بدھ، 31 مارچ، 2021

" اک پرِخیال" ویکسینیڈڈ،،!

" اک پرِ خیال"
ویکسینیٹڈ،،،،،،،،،،!
آج آخر کار " بزرگ ہونے کے ناتے کرونا 19 " کی پہلی ویکسین کی باری آ گئی تھی ، دونوں بیٹے پُر جوش تھے ،،، جیسے مجھے کسی اہم ، بلکہ اہم ترین مشن پر بھیج رہے ہیں ۔ چہرے پر دو ماسک لگواۓ گۓ ۔ بڑے صاحب زادے نے گاڑی ڈرائیو کی اور راستے بھر ہلکا پھلکا لیکچر بھی دیا گیا ، کہ ،،،،،،
اگر بی پی ( B.P ) آج کل ٹھیک نہیں تو ابھی نہیں لگواتے ،،، اور اگر آپ گھبرا رہی ہیں تو ، کل سہی ،،،،،، اور اگر اس ویکسین کے آفٹر ایفکٹس کی ابھی تک واضح محرکات سامنے نہیں آۓ ،،، تو چند ہفتے اور انتظار کر لیتے ہیں ۔
آپ کو پیاس تو نہیں لگ رہی ، یہ منرل واٹر پڑا ہے !!! میَں نے بہادرانہ جذبے سے کہا ،، کوئی مسئلہ نہیں آ جکل سب ٹھیک رپوٹیں ہیں ۔۔۔ اس لیۓ آج ہی لگوالیتے ہیں ۔
ویکسینیشن سنٹر 10/12 منٹ کی ڈرائیو پر تھا ،،، وہاں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ڈیوٹی پر تھے ،، اور اس ہال میں فاصلے پر 15 یا 16 کرسیاں لگائی گئی تھیں ، جن پر چار پانچ بزرگ ،، خواتین اور حضرات بیٹھے ہوۓ تھے ۔
اپنا شناختی کارڈ کاپی دی ،،، ایک بچی نے بلڈپریشر چیک کیا ،،، اور دوسری نرس نے انجکشن تیار کیا ،، اس ایک منٹ میں انجکشن لگا ، اور 10 منٹ انہی کرسیوں پر انتظار کا کہا گیا ، تاکہ اگر کوئی ری ایکشن ہونا ہوا تو فوری سدِ باب کیا جا سکے ۔ انجکشن اتنے ماہرانہ انداز میں لگایا گیا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ انجکشن لگا بھی تھا یا نہیں ۔
دس منٹ کے انتظار کے بعد بیٹے سے پوچھا " دس منٹ ہو نہیں گئے ؟" ،،، اس نے بتایا 12 منٹ ہو گۓ ہیں ۔( اس کا دل ہو گا شاید 20 منٹ اور بیٹھا جاۓ ۔۔ تاکہ ہر طرح سے "سب ٹھیک ہے" کی رپورٹ مل جاۓ )، میں نے ان سب لڑکیوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور بہت آرام سے واپسی کی راہ لی ۔
گھر آکر دوسرے صاحب زادے کی ہدایات پر عمل کیا گیا یعنی ،،،، ماسک پھینک دیں ،،، اب نہا کر دوسرے کپڑے پہنۓ ،، اور ان کپڑوں کو دھونے ڈال دیں ۔ ،، طبیعت تو خراب نہیں ہو رہی ؟ بس آپ اب آرام کر لیں ۔
اور یوں ،، ڈیڑھ سال سے پوری دنیا میں چیختی چلاتی ، وبا ، سے بچاؤ کی دواء ایجاد کی گئی ۔ اور اسے بزرگوں پر پہلے آزمانے کا اعلان ہوا ،،، کہ ان پر وبا کا حملہ جلدی ہو جاتا ہے / ہو سکتا ہے ،،، لہٰذا بزرگ پہلے بچاۓ جائیں ،،،، کیا واقعی ؟؟؟ یا ان پر ویکسین آزما لی جاۓ ۔۔ تجربہ اچھا رہا تو ٹھیک ،،، تجربہ غلط ہوا تو مزید تحقیق !!!
جو بھی تھا ،،، اس وبا کے بعد " بزرگ " لیبارٹری ٹسٹ کے وہ زندہ افراد بن گۓ ۔۔۔ جو بہ خوشی اپنی اگلی نسل کو بچانے کے لیۓ خود سامنے آ چکے ہیں !
اللہ ہماری نئی نسلوں کو ہر آفت و وبال سے محفوظ و مامون رکھے آمین !! اور ،،،، اب جو بزرگ آپس میں فیملی فنکشنز میں ملیں گے ،،،، ان کا تعارف کرواتے وقت یہ جملہ سننے کو ملتا رہۓ گا
" کوئی فکر نہیں ،،، ویکسینیٹڈ " ،،،،،،،،،،،،،،،،
پہلے تعارف یہ کہہ کر کرایا جاتا رہا ہے
" جی ! یہ ہیں حاجی صاحب !!! لیکن اب حاجی صاحب کے فور! بعد بولا جاۓ گا ، ویکسی نیٹڈ،،، !! ( یعنی فکر کی کوئی بات نہیں )
یہ ہیں پرنسپل فلاں کالج کی ، ویکسینیٹڈ!!!
ان سے ملیۓ ،، ڈاریکٹر فلاں ،،،، ویکسینیٹڈ !!!
اور یہ ہیں ہمارے علاقے کے وزیر ،،، ویکسینیٹڈ !!!
تب ہی ان سب کو کچھ پروٹوکول دیا جاۓ گا ،،، ان سے ہاتھ ملایا جا سکے گا ۔۔ اور اگر کسی نے بتا دیا " نان ویکسینیٹڈ "،،،،،، تو شاید بھارت میں دلت کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے ،،، شاید اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو نہ جاۓ،،،، آہ ،،، یہ وقت بھی آنا تھا ،، یہ وقت بھی دیکھنا تھا ۔
( کرونا وائرس کے تناظر میں ایک سوچ )

