جمعرات، 12 فروری، 2026

" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات


" اِک پَرِِِ خیال" "تاثرات " کیلنڈر پر فروری میں بارہ کا ہندسہ میرے لئے مِلے جُلے تاثرات کاحامل ہوتا ہے ۔ کیوں کہ یہ میرا جنم دن ہے اور چند لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپے پر ایک طائرانہ نظر دوڑ ہی جاتی ہے۔
کیسا محبتوں بھرا مطمئن بچپن گزراِِ۔لڑکپن بھی تربیت اور تعلیم کے عجب خوبصورت امتزاج سے گزرا ،،، اس میں کوئی بڑی عیاشی نہیں تھی ،،، لیکن بے فکری اور اپنے عمر کے مطابق بہت کچھ ملتا رہا ، سب سے بہترین نعمت با شعور والدین ، محبت ، تحفظ ، سکون اور خوش حالی کے حصار کا ملنا تھا ۔
جوانی تو ہوتی ہی خوابوں کی دنیا ہے ۔ والدین سمجھ دار ہوں تو ہاتھ پکڑ کر اس اتھرے دریا سے یوں گزار دیتے ہیں جیسے وہ بہت بڑے ماہرین نفسیات ہوں یا کوئی ایسے اسکالر جن کی زندگی دینی ادارے میں گزری ہو۔۔۔گویا والدین کا فہم و فراست والا ہونا اصل وصف ہے ، اعلی و ارفع ڈگری یافتہ ہونا نہیں !۔
اور جب ایک" انسان " اس قرن ہا قرن سے چلتی زندگی کا حصہ بنتا ہے تب اسے اس بات کے جھٹکے لگتے چلے جاتے ہیں کہ جن کمزوریوں سے والدین کے گھر صرفِ نظر کیا جاتا رہا ،،، وہی اگلی زندگی کے موڑ پر دوسروں کو پہلے نظر آنے لگیں ،،،،،یعنی زندگی کا نیا مطالبہ دکھایا جاتا ہے کہ ،،،، یہ نہیں ،، وہ اپناؤ !!یہ سب جھٹکے وقتاً فوقتاًسہتے رہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۔۔۔
۔" جس طرح بہترین پھلوں کے رس کا گلاس تیار کیا ، لیکن کچھ دیر تک استعمال نہ کیا جائے تو اس کے ذرّے گلاس کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اُوپر بے ذائقہ پانی آ چکا ہوتا ہے ، ، تب اسے دوبارہ خوش ذائقہ بنانے کے لئے چمچ سے ہلا کر ، نچلا اور اوپر کا پانی ملا دیا جاتا ہے گویا جھٹکا دیا جاتا ہے تو وہ خوش ذائقہ ہو جاتا ہے" ۔ قدرت بھی اسی طرح کٹھے ، میٹھے جھٹکے دیتی رہتی ہے ، تاکہ "انسان " (بھلے وہ عورت ہے یا مرد ) کامیابیوں یا ناکامیوں کے یکساں دور میں ہی نہ پھنس کر رہ جائے ،،، کبھی خوش ذائقہ ، کبھی بد ذائقہ زندگی کے رنگ بندے کو تجربات کی سوئی سے نِت نئے ٹانکے سکھائے چلے جاتے ہیں ،، کسی بھی دورانیے کا تسلسل اُسے متکبر ، یا مایوس بنا سکتا ہے ۔۔۔ !! بہر حال بڑھاپا انہی تجربات کا مُرکب ہوتا ہے۔
اب اس لمحے بڑھاپے کی چوٹی پر "عاجزی اور شکرگزاری "کا اوزار یا ہنر ہر وقت ہمراہ رکھنا چاہیے۔ ویسے تو زندگی کے ہر ہر موڑ پر اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں لیکن عمر کے اس دور میں یہ بہت فائدہ مند ہے ۔ بقایا زندگی اس ٹول سے آسانیوں کے ساتھ گزر سکتی ہے ۔ سال گرہ کا دن خوشی کے لمحات کے ساتھ ہی سہی ، لیکن بہ نظر غائر بچپن ، لڑکپن ، جوانی گزارنے پر ایک خاص اطمینان کا احساس غالب نظر آتا ہے ۔اور اب بڑھاپے کی موجودہ سیڑھی پر ہیں ،،، جو آخری بھی ہو سکتی ہے ، اور چند سٹپس اور بھی منتظر ہو سکتے ہیں ۔ بس جس خالق نے اب تک زندگی کے ذائقوں کو خوش ذائقہ بنائے رکھا ،، اُسی سے آگے بھی بہترین کی امید ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ کارآمد ٹول پر گرفت مضبوطی سے جمی رہے۔ آمین۔
۔( منیرہ قریشی۔12 فروری 2026۔ واہ کینٹ)۔