جمعہ، 24 اگست، 2018

' ترکیہء جدید' (7)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
' ترکیہء جدید' (7)۔
ایجویت ، ہمیں نئے راستوں سے اس خوبصورت محل کے سامنے لے پہنچا ،، جو " خُریم کا محل " سے مشہور ہے ،،، تُرک ڈراموں کا اردو ڈبنگ سے پاکستانی چینل سے نشر ہونا ایسا کوئی خاص، کارنامہ نہیں تھا ، اور پاکستانی ناظرین کا ان کی طرف متوجہ ہونے کی ( میرے خیال سے ) ایک وجہ ، خوبصورت چہرے ، کچھ مغربی کلچر کا مکسچر ، اور ذرا پاکستانی ڈراموں سے ذرا فرق موضوعات ، تھے ،، لیکن جہاں تک تعلق ہے ، موضوعات اور ایکٹنگ کا تعلق ہے ، اس میں ہمارے ڈراموں کا معیار بہت ہی بلند ہے ۔ لیکن " ترکش عثمانی خلفاء کے دور پر مبنی کچھ تاریخی واقعات اور کچھ محلاتی سازشوں پر مبنی ڈراموں " نے ان ناظرین کو بھی متوجہ کیا ، جنھیں ، تاریخ سے کوئی دلچسپی نہ تھی ،، ان ڈراموں میں بھی حسین چہروں ، اور محل کی آرائش ، نے عام عوام کو بھی محلات کے اندر سے رہائش اور آرائش سے بھی بہت آگاہی ملی ۔ اس طرح اگر کبھی ان تاریخی عمارات کو دیکھنے کا موقع مل جاۓ ، تو کتابوں سے ملی معلومات کے علاوہ ، ڈراموں کے سین بھی یاد آنے لگتے ہیں ۔۔  
آج ہم ایسے ہی خوبصورت محل کے سامنے تھیں ، اسکے بہت بڑے ، بہت حسین داخلی دروازے کو دیکھنے کے لیۓ ، اگر ایک نہیں تو آدھ گھنٹہ کہیں نہیں گیا ، ایک تو دروازے کا پھیلاؤ ،،، اور پھر اس پر بنی، باریک پچی کاری ، اور صناعی کا ایسا کام تھا جو بہت پرکشش تھا ، یہ سارا سفید ، یا آف وائٹ ،، یا کہیں کہیں ہلکا گلابی رنگ نظر آتا تھا ۔ اس کے باہر سے اس کی تصویر لی ، ،،، اسکے اندر داخؒل ہوئیں ۔ تو وسیع لان ، اسکی خوبصورت کیاریاں ، فوراے جو پانی کے قطرے پھیلا رہۓ تھے، یہ سب ایسے پُر کشش مناظر تھے کہ ، سبھی ٹیم ممبران کا فوٹو سیشن ، اور سیلفیوں سے دل ہی نہیں بھر رہا تھا ،، یہاں بہت سی قومیتوں کے سیاح تھا ، اور سب اسی کام میں مصروف تھے ، کچھ جگہیں ،، انسان کو بے اختیار اور بے قابو کر دیتی ہیں ،، کچھ جگہیں ساکت و ساکن کرتی ہیں ،، اور کچھ جگہیں، جلد از جلد خود سے بھگانے کا اشارہ دیتی ہیں ، اور کچھ جگہیں ہمیشہ رہ جانے کا بھی بولتی رہتیں ہیں ، ،،، یہ جگہ ویسا ہی باغ تھا ، جیسا محلات کے گرد ہوتا ہے ، نیز خلیج باسفورس یعنی مَرمَر ہ کا چھوٹی چھوٹی لہروں والا سبز پانی اس محل کے قدموں پر اچھل رہا تھا، لیکن ، اس باغ کی ترتیب ، اس کی تاریخ ، یہاں کے جگہ جگہ لگے مجسمے ، فوارے ،، آج کے سیاح کوبے قابو کر رہۓ تھے ،،، آدھ گھنٹہ بعد لبنیٰ کی ڈانٹ سے سب لائن اَپ ہوۓ اور اندر جانے کا ٹکٹ بھی لیۓ ، اور جوتوں پر شاپر بیگ بھی چڑھاۓ گۓ ، جو واپسی پر انہی کو واپس بھی کرنے پڑتے ہیں ۔ ،،، اور سنگِ مر مر کی چند سیڑھیاں چڑھ کر بڑی سِلوں والے بر آمدے سے گزرکر، اب مزید جو سیڑھیاں چڑھیں ان پر سُرخ قالین بچھا تھا ۔ اور یہ سرخ رنگ بعد میں سارے محل کے فرش پر بچھا نظر آیا ۔ اندر سب سے پہلے ایک ایسی لابی بنی ہوئ تھی ،جس کے دائیں جانب خوبصورت ڈرائنگ روم تھا جس کا فرنیچر بھی شاید اسی دور کے صوفے، اور کرسیاں ، اور پردے بھی تھے اونچی کھڑکیوں سے دور تک مَرمَرہ کا نظارہ ہو رہا تھا ،، محل کی چھتیں خوب اونچی تھیں ،، اسی ڈرائنگ روم کے بائیں جانب بھی کوئ دوسرا ڈرائنگ روم تھا ، گویا دونوں سٹنگ رومز کے درمیان بھاری پردے لٹکے ہو ۓتھے ، دراصل محل کا وہ آدھا حصہ مرمتوں کی وجہ سے بند تھا ، گویا سیاحوں نے آدھا محل ہی دیکھنا تھا ،، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، وہاں بھی وہی نقشہ تھا ،، لیکن یہاں دو سیڑھیاں چڑھ کر ایک راہداری آئی اور دائیں جانب ایک اوپن ائیر قسم کا غسل خانہ تھا جہاں انسانی قد سے بھی اونچا جست کی صراحی ، اور مزید غسل کے برتن دھرے تھے ، اورمزید آگے دائیں ، بائیں سونے کے کمرے تھے پھر راہداری ،،، اور یہاں تک میرے چلنے کی ہمت جواب دے گئ ، میَں نے سب سے کہا ، تم لوگ گائیڈ کے ساتھ آگے جاؤ ، میَں کچھ منٹ بعد پہنچ جاؤں گی ،، گائیڈ بھی اپنے باقی گروپ کے ساتھ آگے جا چکا تھا اور اب اس رہداری میں پھر تین سیڑھیاں تھیں ، میَں ان پر سانس درست کرنے بیٹھ گئ ،اور یہ چند لمحے ، مجھ پر صدی گزار گۓ ،،،، یہ ذرا سا خاموش وقفہ ،،، جیسے بہت کچھ کہہ گیا ، ، غیر محسوس روزن سے آتی ہوا نے انھیں ہلکا سا لہرا دیا ،،، اور پھر چند منٹ کے بعد چند سیاح وہاں سے گزرے کچھ نے استفہامیہ انداز سے دیکھا ،، لیکن خاموشی سے گزر گۓ ،،، اسی کیفیت نے چند لفظوں کے تانے بانے بُن لیۓ ،، جو " باسفورس کنارے " کی ہی اگلی کیفیت ہے ،، بس اس محل اور اس کے کرداروں نے کچھ متوجہ کر لیا ۔
" باسفورس کنارے "
محلاتِ باد شاہان ،،،،،
حسین و جمیل
کونے میں کھڑے جوڑ توڑ
صوفوں پر بیٹھی سازشیں 
راہ داریاں سر گوشیاں
پردوں کے پیچھے چغلیاں
باسفورس کنارے !!!
روش روش جمالِ یار
تصویریں اُتر رہی ہیں
کچھ کیمروں میں ، کچھ آنکھوں میں 
لمحوں کے کھیل ہیں 
خوشیوں کے میل ہیں
محبتوں کے ڈھیر ہیں 
رقص میں درویش ہیں 
عجیب و عظیم تھے ، وہ لوگ 
بڑے فیصلے ، کار ہاۓ ارفعٰ
مگر ، اب موجود ہیں یہاں وہاں 
نابلد لوگ،، بےنظارت آنکھیں 
بے وُضو ، بے مراتب آنکھیں 
منہ کھولے ، آنکھ موندھے 
تاریخ انساں سے بے خبر
دلوں پر قبضہء دنیا کس قدر
جلدی چلو ،، جلدی کھاؤ
اگلا نظارہ ، اگلا پڑاؤ
باسفورس مسکراۓ ،،،،
پندھرویں صدی میں اکسویں صدی ہے
مِل رہے ہیں ، وہ ہم سے ، ہم ان سے 
باسفورس کنارے ،،،
باسفورس کنارۓ !!! ( اگست 2017ء استنبول)۔
میَں وہ چند منٹ اس راہداری میں خُریم کے محل کے کرداروں کو مل کر ، اور پھر نظر انداز کر کے آگے بڑھی ، تو چند گز چلنے کے بعد ایک موڑ آیا اور میرا گروپ کچھ اور سیاح اور گائیڈ کچھ بول رہا تھا ،،، اور یہ سب ایک برآمدۓ نما وسیع ڈرائنگ روم میں تھے ،، اور اس وقت ، ہم سب سیڑھیاں ، چڑھتے چڑھتے ،محل کی دوسری منزل پر تھے، یہاں شاہی خاندان ، ہوا ، اور مر مرہ کے دور تک کے نظاروں کو دیکھتا ہو گا ،، لیکن اب ان کمروں ، ان کی چیزوں کو کیسے کیسے دیسوں کے قدم روند رہۓ تھے ،،، تاریخ کا لکھا سبق ،،،،،،،،،،،اب واپسی تھی ،، نیچے اتر کر علم ہوا ،، پورے محل کو دیکھنے کے لیۓ مزید تین گھنٹے چاہییں ، اس کے طے خانے کی طرف جانے کی تو اجازت ہی نہیں ،، لیکن جب ہم محل کے اندرآئیں تو ایک وسیع ڈرائنگ روم میں ایک بالکنی بنی ہوئ تھی ، جس کی اونچی اور چوڑی کھڑکی ایک ہی تھی ،، لیکن اس کے گرد ایسی " آرچز " کی صورت میں پینٹگ کی گئ تھی، کہ محسوس ہو رہا تھا ، ہم کسی گیلری سے گزر جائیں گے ،، تو گویا " 3 ڈی "تصاویر کا آئیڈیا ، نیا نہیں ہے ۔ محل سے باہر آکر ، اس کے وسیع چمن میں مزید آدھ گھنٹہ گزارا گیا ، تاکہ جو گوشے رہ گۓ ہیں وہ بھی دیکھے جائیں ۔ 
آج کے دن کچھ دیر نزدیکی بازار کا چکر لگایا گیا ،، جہاں ابھی ایک اوپن ریستورنٹ میں بیٹھے ہی تھے کہ بادل گھِر آۓ۔ دکان داروں نے اپنی اپنی دکانوں کے آگے لپٹے ہوۓ مضبوط شیڈز کو کھول کر سٹیل کے ڈنڈوں سے اٹکا لیۓ ،، ہمارے چاۓ کا آرڈر لینے والے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا بھی کہ آپ لوگ شیڈ کے نیچے آ جائیں ، لیکن ہم سب اس پُروا کو انجواۓ کر رہۓ تھے ، بہ مشکل چاۓ آئ ، آخری گھونٹ تک چند قطرے پڑے ، تو ہم چل پڑیں ،، لیکن یہ کیا ،،، یکدم بارش کی بوچھار ایسی آئی کہ ہم ایک قدم نہ اُٹھا سکیں ، خاص طور پر میَں ، جوجی اور حمنہٰ تو ایک چھلی والے کی چھوٹی سی چھت والی ریڑھی کے نیچے کھڑی ہو گئیں ، اس دوران باقی نے ہمت کی اور اس ڈبل روڈ کو پار کر کے سامنے کی دکان یا چھوٹے ہوٹلز کے برآمدے میں جا کھڑی ہوئیں ،، لیکن اس چند منٹ میں وہ سب تو بھیگ گئیں ، لیکن ہم تینوں کا ذیادہ برا حال ہو گیا ، بارش اسطرح موسلادھار ہوئ کہ کھڑا ہونا مشکل ہو گیا ، اور ہم نے اسی شدید بارش میں سڑک پار کی اور اب سڑک پر پانی اس قدربہہ رہا تھا کہ ہمارے پاؤں ڈوب گۓ ، سامنے کے برآمدوں تک پہنچ کر ایک ریستورنت میں جا بیٹھے ، اور خود کو گرم کرنے کے لیۓ قہوے کا آرڈر دیا ، میَں ہمیشہ اپنے پرس میں ایک جوڑا جرابوں کا رکھتی ہوں ، وہ کام آیا ،، اور اپنے کیپ شال کو بھی لپیٹا ،، ( اصل میں مجھے سردی کچھ ذیادہ محسوس ہوتی ہے😌بارش ختم ہوئی ، ہوش بجا ہوۓ ،، تو ڈرائیورایجویت کو بازار میں جانے کا کہا ،، راستے دیکھے ، تو کہیں پانی کھڑا نہ تھا ، حیرت ہوئ اتنا اچھا سسٹم !!!! اس بازار پہنچے جہاں سے مزید تحائف خریدنے تھے ،، یہ بہت پرانا علاقہ لگتا تھا ،چوڑی گلیاں ، اور اس کے کنارے بنے گھر ، چھوٹی اینٹوں سے ہوۓ تھے ،جو سیمنٹ سے کور نہیں کی گئیں تھیں ، یہاں کا ماحوؒ ل پنڈی
کے راجہ بازار کی اندرونی گلیوں جیسا تھا ،، یا ،، لاہور کی بھاٹی گیٹ کی اندر کی گلیوں جیسا ہو ۔۔۔ لیکن میَں نے بچوں کو کہہ کہلا کر وین میں ہی روکے رکھا ، خواتین جلد واپس آگئیں ، پتہ چلا ، کہ یہیں تین گلیاں چھوڑ کر ایک" جگہ ہے جہاں " رقصِ درویش " کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اور یہ ہفتے میں تین دن ہوتا ہے ، اتفاق سے آج ہفتہ ہے ، ہمیں جلدی پہنچنا ہو گا ، تاکہ ٹکٹ مل جائیں ،،، یہ خبر تو ہمارے لیۓ خوش خبری تھی ،،، دراصل زبان کے معاملے میں رکاوٹ سے یہ نقصان ہوا ک کہ کئ جگہوں کی آگاہی نہیں ہو پاتی ،، ہم تو یہ ہی سمجھتی رہیں کہ رقصِ درویش تو صرف " کُونیا " میں ہی دکھایا جاتا ہو گا ،، جو مولانا رومیؒ کے مزار ، اور ابتداۓ رقصِ درویش کی جاۓ وقوع ہے ،یہاں پہنچیں تو پتہ چلا ، ہر اہم شہر میں اس کے پیش کرنے والی کچھ آرگنائزیشنز اہتمام کرتی ہیں ۔ اب شام ہوا چاہتی تھی جب ہم اس چھوٹی سی بلڈنگ میں داخل ہوئیں تو گراؤنڈ فلور پر کاؤنٹر تھا ، جہاں سے ٹکٹ لیۓ گۓ ،، بچے بڑے سب کا ایک ہی پیکج تھا یعنی ، 70 لیرا ،فی ٹورسٹ، ابھی تو ہم اکسائٹڈ تھے ، کہ ایک ایسا مظاہرہ دیکھیں گے جس کی بہت خواہش تھی اور اب اس کا اچانک موقع مل گیا ۔ٹکٹ لے کر اوپر کی منزل پہنچے یہ گول گیلری ٹائپ جگہ تھی ، لوگوں کے لیۓ اچھی انتظار گاہ تھی یہاں بھی مختلف قومیتوں کے خواتین و حضرات موجود تھے ، ہمارے بالکل ساتھ ایشیائی ایک مڈل ایجڈ میاں بیوی ، اور ایک جوان لڑکی اور اسکے ساتھ ایک 10 /11 سالہ بچی بھی تھی ، چند منٹ بعد ہی ہیلو ہاۓ ہو گئ ( حسبِ عادت ) فیملی خوب پڑھی لکھی تھی ، صاحب اور بیگم نے بتایا ہم ، ہندوستان سے آۓ ہیں ، میں ائرفورس کا ریٹائرڈ افسر ہوں ، یہ میری بیٹی اور یہ نواسی ہے ، ہم نے ترکی کی سیر کو بہت انجواۓ کیا ،،، جب ہم نے سوال کیا کہ اس " رقصِ درویش" میں آپ کی دلچسی کیسے ؟ تو موصوف نے کہا " دلچسپی صرف مجھے ہے ، بیوی اور ان بچوں کو نہیں تھی ،،،لیکن میں نے جو تھوڑا سا صوفی ازم کو پڑھا ہے ،، اس نے مجھے دنیا ، اور ساری کائنات کے رقص سے دلچسپی پیدا کی،، میں اکثر یوگا کرتا ہوں ، اس طرح گیان کرنے سے ، یہ دلچسپی یہاں تک لے آئی ! باقی فیملی سے یہ ہی کہا کہ جہاں باقی دن اپنی مرضی سے گزارے ہیں ، ایک میری مرضی کی جگہ دیکھ لو ،،، مزید 20 منٹ کے بعد اعلان ہوا، ایک چھوٹے سے ہال میں داخل ہوئیں ۔ 
اندر نیم اندھیرا تھا ،، سیمی سرکل میں کرسیوں کی تین چار رووز تھیں جن پر لوگ بیٹھتے رہے ، اور مزید 15 منٹ گزر گۓ ،، ماحول پر خاموشی اور احترام کا غلبہ تھا ،، کیوں کہ یہ صوفیانہ انداز پیشکش تھی ، کوئی دنیاوی شغل میلے والا سلسلہ نہ تھا ، فوٹو گرافی منع تھی ،،،لیکن نئی نسل کے لیۓ یہ پابندی جیسے نا پسندیدہ ہوتی ہے ، وہ ہر چیز فوری محفوظ کر لینے کی جلدی میں ہوتے ہیں ،، یہاں بھی کسی نا کسی طرح دو چار تصاویر لے لی گئیں ،، میرا اور جوجی اور لبنیٰ کا قریباً ڈیڑھ گھنٹہ نہایت محویت سے گزرا ،، لیکن احساس ہو گیا کہ بچوں کو ،،یا کسی ایسے فرد کو بالکل نہیں آنا چاہئے ، جنھیں کوئی دلچسپی نہ ہو ۔ اس طرح وہ سو رہۓ تھے ، یا بور شکل لے کر بیٹھے ہوۓ تھے ،،، چار بندوں نے موسیقی کے آلات سنبھال رکھے تھے ،، جنھوں نے سادہ سفید عبائیہ سے پہنے ہوۓ تھے اور تین وہ لوگ جنھوں نے درویش رقص کرنا تھا ان میں ایک ذرا بزرگ سے تھے ، ایک درمیانی عمر کا اور تیسرا جوان لڑکا تھا ،، تینوں تھکے تھکے لگ رہۓ تھے ،، پہلے پورشن میں تلاوت ،، اور پھر ترکی میں کچھ پڑھا گیا ،،، اور پھر آرکسٹرا اور   درویشوں کا کام تھا ، لیکن درویشوں نے پہلے بازو اور لبادے لپیٹ کے جو رقص پیش کیا اس میں ردھم یا سمٹری نہ تھی ،، لیکن ، پھر ، دوسرے کے بعد تینوں کا بھی اور آرکسٹرا کا بھی آپسی تال میل ہوا ،، تو ایک والہانہ پن محسوس ہوا دل یہ ہی چاہتا ہے کہ آپ خود بھی چند منٹ کے لیۓ ہی سہی ،،، لیکن اس کائناتی رقص میں شامل ہو جائیں ۔ ہمارے لیۓ ایک نیا اور اچھا تجربہ رہا ،، مجھے ، لگا کہ اس رقص کی "جاۓ پیدائش" پر جا کرتجربہ شاید بہتر ہو ،،، لیکن درویش کا ہاتھوں کے انداز کے پیغام نے متاثر کیا ،، وہ سیدھے ہاتھ سے اوپر والے سے لے رہا ہے اور اور بائیں ہاتھ سے بانٹ رہا ہو ،،،،،،،،،،،، اور پھر سکون ہی سکون ، آس پاس بھی اور باطن میں بھی ۔
ترکی ،،، خوبصورت ملک ، خوبصورت لوگ ،، خوبصورت تہذیب ،،" کم ازکم " یہاں چار ماہ رہا جاۓ ، تب شاید اس کے مختلف چند شہروں کے گوشوں کو دیکھا ، پرکھا جا سکتا ہے ،،، لیکن انسانی فطرت اسے بطورِ سیاح نچلا نہیں بیٹھنے دیتی ،، آگے چلو ،، آگے بڑھو ،، واپس چلو ، وطن کی یاد ، اہلِ وطن کی یاد ،،، وغیرہ ابنِ بطوطہ کو پڑھا تو پتہ چلا ،،کہ وہ محض 19 سال کی عمر میں گھر سے سیر کے لیۓ نکلا ، اور پاؤں کا چکر اسے عرب ، کچھ حصہ افریقہ کا ،، پھر ہندوستان ، مالدیپ ، ملایا ،، اور پھر ہزاروں میل دور چین ، جہاں چند سال رہا ،، اتنی سیلانی روح کے باوجود 50 سال سے اوپر کی عمر میں واپس طنجہ( مراکش ) پہنچ کر ہی آرام کا دورانیہ شروع کیا ،، یہ اور بات کہ اسے سکون پھر بھی نہیں تھا ، دراصل ،،،،۔
؎ امیر سے ہے تعلق نہ کچھ غریب سے ہے
سکوں اگر ہے میسر ، تو یہ نصیب سے ہے
پیارے ترکی میں اب سیر کے لیۓ دو دن رہ گۓ ہیں ،، تیسرا دن آخری دن ہو گا ،، !!! 
( منیرہ قریشی 24 اگست 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

