جمعہ، 1 مئی، 2020

" اِک پرِ خیال " (41)

" اِک پرِ خیال "
' نیا اعلان ' ( کرونا ، لاک ڈاؤن کے تناظر میں )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سال 2019ء نے دنیا سے رخصت ہونے کے لیۓ پَر جھاڑے ،،، اور اِن پروں سے، کچھ نئی مثبت سوچیں نازل ہوئیں ، کچھ نئے تجربات کے آئیڈیاز کا نزول ہوا ،،، کچھ نئے چنڈالوں نے دنیا کو ایک نیا ریوَڑ بنانے کا ٹھیکہ لیا ،،، کچھ بےچین لوگوں پر منفی خیالوں کا چھڑکاؤ ہوا ،،،،، اور کچھ ایسے ہی وائرس گِرے ،، جس نے دنیا کے گلوب کو پہلے حیرانی کی کیفیت میں ششدر کیا،،، اور پھر شدتِ پریشانی نے اِسے گھُما کر رکھ دیا ۔ تحقیق ہوئی اور دنیا کے فطین اذہان کی طرف سے چارٹر جاری ہوا ،، کوئی آپس میں نہ ملے ، کوئی کاربار نہ چلے ، کوئی اس وائرس کے شکار کے قریب مکمل حفاظتی لباس کے بغیر نہ جاۓ ،،،،،، اور ہر دفعہ ہاتھ بیس سیکنڈ تک دھوئیں وغیرہ،،،،،! تو جہاں پینے کو پانی نہیں ،،، جہاں پہلے ہی غربت کا گہرا سایہ سالہا سال سے ڈیرے ڈالےہو ،، گلوب میں موجود کچھ ممالک میں ایک کمرے میں آٹھ بندوں کا رہنا ازبس ضروری ہو ،،،،،جہاں کے گلی محلے میں بدبوؤں کا مقابلہ ہو رہا ہو ،،،کچھ ممالک کی ستر فی صد آبادی صحت کے اُصولوں سے نا واقف ہو کیوں کہ انھیں صحت کیا اور اُس کے اُصول کیا ،، انھیں خبر ہی نہ ہو ،،،، تو انھیں اِس اَن دیکھے ، وائرس سے کیا ڈرانا ۔ کیوں کی ابھی وہ پیٹ کی بھوک کے وائرس سے کُشتی جیتنے کی کوشش میں ہیں ۔
ہاں البتہ جدید دنیا کی جدید ترین ایک نئی ایجاد کے " لاک ڈاؤن " سے ضرور ڈرایا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ غربت ،سے جہالت جنم لیتی ہے اور غریب کے پاس روٹی بےشک نہ ہو موبائل اس کی زندگی کی اولین ضرورت بن چکا ہے۔
جی ہاں ،، اگر یہ " اعلان " سامنے آ گیا کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق آپ کے ہاتھوں میں پکڑے موبائل سے ایسی " ریز " نکل سکتی ہے جو دماغ کو فوراً سُن کر سکتی ہے ، اور بندے کو لمحوں میں ختم کر سکتی ہے ، میڈیا چیخنے لگے ،،، موبائل ہاتھوں سے گِرا دیں ۔ ورنہ ہلاکت یقینی ہے،، اور اگر ایسا کوئی " نیا اعلان " آ گیا تو اے آج کے انسان! تیرا کیا بنے گا ،،؟ آج کی دنیا کے90 فیصد لوگ صبح آنکھ کھُلتے ہی تکیۓ تلے ہاتھ پھیرتے اور اپنے اِس اہم ساتھی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ،، کس نے کیا ، اور کیوں پیغام بھیجے ہیں ، ذرا دیکھوں ،، اور اِسی ذرا دیکھنے میں سارا دِن گزر جاتا ہے ، نظریں نہ رشتوں کی ذمہ داریوں سے نہ آدابِ اقدار سے آگاہ رہیں ،، نہ پائیدار علم کی کوشش کی خواہش رہی ۔ طبیعتوں کا ٹھہراؤ کہیں گُم ہو گیا ہے،، علوم انگلی کے پَور   پر منحصر اور منتقل ہو چکے ہیں ،،،، بس لمحاتی علم ہے ، انگلی پھری تو بھول گئے کہ ابھی ایک لمحہ پہلے کیا پڑھا تھا !! تو اگر موبائل کا " لاک ڈاؤن " ہو گیا تو سوچیں ہماری مصروفیات کیا ہوں گی ؟؟؟ تب بندہ تو " بندۂ بےحال " بن سکتا ہے !۔
( منیرہ قریشی یکم مئی 2020ء واہ کینٹ )

