منگل، 7 جولائی، 2020

" ہائیکو ۔۔۔۔ رات "

٭۔۔۔ جب" رات " کو
میَں نے کھڑکی سے جھانکا
تو اندھیرے نے مجھے ڈرا دیا !!۔
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات میں
درخت یوں سہمے کھڑے ہیں
جیسے اندھیرے سے ڈر رہے ہوں
٭٭٭٭٭٭
٭۔۔۔رات نے
چُپکے سے آکر میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے
اور اٹکے آنسوؤں سے اسکے ہاتھ بھیگ گئے!۔
٭٭٭٭٭٭
( منیرہ قریشی 7 جولائی 2020ء واہ کینٹ )

پیر، 6 جولائی، 2020

" لمحۂ خیال "

۔" لمحۂ خیال ( 1)۔
٭جب زندگی میں آپ کبھی برائی  یا رویوں  کی گراوٹ کا شکار ہو جائیں،اور اس کھائی میں لڑھکتے چلے جا رہے ہوں،،، کوئی منع کرنے والا نہیں،کوئی روکنے والا نہیں۔۔۔بس اتنا کریں کہ لمحے بھر کو رُک جائیں،،جہاں ہیں وہیں بیٹھ جائیں،،اب اِس جگہ ، اس گھڑی سےمزید " سطحی اخلاق " کے رویےپر جم نہ جائیں ،،،مزیدکوئی  جملہ کہہ کر جوابی وار نہ کریں ،، رُک جائیں۔ایسا نہ ہوکہ لڑھکتے چلےجائیں اور ابھی تو ڈھلان کی طرف لڑھکتے ہوئے،،،کچھ تو بیٹھنے، سانس لینے کی جگہ ہے ،،، لیکن اگر یہاں اس وقت نہ رُکے،،، تو پھر آگے کھائی ہے اور وہاں کہے گئے گھٹیا جملوں کی کھائی میں ، ہم خود چُورا چُور پڑے ہوں گے!!! کیوں کہ جواباً کچھ کہنا آسان ہے ،،، لیکن کچھ نہ کہنا معراج ہے ۔
پسِ تحریر۔۔۔
 یہ دانشمندی کی باتیں شاید نہ ہوں ،، البتہ زندگی کے وہ تجربات  ضرور ہیں  جو ہم ایسے ہی جملوں سے ترتیب دے ڈالتے ہیں ،،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے تو ہم " ٹھاکر " بنتے چلے جاتے ہیں !! کہ شاید کوئی ہماری تجویز سے فائدہ اُٹھا لے ۔ ایک فریق وہ ہوتا ہے ، جو ٹھوکر کھا کر جلد  ہی سمجھ   اور سنبھل جاتا ہے جبکہ وہیں دوسرا فریق ہوتا ہے جو " مجھ سے کچھ غلط نہیں ہوسکتا" کا رویہ اپناۓ رکھنے میں زندگی گزار دیتا ہے ۔ اللہ ہمیں فراست سے بہرہ مند فرماتا رہے۔آمین !۔
( منیرہ قریشی ،، 5 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" (2)۔
٭"جب بھی کسی سے اختلافِ راۓ ہو ، اور اُسے جوابی جملے بہ آسانی سناۓ جا سکتے ہوں ،،، تو لمحے بھر کو رُک کر یہ ضرور سوچ لیں کہ اگلے پانچ یا دس سال بعد یہی جملے آپ کو خود کوئی اور سُنا رہا ہو گا ،،، تو دل کی کیا کیفیت ہو گی ؟؟؟؟کیوں کہ جس طرح محبت کے بدلے محبت مل ہی جاتی ہے تو دل آزار جملوں کی بھی کبھی نہ کبھی باری آ ہی جاتی ہے "۔
( منیرہ قریشی 6 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال " (3)۔
امیر خُسروؒ نے مُرشدؒ کی نعلین 7 لاکھ چیتل ( اُس وقت کا سِکّہ) میں خرید لی تھی ، اللہ کی محبت تک لے جانے والے "رہنما"سے شاندار اظہارِ عقیدت ،،،،،۔
لیکن عام عوام بھی خوش قسمت ہیں کہ جیب خالی ہی سہی ،زبان اور دل، اُس کے وِرد سے اظہارِمحبت کر تے رہتے ہیں! (باعثِ اطمینان ، باعثِ اطمینان )۔
( منیرہ قریشی ، 8 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" (4)۔
کئی دفعہ دل کا برتن سکون اور شکرگزاری سے اتنا لبالب بھرا ہوا ہوتا ہے کہ اب ایک قطرے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ،،،،، لیکن پھر پتہ نہیں کیسے ،، اس میں سے بےچینی اور بےسکونی چھلکنے لگتی ہے ۔ اور لبریز برتن دیکھتے ہی دیکھتے آدھا ہو جاتا ہے ،، نہ جانے کیوں ؟! شاید فطرتِ انسانی !! شاید تلاشِ اَصل !!!!۔