( منیرہ قریشی 31 مارچ 2021ء واہ کینٹ) 

منگل، 23 مارچ، 2021

" اک پرِخیال " " انعام "

" اک پرِ خیال "
" انعام "
ہمارے ملازم کی والدہ ایک عرصے سے بیمار چلی آ رہی تھی ۔ والدہ اپنے دوسرے بیٹے اور ایک پڑوس میں رہتی بیٹی کی سپردگی میں تھیں ۔ جب تک سفر کے قابل رہی کبھی کبھار دوسرے شہر میں بستے دو بیٹوں کے پاس بھی رہنے چلی جاتی اور ،،، یوں بڑھاپا اور زندگی ، مختلف ہاتھوں اور رویوّں کے ساتھ گزارا جا رہا تھا ، یا گزر رہا تھا،،اب کچھ سالوں سے اپنے آبائی گھر میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی ،،، جہاں بیٹا اور بیٹی بھی ساتھ تھے ۔ دونوں نہ صرف بال بچے دار ،،، بلکہ اب اپنے بچوں کو بیاہ رہے تھے ۔ اس دوران ہمارے ملازم کو جب بھی اطلاع دی جاتی کہ وہ بیمار ہیں ،،، یا ،، بہت بیمار ہیں ،،، یا ،، آؤ ذرا اب انھیں فلاں بیٹے کے پاس چھوڑ آئیں ، تو وہ فوراً چھٹی لے کر یہ ڈیوٹی دینے چلا جاتا ،،، ہم نے بھی اسے کبھی نہیں روکا ۔ اب کرونا کے اس ڈیڑھ سال میں وہ تین چار دفعہ اپنے پہاڑی گاؤں جاتا یا اسے بلایا جاتا ،، دو دن بعد وہ واپس آتا تو پوچھتے ،، " کیا حال ہے والدہ کا " ،،، وہ سادہ اور سپاٹ لہجے سے جواب دیتا ،، " بس کچھ آرام آ گیا تو میں چلا آیا ،، بس جی بہت بوڑھی ہو گئی ہیں اس لیۓ اکثر بیمار رہتی ہیں ، چند دن قبل پھر اسی قسم کا پیغام ملا اور تین دن بعد آکر ہمارا وہی پوچھنا ،، اس کا وہی سپاٹ لہجے میں جواب دینا ہوا " کہ جی بہت بوڑھی ہوگئی ہیں ، بس یہ ہی وجہ ہے بیماری کی " ۔
اور کچھ دن بعد ہی ان کے فوت ہونے کی اطلاع آ گئی ،، اور اس نے فوری روانگی پکڑی ۔
واپسی پر پوچھا " کیا ہوا تھا اس آخری وقت میں " تو اس نے وہی سپاٹ لہجے میں کہہ دیا ، " بس جی وہی بڑھاپا "
