پیر، 16 مئی، 2022

" اِک پَرِخیال " " گہری نیند"

" اِک پَرِ خیال "
" گہری نیند"
اس آہنی اُڑن کھٹولے پر رات گزارنا بھی عجیب تجربہ ہوتا ہے ، اس وقت زمین بہت دور ہوتی ہے،، اور آسمان اس سے بھی کہیں دور ۔
کھانا پینا ہو چکا ،، بستر آرام دِہ بنا دیئے گئے ،،،اور بتیاں بجھا دی گئیں ۔
بھرے پیٹ ، اور نرم بچھونوں سے آنکھیں بوجھل ہو ہو جانے لگیں ۔ کئی مسافر اب اونچائی کے خوف سے نکل گئے ہیں ،،، کچھ مسافر اس آہنی اُڑن کھٹولے کی کبھی دلکی چال ،، اور کبھی سر پٹ دوڑنے سے خوفزدہ تو ہیں ،، لیکن نیند نے انھیں بھی بے بس کر دیا ہے ، اور ہر طرح کے مزاج والے مسافر اب " گھوڑے بیچ کر سو " گئے ہیں ،
فضا میں یہ گہری نیند کیسا معرکتہ الآراء تجربہ ہے ،، آہنی مشینری کے ایک نہایت چھوٹے سے پُرزے کی خرابی ہوئی اورصرف مال و متاع ہی نہیں ،،، جسم بھی ناپید ہوا ۔ زمینی حادثے میں جسم یا مال سامنے نظر تو آتا ہے ۔ اس سب کے باوجود ،،،بندے کی بہادری کا کوئی مقابلہ نہیں کہ فقط ہوائی سفر ہی نہیں کرتا بلکہ دورانِ سفر گہری نیند کے مزے بھی لیتا ہے ۔
زندگی نا قابلِ فہم ،،، انسان پیچیدہ ترین !!

( منیرہ قریشی 16 مئی 2022ء دورانِ سفر مانچسٹر ) 

" اِ ک پَرِخیال " " چار بوڑھے گھر سے نکلے"