منگل، 28 اپریل، 2020

" اِک پَرِ خیال "(40)

" اِک پَرِ خیال "
" تعزیت " ( کرونا لاک ڈاؤن کے دوران )
،،،،،،،،،،،،،
آج دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے تقریباً پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے ، کوئی ملک ایسا نہیں بچا جہاں اس " اَن دیکھے وائرس " نے اپنے متحرک ہونے کا ثبوت نہ دیا ہو ۔ " دنیا کی تاریخ " میں ایسی وباؤں کے پھوٹنے اور ان سے ہونی والی ہلاکتوں کی تفصیل موجود ہے ، اگرچہ ایسا کڑا وقت چند بار ہی آیا لیکن لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ تہہِ خاک ہو گئے۔
یہ وہ دور تھا ،، جب دنیا بہت امیر ،،، یا ،، بہت غریب کے خانوں میں نہیں بٹی  ہوئی تھی ،،، شاید ہم دنیا کو " اچھے خوشحال اور کم خوشحال " کے دو درجوں میں دیکھ سکتے ہیں ،،،، بہت کم ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک دوسرے تک بربادی یا بچ نکلنے کی خبروں سے آگاہی نہ ہو پاتی تھی ،،،،،،لیکن آج کی اکیسویں صدی میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے ، وہ امیر ممالک جو دنیا کی قسمتوں کے فیصلے کرتے ہیں لاکھوں میل دور بیٹھے ہمارے کمروں میں رسائی حاصل کر چکے ہیں !!اور یوں " ہر ملک ، ملکِ ما است " کے خیال کو نیا معنی مِل گیا  یا پہنا دیا گیا ہے ۔
لیکن یہ کیا ہوا کہ ایک " اَن دیکھے ، ایک عام زکام زدہ " جرثومے نے اِس جدید ترین ٹیکنالوجی سے لَیس دنیا کا کیا حال کر دیا ،،، تمام سُپر پاورز اپنے تمام تر عادلانہ اور ظالمانہ نظام سمیت چند ہفتوں میں گھٹنوں کے بَل جھک گئیں،،،اُن کی معیشت کا دیو اندھیرے کونے میں جا کھڑا ہوا ہے ۔ نہ جانے روشنی آنے تک وہ کتنا چھوٹا یا بونا ہو چکا ہو ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ،،، مجھے تو بس اِس سارے دورانیے  میں " امریکا " سے بہت ہمدردی ہو رہی ہے ۔ وہ سکندرِ اعظم اور مغلِ اعظم سے بھی بڑا " چنگیزِِ اعظم " بن کر کئی عشروں سے دنیا پر ایسا راج کر رہا تھا کہ جب فرعونیت سے سرشار تالی بجاتا اور حکُم جاری ہو جاتا ۔۔۔ اُس فلاں ملک کی یہ جرات کہ ہمیں آنکھیں دکھاۓ ، ہمیں اپنے ملک کی تلاشی دینے سے انکار کرے ،، ہمارے مطلوبہ لوگ ہمارے حوالے نہ کرے ،، ہم سے مشورہ لیے  بغیر پالیسیاں بناۓ،،، تباہ کر دیا جاۓ !!! یہ چھوٹے چھوٹے ملک سانس بھی ہم سے پوچھ کر لیں !! اور یوں چند صدیوں میں بناۓ گئے  ملک،، چند عشروں میں " تورا بورا " کر کے رکھ دیے گئے،،،،، پھر نہ جانے قدرت نے کون سی آہ سنی کہ آج دوسروں کو چُٹکی میں مسلنے والے ایک " اَن دیکھے " سے چو مُکھی لڑائی لڑ رہے ہیں ،،، مجھے امریکا اور اس کے حورایوں سے ہمدردی ہے اور ہمارا اُن سے تعزیت کرنا بنتا ہے،" کہ اتنے ہفتوں سے تالی نہیں بجی ،، کسی اگلی سرزمین کو ملیا میٹ کرنے کا حکم جاری نہیں کیا جا سکا ،، لاکھوں مسلمانوں کے جسموں کو قیمہ نہیں بنایا جا سکا،، آہ بے چارہ دنیا کا " جگا بدمعاش " ،،،،، سوچوں کے بھنور میں ہے !!شطرنج کی بساط نئے  کھلاڑیوں کی منتظر ہے ، قدرتِ الہیٰ کی طرف سے نیا ورڈ آرڈر جاری ہو گا ان شا اللہ !۔
مشہور یہودی نام نہاد دانشور ہنری کیسنجر نے دنیا کو تجویز پیش کی ہے کہ ' وقت آگیا ہے کہ نیو ورلڈ آڈر تیار کیا جاۓ ، اور دنیا ایک مشترکہ کرنسی کے ساتھ چلے " وغیرہ ،، بالکل صحیح لیکن اِ س نئے ورلڈ آرڈر کی سربراہی اب مشرق کرے گا ،،، اور اس کی سربراہی " پاکستان ، اور ، ترکی کو سونپی جاۓ ،، کہ مغرب نے یہ لیڈر شِپ بہت کر لی ۔
" اور اللہ ہی بہترین جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے "
( منیرہ قریشی 28 اپریل 2020ء واہ کینٹ )