اتفاق سے کچھ بہت خوش حال خاندانوں میں بھی بوڑھے والدین کے ساتھ ایسا ہی رویہء ہوتا ہے کہ " اب ہم کیا کر سکتے ہیں ! یہ بوڑھی / بوڑھے ہیں ، جو بیماری ہے بھی تو کیا ہو سکتا ہے ، یہ تو بہت عمر دیکھ چکیں ،،، اب ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ ؟؟؟ یہاں اپنے فرض یا رویّۓ کو بالکل بھی قابلِ ذکر نہیں سجھنا ۔ گویا جب اس عورت نے بچے پیدا کیۓ ،، انھیں پالا پوسا ،،یہ وہ دورانیہ تھا ، جو " سبھی ماں باپ ایسے ہی کرتے ہیں " کا جملہ ان کے منہ پر بیٹھا ہوتا ہے ۔
اور بد قسمتی سے خوشحال یا غریب گھرانوں کے ایسے لمبی عمر کے بزرگ ایک کمرہ یا یا ایک بستر کی جگہ گھیرے ہوۓ ہوتے ہیں ،،، اور گھر کے نوجوان ہوتے بچے " گِدھ کی طرح روزانہ نظر ڈالتے رہتے ہیں ،، پتہ نہیں کمرہ کب خالی ہو گا؟؟ ۔۔۔ بستر کی جگہ کا ایک منفرد آئیڈیا ذہین میں تو ہے مگر ،،،،،،،،زیرِ لب ،،، دل میں اٹھتے یہ بے رحمانہ جملے اس لیۓ جگہ پاتے ہیں کہ اب " اقدار اور احترام کے زمانے گۓ ، گھر کی تربیت گاہیں " یعنی ماں " بھی ایسی کیفیت لیۓ منتظر ہے ۔۔۔ حالانکہ وہ نہیں جانتی ،،، کچھ عرصے بعد اسی بستر پر وہ خود براجمان ہو سکتی ہے ،،اور قریب سے گزرتے " جوشیلے " ناگورا نظریں ڈالتے گزر جائیں گے ۔
لیکن ایسے ہی وقت میں ، ایسے ہی دورا نیۓ میں جنت و دوزخ کا رزلٹ تیار ہو رہا ہوتا ہے ۔
حضرت اویس قرنی (ر ض ) کواسی رشتے کی خدمت نے ،، نبیؐ کی زیارت کے بغیر ہی " صحابی ر ح کا لقب دلا دیا ۔
اللہ خالق و مالک نے دل کی چاہت کی شدت کا حساب کتاب جانچ لیا تھا ،،، ترازو میں ایک طرف چاہت و محبت تھی ،،، دوسی طرف فرض شناسی کا خالص جذبہ ،،،، لمحے بھر میں فرض شناسی کا احساس غالب ہوا ،، اور چاہتِ محبت کو اللہ کی رضا سمجھ کر چھوڑ دیا ،،، کائنات کا مصور اور مُنصف ،، مسکرا اُٹھا ۔۔۔ اور ترازو میں رکھے فرض پر محبت کی نظر ڈالی ۔ کہ ،،، وہ خود بھی اپنی محبت کی مثال اسی " ماں کے رشتے" سے دے چکا تھا اور پھر ،،، فرض کی ادائیگی پر انعامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ،،،، اویس ر ض نے تو نہیں کہا " وہ بہت بوڑھی ہیں ،، حواس بھی صحیح نہیں ہیں ،، دو چار گھنٹے دیر سے بھی پہنچا تو کیا فرق پڑے گا ۔