" اِ ک پَرِ خیال "
" چار بوڑھے گھر سے نکلے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر چاہے چھوٹا ہو یا لمبا ،، جب بھی موقع ملتا، سننے ،اور دیکھنے کی حسّیات ایسی تیز متحرک ہو جاتیں ، کہ سفر مجھے اتنا نہیں تھکاتا جتنا ' سوچ اور احساس' کا سفر تھکا دیتا ۔ ہر منظر ، ہر شخص، ہر جملہ جو کانوں سے ٹکراتا ایک پیرا گراف بَن جاتا ۔
برطانیہ کی رات کی فلائیٹ نے کچھ بے زار سا کیا ہوا تھا کہ ایک گھنٹہ لیٹ تھی ۔ اب رات کا ایک بج چکا تھا ، اور میزبان بھی تھکی مسکراہٹ کے ساتھ مسافروں کو استقبالیہ مشروبات پیش کر رہی تھیں ۔ سبھی مسافروں نے ائیر پورٹ کی گرمی کو رفع کرنے کے لیے ایک ایک گلاس لے لیا ،،، تب آس پاس جائزہ لیا ،، میرے بالکل ساتھ سیٹ پر ایک مولانا صاحب کی بیگم تھیں ، سادہ اور مکمل عبائیہ میں ۔ سلام دعا ہوئی ۔ بالکل ساتھ کی لائن میں قریباً ایک جیسے حلیۓ ، ایک جیسی قامت اور کافی ملتی جلتی شکل کے دو بزرگ بیٹھے تھے اور عین سامنے کی سیٹوں پر بھی دو انہی کی عمر ،، انہی سے ملتے جلتے حلیۓ کے بزرگوار تشریف فرما تھے ۔شاید یہ سب آپس میں رشتہ دار تھے ، کیوں کہ بعد میں ان کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔
اتفاق سے اس دفعہ بزنس کلاس میں سفر کا موقع ملا ۔ آدھ گھنٹے میں مشروبات کے تین دور چل چکے تھے ،،، چاروں بزرگوں نے تینوں دفعہ کی پیشکش سے انصاف کیا تھا اور سب ہی دو دو بار واش روم سے ہو آۓ تھے ۔ انہی میں ایک صاحب وہیل چیئر پر تھے ،، جو دوسرے بزرگ دھکیل کر لے کر گئے ۔ چاروں کافی قد و قامت والے اور اچھی صحت کے حامل تھے کہ عین سامنے کی سیٹ والے نہ صرف ڈبل تھوڑیوں کے مالک ، بلکہ گردنوں کے پیچھے بھی موٹی تہہ بنی ہوئی تھی،، جب وہ واش روم کے لیۓ گزرے تو قیمتی شلوار قمیضوں ، جوتیوں ، اور گھڑیوں سے ان کی امارت کا اظہار ہو رہا تھا ۔ چاروں ہی اسّی ، اور بیاسی کے پیٹے میں تھے ،،، چاروں کی سفید چھوٹی چھوٹی داڑھیاں تھیں اور سروں سے قریباً فارغ البال تھے ۔
فضائی میزبان اگرچہ بہت جوان نہ تھیں لیکن سفید جلد ، اچھے میک اپ سے وہ جوان ہی لگ رہی تھیں ،،، اور تیزی سے ہر مسافر کو بار بار مشروبات پیش کر رہی تھیں ۔ ابھی میں نے اور میری ساتھی مسافر نے ایک ایک گلاس بہ مشکل ختم کیا تھا کہ بزرگوں نے چار چار گلاس ختم کر ڈالے کہ اتنے میں کھانا لایا گیا ۔ ہم دونوں خواتین شاید ان کی خوش خوراکی پر پریشان ہو گئی تھیں کہ ائیر ہوسٹس کے پیش کیے گئے ٹرے میں سے ایک آدھ چیز کھائی اور باقی واپس کر دی ۔ جبکہ ان بزرگوں نے ٹرے میں دی گئی اشیاء کے علاوہ بھی کچھ مزید مانگا ،،، کھانے کے ساتھ مشروب بھی چلتا رہا ۔ آخر کار یہ سلسلہ بھی ختم ہوا ۔۔ اور جہاز کے اندر کی روشنیاں بند کر دی گئیں ۔ سبھی مسافروں کی سیٹوں کو میزبانوں نے آرام دہ بنایا ۔۔۔ اور یوں بوجھل آنکھیں ، بھرے پیٹ کے ساتھ ہلکے ہلکے خراٹوں میں بدل گئیں ۔ یہ چاروں بزرگ حضرات بھی نیم استراحت میں تھے ۔ ہوائی سفر کے دوران مجھے نیند نہیں آتی بلکہ میرے لئے کھڑکی سے باہر کے مناظر زیادہ ضروری بن جاتے ہیں ،،، کہ رات کے بھی اپنے رنگ ہوتے ہیں ،،، انھیں زمین پر پرکھنے کا موقع تو ملتا ہی رہتا ہے ،،لیکن فضائی سفر میں رات کے ایک اور ہی قسم کے ڈھنگ سامنے آتے ہیں ۔
نہایت ہلکی روشنی میں بھی میں نے اپنی ڈائری نکالی ،،، اور میں نے انہی بزرگواروں کو کچھ تصوراتی رنگ میں دیکھا ،،،،،
دیار غیر میں جوانی میں کڑی محنت و مشقت سے گزارے سالوں نے انھیں صحیح خوشحالی سے ہمکنار کر دیا ہو گا ۔ اب وقت کی آخری اننگ چل رہی ہے ۔ اولادیں ، بلکہ اولادوں کی اولادیں بھی جوان ہو چکی ہوں گی ۔۔۔ اور اس نئے وطن میں نئی تہذیب سے مدغم بھی ہو چکی ہوں گی ،،، بابا حضرات عمر کے اس حصے میں ہیں جب بیویاں بھی بے زار ہو چکی ہوں گی ۔۔۔ اولادیں مصروف اور وقت کی سوئیوں کی غلام ہوں گی ۔۔۔ گھر میں توجہ دینے والا کوئی پوتا پوتی تو ہو گا ،،، لیکن کبھی کسی وقت چند منٹ دینے سے کیا ہوتا ہے ۔!! ۔ اب اس عمر میں سفر میں ایک دوسرے کے ہی مدد گار بن کر اپنے پرانے لیکن اصل وطن کی مٹھاس کو محسوس کرنے گئے ہوں گے ۔۔ جو زندہ ہیں ان رشتوں سے مل کر ،، دنیا سے گزر جانے والوں کی محبتوں کو محسوس کرنے ۔۔۔ کہ پھر نہ جانے سفر کر سکیں یا نہ کر سکیں ۔ اب سفر ہی کے وہ لمحاتِ خوشی دے رہے تھے،، جب جوان ، خوبصورت میزبانیں ،، ماتھے پر بَل ڈالے بغیر ان کا ہر حکم بجا لا رہی تھیں ۔ یہاں اس وقت انھیں کوئی بھی نہیں ٹوک رہا تھا کہ یہ کیوں کھا رہے ہو ، یہ کیوں پی رہے ہو ، یہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں وغیرہ،،، وہ تیزی سے پھرنے کی عیاشی سے اگر محروم تھے تو کیا ہوا ،،، ان خوش شکل خواتین کی چند گھنٹوں کی توجہ تو مل رہی ہے ۔ اور یہی توجہ ،،،، انھیں جنت کی حُوروں کا پختہ تصور بھی دے رہی ہے ۔ یہاں اس وقت وہ چاروں بوڑھے اپنی اہمیت کے جذبے سے سرشار ،،، کھاؤ پیو ،،، اور عیش کرو کا نمونہ بنے ہوۓ تھے ۔اور بھر پور توجہ کا مزا لے رہے تھے ۔ بھَلے یہ توجہ چند گھنٹوں کے لیے تھی ۔
اور رات کے خاتمے تک میرا تصوراتی کالم بھی تمام ہو گیا ۔ مجھے پنجابی کا ایک شعر یاد آرہا ہے ۔
" اوڑک جانڑا مَر وے ۔۔۔۔ چل مِیلے نُو چلیے"
( مرنا تو آخر کار ہے ہی ،، کچھ میلے کی سیر کریں ، کچھ دل کو بہلانے کا سامان ہی کریں )
اس تصورِ خیال سے کسی کا متفق ہونا لازمی نہیں ۔