( منیرہ قریشی 9 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔"لمحۂ خیال" (5)۔
۔'' زندگی میں کچھ لوگ ہمارے لیۓ ہمارا ٹسٹ ہوتے ہیں ،،،، لیکن !لمحے بھر کے لیۓ سوچیئے ،،،،،کہیں ہم اُن کے لیۓ            تو "   ٹسٹ" نہیں بن رہے !!۔
( منیرہ قریشی 11 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال ( 6)۔
۔" عجمی سے عربی کی الہامی آیات و الفاظ کی ادائیگی میں کچھ کمزوری ہو بھی جاۓ ،،،تب بھی اخلاص و محبت کے گراف سےپاسنگ مارکس لے ہی لے گا " ( ان شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 12 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔
۔" لمحۂ  خیال" (7 
۔" متکبر لوگ کتنے ' قابلِ رحم '      ہوتے ہیں ۔ اپنی سزا خود اپنے کاندھوں پر اُٹھاۓ پھرتے ہیں ،، وہ سزا ،، نخوت کی رسی ہوتی ہے ۔جو روزانہ انہیں جکڑتی چلی جاتی ہے "۔
( منیرہ قریشی15 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال " (8).۔
۔" میرے خالق ! میرے آنسو تیرے سامنے ، تیری محبت میں بہتے ہیں ،،یا ،، تیرے خوف سے ،، یا ،، تیری شکرگزاری میں!!! درجہ بندی کرنے والی بس تیری ذات پاک ہے ۔
( منیرہ قریشی 16 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" ( 9)۔
۔" اگر کسی کا راز رکھنے کا ظرف نہیں ہے ،،تو نہ اگلے کو " کُریدیں " ،،، نہ کچھ سننے کی کوشش کریں ! ایسے موقعوں پر " بہرا " بن جانا ،اعمال کو وزن دار کر سکتا ہے " !۔
( منیرہ قریشی 17 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" (10)۔
۔" اچھی سوچ " خیر" ہے ،،،، اب اسےنرم ریشم اور احترام کے "الفاظ " کا لباس پہنا دو ۔
۔" بُری سوچ " شَر"ہے ،،، اسے طنز و تنقید کے" الفاظ کا لباس " پہناؤ گے ،،، تو خود ہی ننگے ہو سکتے ہو !!۔
( منیرہ قریشی، 19 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال (11)۔
۔'' یہ اولیاء اللہ بھی خالق کی کیا شاندار اور بےمثال تخلیق ہیں ۔ اپنے نفس کو نکال کر اُسے چوکیدار کی وردی پہنا ، ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا ،، دروازے پر کھڑا کر دیتے ہیں ۔ خود پچھلے دروازے سے دنیا پِھر آتے ہیں جہاں ضرورت ہو وہاں مدد پہنچا کر ،،، پچھلے دروازے سے ہی داخل ہو کر ،،،، چوکیدار سے پو چھتے ہیں ،،، " کوئی آیا ، گیا؟؟؟ ""!۔
( منیرہ قریشی ، 20 جولائی 2020ء واہ کینٹ)
۔۔۔۔۔
لمحۂ خیال" (12)۔"
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔'' میَں دعاؤں میں بہت سے لوگوں کو شامل     رکھتی ہوں ، اس اُمید پر ، کہ اب بہت سے لوگ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر رہے ہوں گے۔سوچتی ہوں دعاؤں کے اتنے پارسلز کی "وصولیاں " کیسے نظر انداز ہو سکتی ہیں ۔ تو پھِر رحمت ، مغفرت ، اور تحفظ پر یقین تو بنتا ہے مولا !!
 ( بھلے یہ لین دین ہی سہی ) !۔
( منیرہ قریشی 23 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" ( 13)۔
کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیۓ "دُم دار ستارہ "بن جاؤ ! ( دُمدار ستارے کی جو بھی توجیح   ہو) وہ لمحے بھر کے لیۓ ،،، وارفتگی ، استعجاب ، اُمید ، اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
پسِ تحریر۔۔
دعا کے   عنصر  کا کیا کہنا،،، کہ جب مانگو ،، کچھ فوری ملے نہ ملے ،،، تسلی اور سکون ضرور مل جاتا ہے ،، جو کسی بھی بازار سے نہیں مل سکتا ! اور یوں اپنے ' اصل ' کے ساتھ کبھی مضبوط ، اور کبھی کمزور تعلق قائم رہتا ہے ،، اپنی باری پر پارسل کھلتے چلے جاتے ہیں ،الحمدُ للہ !۔