پیر، 20 اگست، 2018

ترکیہ جدید(6)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
۔" بُرصہ " کی کیبل کار رائیڈ ،،، اور جنگل اور پگڈنڈی ،،، اور یہاں کچھ بہادر لوگوں نے فارم ہاؤس بناۓ ہوۓ ہیں ،، حالانکہ معلومات کے مطابق
 یہاں ، بھیڑئۓ اور ریچھ کافی مل جاتے ہیں !۔
 ترکیہء جدید(6)۔
اورآج چوتھے دن ہم ترکی کے ایک اور صوبے " بُرسہ یا ' بُر صہ" کی سیر کو نکلے ، یہ استنبول سے دو گھنٹے کی کار کے سفر کی دوری پر تھا ، صبح ذرا زیادہ جلدی تیار ہوۓ ، لبنیٰ ہماری پروگرام انچارج تھی ، ایک تو وہ بہت پہلے ترکی آ چکی تھی ، دوسرے ، اس کا داماد حال ہی میں ترکی کے ایک اور صوبے میں ایک بلڈنگ بنا نے کا پروجیکٹ مکمل کرکے ، جا چکا تھا ، لیکن اب یہاں پرخلوص دوستیوں کا باغ چھوڑ گیا تھا ، انہی دوستوں میں سے ایک ابرہیم تھا ، جس نے یہ وین اور ڈرائیور کا انتظام  کر  دیا تھا ( مفت نہیں ،بلکہ ڈالرز میں  ادائیگی کا کہا گیا تھا ) ۔ ابرہیم ہی روزانہ ایک فون لبنیٰ کو کرکے تجویز دیتا ، اور لبنیٰ کی تفصیلی وضاحت سے ہم سب " ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے " ،، کے جملے بول دیتیں ۔ مقصد اچھی جگہوں کی سیر تھا  جو کہ وہ پورا ہورہا تھا ۔
بُرصہ ، پہنچنے تک چاۓ کی سخت طلب ہو چکی تھی ، ہمیں بتایا جا چکا تھا کہ یہ علاقہ مری کے بھور بن یا پتریاٹہ جیسا ہے ، اس لیۓ اپنے ساتھ ایک آدھ سویٹر رکھ لیں ، ہم نے وہاں پہنچتے ہی جب ارد گرد نگاہ ڈالی تو لگا کہ بھوربن ہی پہنچ گئے ہوں ، فرق صرف صفائی اور آرگنائز بلڈنگز اور گھروں کا تھا ۔ اور یہ سب قانون کی پاس داری اور عمل درآمد سے ہی ممکن ہوسکتا ہے ۔
چاۓ کے لیۓ ایک اوپن ایئر ریسٹورنٹ کا انتخاب ہوا تاکہ آس پاس کے نظارے بھی اوجھل نہ ہوں ۔
بڑوں نے چاۓ اور بچوں نے جوس سے اپنی اپنی تواضع کی ، چاۓ کے بعد گروپ کے ہمت والے افراد ارد گرد پھرنے لگے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ۔ میَں ، جوجی اور لبنیٰ کچھ دیر تو بیٹھی رہیں ، کچھ آرام ہو گیا تو ہم بھی ریسٹورنٹ کے سامنے ایک تین فٹ اونچی دیوار کی چہاردیواری کی طرف چل پڑیں ،،، جس کے پتھر کے آرچ والے گیٹ پر " پارک " کا لفظ تو فوراً پڑھا گیا لیکن ترکی میں لکھا "ارتغل " کا لفظ پڑھنے میں مشکل ہوئی ،،، ہم تو محض پارک کے لفظ سے یہ سوچ کر اندر داخل ہوئیں کہ ،، پارک کی سجاوٹ دیکھیں گے ،،،، لیکن اندر تو ایک شہرِ خاموشاں تھا ،،، یعنی اکا دکا قبریں تھیں ، جن کے سرہانے اور پائینتی لوح تھیں ،، اندر داخل ہوتے ہی چند قدم پر جو پہلی قبر تھی اس کے سرہانے " حلیمہ حاتون " لکھا ہوا تھا ،،، نیچے کی تحریر بالکل سمجھ نہ آئی ،،، چند دوسری قبروں پر بھی گئیں لیکن ، ان پر لکھے نام اجنبی لگے ،، تو جو تختی پڑھی جا سکی ، لبنیٰ کہنے لگی نام سے تو مسلمان لگ رہی ہے چلیں فاتحہ پڑھ لیتے ہیں ۔ اور ہم فاتحہ کے بعد باہر آگئیں ، اور گروپ کے ممبران سے بھی اس کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ ہم تو خود اس قبرستان یا اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں تھیں ۔ ،،،، جی ہاں یہ اگست ستمبر 2017ء کا سال تھا ،،، جب پاکستان کے لیۓ " ارتغل " قطعی اجنبی تھا ۔،،، اور شاید خود ترکی والوں نے بھی اس وقت تک اس کے قبرستان کو وہ تاریخی " گیٹ اَپ " نہیں دیا تھا کہ عام سیاح واقف ہوتے ۔اور ہم وہ سیاح تھیں ،، جو ترکی کی تاریخ کو سلطنتِ عثمانیہ سے شروع کر کے ، یہیں تک اور پھر تاریخ خلافت تک پڑھا ہوا تھا ، اور بس اسی لیۓ ایمانداری کی بات ہے کہ اس شہر کی تاریخی حیثیت سے واقفیت ہی نہیں تھی ۔
2020ء تک اب ارتغل ہر پاکستانی کے گھر پہنچ چکا ہے ، ترکی نے اپنی شاندار تاریخ کے صفحات میں سے وہ تاریخی شخصیت نکال کر دنیا کے سامنے لا رکھی ۔ جس کے بارے میں دشمن کہتے ہیں ،،، " ایسی کوئی شخصیت تھی ہی نہیں " ،،، اور ہمدرد کہتے ہیں ،" ارتغل غازی کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں محض ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے " ،،، لیکن ایک گمنام یا ،، کم نام والا ہیرو تھا، ڈرامہ لکھنے والے نے " تاریخی ہیرو" بنا کر استعارہ سے ستارہ بنا دیا ۔ اور ایک جرات مند، صاحب ایمان ،اور بلند حوصلہ شخصیت کو ایسے اوصاف کے ساتھ سامنے لایا ،،، جو آج کے وقت کی ضرورت تھی ۔
اب ہم عازمِ " بُرسہ یا بُرصہ " ہوتے ہیں ۔ یہاں پہنچے تو صبح کے ابھی گیارہ بجے تھے اور آج ایک خوبصورت چمکیلا دن تھا ۔ بُرصہ کا پہلا تائثر " سبز رنگ اور سکون " کا تھا ۔ یہاں سارے ماحول پر سبز رنگ کے مختلف شیڈز کا راج تھا ۔ جیسے قدرت کے مقرر شدہ فرشتے نے ہر سبز شیڈ کے سٹروک لگاۓ ہوں ۔اللہ نے دنیا کو رنگوں سے سجایا ، اور پھر ہر رنگ کے شیڈز بھی بناتا چلا گیا ، اب یہاںسبز رنگ کا جوشیڈحاوی تھا ، اسے ہم ہلکا سبز کہہ سکتے ہیں یا" درمیانہ سبز " ۔۔یعنی اس میں گہرا سبز ، یا تیز سبز کا شیڈ کہیں نہیں تھا ۔تو گویا یہ ایک ایک ایسا خطہ تھا جس کے " رنگ ، اگر باتیں کریں یا اپنا عنوان منتخب کریں تو کہیں :" ٹھنڈی سوچ والا سبز خطہ" ،اور خوشگوار ہوائیں ایسے سُبک انداز سے چل رہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں " ٹھنڈے ، سبز ہی سبز علاقے میں خوش آمدید " !!
یہاں کی فضا نے تو جادو سا کر دیا تھا ہم میں سے ہر ایک انتہائی پُر جوش تھا ،،،،،،،،،، یہ میں کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ مجھے تو ویسے بھی ہر نئی جگہ کچھ کہتی ، کچھ پیام دیتی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ یہ تو پھر پہاڑی علاقہ تھا جسے سر سبز نہیں " سبز ہی سبز " کہا جا سکتا تھا ۔
یہاں مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیۓ " کیبل کار سروس " بہت کشش رکھتی ہے ،،،،۔ مجھے اپنے ہاں کی کیبل کار کا جھٹکے سے رکنا ، مسافر کا جھٹکوں سے چڑھنا ، اترنے کا تجربہ تھا ،،اور اب میَں ان جھٹکوں کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی ، ( ایکسیڈنٹ کے بعد مجھے تیزی سے موومنٹ کرنا محال ہو چکا تھا ) اس لیۓ میَں نے صاف انکار کر دیا کہ تم لوگ جاؤ میں اسی ریسٹورنت سے باہر کے نظاروں کو انجواۓ کروں گی ، میَں خواہ مخواہ دوسروں کے لیۓ مشکل کیوں پیدا کروں ،، لیکن اس پر میری بیٹی نشل اور ایمن ثمن بالکل راضی نہ ہوئیں ،، میَں نے نشل سے کہا اگر تم نہ گئیں تو موسیٰ نہیں جاۓ گا ، اور یہ تو ہرگز نہ ہوگا ، ایمن ثمن میں سے ایک نےضد کی ،کہ ٹھیک ہے میں تو آپ کے پاس رُکوں گی ،، یہ محبت اور کیئرنگ انداز کہیں کم ہی نظر آتا ہے ، سب نے جا کر ٹکٹ لیۓ اور ہم دونوں نےاب اگلے دو ،تین گھنٹے گزارنے کے لیۓ خود کو تیار کیا ، کہ اتنے میں دوسری " ٹوِن " بھاگتی ہوئی آئی ،، 'خالہ ، میَں نے کیبل کار کے رکنے ، اور اپنی ایک پارٹی کو بٹھانے کا تجربہ کر لیا ہے ، یہاں کسی قسم کے جھٹکے ، یا کوئ اور مسئلہ نہیں ،، آپ بہ آسانی چڑھنا ، اترنا کر لیں گی ، ،، میَں نے اس کے پُر جوش چہرے کو دیکھا ،تو اعتبار آگیا ۔ ثمن اور میِں سیڑھیاں چڑھ کر ٹکٹ گھر تک گئیں ، اور قطار میں جا کھڑی ہوئیں ، خوبصورت خوب کھلی اور صاف کیبل کاریں دو منٹ کے وقفے سے آ جا رہی تھیں ، اور ان کے رکنے کا مناسب وقفہ بھی تھا ، اس لیۓ دل مضبوط کر لیا ، جوں ہی ایک" ٹوِن "ٹکٹ لے آئی ، ہم سامنے آئی کیبل کار میں چڑھیں ، ثمن اور نشل ، موسیٰ نے بہت چوکس ہو کر مجھے اندر داخل کیا ، ایک کیبل کار میں صرف چھے لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت تھی ، اور ہم تو اس میں چار تھے ، باقی لوگ پہلے سٹاپ پر پہنچ چکے تھے ،، ایک اطمینان کی کیفیت ہوئی توکھڑکی سے نیچے نظروں نے بتدریج گھنے ہوتے جنگل کا احاطہ کیا ،، تو دل شاد شاد ہونے لگا ،، میَں تو اس کی شکر گزاری کے لیۓ بس لفظ ڈھونڈتی رہی ،، اسی کی ذات ہے " دلوں اور آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کرنے والا " ،، درختوں کی ایک قسم تو سَرو یا کرسمس ٹری کی تھی ،اور دوسری قسم ،جو وافر تھی ،کا پتہ نہیں چلا ، لیکن وہ لمبے پتلے پتوں والے ، اور اس قدر اونچائی لیۓ ہوۓ تھے کہ کئی جگہ ان کی چوٹیاں کیبل کار کو چھُو رہی تھیں ، بُلے شاہ کے کلام میں اسد امانت علی نے " اُچیاں ، اور لمبیاں " کی وضاحت جس سُر اور سوز میں کی ہے ، اس کا مطلب بھی سمجھ میں آنے لگا ،،، میَں سکون کی لہروں پر تھی ۔ یہ سبز درخت بھی ہلکے سبز رنگ میں تھے ۔جب 25/30 منٹ کی رائیڈ کے بعد پہلا سٹاپ آیا ، تو یہاں ایک الگ دنیا آباد تھی ۔ زیادہ لوگ یہیں آدھ گھنٹہ رکتے اور پھر اگلے سٹاپ کے لیۓ چل پڑتے ۔ ہمارے باقی ممبران ہمارے ہی منتظر تھے، یہاں ایک چھوٹا بازار تھا جہاں سوینئرز ، سویٹروں ، کیپ شالز ، اور کافی کچھ پہنے جانے والی چیزوں کے سٹالز تھے ،، اس بازار کے حصے سے ہٹ کر بچوں کے لیۓ جھولے اور اُن کی دلچسپی کا بہت کچھ تھا ، جو یہ چھوٹے دونوں موسیٰ اور نشمیہ کا بیٹا حمزہ ، خوب مزے کرنے لگے ، اور یہیں سبھی لڑکیوں کو مرضی کی چیزیں بھی ملیں، چنانچہ جو شاپنگ کی زیادہ شوقین نہیں تھیں انھوں نے بھی کچھ نا کچھ خرید لیا ، دراصل یہاں کی چیزوں میں زیادہ رنگ ، گھریلو صنعت کا نظر آیا ، جو منفرد اور پُر کشش لگا یہاں سے کافی بھی پی گئی ، اور پھر دوبارہ کیبل کار کی سواری کی گئ ، اور ذرا مزید اونچائی کی جانب سفر کیا ، اس دفعہ کیبل کارکے مسافر بد ل گئے تھے ، ، نیچے گھنے جنگل اور اوپر صاف آسمان ,,اور ہم ان کے درمیان معلق ،،، عجیب تجربہ !! شاید روح بھی نکلتے وقت ایسے معلق ہوتی ہوگی ۔ 
