیکھنے کی چاہت تھی یعنی " ٹاور بریج ، لندن " دن کے تین بجے تھے ، روشن دن میں اسے دیکھنا اچھا لگا کہ ٹاورز کا اپنا ہی وکٹورین ، سٹائل تھا یا رومن ،، لیکن دبدبہ خاصا تھا ،، اور سب سے بڑی بات کہ کہیں 1886 تا 1894 میں تعمیر کیۓ گۓ ٹاورز ، یوں نۓ لگ رہے تھے جیسے ذیادہ سے ذیادہ 50 سال پہلے تعمیر ہوۓ ہوں ،، یہ بریج ، لندن کی پہچان ہے ، کیوں کہ انجیئنرنگ کے کمال میں یہ دریاۓ ٹیمز سے گزرنے والے اونچے بحری جہاز کے لیۓ بریج اس وقت دو حصے میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ، اور دو حصوں میں اُٹھی سڑک کا نظارہ بھی کیا کمال ہوتا ہو گا۔ہم اس نظارے کو البتہ نہ دیکھ سکیں۔ 
ایمن ثمن کو ، مائرہ نے بہت محفوظ جگہ پر ایک فلیٹ لے کر شفٹ کیا تھا ۔ اسی لیۓ جوجی ہر معاملہ مائرہ پر چھوڑا ہوا تھا ، کہ وہ بہت سے عواقب کو سوچ کر ایمن ثمن کے لیۓ قدم اُٹھاتی تھی ۔، اور اب وہ یہاں دو سال سے رہ رہی تھیں ، یہ علاقہ ، " کنیری وارف" کہلاتا ہے ،،اس فلیٹ کے ایریا میں میں مزید اسی طرح کے تین بلڈنگز تھیں ، جو تین تین منزلہ فلیٹس تھیں۔ انہی میں صرف تین منزلہ فلیٹس میں سے درمیان والا فلیٹ ان کا تھا ،، یہ سٹوڈنٹس کے لیۓ ، خاص طور پر لڑکیوں کے لیۓ بڑی ، محفوظ جگہ تھی ،، اس کے گیٹ سے کمپیوٹر سسٹم کے تحت پاس ٹچ کر کے ہی اندر داخل ہوا جا سکتا ہے ۔ اور باقی سیکیورٹی کے انتظام بھی اچھے تھے ،کار پارکنگ کی بھی مناسب جگہ بنائی گئی تھی ، ایمن ثمن کے فلیٹ کی مالکہ ، بزرگ برٹش خاتون تھی ،، جس سے ان کی ملاقات خال ہی ہوئی تھی ۔ کار سے سارا سامان لڑکیوں نے ہی نکالا ، میں اور جوجی اپنے پرس سنبھالے ،، تھکی ملکانیوں کی طرح آگے چل پڑیں ، ، جوجی نے جا کر تالہ کھولا ،، اور ہم نے حسبِ عادت بہ آواز سلام کیا ،، یہ عادت ہمیں اماں جی سے ملی ہے کہ ،، گھر بھلے خالی ہو ، اندر داخل ہو تو اونچی آواز میں سلام کریں ،، فرشتے جواب دیتے ہیں !!۔
ایمن ثمن نے بہت تیزی سے پہلے ہمارے لیۓ چاۓ کا بندوبست کیا ،، ان کا گھریلو پن تو بےکپ کے قیام میں نظر آگیا تھا ،، لیکن یہ " اُن کا اپنا ٹھکانہ تھا " اور ہم " اُن " دونوں کی مہمان تھیں ۔ بلکہ میرے پہلی دفعہ آنے کا محبت بھرے انداز سے ویلکم کیا جا رہا تھا ،، ڈاخل ہوتے ہی ایک طرف ان کے کوٹ لٹکانے کی جگہ اور جوتے اتارے کی جگہ تھی ، اسی کے اپوزٹ، گھر کو گرم کرنے کی مشین کا بند کیبن تھا ۔۔ اور چند قدم کی گلی کے فوراً دائیں جانب ، ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ، جس میں ایک سنگل بیڈ اور ایک ٹیبل تھا ایک کھڑکی سامنے کے منظر کو دکھا رہی تھی ،، اسی کے ساتھ دائیں ہی طرف دوسرا بیڈ روم تھا جو ڈبل بیڈ والا کمرہ تھا اس میں ایک چھوٹی الماری ،اور ایک سنگھار میز رکھی ہوئی تھی ،، جب ان کی اماں آجاتی ، یا میرے جیسے مہمان ،، تو یہ دونوں بیڈ رومز بہت کام آتے ۔ لندن میں ان کے پاس چند دن ٹھہرنے والے مہمان اکثر آۓ رہتے ، اور ان کی مہمان نواز طبیعت سے لوگ فائدے اُٹھاتے ،، یہ مہمان نوازی اس لیۓ بھی تھی کہ جوجی کی اس عادت کو انھوں نے اپنایا ہوا تھا ،، حالنکہ کبھی کبھار ، ان کی اس خوش مزاجی کا کچھ لوگ غلط فائدہ اُٹھاتے ،، وہ سمجھتے کہ ، ہم تو انکے مہمان ہیں ، ٹیکسی کا کرایا بھی یہ ہی دیں ،، ہم ایسی سوچ پر سواۓ افسوس کے کیا کر سکتے ہیں ،،، بہرحال آخر اسی گیلری کے بائیں طرف پہلے ایک باتھ روم اور اسکے بعد کچن اور آخر میں ایک نہایت مناسب سائز کا " لیونگ روم " تھا ،، جس کی رائٹ سائڈ پر ایک بڑا صوفہ ، ایک آرام دہ کرسی ، اور دو موڑھے تھے ، جبکہ اس کے بائیں طرف گول ڈائینگ ٹیبل چار کرسیوں والا رکھا تھا ۔ یہ دو نوجوان لڑکیوں کے لیۓ بہت خوب تھا ، چاۓ  کی تواضع کے بعد مائرہ نے تجویز دی کہ ابھی صرف شام کے پانچ بجے ہیں ۔ آرام بھی ہو گیا ہے کوئ وقت ضائع نہ ہو تو بہتر ہے ،، میَں آپ کو حکیم چاچا جی کےگھر ابھی گھما لاتی ہوں ، کہ آج کے دن کو بھی استعمال کر لیں !!! ۔
جیسا میَں نے مائرہ کی شادی کے احوال میں لکھا تھا ، کہ لندن سے اباجی کے چچا ذاد بھائی" حکیم چچا بھی شادی میں شریک ہوۓ تھے۔ وہ اپنے دونوں بیٹوں اور بہوؤں ، اور دو پوتے پوتی کے ساتھ آۓ تھے حکیم چچا کی بیوی بہت ہی اچھی خاتون تھیں جو کچھ عرصہ قبل فوت ہو چکی تھیں ، ان کے دونوں بیٹے ، انتہائی لائق فائق ، اور والدین کے بہت تابعدار بیٹے ہیں ، اب یہ دونوں بیٹے فخر اور باسط خود بال بچے دار ہیں ، بلکہ فخر کے چار بیٹے ہیں ، جو جوان ہیں ، شادی میں شاہین ( بہو ) نے بتایا تھا کہ بڑے بیٹے کی منگنی کر دی ہے ، اب ہم بھی انہی کیٹرنگ والوں کو بلائیں گے وغیرہ ،،، بس دو ماہ بعد کی تاریخ رکھی ہے ،،، ہماری ملاقات کے بعد ، بہ مشکل تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ ، ان کے دوسرا پوتا ، جو جوان لڑکا تھا ،، کو کسی نے قتل کر دیا ،، ہم تدفین میں شریک نہیں ہوسکی تھیں ، لہذٰا اب ہمارا ان کے گھر کی طرف اظہارِ افسوس کے لیۓ جانا ضروری تھا ، جو مائرہ لے جا رہی تھی ،، فخر کا گھر " سلاؤ " میں تھا ،، ایک دفعہ پھر ٹاور بریج سے گزر کر وہاں پہنچیں ، وہاں تک اچھا خاصا فاصلہ تھا ۔ اسی میں شام کے سات بج گۓ ،،، کچھ دیر شاہین اور فخر سے بیٹے کی  مزیدتحقیق کا بھی پوچھا ، اور یہاں محض شک اور نسلی تعصب کے اکا دکا کیس ہوتے ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی کچھ ایسا ہی تھا !دعا کی اور واپسی ، پر ٹاور بریج ، روشنیوں میں نہایا ہوا ، مزید خوبصورت لگا۔ 
اور یوں لندن کی سڑکوں اور عمارتوں ، اور پلوں کا پہلا تعارف ہوا ،،،، جو اگر یہ کہوں کہ بس نارمل تائثر رہا ،، تو صحیح ہے ، کیوں کہ لندن کی محبت کو محسوس کرنے کے لیۓ یہاں سالوں رہنا پڑتا ہے شاید !!۔
( منیرہ قریشی ، 31 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 30 مئی، 2018

سفرِانگلستان(17)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
ولایت ،یوکے" ( 17)۔"
اور اب مانچسٹر کی جتنی اہم جگہیں مجھے دکھائی جا سکتی تھیں ،، دکھائی گئیں ،، البتہ ایک جگہ  بطورِ اصرار مجھے لے جایا گیا، کہ آپ کے مزاج کے مطابق مانچسٹر کا یہ نہایت پرانا گوشہء آپ کو ضرور بھاۓ گا ۔ اور یہ جگہ صرف بھائی نہیں ، آنکھوں کے راستے سے دل میں سما گئی ، کہ ایک ایک کونا ، بھُلا نہیں پائی۔ اس جگہ کا نام " ہیلی ڈیل"  ہے۔ایمن ثمن نے ہاتھ میں پکڑے " جامِ جِم " ،،، یعنی آئی فون سے بذریعہ  گوگل ، بتایا کہ یہ ڈھائی میل لمبا چوڑا،ایریا ،، بالکل نیچرل انداز سے چھوڑ دیا گیا ہے یہ راچڈیل کا وہ ایریاہے ،، جسے نیچرل ٹورزم کے تحت ، ان لوگوں کو جو بالکل آج کی کسی ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی جگہ دیکھنا چاہتے ہوں ، تو اِسے دیکھ سکتے ہیں ، یہاں پیدل جانا بہتر ہے ، کیوں کہ گاڑی کے لیۓ سڑک تنگ بھی ہے اور واپسی کا موڑ کاٹنا بھی مشکل مرحلہ ہوتا ،، اور پھر آج مائرہ بھی لے جانے کے لیۓ موجود نہ تھی ۔ ہم بس سے آسان اور آرام دہ ، سفر کر کے 20، منٹ بعد ہی اس بازار میں پہنچے جو خاصا ، پرانا ، یا بہت جدت لیۓ ہوۓ نہ تھا ، اور سارا وقت ، آنکھیں ، نہایت اونچی اور جدید بلڈنگز ، شاپنگ مالز ، اور بازار کو دیکھتیں رہیں ، تو یہ قدرِ پرانی لُک دیتا بازار اچھا لگا ،،، یا ،،ہم ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھنے والوں کو یہ نظارہ " اپنا اپنا " سا لگا ۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں کی لائن ، جو ایک ہی سیڑھی چڑھ کر دکان کے اندر داخلہ ہو جاتا ۔ 
مانچسٹر کے بہت سے چوراہے ، آج بھی اُس پرانی طرز سے چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوۓ ہیں ، جو پرانی سڑکوں کی یاد دلاتے ہیں اور یہاں اس ہیلی ڈیل کو بھی دیکھنے آئی ہیں،جسے یہ لوگ "چُھپا قیمتی پتھر"(ہڈن جیم) کہتے ہیں ،اس کی نہایت خوبصورت تصاویر ، گوگل کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہیں۔ جب ہم بس کے ذریعے پہنچے ، اس دن نہ صرف موسم خوبصورت تھا ،، بلکہ اب مہینہ بھر سے خوب سیر کرنے اور پیدل چلنے سے میرے چلنے کی رفتار بھی بہتر ہو چکی تھی ، ، اور اب اس ہیلی ڈیل کے ایک بہت پرانے طرز کے گیٹ سے داخل ہوئیں ،، اور دل نہال ہو تا چلا گیا ۔ اس ڈھائ میل کے علاقے کو بالکل اسی طرح رہنے دیا گیا ہے ، جو 1867ء کی شکل میں تھا ۔ یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے ، جو شروع سے ہی نیچے کی طرف جاتی چلی جاتی ہے ، ارد گرد کی خود رو جھاڑیاں ، درخت ، اور کوئی بلڈنگ نہیں ، اور خاموشی،، سرسراتی ہوا ،، اور کہیں کہیں چھوٹی رنگین چڑیاں ،، ! ہم جیسے اس ماحول میں ڈوبتیں ، چلیں گئیں ،، جیسے جیسے ڈھلواں سڑک پر چلیں ،، جنگل نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا ۔ ذرانیچے پہنچے ، ،، مخالف چھوٹی سی پہاڑی سے گرتی بہت خوب صورت سی آبشار نے تصاویر لینے پر مجبور کر دیا ،،۔
 ہیلے ڈیل کی آبشار اور اون دھلائی کی سِلیں"۔ "
یہ آبشار 300 سال پہلے بھی تھی ، ،، کہ یہیں آکر مزدور مرد وزن جو اُون ، کات کر لاتے ، تو یہاں آکر اسے دھوتے اور پھر سکھاتے ،، اس طرح کی دھلائی  کی جگہیں یا سلیں ابھی بھی موجود ہیں ۔

