ہفتہ، 30 جون، 2018

سفرِانگلستان (21)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر "
 سفر ولایت یو، کے( 21)۔
لندن کا دوسرا دن خوابوں کی تعبیر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ،، واپسی کے راستے میں جوجی ، اور بچیوں نے بتایا کہ ہم نے کیمبریج یونیورسٹی کے پہلے وزٹ کو نارمل لیا تھا ،، جو معلومات ہمیں لینی چاہیے تھیں ، اس کے بجاۓ ہمارا فوکس سینری یا دریاۓکیم کی سیر تک تھا ،، اس دفعہ صورتِ حال خاصی علمی معلومات کے ساتھ رہی ۔ کاش ہم مزید ایک آدھ دن رکتیں تو تو ان کلاس رومز ، کو دیکھتیں جہاں علامہؒ نے وقت گزارا تھا ، یا آئزک نیوٹن کی تجربہ گاہوں میں جا سکتیں ،، میرا خیال ہے اس یونیورسٹی میں ایک ماہ گزارا جانا ، حسین ترین وقت بِتانا ہوتا ۔ لیکن خیر !! گویا اب ان سب کا دوسرا وزٹ بھی نیا ہی رہا ۔ اگلے دن مائرہ واپس مانچسٹر روانہ ہو گئی ، اور اب میرا اور جوجی کا واپس مانچسٹر باۓ ٹرین کا ارادہ تھا کہ میں یہ تجربہ بھی ضرور کرنا چاہتی تھی ۔ اور ابھی تو دنیا کے مشہور اور اہم ترین شہر پر صرف نظر ڈالی تھی ۔۔ اور اب وقت بھی کم ، اور " دید " کا مقابلہ سخت تھا ، کوئ دن ضائع نہیں کیا جا سکتا تھا ،،،، میرا اپنا خیال ہے ، ،،،، !۔
اگر آپ کو کوئی نیا شہر پہلی نظر میں پسند نہیں آیا ، تو وہاں ایک ہفتہ سے ذیادہ نہ ٹھہریں ، بھلے کتنا بھی ناپسند آۓ ، پھر بھی وہاں دیکھی جانے والی کچھ جگہیں ہوں گی ، جنھیں ایک دفعہ دیکھ کر اس جگہ کا کچھ نہ کچھ خاکہ ذہن میں کلیئر ہو جاتا ہے ، اور زندگی میں آپ دوبارہ یہاں" "نہ"آنے ، کی خواہش پال سکتے ہیں ۔
اگر آپ کو کوئی جگہ یا شہر" کچھ" پسند آہی گیا ہے ، تو یہاں دو ہفتے سے ایک ماہ ضرور ٹِک جائیں ۔ ( آپکے وسائل پر بھی مبنی ہے ) تاکہ یہاں کی مشہور جگہیں ، ضرور دیکھ لیں ، یا یہاں کے لوگوں سے کچھ میل جول ہو ، یہاں کے مقبول کھانوں کو چکھ سکیں ،،، اور دوبارہ آنے کی خواہش کو ذہن و دل کے نہاں خانوں میں سنبھال کر لپیٹ کر رکھ لیں ، کیوں کہ آپ اس جگہ ، یا شہر کو پہلی نظر میں کچھ پسند کر چکے ہیں ۔
اور اگر کوئی جگہ بہت ہی پسند آ گئی ہے ، تو پھر اس بارے دوسری بات ہے ہی نہیں ،، آپ یہاں بار بار آنا چائیں گے ، اور ہر دفعہ اس کے عشق میں ذیادہ غرق ہوتے چلے جائیں گے ،،، اور میرے لیۓ چند جگہیں اسی لسٹ میں شامل ہیں ،،، جن میں کسی بھی سوچ کے بغیر میں مکہ اور مدینہ کانام لوں گی، جہاں مجھے سال سال بھر کا دورانیہ مل جاتا ، تو میرے لیۓ دنیا کا  بہترین وقت گزرتا ،، لیکن یہ وقت ایک تحقیقی جذبے کے ساتھ ہوتا ،، ایک ایک لمحے کو با شعور ہو کر کشید کر سکتی ، کاش !۔
اور پھر میں نے اور دنیا دیکھی ہی کہاں تھی ،،، اس لیۓ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ،،، والا حساب تھا ،، البتہ لندن ،، جس کے عشق میں ٹونزیں ناکوں ناک دھنسیں ہوئی تھیں ،،، میرے دل کو اداس کر گیا ،، شاید بہت عرصہ رہنے سے محبت جاگزیں ہو جاتی ہو ، یہ ہفتہ ، دس دن تو کچھ بھی نہ تھے ،، لیکن میں نے دل ہی دل میں مانچسٹر کی وادیوں کو ذیادہ نمبر دے دیۓ تھے ۔ 
خیر تو بات ہو رہی تھی اگلے دن کی ، مائرہ کے جانے کے بعد ایمن ثمن نے کچھ گھریلو کام نبٹانے تھے ، وہ صبح نکل گئیں ،، تو جوجی نے مجھے بتایا کہ یہاں چند قدم کی واک پر ایک پارک ہے، جس کانام ہے " مڈ شوٹ پارک " چلو چلتے ہیں، فٹا فٹ بند بوٹ پہنے اور واقعی سڑک پار کرتے ہی ، چند منٹ واک کی ، تو اس پارک کے براۓ نام گیٹ میں داخل ہوئیں ، یہ ایک 15، 16 کنال کے رقبے پر پھیلا پارک تھا ،، جو ارد گرد کے لوگوں کے لیۓ نہ صرف تفریح کے لیے تھا بلکہ ،، یہاں نزدیکی بوڑھے خواتین و حضرات کے لیے ، دو کنال مختص تھے ، جس کے گرد مضبوط  باڑھ لگا دی گئی تھئ اور اب جس نے جتنا ایریا کراۓ پر لیا تھا ، اس نے اپنے اس ایریا کے گرد بھی الگ فینس لگا لی تھی ،، اور ہم اس مضبوط فینس کے عین سامنے ایک بینچ پر بیٹھیں آس پاس کے ماحول کو انجواۓ کر رہی تھیں کہ ایک بزرگ برطانوی نے،،،سامنے والی فینس پر لگے نہایت براۓ نام سے گیٹ کے تالے کو کھولا ، تو ہم دونوں مسکرانے لگیں ۔ کہ تنکوں ، اور سرکنڈوں سے بنے اس دو ڈھائی فٹ اونچے گیٹ کو تالا لگانے کی کیا ضرورت تھی ، لیکن انسانی نفسیات ہے کہ ، ملکیت کا احساس اور تالے کا خود سے کھولنا ، خود حفاظتی کی کوشش کا اظہار ہوتا ہے ،، آزما کر دیکھیں ،،، !  ۔
ہم وونوں نے بیک وقت ، سوچا ، اور ان سے درخواست کی کہ کیا آپ اپنے ایریا کو دکھانا پسند کریں گے ؟ ، انھوں نے ایک نظر ہمیں دیکھا ،، اور ہمارے لباس کے تحت کہا " انڈیا " ؟ ،،، فوراً بتایا ، نو پاکستان ! ، لیکن انھوں نے فوراً " او شؤر " کہا ، اور ہمیں اپنا ایریا دکھانے آگے چل پڑے , اندر کسی کا "ایک مرلے کا باغ" تھا ، کسی کا دو مرلے ،،، اس سےذیادہ کسی کا نہیں تھا ۔ جی ہاں ،، ہر  ایک کے ایریا کے گرد اپنی فینس تھی! اور کسی کے " باغ "میں ، بینگن لگے سوکھ رہے تھے اور کسی کے "کھیت" میں ٹماٹر لگے ہوۓ تھے ،، ہمارے بزرگ میزبان نے خوش دلی سے بتایا ، میَں دو ماہ سے ملک سے باہر تھا ،، اس لیۓ میرا ایریا " اجڑ اجاڑ " پڑا ہوا ہے ، آج سے اس کی صفائی کروں گا ۔ اس نے بتایا ،،،،،، چوں کہ ہم بہت چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں ، بعض اوقات ایک آدھ گملا رکھنے کی ہی گنجائش ہوتی ہے ، جبکہ ہمارا دل چاہتا ہے باغبانی کرنے کو ،،، تو ہماری حکومت نے اس طرح کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہمیں کراۓ پر دے دیۓ ہیں ، ذیادہ چھوٹا ایریا ایک مرلے والے کا کرایا ، ایک یا ڈیڑھ پونڈ ہوتا ہے ، جبکہ ذرا اس سے بڑا دو پونڈ کرایا میں پڑتا ہے ۔ ہم کبھی روز اور کبھی ہفتے میں ایک دو دن آتے ہیں اپنے باغبانی کا چسکا پورا کر لیتے ہیں ۔ "" ،،،، یہ سب ریٹائرڈ لوگوں کے لیۓ ،،، اور اس عمر کے لوگوں کی مصروفیات کے لیۓ ،،، اور ان کی فرسٹریشن ( اداسی اور تنہائی ) ختم کرنے کے لیۓ ،، ان کی ویلفئر حکومت ان کی کتنی فکر کرتی ہے ۔ ،،، اور یہ سوچ ، یہ اقدامات ، انھیں ، " دینِ اسلام " نے دیئۓ ،، انھیں قانونِ فاروقی ر ض نے یہ اقدامات کرنے کا آئیڈیا دیا ۔ کہ یہ بزرگ لوگ ہمارے لیۓ اپنی جوانی ، کی سبھی طاقتیں لگا تے رہیں ہیں اب انکو پینشن ، اور انکی عمر کے مطابق مصروفیت دینا ، سٹیٹ کی ذمہ داری ہے ۔ میری نظروں کے سامنے ،،، اپنے مڈل کلاس کے بزرگوں کی مصروفیات ، اور صحت ، اور سہولتوں کی تصویر آگئی ،،، کیا ہو گا کب ہو گا ،،،؟؟؟؟؟؟؟؟
میَں جب بھی دوسرے ممالک کی ترقی ، اور عوامی سہولیات دیکھتی ہوں ، تو میری دعاؤں میں شدت آجاتی ہے کہ میرے " یا اللہ ، ہمارے ترسے ہوۓ ، بے یار ومددگار لوگوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لانے والے حکمران آئیں" ،،،، آمین۔ 
مڈ شوٹ پارک کے باقی حصے کی سیر کی تو پتہ چلا کہ اس سارے ایریا کو بہت قدرتی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے ، پارک کے درمیان سے ایک پتلی سڑک گزرتی تھی ، جہاں صرف سکول کے بچوں کی وین ،آ سکتی تھی ، یا وہاں کے ڈیوٹی پر موجود ورکرز کی بیٹری سے چلنے والی دو چار چھوٹی کاریں چل رہی تھیں ،، دائیں طرف ایک گہری جگہ تھی جہاں سفید سوانز ، یا بطخیں ، کافی تعداد میں پھر رہیں تھیں ، نیز یہیں ایک صاف لان میں ایک دو موٹے رسے تنے ہوۓ تھے ، جن کی اونچائی ذیادہ نہ تھی ۔ یہ نرسری تا پنجم تک کے بچوں کے لٹکنے اور رسہ سے لٹک کر کمانڈوز کی طرح، گزرنے کے لیۓ لگاۓ گۓ تھے ،، سڑک کے بائیں طرف ایک یا ڈیڑھ کنال کے پانچ ، چھے جنگلے بنے ہوۓ تھے ۔ جہاں وہ جانور جوڑا جوڑا کر کے رکھے گۓ تھے ، ، جنھیں بچے چھُو سکیں ،، یہ گھریلو جانور ہیں ، ایک جوڑا ، بیل اور گاۓ کا تھا ، ایک جنگلے میں اونٹ ، ایک میں بکرا بکری اور ایک میں بھڑ یں تھیں ، البتہ ایک میں جنگلی بھینسا بھی تھا اور ایک میں " لاما " ،، اس پارک کے ڈیوٹی ورکرز میں 5،، 6 چاک و چوبند عورتیں اور مرد ، سمارٹ یونیفارم میں موجود تھے ۔ آج بہت پیارے بچوں کا ایک گروپ ، خوبصورت نیلے یونیفارم میں اپنی تین استانیوں کی نگرانی میں لائن میں چلے آرہے تھے ،، ہم تو سر تا پیر ٹیچرز تھیں ،، اس لیۓ یہ نظارہ ہمارے لیۓ بہت دلچسپی کا تھا ۔ اس لیۓ ہم نے مزید معلومات ٹیچرز سے لینے کی درخواست کی ،، اس نے بھی مسکرا کر لیکن مسلسل چلتے رہنے کی پوزیشن میں ہمارے سوالوں کے جواب دیۓ ،،، یہ ان کی فرض شناسی تھی کہ ، اپنی ڈیوٹی کا کوئی لمحہ غفلت سے نہیں گزارنا ، اسی نے بتایا ، یہ ایک پورا ہفتہ ایک سکول کی باری ہوتی ہے ، ہر روز دو کلاسز ٹیچرز کی نگرانی میں آتی ہیں ، بچے بطخوں کو کھانا ڈالتے ،، رسے کی ایکسر سائز کرتے ہیں ، اور آخر میں ، پارک میں موجود کسی ایک یا دو جانوروں کو چھُونے کے لیۓ اس سڑک پر آجاتے ہیں ،،، ایسا بچوں کے نیچر سے محبت بڑھانے اور گھریلو جانوروں کے خوف دور کرنا مقصد ہوتا ہے ۔ یہ محبتیں ، یہ توجہ ، یہ بچوں کا انتہا درجہ خیال ،،، ہمارے ملک میں صرف 5 فیصد بچوں کو میسر ہے ،، وہ بھی " اَپر کلاس " سے تعلق رکھنے والوں کے بچوں کو ۔ باقی 95 فیصد ، اس تعلیمی تربیت کا صرف سوچ سکتے ہیں ، ، خود ہم دونوں ، کیسے کیسے پلان بناتی رہیں ، اور اپنے سکول کی ابتدا ئی دور میں ہم نے چھوٹے طوطوں کے دو پنجرے ، اور ایک فینس لگا خرگوشوں کا ایریا بنایا تھا ،، ایک فینس میں صرف ریت ڈلوائی گئی تھی ، جہاں گرمیوں میں آخری پیریڈ میں پلے گروپ ، ، نرسری اور پریپ تک کے بچے ، اس ریت سے انجواۓ کرتے ، اور پھر چھٹی کے وقت تک ، وہیں رہتے ، اس طرح گھر جاتے ہی نہا لیتے ،، اور یہ وقت ، ان بچوں کی خوشی کی انتہا کا ہوتا ،،، لیکن افسوس بہت کہنے کے باوجود ذیادہ تر مائیں ، صفائی کے خبط کے تحت ، بچوں کو مٹی یا ریت سے نہیں کھیلنے دیتیں ۔ اور ایسا چھوٹا سا گھریلو جانوروں کاپارک بھی ہمارے آس پاس نہیں ، البتہ کسی بھینسوں کے باڑے جو قطعی صفائی کے معیار پر نہیں اترتا ،،، کاش بچوں کو نیچر سے متعارف کراۓ رکھنے کی طرف ، اہلِ ثروت ہی توجہ کر دیں ،،، کیوں کہ میرے وطن کے بجٹ میں سب سے کم بجٹ تعلیم کے لیۓ رکھا جاتا ہے ۔ اس لیۓ باقی سہولتوں کے خواب دیکھتے شاید ایک اور نسل گزر جاۓ۔
( منیرہ قریشی 30 جون 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری)