( منیرہ قریشی ، 25 جولائی 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ خیال" ( 14)۔
۔"جب آپ کسی محفل میں صرف دوسروں کی سُنیں اور کسی کے لیۓ کاندھا بنے رہیں ۔اور خود کو منوانے ، سنانے کی کوئی کوشش نہ کریں ،،، تودراصل آپ نے " سلمانی ٹوپی " پہنی ہوتی ہے " ۔
( منیرہ قریشی ، یکم اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔
۔" لمحۂ  خیال" (15)۔
۔ کبھی کبھی بولے جانے والے الفاظ ہی بندے کی اوقات  ،،، اور تعارف بن جاتے ہیں۔اور ، کبھی کبھی بولے گئے الفاظ ، بولنے والے کے خلاف گواہی بن جاتے ہیں ،،، اور سزا پر سزا سناتے چلے جاتے ہیں۔
آہ ! بندہ کب ، کہاں اور کیا بولے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی 12 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
۔"لمحۂ خیال" (16)۔
۔" اگر بندے کی ذات اور صفات کو ایک پلڑے میں رکھا جاۓ ،دوسرے پلڑے میں اس کے رویے اور احساسِ ذمہ داری کو ! تب باآسانی ستھرے یا گندے جینز" کا تعین ہو سکتا ہے۔(ورنہ بزعم خود بہت بلند باگ دعویٰ داری چلائی جاتی ہے)۔"
( منیرہ قریشی 18 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحۂ خٰیال"( 17)۔"
۔" کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ،، دنیا سے جانے کے بعد بھی "دلوں اور باتوں" میں روزانہ کی بنیاد پر خوشبو کی طرح موجود رہتے ہیں ، میرے خیال میں " شہادت " کا یہ بھی ایک درجہ ہوتا ہے۔
( منیرہ قریشی، 19 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔۔
لمحۂ خیال "(18)۔"
( الذّٰ رِ یٰت ، 28/29 )
۔" کہنے لگے فرشتے ، " نہ تم ڈرو " اور خوشخبری دے دی اُس کو ایک لڑکے کی ، تو اُس کی بیوی حیرت میں آ گئی اور چہرے پر ہاتھ مار کر کہنے لگی "میَں بڑھیا ، بانجھ "،؟! کہنے لگے فرشتے " اِسی طرح ہو گا "،، گویا   "اللہ  ذاتِ باکمال  "بندوں کو "خوشگوار حیرت" دے کر خوش کرتا ہے۔
دنیا میں بھی بعض دفعہ غیرمتوقع نعمتوں کا ِمل جانا  ہوتا ہے ،، امیدِ واثق ہے ، دوسری دنیا کاٹکٹ دائیں ہاتھ کی 'خوشگوار حیرانی' سے ہو گا ۔ ( اِن شا اللہ )۔
( منیرہ قریشی 24 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔۔
لمحۂ خیال " (19)۔"
۔" سواۓ تیری رحمت کے ، میرے پاس کوئی ' ہتھیار ' نہیں ۔اُمیدِ واثق ہے یہ ہتھیار کُند نہیں ہو گا ،،کہ زنگ سے بچانے کے لیۓ اسے نمکین پانی ملتا رہتا ہے"۔
( منیرہ قریشی ،27 اگست 2020ء واہ کینٹ )
۔۔۔۔ لمحۂ خیال ( 20)۔
" اگر مچھلیوں کے تیزی سے رقص کرنے سے سمندر کے پانی میں بُو پیدا نہیں ہوتی ،،،،، اگر زمین کے اندر کے کیڑے اپنی جگہوں کو تبدیل کرتے اور کھودتے ہیں اور ،،، یوں زمین بار آور ہونے کے عمل سے گزرتی رہتی ہے ۔ تو انسان جب تمام فرائض سے عہدہ برا ہو چکا ہوتا ہے ،،اور کرنے کو کوئی خاص کام نہیں رہتا ،،، تب اُسے تبدیلی آب و ہوا اور جگہ ،، اور ،، نئے مناظر کی اشد ضرورت ہوتی ہے ! تاکہ وہ بھی بقایا زندگی ، میں مچھلی یا چیونٹی کی طرح کوئی کام کر تا جاۓ ،، خود کے آخری دَور کو بدمزاجی اور نظراندازی کے صحرا کے حوالے نہ کر دے ! بھلا کیوں کرے ؟؟؟؟؟؟؟
( منیرہ قریشی ، 12 ستمبر 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 9 جون، 2020

