جمعرات، 8 اپریل، 2021

"اک پرِّخیال " ۔۔ "بہاریہ پیغامات "

" اک پرِّ خیال "
' بہاریہ پیغامات '
دسمبر 2019ء سے 2021ء آن پہنچا ہے اور کوویڈ 19 ، یا کورونا 19 کے نام سے پوری دنیا میں ناموری حاصل کرنے والی وباء نے ،،، انسانوں پر اپنے پنجے گاڑے ہوۓ ہیں ۔۔۔۔ انسان کے اشرف المخلوق ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے اس وبا کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے ،،،، لمحہ بہ لمحہ ،،، دن بہ دن ،،، اور تسلسل سے اپنی زندگی میں تیزی سے وہ تبدیلیاں لاتا چلا گیا کہ جس سے " زندگی مفلوج ہونے سے بچی رہے ،، جلدی جلدی اس کے سدِ باب ،، جاننے کی کوششیں کی گئیں ،، اس کی کوئی دوا نہیں ،، بس احتیاط ہاں البتہ، سب سے پہلے نمبر پر کوشش کر کے ویکسین بھی ایجاد کر لی گئی ۔۔۔۔۔اور اب ،،،، جائزہ لیا گیا کہ انسانوں کے بیرونی اور اندرونی " مزاج " کس حد تک متاثر ہوۓ ہیں ۔۔۔۔ اب سائیکالوجسٹ ،،، اور روحانی معالج ،،، اور ڈیپریشن کے ڈاکٹرز ،،، اپنے اپنے میدانوں میں تحقیق کر کے علاج ، تجویز کر رہۓ ہیں ،،،، رہن سہن کو آسان بناۓ جا رہۓ ہیں ۔
اور اب مارچ ،اپریل 2021ء ہے ،،،، سڑکوں ، باغوں ، ویرانوں ، بیابانوں ، اور صحراؤں میں بہار کسی نا کسی رنگ میں آ موجود ہوئی ہے ۔۔۔ یہ چھوٹا سا دورانیہ ہے لیکن ،،، " کُوڑے کے ڈھیروں " پر بھی کہیں پھولوں کے رنگوں کی جھلک نظر آ جاتی ہے ،،، تو جہاں انسانی کوشش ہوں ،، اور وہاں پھولوں کی نمو کے لیۓ تردد کیا گیا ہو ،،، وہاں تو پھر۔۔۔
" بہار پُر بہار ہے ،،،، ترنمِ ہزار ہے ،،،، یا پھر میر تقی میرّ کا یہ شعر ،
؎ چلتے ہو تو چمن کو چلیۓ ، کہتے ہیں کہ بہاراں ہے ،
پھول کھلے ہیں، پات ہرے ہیںکم کم باد و باراں ہے
کون سے وباء ،،، کون سی پابندیاں ،،،، بہار کہیں دروازے کھٹکھٹا کر آ رہی ہے ،، ( گلدستے بھیجے جا رہۓ ہیں )۔۔۔ کہیں واٹس ایپ کے ذریعے اپنے لان کے ہر رنگ کو دوسروں کی آنکھوں کی طراوت کے لیۓ بھیجا جا رہا ہے ،،،،، اور کہیں بہار کو ترنگ و آہنگ کی صورت شیئر کیا جا رہا ہے ۔
آہ اے انسان ! تو واقعی اشرف المخلوق ہے ،، کہ موت کے رقص میں بھی مسکراہٹ کے مواقع ڈھونڈ لیتا ہے ،،، اور کائنات بھی اس موسمِ رنگ و بُو ، میں کسی بخیلی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ،،،جیسے کہہ رہی ہو امیدِ بہار رکھ ، امیدِ بہار رکھ !!!
امجد اسلام امجد کا بھی شکریہ ،، جنھوں نے کہا تو ہے !
" خوشبو کی پوشاک پہن کر
کون گلی میں آیا ہے ،
کیسا یہ پیغام رساں ہے
کیا کیا خبریں لایا ہے
کھڑکی کھول کر دیکھو باہر
موسم میرے دل کی باتیں
تم سے کہنے آیا ہے ،،،،،،

( منیرہ قریشی 9 اپریل 2021ء واہ کینٹ ) 