( منیرہ قریشی 16 مئی 2022ء مانچیسٹر) 

جمعرات، 5 مئی، 2022

"نعتِ محبت " بخدمت آنجناب ﷺ،،،،

" نعتِ محبت "
بخدمت آنجناب ﷺ،،،،
حاضر ہیں یہ درود ِ پاک و سلام کے تحائف
معہ گُلِ انبسات ، و خنداں بصد محبت
آجاۓ گی ٭٭٭٭٭٭
چاند چہرے پر ستارہ مسکراہٹ
اور جب دیکھیں گے ٭٭٭٭٭
مَقطر ،، مُعطر گُلوں پر شبنم
آنسوؤں کی صورت
ڈالیں گے شفقت کی نظر
بس سنور ہی جاۓ گا میرا مقدر
اۓ مُزّمل ،،اے مُدثر !!

( عاجز منیرہ قریشی 5 مئی 2022ء ) 

جمعہ، 29 اپریل، 2022

" ستائیسویں" ( رمضان کےآخری عشرہ کی کوئی سی طاق رات)

" ستائیسویں" ( رمضان کےآخری عشرہ کی کوئی سی طاق رات)
=* کہا گیا ، آج کی رات ہے خاص
ہر گھڑی قیمتی ہر لمحہ موتیء آبدار
ہر دعا اہم ،،، ہر آنسو آبِ رواں
مانگ لو ، جو ہے مانگنا ,,,,
متوجہ ہے خالقِ کائنات
=* کیا ہی عجب ہے ستائیسویں کی رات !!
لمبی ہےفہرست ،،،
گناھوں کی ، خواہشوں کی
کہاں سے شروعات ہو ،کہاں ہو اختتام !
اسی شش و پنج میں
عرضیاں ، اہم اور غیر اہم میں غلطاں
شرمندگی کا یکدم بوجھ سا بڑھا
ٓ٭ ستائیسویں کی رات !!
شمس تھا درمیاں ( اک مرکزِ ترجیع اول و آخر )
اور دعائیں مانندِ مدار رقصاں
کسے پہلے چُنوں ، کسے بعد میں مانگوں
بہت سی ہیں رازداریاں ، اے راز دار
کرنا ہے تُو نے ہی ، صَرفِ نگاہ
دل سیاہ کو مانجھا تو بہت ہے
تیری حاضری کے لیۓ سنوارا تو بہت ہے
" اپنی مَیں " کو لتاڑا تو بہت ہے
نا معلوم سا اک بوجھ ہے آس پاس
جانے اب کب نصیب ہو ، نہ ہو ایسی رات
ٓ٭ ستائیسویں کی رات !!
شبِ پاکیزہ تھی عجب پھوار میں ڈوبی
سبھی لمحے تھے اَن مول ،سبھی نایاب!!
جیسے پھولوں کے گندھے ہار
آنکھیں بوجھل ہوئیں اور پھر
قطرے جیسے قطار اندر قطار
آنکھیں کچھ ہلکی ہوئیں ،،،
دل سے جیسے چھَٹ چکا تھا غبار
کہ ،،،،،،،،،،،،،،،،،
اللہُ اکبر ، اللہُ اکبر کی صدا مسکرائی
اپنا ہی وجُود یوں ہوا ،
جیسے تتلی ، جیسے اِک پَرِ خیال
اور قطروں کے جھاڑ میں
دھل چکی تھیں عرضیاں
کچھ عجیب ہی ہوتی ہے
تلاشِ ،،، محبت کی یہ رات

( منیرہ قریشی، جمعہ 29 اپریل 2022ء واہ کینٹ ) 

ہفتہ، 23 اپریل، 2022

اِک پرِخیال " " سواد " ( ذائقہ )