مزید 25 منٹ کی رائیڈ ، مزید اونچائی ، اور پھر سٹاپ اوور،،، اور یہاں چند مشہور ہوٹیلز کی چَین بنی ہوئی تھیں ،، انہی میں ہم استنبول میں جس ہوٹل میں ٹھہری تھیں ، اس کا بھی بہت بڑا ہوٹیل بنا ہوا تھا ۔ کچھ ریسٹورنٹ ، کچھ چیزوں کے سٹال ، اور کچھ دیر ادھر اُدھر کی پیدل مارچ کے بعد واپسی ، اب پھر " ہم تم ہوں گے جنگل ہوگا ، " والا سحر طاری ہوا ،، اور مکمل 40/45 منٹ کی رائیڈ کے بعد زمین کو چھوا ۔ ،،،، ابھی عصر کا وقت تھا ، اس لیۓ وین میں بیٹھتے ہی ابراہیم کی ہدایت کے مطابق ، یہیں " نزدیک " ہی ایک خوبصورت جھیل ہے ، آپ لوگ وہاں سے ہوتے آئیں کہ مچھلی بہت تازہ ملتی ہے ، وغیرہ،، اب سفر جوں شروع ہوا تو ہم پہاڑی راستے کے بجاۓ ایک ویرانے سے گزرتے چلے گۓ ۔اس دوران ایک گھنٹہ گزر گیا ،، دور دور کوئی آبادی نہیں ،، کچھ جگہ سے سڑک بھی کچی ،،، بےآباد خشک ٹیلے ،، کہیں کہیں دور ٹین کی چھتوں والی کوئی ورکشاپس ، اور شاید مزدوروں کی رہائش گاہیں تھیں ۔ لیکن ایک ڈوبتا سورج ، اس سارے منظر کو ہلکے سُرخ رنگ میں رنگ رہاتھا ، اور ہم اس سفر سے ذرا متفکر ہو رہی تھیں کہ کہیں ڈرائیور راستہ بھٹک تو نہیں گیا ۔ اور اب ہم اُس جھیل کی خوبصورتی کیسے انجواۓ کریں گی ،،،؟ 
خیر مغرب ہونے تک ہم جھیل کے علاقے میں داخل ہوۓ ، باوجود کم روشنی کے اس جھیل کے منظر نے ایک اور ہی دل آویزی سے اپنا حسن دکھایا ،،، چاند کی چودھویں تو نہیں تھی  شاید گیارھویں تھی اور چاند کے حسن کا عکس جھیل پر پڑ رہا تھا ، اس کے کنارے بالکل  قدرتی  طریقے سے " اَن گڑھ " ہی انداز کا بنا فرنیچر رکھاہوا تھا ۔ یعنی کٹے درختوں کے بینچ ، میزیں ، اور وہاں بنا ہوا ،ایک ہی ہوٹل وہ بھی لکڑیوں کی گیلیوں سے بنا ہوا تھا ، بجلی کی روشنی ، کم تھی یعنی سارا ماحول روشنیوں میں نہایا نہیں ہوا تھا۔ شاید وہ جھیل ، اور چاند سے لطف لینے کی طرف مائل کرنا چاہتے ہوں ۔اور کچھ دیر بعد ہماری نظریں خوبصورت مرغابیوں پر پڑیں ،، جو ہمارے آنے سے اور ذرا شور سے ڈریں کچھ اُڑیں ، کچھ واپس آ بیٹھیں اور یہ نظارہ بھی خوش کن تھا ۔ مغرب پڑھ کر کھانے کا آرڈر سبھی کی پسند کے مطابق دیا گیا ، جھیل کی تازہ مچھلی تلی ہوئی آئی تو ، پہلے نوالے نے ہی وہ لطف دیا کہ آج تک نہیں بھولا ، ، نشل اور اس کے بچے مچھلی چکھتے بھی نہیں تھے ،لیکن سب کے اصرار پر جب انھوں نے کھایا تو انھوں نے بھی خوب لطف اُٹھایا۔ باقی کیا کچھ تھا ،، اچھا ہی ہوگا ، اور مچھلی کی تازگی اپنی جگہ لیکن پکانے کا طریقہ بھی بہت خوب تھا ،،، یہاں بچوں نے ادھر اُدھر پھر کر اس نیم جنگل ، ایریا کو بہت پسند کیا ،،، اور اب عشا بھی ہو چکی تھی ، بغیر انگریزی جاننےکے ٹرکش لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور واپسی کے لیۓ مزید ڈھائی گھنٹے کے سفر کے بعد اپنے ہوٹل میں پہنچیں تو بہرحال بچے بڑے تھک چکے تھے ، فریش ہو کر سب میرے کمرے میں آکر قہوہ کا دور چلا ، اور کل جمعہ تھا اس لیۓ "حضرت ابو ایوب انصاری ر ض" کے مزار پر زیارت کرنے اور ان کی مسجد میں جمعہ پڑھنے کا پروگرام طے کیا ۔ 
صبح جمعہ کی تیاری کے بعد ایجویت کو حضرت ابو ایوب انصاری ر ض کے مزار چلنے کا کہا ، اور یہ مزار مبارک اس ہوٹل سے آدھ گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا ، اس دن کا انتظار ایک مدت سے تھا ،، چند سال پہلے میرے بیٹے ہاشم کے ایک دوست کو اپنی فیملی کے ساتھ ترکی کی سیر کرنے کا موقع ملا ، وہ وہاں سے میرے لیۓ ایک سکارف اور ایک تسبیع تحفہ لایا ، تو میں دیر تک اس سے مزار کے مناظر بارے پوچھتی رہی ،، لیکن ، اس طرح کبھی تسلی نہیں ہو سکتی ۔ خیر آج الحمدُ للہ ،اللہ نے مجھے خود پہنچا دیا ۔ یہاں آکر علم ہوا کہ کبھی یہ مزار آبادی سے بہت دور تھا ،، آج اسی طرح آبادی اور بازاروں میں گھِرا ہوا ہے ، جس طرح حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ؒکا مزارِ مبارک گنجان آبادی میں گھِر چکا ہے ۔ تو گویا کبھی کبھی ایسی بڑی ہستیوں کی موجودگی شہروں کے اندر بھی ضروری ہوتی ہو گی ، تب ہی ان کی ضو فشانیاں زیادہ پھیلتی ہوں گی ،،، پہلے تو ہم آپؒ کے مزار کی زیارت کے لیۓ داخل ہوئیں ، آپ کے مزار کو بس ایک منٹ کے لیۓ دیکھا جو بظاہر ایک اونچے چبوترے پر تھا اس کے گرد جنگلہ تھا ۔ اور پھر قبر مبارک کے گرد پھولوں کی جھاڑیوں نے اس قبر کو مزید چھُپا لیا تھا ، اور جمعہ تھا رش بھی بہت ذیادہ ، لائن میں کھڑے کھسک کھسک کر قریب سے گزر گئیں ۔ دھکے بھی لگے ،، اور چند منٹ بعد ہم اندر کی مسجد کو دیکھ کر چند تصاویر لے کر باہر آگئیں ، کیوں کہ اندر شاید مردوں کی نماز کی جگہ تھی ۔ خواتین کا کہیں اور انتظام ہو گا ، لیکن ہم بالکل باہر کے چھوٹے سے باغیچے میں آ گئیں ، وہاں ٹرکش خواتین اپنی جاۓ نمازیں لے کر بچھا رہیں تھیں ۔ آج ترکی میں چھٹا دن تھا ، کہیں شاپنگ مالز میں ، کہیں ہوٹیلز ، کہیں پارکوں میں ٹرکش لوگوں کو دیکھنے سے کچھ یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ، یہ قوم آج کل سوچ کے لحاظ سےتین طبقوں میں بٹی ہوئی ہے ، ایک وہ طبقہ جو کمال اتاترک کے دور میں حکم مانتے ہوۓ ، خوب مغربی تہذیب میں  رنگا ہوا ،،، جن کے لباس آج نماز میں بھی چست جینز اور چھوٹی شرٹس اور ننگے کندھوں کے ساتھ آئیں ، اور نماز کے چار فرض پڑھنے کے وقت چادروں سے کندھے اور سر ڈھکا ، اور سلام پھیرتے ہی چل دیں اور چادر طے کر کے پرس میں ،، دوسرا طبقہ وہ نظر آیا جنھوں نے مکمل عبائیہ پہن رکھے تھے، چہرے ڈھکے نہ بھی ہوں ، توجسم مکمل ڈھکا ہوا ،، یہ دونوں طبقے کم از کم استنبول میں بین بین نظر آۓ ، اور کم تھے بہ نسبت ، اس طبقے کے ، جو اگر جینز پہنے ہوۓ ہے تو قمیض مناسب لمبائی میں اور سکارف تو لازماً ً  لیا ہوا تھا ۔ اور یہ طبقہ زیادہ تعداد میں نظر آیا ،،، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ" بیگم اردگان "کے اثرات آہستہ آہستہ پھیل رہۓ ہیں ،، لیکن عورت چاہے ماڈرن ہے یا پردہ دار ، اگر سموکنگ کی عادی ہے تو وہ سرِ عام بھی سگریٹ پینے میں عار نہیں سمجھتیں ، لیکن ہر جگہ بنائی گئی کیاریاں میں سگریٹ کے ٹوٹے بجھاۓ جاتے ، یا ایش ٹریز میں ،، زمین پر نہیں ،،، اور آج مسجد میں ایک کیاری کے چوڑے چبوترے پر میَں ٹرکش خواتین کے ساتھ کندھے ملاۓاذان کی منتظر تھی ، ہماری تو قصر نماز تھی ، اس لیۓ ، نماز فرض پڑھنے کے بعد ، اپنے گروپ کی طرف نظر ڈالی وہ بھی مصروفِ دعا و نفل تھیں ، میِں نے بھی دو نفل پڑھنے کی نیت باندھ لی ،، اور گلے میں ڈالا ہوا، کراس پرس کھسک کر سائیڈ پر ہو گیا ،، میں دعا میں اتنی محو ہوئی کی کچھ لمحوں کے لیے بےجان سی ہو گئی ، اور پھر دعا سے فارغ ہو کر سب اکٹھے ہوۓ ۔ نزدیک ہی بازار تھا ، حضرت ابو ایوب انصاری ر ض کو سلام کہا اور چل پڑیں ، اتنے رش اور دھکم پیل سے نکل کو سیدھے بازار کا رُخ کیا گیا ، نشل کا دل تھا میَں کچھ لوں ، لیکن مجھے کسی چیز کی خواہش نہیں تھی ، اس لیۓ میَں نے اسے پیسے دینے کے لیۓ پرس کھولا ، تاکہ وہ میرے گھر بیٹھے پوتی اور پوتوں کے لیۓ کچھ لے لے ،، تو دیکھا پرس کی زپ کھلی ہوئی تھی حتیٰ ٹرکش لیرے کو رول بنا کر اندر کی ایک اور زپ والی جیب میں رکھا ہوا تھا ، اور وہ غائب ہو چکا تھا ،،، یہ دل کو افسردہ کر دینے والی واردات تھی ،،چاہے کوئی کتنا خوشحال ہو ۔ لیکن بغیر پوچھے کوئی یوں پیسے نکال لے تو کچھ دیر تک جھنجھلاہٹ طاری ہوئی ،، پھر یکدم یہ سوچ آئی ، اس چوری سے ( ڈیڑھ ہزار لیرا ) سے شاید مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ، چوری کرنے والی خاتون ، جس نے میری نماز میں محویت سے فائدہ اُٹھایا ،،اپنے عمل کو شاید کھوٹا کیا ہو ،، اور ہو سکتا ہے اس کی بہت سی ضروریات بھی پوری ہوئی ہوں ،، میں نے فوراًًنہیں ،،، تین دن بعد اللہ سے کہہ کر معاف کر دیا کہ قیامت کے میدان میں ، مجھے کہاں ڈھونڈتی پھرے گی ،،، ہو سکتا ہے یہ معافی میرے لیۓ بھی باعثِ معافی بن جاۓ ،،، ابھی مائرہ کے اے ٹی ایم سے میرا مسئلہ حل ہو گیا ۔۔۔ لیکن سوچتی رہی ، اور اگر کسی کے لیۓ یہ پیسے عزت بےعزتی ، زندگی موت کا مسئلہ بھی بن سکتے ہوۓ تو ،،،، !!مجھے ہاشم نے بہت کہا تھا کہ میرا اے ٹی ایم لے جائیں ، اتنے پیسے لے جانے کارواج نہیں رہا وغیرہ، لیکن میرا نان ٹیکنیکل دماغ اس پر راضی نہ ہوا ، اللہ کا شکر زیادہ رقم کمرے کی الماری میں رکھ آئی تھی جو باقی دنوں میں کام آئی ۔ ( اور آج بھی اے ٹی ایم کے بغیر ہوں ،  ،،، یہاں کے بازار میں میری بیٹی اور بھانجیوں کی دلچسپی کی کچھ اشیا تھیں ،، اس کے بعد اگلا قدم ہمارا " مشہورِ زمانہ سپائسی بازار" کی طرف کا تھا ،، جو ہمارے ہاں کے انارکلی یا موتی بازار کی طرح کا کورڈ بازار ہے ،، مجھے اس کے اندر جانے کا تفاق نہیں ہوا ، یہ بیان بچیوں کے اور جوجی کے کہنے کے مطابق لکھ رہی ہوں ،، میَں اتنی تھک چکی تھی کہ ایک جگہ کرسیاں رکھی تھیں ، اندر کے دکاندار سے اجازت لے کر بچوں کو ساتھ بٹھا لیا۔ ان کی ماؤں کے آنے تک پھر بازار میں پھرتی مخلوق کے چہرے پڑھنے لگی ۔ جب سب واپس آئیں تو پتہ چلا ، جو مشہوری تھی ، وہ مزا نہ مل سکا ، بس کچھ خاص نہ لگا ، اور ہم واپس وین میں بیٹھے ، اور ڈرائیور سے ایسی جگہ جانے کو کہا،، جہاں " مر مرہ" کا حسن بھی ہو اور کوئ یتاریخی عمارت بھی ، ، اور وہ ہمیں " خُریم کے محل " تک لے آیا ،، جو مرمرہ کے کنارے بھی تھا ، اور خوبصورت محل کا اندازِ دلبرانہ تاریخ سے معمور بھی مل گیا ،،، !۔
( منیرہ قریشی 20 اگست 2018ء واہ کینٹ )