پیر، 5 اپریل، 2021

" اک پّرِ خیال " ' شاید ،،،،،'

" اک پّرِ خیال "
' شاید ،،،،،'
دو جنگِ عظیموں کے بعد دنیا نے اپنے زخمی اور بریدہ جسم کو سمیٹنا شروع کیا ،،، اسی سلسلے میں تمام ممالک کی متحدہ یونین یا کونسل بنی ،،، تاکہ تمام مخالفین باہمی گفت و شنید کے بعد اپنے مسائل ، اور گلے شکوے ایک چھت تلے اکٹھے ہو کر ، بیٹھ کر حل کر لیں ،،،، لیکن اس دوران یہاں بھی بالکل وہی ماحول نظر آنے لگا ،،، جیسے ایک گاؤں میں نظر آتا ہے کہ ،،،
ہر گاؤں میں ایک چودھری ہوتا ہے ، اور کبھی کبھی زیادہ چودھری بھی ہوتے ہیں جو اپنے مفادات پر آپس میں مل جاتے اور باقی گاؤں کے لوگوں کو ڈرا کر یا مرضی کے قوانین بنا کر اسی کے تحت " راج " کرتے ہیں ۔ ،، اور چین کی بانسری بجاتے ہیں ،،، جبکہ باقی کمزور نسل کے دلوں میں ان سے نفرت اور انتقام کا لاوا پکتا رہتا ہے ۔۔۔ لیکن کچھ نہیں کر سکتے .
پہلی اور دوسری ،، جنگ پوری دنیا نے سہہ لی ۔ اور دونوں ہی چار ، چار سال چلیں ،،،، اور دونوں جنگوں کے درمیان چار ہی سال کا وقفہ رہا ۔۔ متحدہ اقوام کی آرگنائزیشن نے دوسری بڑی جنگ کے بعد 72/73 سال خیریت سے گزروا ہی دیۓ ( کسی نا کسی طرح ) لیکن ان عظیم جنگوں میں جس طرح گاجر مولی کی طرح لوگ ، ہلاک کیۓ گۓ ،،،اور رہی سہی کسر تقسیم ہو تے ملکوں سے پوری ہو گئی ۔ ،،، تو اگر ابنِ آدم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہر دو چار ، یا چھے صدیوں بعد ایک ایسا بڑا واقعہ آتا ہے ،، جو انسان اور انسانیت کو ہلا کر رکھ دیتا ہے ،،، چاہے وہ جنگیں ہوں ، زلزلے ہوں ، سیلاب ،،، یا پھر ،،، وبائیں ،،، اور تیسری جنگِ عظیم کی تیاری کے شعلے کبھی بجھاۓ اور کبھی جلاۓ جا رہے تھے ،،، ہر ملک اپنے کم یا زیادہ وسائل کے اندر آنے والی تباہیوں کے لیے تیار تھا ۔ ،،،، کہ سارا کرۂ ارض ،،، ایک ایسی لپیٹ میں آ گیا ،،، کہ ،،، اب ہائیڈروجن ، یا، ایٹم بم ،،، نیپام بم یا کروز میزائل ،،، سبھی ذخیرے ،،تالوں میں چلے گۓ ہیں ۔ اور ساری دنیا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
چند ویکسین کے قطروں ،،، پانچ انچ کے ماسک کے ٹکڑے ،،، اور ،،، ڈیپریشن کے خوف کے دائروں میں محدود کر دی گئی ،،، کسی بم کی ضرورت نہیں ،، کسی سر زمین پر قبضے کی ضرورت نہیں ،،، کہ قبضہ ہو بھی گیا ، تو حکومت کون کرے گا اور کس پر ؟؟؟؟؟ شاید انسانوں کو انسانیت کا سبق یاد دلانے کے لیۓ قدرت نے اپنے انتظام کو حکم صادر فرما دیا ہے ،،،ہم اپنے اصل اور ،،، اس کے پیغام کو نظر انداز کر رہے تھے ،،،، شاید !!!
( کورونا 19 کے تناظر میں ایک سوچ )

(منیرہ قریشی ، 6 اپریل 2021ء واہ کینٹ ) 

بدھ، 31 مارچ، 2021

" اک پرِخیال" ویکسینیڈڈ،،!