اِک پرِ خیال "
" سواد " ( ذائقہ )
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ، لفظ " سواد " پنجابی زبان کا لفظ ہے، اردو میں اس کا متبال لفظ ہو گا "ذائقہ "،،، لیکن ہر علاقائی یا قومی زبان ،، میں اور بھی الفاظ ضرور ہوں گے ،، جو بولتے ہی اپنی حلاوت کا احساس دینے لگتے ہیں ۔
جب کسی خوش ذائقہ کھانے سے لطف اُٹھاتے ہیں ، تو کہہ اُٹھتے ہیں۔ " مزا آگیا ،، یا بہت ہی تعریف پر دل چاہا تو کہا " واہ آج تو سواد ہی آگیا " ،
بِعَینہٖ              جب ہم کوئی خوبصورت گفتگو ،، سنتے یا پڑھتے ہیں تو بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں ،،" بھئ لطف آگیا " آج تو بس سواد ہی آگیا ۔
کچھ یہی حال روذ مرّہ زندگی کے حالات و واقعات کا بھی ہوتا ہے ، جن کے پیش آنے سے جب طبیعت میں تناؤ کم ہوتا محسوس ہوتا ہے ،،،، یا ،، جب ہمیں خود اس احساس سے آگاہی ہوتی ہے ،،، کہ اس واقعہ یا اس منظر سے مجھ میں تبدیلی کا احساس اجاگر ہوا ہے ۔ تو ہم زبان اور دل میں کچھ عجیب سی حلاوت محسوس کرتے ہیں ۔ گویا جیسے اردو زبان کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہوۓ کیا ہی خوبصورت شعر کہا گیا ہے کہ اس کی حلاوت منہ میں گھُلتی محسوس ہوتی ہے ۔۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں ! !
بس کچھ ایسا ہی ذائقہ ،، ایسی ہی گھلاوٹ کا احساس پچھلے کچھ دنوں میں ہوا ۔۔ کہ جب چلتی ٹرین کو انجن ڈرائیور نے ایک ویرانے میں روک دیا کہ ،، کہ کچھ صحیح نہیں چل رہی ،،، دیکھ لوں کیا مسئلہ ہے ،، اور ساری ٹرین کے مسافر ،،، منہ اٹھاۓ باہر نکل آۓ ،، کہ جناب " سٹیشن چند میل دور ہی رہ گیا تھا ،، چلتی ٹرین کو وہیں تک جانے دیتے ،، مدد بھی پہنچ جاتی اور ہم بھی اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف آرام سے پہنچ جاتے لیکن ٹرین کی چابی جس کے ہاتھ میں ہو ، فیصلے کی طاقت بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
چنانچہ ،،،، یہی ہوا کہ کچھ مسافر سامان اُٹھا کے تیزی سے سٹیشن کی طرف چل پڑے اور زیادہ تعداد میں وہ تھے ، جنھیں انجن ڈرائیور پر نہ صرف غصہ تھا ، بلکہ وہ اس سے وجہ پوچھ رہے تھے ،، ان کے ساتھ نہ صرف سامان تھا بلکہ بال بچوں کی وجہ بھی انھیں اس ویرانے میں ٹرین کے روکے جانے کی وجہ معلوم کرنا تھی ۔ جس کا انجن ڈرائیور کے پاس کوئی جواب نہ تھا ،،،،،،، !
تو ،،، پھر یوں ہوا کہ پچھلے چند دنوں کے گھنٹوں کے حساب سے لیۓ گئے فیصلوں نے وہی کیفیت پیدا کر دی ،، جب ریت اور مٹی کا طوفان آۓ تو منہ اور آنکھیں ریت اور مٹی سے بھر جاتے ہیں اور کچھ دیر تک اسی کیفیت میں کچھ سمجھ نہیں آتا ،، یہ کیا ہو رہا ہے " ،،،،؟؟؟
اور جب ریت اور مٹی کو آنسوؤں کے پانی سے دھویا گیا تو ،،، پوری قوم اصل رہنما کی ایک آواز پر لبیک کہتی ہوئی گھروں سے نکل آئی۔۔۔ وہ سراپا سوال بن گئی ۔۔
٭- چلتی ٹرین کو ویرانے میں کیوں روکا ؟
٭- کیا ہم آج بھی بہتر سال پہلے کی نو آزاد قوم ہیں ، جسے اپنا اچھا برا نہیں پتہ چل رہا ،،جو غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جائیں گے ؟؟؟
٭- کیا ہم گاۓ ، بکریاں ہیں ، کہ جن کی اپنی کوئی سوچ نہیں ۔ کسی کے بھی ہاتھ میں لاٹھی پکڑا دو گے ، ہم اسی کے پیچھے چل پڑیں گے ؟؟؟
٭- کیا ہمیں نئی دنیا کی کچھ خبر نہیں کہ وہ کہاں جا رہی ہے اور ،،، ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟؟
٭- ہم بہتر سال سے ایک ہی بات سنتے آ رہۓ ہیں ، اس لیڈرنے یہ اور یہ غلطی کر ڈالی اس لیۓ اس کو یہ سزا دینا ضروری تھی ،،، اور جنھوں نے کروڑوں ووٹ دیۓ ہوۓ تھے ،، وہ کس کھو کھاتے ؟
٭- کیا انجن ڈرائیور کو اپنے مددگار ڈرائیور سے مشورہ نہیں لینا چاہیۓ ، کہ تمہارا کیا خیال ہے ،، ؟ آخر کو تم نے اس ادارے کو دنیا کا نمبر ون بنا لیا ہے تمہاری معلومات کیا کہتی ہیں ؟
٭ لیکن ،،، انجن ڈرائیور کے ،، حواس معطل تھے ،، اور وہ ایک غلط فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کی تاویلوں میں پڑ گیا ۔۔ کسی سے مشورہ تک نہ لیا گیا ۔۔
اور وہ یہ واضح پیغام بھول گیا
؎ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ! !
یہی سجدہء غیر ،،، کس قدر حقیر کر چھوڑتا ہے ۔ تاریخِ دنیا بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔۔۔
تو ،،، پھر یوں ہوا کہ ، کہ لوگ ،، ایک قوم بن گۓ ،،اپنے گھروں سے کھانے کھا کر ، اپنے کراۓ خرچ کر کے ،، اپنے بال بچوں کے ساتھ نکل آۓ ۔۔ سب کا ایک ہی نعرہ تھا ۔
" ابھی تو ایک میرِ کارواں ملا تھا ، جس نے بیدار کیا کہ عزتِ نفس کیا ہوتی ہے ! ،، خودی اور خود داری سے سر اُٹھا کر جینا سیکھو ،، ہم کسی کے غلام نہیں ،، ہم کیوں سارا وقت ، ان غیر ملکیوں کے آگے ،، ہاں جی ،، ہاں جی کرتے رہیں ،،، ہم کمی کمین نہیں ،، برابری چاہیۓ ، برابری کی سطح پر بات کرو ،، تم ہوتے کون ہو ، ہمیں اپنے مفادات پر استعمال کرنے والے ؟؟؟ "
یہ کون ہے ؟ یہ کون سا منفرد میرِ کارواں بول رہا ہے یہ کس نے اذان بے وقت دی کہ خوابِ غفلت سے جگا دیا ،، ہمیں سچ بولنے والی زبان دے دی ، ہمیں سوچ دے دی ،، ہمیں اقبالؐؒ کا پیغام یاد دلا دیا ؟، ہاں ،،، ہمیں آزادئ نفس ( سیلف ریسپیکٹ ) کا ذائقہ یاد دلا دیا۔ ہمیں سر اٹھا کر ایک با عزت ، با شعور بندے ہونے کا سبق یاد دلا دیا ۔ ورنہ ہم تو انہی دو چودھریوں کو باریاں لیتے دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے ۔ ہاں ہمیں اپنے نبیﷺ کے پیغامات کو با آوازِ بلند دہرانے کی جرات دی ،،،
اور یہ جرات تب ہی آتی ہے جب میرِ کارواں کے دل میں لوگوں کے ہجوم کو قوم بنانے کا احساس نظر آنے لگے ۔ جب اسے اللہ کے آگے پیشی کا خیال ہو جاۓ ۔۔۔ تب آزادی کا وہ سواد ، ، وہ ذائقہ محسوس ہونے لگا جب اس خطے نے پہلی دفعہ قائد رح کی سرکردگی میں چکھا ہوا تھا ،،،، اور بہتر سال بعد اس میرِ کارواں نے جسے " عمران خان " سے ہی پہچان نہیں ملی ،، اس کے خلوصِ نیت نے اسے پہچان کروائی اور اب اسے دنیا یاد رکھے گی کہ اس نے ایک ہی ڈنڈے سے ہانکے جانے والی قوم کو ،غیر ملکی امداد کی افیم میں ڈوبی قوم کو " سوادِ آزادئء نفس چکھایا ،، ذائقہء آزادئء سوچ دیا ،، سر اٹھا کر جینے کا فخر کیسا ہوتا ہے ، اس کو یہ سواد بھی چکھا دیا ۔
اسی میرِ کارواں کا پیغام کچھ یوں ہے،
میں اس شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں ، خواب دیکھتا بھی نہیں
اسی قومی اعتماد اور عزتِ نفس کے" احساس" کو محسوس کرنے کے بعد ،
،،سوشل،میڈیا پر لا تعداد لوگوں کے جذبات کے بعد ،،، خانہ کعبہ اور روضہء رسولﷺ کے باہر آنسوؤں سے پاکستان کے لیۓ ایف آئی آر لکھوانے کے بعد ،،،،،،،
کہہ سکتی ہوں ۔۔۔ بھئ " سواد " آگیا ،، لطف آگیا " الحمد للہ ، الحمد للہ !!