" استعارہ"

" محض ایک دروازہ ہوں "
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مَیں تو محض ایک دروازہ ہوں
کبھی اُونچا ، کھُلا ، میخوں جڑا
کبھی نیچا ، اُکھڑا ، اُجڑا
مگر اِس کو الانگتے قدم
کبھی پُر اعتماد ، سیدھی نظر ، جمے قدم
کبھی یہیں سےگھُستی تیز ، تیکھی حاسد نظر
کبھی پلٹتے مایوس قدم ،،،گیلی نظر
کبھی پلٹتی انتقامی پھُونکیں ،،،،،
بہ واپسی طنز کے خنجر ، سازشی محفلیں
تیاریاں ،، تیاریاں !
کبھی حوالہ کہ باپ ہوتا ہے گھر کا دروازہ
سراپا مدافعت ، معاونت ، محافظت
کبھی مانند مثالِ ماں ہے گھر کا دروازہ
گرم ، سرد ، رُوکھا سُوکھا سمیٹنا سمٹانا
لیکن میَں تو محض ایک دروازہ ہوں
شاید محض ایک اِستعارہ ہوں ،،،،؟
( منیرہ قریشی 9 جون 2020ء واہ کینٹ 

اتوار، 24 مئی، 2020

" صبر کا سُرمہ "