" اک پرِ خیال"
ویکسینیٹڈ،،،،،،،،،،!
آج آخر کار " بزرگ ہونے کے ناتے کرونا 19 " کی پہلی ویکسین کی باری آ گئی تھی ، دونوں بیٹے پُر جوش تھے ،،، جیسے مجھے کسی اہم ، بلکہ اہم ترین مشن پر بھیج رہے ہیں ۔ چہرے پر دو ماسک لگواۓ گۓ ۔ بڑے صاحب زادے نے گاڑی ڈرائیو کی اور راستے بھر ہلکا پھلکا لیکچر بھی دیا گیا ، کہ ،،،،،،
اگر بی پی ( B.P ) آج کل ٹھیک نہیں تو ابھی نہیں لگواتے ،،، اور اگر آپ گھبرا رہی ہیں تو ، کل سہی ،،،،،، اور اگر اس ویکسین کے آفٹر ایفکٹس کی ابھی تک واضح محرکات سامنے نہیں آۓ ،،، تو چند ہفتے اور انتظار کر لیتے ہیں ۔
آپ کو پیاس تو نہیں لگ رہی ، یہ منرل واٹر پڑا ہے !!! میَں نے بہادرانہ جذبے سے کہا ،، کوئی مسئلہ نہیں آ جکل سب ٹھیک رپوٹیں ہیں ۔۔۔ اس لیۓ آج ہی لگوالیتے ہیں ۔
ویکسینیشن سنٹر 10/12 منٹ کی ڈرائیو پر تھا ،،، وہاں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ڈیوٹی پر تھے ،، اور اس ہال میں فاصلے پر 15 یا 16 کرسیاں لگائی گئی تھیں ، جن پر چار پانچ بزرگ ،، خواتین اور حضرات بیٹھے ہوۓ تھے ۔
اپنا شناختی کارڈ کاپی دی ،،، ایک بچی نے بلڈپریشر چیک کیا ،،، اور دوسری نرس نے انجکشن تیار کیا ،، اس ایک منٹ میں انجکشن لگا ، اور 10 منٹ انہی کرسیوں پر انتظار کا کہا گیا ، تاکہ اگر کوئی ری ایکشن ہونا ہوا تو فوری سدِ باب کیا جا سکے ۔ انجکشن اتنے ماہرانہ انداز میں لگایا گیا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ انجکشن لگا بھی تھا یا نہیں ۔
دس منٹ کے انتظار کے بعد بیٹے سے پوچھا " دس منٹ ہو نہیں گئے ؟" ،،، اس نے بتایا 12 منٹ ہو گۓ ہیں ۔( اس کا دل ہو گا شاید 20 منٹ اور بیٹھا جاۓ ۔۔ تاکہ ہر طرح سے "سب ٹھیک ہے" کی رپورٹ مل جاۓ )، میں نے ان سب لڑکیوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور بہت آرام سے واپسی کی راہ لی ۔
گھر آکر دوسرے صاحب زادے کی ہدایات پر عمل کیا گیا یعنی ،،،، ماسک پھینک دیں ،،، اب نہا کر دوسرے کپڑے پہنۓ ،، اور ان کپڑوں کو دھونے ڈال دیں ۔ ،، طبیعت تو خراب نہیں ہو رہی ؟ بس آپ اب آرام کر لیں ۔
اور یوں ،، ڈیڑھ سال سے پوری دنیا میں چیختی چلاتی ، وبا ، سے بچاؤ کی دواء ایجاد کی گئی ۔ اور اسے بزرگوں پر پہلے آزمانے کا اعلان ہوا ،،، کہ ان پر وبا کا حملہ جلدی ہو جاتا ہے / ہو سکتا ہے ،،، لہٰذا بزرگ پہلے بچاۓ جائیں ،،،، کیا واقعی ؟؟؟ یا ان پر ویکسین آزما لی جاۓ ۔۔ تجربہ اچھا رہا تو ٹھیک ،،، تجربہ غلط ہوا تو مزید تحقیق !!!
جو بھی تھا ،،، اس وبا کے بعد " بزرگ " لیبارٹری ٹسٹ کے وہ زندہ افراد بن گۓ ۔۔۔ جو بہ خوشی اپنی اگلی نسل کو بچانے کے لیۓ خود سامنے آ چکے ہیں !
اللہ ہماری نئی نسلوں کو ہر آفت و وبال سے محفوظ و مامون رکھے آمین !! اور ،،،، اب جو بزرگ آپس میں فیملی فنکشنز میں ملیں گے ،،،، ان کا تعارف کرواتے وقت یہ جملہ سننے کو ملتا رہۓ گا
" کوئی فکر نہیں ،،، ویکسینیٹڈ " ،،،،،،،،،،،،،،،،
پہلے تعارف یہ کہہ کر کرایا جاتا رہا ہے
" جی ! یہ ہیں حاجی صاحب !!! لیکن اب حاجی صاحب کے فور! بعد بولا جاۓ گا ، ویکسی نیٹڈ،،، !! ( یعنی فکر کی کوئی بات نہیں )
یہ ہیں پرنسپل فلاں کالج کی ، ویکسینیٹڈ!!!
ان سے ملیۓ ،، ڈاریکٹر فلاں ،،،، ویکسینیٹڈ !!!
اور یہ ہیں ہمارے علاقے کے وزیر ،،، ویکسینیٹڈ !!!
تب ہی ان سب کو کچھ پروٹوکول دیا جاۓ گا ،،، ان سے ہاتھ ملایا جا سکے گا ۔۔ اور اگر کسی نے بتا دیا " نان ویکسینیٹڈ "،،،،،، تو شاید بھارت میں دلت کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے ،،، شاید اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو نہ جاۓ،،،، آہ ،،، یہ وقت بھی آنا تھا ،، یہ وقت بھی دیکھنا تھا ۔
( کرونا وائرس کے تناظر میں ایک سوچ )