ہیلے ڈیل میں اترائی کے آخر میں ، جہاں مزدور مرد و زن ، اپنی لائی اون دھوتے اور رنگتے تھے ،، ! اب یہ علاقہ ہر طرح سے ، نیچرل رہنے دیا گیا ہے ،، اور یہاں کی قدرتی سینری ، اور خاموشی ، لاجواب ہے !۔ 
 آس پاس بہت ہی خاموشی ، جنگلی پیڑ پودے ،، اور نزدیک ہی ایک پرانا سا پُل بھی تھا ،، یہ ریل ٹریک تھا ، جو ،،راچڈیل اور بے کپ کے درمیان چلانے کے لیۓ 1870ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ شروع گیٹ سے نیچے آنے تک کی سڑک کچھ ایسی چوڑی نہ تھی ، شاید پرانی پگڈنڈی کو ہی کچھ بہتر کر کے سڑک بنا دی گئی تھی ۔ یہاں ایک ، دو بینچ بھی تھے ،، جن پر بیٹھ کر ہم نے فوٹو بنواۓ ۔ ایمن ثمننے تو آس پاس ، اونچے نیچے راستوں کو اور پُل پر جا کر ان مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کردیا ۔ میَں اور جوجی بنچ پر بیٹھے ، اس شعر کو یاد کرکے اس کا صحیح معنوں میں لطف محسوس کرتیں رہیں،۔
؎ ہم تم ہوں گے بادل ہو گا 
رقص میں سارا جنگل ہو گا
کس نے کیا مہمیز ہوا کو !
شاید اُن کا آنچل ہو گا 
یہ غزل کس کی ہے یہ تو یاد نہیں آیا ، لیکن خود بھی خوب صورت اور نہایت خوبصورت آواز والا گلوکار مسعود ملک یاد آگیا ، اس نے یہ غزل خوش گلوئی کے ساتھ اتنے دھیمے سروں سے گائی ،، کہ نہ شاعر یاد ہے ، نہ پروڈیوسر ،،، بس یہ غزل مسعود ملک کی پہچان بن گئی ، اور کچھ ہی ماہ بعد اس کے مرنے کی خبر نے سب کو اداس کر دیا ،،، شاید ایسے سریلے ، ایسے شاعرانہ ، وجود بس اتنی عمر لے کر ، بہت ساری شہرت سمیٹ کر اپنی جگہ خالی کر جاتے ہیں۔
تین یا چار گھنٹے گزر گۓ ،، ایمن ثمن کے متوجہ کرنے پر ، ہم بادلِ ناخواستہ اُٹھیں ، ، اور اب چڑھائی ذرا مشکل لگی ،، لیکن اگر اترتے ہوۓ بیس منٹ لگے تو چڑھتے ہوۓ آدھ گھنٹہ ضرور لگا ،، لیکن اس گوشہء سکون کی یاد آتی رہتی ہے ، جس کے درختوں ، نے 300 سال کی  تاریخ  دیکھ رکھی تھی۔اس کے اوپر کی دنیا ویسے ہی مصروف تھی ،، وہی دوڑتی بھاگتی زندگی !!کچھ وقت پیدل چلیں اور ایک چوراہے پر ایک چھوٹی سی ، لائیبریری کا بورڈ پڑھ کر، اس میں جانے کا کہا ،، تو ایمن ثمن مان گئیں ،، جیسے ہی ہم داخل ہوئیں ،، ا س کی لابی میں ایک دو روسٹریم تھے جن پر بہت پرانے اخبارات کو کمپائل کر کے ،  
عام عوام کے پڑھنے کے لیۓ رکھا گیا تھا ، میں تو کچھ دیر کے لیۓ اسے پڑھنے میں مصروف ہوئی ،،۔ جو ہماری دلچسپی کا باعث بنے ، اور اسی میں1914 ء کے اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوۓ !۔


لائبریری میں کمپائل کیےگئے اخباروں کا ،، 1914ء کا تاریخی صفحہ !،،،،·۔
 
، اتفاق سے دوسرے صفحے پر 1941ء کا پیج سامنے آیا ،، جس پر انڈین سولجرز سے متعلق کچھ خبریں شائع ہوئی تھیں ،،، اور یقیناً یہ ہم ایشین ، کے لیۓ دلچسپی کے صفحات تھے ،،یہ ایک دو منزلہ ، لیکن بہت چھوٹی سی ، صاف ستھری ، اور بہت سے سیکشنز کے ساتھ ترتیب دی گئی لائیبریری تھی ۔ اور ،،،،،،،، اب ہماری واپسی کا سفر تھا ،، بسوں میں بیٹھیں اور بےکپ ، کی بس سٹاپ پر اتریں ،، اپنے گھر تک کی بہت تھوڑی سی چڑھائی ، اب بری نہیں لگتی تھی ،، ! ( میں خود پر خوب دل میں خفا ہوتی تھی کہ میں نے پیدل چلنے کی عادت کو کیوں چھوڑ دیا ، کہ نہ صرف وزن بڑھ گیا ،، بلکہ میرے چلنے کی رفتار بھی کم رہی ) ،،۔
اگلے چند دن ہم نے قریبی حسین مناظر کو دیکھنے تک ہی رسائی رکھی۔، اور اسی دوران ایک " بس " نظر آئی ، جو دراصل ایک موبائل لائیبریری تھی ،،، جی ہاں یہ لائبریری ایک عام بس کو خاص طریقے سے سجا دیا گیا تھا جس میں ، انگلینڈ کی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والی ، بسوں ، کی تصاویر ، پمفلٹس ، اور کچھ ماڈلز رکھے گۓ تھے ،، یعنی ، شروع دور میں بس بنی تو کس شکل صورت کی تھی اور بتدریج کیسے کیسے تبدیلیاں آتی چلی گئیں،،گویا اپنے عوام کے لیۓ چلتا پھرتا ، انسائیکلو پیڈیا ،، تاکہ کم ازکم نئی نسل کو چلتے پھرتے ، چند منٹ میں بہت کچھ سکھا دیا جاۓ !!۔
( منیرہ قریشی 30 مئی 2018 ء واہ کینٹ ) (جاری) 
ہیلے ڈیل کا ایک راستہ ،۔

ہیلے ڈیل کا جنگل !۔







جمعہ، 25 مئی، 2018

سفرِانگلستان(16)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
 سفرِِ ولایت ، یوکے " (16)۔"
اگلے ہی دن مائرہ کی پکی سہیلی نادیہ کی فیملی نے مائرہ اور ہم سب کو دعوت پر بلایا ، خود نادیہ لندن میں رہائش پزیر ہے ، اس لیۓ اس کا آنا ممکن نہ تھا ، ، لیڈز میں ان کے تین چار گھر ہیں ،، ایک نادیہ کے امی ابا کا ، دوسرا ماموں مامی کا ، جو نادیہ کی پھوپھو بھی ہیں ، تیسرامزید دو پھوپھیوںکے ، اور ایک خالہ کا ایک دو اور رشتے داروں کے ،، گویا یہ ساری گوجر خان کی فیملی ،،، تیسری نسل تھی جو انگلینڈ میں  پَل کر جوان ہوئی ، نادیہ کے دادا ، نانا ،پاکستان بننے کے چند سال بعد ہی یہاں اپنے چند رشتہ دار مردوں کے ساتھ آۓ ،، سادے اور محنتی لوگ ، کچھ ہی عرصے میں خواتین کو بھی بلایا جانے لگا ، اور اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دی ،، پہلی اور دوسری نسل بہت تعلیم یافتہ نہیں تھی ،، لیکن آج ان کی بیٹیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، کچھ لڑکے پڑھ گۓ ہیں کچھ کم تعلیم یافتہ ،،، ۔
نادیہ سے ہمارا پہلا تعارف ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کالج میں ہوا جب میں ، جوجی کے ساتھ ، مائرہ کو ہوسٹل چھوڑنے گئیں ۔ مائرہ کو جو کمرہ ملا اس میں دو لڑکیاں اور بھی شامل تھیں ، ان میں سے ایک لڑکی پہنچ چکی تھی ، جو ذرا ریزرو ، سی لگی ،، جبکہ دوسری لڑکی ، اپنے ساتھ بڑے بڑے سوٹ کیسوں کے ساتھ ہم سے چند منٹ بعد پہنچی ،، مائرہ نے تھوڑی سی سِٹنگ میں اس کا ہاتھ بٹایا ،،، اور ،، ان دونوں کی ہیلو ہائ ہوئی ،، تو دراصل ان کی کیمسٹری مل گئی ،، دوستی کا وہ پہلا دن ،، اور آج 2018ء ،، مائرہ کا ذکر ، اس نے اپنی فیملی کے ہر بندے سے کیا ،، باہمی محبت ، نے یہ حال کر دیا کہ مائرہ ان کے گھر کا بندہ بن گئ ،، مائرہ لمبی اور دبلی ہونے کی وجہ سے اس فیملی کو " کینڈی " ( مشہور بے ڈھنگی گڑیا ) لگی ،، اور یہ نام اس خاندان کے لیۓ مائرہ کے لیۓ فکس ہے !۔