" صبر کا سُرمہ "
( دعا ،،، اُن کے لیۓ جن کی آنکھیں اس عید سے اور آئندہ عیدوں میں بھی نمناک رہیں گی )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کوئی لفظ نہیں ،۔
کوئی جملہ نہیں ،۔
کہ بعض دفعہ الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں
کہ بعض دفعہ بھر پور جملے حقِ ادائیگی کھو دیتے ہیں !۔
خاموش آنسو زمانوں تک خود ہی مداوا بنتے رہیں گے !۔
دعا ہے ، اُن آنکھوں میں صبر کا سُرمہ بہہ نہ پاۓ
صبر کی صَف سے وہ کہیں نکل نہ جائیں !۔
کہ صبر اور محبتِ الہیٰ ،،، شرطِ حق ہےٹھہرا !!۔
اِنّ اللہَ مَعَ الصَابریِن ( اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے )۔
( منیرہ قریشی ، 24 مئی 2020ء واہ کینٹ )

 

منگل، 19 مئی، 2020

" اِک پر خیال(43)"

" اِک پر خیال"
تاریخ ہی تاریخ (حصہ دوم)۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مؤرخینِ تاریخ ، چاہے کسی بھی خطے سے متعلق ہوں ،، ذیادہ تر اُن میں وہ ہیں ،جنھوں نے لکھتے وقت انصاف سے کام لینے کی کوشش کی ہوتی ہے ،، ظاہر ہے تھوڑا بہت تعصب اگر آ بھی جاۓ ،،، تو یہ انسانی فطرت ہے ۔ کہیں عقیدہ ، کہیں معاشرتی لیول ، کہیں قبیلہ یا کہیں میلانِ طبیعت آڑے آ ہی جاتا ہے،،، لیکن مؤرخ ہمیں گزرے وقت میں چلائی جانے والی سازشوں ، خودغرضیوں ، ہیروز کی ان تھک محنتوں ، محبتوں ، اور اُن کی راہوں میں رکاوٹیں ڈالنے والوں شطرنج کی بساط بچھاۓ مہرے چلانے والوں کی کمینگیوں کو بےنقاب کرتا چلا جاتا ہے ،، اور اسی دوران عام عوام پر اِن چالوں سے ہونے والے اثرات کو ساتھ ساتھ واضح کرتا چلا جاتا ہے ۔ مؤرخِ تاریخ کا شکریہ ،،، جوہمارے لیۓ ایسے صحیفے چھوڑ جاتا ہے جو دراصل " ہمارا اپنا نوشتہ ہوتا ہے "۔
ہم جو آج زمانۂ حال میں ہیں ،،، ہم جو آج تاریخی کُتب پڑھ رہے ہیں ،، ہم جو آج کل، ماضی کے ہیروز اور غداروں سے متعلق جان رہے ہیں،،،، اس سب کا کیا فائدہ ؟ زمانۂ حال ہے لیکن کردار وہی ہیں ،، وہی انا کا مسئلہ ،، وہی لالچ  وخودغرضی کی ہوس،،وہی عارضی زندگی کے لیۓ عیاشیاں، اپنی اگلی نسلوں کا محفوظ مستقبلکرنے کے جوڑ توڑ، وہی مخلص اور اہل شخصیات کی راہ میں رکاوٹیں ،،،،، آہ ،،، یہ سب کچھ ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ،، یا اِن پر بنے ڈرامے دیکھتے ہیں ،،،،، اور اگر ہم اشرافیہ میں سے ہیں ،، یا اُمراء کے طبقے میں سے ہیں ،، یا انقلابی سوچ رکھنے والے ہیں تو آج ،،،، اور ،، ابھی ہم انہی تاریخ کے صفحات میں سے اپنا کردار چُن کر اس پر ' ٹک مارک ' لگا سکتے ہیں ! کیوں کہ ابھی ہم نے کتاب کا اگلا صفحہ پلٹنا ہے اور آگے بھی ہم موجود ہیں ،، لیکن یہ سوچ لیں ، تاریخ ہمیں ایک چھُپی آنکھ سے دیکھ رہی ہے ، یہ ہی وقت ہے کہ ہم چُن لیں کہ ہمیں کس کردار کے لیۓ یاد رکھا جاۓ گا ۔ غدار یا جانباز !! یہ ہی وقت ہے کہ ہماری نسلوں کو شرمندگی نہ ہو ، ۔ ایسا نہ ہو کہ عدالت کے باہر مِیرصادق اور میرجعفر کی اولادیں جب پہلی نسل کے بعد ہی جائیدادوں کے جھگڑے لیۓ پہنچیں تو عدالتی اہلکار جج کے سامنے حاضر ہونے کے لیۓ آواز لگاتا " میر صادق غدار کی اولاد حاضر ہو """۔
" گویا تاریخ ہی اپنی تاریخ پڑھ رہی ہے ، لیکن عبرت کے بغیر "
" اللہُ اکبر ، اللہُ اکبر "
پسِِ تحریر۔۔۔
تاریخی کتب پڑھنا یا ڈرامے یا فلمیں دیکھنا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ، ان دنوں ڈرامہ " ارتغل غازی " دیکھا ،،، تو سوچ یہاں اَٹکی کہ آج بھی ہیروز کا جہان اور اس کے ارادے فرق اور آس پاس کے ولن تمام تر چالوں کے باوجود ناکام و نامراد ،،، لیکن تاریخ انھیں کن الفاظ سے یاد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی " ! طاقتور کی سوچ بدلنا بےحد ضروری ہے"۔
جس محنت سے ترکیہ کے عظیم ہیرو ارتغل سے متعلق مصنف نے لکھا ، ڈائریکٹرز نے اور اداکاروں نے فلمایا ،،،، جہاں جہاں اسے دیکھا گیا ، لوگوں کی کثیر تعداد کو  تاریخ سے دلچسپی ہوئی ہے ، اور یہ ایک محبِ وطن کی اپنے ملک کے ہیروز کو خراجِ تحسین کا بہترین طریقہ ہے۔
( منیرہ قریشی 19 مئی 2020ء واہ کینٹ )