بدھ، 15 اگست، 2018

ترکیہء جدید' (5)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
ترکیہء جدید' (5)۔
ہوٹل کے کمرے بہت آرام دہ تھے ، یا ہمیں تھکن ہی اتنی ہو جاتی تھی کہ وہ مزید آرام دہ لگتے ،، لیکن واقعی وہ صاف ستھرے تھے ، صبح ہمارے کمرے کے چھوڑنے سے پہلے ، کوئی نا کوئی صفائی کا مسکراتا ممبر آتا اور مکمل صفائ ہوجاتی ، لیکن کیا مجال کہ صفائ میں کوتاہی ہوئی ہو ،، اور کیا مجال ہمارا ایک جملے کا بھی آپسی تبادلہء خیال ہوا ہو ، سواۓ ' السلامُ علیکم ' کے ،، ہم سب صبح 8 بجے تک اپنے کمروں سے تیار ہو کر ، یا میرے کمرے میں ، یا ، جوجی کے کمرے میں اکٹھے ہو جاتے ، اور سبھی کے ناشتے یہیں تیار ہوتے ، اور کچھ بچے اپنے ناشتے پیک کر لیتے ، ایجویت بالکل وقت پر پہنچتا رہا ۔ لیکن ہمیں تیار ہوتے ، نیچے وین تک پہنچتے ، 10 بج ہی جاتے ،، آج ہم نے آئیہ صوفیا ، نیلی مسجد ، اور فیری کی سیر کرنی تھی ، فیری کی باری آخر میں تھی ،، پہلے ایجویت ہمیں مزید پرانے ترکیہ میں باۓ روڈ لے کر گیا ،،تھا ، اب اسی نے بتایا اگر " ڈیک" سے جائیں تو کچھ وقت کی بچت ہو جاۓ گی ،، اور یوں ہم سب کے لیۓ یہ پہلا تجربہ تھا۔ چند گاڑیاں پہلے سے باسفورس کنارے اس ڈیک میں کھڑی تھیں ، کنارہ دور سے نظر بھی آرہا تھا لیکن ، اُس طرف سڑک سے جانے پر ایک گھنٹے سے ذیادہ وقت بھی چاہیۓ تھا ، یہاں آدھ گھنٹہ ہی لگنا تھا ،، ڈیک پر' وین 'کی سیٹنگ ہوتے ہی بچے ، بڑے سبھی ڈیک پر آ گۓ کچھ سیڑھیوں سے اوپر جا کر بھی تصاویر بنا رہۓ تھے ۔ اور ڈیک غیر محسوس انداز سے چلتے ہوۓ ، 25 منٹ تک دوسرے کنارے جا لگا ،، اور اب سب سے پیچھے والی گاڑیاں فائدے میں تھیں کہ وہ پہلے نکل گئیں ، ہمارا مزید وقت بچا ۔ اور ہم سیدھے آئیہ صوفیا پہنچیں ،، اور ہم آئیہ صوفیا میں ہی داخل نہیں ہوتے ، تاریخ کے اوراق میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ یہ قسطنطنیہ کا ایک شاندار گرجا گھر تھا ، جسے بہت سی پینٹنگز سے سجایا گیا تھا ،،، اس چرچ کے خوب بڑے مین ہال ، کے گرد خوب بڑے بڑے کمرے تھے ۔ جنھیں عین اسی دور جیسے ہی رہنے دیا گیا تھا ۔ وہی لوہے کے پترے چڑھے دروازے ،، رنگین تصاویر سے سجے چھت ، حضرت عیسیٰ علیہالسلام کی اور کچھ ان کے حواریوں کی تصاویر ، یہاں ایک پھرتیلے ، سے دبلے پتلے آدمی کو 70 لیرے میں بطورِ گائیڈ ہائر کیا گیا ۔ تو ایک خوش مزاج گائیڈ ثابت ہوا جو اپنی کمزور انگریزی میں بھی لطیفے سناتا رہا ، اور اپنے گروپ کو ہلکے پھلے انداز میں ، کچھ سچی کچھ گھڑی حکایات سناتا رہا ، اسی نے بتایا ،، یہ چرچ عیسا ئی پیروکاروں کا ایک طرح سے قبلہ تھا بہت اہم حیثیت رکھتا تھا ،، پھر مسلمان فاتح ، آۓ تو اسے مسجد میں بدلنے کی سعی کرنے لگے ،،، لیکن یہ کوشش کئ وجوہات کی بنا پر نا مکمل ہی رہیں یہ ہی وجہ ہے کہ اس کا آدھا حصہ آج بھی چرچ کی صورت اور آدھا مسجد کے آثار لیۓ ہوۓ ہے لیکن ،، کچھ عرصہ ایسا بھی گزرا کہ یہ نہ چرچ ،، نہ ہی مسجد کے طور پر استعمال ہو سکا ، اور اسی دوران دنیا کے کلینڈر میں تاریخ ، اور صدی بدلی ۔ اور مصطفیٰ کمال پاشا ، نے اپنے دورِ حکومت میں ، اس تاریخی عمارت کو " میوزیم " کا درجہ دے دیا ،، اور آج یہ عیسائی ، اور مسلم سبھی کے لیۓ باعثِ دلچسپی ہے ، اور میوزیم کی صورت میں تھیسسز مکمل کرنے والوں کی آماج گاہ ۔ 
کچھ معلومات یہاں سے لیں اور باقی تاریخ کی کتابوں سے لیا ، اور اگلی منزل ، نیلی مسجد (بلیو ماسق) تھی ، یہ مسجد ، بادشاہی مسجد کی طرح وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ،، اس میں داخلے سے پہلے بہت بڑا صحن تھا ،، یہاں ایک فوارے کے گرد بینچ تھے تاکہ لوگ کچھ دیر بیٹھ سکیں نیز یہیں سے ایک طرف جا کر ٖغسل خانے یا لیٹرین بناۓ گۓ تھے ، مسجد میں داخلے سے پہلے جوتوں پر شاپر کے لفافے چڑھاۓ گۓ ، اندر بہت وسیع مسجد کا اپنا وہ صحن تھا جو مکمل طور پر ایک بڑے چھت سے کور کیا گیا تھا ، یہ چھت بہترین اور خوب بڑےفانوس سے اور خوبصورت سنہری تاروں سے سجا ہوا تھا ،، انہی تاروں پر بلب لٹک رہے تھے۔ یقینا" رات کو یہ مسجد خوب روشن بھی ہوتی ہوگی ، اور خوبصورت بھی لگتی ہوگی ،، لیکن ، اس اونچی چھت کے منبر کی طرف کی جگہ بالکنی تھی ، جہاں اونچی کھڑکیاں تھیں جن کے رنگین شیشے عجب بہار دے رہے تھے ۔ لیکن اتفاق سے اِن دنوں یہاں مرمت کا کام ہو رہا تھا ،، جس کی وجہ سے اس مسجد کا وہ حسن ، ظاہر نہیں ہوا ، جو ہمیں کتابوں میں یا ڈیکومنٹری فلم میں نظر آتا رہا ہے ۔ یہاں ظہر کی نماز پڑھنے کے لیۓ ہمیں مزید انتظار کرنا پڑتا ،،اور ابھی دن کے 11 بجے تھے صرف نوافل پڑھے ، اور تھوڑا یہاں وہاں پھرے ،، غیر ملکی مرد وخواتین بلا کسی تفریقِ مذہب و ملت مسجد کے اندر پھر رہۓ تھے اور تصاویر بنا رہے تھے ،،، یہ کسی ملک کی " احترام" پالیسی ۔ " برداشت " پالیسی ظاہر کرتی ہے ،، جو دینِ اسلام کا ایک جزو ہے کہ مسجدِ نبویؑ میں غیر ملکی وفود ملتے اور وہیں سارا دن گزارتے ۔ تو اب ہم اپنی عبادت گاہوں کو محدود نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ 
یہاں سے دل ٹھنڈا کر کے اب ہم" باسفورس ،،یا ،،" مرمرہ " سے باقاعدہملنے پہنچیں ، جماعت پنجم سے ، ہسٹری اور جیوگرافی بطورِ مضامین پڑھے ، اور جوں جوں آگلی کلاسسز میں گئیں ، تو " لفظ باسفورس" ہمیشہ کے لیۓ عجیب ساحرانہ لفظ کے طور پر ذہن میں رَچ گیا ۔ اکثر میَں اور جوجی اباجی کی معیت میں دنیا کا نقشہ لے کر بیٹھتیں ، تو وہ اپنا بتاتے ،، یہ ہے مصر ، یہ سوڈان ، اور یہ عراق، اردن ، یہاں ہے مراکش ،، مجھے ان علاقوں ، اور ان لوگوں میں رہنے کا موقع ملا ،،، وہ اپنی یادوں کو شیئر کرتے لیکن میَں ان انوکھے ناموں کے سحر کو دل میں جگہ دیتی چلی جاتی ، ان میں " خلیج باسفورس " کا نام ، دریاۓ نیل ، ٹمبکٹو ، مڈاخاسکر ،،، جی ہاں ایسے نام دل میں یاد کر لیتی ، کیا پتہ کبھی پہنچ جاؤں ۔ اور ،،، آج اپنی یادوں کے کونے میں لکھے لفظ "باسفورس " کو مسکرا کر " ہیلو " کہا ۔ ہم نے اس سلسلے میں ایک بڑی فیری میں بکنگ کروا لی تھی ،، اور اسے تین بجے دوپہر چلنا تھا ۔ گویا ہمارے پاس تین گھنٹے کھلے تھے ، لہذٰا بچوں کی ایک پسندیدہ جگہ ہے ، کھانا پینا ، یہاں بھی نشمیہ ، اور ایمن ثمن ہی کنسلٹنٹ تھیں ۔ ہم سب تو فالوؤرز تھے ۔ جتنی دیر کھانا پینا ہوا ، فیری پر جانے کا وقت ہو گیا ،، اس دفعہ ایجویت نے غلطی سے ہمیں ایسی جگہ ڈراپ کیا ، جہاں سے خوب ڈھلوان راستہ تھا ، اور پھر کہیں سڑک آئ ، اور فیری تک پہنچتے پہنچتے ، میرے لیۓ تو بے ہوش ہونے والی کیفیت ہوگی ،حالانکہ یہ فرلانگ بھر کا راستہ ، مجھے ایمن اور نشل نے پکڑ کر ، اور بہت احتیاط سے آہستہ آہستہ چلایا ،، اس دوران ہمارے قریب سے ایک عمر رسیدہ دبلا پتلا ، بندہ ہیٹ پہنے گزرا ، مجھے یوں آہستہ روی سے دیکھا تو اس نے رُک کر کہا معمولی انگریزی میں واضع کیا " جلدی کی ضرورت نہیں ، میں ہی فیری کا ڈرائیور ہوں ، آرام سے آئیں " یہ حوصلہ دینے والی بات تھی جو ہر جگہ نظر آنی چاہیۓ ۔ خیر فیری تک پہنچے ، جہاں ہم تینوں کے علاوہ ، باقی گروپ ممبرز پہنچ چکے تھے ، مجھے باسفورس کو خود سے متعارف کرانا تھا لیکن فوری طور پر میں ایک آرام دہ بینچ پر لیٹ کر سانس درست کرنے لگی ، ، جب کچھ بہتر ہوئ تو حسبِ عادت کھڑکی سے ترکی کے قدیم و جدید ، کے نظاروں کو دیکھنے لگی ، یہ دو گھنٹۓ کی رائیڈ ترکی کا مکمل تعارف کرا رہی تھی ۔ یہاں مسجد تو جیسے چپے چپے پر تھیں ، بعض مساجد ، چند مرلے پر بنی ہوں گی ،، اور بعض بڑی بھی ، لیکن ہر مسجد کا بنیادی نقشہ ، نیلی مسجد سے ہی مشابہ تھا ،، کنارے بہت سی جدید قدیم کا امتزاج لیۓ بلڈنگز تھیں ، بعض قلعے نما شاہی دور کی عمارتیں تھیں ،، کچھ عوام الناس کے گھر بھی قطار در قطار تھے ،، لیکن سب صاف ، اور خوش رنگی لیۓ ہوۓ تھے ، تو گویا یہ قوم حُسنِ ذوق سے مالا مال تھی ، خود بھی خوبصورت نقوش والے تھے ، تو تہذیب بھی اعلیٰ ذوقی سے مزین رہی اور ہے ،، !باسفورس سے پرانی محبت نے کچھ الفاظ کے تانے بانے بُن ڈالے ، پڑھ لیں گے تو میرے جذبات کو مزید جان سکیں گے ،،  
" باسفورس کنارے " 
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ترکیہء جدید 
ستھرے مکان ، توانا مقیم 
مطمئن ، آسودہ ، بے فکر
باسفورس کنارے ،،،،،،،،
تہذیبِ نو ، تہذیبِ قدیم 
باہم مل رہی ہیں مثلِ ندیم
تاریخ چپے چپے میں 
صدیاں کچھ پرانی 
صدیاں کچھ نئی
ہم مِل رہے ہیں تم سے مگر آشنا آشنا
باسفورس کنارے ،،،،،،،،،
محلاتِ بادشاہان !
حسین و جمیل
اجنبی نفوس ، اجنبی ساعتیں 
اجنبی وضاحتیں ، اجنبی سماعتیں
صدیوں بعد بھی ملے ، تو جانے مانے سے 
ہر لہجہ ، ہر چہرہ ، ہر سازش لگے افسانے سے 
محبتوں کے ڈھیر ہیں 
رقص میں درویش ہیں
باسفورس کنارے ،،،،،،،،،،،،،،، ( اگست 2017ء استنبول )
( منیرہ قریشی 15 اگست 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

