پیر، 24 اگست، 2020

"لمحے(17،1819،20،21)

لمحے نے کہا  (17)۔
۔" اگر بندے کی ذات اور صفات کو ایک پلڑے میں رکھا جاۓ ،دوسرے پلڑے میں اس کے رویے اور احساسِ ذمہ داری کو ! تب باآسانی" ستھرے یا گندے جینز" کا تعین ہو سکتا ہے۔(ورنہ بزعم خود بہت بلند باگ دعویٰ داری چلائی جاتی ہے)۔
( منیرہ قریشی 18 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا  ( 18)۔
۔" کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ،، دنیا سے جانے کے بعد بھی "دلوں اور باتوں" میں روزانہ کی بنیاد پر خوشبو کی طرح موجود رہتے ہیں ، میرے خیال میں " شہادت " کا یہ بھی ایک درجہ ہوتا ہے۔
( منیرہ قریشی، 19 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا (19)۔
( الذّٰ رِ یٰت ، 28/29 )
۔" کہنے لگے فرشتے ، " نہ تم ڈرو " اور خوشخبری دے دی اُس کو ایک لڑکے کی ، تو اُس کی بیوی حیرت میں آ گئی اور چہرے پر ہاتھ مار کر کہنے لگی "میَں بڑھیا ، بانجھ "،؟! کہنے لگے فرشتے " اِسی طرح ہو گا "،، گویا   "اللہ  ذاتِ باکمال  "بندوں کو "خوشگوار حیرت" دے کر خوش کرتا ہے۔دنیا میں بھی بعض دفعہ غیرمتوقع نعمتوں کا ِمل جانا  ہوتا ہے ،، امیدِ واثق ہے ، دوسری دنیا کاٹکٹ دائیں ہاتھ کی 'خوشگوار حیرانی' سے ہو گا ۔ ( اِن شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 24 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحے نے کہا (20)۔
۔" سواۓ تیری رحمت کے ، میرے پاس کوئی ' ہتھیار ' نہیں ۔اُمیدِ واثق ہے یہ ہتھیار کُند نہیں ہو گا ،،کہ زنگ سے بچانے کے لیۓ اسے نمکین پانی ملتا رہتا ہے"۔

( منیرہ قریشی ،27 اگست 2020ء واہ کینٹ )
لمحے نے کہا ( 21)
" اگر مچھلیوں کے تیزی سے رقص کرنے سے سمندر کے پانی میں بُو پیدا نہیں ہوتی ،،،،، اگر زمین کے اندر کے کیڑے اپنی جگہوں کو تبدیل کرتے اور کھودتے ہیں اور ،،، یوں زمین بار آور ہونے کے عمل سے گزرتی رہتی ہے ۔ تو انسان جب تمام فرائض سے عہدہ برا ہو چکا ہوتا ہے ،،اور کرنے کو کوئی خاص کام نہیں رہتا ،،، تب اُسے تبدیلی آب و ہوا اور جگہ ،، اور ،، نئے مناظر کی اشد ضرورت ہوتی ہے ! تاکہ وہ بھی بقایا زندگی ، میں مچھلی یا چیونٹی کی طرح کوئی کام کر تا جاۓ ،، خود کے آخری دَور کو بدمزاجی اور نظراندازی کے صحرا کے حوالے نہ کر دے ! بھلا کیوں کرے ؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی ، 12 ستمبر 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 14 اگست، 2020

"اے میرے وطنِ خاص"

۔" 14 اگست 2020ء"۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اے میرے وطنِ خاص
تیرے لیے ہجرت کرتے نفُوس
تیری راہ میں شہادت کے پھول چُنتے نفُوس
خونِ غیرت سےتیری راکھی کرتے ،،،،۔
سرحدوں پرپرچمِ پاک کا نشاں لگاتے نفُوس
ہم آج اُن کی بھی یاد منا رہے ہیں !!۔
آنسوؤں سے سجے تشکر کے پھُول
ہماری طرف سے ہوں قبول !!!۔
(۔14 اگست 2020ء کے یومِ آزادی پر )
( منیرہ قریشی ، واہ کینٹ )

بدھ، 12 اگست، 2020

لمحے(13،14،15،16)

" لمحے نے کہا " (13)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔'' میَں دعاؤں میں بہت سے لوگوں کو شامل رکھتی ہوں ، اس اُمید پر ،، کہ اب بہت سے لوگ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر رہے ہوں گے ۔۔۔سوچتی ہوں دعاؤں کے اتنے پارسلز کی "وصولیاں " کیسے نظر انداز ہو سکتی ہیں ۔ تو پھِر رحمت ، مغفرت ، اور تحفظ پر یقین تو بنتا ہے مولا !!! ( بھلے یہ لین دین ہی سہی ) !۔
( منیرہ قریشی 23 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " ( 14)۔
کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیۓ "دُم دار ستارہ "بن جاؤ ! ( دُمدار ستارے کی جو بھی توجیع ہو) وہ لمحے بھر کے لیۓ ،،، وارفتگی ، استعجاب ، اُمید ، اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
پسِ تحریر۔۔
دعا کے ایلیمنٹ کا کیا کہنا،،، کہ جب مانگو ،، کچھ فوری ملے نہ ملے ،،، تسلی اور سکون ضرور مل جاتا ہے ،، جو کسی بھی بازار سے نہیں مل سکتا ! اور یوں اپنے ' اصل ' کے ساتھ کبھی مضبوط ، اور کبھی کمزور تعلق قائم رہتا ہے ،، اپنی باری پر پارسل کھلتے چلے جاتے ہیں ،الحمدُ للہ !۔
( منیرہ قریشی ، 25 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا" ( 15)۔
۔"جب آپ کسی محفل میں صرف دوسروں کی سُنیں اور کسی کے لیۓ کندھا بنے رہیں ۔اور خود کو منوانے ، سنانے کی کوئی کوشش نہ کریں ،،، تودراصل آپ نے " سلمانی ٹوپی " پہنی ہوتی ہے " ۔
( منیرہ قریشی ، یکم اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحے نے کہا " (16)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔ کبھی کبھی بولے جانے والے الفاظ ہی بندے کا لیول ،،، اور تعارف بن جاتے ہیں۔اور ، کبھی کبھی بولے گئے الفاظ ، بولنے والے کے خلاف گواہی بن جاتے ہیں ،،، اور سزا پر سزا سناتے چلے جاتے ہیں۔
آہ ! بندہ کب ، کہاں اور کیا بولے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی 12 اگست 2020ء واہ کینٹ )