پیر، 18 مئی، 2020

" اِک پرِ خیال(42) "

" اِک پرِ خیال "
' تاریخ ہی تاریخ ' ( حصہ اوّل )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ہم جب بھی کسی تاریخی کتاب کو پڑھتے ہیں ،، اور جدید دور میں بنائی تاریخی واقعات پر مبنی فلمیں یا ڈرامے دیکھتے ہیں ،،،، تو تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اسے اپنے تصور کی آنکھ سے بھی جانچتے چلے جاتے ہیں ۔
ایک تاریخی کتاب پڑھنے والے کو اُس وقت یہ کتاب محویت کے عالم میں لے جاتی ہے کہ ،،، قاری خود کو اُسی دور کے گلی کوچوں میں پھرتا ، اسی دور کے لوگوں کے قریب سے گزرتا محسوس کرنے لگتا ہے ،،، ایک اچھے مؤرخ کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ تاریخی واقعات اور مکالمے اس انداز سے لکھے کہ کرداروں کے ہونٹ ہلتے ، اُن کےکپڑوں کی سرسراہٹ ،، اُن کے گرد گزرتے گھوڑے یا گھر کے صحن میں کھنکتے برتنوں یا قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں ،،،،،یہ اچھے مؤرخ کے الفاظ اور تصورات کا وہ جادو ہوتا ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔ ہر وہ تاریخی کتاب جسے مصنف مکمل ریسرچ اور روحانی درجے کے ساتھ لکھے ضرور اس کی زبان ، ماحول معاشرت ، یا سچائی کی بنا پر تا دیر زندہ رہتی ہے ،،، بلکہ اُس اہم تاریخی واقع اور اسکے اہم کرداروں کو زندہ رکھتی ہے ۔
اور جب سے فلم کا دور آیا ،، کچھ باہمت پروڈیوسرز ، ڈائریکٹرز نے تاریخ جیسے مشکل موضوعات پر ہاتھ ڈالا ،،، اور پھر شدید محنت سے ایسے شاہ کار دنیا کو دکھا ڈالے کہ شاید جب وہ خود بھی اُس فلم کو دیکھتے ہوں گے تو سوچتے ہوں گے ،،، کیا واقعی یہ میں نے تاریخ کو " ریورس " نہیں کر دیا !!! اَن مٹ نقوش چھوڑ جانے والی یہ تاریخی فلمیں احساسات کو نئی دنیا میں لے جاتی ہیں !! حتیٰ کہ اِن تاریخی فلموں میں کردار ادا کرنے والے فنکار ،، اپنی عام زندگی میں اُسی کردار کی وہ چلتی پھرتی تصویر اور پہچان بن جاتے ہیں کہ دیر تک وہ خود بھی اُس کردار سے نہیں نکل پاتے ! شاید یہ اُس تاریخی شخصیت کے مضبوط ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔
ہم کتاب پڑھتے یا تاریخی فلم دیکھتے خود کو بھی اُنہی حویلیوں ، قلعوں ،،، یا خیموں میں موجود پاتے ہیں ،،،، کبھی کسی قلعے کی راہداریوں میں سازشیں کرتے کردار ،، کبھی حویلیوں پر اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب ،، اور کبھی پُر امن رہتے لوگوں کے جلاۓ جانے والے خیموں کو دیکھتے ہوۓ ، کہنا چاہتے ہیں ،،،،، چند لمحوں بعد یہ قیامت  آیا  چاہتی ہے ،، یہ سازشیں نہ کرو ،،، اس کا انجام بُرا ہی بُرا ہے ،،، یہ بےانصافیاں نہ کرو ! کہ صرف چند سال ، یا چند سو سال بعد لکھی گئی تاریخ میں تم نفرین زدہ کردار بنو گے،،،، مت ایسا قدم اُٹھاؤ کہ عارضی دولت ، شہرت کی خاطر لمحوں کی غلطیاں اور انا کے تکبر سے پوری قوم صدیوں عذاب جھیلے گی،، اس کچھ دیر کی دنیا کے بدلے ہمیشگی کی زندگی کا سودا نہ کرو !! اور پچھتاوے کا طوق گلے میں مت 