منگل، 14 اگست، 2018

ترکیہء جدید" (4)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر" 

' ترکیہء جدید" (4)۔
اور اب اگلے ہی دن ہم مشہور و دلنواز " توپ کاپی" میوزیم جانا تھا ، جس کا صرف ذکر ہی کتابوں میں پڑھا تھا۔ اور مزید کچھ اور جگہوں کے لیۓ چلے ، تو پہلے ڈرائیورایجویت ، کو ٹرکش زبان لکھ کر تمام پروگرام بتایا ، اس نے ترکی میں ہی جواب دیا " میں سمجھ گیا " ،،، اور واقعی صرف 20 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم توپ کاپی میوزیم پہنچیں ،،، یہ جگہ ایسے " قلعے " کی صورت میں ہے جس کی چہار دیواری خوب مضبوط فصیل کی صورت اور اس کے چوڑے راستے بڑے پتھروں کو دبا کر بناۓ گۓ تھے ،، یہاں اوپر نیچے بنے زِگ زیگ کمرے ،، اُن مقدس لوگوں کے استعمال کی چیزوں سے سجے تھے ، جنھیں دیکھ کو ہم میں سے کچھ کے دل ڈولنے لگتے ، کچھ کے ایمان کی پختگی ایک سیڑھی اور چڑھ جاتی ،،،، اور کچھ سرسری نظر ڈال کر ، سیاح کے ہاتھ میں پکڑی لسٹ پر " ٹِک مارک " کر دیتے ،،،، اور کچھ کے لیۓ ایک حسرت ، پلُو میں بندھ جاتی کہ ،،، ذرا ٹھہر گردشِ وقت ، کہ اِن سے آنکھوں کو بھی سیراب کروں اور دل کی دنیا کو بھی آباد کر لوں ،،،،، یہاں آنحضورﷺ کے استعمال کی چند اشیاء ، آپؑ کا موۓ مبارک ، آپؑ کا دندانِ مبارک ، ایسی خوبصورت ڈبیوں میں بند تھے ، جو نظر نہیں آۓ ، حضرت فاطمہ زہرہ رض اور حضرت امام حسن رض و حضرت امام حسین رض ، اور حضرت علی کرم اللہ کے استعمال میں رہے لباس و نعلین ،،، حضرت موسیٰ علیہ کا عصا ،،، اور اب تک ہو گزرے ٹرکش بادشاہان کے زیرِ استعمال نہایت خوب صورت گھڑیاں ، کچھ ہتھیار ، اور کچھ ظروف سلیقے سے بڑے اور مضبوط شیشوں کے پیچھے رکھے گۓ تھے ،، فوٹو لینے کی سختی سے ممانعت تھی ،، اسی لیۓ میرے پاس ان کمروں کی ابھی تک کوئ فوٹو نہیں ملی ۔ ( حالنکہ کئ اور جگہوں پر بھی یہ پابندی نظر آئ ، لیکن چھپ کر یہ غیر قانونی حرکت کر لی گئ جیسے رقصِ درویش دیکھنے کے دوران ) ہمارے بچے ، وہ نئی نسل بن چکی ہے ، جنھیں نہ ماضی سے آگاہ کیا گیا ہے ، نہ انھیں اپنے ماضی سے دلچسپی ہے ،، نہ ہی انھیں دین کا نہ ہی دنیا کا نہ اپنے مقصد کا ادراک ہے ،،، ،، میَں شاید جذباتی اور منفی سوچ کی جانب چلی جاتی ہوں ،،، شاید ان کی عمر بھی ایسی ہے کہ وہ ہر نئی جگہ ، ہر نیا تجربہ اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں ،، اور اسی میں مطمئن ہیں ،، حال ہی میں میرے حلقہء فیس بک میں شامل بیٹی " کومل ذیشان " ترکی گئ تھی اور اس نے جس روحانی آنکھ سے اس میوزیم کا دیدار کیا ، یہ نئی جہت اور سوچ کو سامنے لاتا ہے ،، خاص طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے متعلق اسے جو ادراک ہوا ،، مجھے اس پر رشک آیا ۔ شاید جس دن ہم نے اس میوزیم کاوزٹ کیا ، وہ چھٹی کادن تھا ، یا اس دن سیاح ذیادہ آ گۓ تھے ،، کہ لوگوں سے کندھے ٹکرا رہے تھے ،، اور مجھے خود کو ہر حال میں گرنے سے بچانے کے چکر میں ،رش سے جلدی دور ہونا ہوتا تھا ، ورنہ غیر متوازن ہونے کی صورت میں اچھی بات نہ ہوتی ،، اس کے باوجود ایک چھوٹے کمرے میں دائیں بائیں رکھی ، یاد گار ،چیزوں میں ایک کونے میں لمبائ سےبنے شوکیس میں لگا " عصاۓ موسیٰ " عجیب ہیبت و تقدس دیتا محسوس ہوا،، یہ ہمارے ہاں کے بزرگوں کے ہاتھوں میں پکڑی عام چھڑی جتنی موٹائ اور ذرا اس سے لمبائ لیۓ عصا تھا ،، جو ہاتھ میں پکڑے جانے والے سِرے سے اَن گھڑ موٹا تھا ، سب سے اہم یہ کہ اس کا رنگ کیسا تھا ،،، آپ اسے کسی رنگ سے مشابہہ قرار نہیں دے سکتے ،،، اور اس عصا کے پاس جانے کو دل بار بار ذکر کرتا ہے ،،،( لیکن یہ اب کہاں ممکن) ۔ ایک دفعہ اس کمرے سے رش نے مجھے فوراً دوسرے کمرے میں جانے پر مجبور کیا ،، لیکن میَں دوبارہ پھر لائن میں اسی کمرے میں گھس کر سیدھی اس حیران کن چیز کے پاس جا کر چند منٹ گزار آئی ،،، تو عصاۓ موسیٰ تو یہاں ہے لیکن " یدِ موسیٰ " نہیں ،، جس ہاتھ میں وہ طاقت عطا کی گئی کہ وہ عصا اژدھا بھی بنا اور سمندر بھیپھاڑ ڈالا ،، تو اصل طاقت ، اصل کا اصل تو ، وہ ذاتِ اعلیٰ ہے جو اپنے بندے کے ہاتھ میں پکڑی ایک بے جان چیز کو " حیران کن " بنا دیتی ہے ، مولا کے رنگ نیارے " !توپ کاپی کے باہر خوب چوڑی شاہراہ ہے جس کے دونوں طرف ، ہر طرح کا سامانِ زیست بک رہا تھا ،، یہیں کچھ ہلکا پھلکا کھانا پینا ہوا ،، خاص طور پر ترکی میں جہاں گۓ ، تازہ جوس ، جو صاف مشینوں سے گاہکوں کے سامنے نکا لا جاتا ہے ، اس کا جواب ہی نہیں ۔ یہیں سے کچھ سیوینئرز خریدے گۓ ، اوراگلے پڑاؤ کی طرف چل پڑے ، کہ اب " مِنی ترکیہ" دیکھنا ضروری تھا ۔ یہ بھی ایک احساسِ ذمہ داری کو ظاہر کرتے ، سیاحتی مقام ہوتے ہیں ، جو کرپشن سے دور حکومتیں ، ہی بنا پاتیں ہیں ، کیوں کہ ہر جگہ کے ذمہ داران ، اگر خود کرپٹ ہوتے ہیں تو وہاں  صفائی نظر آتی ہے ، نہ چیزوں کی مرمت کی صورتِ حال ، نہ سلیقے سے باترتیب ، نِک سِک اشیاء سامنے نظر آئیں گی ۔ یہاں قدرے اُنچائ میں ایک چھوٹا سا ایریا آباد کیا گیا ہے جہاں ترکی کی ہر اہم اور مشہور و معروف عما رات ، کے ماڈل انتہائ سلیقے اور باریک بینی سے بناۓ گۓ ہیں ،، قریبا" ہر ماڈل 15/ 20 فٹ لمبا ئ، اور چوڑائ میں جگہ گھیرے ہوۓ تھا ، اس کے علاوہ مشہور ایئر پورٹس ، جہاں کچھ جہاز کھڑے اور کچھ روبوٹ ہوائ جہاز چل بھی رہے تھے ،، نیز ایک جگہ بحری جہاز بھی آنے جانے کا مظاہرہ کر رہے تھے ،، کچھ عمارات، برٹش دور کی تھیں ، جو دیکھتے ہی پہچان لی جاتی ہیں کہ ، انگریز جہاں گۓ اپنی تہذیب ، اپنے طرزِ تعمیر کو ضرور متعارف کروایا ۔۔ یہاں بھی بغیر برآمدوں والی دومنزلہ عمارتیں ، جو ذیادہ سفید پینٹ میں تھیں ، بنائ گئیں تھیں ، اور یہ دفاتر کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں ۔ یہ ایک ایسا وزٹ تھا ، جو ایک دو گھنٹے میں سارے ترکی کا تعارف کرا دیتا ہے ۔
اور اب ہمارا آدھے سے ذیادہ دن گزر چکا تھا ،، نشمیہ ہمارے گروپ کی واحد بندی تھی جسے ہر وقت شاپنگ کی فکر رہتی ،، اور بچہ پارٹی تو ( کہیں جا کر ) ویسے بھی کھانے پینے کی فکر کو اولیت دیتی ہے ۔ شام ہوتے ہی کسی ہوٹل کی تلاش ہوئی ، لبنیٰ کو یاد آیا کہ اس کے داماد نے کہا تھا " میٹر کباب " کا تجربہ ضرور کرنا ، زرک یا ایمن ثمن نے گوگل سے وہ ریستورنت تلاش کیا ، یہ ایک اچھا ، معیاری ، ریسٹورنٹ تھا ،،، لفظ صاف اب استعمال نہیں کروں گی کہ ہم جہاں گئیں ، کھانے پینے کی جگہیں اور کھانے کی اشیاء نہایت صاف ستھری تھیں ، کہ بےفکر ہو کر کھائی جا سکتی ہیں ، اور سب سے بڑھ کر حلال ۔ سب سے پہلے سبھی باری باری واش روم گۓ ، اور جب واپس آۓ تو یہ لمبا ٹیبل ، چار پانچ قسم کے سلاد سے سجا ہوا تھا ،، بھوک تو تھی ہی ، چناچہ آرڈر دینے اور آرڈر کی ڈش آنے تک ہر قسم کے سلاد کو چکھا ، بلکہ خوب کھایا جا چکا تھا ۔ 
ترکوں کی صحت کا راز بھی یہ ہی ہے کہ یہ لوگ سلاد سے خوب پیٹ بھرتے ہیں ، جس کے اوپر یا تو زیتون کا تیل ، معمولی مقدار میں میں ڈالا جاتا ہے ،، یا ،، کچھ تلے بادام اور مزیدار تلی بینز ہوتے ہیں ، یا میونیز !! اور اسکے ساتھ ، روٹی کی پرواہ نہیں کرتے البتہ گوشت کے دو تین ٹکڑے ضرور ہوں ، ہم نے ایک مزدور کی بنیادی خوراک بھی یہ ہی دیکھی ، اور ایک خوشحال بندے کی بھی بنیادی خوراک یہ ہی دیکھی ، ذرا پیسہ ہےتو مچھلی بھی کھائی جاتی ہے ،، یہ ایسی صحت مند خوراک ہے کہ یہاں چہروں سے ہی صحت مندی ، اور اطمینان جھلکتا دکھائی دیتا ہے ۔ کم ازکم سر پر چھابڑی سجاۓ سادہ ترین بندہ بھی پینٹ ، شرٹ میں ہاتھوں پر گلوز پہنے اپنا مال بیچتا نظر آۓ گا ، مغربی لباس ہی اب ان کا قومی لباس بن چکا ہے ۔ 