( منیرہ قریشی 31 مارچ 2021ء واہ کینٹ) 

منگل، 23 مارچ، 2021

" اک پرِخیال " " انعام "

" اک پرِ خیال "
" انعام "
ہمارے ملازم کی والدہ ایک عرصے سے بیمار چلی آ رہی تھی ۔ والدہ اپنے دوسرے بیٹے اور ایک پڑوس میں رہتی بیٹی کی سپردگی میں تھیں ۔ جب تک سفر کے قابل رہی کبھی کبھار دوسرے شہر میں بستے دو بیٹوں کے پاس بھی رہنے چلی جاتی اور ،،، یوں بڑھاپا اور زندگی ، مختلف ہاتھوں اور رویوّں کے ساتھ گزارا جا رہا تھا ، یا گزر رہا تھا،،اب کچھ سالوں سے اپنے آبائی گھر میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی ،،، جہاں بیٹا اور بیٹی بھی ساتھ تھے ۔ دونوں نہ صرف بال بچے دار ،،، بلکہ اب اپنے بچوں کو بیاہ رہے تھے ۔ اس دوران ہمارے ملازم کو جب بھی اطلاع دی جاتی کہ وہ بیمار ہیں ،،، یا ،، بہت بیمار ہیں ،،، یا ،، آؤ ذرا اب انھیں فلاں بیٹے کے پاس چھوڑ آئیں ، تو وہ فوراً چھٹی لے کر یہ ڈیوٹی دینے چلا جاتا ،،، ہم نے بھی اسے کبھی نہیں روکا ۔ اب کرونا کے اس ڈیڑھ سال میں وہ تین چار دفعہ اپنے پہاڑی گاؤں جاتا یا اسے بلایا جاتا ،، دو دن بعد وہ واپس آتا تو پوچھتے ،، " کیا حال ہے والدہ کا " ،،، وہ سادہ اور سپاٹ لہجے سے جواب دیتا ،، " بس کچھ آرام آ گیا تو میں چلا آیا ،، بس جی بہت بوڑھی ہو گئی ہیں اس لیۓ اکثر بیمار رہتی ہیں ، چند دن قبل پھر اسی قسم کا پیغام ملا اور تین دن بعد آکر ہمارا وہی پوچھنا ،، اس کا وہی سپاٹ لہجے میں جواب دینا ہوا " کہ جی بہت بوڑھی ہوگئی ہیں ، بس یہ ہی وجہ ہے بیماری کی " ۔
اور کچھ دن بعد ہی ان کے فوت ہونے کی اطلاع آ گئی ،، اور اس نے فوری روانگی پکڑی ۔
واپسی پر پوچھا " کیا ہوا تھا اس آخری وقت میں " تو اس نے وہی سپاٹ لہجے میں کہہ دیا ، " بس جی وہی بڑھاپا "