جمعہ، 27 مارچ، 2020

"اِک پَرِ خیال(39) "

" اِک پَرِ خیال "
" جائزہ تو لیں " ( عالمی وباء کرونا کے تناظر میں )۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
٭بندہ کئی دفعہ مسائل سے گھبرا کر تنہائی کا شکار ہو کر ، خوب روتا ہے ، اور اس کے منہ سے یہ جملے بےاختیار نکلتے ہیں ' میرے مولا ، میَں تنہا ہوں ، میرا کوئی نہیں جو میرے دکھ کو سمجھے " ،،، اُس کی فریادیں سُن کر خالقِ حقیقی مسکراتا ہے ، تُو غور کر میرے بندے میَں تو تیری شہ رگ سے بھی قریب تر ہوں ، تُو جو سوچتا ہے میَں اس سے پہلے ہی جان جاتا ہوں، تُجھے خود ہی پریشان ہونے کا شوق ہے، تو میَں کیسے تیرے دل کو اطمینان دوں ،،میَں تو ہر لمحہ تیرے ساتھ ہوں ،لیکن میَں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا " میَں آزماؤں گا ، مال سے ، اولاد سے، نفس سے " !!۔
٭ ،،مجھے اپنے بچوں سے عشق ہے ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ۔ میری محبوبہ اگر مجھے نہ ملی تو میں مَر جاؤں گا ، خود کُشی کر لوں گا۔ اپنے والدین سے میری محبت دنیا کی تمام محبتوں پر حاوی ہے ،،،،،،لیکن یہ کیسی وباء ، اور ہوا چلی کہ ہر محبت کو تین فٹ دور کر دیا ، ذرا سا بھی دوسرے کی چھینک ، یا کھانسی ہمارے فیلرز ( محسوسات) کو عام دنوں سے دُگنا کر چکی ہے ،،، کہیں ایسا نہ ہو جاۓ ،کہیں ویسا نہ ہو جاۓ،،، حالانکہ ہم پر واضع کیا جا چکا ہے " روزِ محشر نہ اولاد والدین کو دیکھے گی ، نہ والدین اولاد کو،کہیں مجھ سے نیکی کی مدد نہ مانگ بیٹھیں " !!۔
٭ اس زندگی کی حددرجہ چہل پہل کے دوران ، وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں " اکثر" جا کراُن کی غمی خوشی میں شریک ہوں ،، لیکن قدرت نے بتا دیا ، میَں تمہیں اسی چہل پہل سے بےنیاز کر دوں گا ۔ پھر تمہیں بھُولے رشتے یاد آ ئیں گے ،، لیکن اب ملنا ممکن نہیں ، اس لیے ابھی یہاں کی شرمندگی کا ازالہ کر لو !!۔
٭ یو کے ،، اور یو ایس تو جنت ہے ،، سیر کے لیۓ بھی ، اور جب بیمار ہو تو علاج کے لیۓ بھی ،،، واہ !وہاں کے علاج کا کیا کہنا ،،، ان ممالک کا ویزہ لگنے پر " الحمدُ للہ" کہا جاتا ہے ۔ لیکن اب ،، ایک اَن دیکھے جر ثومے نے یو کے اور یوایس کی حیثیت کھوٹے سِکے جیسی کر کے رکھ دی ہے ۔ یہ تیسری دنیا جیسی بھی ہے ، ٹھیک ہے ! قدر و منزلت کے معیار کیسے بدل گئے۔
٭ مدتوں بعد گنجان آباد شہروں کے باسیوں نے "خاموش کرونے کے ذریعے خاموشی کی آواز سنی ،، !!۔
٭ جدید ٹیکنالوجی کو کم فہم لوگوں نے صرف اپنی ذات کا غلام بنا لیا تھا ،،، موبائل ہے تو گھنٹوں ، گوسپ چل رہی ہے ، میری ساس ، میری بہو ، میری دیورانی ، میرا شوہر ، میرا نمک حرام نوکر،، کون سے رشتے نہ تھے جو زبان کی غلاظتوں سے آلودہ نہ کیۓ جاتے ہوں ،،، کوئی ڈر نہیں کوئی خوف نہیں کہ کاتبین کو لکھنے کے لیے کیا کیا مواد دیا جا رہا ہے ، آہ اور واہ کے پروگرام کی حدیں نہ رہیں تھیں ۔ ننّھے سے جر ثومے نے ایسی لمبی چھٹیاں کروا دیں کہ " بوریت " جا ہی نہیں پا رہی ۔ جنھوں نے سبق نہیں لینا ، وہ اس دورِ فتن میں بھی آلودہ ہیں ، حالانکہ صرف ہاتھ ہی نہیں دھونے لازم ،،، بلکہ اخلاق بھی دھونے کا موقع مل گیا ہے ، !!۔
٭ یہ وباء انسانی سازش کا نتیجہ ہے ، یا نہیں !! اللہ اپنے بندوں کو جھنجھوڑنے کے لیۓ ، کبھی بخت نصر کو بھیجتا ہے، کبھی چنگیز خان کو ،، بھی تیمور لنگ کی صورت میں انسان کی عقل کو گُھما کر رکھ دیتا ہے ۔اور انسان ؟؟؟؟ " بےشک انسان بڑا جلدباز ، جھگڑالو ، اورمتکبر ہے ،، وہ اگرسوچے تو وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں ناک و ناک ڈوبا ہوا ہے ۔ اور یہ ہی غفلت شیطان اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے !!۔
( منیرہ قریشی 27 مارچ 2020ء واہ کینٹ)

ہفتہ، 21 مارچ، 2020

" اِک پَرِ خیال(38) "