چونکہ نادیہ نہیں آسکی تھی ، اس لیۓ دعوت اس کی امی ، اور مامی کی طرف سے ملی ، ان کے بال بچے بھی جمع تھے ،، یہ لوگ لیڈز میں سیٹل تھے ،، بہت خوبصورت بنگلے ، ایک ہی روڈ پر کچھ فاصلوں پر تھے ، یہ محنتی لوگ ، پاؤں چادر کے مطابق پھیلا نا سیکھ گۓ تھے ،، اب تیسری نسل کچھ ذیادہ آرام طلب تھی ۔ ہم11بجے دوپہر پہنچے ، سب مامی کے گھر جمع تھیں ،، کافی دیر تک مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ کون ، کیا ہے ماشا اللہ 5 لڑکیاں ان کی اور ہماری ایمن ثمن ، مائرہ ، بڑی خواتین میں ایک تو نانی یا دادی تھیں ، اور ہمیں کمپنی دینے والی بھی چار خواتین تھیں ، خوب شاندار گھر تھا ، اسی گھر کے پچھلے لان میں ایک انیکسی ہے ، یہاں مائرہ اس وقت ایک ڈیڑھ مہینہ رہی جب اسے کسی کالج میں داخلہ لینا تھا ۔انھوں نے صرف اسی کو نہیں ، ان کے گھر آنے والے ہر مہمان کو اسی طرح ویلکم کیا جاتا ہے ، جو ذیادہ ٹھہرنے والا ہویہاں ٹھہرتا ہے ۔ مزیدار اور بھرپور ورائٹی والا لنچ دیا گیا ۔شام کی چاۓ پی کر ہم نے رخصت لی ، یہ ایک یادگار ملاقات رہی ،، واپسی پر مائرہ نے ایک بڑا چکر لیڈز کا لگایا ، اور اہم سڑکوں کا نظارہ کروا دیا ، اور یوں " لیڈز " کے علاقہ پر ایک نظرِ غائر ڈال کر واپس ہوئیں۔
اگلے دن گھر کی چیزیں اور گروسری کا دن تھا ، ہم نے آج موریسن مال سے گروسری خریدناتھی ، آج ہم بس میں وہاں پہنچیں ، تو چمکتے دن میں میں مطمئن چہرے دیکھتی رہی ، گروسری ایمن ثمن خریدتی رہیں ،، کہ وہ جانتی تھیں ، کون سی چیز کتنی خریدنی ہے ! خریداری کے دوران مجھے ، تو لوگوں کے چہروں ، رویئوں ، چال ڈھال ، سبھی پر فوکس کرنے کا موقع مل گیا ، ایک اجنبی ملک ، جہاں دنیا کے قریباً ہر خطے سے آۓ لوگ سیٹل ہیں ،، لیکن ہر کوئی اپنی جڑوں سے کسی نا کسی طور جڑا نظر آتا ہے ۔ کہیں خدوخال ، کہیں لباس ،کہیں کھانے کی چیزیوں کی پسند ، کہیں رویۓ ، ،،، اور صاف پتہ چل جاتا کہ اس کا تعلق کس خطے سے ہو سکتا ہے !،،، ورلڈ وائڈ کے نام سے شاپنگ مال نے سب سے پہلے " حلال فوڈ " کا سلسلہ چلایا تو ایسڈا ( یا ایسٹا ) شاپنگ مال نے نے فورا" ایک کارنر حلال میٹ ، کے نام سے متعارف کروایا ، اور اس کی شاخیں انگلینڈ کے ہر بڑے ، چھوٹے شہر میں ہیں ، جو مسلم ہی نہیں غیر مسلمز کی دلچسپی کا مرکز بھی بن چکی ہے ۔ کیوں کہ اب کچھ فیصد غیر مسلمز بھی حلال گوشت میں دلچسپی لینے لگے ہیں ۔ واپسی پر سامان ذیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسی منگوا لی گئ ،، اور اتفاق سے پھر ایک پاکستانی ڈرائیورنے ہمیں پہنچایا ، اخلاق سے احترام سے ۔دو دن بعد ایمن ثمن نے ایک چکر ہمارے ساتھ ، مانچسٹر کے اس علاقے کا پھر لگایا ، جہاں یہ لوگ رہ کر گئی تھیں ۔ مائرہ نے ہمیں مسلسل اپنی ٹرانسپورٹ سروسز مہیا کیۓ رکھیں ،، اس دن تو ویسے بھی طلعت کے گھر اس کے اور ذی سی کا ڈنر کیا گیا تھا ،، ذی سی تو مصروفیت کی وجہ سے نہ آسکا ،، ہم سب خواتین ذرا کچھ گھنٹے پہلے مانچسٹر کے اس شہر پہنچیں جہاں طلعت کا گھر تھا ،، کچھ ہی فاصلے پر مائرہ اور ایمن ثمن نے جب مانچسٹر میں آتے ہی رہائش اختیار کی تھی ،،، تو ان کا گھر تھا ،، جو وہ مجھے بھی دکھانا چاہتی تھیں ، ! یہ ایک با رونق چوڑی سڑک کے کنارے دو بیڈ رومز کے چھوٹے گھر تھے ، جو ایک لائن میں ایک جیسے بنے ہوۓ تھے ،، لیکن سجانے والوں نے اپنے فرنٹ پورشن کو پھولوں سے سجا سنوار رکھا تھا ،،، یہاں فطری ، نظاروں والی کوئ بات نہ تھی ،، یہ تو میری قسمت اچھی رہی کہ شادی کی وجہ سے بڑا گھر لینا پڑا ، اور وہ بھی کنٹری سائڈ پر ،،،۔ اور صحیح بتاؤں تو انگلینڈ کے ان دو بیڈ رومز میں ایک باتھ ، کی سمجھ نہیں آئ ،، ہم پاکستانی کچھ ذیادہ نخرے کرتےہیں ، اور چاہتے ہیں ، کم ازکم دو باتھ رومز ضرور ہوں ، اور دوسرے یہ کہ اس مصروف شاہراہ ، سے مجھے ہر وقت کے خوب صورت نظارے کہاں دیکھنے کو ملتے ،، لیکن باہر سے گھر کو دکھا کر جوجی نے مائرہ کو اس چھوٹے سے پرانے قلعے میں لے جانے کا بولا ،، جو فی الحال خالی پڑا تھا ، اور جوجی بچیوں کے ساتھ اکثر یہاں آکر بہت پرانے درختوں کے نیچے بیٹھتی ، تھی ۔ جس کے پیارے سے تین چار کنال کے لان میں بیٹھنے کی کوئ پابندی نہ تھی ، وئیں ، چند بینچ بھی پڑے تھے ،، جن میں سے ایک پر ہم بیٹھیں ، کچھ تصویریں لیں ، قلعہ چھوٹا ہی تھا ،، لیکن کسی باذوق لارڈ کا تھا ،، اسمیں مشرقی طرزِ تعمیر کا کافی عکس نظر آرہا تھا ،،، بے چارے لارڈ ، اور لیڈیز کے بڑے بڑے گھر اب ان سے سنبھالے بھی نہیں جاتے ، کہ سستے زمانے گۓ ،،، اتنے بڑے گھروں کے لیۓ ملازمین ، چار پانچ تو کہیں نہیں گۓ ،، انھیں تنخواہ دینا بھی محال ہو گیا ۔ اسی لیۓ بہت سے قلعے ہوٹلز میں "کنورٹ " کر دیۓ گۓ ہیں ، یا بند پڑے ہیں ،، اسی طرح ان ،،کے چرچ یا گرجا گھر بھی ویران ہونا شروع ہو گۓ ہیں ، اور اب انھیں بھی ، سکولوں میں بدل دیا جانے لگا ہے ،۔ کم ازکم لندن میں تو دو تین چرچ ایسے دیکھنے کو ملے ،،،، مانچسٹر میں ایک مشہور مال " پرئمارک " میں داخل ہوئیں ،، یہ بہت مناسب قیمتوں والا وسیع و عریض شاپنگ مال ہے ،، جس میں برتن ، میک اَپ ، کپڑے ، جوتے ، سویٹرز ، غرض ، ضرورت کی ہر چیز نظر آجاتی ہے ،، میں نے یہاں سے بچوں کی اور کچھ تحائف کے طور پر دینے کے لیۓ سویٹرز خریدے ! اگر میں کہوں کہ انگلینڈ سے تحائف کے لیۓ سویٹرز ضرور لیں ، اور چاکلیٹ میں بھی خوب ورائٹی نظر آئی ،، جسے خریدنے میں ، میَں نے کنجوسی نہیں کی ،، ! کہ مجھے پتہ تھا ، میری پوتی ملائکہ ، نواسی حمنہٰ ، ، پوتے عمر اور سلمان اور نواسہ موسیٰ ،،،،، میرا انتظار ،، اسی میٹھی چیز کے لیۓ ذیادہ کر رہے تھے ۔ کچھ خریداری کے بعد میزبانوں کے گھر چلے ، اور ان کے بچوں کو بھی چاکلیٹ پیش کیۓ کہ یہ دنیا بھر کے بچوں کی کمزوری ہے ۔ 
(منیرہ قریشی ، 25 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 24 مئی، 2018