اتفاق سے کچھ بہت خوش حال خاندانوں میں بھی بوڑھے والدین کے ساتھ ایسا ہی رویہء ہوتا ہے کہ " اب ہم کیا کر سکتے ہیں ! یہ بوڑھی / بوڑھے ہیں ، جو بیماری ہے بھی تو کیا ہو سکتا ہے ، یہ تو بہت عمر دیکھ چکیں ،،، اب ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ ؟؟؟ یہاں اپنے فرض یا رویّۓ کو بالکل بھی قابلِ ذکر نہیں سجھنا ۔ گویا جب اس عورت نے بچے پیدا کیۓ ،، انھیں پالا پوسا ،،یہ وہ دورانیہ تھا ، جو " سبھی ماں باپ ایسے ہی کرتے ہیں " کا جملہ ان کے منہ پر بیٹھا ہوتا ہے ۔
اور بد قسمتی سے خوشحال یا غریب گھرانوں کے ایسے لمبی عمر کے بزرگ ایک کمرہ یا یا ایک بستر کی جگہ گھیرے ہوۓ ہوتے ہیں ،،، اور گھر کے نوجوان ہوتے بچے " گِدھ کی طرح روزانہ نظر ڈالتے رہتے ہیں ،، پتہ نہیں کمرہ کب خالی ہو گا؟؟ ۔۔۔ بستر کی جگہ کا ایک منفرد آئیڈیا ذہین میں تو ہے مگر ،،،،،،،،زیرِ لب ،،، دل میں اٹھتے یہ بے رحمانہ جملے اس لیۓ جگہ پاتے ہیں کہ اب " اقدار اور احترام کے زمانے گۓ ، گھر کی تربیت گاہیں " یعنی ماں " بھی ایسی کیفیت لیۓ منتظر ہے ۔۔۔ حالانکہ وہ نہیں جانتی ،،، کچھ عرصے بعد اسی بستر پر وہ خود براجمان ہو سکتی ہے ،،اور قریب سے گزرتے " جوشیلے " ناگورا نظریں ڈالتے گزر جائیں گے ۔
لیکن ایسے ہی وقت میں ، ایسے ہی دورا نیۓ میں جنت و دوزخ کا رزلٹ تیار ہو رہا ہوتا ہے ۔
حضرت اویس قرنی (ر ض ) کواسی رشتے کی خدمت نے ،، نبیؐ کی زیارت کے بغیر ہی " صحابی ر ح کا لقب دلا دیا ۔
اللہ خالق و مالک نے دل کی چاہت کی شدت کا حساب کتاب جانچ لیا تھا ،،، ترازو میں ایک طرف چاہت و محبت تھی ،،، دوسی طرف فرض شناسی کا خالص جذبہ ،،،، لمحے بھر میں فرض شناسی کا احساس غالب ہوا ،، اور چاہتِ محبت کو اللہ کی رضا سمجھ کر چھوڑ دیا ،،، کائنات کا مصور اور مُنصف ،، مسکرا اُٹھا ۔۔۔ اور ترازو میں رکھے فرض پر محبت کی نظر ڈالی ۔ کہ ،،، وہ خود بھی اپنی محبت کی مثال اسی " ماں کے رشتے" سے دے چکا تھا اور پھر ،،، فرض کی ادائیگی پر انعامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ،،،، اویس ر ض نے تو نہیں کہا " وہ بہت بوڑھی ہیں ،، حواس بھی صحیح نہیں ہیں ،، دو چار گھنٹے دیر سے بھی پہنچا تو کیا فرق پڑے گا ۔

( منیرہ قریشی ، 23 مارچ 2021ء واہ کینٹ ) 

ہفتہ، 27 فروری، 2021

"کیوں ؟؟؟"