" اِک پَرِ خیال "
" ٹھہراؤ "
،،،،،،،،،،،،،،،
پچھلے پندرہ ، بیس دن سے ٹی وی کا کون سا چینل ہے ، جو صرف"کرونا وائرس " کی خبریں نہیں دے رہا ،، چینل چاہے ملکی ہے یا غیر ملکی ۔۔ چاہے مشہور چینل ہے یا بہت کم دیکھا جانے والا ۔ بس ایک ہی موضوع کی خبریں سنائی اور دکھائی دے رہی ہیں ، ، شروع میں تو اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ، لیکن چینی حکومت نے اپنے پر گزری خوفناک حقیقت عیاں کی تو ، دنیا پہلے تو دنگ ہوئی ،، پھر جس طرح طوفان آنے سے پہلے خوب جھکڑ چلتے ہیں اور فہم والے اپنی پیشگی تیاری پکڑ کر ،، کبھی گھر کے باہر کی وہ اشیاء جو اُڑ جانے کا خطرہ ہوں ، انھیں سمیٹتے ہیں ، گھر کی کھڑکیوں دروازوں کے لاک خوب اچھی طرح بند کرتے ہیں ، گھر کے افراد کو محفوظ کمروں میں سمیٹ لیتے ہیں ، اور ذیادہ دور اندیش ،، گھر میں خوراک کا ذخیرہ بھی کر رکھتے ہیں ،، بالکل ایسے ہی ،، حکومتوں نے اپنی لیبارٹریز ، میں تحقیقی کام وسیع کر لیا ،، " یہ کیسا اَن دیکھا جرثومہ ہے جو دنیا کے ہر ملک کی سرحدوں کو پامال کرتا ، آنِ واحد میں ایسے حملہ آور ہوا ہے کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ۔ گویا ایسا سونامی ، جس نے نہ آواز نکالی ، نہ کوئی آثار دکھاۓ ،، اور ہر گھر کے دروازے پر آن پہنچا ۔
اور پھر چند ہفتوں میں ، ساری دنیا تحفظ کی ایک چھتری تلے اکھٹی ہو گئی ہے ۔ نہ موبائل کے نئے ڈیزائن کے بدلاؤ کی جلدی ، نہ نئی ایجادات کا رعب ،، نہ کپڑوں کے گرما یا سرما کے تعارف ،،، نہ ڈالر اور پونڈ کے اتار چڑھاؤ کی پروا،،، نہ اسٹاک ایکسچینج،،، پر لگی متفکر نظروں کی فکریں ۔۔۔ نہ ہی کسی مذہب کی کوئی اہمیت رہی نہ مذہبی رہنماؤں کا دبدبہ ،،، نہ موسموں کے بدلے جانے پر کوئی امید ہے ،، نہ ہی اُمراء یا غرباء کے تفریحی شیڈول کا اتا پتا ،، نہ کڑوے رشتوں سے متنفر ، نہ محبت کی چالوں کی فکر، نہ انفرادی سوچ کی منصوبہ بندی،نہ اجتماعی فیصلوں کی کوئی شدت !!! دنیا پہلے صرف ایک گلوب ایک کُرّےمیں سمائی ہوئی تھی اور ہے ،، لیکن اب ایک لفظ " ہمدردی اور انسانیت " کے اندر سما گئی ہے ، ہر ملک ، بِنا کسی مذہب ، بِنا کسی زبان و ماضی و حال کے حالات کے ،،،،، بِنا کسی دوستی و دشمنی کے ،،، صرف "ہمدردی " کے جذبے سے آشنا ہو چکا ہے ۔ یہ وقت ہے جب پرانی دشمنیاں ،،، پاؤں تلے روند دی جائیں ۔ کہ اب ،،،،،،،، خالق و مالکِ حقیقی دیکھ رہا ہے ،،، " اے انسان ، اب کیسی تیزیاں ؟ ، کیسی گھاتیں ؟،، کیسی منصوبے بندیاں ؟ ،، کیسی جلد بازیاں ؟؟ِِِ
اللہ واحد لا شریک نے واضح کر دیا ہے" ایک تیری سوچیں ہیں اور تیری چالبازیاں ہیں ، ایک میری چال ہے ، اور یہ ہی بات اوّل و آخر کی ہے کہ انسان اپنی بےپناہ دنیاوی ترقی کے زعم میں ،،، ایک اَن دیکھے جرثومے " سے مات کھا کر حیران ہے کہ " کیسے ،کیونکر، کس طرح " بچ رہوں کہ اس ان دیکھے سے تو مجھے وہی " اَن دیکھا خالق "ہی بچا سکتا ہے ، جس پر آدھی دنیا اسی بحث میں مبتلا تھی کہ " وہ ہے بھی یا نہیں " ! اور آج کی تمام سُپر پاورز ، سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی سُپر نہیں رہیں ،،، آج صرف ایک ہی " سُپریم پاور " ہے جس نے یہ سب تخلیق کیا ہے۔
اور کائنات اپنے" قدرتی ٹھہراؤ " سکون کے راستے سے مدت بعد " آشنا " ہوئی ہے ، دعا ہے یہ ٹھہراؤ عافیت کے کنارے سے ہمکنار ہو جاۓ آمین !۔
( منیرہ قریشی ،، 21 مارچ 2020ء واہ کینٹ )

جمعرات، 12 مارچ، 2020

" محبت کے حصہ داران "