ڈالو ،، کہ یہ دنیا تو کسی کی نہیں ہوئی ، چاہے وہ تاریخ کا ہیرو تھا یا ولن !!۔
پسِِ تحریر۔۔۔
تاریخی کتب پڑھنا یا ڈرامے یا فلمیں دیکھنا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ، ان دنوں ڈرامہ " ارتغل غازی " دیکھا ،،، تو سوچ یہاں اَٹکی کہ آج بھی ہیروز کا جہان اور اس کے ارادے فرق اور آس پاس کے ولن تمام تر چالوں کے باوجود ناکام و نامراد ،،، لیکن تاریخ انھیں کن الفاظ سے یاد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی " ! طاقتور کی سوچ بدلنا بےحد ضروری ہے"۔
جس محنت سے ترکیہ کے عظیم ہیرو ارتغل سے متعلق مصنف نے لکھا ، ڈائریکٹرز نے اور اداکاروں نے فلمایا ،،،، جہاں جہاں اسے دیکھا گیا ، لوگوں کی کثیر تعداد کو  تاریخ سے دلچسپی ہوئی ہے ، اور یہ ایک محبِ وطن کی اپنے ملک کے ہیروز کو خراجِ تحسین کا بہترین طریقہ ہے۔
( منیرہ قریشی 18 مئی 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 1 مئی، 2020

" اِک پرِ خیال " (41)