گھوڑے اِک عجب سرکشی اور زور آوری سے بھاگتے ہیں

راستوں کے منظر اور رنگ مدغم ہیں باہم

اب کوئی فکر نہیں ہے

وہ ٹکراتے ہیں کہیں ، یا ٹھہرتے ہیں

لمبی دوپہروں میں،یا طویل راتوں میں

خنک شاموں میں ، یا سحر انگیز ، وقتِ سحر میں

،،،،،،،زندگی

کہ جس کے جُزو و کُل سے نا آسودگی نہ گئی

اور اسی جُزو کُل کے درمیاں " کیوں " کا پُل ہے

نا پائیداری ہی اول و آخر سبق ٹھہرا

کبھی کسی منظر میں ، کبھی کسی جذبے میں

!!! اے کائناتِ قدیم

ہر منظر کے پس منظر میں اِک سائیہء نامانوس

ہاتھوں کے اشاروں سے ،، ہلکی ہلکی سرگوشیوں سے

وہ کچھ کہہ تو رہا ہے ،

آسودہ قلب کہاں ہیں ،

آسودہ قلب کیوں نہیں ہیں ؟؟

خیالوں کے سرکش گھوڑے

کہاں ٹکرائیں ،، کیوں کر ٹھہریں

میَں کیوں جانوں !! میَں کیوں دہلوں !

احتیاطوں نے تھکا مارا ہے ،،

کیوں کی گونج نے ستا مارا ہے

( منیرہ قریشی 27 فروری 2021ء واہ کینٹ )

بدھ، 3 فروری، 2021

"لمحےنے کہا"

"لمحےنے کہا"

(اِک پرِِخیال)

اصل میں تو " اک پرِ خیال " کے چھپر تلے سبھی خیالات کو ذیلی عنوان دے کر الفاظ کا پیرہن پہنا کر قارئین کے سامنے لاتی رہی ہوں ،، کبھی یہ لباس خوش رنگ ، اور نظر پذیر ہوتے اور کبھی خاصے پھیکے ، بد رنگے ،،، کبھی قیمتی لفظوں کا جامہ ہوتا ،،، اور کبھی معمولی لباس اس کی حیثیت متعین کرتا رہا ،،،، لیکن شکریہ اُن لوگوں کا جنھوں نے ہر لباس کو کسی نا کسی ستائشی جملے سے سراہا ،، اور مجھے اپنے معیار کا اندازہ ہوتا رہا ،،، لیکن لکھنا نہ چھوڑا ۔ اور یوں " اک پرِ خیال " کے تحت اتنے انشائیۓ جمع ہو گئےکہ ایک کتاب بن سکے ،،، لیکن پنتالیس سال سے کبھی چھوٹے دورانییۓ اور کبھی لمبے وقفے سے نثری یا آزاد نظمیں لکھتی رہی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں ، واقعات، ان کے تفکرات اپنے محسوسات کو ایسے لکھتی رہی ،، کہ جیسے اگر یہ الفاظ نظم کی صورت نہ لکھے تو لفظ سونے دیں گے ، نہ ضمیر چین سے بیٹھے گا ۔ چنانچہ دوسو سے زیادہ نظموں کو ایک عام سی ،، کسی حد تک ردی سی ڈائری میں لکھتی رہی ،،، ،،، کچھ مضمحل ،، کچھ متفکر دنوں کے وجود سے کبھی کبھی ،، ایک خوش رنگ خیال سامنے آ جاتا ہے تو متفکر فضا سے جیسے کثافت دْھل سی جاتی ہے ۔