خیر کچھ دیر بعد ایک لمبی لکڑی کی ٹرے پر وہ ڈش آئی جسے " میٹر کباب " کا نام دیا گیا ہے ،،یہ دراصل ایک میٹر ( میرے خیال میں ایک گز) لمبا اور پانچ چھے انچ چوڑا ٹرے تھا جس پر " خُبس " ٹائپ لمبائی میں بنی روٹی تھی ، اور اس روٹی پر تین چار گول کباب ، تین چار سیخ کباب ، چار پانچ دنبے کی چانپیں اور ان سب کے اوپر سبز مرچیں ، سلاد کی مختلف اشیاء سجائی گئیں تھیں ،، تو گویا کباب اور چانپیں تو وہی تھیں ،، بس ذرا " پریزنٹیشن " سجاوٹ ، کے انوکھے انداز نے اسے منفرد بنا دیا ،، ہم بڑوں کو کچھ مایوسی ہوئی ،، لیکن کھانا تو تھا ہی ، کھانے کا ٹیسٹ ، بہت اچھا تھا لیکن بچوں نے چربی میں پکی چانپوں کو کھانے سے انکار کر دیا ، یہاں ہمارا تجربہ یہ رہا کہ ، شاید یہاں بکرے نہیں پالے جاتے ، دنبوں کے گوشت کے یہ عادی ہیں اس لیۓ ان کے لیۓ نارمل ہے ، بچوں نے کباب تو کھاۓ لیکن چانپوں کو ہمیں پیک کروانا پڑا ،، چونکہ ہم گروپ کے حساب سے تین میٹر کباب منگوا چکی تھیں ۔ لیکن اچھا تجربہ رہا ، اگرچہ کچھ مہنگا ، لگا ،، اس لیۓ ترکی جا نے والوں سے یہ کہوں گی ، کہ ان کے کھانے ضرور ٹراۓ کریں لیکن ، کم مقدار میں منگوائیں ۔ کم مرچ والے کھانے ہیں جو ہر قوم کے لیۓ قابلِ لذتِ دہن ہیں ۔
( منیرہ قریشی 14 اگست 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری 

جمعرات، 9 اگست، 2018

ترکیہء جدید ' (3)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر "
' ترکیہء جدید  (3)۔
ہمارے قیامِ ترکی کے لیۓ ، لبنیٰ کے داماد عمر ، کی واقفیت اور ترکی میں اس کے قیام سے لی گئ معلومات ، ہمارے کام آنے لگیں ،، اس نے کچھ عرصہ استنبول سے باہر ایک بلڈنگ کا پروجیکٹ مکمل کیا تھا ،، اب وہاں کے ٹرانسپورٹ انچارج کو اس نے فون پر نہ صرف وین کا آرڈر دے دیا ، بلکہ، ایسا ڈرائیور ساتھ دیا ، جسے سبھی راستوں سے خوب آگاہی تھی ، لیکن وہ انگریزی سے مکمل طور پر نا بلد تھا ( ہاۓ بیچارہ"  ۔۔ انگریزی بغیر ہی زندہ تھا۔ ) وہ درمیانی عمر کا خوش شکل ٹرکش تھا ،، جس کا نام مہمندایجوت تھا ،، مؤدب اور تمیز دار تھا، اب آپسی کمیونیکیشن کیسے ہو ؟ زرک نے فورا" اسی جدید موبائل کی سہولت کا ستعمال کیا کہ وہ انگریزی میں لکھتا ،، اور زبان کے بٹن کے تحت ترکی زبان لکھی آ گئ اور وہ جملے ، ایجوت پڑھ لیتا ،، اس طرح وہ اسی جگہ پہنچا نے لگا ،،، وہ انگریزی پڑھنے ، یا بولنے سے یکسر نا واقف تھا ۔ ہم نزدیکی پارک گئیں ، جو 15، منٹ کی ڈرائیو پر تھا ،، یہ خوب صورت ،،پارک ترکی سے پہلا " تعارف " بن گیا ، اور ساتھ ہی باسفورس کا پہلا نظارہ بھی یہیں ہوا ۔ یہ پہلے نظارے نہ تھے ،، کسی سر زمین سے محبت کی ابتدا بھی تھے ۔ بہت کھلا راستہ ، پیورز سے آراستہ ، کچھ اونچائ لیۓ ہوۓ تھا ۔ اور اس پاتھ کے اردگرد خوب کھلے سر سبز لان ، خوب صورت کیاریاں، باترتیب درخت ،، اور ماحول پر صفائ کا مکمل تائثر ۔ یہیں کچھ چڑھائ ہی چڑھی تھی کہ چند صاف ستھری دکانیں نظر آئیں ،، جن میں سے ایک آئس کریم کی دکان تھی ، جو موسیٰ ، حمزہ اور زرک کے لیۓ فوری دلچسپی کا باعث بنی ، نشل نے انھیں " کان آئسکریم " کے لیۓ دکان کے پاس کھڑا کیا ،، اور پھر ہم نے ترکی کے آئس کریم والوں کا مخصوص اور میوزیکل انداز دیکھا ، جو نہ صرف دیکھنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے ، بلکہ بچے تو جیسے نہال ہو جاتے ہیں ، ، یہ صرف آئس کریم بیچنے کا انداز ہی نہ تھا ساتھ ہلکی پھللکی جادو گری بھی دکھائ جا رہی ہوتی ہے یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے ،، بعد میں استنبول کے علاوہ دوسرے شہروں میں جانے کا تجربہ ہوا تو یہ ہی انداز ہر جگہ تھا ۔ دکانداری میں خوش مزاجی اور خوش مذاقی کتنی فائدہ مند ہوتی ہے ، ہمیں وہاں جا کر علم ہوا کہ بچے بار بار آئس کریم لینا کیوں پسند کر رہۓتھے ۔
، اب بڑوں کی دلچسپی کی چیز بھی نظر آگئی ،،، جی ہاں ، ایک خوبصورت ، صاف ستھری ، " ریڑھی " جہاں بہت سلیقے سے اُبلتی چھَلیاں ( بھُٹے ) بِک رہیں تھیں ، اس مستطیل ( ریکٹ اینگل) ریڑھی میں تین سٹیل کے " لگن " رکھے ہوۓ تھے ، درمیان کے لگن کے نیچے آگ لگی ہوئ تھی جس میں پانی تھا اور چھلیاں اُبل رہیں تھیں ،دائیں طرف کے لگن میں ابل چکی چھلیاں رکھی ہوئ تھیں ِ، جبکہ بائیں لگن میں کچی چھلیاں پڑیں تھیں ،، چھلی بیچنے والا ، ٹرکش نوجوان ، ویسے ہی خوش شکل تھا ، اوپر سے اس کا صاف ستھرا لباس ، اور انداز نے ہمیں بے فکری سے کھانے پر آمادہ کیا اور ترکی میں ہماری پہلی خریداری خوراک چھلی تھی ،، چھلی والے نے ایپرن باندھا ہوا تھا ، ہاتھوں پر گلوز ، سرَ پر سفید کیپ ، یا پی کیپ بھی پہنی ہوتی ، اتنا تفصلی حلیہ اس لیۓ بتایا کہ ، پاکستانی چھَلی فروش ، شاید صبح ہاتھ دھوتے ہیں ،، اور پھر شاید رات کو دھوتے ہوں ، انھوں نے ایک ایک ہفتہ پہلے کے کپڑے پہنے ہوتےہیں ، اور ہاتھوں میں گلوز کا رواج تو اچھی بیکریوں میں بھی کم ہی ہوتا ہے ۔ ( یہ اور بات کہ ہم گندگی کے امیون ہو چکے ہیں ، اس لیۓ کوئی مسئلہ  نہیں ہوتا ) ، ابلتی چھلی کو چمٹے سے پکڑ کر ایک سلیقے سے کٹے سخت کاغذ پر رکھا گیا ، چونکہ ہم نے اوپر مصالحہ نہیں لگوانا تھا ،، ایسے ہی کھانا شروع کی ، یہ بہت لذیذ میٹھی مکئی تھی ،،، اور جب تک ہم ترکی رہیں ، دن میں دو دفعہ بھی چھلی مل جاتی تو انکار کوئی نہ کرتا ۔ دین اسلام کا اہم پیغام " صفائ نصف ایمان ہے " کو اپنانے سے ،دیکھنے والے کو کتنا اچھا لگتا ہے ،، اس کا ہم برِ صغیر کے لوگوں کو بہت احساس ہے ۔ ،،، یہاں اچھی خاصی واک ہو گئ ،، دو جگہ پر دور بینیں نصب تھیں ، جو کوئنز ڈالنے سے آن ہوتیں ، اور ہر بندہ صرف ایک منٹ کے لیۓ سامنے بہتے باسفورس کے دوسرے کنارے کا نظارہ کر سکتا تھا ۔ نئے شادی شدہ ایک جوڑے کی مووی بھی بن رہی تھی ، دلہن سفید لباس میں سَر سے پاؤں تک بہت ساتر لباس میں تھی ،، اب یہاں دو گھنٹے گزر چکے تو واپس ہوٹل پہنچنا تھا ، تاکہ انگلینڈ کی پارٹی کو وصول کر لیں ،، جو پہنچنے والی تھیں ، کہ یہاں شام کے چار ، ساڑھے چار ہو چکے تھے ۔ شام پانچ تک ایمن ثمن اور مائرہ پہنچیں ،، سب نے پُر جوش استقبال کیا ،، سبھی کزنز کافی عرصے بعد اکٹھی ہوئ تھیں ،، اب اطمینان سے چاۓ پی گئ ، اور جو لوازمات لاۓ گۓ تھے ، ان کا لطف اُٹھایا گیا ۔ ہر فیملی کو ایک بیڈ روم ، ایک لاؤنج ایک کچنٹ اور ایک باتھ روم ملا تھا ، ،، اس طرح یا تو ہمارے کمرے میں ،، یا جوجی اور بچیوں والے کمرے میں مشترکہ ڈیرہ ڈالا جاتا ،، دو تین لڑکیاں ناشتہ تیار کرتیں اور یوں ہم روزانہ خوب ہلے گلے میں ناشتے کرتے ،، اور پھر رات کا کھا کر واپس کمرے میں آتے ، کیوں کہ ایک دن ہی میں ہمیں ان کے صبح کے ناشتوں سے اندازہ ہو گیا ، کہ سواۓ بے شمار سیریل کے ڈبل روٹی اور تلے ، ابلے انڈوں کے کوئ خاص چیز نہیں ،،، تو ڈبل روٹی ، اُبلے انڈے اپنی مرضی سے کیوں نہ کھاۓ جائیں ۔ کیوں کہ بچوں کا تیار ہونے میں وقت لگتا ، اور ان میں سے کچھ پہلے ، کچھ بعد میں تیار ہوتے ۔ اب کمرے میں ناشتے کا تجربہ ذیادہ بہتر رہا ۔
خیر اسی شام جب ایمن ثمن پہنچیں ، اسی وقت ہم دوبارہ ان کے ساتھ وین میں بیٹھیں ، اور کہیں نزدیکی شاپنگ مال گئیں ،، تاکہ کھانے پینے کی کچھ چیزیں خرید لیں ، اور مزید کچھ کرنسی کی تبدیلی کروا لی جاۓ ۔ اور یہ بتانا چاہوں گی کہ یہاں ڈالرز ، یا پاؤنڈ کی کرنسی لمٹیڈ ہی بدلائ جا سکتی تھی ،، دکاندار ایک خاص رقم کے بعد وہ صاف انکار کر رہے تھے ، کہ ہم نہ لیں گے نہ لیرے دیں گے ،، قانون کے مطابق چل رہے تھے ۔ اسی مال سے خواتین نے کچھ شاپنگ کی اور یہیں ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھا لیا گیا ۔ کچھ فون کی سِم کا بھی مسئلہ حل کیا گیا ۔ وغیرہ گویا ہم اپنے چند روزانہ قیام کے مین مئلوں سے نبٹ لیں۔
( منیرہ قریشی 9 اگست 2018ء واہ کینٹ ( ( جاری )