( منیرہ قریشی ، 23 اپریل 2022ء واہ کینٹ ) 

اتوار، 20 فروری، 2022

" اِک پرِخیال ۔۔ حرمتِ الفاظ "

" اِک پرِ خیال "
" حرمتِ الفاظ "
الحمدُ للہ ، کہ 17 فروری 2022ء کو دوسری کتاب " اِک پَرِ خیال " کے عنوان کے تحت چھپ کر آگئی ،، اور اللہ سبحان و تعالیٰ نے مجھے زندگی میں ایک اور خوشی عطا کی ۔
" اک پرِ خیال " کے تحت چھوٹے بڑے مضامین کا سلسلہء 2015ء سے لکھ رہی تھی ، لیکن چند مضامین کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ درمیان میں خانہ بدوش گروپ میں بہت سی نظمیں شیئر کرتی رہی ،،، ساتھ ساتھ نثر میں پہلے تو آپ بیتی ، " یادوں کی تتلیاں " کے عنوان کے تحت کچھ یادیں لکھیں ،،، پھر ساتھ ساتھ کچھ اسفار کا ذکر بھی چلتا رہا جس کا عنوان " سلسلہء ہاۓ سفر " تھا ۔۔۔ اور اک پَرِ خیال کے تحت انشائیۓ کا ٹوٹا سلسلہ پھر سے جُڑا ۔ اور 2018ء سے باقاعدگی سے مضامین لکھنے کا موقع ملا ۔ اور پھر اللہ پاک نے کبھی جو خیال دل پر القا کیا ،، اسے ایک مضمون کے طور پر لکھا تو اچھے تبصرے بھی ملتے رہۓ اور کچھ کندھے اُچکا کر رہ گۓ ہوں گے ۔
ان مضامین میں کوئی ایسے منفرد یا انوکھے خیالات نہیں ہیں ۔ لیکن میرے لیۓ یہ الفاظ ،، یہ خیال انتہائی قیمتی اور محترم ہیں ۔ اس لیۓ کہ وہ میرے ہیں ،، خالص میرے اپنے ۔ میں نے کسی کی پیروی کا کبھی نہیں سوچا ۔ شاید اس اندازِ تحریر کو ادب کے کسی خانے میں جگہ نہ مل سکے ۔ لیکن مجھے اس کے لیے کوئی چاہت نہیں ۔
اپنی لکھی تمام کاوشیں ،،، اپنے گروپ خانہ بدوش میں جمع کرتی چلی گئی ،، اس گروپ کے کُل 56 ارکان ہیں ، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجھے ان مختصر تعداد کے با ذوق احباب کے ساتھ کی ہی بہت خوشی ہے ۔ کہ ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔
ہر شخص کےلیۓ جو لکھا جا چکا ہوتا ہے کہ کون سا قدم کہاں رکھے گا ؟کیا رزق کہاں کھاۓ گا ؟۔۔۔ بہ عینہ کوئی اس کی زندگی کا اہم کام بھی اپنے وقت پر ہوتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ،، 45/46 سال سے لکھتی نظمیں اور نثر کو خانہ بدوش میں شیئر کرتی رہی اور پہلی دفعہ 2021ء میں پہلی کتاب جو آزاد نظموں پر مشتمل تھی 13 فروری 2021ء کو ہاتھوں میں تھامی تو اس خوشی کی سر خوشی کا عالم سال بھر بخار کی طرح چڑھا رہا ۔ ،، اور چوں کہ پبلشر ،، میرا سارا لکھا مواد فلیش میں کشید کر کے لے گیا تھا ،، اب اسے سبھی کتابوں کو ترتیب دینے کے لیۓ بہت وقت دینا پڑا ،، اور مجھے استاد ہونے کا فائدہ اس دن سے زیادہ محسوس ہورہا ہے کہ میں نے اگر کہہ دیا کہ " عمر بیٹا ،، یہ کتاب ابھی پیچھے اور وہ کتاب آگے کر دو تو ،، بچے نے سر جھکا کر مجھے مکمل مان دیا ۔ اور وہ اسی کتاب پر توجہ کرنے لگتا ،، اس کا تعاون ہی میرے لیۓ حوصلے کا باعث رہا ۔ لیکن آخر کار دوسرے نمبر پر " اک پَرِ خیال " کے چھپنے کا لمحہ آگیا ،، اور فروری 2021ء کے بعد پھر 17 فروری 2022ء میرے لیۓ اہم ترین مہینہ بن کر آیا، اور مجھے زندگی کے اور سنگِ میل کو پار کرا دیا ، الحمدللہ ۔
جب یہ دوسری کاوش ہاتھ میں آئی تو " پر جیسا ایک خیال "ذہن میں آیا کہ جب کبھی اپنے اپنے وقت کے جابر اور مختارِ کُل حکمران کسی علاقے کو فتح کرتے تھے تو اکثر اس علاقے کے صنعت کاروں ، علماء ، اساتذہء کرام ،، بچوں ، ضعیفوں ، ہنر مندوں کو چھوٹ دے دیتے اور امان کا مظاہرہ کرتے تھے ۔۔۔ کیا پتہ ( یقینا") وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ ،،، اس دن اس وجہ سے چھوٹ دے دے ۔، کہ ۔
"" یہ ہنر مند ہے کہ خیالوں کو الفاظ میں سمیٹا ،، اساتذہ کی قطار میں بھی ہے اور ضعفاء میں بھی شامل ہے ۔۔ تو رحم و کرم کی پھوار ہو گی تو چھُوٹ تو بن سکتی ہے ،، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
اپنی اس دوسری کتاب پر اپنے سبھی احباب کا شکریہ ۔ ادا کرتی ہوں ۔ کہ یہ حوصلہ افزائی ہی مجھے یہاں تک لے آئی ہے ۔
(منیرہ قریشی 20 فروری 2022ء واہ کینٹ)