سفرِانگلستان(15)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
 سفرِ ولایت ، یو کے " (15)۔"
اور آج جوجی کے چھوٹے بیٹے تیمور نے دلہن، دلہا اور ہمیں ڈنر پر بلا رکھا تھا ،، ایمن ثمن ، نے وہی ہماری " علی الصبح " یعنی 9 بجے ، تک اُٹھایا ،،، جوجی اور ایمن نے ناشتہ ، تیار کیا ،، لیکن مَیں ایک نکمے مہمان کی مکمل تصویر بنی ، (اور شرمندگی کے بغیر ) کبھی ایک کھڑکی ، کبھی دوسری کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر کے نظاروں سے لطف اُٹھاتی ۔ حتیٰ کہ کھڑکیوں کے عین نیچے اُگی جھاڑیوں کو بھی دلچسپی سے دیکھتی ،، کہ صرف مختلف پتوں سے سجی یہ جھاڑیاں بھی مختلف رنگوں سے مزین تھیں ، فرنٹ کی کھڑکی کے عین نیچے کی جھاڑیوں کے پتے ، موٹے ، کھردرے تھے لیکن ایک ہی پتے پر سبز ، سرخ اور پیلے رنگ کے " سٹروک لگاۓ گۓ تھے ، گویا پھول نہیں بھی ہیں تو رنگین جھاڑی ہی کافی بہار دکھا رہی تھی ، ،، اسی طرح باقی  جھاڑیوں کی فرق چھب تھی ، خود بھی نہایت ننھےمنے پتوں والی اور اتنے ہی منے کہیں گلابی اور کہیں کاسنی پھولوں سے لدی ہوئی تھیں ،،، میں نے کچھ ، نمایاں خوبصورت پتوں کو سنبھال کر ڈائینگ ٹیبل پر رکھے ایک برتن میں ڈالے ہوۓ تھے کہ یہ پاکستان ساتھ لے کر جاؤں گی ، اور بچوں کو یہ جنگلی پتےدکھاؤں گی ،، لیکن تیاری میں وہ وہیں بھول آئی۔ 
ناشتے کے بعد، جوجی نے ایک دو پاکستانی سالن بیٹے کے گھر کے لیۓ بناۓ کہ ماؤں کو ہمیشہ اپنے بچوں کو " آسانیاں " دینے کی کوشش ہوتی ہے ، بھلے یہ شادی شدہ بچے خود روزانہ کھانا بناتے ہی ہیں،لیکن ، خالص مامتا کے جذبے سے جڑا ، ایک بین الاقوامی جذبہ ، مشترکہ ہے کہ ،،، کہ ماں اپنے ہاتھ کا ذائقہ وقتاًفوقتاً کھلا کر اس اولاد کو اپنے ساتھ گزارے دنوں کو یاد دلا دیتی ہے ، بیٹا یا بیٹی ، خود کو ماں کے گھر میں محسوس کرتے ہیں ، اور خاص طور پر بہو غیرملکی ہو ، اور اسے پاکستانی ذائقہ ، گھر میں رواج دینا ابھی بھی بہت کم آتا تھا ،، اسکے دونوں بچے ، کم مرچوں والی " بریانی " پسند کرتے ہیں ،، بریانی بھی بنی ۔ ساری پیکنگ ہونے تک ، دوپہر 12 بج گۓ ، اتنے میں ، مائرہ اور ذی سی بھی اپنی پجارو میں آگۓ،،اس بڑی گاڑی کی وجہ سے ہم چاروں بھی آرام سے پچھلی سیٹ پر بیٹھٰ گئیں ، اور آج ، مجھے " لیور پول " دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ، ، حسبِ معمول ، گاڑی کے باہر کے مناظر ، خوب صورت اور صفائی ،، سے نمایاں اور گاڑی کے اندر بیٹھے ، رشتوں کی مٹھاس کے لطف نے سفر ، میں سُرور بھر دیا !!!ذی سی ، مزے کی گفتگو کرتا رہا ،، کم از کم اب تک جو ملاقاتیں رہیں ، ہم اس کی موجودگی میں " ایٹ ایز " ہوئیں ،، ،،، ،، ۔
اگر ہم یورپ ، امریکا یا یوکے میں پیدا ہونے والے اپنے ایشین بچوں کی عادت کا تجزیہ کریں ،،، تو اس مغربی معاشرے کی ایک بہترین عادت ان میں سما گئی ہے کہ یہ بچے ،، "منافق " نہیں ہوتے ،، جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہی ان کی زبان پر ہوتا ہے ،، ہم ایشین اپنے بچوں کی سادگی اور سچائی کو بہت جلد ختم کر ڈالتے ہیں ۔ ذرا بڑے ہوتے ہیں ، تو سکھایا جاتا ہے ،،" پھوپھو آرہی ہیں ، یہ بات ان کو نہیں بتانی ،، وہ مہمان آرہا ہے ،، یہ چیز انھیں نہیں دکھانی ، ، اپنے گھر کی باتیں کسی کو نہ بتاؤ ! ،، کسی کو اپنا پروگرام نہ بتاؤ ، نظر لگے گی وغیرہ وغیرہ ،،،، ! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے عجیب ، بے پیندے کے برتن بنتے چلے جاتے ہیں ۔ ان میں وہ " ہوشیاری " کچھ ذیادہ آجاتی ہے ،، جو ان کی عمر کے ساتھ مناسب نہیں لگتی ،، وہ گھر میں اور مزاج دکھاتے ہیں ، اور باہر ان کی شخصیت پر اور ملمع چڑھ جاتا ہے ،۔
بات ، ذی سی کے مزاج کی ہو رہی تھی ، کہ اس کیْْ شادی ہوۓ چند ہفتے ہوۓ تھے ، اور اس سے ملے ہوۓ بھی چند ہفتے ،، لیکن وہ، سادگی سے گھُل مل گیا تھا ۔ ایسی ہی جینئون مزاج کے ساتھ اس کی باتیں سنتے ہوۓ لیور پول داخل ہوۓ ، تو مائرہ نے بتایا ، تیمور کا شہر آگیا ، یہ ایک بہت تاریخی چھوٹا سا شہر ہے ،،، جو کسی زمانے میں شاید 300 سال پہلے ایک نہایت چھوٹا سا قصبہ تھا ،، اور پھر " نارتھ اٹلانٹک " کے کنارے، 1000 والی آبادی نے اس وقت تیزی اختیار کر لی ، جب غلاموں سے بھرے بحری جہاز ، لیور پول کے کنارے پہنچنے لگے ،اور ساتھ ہی آبادی میں بھی اضافہ ہوا اور تجارت میں بھی ،،، اور یوں اس چھوٹے سے قصبے کی تاریخی اہمیت بڑھ گئی۔ ،،
سیدھے تیمور کے گھر پہنچے ، جو صاف ستھرے، بہت خوبصورت علاقے میں ، رہتا تھا ،، وہ ساری فیملی باہر ہی انتظار میں تھی ،، 6 فٹ 3 انچ لمبے تیمور کو 6 فٹ لمبی سمینتھا مل گئی ،، دونوں جاب کرتے ہیں اور ایک بیٹا 6 سالہ طارق اور بیٹی 5 سالہ ملیکہ ،گلے لگ کر ہم سب سے ملے! تیمور پوچھنے لگا ،، چاۓ کا موڈ ہے تو پہلے پی لیں ،، پھر سیر کروا دوں گا ، ،، لیکن ہم سب نے پہلے سیر کو ترجیح دی ، میَں اور جوجی ، اور ٹونز میں سے ایک تیمور کی گاڑی میں بیٹھے ،،، تیمور نے بتایا یہ کوئی اتنا لمبا چوڑا شہر نہیں ، لیکن بہت تاریخی پس منظر رکھتا ہے ،، وہ ہمیں مشہور سینٹ نکولیس چرچ ، کے سامنے لے گیا ، جو اچھی دیکھ بھال کی وجہ سے بہترین حالت میں تھا ،، کھڑکیوں کے رنگین شیشے ، اندر کی بلب کی روشنیوں میں چمک رہے تھے ،، اور چرچ بہت خوبصورت تائثر دے رہا تھا ، کچھ اور فاصلے پر مسلمانوں کے لیۓ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد دیکھی ،، جو باہر سے ہی دیکھنے کو ملی ۔ اس دوران ،، چوں کہ شام ہونے کے خدشے کے تحت تیمور نے جلدی سے کار ، "لیورپول کاسل " کی طرف موڑی ،، اور یہ بارھویں صدی کا بنا قلعہ ، چھوٹی چھوٹی آریکٹیکچرل نفاستوں سے بھرا ہوا تھا ،، باریک پچیکاری ، نے اسے دیکھنے لائق بنا رکھا تھا ،،لیکن وقت کی کمی سے ہم اسے بھی سرسری دیکھنے والی صورتِ حال سے گزرے ،،، اور مزید آگے چلے تو سمندر نزدیک محسوس ہوا ،، اور قریب ہی وہ 6 منزلہ سادہ ،،لیکن مشہور بلڈنگ دکھائ دی جسے تاریخ میں " ایسٹ انڈیا کمپنی " کا نام دیا گیا ،کہ ،، جہاں برِصغیر سے آنے والے محنت کشوں ،، اور ملاحوں کو ٹھہرایا جاتا ،، اپنی زبان کا بھاشن سنایا جاتا ،، اور سرمایہ کاری کی بساط بچھائ جاتی ،،، قوموں کے فیصلے کرنے والوں ، کروانے والوں کا اس اجنبی ملک کا اس سمندری کنارے سے پہلا تعارف ہوتا ۔ 
تیمور ہمیں سمندر کنارے لے گیا ، ابھی شام کی روشنی اتنی ضرور تھی کی نگاہ دور تک احاطہ کر رہی تھی ،، اسی نے بتایا آجکل اکتوبر کا شروعات ہے ،، اور صبح ، شام شدید دھند سمندر کے اوپر چھانے لگتی ہے ،، واقعی گھنٹے کے اندر اندر، دھند پہلے دور اور پھر ذرا نزدیک کے سمندر پر نظر آنے لگی ،، سردی کی آمد آمد تھی ، ہم سب نے اپنے ساتھ لائ سویٹرز اور کیپ شال پہن لیۓ ، ہم ابھی ایک گھنٹہ ہی رکے تھے ، اور دور بہت دور ایک چھوٹے جہاز کے قریب آنے کی طرف متوجہ تھے ، ،،، ،،، کہ " کونجوں کی مخصوص آواز " سنائ دی ،، تیمور نے آسمان کی طرف اشارہ کی ،، بہت دور آسمان پر ایک کونج دکھائی دی ،، میِں نے سوچا ایک آدھ گزر رہی ہے ،، جب غور کیا تو وہ پہلی کانج تھی جو " رہبر " کونج ہوتی ہے ،، اور مسلسل ایک خاص آواز نکالتی رہتی ہے ۔ اس کے پیچھے " وی " (v) کی شکل میں پھیلی ہوئ ڈار تھی ،،، اور اب وہ مکمل منظر کے ساتھ دکھائ دے جانے والی پوزیشن میں تھی ،، ہم سب کے چہرے ،، اس قدرتی نظارے کو دیکھنے کے لیۓ آسمان کی طرف اُٹھے ،، تو گردنیں تھک گئیں لیکن ، نظر نہیں ہٹ رہی تھی ، کم ازکم میری کیفیت یہ تھی ، کہ خوشی ، حیرت اور شوق سے مجھے کپکپی محسوس ہو رہی تھی ،، آہ ،، اتنا بھر پور نظارہ ،،، لا تعداد کونجیں گزرتی چلی جارہیں تھیں ۔۔ لمحے بھر کا وقفہ ہوتا ، اور ہزار ، دو ہزار کونج گزرتی ، اور دوسرے لمحے پھر ایک " لیڈنگ کونج" نظر آتی ، اور پھر ایک خوب پھیلاؤ والا " وی " شیپ قافلہ گزرنے لگتا ۔ اور ایک آدھ قافلہ " قازوں " کا بھی گزرا ، جن کے رنگین پروں اور فرق آوازوں نے فضا میں رنگ بھر دیۓ ،، اگرچہ " سُرمئی کونجوں کے گزرتے وقت ،، ایک ہلکے سرمئی بادل کا احساس ہواتھا ، جو چلتا چلا جا رہا ہو ،،، !! ،، 
یہاں یہ بھی بتا دوں کہ تیمور کے ہمارے سیر کرانے کے دوران ، باقی اہلِ خانہ ، دلہادلہن سمیت ہم سے پہلے سمندر کنارے پہنچ چکے تھے ،، اب انھیں سردی بھی محسوس ہو رہی تھی ،، اور یہ ضروری نہیں تھا کہ میری طرح ، باقی بھی ، فطرت کے اس جلوے پر فدا ہو رہے ہوں ، ، میرے لیۓتو آنکھ چھپکنا مشکل ہو رہا تھا ،، یہ سلسلہ آدھ گھنٹہ چلتا گیا ، اب باقی لوگ ، واپس جانے کا اشارہ دینے لگے ، تو تیمور نے اپنے بیوی بچوں ، ثمن ، مائرہ اور ذی سی کو بھجوا دیا ،،میری خاطر ، وہ اور جوجی ، ایمن مزید 20/25 منٹ رکے رہے ،،، لیکن " کونجوں کی ہجرت کا سلسلہ " جاری تھا ، ، اب یہ سارا قافلہ "گرمائی " علاقوں کی طرف عازمِ سفر تھا ،،، کئی دفعہ انھیں مسلسل دو مہینے تک اڑتے رہنا پڑتا ہے ،، ہجرتیں آسانی سے کہاں ہوتی ہیں ،، آخر سردی بھی بڑھ رہی تھی ، اور تیمور کے گھر کاڈنر بھی منتظر تھا !لیکن ،، میِں اپنی زندگی میں دیکھے جانے والے اس بےمثال ، اورقدرت کے حسن کے ایک رُخ سے آگاہی کے نظارے کو دمِ آخر تک بھلا نہ پاؤں گی ،، بھاری دل سے اس سمندری کنارے کو چھوڑا ۔ اور لیور پول ، سمندر کنارے کونجوں کی ہجرت کا ناقابلِ فراموش نظارہ ،، غور سے دیکھنے سے یہاں تین گروپ نظر آئیں گے ،، اور یہ وقفے وقفے سے آتے چلے جا رہۓ تھے ،، لاکھوں کی تعداد میں ! 2014ء میں ستمبر کے آخری دن یا اکتوبر کی شروع کے دن ۔۔۔
اور واپس بے کپ آتے ہی انہی احساسات کو بیدار رکھا ،،، یہاں انھیں شیئر کر کے اپنے پڑھنے والوں کو اپنے تجربے میں شامل کر رہی ہوں !
" ہجرت"
،،،،،،،،،،،،،
کرسمس کے درخت سَر خوشی سے لہلہاتے ہیں 
برفانی ہواؤ ، خوش آمدید ! خوش آمدید 
آدھی دنیا کی خوشی کا یہ ہی موسم ہے ،
نیرنگئ موسم ہی تو دیتا ہے نئ سوچ 
یہی تو موسم ہے آگے پنپنے کا 
یہی تو موسم ہے ، ملاپ و وصال کا 
ہم ہی تو ہیں وہ نفوس !!!
جو ہیں ، حکمِِ ہجرت کے پابند !!
کہ ا نہی موسموں میں ہجرتیں فرض ہو چکیں 
لمبی مسافتیں ہیں پیشِ نظر 
گرم موسموں کے متلاشی ہیں باخبر
کہ انہی ہجرتوں میں چھُپی ہے زندگی
یہ ہجرت کوُنجوں کی ہویا قازوں کی 
یہ ہجرت ، انساں کی ہو یا نفسِ انساں کی!
یہ ہجرت خیال کی ہو یا خیالِ یار کی 
ثواب و عذابِ ہجرت جھیلنا ہے بہر طور
مقدر کا لکھا تو جھیلنا ہے بہرطور ! ! ! ( 16 اکتوبر 2014ء مانچسٹر)۔
تیمور کے چھوٹے سے دو منزلہ گھر میں خوب گہما گہمی تھی ،، سب نے ان کی میزبانی کو اور بچوں کو خوب انجواۓ کیا ،،لیکن میَں ذہنی طور پر ان کونجوں کے ساتھ اُڈاری میں تھی ، ، جسمانی طور پر بریانی ، ، مچھلی ، اور پتہ نہیں کیا کچھ کھا رہی تھی ،،،، زندگی کتنی خوبصورت لگنے لگتی ہے ،، اگر اپنے خول اور ماحول سے نکل جاؤ تب !!!۔
( منیرہ قریشی 24 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 23 مئی، 2018