بدھ، 8 اگست، 2018

ترکیہء جدید' (2)۔

 سلسلہ ہاۓ سفر "
' ترکیہء جدید' (2)۔
ٹرکش ایئر لائن ، کا طیارہ ٹھیک وقت پر چلا اور ٹھیک ہی وقت پر استنبول ایئر پورٹ پر اترا ،،،اور اس دوران کم ازکم میَں اپنے ساتھ کے رشتوں ، سے بے نیاز ہو گئی ،جہاز کے اندر بیٹھے ، لوگوں پر ایک طائرانہ نظر ڈال کھڑکی سے یوں چِپکی رہی ، جیسے لمحے بھر کے لیۓ بھی اُٹھی تو کوئ اور میری جگہ نہ لے لے ۔ 
جب میَں ٹین ایج میں تھی ، تب سے سفرنامے پڑھنے ، اور کسی کے بیرونی سفر کی تفصیل جاننے کا بہت ہی شوق رہا ۔ خاص طور پر ، سفر نامے کسی ہفتہ وار میگزین میں ہوں ، یا کتاب کی صورت ،، میرے لیۓ اسے پڑھنا ، سبھی کاموں سے ذیادہ اہم ہوتا ۔ اندر کی خانہ بدوشی روح کو انسان نہ خود پہچان پاتا ،، اور نہ والدین جج کر سکتے ہیں ، ، میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والی زندگی کتنی نارمل روٹین کی گزارنی ہو گی کہ سب خواب دھندلا جائیں گے ،، وہ لا اُبالی عمر ، جس میں ہر لڑکی بہت کچھ فینٹیسی کی دنیا میں رہتی اور ان ، خواہشوں پر ایسا یقین رکھتی ہے ، کہ ان میں سے سارے نہیں ، تو آدھے خواب تو ضرور پورے ہوں گے ،، ایسے خوابوں میں میرے ساتھ ، ہماری پڑوسی سہیلی " شاہدہ" بھی شامل ہوتی ، جوجی بہت پریکٹیکل سوچ رکھتی ،، اور تسنیم ، جو ذرا ہم میں ذرا بڑی تھی ، گھر کی بھی بڑی بیٹی تھی ،، نہایت مدبر شخصیت بنی رہتی ، اور اکثر اماں جی کی صحبت میں بیٹھ کر کبھی کوئ سلیقہ شعاری سیکھ رہی ہوتی کبھی کچھ خریداری کا پلین کرتی رہتی ،، باقی عوام ( شاہدہ کی چھوٹی دو جڑواں بہنیں ، میرا بڑا بھانجا ، جو تعلیمی سلسلے میں ہمارے پاس ہی رہ رہا تھا ، اور اس وقت وہ جماعت سوم کا طالب علم تھا ، اور ان تینوں کو کسی کھاتے میں نہیں سمجھا جاتا تھا )،،، 1970 میں تسنیم کی شادی طے پائی ، اور ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کے ساتھ لیبیا چلی گئ ، وہیں سے ، کسی سال اس نے مصر دیکھنا ، کسی سال عمرہ کیا، کسی سال کویت ، کی طرف چکر لگایا ،،گویا جو ہمارے ( میرے اور شاہدہ کے زیادہ )دل کے ارمان تھے ، وہ تسنیم پر پورے ہو رہے تھے ، ہمارا خیال تھا ، ہمارے والدین بہت " براڈ مائنڈڈ " ہیں ،، یہ ہمیں سیرکے لیۓ کہیں نا کہیں کسی ملک بھیج ہی دیں گے ،، حالانکہ یہ ایسی انہونی خواہشوں کا پالنا تھا ،، جسے ، کسی حالت میں شادی سے پہلے عملی جامہ پہنایا ہی نہیں جا سکتا تھا،کہ مڈل کلاس کتنی بھی خوشحال ہو ،، ہم کچھ نا کچھ " لوگ کیا کہیں گے " کے جملے کے اسیر ہوتے ہیں ۔
ہمیں والدین نے اپنے "کافی دقیانوسی، روایتی  " خاندان سے ہٹ کر پالا تھا ،،جس نے ہمارا دماغ ذیادہ نہیں تو تھوڑا خراب کر ہی دیاتھا ۔ اور پھر زندگی نے اپنے رنگ دکھاۓ ،، میری زندگی بالکل اسی روٹین میں گزری ، جس ، کا سوچنا ، سوچ کی سرحدوں پر بھی تھا ، لیکن سکول کی جاب ، کے دوران اُن نوجوان بچیوں کو اکثر ،کتابیں پڑھنے پر زور دیتی ، تاکہ یہ عادت ، انھیں خوابوں کی دنیا کی جھلک دکھاتی رہۓ ، اور وہ آنے والی زندگی کے، کینوس پر صرف بھورے ، مٹیالے ، یا کالے ، یا سلیٹی رنگ ہی نہ دیکھیں ،، بلکہ ، گلابی رنگوں کے ہر شیڈ سے آگاہ ہوتی رہیں ،، مسکرانا بھول نہ جائیں ،،، اور ، پھر جوجی اور شاہدہ بھی ، نئی زندگیوں کو انجواۓ کرنے لگیں ، ، خاص طور پر شاہدہ ، تعلیمی میدان میں ایک پُرعزم ، پُرجوش ، طالبِ علم بنی رہی ، اور اسی سلسلے میں اسے پہلا سفر انگلینڈ میں پی ایچ ڈی کی تھیسسز کے لیۓ کرنا پڑا ،، اور یہ سفر کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا ،، اور آج وہ آدھی دنیا دیکھ چکی ہے ، اور اس لحاظ سے وہ بہترین " ہمسفر " ثآبت ہوتی ہے کہ اس کی کمپنی میں باقی لوگ مطمئن بھی رہتے ہیں اور با حوصلہ بھی کہ " میرِ کارواں " باحوصلہ ہو ،، تو سبھی کھلکھلاتے رہتے ہیں ،،، اور اب یہ صلاحیتیں ، ایمن ، ثمن ، میں نظر آئی ہیں ،، بعد میں جوجی کے بچوں کی انگلینڈ میں مستقل رہائش نے اس کے پاؤں میں بھی سفر کا چکر دیا ہوا ہے ،، اور ہر سال کسی نا کسی نئی جگہ کو دیکھنے کا موقع اسے اپنی بیٹیوں کی وجہ سے ملتا چلا جا رہا ہے ،،، اور اب ترکی ،،،، یا ترکیہ ،، اس کی ایئر لائن کی سروس واجبی سی تھی ، ، لیکن پی آئ اے سے ذیادہ برُی شاید ہی کسی ایئر لائن کی سروس ہو ،، جس کا کبھی ایک معیار " تھا "ہم استنبول ایئر پورٹ پر صبح 10 بجے اترے ، بہت بڑا ، اور شاندار ، صاف ستھرا ایئر پورٹ تھا ،، میں سامان کے اُٹھانے ، یا اس کی فکر سے پہلے بھی لا پرواہ تھی ،، اب ایکسیڈنٹ میں ٹانگ کے مسلۓ نے مجھے معقول " بہانہ " دے دیا  ،،، اور سب سے اہم بات میرے ناز اُٹھانے والے موجود بھی تھے ۔ ،،، مجھے اس سفر نے اتنا پُر جوش کیا ہوا تھا کہ جہاز میں مسلسل بیٹھے رہنے سے ، ٹانگوں اور پاؤں کی سوجن ، کے باوجود ، ایئر پورٹ پر چلنے کا وقت آیا ، تو میَں خوب اچھے سے چلنے لگی ،، جوجی اور میری بیٹی نشل کا خیال تھا ، وہیل چیئر لے لیتے ہیں ، لیکن میَں راضی نہ ہوئ ، اور اچھا خاصا میل ، سوا میل کا راستہ ، ان کے ساتھ برابر چلی ۔ آخر میں بورڈنگ پاس دیکھانے کی جگہ آئ ، جہاں لائن اَپ ہو کر کھسکنے والی پوزیشن میں کھڑا ہونا پڑا تو ، کڑا امتحان لگا ،، لیکن لائن کے مطابق رکھنے کے لیۓ جو پائپ لگاۓ گۓ تھے ، انہی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو ہو کر آخر گھنٹے بعد باہر آۓ ،،، ہماری چھوٹی بھانجی نشمیہ اپنے دونوں بیٹوں حمزہ اور زرک ، کے ساتھ ہوٹل ہم سے پہلے ہی پہنچ چکی تھی ،، ایمن ثمن اور مائرہ نے انگلینڈ سے شام کی فلائیٹ سے پہنچنا تھا ، لیکن ، انھوں نے اپنی طرف سے نہایت ، کنسرن ہو کر ایک وین کی بکنگ آن لائن کروا دی تھی،، جبکہ لبنیٰ کے داماد نے بھی ایک وین کی بکنگ ہمارے سارے قیام کے لیۓ کروا رکھی تھی ۔ اور یہ ہوا،، کہ بندے ہم چھے تھے ، جبکہ دو بہترین وین 15 سیٹرز والی نہ صرف آچکی تھیں ،، بلکہ آن لائن والی کی پے منٹ بھی ہو چکی تھی ۔ اب یہ فیصلہ کیا کہ میَں اور جوجی ، اسی وین میں بیٹھ جاتی ہیں اور ، نشل بچے اور لبنیٰ ، دوسری وین میں بیٹھیں ،، اور السلامُ علیکم کہہ کر ڈرائیور کے ساتھ ہم دونوں بیٹھ گئیں ،، ڈرائیور 45/40 کی عمر کا مسکراتی شکل والا آدمی تھا ،، میَں نے ، بیٹھتے ہی اسے بتایا ہم پاکستان سے آرہی ہیں ، اور ابھی آن لائن بکنگ والی شام کی فلائیٹ سے آئیں گیں ، اور انگلینڈ آنے والیوں کو پھر لینے جاؤ گے ،، جوابا" اس نے بہت ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا کی ہاں مجھے علم ہے ۔ تب میَں نے سفر شروع ہوتے ہی ، "تم کتنا پڑھے ہوۓ ہو ، کتنے بچے ہیں ، کس کس کلاس میں ہیں ؟ اور یہاں کا تعلیمی سسٹم کیسا ہے ؟ کیا تمہارے بچے پرائیویٹ سکولوں میں ہیں یا سرکاری ،،،، !!!یہ سوال پوچھنے کی (میَں نے پہلے بھی لکھا ہے) ہم دونوں ایسے عارضی ہم سفروں سے کرنے کی عادی ہو چکی ہیں ، اور جوں ہی اگلا دکھی سٹوری سناتا ہے ہم ، دونوں بہنیں ، آنسو بہانے میں بھی دیر نہیں لگاتیں ،، اور اگر وہ اچھی خبریں دیتا ہے تو ، " اوہ ، شکر الحمدُللہ ، اوہ ، ما شا اللہ ، اللہ مزید ، کامیابی " ،، والے جملوں کی ادائیگی میں بھی دیر نہیں لگاتیں ،،، اور یہاں تو ایسے " مبارک " جملے بولنے کے بے شمار پوائنٹس بن رہۓ تھے ۔ ڈرائیور نے بتایا ،، اس کی چھے بیٹیاں ہیں ، جن میں سے بڑی تین کالج لیول پر جانے والی ہیں ، میرا بھائ سویڈن میں رہتا ہے اسکے بچے نہیں ہیں ، چناچہ یہ بڑی تینوں اس کے پاس جا کر رہ رہی ہیں چھوٹی تینوں یہیں ترکی میں ہیں ، ،، میَں خود میٹرک پاس ہوں ، بیوی ایم اے انگلش ہے اور یونیورسٹی میں لیکچرار ہے ،،، ۔😃😎
یہ سب خبریں اتنی مثبت ملیں کہ واؤ ،، واؤ کرتے منہ تھک گیا جوجی سخت تھکی ہوئی تھی ، وہ نیند کی چھپکی لینے لگی ،، اس لیۓ اسے میرے خوشی کے تاءثرات کا علم نہ ہوا ،، اس نے مزید بتایا تمام سرکاری سکولوں میں چھٹی جماعت تک تعلیم فری ہے ،، اور چھٹی تک صرف ٹرکش زبان میں تعلیم دی جاتی ہے ، ساتویں میں ایک مضمون غیر ملکی زبانوں کا شامل کیا جاتا ہے چاہے کوئ ، انگلش پڑھے یا جرمن ، یا فرانسیسی ، یا عربی ،، لیکن یہ بھی بہت مشکل کتاب نہیں ، دسویں تک یہ زبان محض آپشنل پڑھائ جاتی ہے ،، اور پھر کالج میں ، جس زبان کو مزید پڑھنا ہے یعنی " ایڈوانس " لیول پر تو تب اسے اسی مضمون کی کتب پڑھنی ہوتی ہیں لیکن باقی طریقہء تدریس ترکی زبان میں ہی ہوتا ہے ،، یونیورسٹی لیول پر مضامین کا انتخاب بھی زبان ان کی اپنی ہے البتہ اکسی غیر ملکی زبان کو پڑھنا ہے تو آپشن دی جاتی ہے ۔ کہ اسی مضمون کو پڑھ لیں ، اسی میں ماسٹر کر لیں ، اور میری بیوی نے ماسٹر اسی طرح کیا ہے " ،،،ذیادہ حیرت اس پر بھی تھی ، کہ ٹپیکل سوچ کے تحت اب بیوی ساتواں بچہ پیدا کرنے والی تھی ، کہ شاید بیٹا ہو جاۓ ، !!!! یہاں تک سٹوری پہنچی تو میری ، واؤ ،، کا تائثر ،،، کچھ بدل گیا ،،، اور موضوع بھی بدل گیا ،، اور ترکی کے جدید ترکی بننے پر تبادلہء خیال ہوا ،، کہنے لگا " ملک کو سب سے ذیادہ طیب اردگان نے ، آگے بڑھایا ہے ، ساری قوم اس کی بات کو مانتی ہے وغیرہ ایئر پورٹ جدید ترکی میں شامل ہے ،، اور یہاں سے ہمارے ہوٹل تک ایک گھنٹے سے ذیادہ وقت لگا ،، لیکن اس کے ہائی وے کے کنارے ، نہ صرف نہایت صاف بلکہ ، گھاس کی اور ہیجز کی ، اور پھولوں بھری کیاریوں کی ایسے کٹنگ اور صفائ تھی جیسے آج ہی کی گئ ہو ،، ایک بڑے پل سے گزرے جو قدیم اور جدید ترکی کو الگ کرتا ہے ، سٹرکوں کے کنارے اس گھنٹے ، بھر کی ڈرائیو میں کوئی سکول نظر نہیں آیا ،، پوچھا تو بقول ڈرائیور کے ،، بچوں کے سکول چھوٹی سڑکوں پر بناۓ گۓ ہیں ، یونیورسٹیز ، وہ بھی اِکا دُکا ، سڑکوں کے کنارے نظر آئیں ،، بہ نظرِ غائر ،ایک خوشحال قوم کا تائثر ملا ،،، اور " فسٹ امپریشن از دا لاسٹ امپریشن ، والی بات ہوئی ۔
اور آخر قدیم حصہء ترکی میں اپنے نو دن کے قیام کے ہوٹل پہنچیں ، جس کی داخلے والی سڑک بالکل ایسی موڑ والی تھی جیسے ہمارے " مری " کے پہاڑی علاقے کی ہو ،، یہ تو پہلے دن ہی علم ہوا کہ سارا استنبول نیم پہاڑی زمین پر بنا ہوا ہے ، اور ارد گرد کی چھوٹی پہاڑیاں اسے محفوظ اور حسین بنانے میں بھر پور کردار کرتی ہیں ۔ ،،، ہمارےہوٹل کا نام تھا  "بول"یا اس کا صحیح تلفظ میَں تصحیح کر کے پھر لکھوں گی ،،یہ 20 منزلہ 5 سٹار ہوٹل تھا،اور پہنچتے ہی ،، ہوٹل انتظامیہ نے ہمیں ، ہمارے کمرے 9ویں منزل تک سامان سمیت رہنمائی کر کے پہنچایا ،،میَں اپنے بیٹی اور نواسی نواسے کے ساتھ ،، جوجی کا کمرہ میرے ساتھ اور اس کی تینوں بیٹیاں ،، جبکہ نشمیہ اور لبنیٰ 13 ویں منزل میں دو کمروں کی بکنگ تھی ، پہلے سے موجود نشمیہ اور اس کے خوش مزاج بیٹے ، سب سے ملے ، اور نشمیہ نے اپنی جلد باز طبیعت کے تحت ہمیں فورا" تیار ہونے کا کہا ،، کہ کوئ لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہیۓ ۔ چناچہ ، صرف ایک ایک چھوٹی پیالی چاۓ کی عادتا پی گئی ،اور حاضر موجود وین کے ڈرائیور کو کسی نزدیکی پارک لے جانے کا کہا ،،،،،۔
( منیرہ قریشی 8 اگست 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری 