" اِک پرِ خیال "
' نیا اعلان ' ( کرونا ، لاک ڈاؤن کے تناظر میں )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سال 2019ء نے دنیا سے رخصت ہونے کے لیۓ پَر جھاڑے ،،، اور اِن پروں سے، کچھ نئی مثبت سوچیں نازل ہوئیں ، کچھ نئے تجربات کے آئیڈیاز کا نزول ہوا ،،، کچھ نئے چنڈالوں نے دنیا کو ایک نیا ریوَڑ بنانے کا ٹھیکہ لیا ،،، کچھ بےچین لوگوں پر منفی خیالوں کا چھڑکاؤ ہوا ،،،،، اور کچھ ایسے ہی وائرس گِرے ،، جس نے دنیا کے گلوب کو پہلے حیرانی کی کیفیت میں ششدر کیا،،، اور پھر شدتِ پریشانی نے اِسے گھُما کر رکھ دیا ۔ تحقیق ہوئی اور دنیا کے فطین اذہان کی طرف سے چارٹر جاری ہوا ،، کوئی آپس میں نہ ملے ، کوئی کاربار نہ چلے ، کوئی اس وائرس کے شکار کے قریب مکمل حفاظتی لباس کے بغیر نہ جاۓ ،،،،،، اور ہر دفعہ ہاتھ بیس سیکنڈ تک دھوئیں وغیرہ،،،،،! تو جہاں پینے کو پانی نہیں ،،، جہاں پہلے ہی غربت کا گہرا سایہ سالہا سال سے ڈیرے ڈالےہو ،، گلوب میں موجود کچھ ممالک میں ایک کمرے میں آٹھ بندوں کا رہنا ازبس ضروری ہو ،،،،،جہاں کے گلی محلے میں بدبوؤں کا مقابلہ ہو رہا ہو ،،،کچھ ممالک کی ستر فی صد آبادی صحت کے اُصولوں سے نا واقف ہو کیوں کہ انھیں صحت کیا اور اُس کے اُصول کیا ،، انھیں خبر ہی نہ ہو ،،،، تو انھیں اِس اَن دیکھے ، وائرس سے کیا ڈرانا ۔ کیوں کی ابھی وہ پیٹ کی بھوک کے وائرس سے کُشتی جیتنے کی کوشش میں ہیں ۔
ہاں البتہ جدید دنیا کی جدید ترین ایک نئی ایجاد کے " لاک ڈاؤن " سے ضرور ڈرایا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ غربت ،سے جہالت جنم لیتی ہے اور غریب کے پاس روٹی بےشک نہ ہو موبائل اس کی زندگی کی اولین ضرورت بن چکا ہے۔
جی ہاں ،، اگر یہ " اعلان " سامنے آ گیا کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق آپ کے ہاتھوں میں پکڑے موبائل سے ایسی " ریز " نکل سکتی ہے جو دماغ کو فوراً سُن کر سکتی ہے ، اور بندے کو لمحوں میں ختم کر سکتی ہے ، میڈیا چیخنے لگے ،،، موبائل ہاتھوں سے گِرا دیں ۔ ورنہ ہلاکت یقینی ہے،، اور اگر ایسا کوئی " نیا اعلان " آ گیا تو اے آج کے انسان! تیرا کیا بنے گا ،،؟ آج کی دنیا کے90 فیصد لوگ صبح آنکھ کھُلتے ہی تکیۓ تلے ہاتھ پھیرتے اور اپنے اِس اہم ساتھی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ،، کس نے کیا ، اور کیوں پیغام بھیجے ہیں ، ذرا دیکھوں ،، اور اِسی ذرا دیکھنے میں سارا دِن گزر جاتا ہے ، نظریں نہ رشتوں کی ذمہ داریوں سے نہ آدابِ اقدار سے آگاہ رہیں ،، نہ پائیدار علم کی کوشش کی خواہش رہی ۔ طبیعتوں کا ٹھہراؤ کہیں گُم ہو گیا ہے،، علوم انگلی کے پَور   پر منحصر اور منتقل ہو چکے ہیں ،،،، بس لمحاتی علم ہے ، انگلی پھری تو بھول گئے کہ ابھی ایک لمحہ پہلے کیا پڑھا تھا !! تو اگر موبائل کا " لاک ڈاؤن " ہو گیا تو سوچیں ہماری مصروفیات کیا ہوں گی ؟؟؟ تب بندہ تو " بندۂ بےحال " بن سکتا ہے !۔
( منیرہ قریشی یکم مئی 2020ء واہ کینٹ )