سفرِانگلستان(14)۔


" سلسلہ ہاۓ سفر "
سفرِ ولایت،یو کے " ( ایستادہ جنگل ) ( 14)۔"
بُدھ ، یعنی سینما کی دعوت کا دن ، جوجی اور میَں ، 11 بجے تک تیار ہو گئیں ،، مائرہ ، جب آتی ہاتھ میں کچھ نا کچھ ہمارے لیۓ سرپرائز ہوتا ،،، اس دن بھی پیسٹریوں کے دو ڈبے اُٹھا ۓ آئی ،،، تو پہلے ایک ایک پیسٹری کھائی ، تب راچٹیل یا راچڈیل کی طرف روانہ ہوئیں ،، مائرہ کے پاس ، وقت کافی تھا ، اس لیے کہنے لگی ! " میَں پہلے آپ کو ایک تاریخی ، سڑک دکھانے لے جاتی ہوں " راستہ بہرحال خوب صورت مناظر کے ساتھ چل رہا تھا،، اور پھر شہری آثار نظر آۓ ،، اور مائرہ نے سسرالی گھر سے ایک الگ راستے کی طرف کار موڑ لی ۔ جہاں دو یا تین میل لمبی ،، اورکم از کم 30/25 گز چوڑی ایک سڑک تھی ، جو اینٹوں کی بنی ہوئی تھی ،،،، ( میَں اگر بھول رہی ہوں تو معذرت ، شاید اس کا نام پرنسسز سٹریٹ ہے ) اس سٹریٹ یا شاہراہ ، کو کونسل کی طرف سے نہیں چھیڑا گیا ، ، کہ پرانے زمانے کی ایک یادگار قائم رہنا چاہیۓ ، جہاں کبھی گھوڑے اور بگھیاں چلتی تھیں ۔ آج اس کے گرد کوئی تجاوزات ، کوئی ہوٹل ،ریسٹورنت نہیں کھولا گیا ،، تاکہ اس کا پرانا تائثر برقرار رہے ۔ ،، یہیں سے اس نے کار اپنی ساس کو لینے کے لیۓ موڑی ۔ وہ منتظر تھیں ،، ہم نے علیک سلیک کیا ، اور نۓ رشتوں سے محتاط گفتگو کرتی رہیں ۔ آدھ گھنٹہ کی ڈرائیو ، کے بعد ہم شاہین کے پسندیدہ ، سینٹر پہنچیں ۔ اس کا نام( ٹریفیرڈ سینٹر ) تھا ، یہ بہت بڑا سینٹر تھا ، اور کوئی شک نہیں اسے نہایت خوبصورتی سے بنایا ، اور سجایا گیا تھا ، داخلی دروازے سے ہی جگہ جگہ پلرز کے ساتھ رومن لباسوں میں ملبوس کہیں ، عورت اور کہیں مرد کے مجسمے تھے ، کہیں موسیقی کے آلات سمیت ، حسین خواتین و حضرات کے مجسمے تھے ، جو کسی فوارے کے گرد بناۓ گۓ تھے ،، اسی ایک چھت تلے ، شاپنگ کا سبھی مال ومتاع ، موجود تھا ، کچھ چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹس ،،ساتھ ہی ایک مناسب سائز کا سینما ہال ، بھی دوسری منزل پر بنایا گیا تھا ،، شاہین نے اچھی میزبانی کی روایت نبھاتے ہوۓ ہمیں دوپہر کے کھانے کے لیۓ مجبور کیا ،، ہم نے انھیں بتایا ناشتہ دیر سے کیا گیا تو بھوک نہیں ،، انھوں نے ہمارا کوئی بیان ماننے سے انکار کر دیا،، تو ہم نے ان کی بات مان لی ،، لیکن ساتھ ہی کہہ دیا کوئی ، ہلکا پھلکا لنچ ہو ،، ایک چھوٹے سے لبنانی ریسٹورنٹ میں آ گئیں ، لبنانی کھانے ٹیسٹ کرنے کا میرا پہلا تجربہ تھا ، اور وہ واقعی بہت اچھا تھا ، خاص طور پر یہ کہ ، کسی قسم کا آئل نہیں تھا ،، یہ کھانا ختم ہوا تو ، آئس کریم پر زور دیا گیا لیکن ہم نے اسے کسی اور وقت کے لیۓ رکھا ۔۔ اور اس وقت تک دوپہر کے تین بج چکے تھے ، مائرہ نے انڈین فلم " حیدر " کے ٹکٹ لے لۓ تھے ، یہ ، جدید ، طرز کا درمیانہ سائز کا سینما ہال تھا ، جس میں 20/ 25 انڈین لوگ اور 8/9 پاکستانی نظر آۓ ۔ حالانکہ اس میں 200 سو لوگوں کی گنجائش تھی۔ یہ تھری ڈی سینما تھا ۔ فلم اچھی لگی ، موضوع بھی دونوں اقوام کی باہمی دلچسپی ، اور باہمی مسلے کا تھا ، جو کئی عشروں سے حل مانگ رہا تھا ۔ تین گھنٹے سے پہلے فلم ختم ہوئی تو ہم یوں تھک کر چور تھیں ، کہ لگتا تھا ، ہم دونوں ، جیسے بےکپ سے پیدل آئیں تھیں ۔ اور ، ہمارے منہ کو بھی جیسے " تھکاوٹ " چڑھ گئی تھی کہ ہم دونوں ایک لفظ کہے بغیر کار تک پہنچیں ،، اور ، واپسی کے سفر میں سواۓ شاہین سے شکریئے کے ، جملوں کے ، کو ئی تبادلہ الفاظ نہ ہوا ۔ ہم تھکن سے چُور، پہلے شاہین کو اتارا ،، پھر ، مائرہ ہمیں گھر چھوڑنے چلی ، لیکن راستے بھر ، اس نے ہمیں ہلکے پھلکے انداز میں کہا " توبہ ہے آپ لوگوں سے اتنا نہیں ہوا کہ میری ساس کو کہتیں ، ہاں بھئ شکریہ ، اچھی فلم تھی وغیرہ وغیرہ ،،، کچھ بھی تبصرہ نہیں کیا ،، یہ سچوئیشن ہم دونوں کے لیۓ پھر شدت سے ہنسی روکنے والی بن گئی،، میرا دل چاہا کہوں "" کیا شاہین نے یہ فلم بنائ تھی ""، ؟ لیکن ہم دونوں کا صرف ہنسی روکنے اور چپ رہنے میں فائدہ تھا ! ہمیں ڈراپ کر کے وہ ، واپس چلی گئی۔ ،،
ایمن ثمن نے ہماری شکلوں پر چھائی تھکاوٹ کا فوری علاج کیا کہ ہمیں گرماگرم چاۓ پلائی ، اور تھکاوٹ دور ہوئی ،، آج رات کے معمول میں فلم کو شامل نہیں کیا ،، اور اس دن اُن سے اپنےبچپن کی ، اور اپنے والدین کی باتیں کرتیں رہیں ،، اسی دوران ہم نے اپنا " جائزہ" لیا کہ ، یہ حد درجہ بےزاری کی وجہ ہمیں یہ سمجھ آئی کہ سینما میں فلم دیکھنے کی نہ تو دلچسپی رہی تھی ، نہ اتنا شور سہنا اچھا لگا ،، یہ تفریح اب مدت ہوئی چھُٹ چکی تھی ۔ اب اگر فلم دیکھنے کو دل چاہے بھی تو ، تو اپنے ٹی وی چینیلز سے جو دیکھنے کو مل جاۓ ، بس ٹھیک ہے ،، اگلے چند دن ایمن ثمن ہمیں کبھی کسی چیز کی خریداری کروانے لے جاتیں ، کبھی پیدل ارد گرد کے خوبصورت گوشوں کو دکھاتیں ۔ اور پھر ایک دن مائرہ ، ایمن ثمن اور ہم دونوں کو لمبی ڈرائیو پر لے گئی ،، ! ۔
اباجی کی گاڑی کو میں نے شادی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی کافی چلایا لیکن واہ کے اندر ہی 15یا 10 میل کے اندر ،،،جبکہ جوجی نے گاڑی ، اپنی شادی کے بعد سیکھی ، اسوقت اس کے تین بڑے بچے بہت چھوٹے تھے، 1981 سے آج تک چلا رہی ہے،، لیکن مجھ سے اپنی کار ایک مرتبہ گھر کے اندر داخل ہوتے وقت لگ گئی ، یہ نقصان کم ہی ہوا لیکن ، میَں اعتماد کھو بیٹھی،، اور پھر نہ چلا پائی ،، جبکہ جوجی نے اپنی مہارت برقرار رکھی ، اس سے یہ فائدہ ہوا کہ اپنے بےشمار کام نبٹانا  آسان تو ہوا۔ لیکن ایک فائدہ یہ ہواکہ جب موسم خوشگوار ہوتا ، ہم بچوں کو کار میں بٹھاتیں ، اور ذرا نزدیکی پکنک پوائنٹ پر پہنچتیں ، یا کبھی لمبی ڈرائیو پر نکلتیں ،، اور اکثر ایسی خاموش ، سڑک ، جو نامعلوم سے محسوس ہوتی ، اس طرف گاڑی موڑ لیتیں ، محض ایڈونچر کے خیال سے ، کہ اپنے علاقے کے آس پاس کے خوبصورت گوشوں کو دریافت کریں ۔، اسی عادت کو کچھ حد تک ہماری اولادوں نے اپنا لیا ہے ۔ خاص طور پر لڑکیوں نے ،، لڑکے خواتین کے ساتھ ہونے پر محتاط ہو جاتے ہیں ،، اور اب ،،، یہاں مانچسٹر کے خوب صورت راستے ہمیں ، اپنی طرف کھینچتے ، اور کبھی کسی تنگ پگڈنڈی کی طرف ، ،، کبھی کسی خیابان کی طرز کے راستے میں جا کر چکر لگا آتیں ، ، اسی طرح ایک دن ایک چھوٹا سا راستہ نظر آیا ، مائرہ نے کار اسی طرف موڑی ، اور ایک بہت پرانے طرز کے پُل سے گزر کر آگے پہنچیں تو چند پلرز لگے ہوۓ تھے ، جس کا مطلب تھا کوئ بڑی گاڑی نہیں آ سکتی ۔ یہاں گاڑی روک کر ہم پیدل آگے چلیں ، تو خاموشی ، کھیتوں ، فینس لگے ایک فارم ، اور ان سب کے ساتھ ایک پتلا راستہ ، جو بہت آگے جا کر صرف دو پرانی طرز کے گھروں کی طرف جاتا تھا ،، اور ان سب کے سائڈ سائڈ پر گھنا جنگل ،،، جو اونچے پتلے درختوں سے اٹا ہوا تھا ، ان کی شاخیں بہت اوپر جا کر گتھم گتھا تھیں ،، لیکن یہ خاموشی ، یہ سبز ، کھیت ، اور فینس کے اندر، گلابی رنگ کی نشانی لیۓ بھیڑیں ،، اور گہرا سیاہی مائل سبزجنگل ،، کیا منظر تھا کہ ، قدم آگے جانے کو تو تیار تھے ، لیکن واپسی کے لیۓ نہ تو دل چاہا ، نہ ذہن مانا ۔ مجھےیہاں دیر تک رکنا بہت ہی اچھا لگا ،،، اور اسی منظر نے یہ چند جملے سُجھا دیۓ ۔ اس نظم کے تصوراتی ، جنگل کی منظر کشی ، " کومل ذیشان " نے اس نظم کو ایک گھنے ، نامعلوم جنگل کے پس منظر سے کیپشن دے کر مجھے تحفہ دیا تو مجھے بہت اچھا لگا ۔ یہاں یہ نظم لکھ رہی ہوں کہ میرے احساسات ، آپ سب سے شیئر ہو جائیں گے ،، ٰ( یہ محض احساسات کو الفاظ میں سمونا ہے ، اوزان کو ذہن میں نہ رکھا جاۓ )۔
" شام کے دھندلکے میں "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اکتوبر کی خاموش جھڑی میں 
ایستادہ جنگل ،،
یوں کھڑا ہے ، جیسےکوئ بوڑھا فوجی !!
اپنی کہانیاں سنانے کو بے قرار ہو 
اور سننے والا کوئی نہ ہو 
دُکھ کچھ کہنے کا ، کچھ سننے کا ،
دُکھ کچھ چُپ رہنے کا ! !
دُکھ بے نیاز وقت کی ٹِک ٹِک کا 
بقا کا عجیب دُکھ !
فنا کا بے آواز دکھ !
نظاروں کو سراہتی آنکھیں ،، اندھیروں میں اتر جاتی ہیں !
ایستادہ جنگل لبوں پہ لفظ سجاۓ ، کھڑے ہی رہ جاتے ہیں ! ( 24 اکتوبر 2014ء)۔
وہاں کا جنگل ، مجھے آج بھی بلاتا محسوس ہوتا ہے ،، 
( منیرہ قریشی ۔ 23 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