جمعرات، 30 دسمبر، 2021

" اِک پرِخیال..مختصر مختصر "

" اِک پرِ خیال "
امیر انسان اپنی امارت ، اور عزت لینے کا عادی ہوتا ہے ۔ لیکن غریب اپنی غربت کا کبھی عادی نہیں ہوتا ، وہ تبدیلی کا منتظر رہتا ہے ۔

اسی طرح ، جس کی ذلت کی جاتی رہۓ ،، وہ بھی کبھی اس رویۓ کا عادی نہیں ہوتا ، بس وہ بے نیاز ہو جاتا ہے ، اور یہ بے نیازی ذلیل کرنے والے کے لیۓ عذاب کی ابتداء ہو سکتی ہے ، ہوشیار باش !!۔

۔۔۔۔۔

ضبطِ نفس کے بہت سے مظاہر ہیں ، "اسراف نہ کرنے والے ، غصہ پی جانے والے ، معاف کرنے والے یا اپنی چیز کو اپنا " نہ" کہنے والے ۔ ان چیزوں میں مال ، اولاد سبھی شامل ہیں ۔ ضبطِ نفس کی یہ منزل بھی بہت کڑی ہے کہ سب اپنی محنت سے حاصل کرنے کے باوجود آپ کو عاق 'سمجھا' جاتا ہے ۔
حیران کن !! حیران کن ،،،،
۔۔۔۔۔
"خوشی" دراصل آنکھ سے دیکھنے ، دل کی دھڑکنوں کے کان میں گونجنے ، ذائقوں اور خوشبوؤں کی تیزی ، اور خالی الذہنی کی کیفیت کا نام ہے کیوں کہ خوشی کا منظر تیزی سے بدلتا چلا جاتا ہے۔
غلط اور صحیح الفاظ ،،کچھ تیکھے ، میٹھے ، کچھ اداس کچھ پُرجوش جملے کانوں میں گھستے چلے جاتےہیں لیکن خالی الذہنی کی کیفیت برقرار رہتی ہے ۔ شاید " خوشی " ایسے ہی لمحے کا نام ہے ۔ مکمل سکون کا سناہے مگر کامل خوشی کی کیا تعریف ہوتی ہوگی؟

( منیرہ قریشی 30 دسمبر 2021ء واہ کینٹ )"