اتنی تمہید باندھنے کی وجہ یہ بتانا تھا ،، کہ کُرونا 19 نے جہاں سب کو ہی محدود کر دیا ،، وہاں بزرگوں کو ان کی بزرگی کام آئی ، اور انھیں قیمتی جانتے ہوۓ " باہر آزادانہ جانے کی ممانعت کر دی گئی ۔ مجھے یوں لگا کہ یہ دن صرف سوچے جانے والے کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے بھی ہو سکتےہیں ۔ تو چلو وہی کام نبٹا دیۓ جائیں ۔ اور یوں اپنی پنتالیس سالہ کاوش ، اپنے ذہن کی " کان " سے کان کنی کر کے نکالے گئے " نودرات " ترتیب دیۓ اور ، شائع کروانے دے کر سب کے سامنے رکھ دیۓ ۔ شاید پڑھنے والوں کے لیۓ " بس ٹھیک ہی ہیں " کا جملہ ہو لیکن میرے لیۓ یہ نوادرات ہیں،،،مجھے یوں لگا یہ الفاظ قیمتی لمحوں نے مجھے سکھاۓ ، مجھے سماعت پذیر کیۓ،دل میں اتارے ،، اور پھر صفحات میں پھیلا دیۓاسی لیۓ اپنی زندگی کے اس خوبصورت اور قیمتی کارنامے کو اُسی لمحے کے نام کر دیا ۔ اور اس طرح مجھے،، کرونا19 کے لمبے بے کار دنوں میں اپنی پہلی کتاب پر کام مکمل کرنے کا موقع اللہ رب العزت و الرحمٰن نے دے دیا اور تین فروری 2021 میرے لیۓ ایسا دن تھا ، جیسے میں چار سال کی ہوں ، آج میرا نتیجہ ہو اور غیرمتوقع طور پر پہلی پوزیشن مل جائے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے اللہ کی رحمتِ خاص مجھ پر پھوار بن کر برس رہی ہے۔ مشہور مصنف شفیق الرحمٰن نے ایک جگہ لکھا ہے " بڑی عمر ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جب چوٹ لگے تو آنسو روکنا ہیں لیکن چوٹ اتنی شدید ہوتی ہے ، کہ رونے کو جی چاہتا ہے اور میری اپنی اس کامیابی پر ( شاید باقی مصنفین ، و شعراء پر پہلی تصنیف کا یہ ردِ عمل نہ ہوا ہو ) یہ محسوس ہو رہا تھا اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ " یوں لگ رہا تھا کہ مجھے کم از کم فیس بک پر اشتہار دینا چاہیے،،،لوگو!اس عمر میں پہلی تصنیف کا سامنے آ جانا ،،ایک بڑا کار نامہ ہے؛؛؛،،،لیکن کیا کروں کہ عمر کا تقاضا کہ جذبات کو ضبط سے پیش کیا جاۓ ! "۔

میری آنکھوں سے اللہ کے بعد ہر اس شخص کے لیۓ تشکرکے آنسو تھے،،جنھوں نے مجھے آسانیاں دینے میں کوتاہی نہیں کی ، ،،" لمحے نے کہا " کے نام سے میری نظموں کی کتاب شائع ہو کر اب ہر اس گھر کے شیلف میں پہنچ رہی ہے، جو میرے بعد بھی کبھی کبھار مجھے محبتوں سے یاد کرتے رہیں گے،،،الحمدُ للہ ، الحمدُ للہ،۔

( منیرہ قریشی 3 فروری 2021 ء واہ کینٹ )

اپنی اب تک کی زندگی میں لا تعداد،،،ان گنت بے شمار نعمتوں کے لیۓ اپنے خالق کی شکر گزار ہوں !۔

منگل، 26 جنوری، 2021

"صحرائی خفیہ پیام "

" صحرائی خفیہ پیام "

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بے کنار صحرا کی بولتی خامشی
اِک پیام ،،،،
اور پھر سائیں سائیں کی آواز بھی
اِک پیام ،،،،
اسی سائیں سائیں کے پھاوڑے سے
بنتے بگڑتے ٹیلے ۔۔ اِک پیام !!!
کیکٹس کی مختلف النوع اشکال  
اِک پیام ،،،،،
جانبِ مخلوقِ ریگ ، شاید اِک پیام
کچھ اشارے ، کچھ کِنائے !
رات میں شدتِ برودت ، اِک پیام
دن کی شدتِ حدت ، اِک پیام!
کچھ کہی ، کچھ اَن کہی کہانیاں
صحرائی خفی نمبرِِ،،،کھولو،
ہر ذرہ،ریگ کچھ کہنے کوبےقرار
ایک کوڈِ،،،اور بس عیاں رازہائے کائنات
ہاں،یہ صحرا سجدۂ ہائے اخلاص کے گواہ
آہ ! پیشانیوں پر چمکتی ریتلی کہکشاں!!!
(منیرہ قریشی 26 جنوری 2021ءواہ کینٹ)