اتوار، 20 مئی، 2018

سفرِانگلستان(13)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
" ولایت ، یو کے " (13)۔"
مائرہ کے دلہا کا پورا نام ، عرفان ذاکر چودھری ہے ، اتنے لمبے نام سے بلایا جانا ہمارے اردو بولنے والوں کے لیۓمشکل ہے ،تو انگریزی ، بولنے والوں کے لیۓ اور بھی مشکل تھا ،،، سکول یا کالج کے زمانے سے ہی دوستوں کی طرف سے اس نام کو مخفف کر کے پکارنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سب اسے " ذی سی " کہہ کر بلاتے ہیں ،،،، آنے والے ہفتے ، کو مائرہ کی ایک پرانی سہیلی ڈاکٹر ہما اور اسکے شوہر ڈاکٹر فیصل ، نے ڈنر رکھا تھا ،،، اس ہفتہ ذی سی کی چھٹی تھی۔ 
ذی سی کے والدین کا گھر مانچسٹر کے علاقے " راچٹیل " میں تھا وہاں ، بہت سے پاکستانی اور انڈین نظر آۓ ، اور انہی کے ٹیسٹ کے مطابق ، ان کی دکانیں تھیں ، جن میں مٹھائی کی دو، تین دکانیں تھیں ،، اور سننے میں آیا کہ یہ مٹھائیاں ، صرف ایشین ہی نہیں اِن برطانوی لوگوں کو بھی بھا گئی ہیں ،، اس لیۓ ہر وقت رَش رہتا ہے ،،، جب ذی سی اور مائرہ ہمیں لینے ، بےکپ میں آۓ ، تو ہم نے اسے انہی مٹھائی کی دکان کی طرف جانے کا کہا ، تاکہ میزبانوں کے لیۓ کچھ لیا جا سکے ،،، جوجی نے اس کے لیۓ رَس ملائی لے لی ،، اور مائرہ نے مٹھائی کا اچھا بڑا ڈبہ ۔ ،،، میں ، جوجی ، اور ایمن ثمن پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں ، مسٹر مسز ذی سی ، مٹھائی کا ڈبہ ہمیں دے کر ، کوئی تحفہ لینے چلے گۓ ، اور ہم سب کی مٹھائی دیکھ کر آنکھیں چمک اٹھیں ،،، اور وہ بھی پاکستانی مٹھائی،، اور وہ بھی واہ کینٹ جیسی ،،، بس دیکھتے ہی رالیں ٹپک پڑیں ،، صرف 15 منٹ بعد ذی سی ، اور مائرہ واپس آۓ ،، تو ہم چاروں نے ایک کلو ، مٹھائ تقریباً ختم کر لی تھی ،،، اور ہم اپنی اس بچگانہ حرکت ، پر اس قدر لطف لیا کہ ، سچی بات ہے کہ بےتحاشا ہنسی ، چھوٹ رہی تھی کہ جب مائرہ نے پوچھا ،، کیا ہوا ؟ تو ہم نے بہ مشکل یک جملہ بولا،، کہ مٹھائی مزید لے کر آؤ ، یہ ڈبہ تو ختم ہو گیا ،،، ذی سی کو ایک ڈبہ اور لانے کا کہا ،، تو وہ حیران نہیں ہوا ،، کہنے لگا " میَں بھی میٹھے کا حد سے ذیادہ شوقین ہوں ،، لیکن کیک ، پیسٹری کا " ،، ، ہما کے گھر جانے سے جڑا یہ قصہ جب مجھے یاد آتا ہے ، تو آج بھی وہ بچگانہ حرکت ، مزہ دے جاتی ہے ۔ دراصل ، سیر و تفریح کا لفظ ایسے ہی ایجاد نہیں ہوا ۔ ایسی ہی چھوٹی اور بےضرر حماقتیں ، کسی سفر کا حصہ بن جاتی ہیں۔ 
ہما کے گھر پہنچے ، تو وہ خوبصورت ڈریس میں ملبوس تھی ، خوشی اور اخلاق سے سب کو خوش آمدید کہا ،، اس کا گھر بھی دو لوگوں کے لحاظ سے بہت کافی تھا ، وہی انگلش سیٹنگ ، کہ ڈرائنگ ڈائینگ ، کچن اور ایک واش روم ، گراؤنڈ فلور میں ، اور دو بیڈ رومز اوپر کی منزل پر ،، لیکن بے حد سلیقے سے سجا ، ، جو کسی حد تک کچھ ذیادہ بھی لگا ،، کہ احتیاط سے ادھر اُدھر ہونا پڑا ،، کہ کوئ ڈیکوریشن پیس گر نہ جاۓ گپ شپ میں گھنٹہ بھر لگا ،، تب تک ہما نے ڈرنکس دیں ، اصل میں اس کے شوہر کی ڈیوٹی 10 بجے ختم ہوئی ،، وہ گھر پہنچا ،، تب کھانا ، شروع ہوا ، ہما ، جاب نہیں کر رہی تھی،، کہ ان دنوں وہ اپنے پہلےبچے کی،آمد کی تیاریوں میں تھی ،، اس کی ہمت کہ اس نے بہت کچھ بنایا ، اور سبھی خوش ذائقہ تھا ، لیکن برتنوں ، اور وہ بھی انتہائی خوب صورت برتنوں ، میں کھانے کاتجربہ ، ذاتی طور پر مجھے کبھی ریلیکس نہیں کرتا ، ایک تو میز چھوٹا سا، اور پھر انگریزی تہذیب کے مطابق ،کٹلری ، دو، دو گابلٹ ، ، فی بندہ تین پلیٹیں ،، !!!آخر ذی سی اور ایمن ثمن اپنی اپنی پلیٹیں ،لے کر لاؤنج (یا ڈرائنگ روم) میں جا بیٹھے ! ،، لیکن ان کی بےتکلف ، اندازِ میزبانی اور گفتگو نے ، ڈنر یاد گار بنایا ،،، واپسی ، میں جب بےکپ اترے ،، تو ذی سی نے بتایا پیر کو آپ سب کو امی ، ابو نے بلایا ہے دوپہر کا کھانا کھانا ہے ۔ ،،، جیسا میں نے لکھا کہ اب دلہا دلہن کی دعوتوں میں ، ہماری شمولیت ، نے مجھے ،، نئے ، لوگوں اور نئ جگہوں کو دیکھنے کا موقع دلا دیا تھا ،، میَں تو ہر لمحہ انجواۓ کرتی رہی ۔ چھٹی کے دن ایمن ، ثمن نے پیدل یہاں وہاں جانے کا پروگرام بنایا ، اور اس بےکپ کے گھر کے آس پاس کا بہت دور تک چکر لگایا ، ہر گھر کے مکین اپنے اندر گھروں میں ، چھٹی منا رہے تھے یا ، کہیں باہر گۓ ہوۓ تھے ،،، کہ ذیادہ گھر خاموش ، نظر آۓ ۔ ویسے بھی ایک بچہ یا دو بچے ، لیکن تین چار کتوں کے ساتھ ، یہ لوگ خوش نظر آتے ہیں ،، یہاں اگر 20 گھر بنے ہوۓ تھے ، تو ان میں سے 6یا 7 کے باہر بکنے کے لیۓ ، موبائل نمبر لکھے ہوۓ تھے ،،، تب ایمن ثمن نے بتایا ،،، ان یورپین اور برٹش لوگوں کی عادت ہے کہ یہ زندگی میں ، تین سے چار بار گھر بدلاتے ہیں ،، ایک جب وہ ، شادی کرتے ہیں ، دوسرا جب چھوٹے بچے سکول جانے والے ہوتے ہیں ،، کہ سکول ان کی مرضی کا گھر کے نزدیک ہو ،، ایک اس وقت جب بچے ،ہائی کلاسزیا کالج پہنچ جائیں ،، اور آخری اپنے بڑھاپے کے مطابق ،،،، اور یہ آخری گھر ہمیشہ چھوٹا لیتے ہیں ، تاکہ اسے سنبھالنا ، آسان ہو ۔ اسکے بلز کادینا بوجھ نہ پڑے ،، اور ویسے بھی اس سٹیج پر یہ لوگ نہ بچوں کو ساتھ رکھتے ہیں نہ یہ خود بچوں کے ساتھ رہتے ہیں ،،، اگر میاں بیوی میں سے ایک زندہ رہ گیا ہے تب بھی ، ویلفئر سٹیٹ کی سہولتوں کے تحت ، جب تک اکیلے رہ سکتے ہیں ، رہتے ہیں ۔ ،،، بےکپ ، میں ایک دن واک کے دوران ایک 75یا76 سال کی برٹش خاتون ملی ،، محض ہیلو کہنے سے وہ رُک گئی ، مسکرا کر ، ہم سے نیشنیلٹی کا پو چھا ،، تو میَں نے تعریف کی ، کہ " آپ کا یہ علاقہ بہت خوبصورت ہے " تو اس کے چہرے پر یکدم اداسی پھیل گئی ،،، اور کہا ،" ہاں ! لیکن اکتوبر آچکا ہے اور آگے چار ماہ تک سارا ماحول گرے ہو جاۓ گا ، باہر نکلنا مشکل ، دن کاٹنے مشکل ،،، گویا ، موسم ، بڑھاپا ، پرائویسی کا رواج ،، سب مل کر ، آس پاس کی خوب صورت کو بےمعنی بھی بنا دیتا ہے ! آہ ،، ! انسان کسی حال میں مطمئن نہیں ہوتا ،، جب تک دل کو" توکل اور غنا" کا شربت نہیں پلا دیتا ،،، !۔
ایک ہم مشرقی لوگ ، بہت مشکل سے جمع کیا پیسہ ، جو بہت سوچ بچار سے گھر بنالینے پر لگاتے ہیں ،،، تو امید کرتے ہیں ، اب ہمارے بچے بھی اس کی قدر کریں گے ، کبھی نہیں بیچیں گے ، اور نسلوں تک اکٹھے بھی رہیں گے ،،، ! شکر ہے کہ اب اس سوچ میں تبدیلی آرہی ہے ، لوگ اپنے جمع شدہ سرماۓ ، سے بڑے بڑے گھر نہیں بنارہے بلکہ ، صرف ضرورت کے مطابق بنا کر اولاد سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنا ، گھر خود بناۓ ،، لیکن ایسا ابھی تک 50 فیصد لوگ کر پا رہے ہیں ،،، اولاد کو شادی کے بعد بھی والدین ،،کا ، اپنے ساتھ رکھنا ، عام بات ہے ، بلکہ اسے ستائش سے دیکھا جاتا ہے ،، کہ اچھا ہے بچوں میں سے کوئ آپ کے ساتھ رہتا ہے ۔ یا اولاد کا اتنا بڑا گھر بنانا کہ والدین ، ساتھ رہیں ،، اسے بھی قابلِ تعریف سمجھا جاتا ہے ۔ ،، کلچر یا رہن سہن ، سوچ میں فرق ہونا ،، اپنے اپنے خطے کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیۓ تو کہتے ہیں ،، مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ،،،سوموار کو گیارہ بجے تک مائرہ اپنی کار میں آگئ ، آج ایمن ثمن کا پروگرام ہماری غیر موجودگی میں گھر کی مکمل صفائی ، کپڑوں کی دھلائی ، اور کچھ استری ، کچھ مزید کھانے بنانے کا تھا، اس لیے انھوں نے معذرت کرلی ، اور ہم دونوں ، پہلی مرتبہ مائرہ کے سسرالی گھر پہنچں ،، کہ مائرہ اور ذی سی بھی ابھی انہی کے ساتھ تھے کہ ذی سی کا اپنا گھر جو کراۓ پر تھا ، خالی نہیں ہوا تھا ۔ نچلی منزل میں چودھری صاحب کا بہت بڑا جنرل سٹور تھا ،، اور سائڈ سے سیڑھیاں اوپر جا رہیں تھیں ،، لیکن پہلے ہم نے چودھری صاحب سے علیک سلیک کرنے کا سوچا ، ، ان کے سٹور میں داخل ہوئیں ، تو انھوں نے سلام کے بعد نہایت احترام اور اپنائیت سے کہا " جی آیاں نوں ، " اور کہا کہ مجھے آپ کے آنے کی بہت خوشی ہوئی ہے ،، وہ بذاتِ خود بھی سادہ مزاج ہیں ، اور پھر دوست بھی ساد ہ ملے ،، کہ زندگی کے چند اُصؤل بنا لیۓ ،، محنت کرو ، سادگی سے زندگی گزارو اور بڑھاپے کو مصروف رکھو ،، انھوں نے اسی اُصؤل کے تحت ، اچھی جائیداد بنا لی تھی ، بلکہ دونوں بیٹیوں کو ایک ایک گھر بھی دے چکے تھے ، تاکہ وہ آرام سے رہیں ۔ اوپر پہنچیں ، تو مسز شاہین ، منتظر تھیں ، یہ گھر چار بیڈ رومز پر مشتمل تھا ، اور اسکا کچن تو بہت بڑا تھا ۔ ، خیر ہمیں لاؤنج میں بٹھایا گیا ، بہت ، رسمی باتیں ہوئیں ، بچوں میں سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا غیرشادی شدہ ہیں ، جو گھر پر نہ تھے ، ،، باتوں میں کھانے کا وقت ہوا تو مائرہ نے ٹیبل لگائی اور ساس کی مدد کی ،، کھانے کے دوران شاہین نے کہا میں ہر بدھ کو سینما ہاؤس جا کر فلم دیکھتی ہوں ،، جس کا اپنا ہی مزہ ہے ،، اور ایک فلم آپ کو لازماً میرے ساتھ دیکھنا پڑے گی ،، اب میں اسے بہتیرا کہہ رہی ہوں کہ مجھے آخری فلم سینما ہاؤس میں دیکھے ،، 30 یا 32 سال ہو گۓ ہیں، یہ شوق ختم ہو گیا ہے ،، ویسے بھی گھر گھر ٹی وی نے یہ سہولت دے دی ہے کہ آن پےمنٹ ، فلم دیکھ سکتے ہیں وغیرہ ،،،، لیکن ،،، یہ رواج ،، یا یہ میزبانی ، انڈین کلچر میں بہت ہے کہ ، مہمان کی تواضع کرنے میں ایک آئیٹم ،،" سینما میں فلم " دکھانا ہے ۔ جو شاید انگلینڈ میں بس جانے والے پاکستانیوں نے بھی اس رواج کا اثر لے لیا ہے ،،، خیر ہمیں بےدلی سے یہ حامی بھرنا پڑی کہ پرسوں ،، بدھ ہے اور مائرہ ہم تین کی موجودگی کو " بادلِ نا خواستہ " برداشت کرے گی ، اور ہمیں سہ پہر کی فلم دکھانے لے جاۓ گی ۔ اور پھر "بدھ کے سینما "کے لیۓ مائرہ ہمیں گھر سے گیارہ بجے لینے آگئی۔
،( منیرہ قریشی 20 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری 