جمعہ، 29 جون، 2018

سفرِانگلستان (20)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
 سفرِِ ولایت ، یوکے ( 20)۔
جیسے ہی یہ چند مسافروں بھری کشتی چلی ، پُنٹر نے اپنا نام اور عمر بھی بتائی ، اور یہ کہ وہ یہاں طالبِ علم بھی ہے ، اور یہ آخری سمسٹر رہ گیا ہے ، وغیرہ ،،، وہ یہ تعارف پیشہ وارانہ ڈیوٹی کے طور پر کروا رہا تھا ،یا ، مسافروں کو ذرا ، ریلیکس کرنے کے لیۓ ،،، جو بھی تھا ، اس کی حسِ مزاح ، بذاتِ خود اس کا اچھا تعارف تھا۔ 
یہ کشتیاں ، چپو یا لمبے بانسوں سے چلائی جاتی ہیں ،، اور اگر کسی سیاح کے پاس وقت کم ہے اور وہ پورے کیمبریج کا چکر نہیں لگا سکتا، تو اس کے لیۓ اس کشتی میں 40 ، 50 منٹ کی رائیڈ ہی کافی ہو گی ، کہ اس دریاۓ " کیم " کے گرد ساری اہم عمارات بتدریج آتی چلی جاتی ہیں ، اور جیسے جیسے آگے چلتے جائیں ،، تاریخ کی کتاب کے صفحے اُلٹتے چلے جاتے ہیں ۔ اور بندہ جس بھی قوم سے تعلق رکھتا ہے ، وہ ان عمارات کی تعمیر کے " سال " اور ان عما رات کا استعمال ، ، ، کا موازنہ اپنے ملک ، سے کرتا چلا جاتا ہے ، اور " اس محاورے کو ذہن میں لاتے رہیۓ ۔ " پڑھتا جا شرماتا جا " ،،،، یہاں کی ذیادہ تر سیر ، تصاویر سے کروا رہی ہوں کہ وہ بہت کچھ واضح کرتی چلی جاتی ہیں ،،، میَں نے شروع میں لکھا تھا کہ ذیادہ تر بہت پرانی ، 800 سال تک کی پرانی عمارات کو باہر سے لیپا پوتی کرنے کے بجاۓ ، ان کی اچھی دیکھ بھال کی جاتی ہے تاکہ وہ با مقصد استعمال میں رہیں ۔ اسی لیۓ ماحول پر " گرے رنگ " غالب نظر آیا ۔ البتہ نئی عمارات ، جو ، 100 ، یا 200 سال پرانی تھیں ، وہ کچھ خوش رنگ کہی جا سکتی تھیں ۔ لیکن جو تاریخ کا طالب علم ہے ،، یا ،، جو علم کی اہمیت سے آگاہ ہو گا ، اسے اس طرح کی تحقیقی درسگاہ کے چپے چپے سے دلچسپی ہو گی ، اور جس نے یہاں کچھ وقت بطورِ طالبِ علم گزارا ہو گا ، تو اس کے لیے تو اس کے عشق میں مبتلا ہونا قدرتی ہے ۔ 
دریاۓ کیم یا کھیم ،، دریا تو کہیں سے نہیں لگتا تھا ، ایک چوڑے ، سیاہی مائل ، نالے کی شکل میں تھا ، جس کی تہہ بہ مشکل دو تین گز تک ہو گی۔
دیکھا جاۓ تو کیمبریج یونیورسٹی کا قیام ، اس دور کی ، پولیس گردی کے نتیجے میں ری ایکشن کے طور پر ، کچھ اساتذہ اور طلباء کی ہمت کی مظہر ہے،،، راستے میں آنے والے " پُلوں " کے نیچے سے گزرتے ہوۓ ، پُنٹر ، اور گائیڈ نے ہمیں دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں ، ان کی ہسٹری اے بھی آگاہی دی ،، یہ " میتھمیٹیکل پل " ہے ،، اس جیسا آج تک کوئ نہیں ، بنا پایا ، ،،، یہ " آہوں اور سسکیوں کا پُل " ہے ،،،جس دور میں ، دریا کے ایک طرف قید خانے اور پُل کے دوسری طرف عدالتوں کی عمارات ہوتیں تھیں ، تب فیصلے کے دن قیدی آہ و زاریوں کے ساتھ اس پُل سے گزرتے ،، کہ انھیں کوئی اندازہ نہ ہوتا تھا کہ ، آج ان کی زندگی کے خاتمے کا دن ہے ،یا ، آذادی،،، جب اس سارے علاقے کو علمی درسگا میں بدل دیا گیا ، تو ، تب بھی پل کے اس نام کو برقرار رکھا گیا ،،، کہ اب طلباء اپنے رزلٹ کے دن ، اسی طرح "روتے دھوتے " ( محاورتاً) سننے جاتے ہیں ، کہ " پاس یا فیل !!! ۔
کیمبریج کی سبھی عمارات ، نوابوں ، روساء اور بہت امیر زمینداروں کی رہائش گاہیں تھیں ، علم کے ذوق و شوق ، کی ابتدا کسی ایک نے کی اور پھر ،، اور پھر ہر رہائشی کے لیۓ ، اپنی عمارات کو اس اعلیٰ مقصد کے لیۓ وقف کرنا ، اعزاز بن گیا ۔ ،" پُنٹر "یا گائیڈ کی اپنے پیشے سے جڑی معلومات بہت خوب تھیں ۔ اور پھر " بیاں وہ اپنا غالب " والا حساب ، دلچسپ انداز تھا ،، واپس آکر ، ہم نے اس کا دلی شکریہ اور کچھ فالتو پونڈ بھی دیۓ ،، وہ خوشی سے نہال ہو گیا ۔ 
پنٹنگ سے فارغ ہو کر ،، کیمبریج کی مختلف سڑکوں ، کارنرز ، اور چھوٹے چھوٹے ریسٹونٹس کو دیکھنے بھالنے شروع کر دیۓ ، یہاں سڑک پر دنیا کی ہر قومیت ، اپنی کسی انفرادی خدو خال یا لباس سے نظر آرہی تھی ،، لیکن ذیادہ تر نے اپنے آپ کو اسی آسان ڈریس میں ملبوس کر رکھا تھا ، جینز اور شرٹ ،،، جبکہ ، سر سے پاؤں تک ، برقعے میں ملبوس نوجوان مسلم لڑکیاں بھی نظر آئیں ۔ اور یہ ان کے اعتماد کا مظہر بھی تھا ، اور یونیورسٹی کی آزاد پالیسی کا بھی !۔
اب ہماری بھوک ، کے زور کا وقت تھا ، صبح ناشتے کے بعد ، کارن فلورز ، یا ، گھر سے جوجی کے تیار کردہ ایک ایک سینڈوچ کے بعد اب شام کے 6 ، 7 بج چکے تھے ،، مائرہ نے جلد ہی حلال فوڈ کے لیۓ ، گوگل سے ایک لبنانی ریسٹورینٹ ڈھونڈا ،، اور جاتے ہی ہم نے تلی مرغی اور اسکے ساتھ سلاد ، چپس ، اور ایک ایک سینڈوچ کا آرڈر دیا ،، 20 منٹ میں یہ سب حا ضر ہو گیا ،، کہ یہ وقت طلبا کی موجودگی کا نہ تھا ،، رش نہیں تھا ، کھانا بہت مزیدار ، اور وافر تھا کہ ، پیٹ بھرا تو بےزاری کا جو غلبہ آنا شروع ہوا تھا ،، وہ ختم ہو گیا ،، ایسے مواقع اکثر پیش آتے ہیں ،، تب ان محاوروں کی ایجاد کا سبب بھی بالکل واٖضع ہو جاتا ہے ،،، پنجابی کا ایک مشہور محاورہ ہے " پیٹ نہ پئیآں روٹیاں ، تے سبھے گلاں کھوٹیاں " ،،،  
( پیٹ میں روٹی نہ ہو ، تو دین و دنیا کی ہر بات بےکار لگتی ہے )
اب شام تھی اور کیمبریج کی بتیاں جلنے لگیں ،، اور ہم نے اسے الوداع کہا ،، ابھی ہم نے مزید ایک گھنٹے کا سفر کرنا تھا ،، کیمبریج یونیورسٹی ،،، جسے دیکھنا ، ، محض خواب تھا لیکن ، اللہ مسبب الاسباب ہے ،،، مائرہ کی شادی ،، پر آنا ، ایمن ثمن کی چھٹیوں ،، مائرہ کی کار کی موجودگی ،،، اور سب سے بڑھ کر ، ان سب کے تعاون اور محبت نے میرے لیۓ اس سفر کو یادگار ہی نہیں ،، بہت خوبصورت یادوں کا مرکز بنا دیا ،، انھوں نے مجھے میری عمر ، اور میری ہمت کے مطابق بہترین ٹریٹ کیا ،، اور سارے سفرِ یو کے ، میں اس یونیورسٹی کا وزٹ تو خالص میری دلچسپی کے لیۓ کیا گیا ،، !! اور میری بہت سی دعائیں ان کے لیۓ ،،، کسی بھی مہمان کو اینٹر ٹینڈ کرنے کا گُر ان بچیوں سے سیکھنا چاہیۓ،،، ۔😍👩‍👧‍👧
💞 ( منیرہ قریشی 29 جون 2018ء واہ کینٹ )
 تصاویر۔۔۔ کیمبریج یونیورسٹی ، یو کے ! اکتوبر 2014ء ۔۔۔
کیمبریج میں طلباء کی رہائشی عمارات ۔۔۔
کیمبریج یونیورسٹی میں ایک لائبریری ،، جس کی پہلی منزل میں ایک مرتبہ پانی آ گیا ، اس وقت کے طلبا اور ٹیچرز نے لاکھوں کتب ، کو مل کر راتوں رات ، اوپری منزل پہنچایا ،، اور آج بھی یہ کتب وہاں موجود ہیں ، اس یونیورسٹی میں 100 سے زائد لائبریریز ۔ 
میتھمیٹیکل برج ،،، کیمبریج یونیورسٹی۔۔۔  

  کیمبریج یونیورسٹی ، میں موجود " آہوں کا پُل " جس میں سے بہت پہلے قیدی ، اور اب طلباء اپنے رزلٹ کے روز آہیں بھرتے گزرتے ہیں ،، اسے آج بھی اسی نام سے پکارا جاتا ہے ،، اور ہمارا خوش مزاج گائیڈ۔۔۔

کیمبریج یونیورسٹی کا ایک یادگار ، کارنر ،، اگر مجھے یہ آج بھی یاد آتا ہے تو ، جو طلباء یہاں سے پڑھ کر جاتے ہوں گے ، انھیں تو اپنی علمی درسگاہ سے کتنا پیار ہوتا ہو گا ۔۔۔۔ 
کیمبریج میں مختلف کالجز ہیں ، جن کو ملا کر یونیورسٹی بنتی ہے ، ان کو دو حصوں میں الگ کیا گیا ہے ، اس طرح ان میں آپس کے مختلف صحت مند مقابلے ممکن ہوتے ہیں ، ایک کو ٹرینٹی اور دوسرے کو کنگز کالج کہا جاتا ہے ! یہ کنگز کالج ہے ! یہاں 100 کے قریب مضامین کو متعارف کرایا دیاگیا ہے ۔ 
کیمبریج یونیورسٹی  کاایک کالج، دریائے کیم کنارے۔۔۔ 
کیمبریج شائر ،، کا ایک کالج ، ۔ 
پنٹنگ سے پہلے ایک طائرانہ نظر !کیمبریج شائر۔۔۔

پیر، 25 جون، 2018

سفرِانگلستان (19)۔

 سلسلہ ہاۓ سفر "
سفرِِ ولایت ، یو کے (19)۔
لندن پہنچنے کے چند گھنٹوں میں مائرہ ہم دونوں کو " سلاؤ " کے علاقے میں پھرا لائی تھی ، تاکہ، مانچسٹر واپسی سے پہلے وہ ہمیں ان جگہوں پر لے جاۓ ، جہاں کا سفر لمبا ہے اور میرے لیۓ مشکل نہ ہو ، چناچہ فلیٹ پہنچ کر اس نے مجھ سے پوچھا ، کون سی خاص جگہ ، جہاں آپ جانا ضروری اور پسندیدہ سمجھتی ہیں ، تاکہ وہاں آپ کو لے جاؤں اور اگلے دن میں واپس چلی جاؤں ، میَں نے کہا ،، یا آکسفورڈ یونیورسٹی ،، یا کیمبریج یونیورسٹی ،،؟
ٹونزوں نے فوراً " جامِ جم " کھولا اور گوگل سے معلومات لیں ، پتہ چلا سینٹرل لندن سے دائیں طرف جائیں تو آکسفورڈ یونیورسٹی 70 کلو میٹر دور ہے اور بائیں طرف جائیں تو کیمبریج یونیورسٹی بھی 70 کلو میٹر دور پڑتی ہے ، آپ ہی بتائیں ، کہاں چلیں ،،، ! میَں نے کہا مجھے اپنے مرشد حضرتِ علامہ اقبالؒ کی علمی درس گاہ کو دیکھنا ہے ، سب نے اس پر اتفاق کیا ۔ اور صبح 9 بجے ہم کیمبریج ٹاؤن کی طرف رواں دواں تھیں ، ، لندن کے گنجان شہر سے نکلے اور ہائی وے پر آتے ہی آنکھوں کو طراوت مل گئی ،، دائیں بائیں ، ہموار ، با ترتیب ، سر سبز کھیت ،، لگاتار ، لگاتار !!! کھیتوں کے بہت بڑے قطعات فصل کی کٹائ کے بعد اب زمین کو ریسٹ دینے کا دورانیہ چل رہا تھا ، چند انچ کی سبز گھاس نے سارے راستے کو سبز رنگ میں رنگ دیا تھا، جگہ جگہ گھاس کے بڑے چھوٹے رولز کے بنڈل پڑے تھے۔ موسم لندن والوں کے حساب سے گرم تھا ( ہم گرمائی خطے والوں کے لیۓ معتدل ) سموتھ ڈرائیونگ ، با مذاق ہم سفر ، اور نئی جگہوں کی سیر نے مجھ پر سکون کی کیفیت طاری کر دی تھی ۔ اور وہ درس گاہ جہاں علامہؒ اقبالؒ کو ایک ڈگری لینے کا موقع ملا ، کودیکھنا میرے لیۓ بہت خوش کُن تھا ۔ دورانِ سفر جوجی اور بچیوں نے بتایا کہ ہم پہلے بھی کیمبریج ٹاؤن جا چکی ہیں،، مائرہ کی ایک سہیلی ان دنوں اس ٹاؤن میں رہ رہی تھی جس کی دعوت پر یہ سب گئیں ،،، کیمبریج یونیورسٹی کو بھی دیکھا لیکن سرسری سا ،،، اس لیۓ اس چند سال کے وقفے کے بعد دوبارہ دیکھنا ،، انھیں بھی اچھا لگ رہا تھا ۔ ٹھیک ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہم ،ایک گھنے درختوں کے موڑ پر مڑے تو مائرہ نے بتایا ہم کیمبریج ٹاؤن کے قریب پہنچ گئی ہیں ،، اور پھر اس علمی درس گاہ کے قدیم طرز کے گیٹ میں داخلہ ،، میرے لیۓ خوشگوار لمحہ تھا ۔ ایمن ثمن کی طرف سے کھٹا کھٹ تصویریں کھینچی جانے لگیں ،،۔
چند منٹ کی ڈرائیو کے دوران جو آس پاس کی قدیم طرزِتعمیرکی عمارات کا " گرے رنگ "پورے منظر پر حاوی تھا ،،، ان مضبوط ، بڑی بڑی ، عمارات کو سجانے کے بجاۓ انھیں محفوظ اور کار آمد بنانے رکھنے پر ذیادہ فوکس کیا گیا تھا ،،،،،چند منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد مائرہ نے لینڈ کروزر ایک جگہ پارک کر دی ،،، اب ہم باقی سیر پیدل کریں گے ،،، اور واقعی آدھ گھنٹے کی سیر کے دوران ، اکا دکا کاریں نظر آئیں ،،، ذیادہ تر طلباء اور پروفیسر صاحبان سائیکلوں پر یا پیدل پھِر رہے تھے ۔ اور یہ ہی وجہ تھی کہ کہ دھوئیں سے قریباً صاف فضا ، نے ہر منظر واضح اور نمایاں کر رکھا تھا ۔ کچھ بلڈنگز کے اندر داخل ہو کر تصاویر لیں ،( یہ سب اس قسط کے آخر میں موجود ہیں ) ایک بہت چوڑی شاہراہ کے کناروں پر گھاس کے قطعات تھے ،، جن پر مختلف یونیفام پہنے لڑکے لڑکیاں ، کچھ بیٹھے ، کچھ پھرتے نظر آۓ ، تب مجھے علم ہوا کہ یہاں بہت سے کالجز ہیں ، جو کیمبریج بورڈ کے انڈر آتے ہیں اور یہ سب مل کر کیمبریج یونیورسٹی کہلاتے ہیں ، ان کالجز کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ، ایک گروپ " ٹرینٹی " اور دوسرا " کنگز "کہلاتا ہے ، اور اس طرح دونوں کے درمیان صحت مندمقابلہ بازی چلتی رہتی ہے۔ 
کیمبریج یونیورسٹی کو کنگ ہنری( سوم ) نے 1209 ء میں قائم کرنے کی اجازت دی ،یہ آج بھی یوکے کی دوسری اور دنیا کی چوتھی بڑی یونیورسٹیز میں سے ہے ۔ ،،، یہاں کے سائینس فیکلٹی سے نامور سائنس دان فارغ التحصیل ہوۓ ہیں ان میں آئزک نیوٹن اور جی ایچ ہارڈی شامل ہیں ،، ہارڈی نے خوبصورت تجزیہ کیا اور کہا تھا " طلبا کو نمبروں کی دوڑ میں نہیں ، بلکہ ، طالب علم کوصرف مضمون میں دلچسپی کی بنیاد پر اہمیت ملنی چاہیۓ"۔
اور آئزک نیوٹن کے خیا لات اور کارنامے تو سب پر عیاں ہیں،لیکن اس کا ایک فلسفیانہ خیال یاد آگیا ہے اس نے کہاتھا"مجھے نہیں معلوم دنیا میرے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ لیکن اپنے متعلق میرا گمان ہے کہ میَں ہمیشہ سے سمندر کنارے کھیلتا بچہ ہوں جو خوبصورت گول پتھر اور سیپیاں ڈھونڈنے میں اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہو ، جب کہ میری نظروں سے پَرے سچائی کا ایک برِ اعظم غیردریافت شدہ حالت میں موجود ہے "۔اور انہی قیمتی لوگوں میں علامہؒ بھی شامل ہیں جن کا دور تو بعد کا تھا لیکن ،، وہ معروف ، عظیم فلسفی شاعر ، جسے شاعرِمشرق اور نباضِ مشرق کے القابات ملے ،، جن کی انقلابی شاعری نے قومِ مشارق کی سوچ بدل دی ۔۔ اور جن کی پرُاثر ، دبنگ شخصیت کو زمانے کے مشاہیر نے عزت و احترام دیا ،، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری قوم کو قائدِ اعظم محمدعلی جناح اور علامہؒ جیسے قابلِ فخر، قائد ملے ، یہ اللہ کا احسان عظیم ہے۔ 
اور اس دوران آس پاس کی مشہور بلڈنگز میں اندر داخل ہوتیں ، تصاویر لی جاتیں اور یوں ہم کیمبریج یونیورسٹی کے ہر چپے کو دلچسپی اور شوق سے دیکھتی رہیں ۔ انگریز بلا شبہ نہایت ، ہوشیار ، چالاک لیکن بہت ذہین قوم ہے ، اور اس کی ذہانت کا ایک اچھا پہلو تو یہ ہے کہ اپنی قوم کے لیۓ ایمانداری سے وفادار ہے ( بھلے دوسری قوموں کے ساتھ بےایمانی اور چالبازی کر کے وہ یہ فائدے اُٹھاۓ ہوں ) ۔ یہ یونیورسٹی مختلف لارڈز ، یا نوابوں ، اور رؤساء کی مدد سے بنتی چلی گئی ،،، اور جب ہم کیمبریج کے درمیان سے گزرنے والی ، نالے ٹائپ نہر میں چلنے والی کشتی میں بیٹھیں ، تو اس میں بیٹھنا ہی میرے لیۓ الجھن اور ڈر کا باعث بنا ،، کہ ایک مدت بعد اس انداز سے بیٹھی تو ، گھٹنے کے درد نے یاد دلایا ،، اب کچھ دن احتیاط سے چلنا پھرنا ۔ یہاں کشتیاں چلانے والے ملاح ، یونیورسٹی کے طلباء ہیں ، جو پارٹ ٹائم جاب کے طور پر یہ نوکری کرتے اور اپنے اخراجات خود اُٹھاتے ہیں ۔ ہمیں جو ملاح ملا اس نوجوان میں حسِ مزاح کچھ ذیادہ ہی تھی ۔ اس کشتی رانی کو یہ " پُنٹنگ " اور ملاح کو " پُنٹر " کہتے ہیں ۔ ہم جوں ہی کشتی میں بیٹھ گئیں ،، اس نے بھی ایک دفعہ کشتی کو زور سے جھٹکا دیا ، اور کہا " کبھی کبھی یہ الٹ بھی جاتی ہے " ،،،  اور اب کشتی میں" ایک حد تک" مکمل کیمبریج کا نقشہ پھر گیا ۔ 
( منیرہ قریشی ، 25 جون 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 31 مئی، 2018

سفرِانگلستان(18)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر "
سفرِِ ولایت یو کے " ( 18)۔"
اور اکتوبر کا پہلا ہفتہ بھی گزر گیا ، اب ہم نے ایمن ثمن کے ساتھ لندن روانہ ہونا تھا ،، ایک تو ان کی یونیورسٹیز کھلنے والی تھیں ، دوسرے ہم نے لندن کی سیر تو کرنا ہی تھی ،، اور تیسرے 2 نومبر 2014ء کی رات کا واپسی ٹکٹ مانچسٹر ہی سے تھا ،، لندن سیر کے بعد ہمیں دوبارہ بےکپ آنا تھا ،، اس لیۓ انہی تین ہفتوں میں مزید سیر ہو سکتی تھی ۔
اب یہ ڈیوٹی پھر مائرہ کے سپرد ہوئی، اسے اپنی پجارو لانا پڑی ، کیوں کہ ہم چار لوگوں کے بیگز ، اور ایمن ثمن کے لیۓ جوجی پاکستان سے فولڈنگ فوم کے گدے لے کر آئی تھی ، تاکہ لندن ، ان کے پاس جب فالتو مہمان آئیں تو وہ ان میٹریسسز کو بہ آسانی چھوٹی جگہ پر رکھ بھی سکتی ہیں ، وہ آرڈر پر بنواۓ گئےتھے ،اور بہت رول ہو کر ایک "گاؤ تکیۓ " جتنے ہو جاتے تھے ، انھیں بھی لندن اسی گاڑی میں لے کر جانا تھا ۔ کچھ مزید گھریلو اشیاء بھی تھیں ،، جن کے رکھنے کے بعد ہم نےخود کو ان سیٹس پر فکس کیا اور ، مانچسٹر سے لندن کا چار ساڑھے چار گھنٹے کا سفر، صبح 10 بجے سفر کی دعا پڑھتے ہوۓ شروع کیا ، ماشا اللہ مائرہ چار پانچ سالوں سے اپنی کار تو چلا ہی رہی تھی لیکن اب میاں کی پجارو پر بھی ہاتھ صاف تھا ، اس کی سموتھ ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ ، ہم ہائی وے پر آۓ ، اس شاہراہ کا مقابلہ ، ہماری موٹروے سے کیا جا سکتا ہے ! اور جوں ہی 12 بجے ، ہمیں چاۓ کی یاد نے ستایا ۔ اور مائرہ نے گاڑی راستے کے ایک معروف چین کے ریستورنٹ میں جا کھڑی کی ،، فریش ہو کر انکے لان میں میں لگے میز کرسیوں پر جا بیٹھیں ،، چاۓ کے ساتھ کچھ سینڈوچ اور بچیوں نے اپنے لیۓ نوڈلز ،یا پاستہ اور بعد میں آئسکریم لی ، ہمیں یہاں بھی بیٹھنے کا مزا اس لیۓ آیا کہ یہ ایک اور دنیا تھی جہاں ، چند منٹوں کے بعد منظر مسلسل بدلتا جا رہا تھا ۔ کبھی کوئی کار کبھی کوئی بس رنگا رنگ مسافروں سے بھری آتی ، اور ایک ایسے ہی ملٹی نیشنل خدو خال والے لوگوں سے بھری بس ، روانہ ہو رہی ہوتی۔ ہم دونوں جب بھی لوگوں کو دلچسپی سے دیکھتیں ،،، تو مائرہ سے ذیادہ ایمن ثمن ،کانشس ہو کر کہتیں ،، " اماں ، خالہ ، انھیں اتنا غور سے نہ دیکھیں ، یہ اچھانہیں سمجھتے " ،،، لیکن ہم اپنی مرضی کرتیں ،، اس لیۓ نہیں کی لوگ کبھی نہیں دیکھے یا غیر ملکی لوگ نہیں دیکھے ،، ہم تو نیرنگئ قدرت کا مشاہدہ کرنے لگتیں،، ورنہ لوگوں کی جتنی اقسام ،، حج کے موقع پر نظر آتیں ہیں ،، اس کا کہیں بھی مقابلہ نہیں ۔ اور ہمیں وہاں بھی انھیں اگر بہت غورسے دیکھنے کا موقع نہیں بھی ملا ، تب بھی ہمیں بہت تجربات حاصل ہوۓ ،، یہ میں نے اپنے سفرِ حج میں ذکر کیا ہے کہ " اکثر سننے میں آتا رہا کہ نیگرو ، بہت اکھڑ اور دھکے دے کر آگے بڑھ جانے والے ہوتے ہیں ، ان سے بچ کر رہنا وغیرہ ،، جب کہ ہمیں دونوں شہروں میں جب کہیں نیگرو نظر آۓ ، یا ان سے کوئ رابطہ ہوا ،نہایت مہذب ، اور نرمی سے بولنے والے تھے "،، گویا واسطہ کس کا کس قوم سے کس انداز سے پڑتا ہے یہ ، زندگی کے تجربات ہوتے ہیں ، تب ہم کسی قوم کا بہ نظرِ غائر ، تصور بنا سکتے ہیں ، ، اور بنا لیتے ہیں ۔ 
لندن تک کا ساراراستہ ، کچھ سوتے ، جاگتے ، اور باتیں کرتے گزرا ،، لندن کے اندر کس جانب سے داخل ہوۓ ، یہ تو یاد نہیں لیکن ہم اس مشہور پُل سے گزرے جس کو دیکھنے کی چاہت تھی یعنی " ٹاور بریج ، لندن " دن کے تین بجے تھے ، روشن دن میں اسے دیکھنا اچھا لگا کہ ٹاورز کا اپنا ہی وکٹورین ، سٹائل تھا یا رومن ،، لیکن دبدبہ خاصا تھا ،، اور سب سے بڑی بات کہ کہیں 1886 تا 1894 میں تعمیر کیۓ گۓ ٹاورز ، یوں نۓ لگ رہے تھے جیسے ذیادہ سے ذیادہ 50 سال پہلے تعمیر ہوۓ ہوں ،، یہ بریج ، لندن کی پہچان ہے ، کیوں کہ انجیئنرنگ کے کمال میں یہ دریاۓ ٹیمز سے گزرنے والے اونچے بحری جہاز کے لیۓ بریج اس وقت دو حصے میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ، اور دو حصوں میں اُٹھی سڑک کا نظارہ بھی کیا کمال ہوتا ہو گا۔ہم اس نظارے کو البتہ نہ دیکھ سکیں۔ 
ایمن ثمن کو ، مائرہ نے بہت محفوظ جگہ پر ایک فلیٹ لے کر شفٹ کیا تھا ۔ اسی لیۓ جوجی ہر معاملہ مائرہ پر چھوڑا ہوا تھا ، کہ وہ بہت سے عواقب کو سوچ کر ایمن ثمن کے لیۓ قدم اُٹھاتی تھی ۔، اور اب وہ یہاں دو سال سے رہ رہی تھیں ، یہ علاقہ ، " کنیری وارف" کہلاتا ہے ،،اس فلیٹ کے ایریا میں میں مزید اسی طرح کے تین بلڈنگز تھیں ، جو تین تین منزلہ فلیٹس تھیں۔ انہی میں صرف تین منزلہ فلیٹس میں سے درمیان والا فلیٹ ان کا تھا ،، یہ سٹوڈنٹس کے لیۓ ، خاص طور پر لڑکیوں کے لیۓ بڑی ، محفوظ جگہ تھی ،، اس کے گیٹ سے کمپیوٹر سسٹم کے تحت پاس ٹچ کر کے ہی اندر داخل ہوا جا سکتا ہے ۔ اور باقی سیکیورٹی کے انتظام بھی اچھے تھے ،کار پارکنگ کی بھی مناسب جگہ بنائی گئی تھی ، ایمن ثمن کے فلیٹ کی مالکہ ، بزرگ برٹش خاتون تھی ،، جس سے ان کی ملاقات خال ہی ہوئی تھی ۔ کار سے سارا سامان لڑکیوں نے ہی نکالا ، میں اور جوجی اپنے پرس سنبھالے ،، تھکی ملکانیوں کی طرح آگے چل پڑیں ، ، جوجی نے جا کر تالہ کھولا ،، اور ہم نے حسبِ عادت بہ آواز سلام کیا ،، یہ عادت ہمیں اماں جی سے ملی ہے کہ ،، گھر بھلے خالی ہو ، اندر داخل ہو تو اونچی آواز میں سلام کریں ،، فرشتے جواب دیتے ہیں !!۔
ایمن ثمن نے بہت تیزی سے پہلے ہمارے لیۓ چاۓ کا بندوبست کیا ،، ان کا گھریلو پن تو بےکپ کے قیام میں نظر آگیا تھا ،، لیکن یہ " اُن کا اپنا ٹھکانہ تھا " اور ہم " اُن " دونوں کی مہمان تھیں ۔ بلکہ میرے پہلی دفعہ آنے کا محبت بھرے انداز سے ویلکم کیا جا رہا تھا ،، ڈاخل ہوتے ہی ایک طرف ان کے کوٹ لٹکانے کی جگہ اور جوتے اتارے کی جگہ تھی ، اسی کے اپوزٹ، گھر کو گرم کرنے کی مشین کا بند کیبن تھا ۔۔ اور چند قدم کی گلی کے فوراً دائیں جانب ، ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ، جس میں ایک سنگل بیڈ اور ایک ٹیبل تھا ایک کھڑکی سامنے کے منظر کو دکھا رہی تھی ،، اسی کے ساتھ دائیں ہی طرف دوسرا بیڈ روم تھا جو ڈبل بیڈ والا کمرہ تھا اس میں ایک چھوٹی الماری ،اور ایک سنگھار میز رکھی ہوئی تھی ،، جب ان کی اماں آجاتی ، یا میرے جیسے مہمان ،، تو یہ دونوں بیڈ رومز بہت کام آتے ۔ لندن میں ان کے پاس چند دن ٹھہرنے والے مہمان اکثر آۓ رہتے ، اور ان کی مہمان نواز طبیعت سے لوگ فائدے اُٹھاتے ،، یہ مہمان نوازی اس لیۓ بھی تھی کہ جوجی کی اس عادت کو انھوں نے اپنایا ہوا تھا ،، حالنکہ کبھی کبھار ، ان کی اس خوش مزاجی کا کچھ لوگ غلط فائدہ اُٹھاتے ،، وہ سمجھتے کہ ، ہم تو انکے مہمان ہیں ، ٹیکسی کا کرایا بھی یہ ہی دیں ،، ہم ایسی سوچ پر سواۓ افسوس کے کیا کر سکتے ہیں ،،، بہرحال آخر اسی گیلری کے بائیں طرف پہلے ایک باتھ روم اور اسکے بعد کچن اور آخر میں ایک نہایت مناسب سائز کا " لیونگ روم " تھا ،، جس کی رائٹ سائڈ پر ایک بڑا صوفہ ، ایک آرام دہ کرسی ، اور دو موڑھے تھے ، جبکہ اس کے بائیں طرف گول ڈائینگ ٹیبل چار کرسیوں والا رکھا تھا ۔ یہ دو نوجوان لڑکیوں کے لیۓ بہت خوب تھا ، چاۓ  کی تواضع کے بعد مائرہ نے تجویز دی کہ ابھی صرف شام کے پانچ بجے ہیں ۔ آرام بھی ہو گیا ہے کوئ وقت ضائع نہ ہو تو بہتر ہے ،، میَں آپ کو حکیم چاچا جی کےگھر ابھی گھما لاتی ہوں ، کہ آج کے دن کو بھی استعمال کر لیں !!! ۔
جیسا میَں نے مائرہ کی شادی کے احوال میں لکھا تھا ، کہ لندن سے اباجی کے چچا ذاد بھائی" حکیم چچا بھی شادی میں شریک ہوۓ تھے۔ وہ اپنے دونوں بیٹوں اور بہوؤں ، اور دو پوتے پوتی کے ساتھ آۓ تھے حکیم چچا کی بیوی بہت ہی اچھی خاتون تھیں جو کچھ عرصہ قبل فوت ہو چکی تھیں ، ان کے دونوں بیٹے ، انتہائی لائق فائق ، اور والدین کے بہت تابعدار بیٹے ہیں ، اب یہ دونوں بیٹے فخر اور باسط خود بال بچے دار ہیں ، بلکہ فخر کے چار بیٹے ہیں ، جو جوان ہیں ، شادی میں شاہین ( بہو ) نے بتایا تھا کہ بڑے بیٹے کی منگنی کر دی ہے ، اب ہم بھی انہی کیٹرنگ والوں کو بلائیں گے وغیرہ ،،، بس دو ماہ بعد کی تاریخ رکھی ہے ،،، ہماری ملاقات کے بعد ، بہ مشکل تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ ، ان کے دوسرا پوتا ، جو جوان لڑکا تھا ،، کو کسی نے قتل کر دیا ،، ہم تدفین میں شریک نہیں ہوسکی تھیں ، لہذٰا اب ہمارا ان کے گھر کی طرف اظہارِ افسوس کے لیۓ جانا ضروری تھا ، جو مائرہ لے جا رہی تھی ،، فخر کا گھر " سلاؤ " میں تھا ،، ایک دفعہ پھر ٹاور بریج سے گزر کر وہاں پہنچیں ، وہاں تک اچھا خاصا فاصلہ تھا ۔ اسی میں شام کے سات بج گۓ ،،، کچھ دیر شاہین اور فخر سے بیٹے کی  مزیدتحقیق کا بھی پوچھا ، اور یہاں محض شک اور نسلی تعصب کے اکا دکا کیس ہوتے ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی کچھ ایسا ہی تھا !دعا کی اور واپسی ، پر ٹاور بریج ، روشنیوں میں نہایا ہوا ، مزید خوبصورت لگا۔ 
اور یوں لندن کی سڑکوں اور عمارتوں ، اور پلوں کا پہلا تعارف ہوا ،،،، جو اگر یہ کہوں کہ بس نارمل تائثر رہا ،، تو صحیح ہے ، کیوں کہ لندن کی محبت کو محسوس کرنے کے لیۓ یہاں سالوں رہنا پڑتا ہے شاید !!۔
( منیرہ قریشی ، 31 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

بدھ، 30 مئی، 2018

سفرِانگلستان(17)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
ولایت ،یوکے" ( 17)۔"
اور اب مانچسٹر کی جتنی اہم جگہیں مجھے دکھائی جا سکتی تھیں ،، دکھائی گئیں ،، البتہ ایک جگہ  بطورِ اصرار مجھے لے جایا گیا، کہ آپ کے مزاج کے مطابق مانچسٹر کا یہ نہایت پرانا گوشہء آپ کو ضرور بھاۓ گا ۔ اور یہ جگہ صرف بھائی نہیں ، آنکھوں کے راستے سے دل میں سما گئی ، کہ ایک ایک کونا ، بھُلا نہیں پائی۔ اس جگہ کا نام " ہیلی ڈیل"  ہے۔ایمن ثمن نے ہاتھ میں پکڑے " جامِ جِم " ،،، یعنی آئی فون سے بذریعہ  گوگل ، بتایا کہ یہ ڈھائی میل لمبا چوڑا،ایریا ،، بالکل نیچرل انداز سے چھوڑ دیا گیا ہے یہ راچڈیل کا وہ ایریاہے ،، جسے نیچرل ٹورزم کے تحت ، ان لوگوں کو جو بالکل آج کی کسی ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی جگہ دیکھنا چاہتے ہوں ، تو اِسے دیکھ سکتے ہیں ، یہاں پیدل جانا بہتر ہے ، کیوں کہ گاڑی کے لیۓ سڑک تنگ بھی ہے اور واپسی کا موڑ کاٹنا بھی مشکل مرحلہ ہوتا ،، اور پھر آج مائرہ بھی لے جانے کے لیۓ موجود نہ تھی ۔ ہم بس سے آسان اور آرام دہ ، سفر کر کے 20، منٹ بعد ہی اس بازار میں پہنچے جو خاصا ، پرانا ، یا بہت جدت لیۓ ہوۓ نہ تھا ، اور سارا وقت ، آنکھیں ، نہایت اونچی اور جدید بلڈنگز ، شاپنگ مالز ، اور بازار کو دیکھتیں رہیں ، تو یہ قدرِ پرانی لُک دیتا بازار اچھا لگا ،،، یا ،،ہم ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھنے والوں کو یہ نظارہ " اپنا اپنا " سا لگا ۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں کی لائن ، جو ایک ہی سیڑھی چڑھ کر دکان کے اندر داخلہ ہو جاتا ۔ 
مانچسٹر کے بہت سے چوراہے ، آج بھی اُس پرانی طرز سے چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوۓ ہیں ، جو پرانی سڑکوں کی یاد دلاتے ہیں اور یہاں اس ہیلی ڈیل کو بھی دیکھنے آئی ہیں،جسے یہ لوگ "چُھپا قیمتی پتھر"(ہڈن جیم) کہتے ہیں ،اس کی نہایت خوبصورت تصاویر ، گوگل کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہیں۔ جب ہم بس کے ذریعے پہنچے ، اس دن نہ صرف موسم خوبصورت تھا ،، بلکہ اب مہینہ بھر سے خوب سیر کرنے اور پیدل چلنے سے میرے چلنے کی رفتار بھی بہتر ہو چکی تھی ، ، اور اب اس ہیلی ڈیل کے ایک بہت پرانے طرز کے گیٹ سے داخل ہوئیں ،، اور دل نہال ہو تا چلا گیا ۔ اس ڈھائ میل کے علاقے کو بالکل اسی طرح رہنے دیا گیا ہے ، جو 1867ء کی شکل میں تھا ۔ یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے ، جو شروع سے ہی نیچے کی طرف جاتی چلی جاتی ہے ، ارد گرد کی خود رو جھاڑیاں ، درخت ، اور کوئی بلڈنگ نہیں ، اور خاموشی،، سرسراتی ہوا ،، اور کہیں کہیں چھوٹی رنگین چڑیاں ،، ! ہم جیسے اس ماحول میں ڈوبتیں ، چلیں گئیں ،، جیسے جیسے ڈھلواں سڑک پر چلیں ،، جنگل نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا ۔ ذرانیچے پہنچے ، ،، مخالف چھوٹی سی پہاڑی سے گرتی بہت خوب صورت سی آبشار نے تصاویر لینے پر مجبور کر دیا ،،۔
 ہیلے ڈیل کی آبشار اور اون دھلائی کی سِلیں"۔ "
یہ آبشار 300 سال پہلے بھی تھی ، ،، کہ یہیں آکر مزدور مرد وزن جو اُون ، کات کر لاتے ، تو یہاں آکر اسے دھوتے اور پھر سکھاتے ،، اس طرح کی دھلائی  کی جگہیں یا سلیں ابھی بھی موجود ہیں ۔

ہیلے ڈیل میں اترائی کے آخر میں ، جہاں مزدور مرد و زن ، اپنی لائی اون دھوتے اور رنگتے تھے ،، ! اب یہ علاقہ ہر طرح سے ، نیچرل رہنے دیا گیا ہے ،، اور یہاں کی قدرتی سینری ، اور خاموشی ، لاجواب ہے !۔ 
 آس پاس بہت ہی خاموشی ، جنگلی پیڑ پودے ،، اور نزدیک ہی ایک پرانا سا پُل بھی تھا ،، یہ ریل ٹریک تھا ، جو ،،راچڈیل اور بے کپ کے درمیان چلانے کے لیۓ 1870ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ شروع گیٹ سے نیچے آنے تک کی سڑک کچھ ایسی چوڑی نہ تھی ، شاید پرانی پگڈنڈی کو ہی کچھ بہتر کر کے سڑک بنا دی گئی تھی ۔ یہاں ایک ، دو بینچ بھی تھے ،، جن پر بیٹھ کر ہم نے فوٹو بنواۓ ۔ ایمن ثمننے تو آس پاس ، اونچے نیچے راستوں کو اور پُل پر جا کر ان مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کردیا ۔ میَں اور جوجی بنچ پر بیٹھے ، اس شعر کو یاد کرکے اس کا صحیح معنوں میں لطف محسوس کرتیں رہیں،۔
؎ ہم تم ہوں گے بادل ہو گا 
رقص میں سارا جنگل ہو گا
کس نے کیا مہمیز ہوا کو !
شاید اُن کا آنچل ہو گا 
یہ غزل کس کی ہے یہ تو یاد نہیں آیا ، لیکن خود بھی خوب صورت اور نہایت خوبصورت آواز والا گلوکار مسعود ملک یاد آگیا ، اس نے یہ غزل خوش گلوئی کے ساتھ اتنے دھیمے سروں سے گائی ،، کہ نہ شاعر یاد ہے ، نہ پروڈیوسر ،،، بس یہ غزل مسعود ملک کی پہچان بن گئی ، اور کچھ ہی ماہ بعد اس کے مرنے کی خبر نے سب کو اداس کر دیا ،،، شاید ایسے سریلے ، ایسے شاعرانہ ، وجود بس اتنی عمر لے کر ، بہت ساری شہرت سمیٹ کر اپنی جگہ خالی کر جاتے ہیں۔
تین یا چار گھنٹے گزر گۓ ،، ایمن ثمن کے متوجہ کرنے پر ، ہم بادلِ ناخواستہ اُٹھیں ، ، اور اب چڑھائی ذرا مشکل لگی ،، لیکن اگر اترتے ہوۓ بیس منٹ لگے تو چڑھتے ہوۓ آدھ گھنٹہ ضرور لگا ،، لیکن اس گوشہء سکون کی یاد آتی رہتی ہے ، جس کے درختوں ، نے 300 سال کی  تاریخ  دیکھ رکھی تھی۔اس کے اوپر کی دنیا ویسے ہی مصروف تھی ،، وہی دوڑتی بھاگتی زندگی !!کچھ وقت پیدل چلیں اور ایک چوراہے پر ایک چھوٹی سی ، لائیبریری کا بورڈ پڑھ کر، اس میں جانے کا کہا ،، تو ایمن ثمن مان گئیں ،، جیسے ہی ہم داخل ہوئیں ،، ا س کی لابی میں ایک دو روسٹریم تھے جن پر بہت پرانے اخبارات کو کمپائل کر کے ،  
عام عوام کے پڑھنے کے لیۓ رکھا گیا تھا ، میں تو کچھ دیر کے لیۓ اسے پڑھنے میں مصروف ہوئی ،،۔ جو ہماری دلچسپی کا باعث بنے ، اور اسی میں1914 ء کے اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوۓ !۔


لائبریری میں کمپائل کیےگئے اخباروں کا ،، 1914ء کا تاریخی صفحہ !،،،،·۔
 
، اتفاق سے دوسرے صفحے پر 1941ء کا پیج سامنے آیا ،، جس پر انڈین سولجرز سے متعلق کچھ خبریں شائع ہوئی تھیں ،،، اور یقیناً یہ ہم ایشین ، کے لیۓ دلچسپی کے صفحات تھے ،،یہ ایک دو منزلہ ، لیکن بہت چھوٹی سی ، صاف ستھری ، اور بہت سے سیکشنز کے ساتھ ترتیب دی گئی لائیبریری تھی ۔ اور ،،،،،،،، اب ہماری واپسی کا سفر تھا ،، بسوں میں بیٹھیں اور بےکپ ، کی بس سٹاپ پر اتریں ،، اپنے گھر تک کی بہت تھوڑی سی چڑھائی ، اب بری نہیں لگتی تھی ،، ! ( میں خود پر خوب دل میں خفا ہوتی تھی کہ میں نے پیدل چلنے کی عادت کو کیوں چھوڑ دیا ، کہ نہ صرف وزن بڑھ گیا ،، بلکہ میرے چلنے کی رفتار بھی کم رہی ) ،،۔
اگلے چند دن ہم نے قریبی حسین مناظر کو دیکھنے تک ہی رسائی رکھی۔، اور اسی دوران ایک " بس " نظر آئی ، جو دراصل ایک موبائل لائیبریری تھی ،،، جی ہاں یہ لائبریری ایک عام بس کو خاص طریقے سے سجا دیا گیا تھا جس میں ، انگلینڈ کی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والی ، بسوں ، کی تصاویر ، پمفلٹس ، اور کچھ ماڈلز رکھے گۓ تھے ،، یعنی ، شروع دور میں بس بنی تو کس شکل صورت کی تھی اور بتدریج کیسے کیسے تبدیلیاں آتی چلی گئیں،،گویا اپنے عوام کے لیۓ چلتا پھرتا ، انسائیکلو پیڈیا ،، تاکہ کم ازکم نئی نسل کو چلتے پھرتے ، چند منٹ میں بہت کچھ سکھا دیا جاۓ !!۔
( منیرہ قریشی 30 مئی 2018 ء واہ کینٹ ) (جاری) 
ہیلے ڈیل کا ایک راستہ ،۔

ہیلے ڈیل کا جنگل !۔







جمعہ، 25 مئی، 2018

سفرِانگلستان(16)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر"
 سفرِِ ولایت ، یوکے " (16)۔"
اگلے ہی دن مائرہ کی پکی سہیلی نادیہ کی فیملی نے مائرہ اور ہم سب کو دعوت پر بلایا ، خود نادیہ لندن میں رہائش پزیر ہے ، اس لیۓ اس کا آنا ممکن نہ تھا ، ، لیڈز میں ان کے تین چار گھر ہیں ،، ایک نادیہ کے امی ابا کا ، دوسرا ماموں مامی کا ، جو نادیہ کی پھوپھو بھی ہیں ، تیسرامزید دو پھوپھیوںکے ، اور ایک خالہ کا ایک دو اور رشتے داروں کے ،، گویا یہ ساری گوجر خان کی فیملی ،،، تیسری نسل تھی جو انگلینڈ میں  پَل کر جوان ہوئی ، نادیہ کے دادا ، نانا ،پاکستان بننے کے چند سال بعد ہی یہاں اپنے چند رشتہ دار مردوں کے ساتھ آۓ ،، سادے اور محنتی لوگ ، کچھ ہی عرصے میں خواتین کو بھی بلایا جانے لگا ، اور اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دی ،، پہلی اور دوسری نسل بہت تعلیم یافتہ نہیں تھی ،، لیکن آج ان کی بیٹیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، کچھ لڑکے پڑھ گۓ ہیں کچھ کم تعلیم یافتہ ،،، ۔
نادیہ سے ہمارا پہلا تعارف ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کالج میں ہوا جب میں ، جوجی کے ساتھ ، مائرہ کو ہوسٹل چھوڑنے گئیں ۔ مائرہ کو جو کمرہ ملا اس میں دو لڑکیاں اور بھی شامل تھیں ، ان میں سے ایک لڑکی پہنچ چکی تھی ، جو ذرا ریزرو ، سی لگی ،، جبکہ دوسری لڑکی ، اپنے ساتھ بڑے بڑے سوٹ کیسوں کے ساتھ ہم سے چند منٹ بعد پہنچی ،، مائرہ نے تھوڑی سی سِٹنگ میں اس کا ہاتھ بٹایا ،،، اور ،، ان دونوں کی ہیلو ہائ ہوئی ،، تو دراصل ان کی کیمسٹری مل گئی ،، دوستی کا وہ پہلا دن ،، اور آج 2018ء ،، مائرہ کا ذکر ، اس نے اپنی فیملی کے ہر بندے سے کیا ،، باہمی محبت ، نے یہ حال کر دیا کہ مائرہ ان کے گھر کا بندہ بن گئ ،، مائرہ لمبی اور دبلی ہونے کی وجہ سے اس فیملی کو " کینڈی " ( مشہور بے ڈھنگی گڑیا ) لگی ،، اور یہ نام اس خاندان کے لیۓ مائرہ کے لیۓ فکس ہے !۔
چونکہ نادیہ نہیں آسکی تھی ، اس لیۓ دعوت اس کی امی ، اور مامی کی طرف سے ملی ، ان کے بال بچے بھی جمع تھے ،، یہ لوگ لیڈز میں سیٹل تھے ،، بہت خوبصورت بنگلے ، ایک ہی روڈ پر کچھ فاصلوں پر تھے ، یہ محنتی لوگ ، پاؤں چادر کے مطابق پھیلا نا سیکھ گۓ تھے ،، اب تیسری نسل کچھ ذیادہ آرام طلب تھی ۔ ہم11بجے دوپہر پہنچے ، سب مامی کے گھر جمع تھیں ،، کافی دیر تک مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ کون ، کیا ہے ماشا اللہ 5 لڑکیاں ان کی اور ہماری ایمن ثمن ، مائرہ ، بڑی خواتین میں ایک تو نانی یا دادی تھیں ، اور ہمیں کمپنی دینے والی بھی چار خواتین تھیں ، خوب شاندار گھر تھا ، اسی گھر کے پچھلے لان میں ایک انیکسی ہے ، یہاں مائرہ اس وقت ایک ڈیڑھ مہینہ رہی جب اسے کسی کالج میں داخلہ لینا تھا ۔انھوں نے صرف اسی کو نہیں ، ان کے گھر آنے والے ہر مہمان کو اسی طرح ویلکم کیا جاتا ہے ، جو ذیادہ ٹھہرنے والا ہویہاں ٹھہرتا ہے ۔ مزیدار اور بھرپور ورائٹی والا لنچ دیا گیا ۔شام کی چاۓ پی کر ہم نے رخصت لی ، یہ ایک یادگار ملاقات رہی ،، واپسی پر مائرہ نے ایک بڑا چکر لیڈز کا لگایا ، اور اہم سڑکوں کا نظارہ کروا دیا ، اور یوں " لیڈز " کے علاقہ پر ایک نظرِ غائر ڈال کر واپس ہوئیں۔
اگلے دن گھر کی چیزیں اور گروسری کا دن تھا ، ہم نے آج موریسن مال سے گروسری خریدناتھی ، آج ہم بس میں وہاں پہنچیں ، تو چمکتے دن میں میں مطمئن چہرے دیکھتی رہی ، گروسری ایمن ثمن خریدتی رہیں ،، کہ وہ جانتی تھیں ، کون سی چیز کتنی خریدنی ہے ! خریداری کے دوران مجھے ، تو لوگوں کے چہروں ، رویئوں ، چال ڈھال ، سبھی پر فوکس کرنے کا موقع مل گیا ، ایک اجنبی ملک ، جہاں دنیا کے قریباً ہر خطے سے آۓ لوگ سیٹل ہیں ،، لیکن ہر کوئی اپنی جڑوں سے کسی نا کسی طور جڑا نظر آتا ہے ۔ کہیں خدوخال ، کہیں لباس ،کہیں کھانے کی چیزیوں کی پسند ، کہیں رویۓ ، ،،، اور صاف پتہ چل جاتا کہ اس کا تعلق کس خطے سے ہو سکتا ہے !،،، ورلڈ وائڈ کے نام سے شاپنگ مال نے سب سے پہلے " حلال فوڈ " کا سلسلہ چلایا تو ایسڈا ( یا ایسٹا ) شاپنگ مال نے نے فورا" ایک کارنر حلال میٹ ، کے نام سے متعارف کروایا ، اور اس کی شاخیں انگلینڈ کے ہر بڑے ، چھوٹے شہر میں ہیں ، جو مسلم ہی نہیں غیر مسلمز کی دلچسپی کا مرکز بھی بن چکی ہے ۔ کیوں کہ اب کچھ فیصد غیر مسلمز بھی حلال گوشت میں دلچسپی لینے لگے ہیں ۔ واپسی پر سامان ذیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسی منگوا لی گئ ،، اور اتفاق سے پھر ایک پاکستانی ڈرائیورنے ہمیں پہنچایا ، اخلاق سے احترام سے ۔دو دن بعد ایمن ثمن نے ایک چکر ہمارے ساتھ ، مانچسٹر کے اس علاقے کا پھر لگایا ، جہاں یہ لوگ رہ کر گئی تھیں ۔ مائرہ نے ہمیں مسلسل اپنی ٹرانسپورٹ سروسز مہیا کیۓ رکھیں ،، اس دن تو ویسے بھی طلعت کے گھر اس کے اور ذی سی کا ڈنر کیا گیا تھا ،، ذی سی تو مصروفیت کی وجہ سے نہ آسکا ،، ہم سب خواتین ذرا کچھ گھنٹے پہلے مانچسٹر کے اس شہر پہنچیں جہاں طلعت کا گھر تھا ،، کچھ ہی فاصلے پر مائرہ اور ایمن ثمن نے جب مانچسٹر میں آتے ہی رہائش اختیار کی تھی ،،، تو ان کا گھر تھا ،، جو وہ مجھے بھی دکھانا چاہتی تھیں ، ! یہ ایک با رونق چوڑی سڑک کے کنارے دو بیڈ رومز کے چھوٹے گھر تھے ، جو ایک لائن میں ایک جیسے بنے ہوۓ تھے ،، لیکن سجانے والوں نے اپنے فرنٹ پورشن کو پھولوں سے سجا سنوار رکھا تھا ،،، یہاں فطری ، نظاروں والی کوئ بات نہ تھی ،، یہ تو میری قسمت اچھی رہی کہ شادی کی وجہ سے بڑا گھر لینا پڑا ، اور وہ بھی کنٹری سائڈ پر ،،،۔ اور صحیح بتاؤں تو انگلینڈ کے ان دو بیڈ رومز میں ایک باتھ ، کی سمجھ نہیں آئ ،، ہم پاکستانی کچھ ذیادہ نخرے کرتےہیں ، اور چاہتے ہیں ، کم ازکم دو باتھ رومز ضرور ہوں ، اور دوسرے یہ کہ اس مصروف شاہراہ ، سے مجھے ہر وقت کے خوب صورت نظارے کہاں دیکھنے کو ملتے ،، لیکن باہر سے گھر کو دکھا کر جوجی نے مائرہ کو اس چھوٹے سے پرانے قلعے میں لے جانے کا بولا ،، جو فی الحال خالی پڑا تھا ، اور جوجی بچیوں کے ساتھ اکثر یہاں آکر بہت پرانے درختوں کے نیچے بیٹھتی ، تھی ۔ جس کے پیارے سے تین چار کنال کے لان میں بیٹھنے کی کوئ پابندی نہ تھی ، وئیں ، چند بینچ بھی پڑے تھے ،، جن میں سے ایک پر ہم بیٹھیں ، کچھ تصویریں لیں ، قلعہ چھوٹا ہی تھا ،، لیکن کسی باذوق لارڈ کا تھا ،، اسمیں مشرقی طرزِ تعمیر کا کافی عکس نظر آرہا تھا ،،، بے چارے لارڈ ، اور لیڈیز کے بڑے بڑے گھر اب ان سے سنبھالے بھی نہیں جاتے ، کہ سستے زمانے گۓ ،،، اتنے بڑے گھروں کے لیۓ ملازمین ، چار پانچ تو کہیں نہیں گۓ ،، انھیں تنخواہ دینا بھی محال ہو گیا ۔ اسی لیۓ بہت سے قلعے ہوٹلز میں "کنورٹ " کر دیۓ گۓ ہیں ، یا بند پڑے ہیں ،، اسی طرح ان ،،کے چرچ یا گرجا گھر بھی ویران ہونا شروع ہو گۓ ہیں ، اور اب انھیں بھی ، سکولوں میں بدل دیا جانے لگا ہے ،۔ کم ازکم لندن میں تو دو تین چرچ ایسے دیکھنے کو ملے ،،،، مانچسٹر میں ایک مشہور مال " پرئمارک " میں داخل ہوئیں ،، یہ بہت مناسب قیمتوں والا وسیع و عریض شاپنگ مال ہے ،، جس میں برتن ، میک اَپ ، کپڑے ، جوتے ، سویٹرز ، غرض ، ضرورت کی ہر چیز نظر آجاتی ہے ،، میں نے یہاں سے بچوں کی اور کچھ تحائف کے طور پر دینے کے لیۓ سویٹرز خریدے ! اگر میں کہوں کہ انگلینڈ سے تحائف کے لیۓ سویٹرز ضرور لیں ، اور چاکلیٹ میں بھی خوب ورائٹی نظر آئی ،، جسے خریدنے میں ، میَں نے کنجوسی نہیں کی ،، ! کہ مجھے پتہ تھا ، میری پوتی ملائکہ ، نواسی حمنہٰ ، ، پوتے عمر اور سلمان اور نواسہ موسیٰ ،،،،، میرا انتظار ،، اسی میٹھی چیز کے لیۓ ذیادہ کر رہے تھے ۔ کچھ خریداری کے بعد میزبانوں کے گھر چلے ، اور ان کے بچوں کو بھی چاکلیٹ پیش کیۓ کہ یہ دنیا بھر کے بچوں کی کمزوری ہے ۔ 
(منیرہ قریشی ، 25 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )

جمعرات، 24 مئی، 2018

سفرِانگلستان(15)۔

" سلسلہ ہاۓ سفر " 
 سفرِ ولایت ، یو کے " (15)۔"
اور آج جوجی کے چھوٹے بیٹے تیمور نے دلہن، دلہا اور ہمیں ڈنر پر بلا رکھا تھا ،، ایمن ثمن ، نے وہی ہماری " علی الصبح " یعنی 9 بجے ، تک اُٹھایا ،،، جوجی اور ایمن نے ناشتہ ، تیار کیا ،، لیکن مَیں ایک نکمے مہمان کی مکمل تصویر بنی ، (اور شرمندگی کے بغیر ) کبھی ایک کھڑکی ، کبھی دوسری کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر کے نظاروں سے لطف اُٹھاتی ۔ حتیٰ کہ کھڑکیوں کے عین نیچے اُگی جھاڑیوں کو بھی دلچسپی سے دیکھتی ،، کہ صرف مختلف پتوں سے سجی یہ جھاڑیاں بھی مختلف رنگوں سے مزین تھیں ، فرنٹ کی کھڑکی کے عین نیچے کی جھاڑیوں کے پتے ، موٹے ، کھردرے تھے لیکن ایک ہی پتے پر سبز ، سرخ اور پیلے رنگ کے " سٹروک لگاۓ گۓ تھے ، گویا پھول نہیں بھی ہیں تو رنگین جھاڑی ہی کافی بہار دکھا رہی تھی ، ،، اسی طرح باقی  جھاڑیوں کی فرق چھب تھی ، خود بھی نہایت ننھےمنے پتوں والی اور اتنے ہی منے کہیں گلابی اور کہیں کاسنی پھولوں سے لدی ہوئی تھیں ،،، میں نے کچھ ، نمایاں خوبصورت پتوں کو سنبھال کر ڈائینگ ٹیبل پر رکھے ایک برتن میں ڈالے ہوۓ تھے کہ یہ پاکستان ساتھ لے کر جاؤں گی ، اور بچوں کو یہ جنگلی پتےدکھاؤں گی ،، لیکن تیاری میں وہ وہیں بھول آئی۔ 
ناشتے کے بعد، جوجی نے ایک دو پاکستانی سالن بیٹے کے گھر کے لیۓ بناۓ کہ ماؤں کو ہمیشہ اپنے بچوں کو " آسانیاں " دینے کی کوشش ہوتی ہے ، بھلے یہ شادی شدہ بچے خود روزانہ کھانا بناتے ہی ہیں،لیکن ، خالص مامتا کے جذبے سے جڑا ، ایک بین الاقوامی جذبہ ، مشترکہ ہے کہ ،،، کہ ماں اپنے ہاتھ کا ذائقہ وقتاًفوقتاً کھلا کر اس اولاد کو اپنے ساتھ گزارے دنوں کو یاد دلا دیتی ہے ، بیٹا یا بیٹی ، خود کو ماں کے گھر میں محسوس کرتے ہیں ، اور خاص طور پر بہو غیرملکی ہو ، اور اسے پاکستانی ذائقہ ، گھر میں رواج دینا ابھی بھی بہت کم آتا تھا ،، اسکے دونوں بچے ، کم مرچوں والی " بریانی " پسند کرتے ہیں ،، بریانی بھی بنی ۔ ساری پیکنگ ہونے تک ، دوپہر 12 بج گۓ ، اتنے میں ، مائرہ اور ذی سی بھی اپنی پجارو میں آگۓ،،اس بڑی گاڑی کی وجہ سے ہم چاروں بھی آرام سے پچھلی سیٹ پر بیٹھٰ گئیں ، اور آج ، مجھے " لیور پول " دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ، ، حسبِ معمول ، گاڑی کے باہر کے مناظر ، خوب صورت اور صفائی ،، سے نمایاں اور گاڑی کے اندر بیٹھے ، رشتوں کی مٹھاس کے لطف نے سفر ، میں سُرور بھر دیا !!!ذی سی ، مزے کی گفتگو کرتا رہا ،، کم از کم اب تک جو ملاقاتیں رہیں ، ہم اس کی موجودگی میں " ایٹ ایز " ہوئیں ،، ،،، ،، ۔
اگر ہم یورپ ، امریکا یا یوکے میں پیدا ہونے والے اپنے ایشین بچوں کی عادت کا تجزیہ کریں ،،، تو اس مغربی معاشرے کی ایک بہترین عادت ان میں سما گئی ہے کہ یہ بچے ،، "منافق " نہیں ہوتے ،، جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہی ان کی زبان پر ہوتا ہے ،، ہم ایشین اپنے بچوں کی سادگی اور سچائی کو بہت جلد ختم کر ڈالتے ہیں ۔ ذرا بڑے ہوتے ہیں ، تو سکھایا جاتا ہے ،،" پھوپھو آرہی ہیں ، یہ بات ان کو نہیں بتانی ،، وہ مہمان آرہا ہے ،، یہ چیز انھیں نہیں دکھانی ، ، اپنے گھر کی باتیں کسی کو نہ بتاؤ ! ،، کسی کو اپنا پروگرام نہ بتاؤ ، نظر لگے گی وغیرہ وغیرہ ،،،، ! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے عجیب ، بے پیندے کے برتن بنتے چلے جاتے ہیں ۔ ان میں وہ " ہوشیاری " کچھ ذیادہ آجاتی ہے ،، جو ان کی عمر کے ساتھ مناسب نہیں لگتی ،، وہ گھر میں اور مزاج دکھاتے ہیں ، اور باہر ان کی شخصیت پر اور ملمع چڑھ جاتا ہے ،۔
بات ، ذی سی کے مزاج کی ہو رہی تھی ، کہ اس کیْْ شادی ہوۓ چند ہفتے ہوۓ تھے ، اور اس سے ملے ہوۓ بھی چند ہفتے ،، لیکن وہ، سادگی سے گھُل مل گیا تھا ۔ ایسی ہی جینئون مزاج کے ساتھ اس کی باتیں سنتے ہوۓ لیور پول داخل ہوۓ ، تو مائرہ نے بتایا ، تیمور کا شہر آگیا ، یہ ایک بہت تاریخی چھوٹا سا شہر ہے ،،، جو کسی زمانے میں شاید 300 سال پہلے ایک نہایت چھوٹا سا قصبہ تھا ،، اور پھر " نارتھ اٹلانٹک " کے کنارے، 1000 والی آبادی نے اس وقت تیزی اختیار کر لی ، جب غلاموں سے بھرے بحری جہاز ، لیور پول کے کنارے پہنچنے لگے ،اور ساتھ ہی آبادی میں بھی اضافہ ہوا اور تجارت میں بھی ،،، اور یوں اس چھوٹے سے قصبے کی تاریخی اہمیت بڑھ گئی۔ ،،
سیدھے تیمور کے گھر پہنچے ، جو صاف ستھرے، بہت خوبصورت علاقے میں ، رہتا تھا ،، وہ ساری فیملی باہر ہی انتظار میں تھی ،، 6 فٹ 3 انچ لمبے تیمور کو 6 فٹ لمبی سمینتھا مل گئی ،، دونوں جاب کرتے ہیں اور ایک بیٹا 6 سالہ طارق اور بیٹی 5 سالہ ملیکہ ،گلے لگ کر ہم سب سے ملے! تیمور پوچھنے لگا ،، چاۓ کا موڈ ہے تو پہلے پی لیں ،، پھر سیر کروا دوں گا ، ،، لیکن ہم سب نے پہلے سیر کو ترجیح دی ، میَں اور جوجی ، اور ٹونز میں سے ایک تیمور کی گاڑی میں بیٹھے ،،، تیمور نے بتایا یہ کوئی اتنا لمبا چوڑا شہر نہیں ، لیکن بہت تاریخی پس منظر رکھتا ہے ،، وہ ہمیں مشہور سینٹ نکولیس چرچ ، کے سامنے لے گیا ، جو اچھی دیکھ بھال کی وجہ سے بہترین حالت میں تھا ،، کھڑکیوں کے رنگین شیشے ، اندر کی بلب کی روشنیوں میں چمک رہے تھے ،، اور چرچ بہت خوبصورت تائثر دے رہا تھا ، کچھ اور فاصلے پر مسلمانوں کے لیۓ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد دیکھی ،، جو باہر سے ہی دیکھنے کو ملی ۔ اس دوران ،، چوں کہ شام ہونے کے خدشے کے تحت تیمور نے جلدی سے کار ، "لیورپول کاسل " کی طرف موڑی ،، اور یہ بارھویں صدی کا بنا قلعہ ، چھوٹی چھوٹی آریکٹیکچرل نفاستوں سے بھرا ہوا تھا ،، باریک پچیکاری ، نے اسے دیکھنے لائق بنا رکھا تھا ،،لیکن وقت کی کمی سے ہم اسے بھی سرسری دیکھنے والی صورتِ حال سے گزرے ،،، اور مزید آگے چلے تو سمندر نزدیک محسوس ہوا ،، اور قریب ہی وہ 6 منزلہ سادہ ،،لیکن مشہور بلڈنگ دکھائ دی جسے تاریخ میں " ایسٹ انڈیا کمپنی " کا نام دیا گیا ،کہ ،، جہاں برِصغیر سے آنے والے محنت کشوں ،، اور ملاحوں کو ٹھہرایا جاتا ،، اپنی زبان کا بھاشن سنایا جاتا ،، اور سرمایہ کاری کی بساط بچھائ جاتی ،،، قوموں کے فیصلے کرنے والوں ، کروانے والوں کا اس اجنبی ملک کا اس سمندری کنارے سے پہلا تعارف ہوتا ۔ 
تیمور ہمیں سمندر کنارے لے گیا ، ابھی شام کی روشنی اتنی ضرور تھی کی نگاہ دور تک احاطہ کر رہی تھی ،، اسی نے بتایا آجکل اکتوبر کا شروعات ہے ،، اور صبح ، شام شدید دھند سمندر کے اوپر چھانے لگتی ہے ،، واقعی گھنٹے کے اندر اندر، دھند پہلے دور اور پھر ذرا نزدیک کے سمندر پر نظر آنے لگی ،، سردی کی آمد آمد تھی ، ہم سب نے اپنے ساتھ لائ سویٹرز اور کیپ شال پہن لیۓ ، ہم ابھی ایک گھنٹہ ہی رکے تھے ، اور دور بہت دور ایک چھوٹے جہاز کے قریب آنے کی طرف متوجہ تھے ، ،،، ،،، کہ " کونجوں کی مخصوص آواز " سنائ دی ،، تیمور نے آسمان کی طرف اشارہ کی ،، بہت دور آسمان پر ایک کونج دکھائی دی ،، میِں نے سوچا ایک آدھ گزر رہی ہے ،، جب غور کیا تو وہ پہلی کانج تھی جو " رہبر " کونج ہوتی ہے ،، اور مسلسل ایک خاص آواز نکالتی رہتی ہے ۔ اس کے پیچھے " وی " (v) کی شکل میں پھیلی ہوئ ڈار تھی ،،، اور اب وہ مکمل منظر کے ساتھ دکھائ دے جانے والی پوزیشن میں تھی ،، ہم سب کے چہرے ،، اس قدرتی نظارے کو دیکھنے کے لیۓ آسمان کی طرف اُٹھے ،، تو گردنیں تھک گئیں لیکن ، نظر نہیں ہٹ رہی تھی ، کم ازکم میری کیفیت یہ تھی ، کہ خوشی ، حیرت اور شوق سے مجھے کپکپی محسوس ہو رہی تھی ،، آہ ،، اتنا بھر پور نظارہ ،،، لا تعداد کونجیں گزرتی چلی جارہیں تھیں ۔۔ لمحے بھر کا وقفہ ہوتا ، اور ہزار ، دو ہزار کونج گزرتی ، اور دوسرے لمحے پھر ایک " لیڈنگ کونج" نظر آتی ، اور پھر ایک خوب پھیلاؤ والا " وی " شیپ قافلہ گزرنے لگتا ۔ اور ایک آدھ قافلہ " قازوں " کا بھی گزرا ، جن کے رنگین پروں اور فرق آوازوں نے فضا میں رنگ بھر دیۓ ،، اگرچہ " سُرمئی کونجوں کے گزرتے وقت ،، ایک ہلکے سرمئی بادل کا احساس ہواتھا ، جو چلتا چلا جا رہا ہو ،،، !! ،، 
یہاں یہ بھی بتا دوں کہ تیمور کے ہمارے سیر کرانے کے دوران ، باقی اہلِ خانہ ، دلہادلہن سمیت ہم سے پہلے سمندر کنارے پہنچ چکے تھے ،، اب انھیں سردی بھی محسوس ہو رہی تھی ،، اور یہ ضروری نہیں تھا کہ میری طرح ، باقی بھی ، فطرت کے اس جلوے پر فدا ہو رہے ہوں ، ، میرے لیۓتو آنکھ چھپکنا مشکل ہو رہا تھا ،، یہ سلسلہ آدھ گھنٹہ چلتا گیا ، اب باقی لوگ ، واپس جانے کا اشارہ دینے لگے ، تو تیمور نے اپنے بیوی بچوں ، ثمن ، مائرہ اور ذی سی کو بھجوا دیا ،،میری خاطر ، وہ اور جوجی ، ایمن مزید 20/25 منٹ رکے رہے ،،، لیکن " کونجوں کی ہجرت کا سلسلہ " جاری تھا ، ، اب یہ سارا قافلہ "گرمائی " علاقوں کی طرف عازمِ سفر تھا ،،، کئی دفعہ انھیں مسلسل دو مہینے تک اڑتے رہنا پڑتا ہے ،، ہجرتیں آسانی سے کہاں ہوتی ہیں ،، آخر سردی بھی بڑھ رہی تھی ، اور تیمور کے گھر کاڈنر بھی منتظر تھا !لیکن ،، میِں اپنی زندگی میں دیکھے جانے والے اس بےمثال ، اورقدرت کے حسن کے ایک رُخ سے آگاہی کے نظارے کو دمِ آخر تک بھلا نہ پاؤں گی ،، بھاری دل سے اس سمندری کنارے کو چھوڑا ۔ اور لیور پول ، سمندر کنارے کونجوں کی ہجرت کا ناقابلِ فراموش نظارہ ،، غور سے دیکھنے سے یہاں تین گروپ نظر آئیں گے ،، اور یہ وقفے وقفے سے آتے چلے جا رہۓ تھے ،، لاکھوں کی تعداد میں ! 2014ء میں ستمبر کے آخری دن یا اکتوبر کی شروع کے دن ۔۔۔
اور واپس بے کپ آتے ہی انہی احساسات کو بیدار رکھا ،،، یہاں انھیں شیئر کر کے اپنے پڑھنے والوں کو اپنے تجربے میں شامل کر رہی ہوں !
" ہجرت"
،،،،،،،،،،،،،
کرسمس کے درخت سَر خوشی سے لہلہاتے ہیں 
برفانی ہواؤ ، خوش آمدید ! خوش آمدید 
آدھی دنیا کی خوشی کا یہ ہی موسم ہے ،
نیرنگئ موسم ہی تو دیتا ہے نئ سوچ 
یہی تو موسم ہے آگے پنپنے کا 
یہی تو موسم ہے ، ملاپ و وصال کا 
ہم ہی تو ہیں وہ نفوس !!!
جو ہیں ، حکمِِ ہجرت کے پابند !!
کہ ا نہی موسموں میں ہجرتیں فرض ہو چکیں 
لمبی مسافتیں ہیں پیشِ نظر 
گرم موسموں کے متلاشی ہیں باخبر
کہ انہی ہجرتوں میں چھُپی ہے زندگی
یہ ہجرت کوُنجوں کی ہویا قازوں کی 
یہ ہجرت ، انساں کی ہو یا نفسِ انساں کی!
یہ ہجرت خیال کی ہو یا خیالِ یار کی 
ثواب و عذابِ ہجرت جھیلنا ہے بہر طور
مقدر کا لکھا تو جھیلنا ہے بہرطور ! ! ! ( 16 اکتوبر 2014ء مانچسٹر)۔
تیمور کے چھوٹے سے دو منزلہ گھر میں خوب گہما گہمی تھی ،، سب نے ان کی میزبانی کو اور بچوں کو خوب انجواۓ کیا ،،لیکن میَں ذہنی طور پر ان کونجوں کے ساتھ اُڈاری میں تھی ، ، جسمانی طور پر بریانی ، ، مچھلی ، اور پتہ نہیں کیا کچھ کھا رہی تھی ،،،، زندگی کتنی خوبصورت لگنے لگتی ہے ،، اگر اپنے خول اور ماحول سے نکل جاؤ تب !!!۔
( منیرہ قریشی 24 مئی 2018ء واہ کینٹ ) ( جاری )