( منیرہ قریشی ، 23 مارچ 2021ء واہ کینٹ ) 

ہفتہ، 27 فروری، 2021

"کیوں ؟؟؟"

گھوڑے اِک عجب سرکشی اور زور آوری سے بھاگتے ہیں

راستوں کے منظر اور رنگ مدغم ہیں باہم

اب کوئی فکر نہیں ہے

وہ ٹکراتے ہیں کہیں ، یا ٹھہرتے ہیں

لمبی دوپہروں میں،یا طویل راتوں میں

خنک شاموں میں ، یا سحر انگیز ، وقتِ سحر میں

،،،،،،،زندگی

کہ جس کے جُزو و کُل سے نا آسودگی نہ گئی

اور اسی جُزو کُل کے درمیاں " کیوں " کا پُل ہے

نا پائیداری ہی اول و آخر سبق ٹھہرا

کبھی کسی منظر میں ، کبھی کسی جذبے میں

!!! اے کائناتِ قدیم

ہر منظر کے پس منظر میں اِک سائیہء نامانوس

ہاتھوں کے اشاروں سے ،، ہلکی ہلکی سرگوشیوں سے

وہ کچھ کہہ تو رہا ہے ،

آسودہ قلب کہاں ہیں ،

آسودہ قلب کیوں نہیں ہیں ؟؟

خیالوں کے سرکش گھوڑے

کہاں ٹکرائیں ،، کیوں کر ٹھہریں

میَں کیوں جانوں !! میَں کیوں دہلوں !

احتیاطوں نے تھکا مارا ہے ،،

کیوں کی گونج نے ستا مارا ہے

( منیرہ قریشی 27 فروری 2021ء واہ کینٹ )

بدھ، 3 فروری، 2021

"لمحےنے کہا"

"لمحےنے کہا"

(اِک پرِِخیال)

اصل میں تو " اک پرِ خیال " کے چھپر تلے سبھی خیالات کو ذیلی عنوان دے کر الفاظ کا پیرہن پہنا کر قارئین کے سامنے لاتی رہی ہوں ،، کبھی یہ لباس خوش رنگ ، اور نظر پذیر ہوتے اور کبھی خاصے پھیکے ، بد رنگے ،،، کبھی قیمتی لفظوں کا جامہ ہوتا ،،، اور کبھی معمولی لباس اس کی حیثیت متعین کرتا رہا ،،،، لیکن شکریہ اُن لوگوں کا جنھوں نے ہر لباس کو کسی نا کسی ستائشی جملے سے سراہا ،، اور مجھے اپنے معیار کا اندازہ ہوتا رہا ،،، لیکن لکھنا نہ چھوڑا ۔ اور یوں " اک پرِ خیال " کے تحت اتنے انشائیۓ جمع ہو گئےکہ ایک کتاب بن سکے ،،، لیکن پنتالیس سال سے کبھی چھوٹے دورانییۓ اور کبھی لمبے وقفے سے نثری یا آزاد نظمیں لکھتی رہی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں ، واقعات، ان کے تفکرات اپنے محسوسات کو ایسے لکھتی رہی ،، کہ جیسے اگر یہ الفاظ نظم کی صورت نہ لکھے تو لفظ سونے دیں گے ، نہ ضمیر چین سے بیٹھے گا ۔ چنانچہ دوسو سے زیادہ نظموں کو ایک عام سی ،، کسی حد تک ردی سی ڈائری میں لکھتی رہی ،،، ،،، کچھ مضمحل ،، کچھ متفکر دنوں کے وجود سے کبھی کبھی ،، ایک خوش رنگ خیال سامنے آ جاتا ہے تو متفکر فضا سے جیسے کثافت دْھل سی جاتی ہے ۔