ہفتہ، 19 مئی، 2018

سفرِانگلستان(12)۔

 " سلسلہ ہاۓ سفر"
" ولایت ،یوکے" " لیک ڈسٹرکٹ " (12)۔"
اب ، ان دنوں تو دلہا دلہن کے اعزاز میں دعوتوں کا سلسلہ بھی چل رہا تھا ، جس سے مجھے بھی طعامِ دہن کا فائدہ توپہنچ ہی رہا تھا، اسی بہانے مختلف علاقے دیکھنے کو مل رہے تھے ۔ مائرہ ،، وغیرہ کی منجھلی پھوپھو ممتاز اور ان کے میاں جو مستقل رہائش تو امریکا میں رکھتے تھے، لیکن اکثر اپنی ، یوکے میں رہائش پزیر بیٹی ، نائلہ کے پاس آ کر رہتے ہیں ،، وہ دونوں ان دنوں یو کے، آۓ ہوۓ تھے ، اور اسی لیۓ مائرہ کی شادی میں بھی شریک تھے ،، نائلہ، اور اسکا میاں سجاد ڈاکٹر ہیں ، لیکن نائلہ کافی عرصہ سے پریکٹس نہیں کر رہی ، ان کی ایک ہی15 سال کی بیٹی ہے ، ان دونوں نے اپنی طرف کی دعوت اتوار کو رکھی ، تاکہ عرفان ،اور مائرہ کو بھی چھٹی ہو ، اس دن ہم صبح ذرا جلدی تیار ہو گئیں ، کہ ، ایک لینڈ کرور ٹائپ گاڑی ،جو عرفان کی تھی ،میں سب نے اکٹھے جانا تھا ۔ ہم سب معززخواتین 10 بجے ہی تیار ہو گئیں ، تاکہ دلہن کی ڈانٹ نہ شروع ہو جاۓ ،، اور ساڑھے دس بجے ہمارا سفر شروع ہوا ،، ہم" بلیک برن " جارہۓتھے جو " بے کپ"،،، یا ،مانچسٹر سے 50یا 40 منٹ کی ڈرائیو پر تھا ،،، سارا راستہ ، بہت ہی صاف ، آرگنائز ،، کوئی وال چاکنگ نہیں ، کوئی غیرمتعلقہ عمارت نہیں ، نہ حکمرانی کے نشے میں چُور ، وزراء ، بیوروکریٹس نے جگہ جگہ الاٹمنٹ کرا کر بنگلے ، یا ریسٹورنٹس ، بنا رکھے ہوں ،،، وہی بات "" قانون سب کے لیۓ "" نتیجہ یہ کہ نہ راستوں کی خوب صورتی متاثر ہوئی ، نہ بےتحاشا  بلڈنگز کی بھرمار نے رش اکٹھا، کیا ،، اور نہ خواہ مخواہ کی ہاؤسنگ سکیموں نے ، گرین ایریاز کو نگلا ۔،،،، راستوں کے لش گرین نظارے ،، دیکھنے والے کو بھی تازہ دم رکھتے ہیں ۔ اور یہاں بھی سارا راستہ ، بڑی ، چوڑی ہائی وے کے ذریعے وقت ایسا گزرا کی ، علم ہی نہ ہوا ۔ نائلہ کے ،، گھر کے آس پاس کا ماحول ، ، یوں لگا جیسے کسی "میگزین" میں سے نکل کو یہ گھر ، یہاں سِٹ کر دیا گیا ہو ،، اس کی روڈ پر بہ مشکل دو تین گھر تھے ، جو ذرا مناسب فاصلے پر بنے ہوۓ تھے ، اس کے گھر کے آگے کا فینس کے بعد کنالوں میں دور تک لش گرین ایریا تھا ، جس کے آخر میں کوئی فارم شروع ہو گیا تھا ، جہاں اکا دکا بھیڑیں دکھائی دے رہی تھیں !!! اور حسبِ معمول مجھے ، " فطرت کے جادو " نے جکڑ لیا ۔ باقی خواتین و حضرت ،،تو گھر میں داخل ہونے والی چند سیڑھیوں کی جانب چل پڑے ، اور میرا رُخ اس طرف مڑ گیا، اس خوب پھیلے " اوپن اییریا " اور بعد میں بنے فارم ہاؤس اور اسکے فورا" بعد سرسبز ٹیلا شروع ہو رہا تھا ، ، اس سارے منظر کی خوب صورتی ، کو آنکھوں میں سمونے کے لیۓ کچھ دیر کھڑی رہی! سجاد اور نائلہ ، باہر اسقبال کے لیۓ کھڑے تھے ،، خیر، چند منٹ بعد، گھر میں داخل ہوئی ، اور ان کے گھر کے محلَ وقوع کی تعریف کی ،،، تو کہنے لگے ، ہمارے اکثر احباب آتے ہیں تو باہر بیٹھنا ذیادہ پسند کرتے ہیں ،، گھر کے ڈرائنگ میں باجی ممتاز اور انکے شوہر رشید بھائی سے علیک سلیک ہوئی ، ،، انھوں نے کہا ، پہلے گھر دیکھو ،، اور یہ تمہارا باہر کے منظر کو سراہنا ، ہمیں اچھا لگا ۔ سارا گھر دیکھا ، نائلہ اور سجاد نے یہ گھر خرید رکھا تھا ، اس لیۓ ، اسے اپنے ذوق اور جیب کے مطابق سجا رکھا تھا ،، یعنی پاکستان سے سپیشل منگواۓ گۓ ، چنیوٹی فرنیچر سے ،،،، اب آخر میں رشید بھائی نے نچلی منزل ( گراؤنڈ فلور)کے اس پورشن کو دکھایا ، جو دراصل کچن کے ساتھ جڑا گیراج تھا ۔ ان کی بیٹی داماد نے ، کونسل سے اجازت لے کر اس گیراج کو لاؤنج میں " تبدیل " کروا لیا تھا ، اور اب یہ دونوں اماں ابا ، جب اس بیٹی کے پاس آتے ، ان کا جاگنے کا سارا وقت ، اسی لاؤنج میں گزرتا ،اور یہ بات خصوصی طور پر اس لیۓ بتائی گئی کہ باہر کا سارا منظر اسی لاؤنج سے نظر آرہا تھا ،،،، میں نے رشید بھائ کے ذوقِ منظر کی داد دی ۔ باقی گھر نہایت آسودہ حالی کا مظہر تھا۔ عین ایک بجے تک کھانا کھا ، لیا گیا ، تصاویر بنیں ، اور دوپہر دو ڈھائ بجے ہماری واپسی بھی ہو گئی۔عرفان ، کبھی پنجابی اور کبھی انگلش میں ہم سے باتیں کرتارہتا ، وہ ایک خوش اخلاق ، محبت ، اور عزت کرنے والا بچہ ہے ، اللہ اس جوڑے کو خوش آباد رکھے ،،، سارا راستہ عرفان اپنے ملک کی اچھائیاں گنواتا رہا ،، جو بے جا نہیں تھیں ، ،وہ پاکستان اپنے والدین کے ساتھ اس وقت گیا ، جب ایک ڈیڑھ سال کا تھا ، اس کے بعد اسے پاکستان جانے موقع نہیں ملا ،تھا اسلۓ اسے پاکستان سے متعلق کچھ خاص معلومات نہ تھیں ۔ اس نے یہاں کے قوانین کی بھی تعریف کی ، کہ اگرچہ ہم یہیں کے پیدائش ہیں ، لیکن کبھی کبھار کوئ متعصب گورے ہمیں تنگ کریں یا کوئ ذرا بھی مسلہء پیدا کریں ، تو پولیس ہمیں پورا تحفظ دیتی ہے ،،، اس نے مائرہ سے کہا ، آنٹی اور خالہ کو " لیک ڈسٹرکٹ " دکھا کر لاؤ ، وہ جگہ ان کے ذوق کے مطابق ہے ۔ ،،، پتہ چلا کہ مانچسٹر خود شمال کی طرف واقع ہے لیکن ، " لیک ڈسٹرکٹ ، ذرا ہمارے ہاں کی" گلیات " کی طرح ہے ۔ ساتھ ہی مائرہ اور عرفان نے صلاح دی کہ کسی ورکنگ دن میں جائیں گے ، وہاں رَش کم ہو گا ، کیوں کہ ہفتہ ، اتوار مری کی طرح یہاں بھی بے تحاشا رش ہو جاتا ہے ۔ چناچہ آنے والے منگل کادن مقرر ہوا کہ لیک ڈسٹرکٹ کو بھی ، مل آئیں ،،، !گھر آکر رات کے کھانے کے ساتھ ایمن ،ثمن نے لیک ڈسٹرکٹ کے حساب سے کھانے پینے کی لسٹ بنائی ، اور ایک اگلے دن سب چیزیں لے کر پیک بھی کر لیں ۔ 
منگل کی صبح ، فجر کے بعد لمبا سونے ، یا ریسٹ کرنے کے بجاۓ ذرا جلدی تیار ہو گئیں ، 9 بجے تک ، مائرہ کی لینڈ کروزر کی آمد کا علم ہوتے ہی ہم باہر آگئیں ، تاکہ اس سے اپنی " جلد تیاری " کی داد حاصل کریں ،، لیکن اس نے صحیح " ہیڈ مسٹریس " کی طرح ہم پر نظرڈالی ، اور ایمن ثمن پر سوالوں کی پوچھار کر دی ،، جس میں ، پہلا سوال اکثر یہ ہوتا " موبائل چارجرز رکھے ہیں ؟ پانی کی بوتلیں ،، ؟ سر درد کی دوا،،؟ ؟ اور آج ان میں سے سب سوالوں کے جواب ہاں میں تھے ،، کیوں کہ وہ دونوں بھی  پُرجوش تھیں ، ،، اللہ کا نام لے کر بے کپ سے چلے تو راستہ ویسے ہی بہت صاف ، اور سرسبز تھا , صفائی میں یہ قوم ہمارے دین کا رہنما اُصول اپنا چکی ہے " کہ صفائی نصف ایمان ہے "،، جبکہ کبھی یہ انتہائی گندہ رہنے والی قوم تھی ،، خود کوکوئی بدلانا چاہے تو ، بدلا سکتا ہے ،، اگرچہ ابھی بھی انھوں نے جسمانی صفائی بہت نہیں اپنائی ، لیکن ماحولیات کو صحت مند رکھنے میں پوری توجہ دی ہے ، ، لیک ڈسٹرکٹ ، اچھا خاصا دور تھا ، یعنی دو گھنٹے سے زیادہ کی ڈرائیو ، تھی ، جوں جوں اس علاقے کے قریب پہنچیں ، سڑک کے دونوں طرف گھنی اور اونچی جھاڑیوں کا ، جنگل نظر آنے لگا ۔ خاموشی کا اپنا اثر اور زبان ہوتی ہے ، جو ہر علاقے ، ہر فضا ، ہر ماحول میں فرق طور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک نہایت معنی خیز قول پڑھا تھا ، پتہ نہیں کس کا ہے ۔۔۔۔" خاموشی کا ادب کرو ، یہ آوازوں کی مُرشد ہے"۔
لیک ڈسٹرکٹ ،، کاحسین درختوں سے گھِرا " کنج " !۔
یہاں بھی ابھی دن کی شروعات تھی ، لیکن آبادی نہ ہونے یا ، سڑک سے دُور تھی ، کہ خال خال کوئی گھر نظر آرہا تھا ، شاید کافی بڑے بڑے فارمز ، حکومت کی طرف سے آباد کرنے کےلیۓ دیۓ گۓ ہیں ۔ 
لیک ڈسٹرکٹ خوب صورت پہا ڑیوں میں گھِرا ایک ٹاؤن ہے ، جو اپنی خوب صورت ،جھیلوں ، انگلینڈ کے پہلے نیشنل پارک، نہایت خوبصورت اور مشہور شاعر " ولیم ورڈورتھ" کی وجہ سے مشہور ہے ،، وہ شاعر جو اپنے ہی علاقے جس کانام "ڈیوڈن " تھا، کا اتنا عاشق تھا کہ اسے دنیا کے کسی خطے کی سیر کی بھی خواہش نہ ہوئی ، اس نے اپنی شاعری میں حسین ترین منظر کشی کی ، کہ اپنے علاقے کی خوبصورتی کا حق ادا کر دیا ،، اور اب دنیا بھر کے سیاح اس علاقے کی قدرتی خوب صورتی کے واقعی عاشق ہو جاتےہیں ۔ 
اتفاق سے آج موسم بھی بہت خوشگوار تھا ،، مری کے علاقے نتھیا گلی ،جیسا علاقہ ، آس پاس کی دیواریں اَن گڑھ پتھروں سے بنی ہوئی تھیں۔
ہم پیدل ادھر اُدھر چلنے لگیں ، بالکل بہاڑی علاقے کی طرح مخصوص چھوٹی چھوٹی دکانیں ، چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ ، اور جگہ جگہ سڑک کناروں پر بنچ ،،، مجھ جیسے جلد تھک جانے والے کچھ دیر سستا لیں ، اور کچھ دیر پھرنے کے بعد ، مائرہ نے ایک خوبصورت ، دوتین منزلہ ہوٹل کااتخاب کیا۔ یہ بہت پرانے انداز سے  آراستہ کیا گیا تھا۔پرانے اندازکا فرنیچر ، کچھ وکٹورین ، کچھ جرمن ، کچھ سپین کے  کلچر کی عکاسی کر رہا تھا ۔
ہم نے ایک بڑی سی کھڑکی کے ساتھ کی میز سنبھال لی ۔ اپنے ساتھ لاۓ سینڈوچز بھی نکال لاۓ ، اور ہوٹل کے کھانے کے انتظار کرنے لگے ،، کھانا اگرچہ منفرد اور بہت تھا لیکن ایسا کوئی خاص ذائقہ نہ تھا ، شکر کہ ہم اپنے سینڈوچز لے گئی تھیں ، آخر میں کافی پی کر ، وہیں  ظہر اور عصر پڑھی ، اور پھر لیک کی طرف پہنچ گئیں ، صاف ستھری جھیل ، جس میں کچھ چھوٹی کچھ بڑی بوٹس کھڑی تھیں ، کچھ چل رہیں تھیں ۔ ہم اس نظارے سے لطف ہوتی رہیں۔اور جھیل کے کنارے نہایت خوبصورت بنے سرسبز پارک میں بھی کچھ دیر بیٹھیں ، وہاں ہمیں بہت ہی پیارے کبوتر کے سائز اور شکل کے سفید پرندے جابجا پھرتے نظر آۓ ، اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب اس پرندے نے آواز نکالی تو وہ " کائیں کائیں" کی تھی۔

بےاختیار ہنسی آئی کہ اب تک ، کالے ،یا، گرے کوے تو دیکھے تھے لیکن سفید کوا دیکھ کر مزا آگیا ۔ یہاں کچھ تاریخی عمارتیں تھیں جن تک تھوڑی سی چڑھائ چڑھنی پڑتی تھی ، میرا جانا ممکن نہ تھا ، جوجی میری وجہ سے رک گئ ، بچیوں نے ہمت کی ہو کر آگئیں ، لیکن اسکے 200 سال پرانے داخلی دروازے کے ساتھ ہم نے تصویریں بنوائیں ،،،جو ہماری پہنچ تک تھا ، یہاں سے مزید آگے جانے والی سڑک اس خوبصورت پہاڑی کی طرف جا رہی تھی جہاں کی آبشار دور سے پانی کی شفاف لکیر کی صورت نظر آرہی تھی ،، چونکہ ہم نے ذرا رات ہونے سے پہلے واپس پہنچنا تھا ، اس لیۓ واپسی کی راہ لی ،، اگرچہ " کہ دل ابھی بھرا نہیں " والا سلسلہ تھا ، ، لیکن یہاں کا اصل لطف اٹھانا ہے تو کم ازکم ہفتہ بھر رہنا مناسب ہوگا ۔ اور کچھ یاد گار سوئینئرز کے ساتھ واپس چلے آۓ ، ابھی ، شام کے 5 بنے تھے ، لیک ڈسٹرکٹ سے نکلے آدھ گھنٹہ ہوا تھا ، مائرہ نے ایک خوبصورت سپاٹ دیکھ کر کچھ دیر کے لیۓ کار روکی ، اور ہم سب ایک ایسے کُنج میں داخل ہوئیں ، جو قدرتی رنگین پھولوں اور رنگین پتوں کے درختوں سے گھِرا ہوا تھا ،، یہاں نہ صرف فضا میں رنگ گھُلے ہوۓ تھے ، بلکہ وہی حُسن کا جزو ، " خاموشی " موجود تھی ، جس نے ذہن پر اپنا خاص تاثر چھوڑا ،، جو 2014ء میں لیا گیا ، اور آج 2018ء تک تو موجود ہے ،،،، فطری حُسن ، میں اس کے خالق کی وہ بوقلمونی نظر آتی ہے ، کہ بھلاۓ نہ بھُولے ،،، !!۔
( منیرہ قریشی 19 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعرات، 17 مئی، 2018