" محبت کے حصہ داران "
( اپنی پوتی ملائکہ کے لیے۔ جسے فطرتاً جانوروں سے محبت کا تحفہ ملا ہے )
( اور اسےمیں پیار سے بُلبُل کہتی ہوں )
" پوتی کے سامنے ایک لاوارث بلونگڑا آیا تو "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلونگڑا تھا نحیف و نزار
معدوم سی آواز ، لڑکھڑاتا، چکراتاہوا
آنگن کے کونے میں سہما سمٹا ہوا !!
بُلبُل کی نظر جو پڑی ،،،
لپک کر ہاتھوں پہ اُٹھایا اسے
" میں ہوں نا " کا مژدہ سنایا اسے
ٹوکرا اِک مہیا ہوا
پھر نرم کپڑے کا بستر بنا
اور دودھ کی رکابی بھی رکھی گئی
کمزور نے مگر آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا اُسے
فِکر میں بُلبل ہوئی ہلکان
"گوگل " سےملا یہ علمِ " بے زبان"
کہ " اس عمر کے بلونگڑے سوتے ہیں زیادہ ، کھاتے ہیں کم "
اگلے دن نزار نے آنکھیں کھولیں
جائزہ کمرے اور محسن کا لیا
کچھ چہل قدمی ہوئی ، کچھ چھلانگیں بھی لیں
" بُلبُل " کے دل میں مامتا کا جوش تھا !
لیکن اس جوش میں یہ ہوش تھا،،،
میرا رومیو ( لیبرا ڈاگ) کہیں جیلس نہ ہو جاۓ
کہیں وہ اِسے مارنے کے درپۓ نہ ہو جاۓ
کچھ دن کی مہمانی ٹھیک ہے
کچھ طاقت آ جاۓ ، بس ٹھیک ہے
نرم دِلی اپنی جگہ ،،،،،،
مگر رومیو کی کیسے ہو کسی اور کی جگہ
( منیرہ قریشی ، مارچ 2020ء واہ کینٹ )

۔( میری پوتی نے کبوتر ، طوطے ، مچھلیاں پالی ہیں ،، اس کی جانوروں سے محبت کے نطارے دیکھتے ہوۓ یہ تاثراتی نظم لکھی ،، بھلے یہ نظم کسی معیار کی نہ ہو ،،، لیکن اس کے بے زبانوں سےجذبہء محبت کو عیاں کرتی ہے ) ۔