اتنی تمہید باندھنے کی وجہ یہ بتانا تھا ،، کہ کُرونا 19 نے جہاں سب کو ہی محدود کر دیا ،، وہاں بزرگوں کو ان کی بزرگی کام آئی ، اور انھیں قیمتی جانتے ہوۓ " باہر آزادانہ جانے کی ممانعت کر دی گئی ۔ مجھے یوں لگا کہ یہ دن صرف سوچے جانے والے کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے بھی ہو سکتےہیں ۔ تو چلو وہی کام نبٹا دیۓ جائیں ۔ اور یوں اپنی پنتالیس سالہ کاوش ، اپنے ذہن کی " کان " سے کان کنی کر کے نکالے گئے " نودرات " ترتیب دیۓ اور ، شائع کروانے دے کر سب کے سامنے رکھ دیۓ ۔ شاید پڑھنے والوں کے لیۓ " بس ٹھیک ہی ہیں " کا جملہ ہو لیکن میرے لیۓ یہ نوادرات ہیں،،،مجھے یوں لگا یہ الفاظ قیمتی لمحوں نے مجھے سکھاۓ ، مجھے سماعت پذیر کیۓ،دل میں اتارے ،، اور پھر صفحات میں پھیلا دیۓاسی لیۓ اپنی زندگی کے اس خوبصورت اور قیمتی کارنامے کو اُسی لمحے کے نام کر دیا ۔ اور اس طرح مجھے،، کرونا19 کے لمبے بے کار دنوں میں اپنی پہلی کتاب پر کام مکمل کرنے کا موقع اللہ رب العزت و الرحمٰن نے دے دیا اور تین فروری 2021 میرے لیۓ ایسا دن تھا ، جیسے میں چار سال کی ہوں ، آج میرا نتیجہ ہو اور غیرمتوقع طور پر پہلی پوزیشن مل جائے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے اللہ کی رحمتِ خاص مجھ پر پھوار بن کر برس رہی ہے۔ مشہور مصنف شفیق الرحمٰن نے ایک جگہ لکھا ہے " بڑی عمر ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جب چوٹ لگے تو آنسو روکنا ہیں لیکن چوٹ اتنی شدید ہوتی ہے ، کہ رونے کو جی چاہتا ہے اور میری اپنی اس کامیابی پر ( شاید باقی مصنفین ، و شعراء پر پہلی تصنیف کا یہ ردِ عمل نہ ہوا ہو ) یہ محسوس ہو رہا تھا اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ " یوں لگ رہا تھا کہ مجھے کم از کم فیس بک پر اشتہار دینا چاہیے،،،لوگو!اس عمر میں پہلی تصنیف کا سامنے آ جانا ،،ایک بڑا کار نامہ ہے؛؛؛،،،لیکن کیا کروں کہ عمر کا تقاضا کہ جذبات کو ضبط سے پیش کیا جاۓ ! "۔

میری آنکھوں سے اللہ کے بعد ہر اس شخص کے لیۓ تشکرکے آنسو تھے،،جنھوں نے مجھے آسانیاں دینے میں کوتاہی نہیں کی ، ،،" لمحے نے کہا " کے نام سے میری نظموں کی کتاب شائع ہو کر اب ہر اس گھر کے شیلف میں پہنچ رہی ہے، جو میرے بعد بھی کبھی کبھار مجھے محبتوں سے یاد کرتے رہیں گے،،،الحمدُ للہ ، الحمدُ للہ،۔