سفرِانگلستان((11)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
سفرِ ولایت ، یو کے " (11)۔"
پہلے دن ہی مانچسٹر ، نے اپنا نرم ( سوفٹ ) اثر ایسا ڈالا کہ ، میرا یوکے بارے پچھلا تاثر ،،، بہت حد تک دھندلا گیا ، ، ، اور اس سلسلے میں ، بہرحال دو تین اہم ، وجوہات تھیں ،، ایک یہ کہ موسم لاجواب تھا ،،، ستمبر اِن کا " سمر " کاموسم ہے اور ہمارے لیۓ ہلکی سی خوشگوار سردی ، جب کوئی پنکھا نہیں ، کوئی موٹے کپڑے نہیں ، ، ، بس اگر ہمیں ذرا سی سردی محسوس ہوئی ، شام کو تو بغیر بازو سویٹر ، یا شال لے لی ،، دوسرے ،گھر اور اس کا محلِ وقوع شاندار تھا ،،، اور تیسرا ،جس خوشی کے موقع پر ہم پہنچی تھیں ، ، اُس کی خوشی اور خمار نے ہمیں بہت ریلیکس کیا ہوا تھا ،، اور آخری اہم بات ، ایمن ثمن وہ گائیڈ تھیں ، جنھوں نے خوداعتمادی اوربہت عقل مندی سے انگلینڈ میں وقت گزارا تھا ،، اپنی مائرہ آپا کی کڑی نگرانی میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ اُس نے انھیں ، لین دین ، راستوں کی پہچان ، کروانے میں  فری ہینڈ دیۓ رکھا ۔ چھوٹی عمر میں ہی اپنے کالج ،خود بسوں میں جانا ، کالج کے تمام مسئلے خود نبٹانا ، پھر ان بہنوں نے مانچسٹر کے ارد گرد کی سیر سپاٹا بھی خوب کیا ، اور یوں بعد میں جب وہ دونوں لندن میں یونیورسٹیز میں داخل ہوئیں ، تو اُن میں مزید خود اعتمادی آئی ،، اور اب ،،،،،، وہ دونوں چھٹیوں پر تھیں ۔ اور ہم دو " نئی بھولی بھالی ، نا واقفِ راہ و رسم " کو اپنی پوری خدمات سے مستفیض کر رہیں تھیں ،، کہ اماں تو پہلے بھی کئی  بار آچکی تھیں ،، لیکن میرے لیۓ ان کا انداز بہت ہی " محبت بھرا ، کیئرنگ " تھا ، ! اور یہ سب عوامل ،، مل جل کو اس سیر کو یادگار بنا رہے تھے ۔ آج دلہن ، اپنی کار اور خدمات سمیت حاضر تھی کہ دلہا اپنی فارمیسی کی ڈیوٹی پر جا چکا تھا ،۔
ٹونزوں نے ہر روز ، صبح، ہمارے لیۓ پروگرام بنانا ، ہم نے آمنا و صدقنا کرنا ،،تیاری پکڑنی اور ہم کبھی بازار ، اور کبھی مشہور جگہوں کی سیر کرنا شروع کر دی ۔۔ ایک دن ہم مانچسٹر کے ، اس میوزیم میں گئیں ، جہاں برطانیہ کی مختلف ادوار میں مختلف ممالک سے جو لڑائیاں ہوئیں ،، ان سے متعلق تصاویر ،، ہتھیار ، بتدریج بدلتے ، یونیفارم ، اس دور کے استعمال ہونے والے برتن ، کچھ مجسموں کو فوجی وردیوں کے ذریعے ، مختلف ایکسپریشنز کے ساتھ دکھایا گیا تھا ،، کہیں زخمی حالت میں ، کہیں ماں سے ، اور کہیں ، بیوی سے ، کہیں بچے سے الوداع ہونے کے جذبات عیاں کیۓ گۓ تھے ،، ایک حصہ میں ڈیکومنٹری فلم کا اہتمام تھا ،، ہم دونوں نے ایک ایک ، حصہ نہایت ، غور اور دلچسپی سے دیکھا ،،، کہ تاجِ برطانیہ کے وفاداروں میں متحدہ انڈیا ، پوری طرح شامل رہا ، بلکہ اس کی بہترین فوج میں مسلمان ٹروپس کی بہت اہمیت تھی ،، انگریز کمانڈرز، اپنے ان ٹروپس پر اعتماد کرتے تھے ،، اس لیۓ ہم وہ حصہ " مِس " نہیں کرنا چاہتی تھیں ،، لیکن ٹونز اب بور ہو چکی تھیں ، ،، اس لیۓ انھوں نے ہمیں فلم دیکھنے سے روک دیا ،، آج کے دن شام تک ہم نے نہ صرف تھوڑا بازار پھرنا تھا ،، بلکہ افتحار بھائی اور طلعت کے گھر ہمارا ڈنر بھی تھا ، جو 7 بجے شروع ہو جانا تھا ،، میوزیم کا نام "امپیریل وار موزیم نارتھ"تھا ۔ اس کے بالکل سامنے ،، بی بی سی چینل کی ایک ریڈیو سٹیشن کی بہت بڑی بلڈنگ تھی ،، ہم اس کے بعدپھر بس میں بیٹھ کر اس " دلپسند بازار میں آئیں ،، بلکہ ٹونز لے کر آئیں جہاں " درمیانی عمر یا ،،، بوڑھی خواتین کے لیۓ ، آرام دہ جوتے ملتے تھے ، اچھے اور آرام دہ جوتے میری کمزوری ہیں ،، اس شاپ کا نام " پیورز،"،،۔ہے ۔ میں نے ڈیڑھ گھنٹہ لگا کر بہت سے جوتے ٹرائی کیۓ اور آخر کار تین جوڑے خرید لیۓ ،، یہ آرام دہ ، اور میری مرضی کی شیپ والے تھے ، مجھے اپنی طبیعت کا پتہ ہے کہ کافی عرصہ سے جوتوں کے معاملے میں میرے پاؤں حساس ہو چکے تھے،، اور یہ خریداری اگرچہ پاکستانی روپے میں بھاری تھی ، لیکن 100 پونڈز میں تین جوڑے مل گۓ ،، اور 2014ء کے خریدے ان جوتوں کے بعد آج 2018ء گزر رہا ہے ، تو مزید ان چھوٹی ہیل والے کسی جوتے کی خریداری کی ضرورت نہیں پڑی ،، )  سواۓ جوگرز اور سلیپرز کے) اس بات کا ذکر بر سبیلِ تذکرہ اس لیۓکر دیا کہ ، ایک ایسی دکان جہاں " حساس " پیروں کے لیۓ ،یا، بزرگوں کے پیروں کے مطابق جوتے مخصوص ہوں ، ، یہ ایک سوچ کی عکاسی بھی ہوتی ہے ،، کہ " اولڈ سٹیزن " کے مسائل کو اہمیت دی گئی ہے !!۔
، ایمن ثمن نے بھی کچھ خریداری کی ، اور طلعت کے گھر جانے کا وقت ہو گیا ، میَں طلعت کے گھر پہلی مرتبہ جارہی تھی ، اور خوش تھی کہ دونوں میاں بیوی ، میرے فسٹ کزن تھے ۔ وہ گذشتہ 25 سال سے یہاں رہائش پذیر تھے ، افتخار بھائی ،جوانی میں "یو بی ایل" میں جاب کے دوران یہاں ڈیپوٹیشن ، پر آۓ تو ، انگلینڈ ، دل کو بھا گیا ، شادی ہوئی تو بیوی بھی آ گئی ، بڑے تینوں بچے سارہ ، صیام ، اور مہوش یہیں پیدا ہوۓ ،اور اتنا عرصہگزرا کہ ، شہریت مل گئی ، واپس پاکستان پہنچ کر جو ایگریمنٹ تھا اسے پورا کیا ، اور پھر انگلینڈ میں مستقل رہائش اختیارکر لی ، تیسری بیٹی رمشہ پاکستان میں پیدا ہوئی ، آج بڑی دونوں تو شادی شدہ ہیں ، جب کہ رمشہ ابھی یونیورسٹی میں رہی ہے ،،، شام کو پہ ینچتے میں نیم اندھیرا چھا گیا تھا ، ، مائرہ کی ، آمد ، بچیوں کے لیۓ دلچسپی کا باعث تھی کہ " دلہن " آئی ہے ۔ یہ آج کا ڈنر میرے اعزاز میں تھا ، ، جبکہ اگلا ایک ڈنر دلہا دلہن کے اعزاز میں دیا گیا ، اور ہمیں پھر سے مزے دار کھانے ، کھانے کو ملے ۔ افتخار بھائی کا گھر بھی ، بےکپ " کے گھر کی طرح ، ساڑھے تین بیڈ رومز پر مشتمل تھا ۔ سب نے بہت تپاک سے استقبال کیا۔ ہم سب کزنز ، دیر تک ، کچھ نئے ، کچھ پرانے قصے دہراتے رہے ، رات 10 بجے اجازت لی ، ،، مائرہ نے ہمیں بےکپ اتارا ، اور خود واپس راچٹیل ، سسرال چلی گئی ۔ جو وہاں سے ڈھائی تین میل کے فاصلے پر تھا،۔
ثمن  کی،،،ناشتہ ، بنانے کی عید اور رات ، شب رات بنی ہوئی تھیِ۔ ایک دن گھر کا سودا سلف لانا تھا ،، تو یہ تجربہ بھی کروایا گیا ، نزدیکی بازار تک ، بس میں گئیں ، ، اور صاف ، ستھرا سٹور ، جہاں چھوٹی ، بڑی سب شاپنگ ہوئی ،، البتہ مجھے ، " گوشت کے کارنر " سے انتہائی صاف ، پیکڈ گوشت نظر آیا ، تو میں نے بھی " پاۓ " لینے کی فرمائش کی ،، جو بچیوں اور جوجی کے لیۓ حیرت کا باعث ہوئی کہ پکاۓ گا کون ؟ میں نے کہا یہ میری پسندیدہ ڈش ہے ، میَں خود بناؤں گی ، اور جب دو ، ہفتے بعد ایک دن ہم نے افتخار بھائی ، اور ساری فیملی کی دعوت کی ، تو افتخار بھائی کی پسندیدہ ڈش " پاۓ " ( بقول میری بہو صائمہ کے " بکری کے پیر) ہی تھی ، میں نے ہی پکاۓ ،، اور اتفاق سے اتنے اچھے بنے کہ اافتخار بھائی نے ، بقایا پاۓ لے جانے کا کہا ، ہم سب کو خوشی ہوئی ،، کہ دراصل مہمان کی خوشی کا ایک اندازہ اس سے بھی ہو جاتا ہے کہ چیزیں اچھی پنی ہیں ،، تب ہی کھائی گئیں ، یا فرمائش کی گئی ہوتی ہیں ! الحمدُ للہ !!۔ 
اکثر ہم دوپہر کو پیدل آس پاس ، سیر کو جاتیں ،، بہت صاف ، اور خاموش علاقہ ،،، کبھی کبھار کوئی کار یا بندہ نظر آتا ، ،، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مکین صبح کے گۓ شام کو آتے ہیں ، اور پھر شام کویہ فیملیز ، ایک ، دو بچوں یا کتے کے ساتھ دل بہلاتے ہیں ۔ ،، جوجی کے گھر کے ایک طرف ایک  جوڑا ، 50، 55 کی عمر کا ایک 10 سالہ بیٹی کے ساتھ رہتے تھے ، جو صرف ہفتے کو نظر آتے ، ورنہ ان کے پچھلے لان میں دو کتے اس گھر کو انجواۓ کر رہے ہوتے ۔ دوسری جانب ، ایک بڑی عمر کی ،لیکن بہت سمارٹ خاتون اکیلی رہتی تھی،وہ بھی ان دو ماہ میں تین مرتبہ نظر آئیں،حالانکہ انھیں جوجی نے " گڈ وِل" کے طور پر ایک دفعہ شامی کباب اور ایک دفعہ بریانی کی پلیٹ بھجوائی ، تاکہ پاکستانی مزاج سے آشنائی کروائی جا سکے،اس نے پلیٹ دیتے وقت کھانے کی چیز کی تعریف بہت کی ، لیکن گھر کا چکر نہ لگایا ، ۔ ،، پتہ چلا تھا کہ متعصب تو لوگ ہیں ، لیکن یہ بھی تھا کہ یہاں بہت پڑھا لکھا طبقہ رہائش پذیر ہوتا ہے،آس پاس زیادہ تر یونیورسٹیز کے پروفیسرز ، ڈاکٹرز وغیرہ رہتے۔،،جو اپنی بامقصد مصروفیت میں مگن رہتے ہیں ۔ لہذٰا ، اگراپنی ذاتی زندگی انھیں عزیز ہے تو بھئ ،،، دنیا میں رنگا رنگ نفوس ہیں ، خالق نے سبھی کو مرضی سے زندہ رہنے کا حق دے دیا ہے !۔
ستمبر تھا اور موسم کی موشگافی ،،، کہ فجرپڑھ کر حسبِ معمول اپنی پیاری کھڑکی کو کھولتی اور ملگجےا ندھیرے ،،، جیسے مجھ سے سرگوشیوں کے منتظر ہوتے ، ، ، یہ منظر دل کی دھڑکنوں کو روک دینے والا ہوتا ،،، کہ خامشی ،کی تنی چادر ،کائنات کا احاطہ کیۓ ہوۓ ہوتا،، ہر جامد شے جیسے ہلکورے لے رہی ہو ،،، ۔
ایسی ہی کیفیت نے یہ چند سطریں سجھا دیں ،،،،۔
" مخروطی چھتوں پر 
بادل دبے پاؤں آ بیٹھے ہیں 
سرو کے پیڑ جھوم جھوم کر 
بادلوں کے آنے کی خبر دیتے ہیں 
کائنات نے سُر مئی لبادہ اؤڑھا ہے 
ہر چیز پر تقدس طاری ہے ،،،۔
ایسے جیسے ،، دنیا اپنے ابتدا کی کہانی میں ہو !!!!۔
(مانچسٹر 15 ستمبر 2014ء)
میری کھڑکی کے منظر میں مشرق سے نکلتے سورج کا سین نہیں تھا ،، بلکہ سورج نکلنے کے بعد کی روشنی اور کرنیں میرے سامنے پھیلی وادی پر آہستگی سے پھیلتی چلی جاتیں ۔ اور جیسے جیسے فضا صاف ہوتی ،، اس جگہ کی ہر شے واضح ہوتی چلی جاتی ،، دُور فارم ہاؤس کے خوبصورت ، جانور اپنے اپنے " فینس " کے اندر پھیلے نظر آنے لگتے ! اور ،، میَں کھڑکی سے ہٹ کر ، اس مالک ، و خالق ، و مصور و باری کی کاریگری کے اثر سے " سُن " ہو کر پھر کچھ دیر کے لیۓ خوابوں کی دنیا میں چلی جاتی تھی ۔ کبھی صبح ایسی نظر آتی کہ باہر پورے ماحول پر بےآواز بارش ہو رہی ہوتی ،، اور اندر ، ایک کمرے میں سناٹا جم کے بیٹھا ہوتا ، ، تضاداتِ کا اپنا حُسن نظر آتا ۔
( منیرہ قریشی ، 17 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)