بدھ، 11 مارچ، 2020

" اِک پَرِ خیال"(37)۔

" اِک پَرِ خیال"
" سُر کہاں کہاں، سُر توہر جا"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں ہی یہ سوچ آئی کہ جن لفظوں میں جن جملوں میں سُر ہوتا ہے وہی ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ردھم سے وہ الفاظ یا جملے ، زبان   پر یوں رواں ہو جاتے ہیں ، جیسے یہ الفاظ ، یہ جملے نہ تو اجنبی ہیں ، نہ ہی مشکل !! 1500 سال سے قرآن کو  حرف حرف یاد کرنے والے حفاظ اَن گنت ہیں ، اس میں نہ مخصوص خطے کی بات ہے ، نہ مخصوص بولی بولنے والوں کی اور نہ ہی چُنیدہ نفوس کی !! دنیا کے ہر گوشے میں اس سچی الہامی کتاب کے سُر اور اس کے اِسرار سے سرشار دل جھوم رہے  ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کسی اور الہامی کتاب کے حفاظ انگلیوں پر گنے جا تے ہیں ۔بہ عینہ اچھی شاعری کے دیوان کا دیوان یوں یاد ہو جاتا ہے کہ جیسے اس کا سُر ، یاد کرنے والے کے خون میں انجیکٹ کر دیا گیا ہو ۔
یہ سُر یہ ردھم ، کائنات کے ذرے ذرے میں چھُپا ہواہے ۔ کائنات کا  ایک خاص  زاویے سے جھکاؤ کے ساتھ چکر میں رہنا ،ایک خاص سُر کی عکاسی ہی تو ہے،، آہ ، یوں لگتا ہے ، جیسے،،،" کائنات " ایک دور اُفتادہ وادی کے پہاڑوں کے پیچھے سے نمودار ہوتی ندی کی طرح ہے ، جو ابتداء میں مدھم سُر الاپتی ، اِٹھلاتی ، بَل کھاتی چلی آ رہی ہے ، جوں ہی وسیع میدان ملا ، خود بھی وسیع کینوس   کوسمیٹ لیا ، یہ وسعت سرشاری کی کیفیت لیۓ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی چلی جارہی ہے ،، ابھی سُر کچھ بلند اور کچھ پست ہوتے نشیب کو پاٹتے جا رہے   ہیں ، اور ردھم میں روانی ہی روانی آ چکی ہو ،،، اور پھر یکدم یہ نشیب بہت " اونچے سُر" کو بلند کرتا آبشار کی صورت جب گِرا ،، تو اُونچے سُروں کی ہیبت اور ندرت نے کائنات کے باقی موجودات کو مبہوت کر کے رکھ دیا ۔ اور اگلے لمحے کائنات کچھ دیر بلند ،، لیکن پھر یہاں ایک " اَن سنا گیت" گنگناتی چلی جارہی ہے ،، وہ ایسے میں اس پُرسکون سرشاری کی کیفیت میں محو ہے کہ جیسے " خالق کے حکم " کی تابعداری کے سُر نے اسے بےحال و دیوانہ بنا دیا ہو ،، سُریلے ردھم ،،کا وہ دریا چڑھا ہوا ہے کہ جیسے " دیوانہ بنایا ہے مجھے تو دیوانہ بنا دے " اور یہی دیوانگی دریا کی صورت خیر بانٹتی ،،، اسے سمندر کے شوریدہ آہنگ سے جا ملاتی ہو !! اور یوں اس سمے سمندر اسے سُر کی نئی سمفنی سکھا دیتا ہے ،، وہ سُر جو " مَن و تُو" کے فرق کو مٹا دیتا ہو ،،، خالق نے کائنات میں سُر کے اِسرار کو کس کس طور سے عیاں نہیں کیا ۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات صرف سات سُروں کی رہینِ منت ہو ،، یہاں تو رنگوں ، موسموں، نقوش ، خِطوں اور رویوں کے سُر چوبیس گھنٹے بدلتے چلے جا رہۓ ہیں ۔ یوں ،،، جیسے قطرے ٹپ ٹَپ ٹپا ٹَپ کی صورت میں سُر پھیلا رہے ہوں ۔ بس ،،،، یہ سُر اسی لمحے بند ہوں گے جب " صورِ اسرافیل" کا سُر تمام تر ہیبت سے وقت پر حاوی ہو جاۓ گا ، تب " کائنات اپنے سبھی سُروں سمیت " اپنے خالق کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہوگی !! اور ہر جی دار کو اس کے حصے کے سُر پکڑا دیۓ جائیں گے ، چاہے کوئی چاہے ، یا نہ چاہے !!۔
( منیرہ قریشی ، 11 مارچ 2020ء واہ کینٹ )

اتوار، 2 فروری، 2020

" کیفیت "

" کیفیت "
مطالبہء طبلِ دل ہے
کچھ لکھو ، کچھ تو لکھو !!۔
مگرکبھی کیفتِ حال وہ ہو جیسے ،،،،،۔
آس پاس کی خاموشی
ذہن پر چھائی اداسی
حسّیات بے دم ہو چلی ہوں جیسے
آوازیں معدوم ہو چکی ہوں جیسے
سبھی سبز رنگ ، بھورے ہو چلے
سبھی سُرخ رنگ ،سفید پڑ چکے ہوں جیسے
سبھی کھلیان، و چمن ،صحرا و دَمن
اور ایستادہ جبل اور تارے، یوں ساکت ہوں جیسے
اِک یک رنگی میں ڈوب چکے ہوں جیسے
شور توہے چاروں اَور
لفظ دست وگریباں ہوں جیسے
بےحسّی بھی اِک منظرِ قیامت ہو جیسے
بندہ اپنے ہی مراقبے کے ، جال میں ہو جیسے !!۔
اندر اِک سمندرِ سکوں ہو جیسے
باہر ، یک رنگ صحرا ہو جیسے
بس اِک دل ہے طبل کناں
کچھ لکھو ، کچھ تو لکھو !!!۔
( منیرہ قریشی ، 3 فروری 2020ء واہ کینٹ )