( منیرہ قریشی 3 فروری 2021 ء واہ کینٹ )

اپنی اب تک کی زندگی میں لا تعداد،،،ان گنت بے شمار نعمتوں کے لیۓ اپنے خالق کی شکر گزار ہوں !۔

منگل، 26 جنوری، 2021

"صحرائی خفیہ پیام "

" صحرائی خفیہ پیام "

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بے کنار صحرا کی بولتی خامشی
اِک پیام ،،،،
اور پھر سائیں سائیں کی آواز بھی
اِک پیام ،،،،
اسی سائیں سائیں کے پھاوڑے سے
بنتے بگڑتے ٹیلے ۔۔ اِک پیام !!!
کیکٹس کی مختلف النوع اشکال  
اِک پیام ،،،،،
جانبِ مخلوقِ ریگ ، شاید اِک پیام
کچھ اشارے ، کچھ کِنائے !
رات میں شدتِ برودت ، اِک پیام
دن کی شدتِ حدت ، اِک پیام!
کچھ کہی ، کچھ اَن کہی کہانیاں
صحرائی خفی نمبرِِ،،،کھولو،
ہر ذرہ،ریگ کچھ کہنے کوبےقرار
ایک کوڈِ،،،اور بس عیاں رازہائے کائنات
ہاں،یہ صحرا سجدۂ ہائے اخلاص کے گواہ
آہ ! پیشانیوں پر چمکتی ریتلی کہکشاں!!!
(منیرہ قریشی 26 جنوری 2021ءواہ کینٹ) 

جمعہ، 8 جنوری، 2021

اِک پرِ خیال " " تصور"

 " اِک پرِ خیال "

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" تصور"
آج کل وہاں مناظر خوب ہنگامہ پرور ہیں ۔ کوئی تو گھروں کو جھنڈیوں سے سجا رہا ہے ،، اور کوئی جگمگاتی روشنیوں سے ،، کسی کے پاس قوت ہے تو صرف پھولوں سے ہی گھر کو سجاۓ گۓ ہیں ۔ ،، البتہ کچھ جگہوں کے مناظر کی سجاوٹ میں ،، خاصی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ،،، بعض میزبانوں کے پاس مہمانوں کے استقبال کے لیۓ کچھ الگ ہی چیزیں ہیں ،،، ویسے بھی نہیں معلوم ، مہمان کس نوعیت کے ساتھ آئیں گے ۔ لیکن یہ طے ہے کہ گہما گہمی میں جوش بھی ہے اور خوشی کا تائثر بھی ہے ۔ البتہ بعض گھروں میں آرائش کے سبھی لوازمات کے ساتھ ساتھ خوشبوؤں کا بھی بے دریغ استعمال ہوا ہے ،، اور باقی اسے رشک ، اور حیرت سے تک رہے ہیں ۔
ایسا پُر ہنگام منظر کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے ،،، یا تو وسیع جنگی محاذوں کے دنوں میں یا ،،، ایسی عالمی وبا کے روز وشب میں ۔۔۔ جی ،، جنت میں بیٹھے لوگ دھڑا دھڑ اپنے پیاروں کا استقبال کیۓ چلے جا رہے ہیں ،،، اور اپنی خوشی کا اظہار ا پنی اپنی درجہ بندی کے مطابق کر کے آنے والے اپنوں کو وصول رہے ہیں ،،، بہت سے نۓ مکین ابھی تک سکتے میں ہیں ،،" یہ کیا ؟؟ میَں تو ابھی ابھی اپنے نزدیکی رشتوں کے درمیان تھا ۔۔ میَں نےخود سنا ، ڈاکٹر کہہ رہا تھا ،، انشاء اللہ کافی بہتری ہے ، جلد صحت یاب ہو جائیں گے " ،،، لیکن اب جب آنکھیں کھلی ہیں تو اپنے پیاروں کی بجاۓ یہاں کب کے فوت شدہ والدین ،، بڑے بھائیوں ، یا کچھ بچپن میں سدھار گۓ بہن بھائیوں، یا دادا ، دادی ،، یا نانا ، نانی کے مسکراتے چہروں کے درمیان ہوں ۔ بےشک یہ مجھے محبت اور تحفظ کا احساس دلا رہے ہیں ،، لیکن ' دل ہے کہ مانتا نہیں' والی کیفیت ہے ۔۔۔۔ آہ ، تو کیا یہ آس پاس کا ہنگامی ماحول اور سجی سجائی سیجیں ، فانوس ، اور پھولوں سے لدے گھر میرے ہی اپنوں کے ہیں !! ،،، تو اُن کا کیا ہوگا ، جنھیں چند لمحے قبل چھوڑا ہے ، بچے بہت چھوٹے ہیں ، کچھ کی بچیاں جوانی میں قدم رکھ چکی ہیں ۔ تو اُن کے
نصیبوں میں کون ہو گا ، گھر میں باقی رہ جانے والا سنگل معتبر کیسے اکیلے فیصلے کرے گا ،، کیسے ،، کیسے یہ سب ہو گا ،، ؟؟ ابھی " یکدم تبدیلی " کے منظر نے اسے چکرا دیا ہے ،،، جبکہ استقبالیہ ، ممبران ، محبتوں کے پھول لُٹا رہے ہیں ،،، جنت بہت ذیادہ رَش والی جگہ لگ رہی ہے ۔۔ جگہ جگہ انواع و اقسام کی لذتیں متوجہ کر رہی ہیں ۔۔۔ خادمائیں ، اور غلام تیزی سے طعام پہنچا رہے ہیں ۔۔ ایک عرصے بعد جنت کچھ بھری بھری لگ رہی ہے ،، شاید وبا اسی لیۓ بھیجی گئی ہو کہ دوزخ ہی پُررونق ہو رہی تھی ،، اب جنت کے مقیمی دھڑا دھڑ آن کر بساۓ جا رہے ہیں ۔۔۔ مولا کے رنگ نیارے ،، مالک کے رنگ سارے !!
( منیرہ قریشی ، 8 جنوری 2021ء واہ کینٹ ) ( کوویڈ 19 کے تناظر میں ، ایک دن کی سوچ )

جمعہ، 1 جنوری، 2021

" 2021 کا 2020ء سے مکالمہ"

" 2021 کا 2020ء سے مکالمہ"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جاتے سال سے نئے سال نے پوچھا
کیسا رہا تیرا قیام ؟؟؟
کچھ نئی ایجاد ؟ کچھ نئی فتوحات ؟
کچھ نۓ انداز کچھ نئے خیالات ؟
پرانے نے تھکے لہجے میں کہا !!
آہ کچھ درد و الم نا قابلِ بیان رہے
میں تو لمبی جدائیوں کا سال بنا رہا
کچھ عارضی جدائیوں کے شب و روز ہیں ابھی
امیدیں ہیں لمبی ، بے اعتباریاں بھی ہیں وہی
بے صبری ، آپسی بد امنی بھی ہےابھی
خواہشوں کے جال میں پھنسا بیٹھاہے انسان
اپنے ہی ہاتھوں بے سکون ہوا بیٹھا ہے انسان
کہتا ہے پھر بھی زمانہ ہی ہے بُرا ،،،،
آہ ،کچھ اپنے نفس کا نہ جائزہ لیا ،،،
آزمائشوں میں گھِرا ہے ، مگر تکبر ہے وہی
وہی نمائش ، لمبی لمبی تدبیریں ہیں وہی !
نۓ سال سنبھل کر جانا ،،،،
عجیب جرثوموں نے دنیا کو ہے گھیرا
کہیں تم بھی اس کی لپیٹ میں نہ آجانا
اور "منحوس " کا لقب لیتے ہوۓ نہ رخصت ہونا

( منیرہ قریشی یکم جنوری 2021ء واہ کینٹ )