پیر، 6 اگست، 2018

ترکیہء جدید " (1)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر" 
" ترکیہء جدید " (1)۔
پچھلے سال 2017ء میں انہی دنوں ، ہم ؛ 'ترکی ' کے شہر استنبول میں بہت خوشگوار وقتگزار رہۓ تھے ، ہمارا یہ قیام کُل نو دن کا تھا ،،، اور آج انہی دنوں کی یادوں نے مجھے گھیرا تو ، سوچا آج انہیں احاطہء تحریر میں لے آؤں ، ورنہ یہ یادیں اور یہ الفاظ مجھے تنگ کر ڈالیں گے ۔ 
۔2017ِ کی موسمِ گرما کی لمبی چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں ،، بلکہ کچھ گزر چکی تھیں ،، میَں اپنے گھر ہی میں تھی ، جوجی اپنے بیٹے اور بیٹیوں کے پاس انگلینڈ گئی ہوئی تھی ۔ میری بڑا بیٹا علی، بہو صائمہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ کینیڈا کی سیر پر تھے ،، میری بیٹی اپنے گھر اور چھو ٹابیٹا ہاشم بھی گھر پر تھے ،،،،، اور کسی نزدیکی تفریحی مقام پر جانے کا بھی پروگرام نہ بن پایا تھا ۔ میری نواسی حمنہٰ بہت کم فرمائش کرتی ہے ،، لیکن جب میں نے اسے کہا ، کہیں چلیں ؟؟؟ تو اس نے فوراًکہا " اماں ترکی چلتے ہیں " ! یہ فرمائش کچھ ایسی آسان نہ تھی کہ بس کہی اور پوری کر لی ، یا ، کروا، لی ۔
۔2014ء کے سفرِ انگلینڈ کے بعد اب تیسرا سال ختم ہو رہا تھا ،، میَں نے اپنی زندگی کے چند نہایت خوبصورت ، بے فکری کے دن انگلینڈ میں گزارے تھے۔ اور اس سفر کو اتنا شاندار بنانے والی اللہ کی ذات ہے جس نے مجھے آسانیاں ہی آسانیاں عطا کیں ،، اور ان آسانیوں کو دینے کے لیۓ تین ، خوش مزاج بھانجیاں ، ہمہ وقت ہاتھ باندھے والا حساب کیۓ ہوۓ تھیں ،،، اور اگر میری کوئ بات ،کوئ فرمائش ، کوئ تنقید انھیں بری بھی لگی ہو گی ،، تو انھوں نے لمحہ بھر کے لیۓ بھی اظہار نہیں کیا ۔ 2015ء اپریل کی 24 تاریخ تھی ، اور اللہ ہی کی ذات ہے جو آزمائش میں ڈالتی اور وہی اس سے نکالتی ہے ۔ میرا خاصا سیریس ایکسیڈینٹ ہوا ، کہ ڈرائیور کی اسی وقت  وفات ہو گئی ،، اور میرا باقی جسم تو بالکل ٹھیک رہا ، لیکن دائیں ٹانگ کی تھائی کی ہڈی کے دو ٹکڑے ہوۓ اور ہپ بون کے کئی ٹکڑے ہو گۓ ،، اللہ سبحان تعالیٰ کا کن الفاظ سے شکر ادا کروں ، کہ فوری طور پر میرے بیٹوں اور بھائی بھابی نے اس ہاسُپٹل تک پہنچایا ، جہاں کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر خالد اسلم ، اپنے شعبے کے " دی بیسٹ " مشہور تھے ،، ان کا غصہ بھی مشہور ہے ۔ لیکن ایک بہت کنسرن ، ہمدرد ، اور بہترین ڈاکٹر ، کی ایسی خوبیوں کے باعث ،، میَں صحت مندی کی طرف ، تیزی سے آئی ۔ اور اس دوران میرے تینوں بچوں کی توجہ اور خدمت نے ،، سب کو حیران کر دیا الحمدُ للہ ۔ اور اب یہ وقت آیا کہ میَں ، واکر یا سٹک کے بغیر ، نارمل چلنے لگ گئی تھی ،، اور مزید ایک سال 2016ءنے ریسٹ دیا ،، اور اب 2017ء تھا ،، اور دل چاہ رہا تھا کہ گھر کی روٹین سے نکلوں ۔اب نواسی حمنہٰ کے منہ سے نکلے الفاظ نے " ترکی " جیسے خوبصورت ملک کے " خوبصورت خواب " یکدم بیدار کر دیۓ ۔ میَں نے ہاشم سے بات کی اس نے فوراً  ویزہ لگوا دیا ،، اور ، ہمارا ٹریولر ایجنٹ بابر نے ٹکٹ کنفرم کیا کہ کس دن کا کرواؤں ، میَں نے کہا بس اگست شروع ہونے والا ہے ، 2، یا3 اگست کی کروا دو ، ویزہ ایک ماہ کا تھا ،،، جوجی کا فون خیریت پوچھنے کے لیۓ آیا ، تو بتایا "میَں ، نشل ، اور اس کے دونوں بچے ، ترکی کا سفر کرنے جا رہۓ ہیں " ،،، یہ سنتے ہی جوجی نے ناراض سا ہو کر کہا " یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم میرے بغیر جاؤ ،، میَں نے تو پہلے ہی سوچا ہوا تھا ،،، اس لیۓ ہر صورت ٹکٹ آگے کرو " ،،، مجھے تھوڑا ہچکچاہٹ ہوئی کہ نشل کے بچوں کی چھٹیاں ختم ہو جائیں گی ، ، لیکن نشل نے کہا " کوی بات نہیں اماں ،، خالہ اور ایمن ثمن ، مائرہ ، کے آنے سے مزہ رہے گا ۔ ظاہر ہے ماہرہ اور نشل نہ صرف خالہ ذاد ، بلکہ بچپن کی جگری دوست بھی تھیں ، لیکن نشل کی جلد شادی نے ، اور مائرہ کے انگلینڈ منتقلی نے ان کے رابطے کو کمزور کر دیا تھا ، اکٹھے کا یہ سفر ان کی بچپن کی یادوں کو ، محبتوں کو ترو تازہ کر سکتا تھا ،، اس لیۓ کچھ دن آگے کیۓ گۓ ، جوجی اگست کے پہلے ہفتے ، پہنچی ، اگلے ہی دن ٹرکش ویزے کے لیۓ اپلاۓ کیا ۔ اب دو ہفتے صبر سے گزارنے تھے ، کہ میری دونوں بھانجیوں کے فون آگۓ ،، بڑی بھانجی لبنیٰ اپنی فیملی کے ساتھ ساؤتھ افریقہ کی سیر پر تھی اور چھوٹی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ امریکا کی سیر کر رہی تھی ،،، لیکن مجھے صاف کہہ دیا گیا ،کہ آپ کو ہمیں بھی ساتھ رکھنا ہو گا ، بس ہم واپس آرہی ہیں ، گویا ،، یہ تینوں پارٹیاں ، غیر ملکی دوروں پر تھیں ،، اور جنھیں آؤٹنگ کی ضرورت تھی ،، انھیں ٹھہرا دیا گیا تھا ،، اب اُن کا انتظار ہوا ، اور چونکہ لبنیٰ کا ویزہ لاہور سے لگنا تھا ( جہاں اس کا گھر ہے ) ، وہاں ساؤتھ افریقہ سے واپس پہنچی اور ویزہ لگتے ہی ، واہ پہنچ گئ ، چھوٹی بھانجی نشمیہ ، سیدھی قطر اپنے گھر پہنچی اور ترکی کی تیاری پکڑی ، اسے ویزے کی ضرورت نہیں تھی کہ امریکن پانچ سالہ ویزہ لگا ہو تو ترکی کا ویزہ ، انہی کےایئر پورٹ پر لگ جاتا ہے ،،، سُپر پاورز کے رنگ نیارے ،،، کہ اگر امریکا ، یا انگلینڈ ، کا ویزہ ہے اور ، تازہ سفر بھی ہو چکا ہے ،، تو تیسری دنیا ، ، ، کے ایئر پورٹ ، انکو " ویلکم ،، ویلکم '' اے آمدنت باعثِ آبادیء ما ،،،، والا رویہ رکھتے ہیں ۔ اور اپنے جیسے ممالک کے لیۓ " غریب رشتہ دار " والا رویہ ہوتا ہے ،، حالنکہ اصل زرِ مبادلہ امراء سے ہی ملتا ہے ۔ 
خیر قصہ مختصر تو نہیں ہوا ،،لمبا ہو گیا ،، لیکن اگست کا اخیر آگیا اور ہم علی الصبح روانہ ہوئیں ،، نشل ،اور بچوں کو کامران ایئر پورٹ لے کر پہنچا ، ادھر واہ سے ، میَں ، جوجی اور لبنیٰ ، ہاشم کے ساتھ پہنچیں ۔ اور ٹھیک صبح چھے بجے ٹرکش ایئر لائن کا طیارہ اُڑان بھر چکا تھا ،،، میَں نے حسبِ عادت ، کھڑکی پر قبضہ کیا ،، اور اپنے تین سال پہلے کے انگلینڈ کے سفر کی یادوں ،، اور کھڑکی سے اُس ملک کے راستوں کو یاد کیا کہ ، دو نظمیں اسی راستے کو دیکھتے ہوۓ اپنے پرس میں موجود ایک پتلی سے چند صفحوں کی ڈائری پر لکھیں تھیں ،، انہی میں سے دو ،، نظمیں لکھ رہی ہوں ،،، اور اب ،،، ترکی جانے والا " رُوٹ " بالکل فرق تھا ، اور نظارے ، اور سوچ کے پہلو بھی فرق تھے ، پہلے انگلینڈ کے " ہوائی سفر " کے جذبات پڑھیں ۔ پھر ترکی جانے والے راستے کے نظاروں کے تحت الگ ہی سوچ دَر آئی ،۔ 
( یو کے ، کے ہوائ سفر کے دورا ن پہلی نظم )
" تجسس "
راستے کی بستیوں کے لوگ 
ہوائ جہاز دیکھ کر سوچتے ہوں گے 
اِن اُڑن کھٹولوں میں محوِ سفر لوگ ، جانےکیسے ہوں گے !
اور ،،،،،،،،،،،
جہازوں سے جھانکتے نفوس سوچتے ہوں گے 
اِن بستیوں میں بستے لوگ، جانے کیسے ہوں گے !!
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
" کچھ کہتی آنکھیں " ( دوسری نظم )۔
جہاز کی چھوٹی سی کھڑکی سے جھانکتی ،
بے وجہ سوچتی آنکھیں ،،،،
کچھ سہانے سپنے چھُپاۓ آنکھیں 
کچھ جدائ کی نمی پونچھتی آنکھیں
کچھ سِکوں کی عینک پہنے ، بےحس آنکھیں 
شوقِ تجسس سمیٹۓ، کچھ پُر اُمید آنکھیں
اور کھونٹے سے بندھے بیل کی مانند، لا تعلق آنکھیں 
سبھی مگر ،،،، تقدیر کے جال میں پھنسیں آنکھیں !!!! ( 2014ء) ۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
( ترکی کے ہوائی سفر کے دوران کے نظاروں کو دیکھ کر )
" خالق کے رنگ " 
ضدی بادل جمے جمے سے
ہوائیں ، آئیں گی تَو ہلیں گے ،
سلسلہء کوہ وجبل ، متانت لیۓ 
حکمِ ربانی ہوا ، تو ریزہ ریزہ بھی ہوں گے 
اور ، ریگِ صحرا عاجزی و سادگی سے بچھا ہوا
کہ اس کا انبیاء سے جو رہا ہے سلسلہ 
سمندر کی ہیبت کا کیا مقابلہ 
دہشت ، عظمت ، جبروت بلامقابلہ 
بس ،،،،،!
خالق کے رنگ نیارے 
مالک کے رنگ نیارے ( اگست 2017ء ) 
( منیرہ قریشی 6 اگست 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )